50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

گڈ مارننگ !! آہل نے بیٹھتے ہوے خشگوار لہجے میں کہا تھا ۔۔
گڈ مارننگ !! بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوے اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔
سوچ رہا ہوں آج آفس نہ جاوں ۔۔ آہل نے بے زاریت سے کہا تھا ۔۔
کیوں ؟؟ مرش نے چونکتے ہوے پوچھا ۔
تم وہاں میری نظروں کے سامنے نہیں ہوتی ہو نہ اس لیے ۔۔ افسردگی سے بھرپور جواب تھا ۔۔
کچھ زیادہ ہی چیپ نہیں ہوتے جا رہے ہو تم ۔۔ مرش نے واڈروب سے کپڑے نکال کر اس کی طرف دیکھتی ہویی شرارت سے بولی تھی ۔۔
عورت چیز ہی ایسی ہوتی ہے اچھے اچھے مردوں کو چیپ بنا دیتی ہے ۔۔ آہل نے بڑی ڈھٹایی کے ساتھ جواب دیا تھا ۔۔
چپ چاپ آفس جاو ۔۔ مرش نے اسے ڈپٹا تھا ۔۔
بہت ظالم ہو تم ۔۔ اس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
وہ تو میں ہوں ۔۔ مرش اکڑتے ہوے کہا ۔۔
اچھا بابا چلا جاتا ہوں آفس ۔۔ آہل نے جیسے ہار مان لی تھی ۔۔
گڈ بواے ۔۔ مرش موڈ آج اچھا تھا اس لیے انداز و اطوار تھوڑا مختلف لگ رہے تھے ۔۔


آہل مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے !! جاوید صاحب نے آہل کو دیکھتے ہوے کہا تھا ۔۔
جی کہیں میں سن رہا ہوں ۔۔ آہل نے مصروف سے انداز میں جواب دیا حالانکہ اس کی پوری توجہ جاوید صاحب کی طرف تھی ۔۔
کچھ اکیلے میں بات کرنی یے ۔۔ جاوید صاحب ایک گہری نظر اس پر ڈال کر کہا ۔۔
لیکن میں تو آفس جا رہا ہوں واپسی پر آپ کی باتیں ضرور سنوں گا ۔۔آہل نے کچھ کر پر سکون سے انداز میں جواب دیا تھا ۔۔
ٹھیک ہے !! جاوید صاحب نے اطمینان سے جواب دیا تھا ۔۔۔
بریرہ جلدی کرو لیٹ ہو رہا ہے ۔۔آہل نے ایک نظر ریسٹ واچ پر نظر ڈال کر کہا تھا ۔۔
بھایی آج میں کالج نہیں جاوں گی ۔۔بریرہ نے بتایا اورینج جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوے طماننیت سے جواب دیا تھا ۔
کیوں خیریت ! آہل کو تھوڑا حیرت ہو رہی تھی اس سال میں پہلا ایسا دن تھا بریرہ نے کالج سے آف لیا تھا ۔۔
بس یونہی موڈ نہیں ہو رہا تھا ۔۔ بریرہ نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔
اوکے ۔۔ آہل نے ایک طایرانہ نظر سب پر ڈالی تھی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔


