50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

ڈیڈ آپ خاموش کیوں ہیں بتاے مجھے پلیز ایسے کون سے راز ہیں جن سے مجھے اب بھی بےخبر رکھا گیا ہے ؟؟ آہل زمین پر گھٹنے کے بل بیٹھ کے جاوید صاحب کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا اسے اندر سے بےچینی تھی ایک اضطراب تھا عجیب قسم کی بےسکونی تھی کیا اس سے چھپایا گیا تھا یہ پھر کیا چھاپایا جا رہا تھا ۔۔۔
فایزہ بیگم اور نورا بیگم بہن ہے ” سگی بہن ” تمہاری ماں کی بہن ہے مرش کی ماں !! یہ بات ہم نے تم سے چھپایی نہیں تھی آہل دراصل تم نے جاننے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی تھی زندگی میں ہمیشہ ایک بات یاد رکھنا آہل” ہر انسان غلط نہیں ہوتا اس کی سوچ اسے غلط اور سہی بناتی ہے ” ہر کسی کے دیکھنے کا نظریہ الگ الگ ہوتا ہے اور تمہارا نظریہ یہ تھا کی تم نے مریم کو ہمیشہ غلط سمجھا ہے ۔۔ تم جانتے ہو آہل مریم تم سے بے بناہ محبت کرتی ہے وہ اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر تمہیں اپنا مانتی ہے ۔۔لیکن تم ؟؟ تم نے اسے کبھی ماں کا درجہ نہیں دیا کیوں کیوں کی تمہاری نظر میں وہ ایک غددار عورت ہے ۔۔آہل نورا اور میں نے لو میرج کی شادی کی تھی جس کے خلاف نورا کا پورا گھرانہ تھا لیکن اس نے صرف میرے لیے اپنے پیاروں کو چھوڑ دیا تھا ۔۔ہم ایک ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے اور پھر تم ہماری زندگی میں آ گیے پھر ہماری ایک چھوٹی سی فیملی بن گیی تھی میں اور نورا بہت خوش تھا لیکن پھر ایک دن اچانک تمہاری ماں کی طبیعت خراب ہو گیی تھی ڈاکٹرز کا کہنا تھا اسے بلڈ کینسر ہے بہت کم دن رہ گیے تھے اس کے پاس میں نے اس کا ایک سے بڑے ایک ڈاکٹر سے ٹریٹمینٹ کروایا تھا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا نورا کو معلوم تھا اس کی زندگی کے چند دن اور باقی ہے وہ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی وہ تم سے بے پناہ محبت کرتی تھی کیوں کی تم ہماری محبت کی نشانی تھے اور وہ اس نشانی کو کبھی ختم نہیں کرنا چاہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی زندگی میں کبھی تمہیں ماں کی کمی محسوس ہو اس نے اپنی موت کے ایک دن پہلے میرا نکاح مریم سے کروا دیا تھا اپنی ہوش حواس میں پتہ ہے یہ نکاح صرف اور صرف تمہاری بھلایی کے لیے کیا تھا میں نے کیوں اس وقت تم محض پانچ سال کے تھے اور تمہیں ماں کی اشد ضرورت تھی ۔۔نورا نے مریم سے مرتے مرتے وعدہ لیا تھا وہ تمہیں کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دے گی ایک سگی ماں کی طرح تمہارا خیال رکھے گی ۔۔آہل ؟ مریم نے صرف اور صرف اس کیے گیے وعدے کو پورا کرنے کے لیے اور تم سے بےپناہ محبت ہونے کی وجہ سے تمہاری نفرتوں کو برداشت کرتی رہی آہل اس نے بھی قربانی دی تھی صرف تمہارے لیے لیکن تمہاری بدگمانیاں دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھی اس لیے میں نے تمہیں ہوسٹل میں ڈال دیا تھا شاید تمہارے اندر تھوڑا بہت سدھار آ جاے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تم اپنی ماں سے مزید بدگمان ہوتے چلے گیے ۔۔۔