50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

نکاح کے بعد دعاوں کا سلسلہ شروع ہوا۔۔ جاوید شاہ آفندی کے دل مے ٹھنڈک سی پڑ گیی تھی ۔۔آج ان کی دلی خواہش پوری ہو گیی تھی ۔۔
مرش بہت بہت مبارک ہو میں بہت خوش ہوں آج تم میری بھابھی بن گیی ۔۔ بریرہ واقعی بہت خوش تھی لیکن اس کا دل اس بات پر راضی نہیں تھا مرش وہ بھی بھایی سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو گیی ۔۔
مرش ناکام کوشش کر رہی تھی مسکرانے کی ۔۔
سبھی بہت خوش تھے ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارک باد دے رہے تھے ۔۔

سدرہ میں کمرے مے جانا چاہتی ہوں پلیز مجھے لے چلو “”””” مرش کا دل کر رہا تھا اس منظر سے ہمیشہ کے لیے غایب ہو جاے وہ خود بھی جا سکتی تھی لیکن تھوڑا معیوب لگ رہا تھا اس طرح سے جانا ۔۔
آہل کا تو دل کر رہا تھا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا دے اپنی دشمن جاں کو لیکن مرش موقع پاتے ہی وہاں سے غایب ہو گیی ۔۔

سدرہ مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلے چھوڑ دو پلیز “”” مرش نے روتے ہوے سدرہ سے کہا ۔۔ وہ اکیلے مے دل کھول کر رونا چاہتی تھی ۔۔ آہل شاہ آفندی کو دل کھول کر بددعایں دینا چاہتی تھی ۔۔

اوکے !! سدرہ کہتی ہویی کمرے سے باہر جا چکی تھی ۔۔

مرش کے آنسوں اس کے گال کو بھگو رہے تھے ۔۔ آنسوں اپنی پوری روانی کے ساتھ جاری تھے ۔۔
ساری چوڑییاں زمین پر بکھر چکی تھی گلاب کی پتیاں اپنی اصل خوبصورتی خو چکی تھی ۔۔ مرش آہل شاہ آفندی !! نہیں وہ اس کا نام میرے نام کے ساتھ نہیں جڑ سکتا ۔۔۔
یہ اللہ !! مرش نے تڑپ کر رب کو پکارا !! کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا آخر وہ ہی شخص میرے نصیب مے کیوں لکھا گیا تھا کیوں ؟؟
مرش تڑپ تڑپ کر اپنے سے شکوہ کر رہی تھی ۔۔

بریرہ ایک ہیلپ کر دو ۔۔ آہل نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ بریرہ سے کہا !!
کون سی ہیلپ بھایی !! بریرہ نے انجان بنتے ہوے کہا ۔۔
مرش سے ملوا دو ! آہل نے مسکراتے ہوے کہا ؟۔
ہاں ضرور ایک منٹ میں پوچھ کر آتی ہوں ۔۔ بریرہ نے فایزہ بیگم سے پوچھنا ضروری سمجھا ۔۔
ہاں کیوں نہیں بیٹا بھلا مجھ سے اجازت کی ضرورت اب دونوں ایک دوسرے کے لیے غیر تھوڑی ہے ۔۔ فایزہ بیگم بھلا کیسے انکار کر سکتی تھی ۔
۔اجازت ملتے ہی بریرہ آہل کے پاس آیی ۔۔
مبارک ہو بھایی اجازت مل ہی گیی چلے ۔۔ آہل وہاں سے اکسکیوز کرتا ہوا اٹھ گیا ۔۔
زینہ طے کر کے دونوں اوپر آے ۔۔وہ رہا مرش کا کمرہ اب آپ جاے لیکن میری دوست کو زیادہ تنگ مت کیجیے گا ۔۔ بریرہ کا موڈ ابھی شرارت کا تھا ۔۔مم
پہلے مجھے جانے تو دو ۔۔ آہل نے بریرہ کے سر پر ایک چپت دیتے ہوے کہا ۔۔
ٹھیک ہے آپ جاے میں چلتی ہوں ۔۔بریرہ جا چکی تھی ۔۔

آہل کو ساری صورت حال پتہ تھی اندر کیا ہو رہا ہوگا ۔۔
آہل قدم بڑاھتا کمرے کے اندر آیا دروازہ کو اندر سے لاک کر دیا گیا تھا کمرے کا حشر دیکھ کر آہل نے ایک ٹھنڈی سانس بھری ۔۔
مرش کی نشت آہل کی اور تھی ۔۔
مرش اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو بغور دیکھ رہی تھی آنسوں اس کی ہتھیلی کو پوری طرح سے بھگو رہے تھے ۔ جیسے سارا قصور ان لکیروں کا ہی ہے ۔۔۔۔ کسی کی آہٹ پا کر مرش نے گردن موڑی سامنے ہی اس کا مجازی خدا اس کا شریک حیات ہاتھ باندھے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
مرش کی آنکھوں مے ہزاروں شکوے گلے تھے اسے ان سب سوالوں کا جواب چاہیے تھا جو آہل شاہ آفندی نے اس کے ساتھ کیا تھا ۔۔۔

مرش اپنی جگہ سے اٹھ کر ہولے ہولے قدم بڑھا کر وہ آہل کے مقابل آ کھڑی ہویی ۔۔کالی سیاہ گھنی زلفے مرش کے گالوں پر رقص کر رہی تھی آنکھوں سے آنسوں کی لڑی مسلسل جاری تھی ۔۔۔دوپٹہ زمین بوس تھا ۔۔