آج تو بڑا فریش لگ رہا ہے ۔۔ فارس نے مسکرا کر نظر ثانی کی تھی ۔۔
کیوں روز نہیں لگتا تھا کیا ۔۔ آہل نے شرارت سے جواب دیا تھا ۔۔
لگتا تھا لیکن اس طرح نہیں ۔ فارس عورتوں کی طرح آہل کی جانچ کرنے میں مصروف تھا ۔۔
تو میری چھوڑ یہ بتا ہوتا کہاں ہے تو ۔۔آہل نے اسے مسکرا کر چھیڑا تھا ۔۔
ہم نے کہاں ہونا اسی سر زمین پر ۔۔فارس نے نہایت بےچارگی سے جواب دیا تھا ۔۔
لیکن میرے یار تیرے انداز تھوڑا بدلے بدلے سے ہے سب ٹھیک تو ہے ۔۔آہل اوپر سے نیچے تک فارس کا جایزہ لیا تھا ۔۔
سب ٹھیک ہے یار تو خواہمخواہ شک کر رہا ہے ۔۔۔ فارس نے منھ پھلاتے ہوے کہا تھا ۔۔
فارس ایک اچھا سا مشورہ دوں تجھے ؟؟ آہل نے اجازت لی تھی ۔۔
ہاں دیں ۔۔فارس کے کان فورن کھڑے ہوے تھے ۔۔
شادی کر لیں تیری تنہایی بھی دور ہو جاے گی ۔۔ مشورہ نہایت دلچسپی سے دیا گیا تھا ۔۔
کر لوں گا میری جان ۔۔فارس نے آنکھ ماری تھی مطلب صاف تھا مشورہ کچھ برا نہیں ہے ۔۔
کویی پسند ہے ؟؟ آہل کا سوال بے حد عام سا تھا لیکن فارس چہرے کا رنگ یکلخت غایب ہوا تھا ۔۔
نہیں یار کویی پسند نہیں ہے جب ہوگی تجھے بتا دوں گا ۔۔فارس نے بھرپور مسکرانے کی کوشش کی تھی ۔۔
اوکے انتظار رہے گا ۔۔ آہل بھی مسکرا دیا تھا ۔۔


بریرہ کیا دیکھ رہی ہو ؟؟ لاونج میں بیٹھی بریرہ کو دیکھ کر مرش نے مسکرا کر پوچھا تھا ۔۔
کچھ بھی بس بور ہو رہی تھی تو ٹی وی دیکھنے لگی تم آو ۔۔بریرہ نے اسے اپنے سایڈ میں بیٹھنے کی جگہ دی تھی ۔۔
مرش تم خوش تو ہو نہ ۔۔بریرہ نے نہ جانے کن خدشہ کے تحت پوچھا تھا ۔۔
بریرہ میری زندگی میں جو لکھ دیا گیا ہے اسے میں خوشی خوشی قبول کر چکی ہوں کیوں کی میرے پاس اس کے علاوہ اور کویی راستہ نہیں ہے ۔۔مرش نے نپے تلے لفظوں میں اسے یقین دلایا تھا ۔۔
مرش بھایی بہت اچھے ہے اینڈ میجھے لگتا ہے وہ تم سے بہت پیار کرتے ہے ۔۔۔بریرہ نے مسکرا کر اپنے بھایی کی سایڈ لی تھی ۔۔
ہاں شاید ۔۔۔ مرش نے کہا کچھ بھی نہیں تھا لیکن تھوڑا بہت دل ہی دل میں مسرور ہونے لگی تھی ۔۔
تم بتاو کیا چل رہا ہے ۔۔مرش نے کچھ جانچتی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
کچھ خاص نہیں صرف اسٹڈی ۔۔بریرہ نے نظریں چراتے ہوے جواب دیا تھا ۔۔
اچھا ۔۔۔ مرش نے تھوڑا لمبا کھینچا تھا ۔۔
وہ دونوں اپنی اپنی بے جا گفتگو کرنے میں مگن تھی ۔۔۔


سر میٹنگ میں صرف پندرہ منٹ رہ گیے ہے ۔۔ ایک کم عمر سانولی رنگت والی لڑکی اپنے باس کو میٹنگ کے ٹایم سے اگاہ کر رہی تھی ۔۔
اوکے ہم آتے ہے ۔۔ آہل نے ایک سرسری سی نگاہ اس پر ڈال کر جواب دیا تھا ۔۔
اوکے سر وہ لڑکی جا چکی تھی ۔۔
کیا ڈھونڈ رہا ہے ۔۔آہل دراز کی سایڈ کچھ فایلوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا نہ جانے اسے کس چیز کی تلاش تھی ۔۔
یار میں وہ اکاوینٹیڈ فایل ڈیڈ سے لینا بھول گیا تھا شٹ !!! آہل اپنی کوتاہی پر سخت غصہ آ رہا تھا وہ فایل حد سے زیادہ ضروری تھی کم از کم آج کے دن ۔۔
اب کیا ہوگا !! فارس نے بھی حیرانگی ظاہر کی تھی ۔۔
ایک کام تو گھر جا کر وہ فایل لے آ پلیز ! آہل نے التجا کی تھی ۔۔
یار تو بہت ان سب کاموں کے لیے میں ہی تجھے دکھتا ہوں ۔۔فارس نے منھ پھلا کر ہلکی پھلکی ناراضگی ظاہر کی تھی ۔۔
میری جان پلیز !! آہل کی آنکھوں میں امید کی ایک لہر تھی ۔۔
اوکے ٹھیک ہے لیکن آج آخری بار ہے ۔۔ فارس نے شہادت کی انگلی اس کی جانب کر کے وارننگ دی تھی لیکن کس کو خبر تھی آج شاید یے آخری ہی ہے ۔۔
اوکے یار آخری بار ۔۔آہل مسکرا دیا تھا ۔۔