اور اچانک پھر تمہیں مرش مل گیی تھی شاید اسے ہی کہتے ہے دنیا گول ہے میں نہیں جانتا تم نے اسے اپنانے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا تھا لیکن مِن بہت خوش ہوں تم نے مرش سے شادی کی اپنی خالہ کی بیٹی سے اگر اس وقت نورا ہوتی تو وہ بھی بہت خوش ہوتی کیوں کی مجھ سے شادی کرنے کے بعد اس کے سارے رشتے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیے تھے صرف ایک تصویر رہ گیی تھی میرے پاس جو نورا اپنے ساتھ لے کر آیی تھی میں نے فایزہ کو ہر جگہ تلاش لیا تھا کیوں کی تمہاری کی خواہش تھی وہ ایک بار اپنی چھوٹی بہن سے مل لیں ۔۔اس کی یہ خواہش تو پوری نہیں ہویی لیکن مرش سے شادی کر کے تم نے مجھے ایک سکون بخش دیا ہے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے میں نے تمہاری کی ماں کی خواہش پوری کر دی ہے ۔۔
لیکن شاید تم اس بات کو کبھی نہ سمجھو !!!! جاوید صاحب کی آواز رندھ گیی تھی آنکھوں میں آنسوں امڈ آے تھے دل بھر سا آیا تھا نورا بیگم کی یاد ایک بار پھر تازہ ہو گیی تھی ان کے لیے بھی آسان نہیں تھا کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا لیکن وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دینا چاہتے تھے ۔۔
ڈیڈ آپ نے مجھے یہ سب پہلے کیوں بتایا ؟؟ آہل کی آنکھوں میں شکوہ تھا شرمندگی تھی ملال تھا جس عورت کو وہ ہمیشہ اپنا دشمن مانتا رہا اسی عورت نے آہل شاہ آفندی کے لیے ملازمہ سے بھی زیادہ بدتر زندگی گزار رہی تھی صرف کس کے لیے ؟؟ آہل شاہ آفندی کے لیے ۔۔
کیسے بتاتا میرے بچوں کے پاس کبھی وقت ہوتا تھا میری بات سننے کا میرے ساتھ چند لمحے گزارنے کا ۔۔ جاوید صاحب نے اپنے آنسوں کو ضبط کر لیا تھا لیکن پانی اپنا راستہ بخوبی بنا لیتے ہے ان کی آنکھوں سے چند قطرے گر کر گالوں کو بھگو رہے تھے ۔۔۔
ڈیڈ مجھے معاف کر دیں پلیز میں تو شاید اس قابل بھی نہیں ہوں مجھے معافی ملے لیکن میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں مجھے معاف کر دیں ۔۔ آہل شاہ آفندی زندگی میں پہلی بار کسی کے سامنے ہاتھ جوڑ رہا تھا خیز وہ ” کسی ” نہیں اس کے سگے باپ تھے ۔۔
بیٹا معافی مجھ سے نہیں اپنی ماں سے مانگو کیوں مجھ سے زیادہ تم نے اسے تکلیف پہنچایی ہے ۔۔ جاوید صاحب نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا آواز میں ایک کھنک سی آ گیی تھی در و دیوار پر خوشیاں رقص کر رہی تھی بلاآخر آہل شاہ آفندی کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو ہی گیا تھا ۔۔ بھلے دیر ہی سہی “
آیی لو ڈیڈ ۔۔ آہل شاہ آفندی ایک دم چھوٹے معصوم بچوں کی طرح اپنے باپ کے گلے لگ گیا تھا آج اس نے زندگی میں پہلی بار باپ کے وجود کا لمس محسوس کیا تھا جس ہمیشہ وہ محروم رہا تھا ۔۔۔
آیی لو یو ٹو مایی سن ۔۔جاوید صاحب نے بھی اسے گلے میں بھینچ لیا تھا ۔۔
اب جلدی سے جاکر میری بیٹی کو گھر لے کر آو آج ہم نے ایک ساتھ ڈنر کرنا ہے ۔۔۔ جاوید صاحب نے مسکرا کر بولے تھے آج کی مسکراہٹ ایک عجیب پر کشش لیے ہویی تھی آج انہیں اپنے باپ ہونے پر فخر محسوس ہو رہا تھا ۔۔