مرش کو اس طرح بغیر دوپٹہ کے دیکھ کر آہل اپنے جزبات کو قابو کیے ہوے تھا ۔۔۔ حالانکی اب کچھ اس کے بس مے تھا وہ جو چاہے کر سکتا تھا ۔

بہت غلط کیا تم نے ! بہت غلط !! کیوں آہل کیوں کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا کیا !!
کیا بگاڑا تھا ۔۔ مرش روتے روتے زمین پر بیٹھ گیی اس مے تاب نہیں تھی وہ کھڑی ہو سکے ۔۔ اس کا سارا جسم بے جان ہو چکا تھا ۔۔

کویی اور وقت ہوتا تو آہل شاہ آفندی اس کی باتوں کو ضرور نظر انداز کرتا لیکن آہل کو جی بھر کے مرش پر ترس آیا تھا۔۔

تم کیا سمجھتے ہو تمہاری جیت ہو گیی جس طرح تم نے مجھے اپنا بنایا ہے اسی طرح طلاق بھی دو گے ۔۔۔
میں تم سے تلاق لے کر رہوں گی مرش کی آواز پورے کمرے مے گونج گیی تھی ۔۔
آہل کا بس نہیں چل رہا تھا مرش کے اس الفاظ کی دھجیاں اڑا دے ۔۔
مرش کی کلایی کو آہل نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے سختی سے پکڑ کر کھڑا کیا انگلیوں کے ذریعے اس کے جبڑو کو سختی سے دبوچ کر کہا ۔۔۔

آج تو کہہ لیا اگر آج کے بعد تم نے تلاق لفظ بھی اپنے منھ سے نکالا یہی پر دفن کر دونگا ۔۔
اب میں تمہارا شوہر ہوں اس لیے اب جیسا میں چاہوں گا ویسا ہی تمہیں کرنا ہوگا سویٹ ہارٹ ۔۔ میری بات سمجھ مے آیی ؟ نہیں نہیں اتنی جلدی کیسے آے گی تمہیں سمجھ گولڈین نایٹ کے دن سمجھا دوں گا ۔۔
تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جڑ چکا جتنی جلدی سمجھ جاو گی بہتر ہوگا تمہارے حق مے ۔
آہل مرش کو پیچھے کی اور دھکا دے کر کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔۔


بریرہ کو ایک آس تھی ایک امید تھی شاید فارس ایک بار ہی مخاتب کر لے ۔۔
فارس اپنے آپ کو مسلسل بزی شو کر رہا تھا ۔۔
مجھے نظر انداز کر رہا ہے خود کو سمجھتا کیا ہے ؟؟ بریرہ کو سخت غصہ آ رہا تھا اپنا ہوں نظر انداز ہونا ۔۔

آخر تھک ہار کر بریرہ نے ہی میسیج کیا ۔۔
اگنور کر رہے ہو مجھے ؟
فارس نے میسیج پڑھ کر سامنے کی اور دیکھا ۔۔ جہاں بریرہ حسرت بھری نظروں سے فارس کو دیکھ رہی تھی ۔۔
میں کون ہوتا ہوں تمہیں اگنور کرنے والا !! فارس نے ناراض نظروں سے بریرہ کو دیکھا ۔۔
تو پھر ایک بھی میسیج کیوں نہیں کیے ؟ بریرہ نے منھ پھلاتے ہوے میسیج سینڈ کیا ۔۔
ایک عجیب سا ڈر تھا میرے دل مے شاید تمہیں خو دینے کا ڈر !! فارس کو واقعی ڈر تھا کہیں بریرہ کو وہ خو نہ دے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی شام آ میرے محرما ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبھی راز ہستی بیاں کروں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ میری روح کا جو قرب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔تیری روح پر میں عیاں کرو۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔میری خانہء دل کی وحشتیں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تیرے دل پہ ساری نہاں کروں ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔کبھی خود کو تسبیح سا پھیر دوں ۔۔۔
۔۔۔ کبھی تجھ کو ورد زباں کروں ۔۔۔۔۔

شاعری پڑھ کر فارس کے دل مے ایک عجیب سی خوشی پیدا ہو گیی تھی مطلب بریرہ اسی کی ہے وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے ۔۔۔

میں نے پوری رات انتظار کیا تھا شاید تم کویی میسیج کرو !! بریرہ اداس ہو گیی تھی ۔۔
میری جان ایم ریلی سو سوری مجھے لگا اب تم مجھ سے کبھی بات نہیں کرو گی ۔۔ فارس بریرہ کی حالت سے محفوظ ہوتا ہوا میسیج کیا ۔۔

کیا تمہیں نہیں لگتا غلطی تم نے کی تھی س
معافی تمہیں مانگنی چاہیے تھی ۔۔ بریرہ نے بناوٹی غصے سے میسیج کا جواب دیا ۔۔
بہت اچھا طریقہ تم نے اپنایا تھا ۔۔فارس بریرہ کے پلان پر حیرت زدہ ہو کر رہ گیا تھا ۔۔
شکر کرو تمہاری قسمت اچھی تھی کی میں نے ایک دو تھپڑ رسید نہیں کیا ۔۔۔ بریرہ نے اتراتے ہوے فارس کے چہرے کو دیکھا ۔۔

اللہ کا شکر ہے ۔۔ فارس ہنستے ہوے جواب دیا ۔۔