فارس آپ !! لاونج میں بیٹھی کافی سے لطف اندوز ہوتی مرش نے حیرانگی سے پوچھا تھا ۔۔
جی بھابھی السلام علیکم ۔۔فارس نے سعادت مندی سے سلام کیا تھا ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔مرش نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔
دراصل میں انکل سے ایک فایل لینے آیا تھا ۔۔ فارس نے مسکرا کر اپنی آنے کی وجہ بتایی تھی ۔۔
اچھا لیکن ڈیڈ تو اپنے کسی فرینڈ کے یہاں گیے ہوے ہیں ۔۔۔مرش نے اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوے کہا تھا ۔۔
اچھا ۔۔فارس نے غایب دماغی سے جواب دیا تھا یوں لگ رہا تھا وہ یہاں ہے ہی نہیں ۔۔
کسی کو ڈھونڈ رہے ہیں کیا آپ ؟؟ مرش نے بہ مشکل اپنی مسکراہٹ دبا لی تھی ۔۔
آ۔ ۔نن نہیں تو کسی کو بھی تو نہیں ۔۔فارس خود کو کمپوز کرتے ہوے بہ مشکل جواب دیا تھا ۔۔
مجھے لگا کسی کو ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔مرش اب اسے چھیڑنے پر آمادہ تھی ۔۔
ارے بھابھی میں نے کس کو ڈھونڈنا ہے !! فارس صاف مکر گیا تھا ۔۔اس بات سے بے خبر کی وہ جس راز کو راز رکھنا چاہتے ہے مقابل اس سے پہلے سے با خبر تھا ۔۔
اوپر ہے ۔۔۔مرش نے اوپر کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔
کیا ؟؟ فارس نے نا سمجھی سے پوچھا ۔۔
بریرہ !! مرش نے کافی کا سیپ لے کر ایک بم دھماکہ کیا تھا ۔۔
ب۔ ب۔ بریرہ بھابھی میں آ ۔۔۔مرش کی آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ایک ایسا انکشاف ہوا تھا جس کا اسے سرے سے علم ہی نہیں تھا ۔۔
میں جانتی ہوں ۔مرش اب اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی ۔۔
کیا ؟؟ فارس نے حیرت سے پوچھا ۔۔
یہی کی آپ کو میری پیاری سی نند بہت پسند ہے ۔۔ مرش نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اسے چھیڑا تھا ۔۔
میں فایل ڈھونڈ کر لاتی ہوں آپ تب تک اوپر جا کر اس سے مل لیں دیکھ لیں ایسی بھابھی آپ کو کہاں ملیں گی ۔۔مرش نے خود کی تعریف کرنا ضروری سمجھا تھا ۔۔
تھینکس ۔۔لیکن پلیز آپ آہل سے کچھ نہ کہیے گا میں ریکویسٹ کرتا ہوں آپ سے ۔۔فارس نے بے امید کے ساتھ مرش سے کہا تھا ۔۔
پاگل ہیں کیا آپ اتنا بیوقوف سمجھ رکھا ہے مجھے ۔۔مرش نے اسے آنکھیں دکھایی تھی ۔۔
بہت بہت بہت شکریہ مرش بھابھی ۔۔فارس کی آنکھوں کی چمک اور بڑھ گیی تھی اب اس محبت کے رازداں دو نہیں تین افراد ہو چکے تھے ۔۔
یور ویلکم میں فایل ڈھونڈ کر لاتی ہوں ۔۔مرش وہاں سے جا چکی تھی ۔۔