اوکے ڈیڈ ۔۔آہل خوشی سے کہہ کر واپس پلٹا تھا قدم اپنے آپ آگے بڑھ رہے تھے آج ایک الجھی ہویی گھتھی سلجھی تھی ۔۔


فرمایے مل گیا جناب کو موقع ؟؟ مرش فون ریسیو کرتے ہی بگڑی تھی اسے تھوڑا تھوڑا غصہ بھی آ رہا تھا کم از کم آہل کو اس طرح تو چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا کچھ بتا کر پی چلا جاتا تاکہ فایزہ بیگم کو جواب دینے میں تھوڑی آسانی ہو جاتی ۔۔
سوری سویٹ ہارٹ جلدی میں تھا کہیں تم مجھے مس تو نہیں کر رہی تھی ۔۔ ایک ہاتھ سے فون کان میں لگا کر دوسرے ہاتھ سے ڈرایونگ کرنے میں مگن تھا ۔۔
مس اور میں ؟؟ جناب عالی مجھے اور بھی کام ہوتے ہے آپ کو مس کرنے کے علاوہ ۔۔ مرش نے مسکرا کر کہا تھا ۔اس کا ارادہ ابھی آہل کو سہی جواب دینے کا نہیں تھا ۔۔
اچھا کون کون سے کام ہوتے ہے میری جان کو بتانا پسند کریں گی آپ مجھے بھیی میں بھی تو جانو ایسے کون سے اہم کام ہے جو مجھے یاد کرنے نہیں دیتے آپ کو ۔۔ آہل کا ارادہ ابھی مزید شرارت کا تھا ۔۔
یہ تو میں نہیں بتانے والی ۔۔ ہاں لیکن ایک راز کی بات بتاوں ؟؟ مرش کی آواز قدرے آہستہ ہو گیی تھی جیسے ایک رازداں اپنا راز دوسروں کے حوالے سرگوشی کے انداز میں کرتا ہے ۔۔
راز جلدی بتاو یار ۔۔ آہل کو بےچینی ہویی تھی راز جاننے کی ۔۔
راز کی بات یہ ہے اس وقت میں آپ کو ہی مس کر رہی تھی ۔۔ مرش نے کچھ جھجھکتے ہوے کہا تھا ۔۔ اس طرح اعتراف عشق کرنا تھوڑا مشکل لگ رہا تھا ۔۔
ہاے کہیں میں مر ہی نہ جاوں آپ کے اس راز پر سچ میں یار جادو کر دیا ہے تم نے مجھ پر ایک پل بھی تمہارے بنا رہنا مشکل لگنے لگتا ہے ۔۔ آہل نے سچا اعتراف کیا تھا واقعی مرش کے بغیر رہنا اس کے لیے بہت مشکل تھا اس لڑکی نے تو اس کے اوپر جادو کر دیا تھا اپنے عشق کے سحر میں گرفت کر لیا تھا ۔۔۔
ہمیشہ مرنے کی باتیں نہ کیا کرو ورنہ میں ناراض ہو جاوں گی ۔۔
مرش کو سخت برا لگتا تھا اس کا یوں مرنے مرنے مرانے کی باتیں کرنا دل کانپ سا جاتا تھا ۔۔۔ اگر دیکھا جاے تو مرش کو اب بھی آہل شاہ آفندی سے نفرت کرنی چاہیے تھی لیکن آہل اسے اپنی محبت میں گوڈے گوڈے ڈبو چکا تھا اس نے کچھ غلط نہیں کیا تھا ایک لڑکی کا نقصان اس کی وجہ سے ہوتا اس کی وجہ سے علی شہروز مرش کو نقصان پہنچا سکتا تھا لیکن آہل شاہ آفندی کے اندر انسانیت تھی وہ اپنی وجہ سے کسی لڑکی کا نقصان ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا اگر مرش کی جگہ کویی اور لڑکی ہوتی تو بھی شاید یہ وہی کرتا جو مرش کے لیے کیا ہے ۔۔مرش کو تو شکر گزار ہونا چاہیے آہل شاہ آفندی کا اس کے دامن پر آہل شاہ آفندی نے داغ لگنے نہیں دیا تھا اس کی حفاظت اپنے سر لے لی تھی ۔۔
اچھا نہیں کرتا سوری لیکن میں تمہیں پک کرنے آ رہا ہوں تیار ہو جاو تم اور پلیز آج ریڈ لپسٹک ہونٹوں پر لگانا کیوں کی آج کی رات کو میں بہت اسپیشل بنانا چاہتا ہوں ۔۔۔ آہل مرش سے باتیں کرنے میں اتنا مگن تھا کی اس کے آگے پیچھے چلتی گاڑیوں کی طرف اس کا دھیان ہی نہیں گیا تھا جو اس کی گاڑی کا مسلسل پیچھا کر رہی تھی ۔۔