ہاے ۔۔فارس عین بریرہ کے پیچھے کھڑے ہو کر اس کے کان میں سرگوشی سی کی تھی ۔۔
فارس تم ۔۔تم یہاں تم پاگل ہو گیے ہو کیا کسی نے دیکھ لیا تو ۔۔۔بریرہ کی گھبراہٹ عروج پر تھی ۔۔۔
کون دیکھے گا میری جان بولو ۔۔فارس اپنی نرم ملایم مخروطی انگلیوں سے اس کی لٹوں کو کان کے پیچھے کر رہا تھا جو بار بار اسے ڈسٹرب کر رہی تھی ۔۔
فارس پلیز ہزاروں ملازم ہیں یہاں کسی نے غلطی سے بھی دیکھ لیا تو بہت بڑا طوفان آ جاے گا ۔۔
یار تمہارا بیڈروم تو بہت ہی خوبصورت ہے ۔۔فارس اب اس کے بیڈ پر پھیل کر بیٹھ چکا تھا ۔۔
فارس میں کہہ رہی ہو یہاں سے جاو پلیز !! بریرہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ رہی تھی ۔۔
پہلی بار آیا ہوں کم از کم ایک کپ چاے کا ہی پوچھ لو ۔۔فارس نے منھ پھلاتے ہوے کہا ۔۔
فارس پلیز جاو یہاں سے ۔۔کویی بھی دیکھ سکتا ہے مرش ۔۔مرش بھی دیکھ سکتی ہے وہ کیا سوچے گی پلیز ۔۔بریرہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی ۔۔
فکر کی کویی بات نہیں بریرہ جان مرش بھابھی نے ہی تو مجھے آفر کی تھی ۔۔فارس کا اطمینان حد درجے کا تھا ۔۔۔
کیا !!!! بریرہ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرے چھانے لگا تھا ۔۔
ہاں مرش جانتی ہے میرے خیال اس دن ریسٹورینٹ میں دیکھ لیا تھا شاید ۔۔
فارس یے تم کیا کہہ رہے ہو ۔۔بریرہ کے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے تھے ۔۔۔
سچ کہہ رہا ہوں میں دیکھو بریرہ ایک نہ ایک دن سب کو پتہ چلنا ہی ہے تم پلیز پریشان نہ ہو ۔۔فارس اسے تسلی دے رہا تھا ۔۔۔
فارس لیکن ۔۔۔
بریرہ پلیز کول ڈاون یے موقع ہمیں بار بار نہیں ملنے والا پلیز انجواے کرتے ہیں ۔۔۔
بریرہ اب خاموش ہو چکی تھی سارے الفاظ بے مقصد لگنے لگے تھے ۔۔


کون سی فایل ہے ۔۔ مرش ایک ایک کر کے دراز چیک کر رہی تھی ۔۔
افف اللہ کہاں پر ہے یے فایل ۔۔مرش Almirah کے اندر منھ گھساے سب کچھ الٹ پلٹ کر کے دیکھنے میں مگن تھی ۔۔۔
اچانک ایک فایل سے بڑے سایز والا فوٹو زمین پر جا گرا تھا ۔۔
یے کیا ہے !! مرش گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھ کر فوٹو کو اٹھا کر دیکھ رہی تھی ۔۔
اس کو شدید جھٹکا لگا تھا ۔۔۔
یے فوٹو ۔۔یے تو امی کے پاس بھی ہے لیکن یے ڈیڈ کے پاس کیا کر رہی ہے ۔۔۔
اففف مرش کیا لے کر بیٹھ گیی ہو۔۔مرش نے خود کو ڈپٹا تھا جلدی جلدی فوٹو اس نے اندر رکھ دیا تھا ۔۔ذہن اس وقت کافی الجھا ہوا تھا ۔
اف اللہ یہاں ہے فایل میں بھی کہاں کہاں ڈھونڈ رہی ہوں ۔۔سامنے ہی رکھی فایل کو دیکھ کر مرش منھ ہی منھ بڑبڑایی تھی ۔۔۔
فایل لے کر وہ سیدھا باہر لاونج میں آ گیی تھی جہاں فارس پہلے سے ہی موجود تھا ۔۔
یے لیں ۔۔مرش نے فایل اس کی جانب بڑھایا تھا ۔۔
شکریہ ۔۔فارس نے مسکرا کر شکرایہ ادا کیا تھا ۔۔