کیوں آج کی رات میں ایسی کون سی خاص بات ہوگی ۔۔ شرم و حیا کی وجہ سے مرش کی پلکیں جھکی ہویی پلکیں مزید جھک گیی تھی یوں جیسے آہل اسے دیکھ رہا ہو ۔۔
یہ تو رات کو ہی بتاوں گا ۔۔آہل ہنس دیا تھا لیکن آج وہ بہت سرشار تھا جسم میں خوشی کی رگیں دوڑ گیی تھی ۔۔
آج میں تمہیں ایک سرپرایز دوں گا ۔۔۔ باتوں کا سلسہ ٹوٹ چکا تھا آسمان میں فایرینگ کی آواز گونج رہی تھی آہل کی گاڑی ڈیسبلینس ہو رہی تھی جس کو سمبھالتے سمبھالتے شاید بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔
پورے چہرے کو کالے نقاب سے چھپاے تین نامعلوم افراد گاڑی سے نیچے اترے تھے ہاتھوں ایک سے ایک بڑی ریوالر تھی ۔۔۔
آہل شاہ آفندی کو اپنے سامنے موت کھڑی دکھایی دی رہی تھی موبایل کس طرف جا کر گرا تھا وہ خود بھی نہیں دیکھ پایا تھا دو دلوں کی باتوں کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا دو دلوں کی محبت کسی سمندر میں اپنا وجود دھیرے دھیرے کھو رہی تھی ۔۔۔
ارے لگتا ہے کہیں یہ مر تو نہیں گیا ۔۔۔ پہلے نقاب پوش نے دوسرے سے استفار کیا ۔۔
جو بھی ہو ہمیں اپنا کام کرنا ہے ۔۔۔ پہلے نقاب پوش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا تھا ۔۔۔ پیشانی سے خون کی بوندیں زیادہ مقدار میں بہہ رہی تھی ہاتھ پر بھی زخموں کا نشان صاف نمایاں ہو رہے تھے ۔۔۔
آہل !!!!!!!!! ایک چینختی نسوانی آواز آہل کے پیچھے سے آیی تھی یہ آواز تو بے حد جانی پہچانی تھی کون اسے نہیں پہچانتا ۔۔۔
پیڑ سے پرندوں کا جھرمٹ بندوق کی آواز سن کر ایک ساتھ اڑان چڑھا تھا شاید ان کا دل بھی دہل گیا تھا ۔۔۔
ایک !! ایک کے بعد دو بندوق کی گولیاں آہل شاہ آفندی کا سینہ چھلنی کر رہی تھی خون کی ایک لکیر سی بن کر زمین پر اپنا راستہ ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔
ایک آخری بار دنیا کی رنگنیوں کو آہل شاہ آفندی آپنی آنکھوں میں قید کر رہا تھا اور اپنی ان معصوم آنکھوں کو بند کر لیا تھا کون جانے زندگی کا کیا بھروسہ تھا ۔۔
چل جلدی کر ۔۔ تینوں نقاب پوش فورن گاڑی کی طرف بھاگے تھے اس سے پہلے کی وہ پکڑے نہ جاے اور پھر کیا پانچ منٹ کے اندر نو دو گیارہ ہو گیے تھے ۔۔۔
آہل آنکھیں کھول آہل نہیں پلیز آنکھیں کھول آہل میری جان میں ۔۔۔میں تیرا دوست ایک بار آنکھیں کھول دیں ۔۔۔ فارس کی چینخ آسمان کو ہلانے کے لیے کافی تھی شاید اس کی دعایں عرش تک پہنچ جاے ۔۔۔
م ۔۔م۔ ۔میں تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گا کبھی نہیں تو ۔۔۔تو مجھے کیسے چھوڑ کے جا سکتا ہے دیکھ تیری سانسیں چل رہی م۔۔میں تجھے بچا لوں آیی پرامس ۔۔۔ آج کی شام ان دو دوستوں کے نام ۔۔ویران شام ویران جگہ کویی اپنا نہیں تھا آہل شاہ آفندی فارس کی گود میں سر رکھ کر محو خواب تھا خون بے تحاشہ بہہ رہے تھے فارس اسے کسی معصوم بچے کی طرح سینے سے لگا کر آسمان کی طرف منھ کر کے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔۔۔
ایک دو لوگوں کی مدد کی سہارے فارس اسے اٹھا کر گاڑی میں لے آیا تھا اس کی حالت تو ایسی نہیں تھی کی وہ ڈرایونگ کر پاتا لیکن اسے کرنی تھی اپنے عزیز دوست کے لیے جس کے ساتھ اس کا بچپن گزرا تھا ۔۔۔