دیکھو مسڑر ہم آپ کو اندر نہیں جانے دے سکتے اس سے پہلے بھی آپ نے کافی بدتمیزی کی تھی ہمیں سخت آڈر ملیں ہیں ہم آپ کو اندر جانے کی پرمیشن نہیں دے سکتے ۔۔
سیکیورٹی اسے دونوں بازوں سے دبوچے ہوے تھا ۔۔
مجھے اندر جانے دو ورنہ میں تم لوگوں کو جان سے مار دوں گا ۔۔۔علی شہروز کا انداز اب دھمکی دینے والا تھا ۔۔۔
نہیں بہتر یہی ہوگا آپ خاموشی سے باہر نکل جاے ورنہ ہمیں آپ کو اٹھا کر باہر پھیکنے میں ایک لمحہ نہیں لگے گا ۔۔۔مقابل نے بھی بڑی ڈھٹایی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں پر ۔۔آہل شاہ آفندی طیش میں کھڑا پوچھ رہا تھا ۔۔
ایم سوری سر لیکن یے مسٹر بدضد ہو رہے ہیں آپ سے ملنے کے لیے ۔۔۔
سیکورٹی نے بڑی ایمانداری سے بتایا تھا ۔۔
ایک منٹ کے اندر گھسیٹتے ہوے باہر لے جاو ۔۔آہل کی آنکھیں اب غصے سے لال ہو رہی تھی ۔۔
آہل شاہ آفندی آج اپنے قیمتی وقت میں سے دو منٹ مجھے بھی دے دو کیا غضب کی خوشخبری دینی ہے تمہیں بتا نہیں سکتا ۔۔۔علی شہروز نے شاطرانہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی تھی ۔۔
آیی سیڈ ۔۔۔ لے جاو اسے ۔۔ْآہل نے اب دھاڑا تھا ۔۔جس کافی لوگ کانپ اٹھے تھے ۔۔
سیکورٹی اس کا بازوں گھسیٹتے ہوے باہر کی طرف قدم بڑھاے تھے ۔۔۔
آہل ۔۔آہل میری بات سن لو ورنہ بہت پچھتاوگے میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں نہیں بلکہ کچھ دکھانا چاہتا ہوں ایک بار میری بات سن لو ۔۔۔علی سیکورٹی کے ہاتھوں خود سے آزاد کر کے اس کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا ۔۔
علی اگر تم زندہ ہو تو اس کی صرف ایک وجہ ہے میں قاتل نہیں بننا چاہتا دفعہ ہو جاو یہاں سے ۔۔آہل نے غرارتے ہوے اس کا گریبان اپنے ہاتھوں سے جکڑ لیا تھا ۔۔۔
چلا جاوں گا لیکن میری بات سن لو تمہاری لیے بڑی کام کی چیز لایا ہوں ۔۔علی شہروز کی آنکھوں کی آنکھوں بلا کی بہودگی تھی ۔۔۔
بولو ۔۔آہل نے بڑی برداشت سے کہا تھا ۔۔
اندر چلو تمہیں کچھ دکھانا ہے یار ۔۔۔علی راہداری میں چل کر اس کے کیبین میں جا کر چییر پر بڑے اطمینان کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔۔
اب بولو بہت جلدی ورنہ تمہیں شوٹ کرنے میں ایک پل نہیں لگاوں گا ۔۔۔آہل میز کی سطح پر سختی سے ہاتھ جماے اس کی طرف جھکا تھا ۔۔۔
آگے کے الفاظ نہ جانے کیا راز افشاں کرنے والے تھے ۔۔۔