122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

مرش کافی کا مگ ہاتھ میں لے کر بالکنی میں آ گیی تھی کیوں کی اندر اسے گھٹن محسوس ہو رہی تھی یوں بے دھیانی میں اس یی نظر گیٹ کے اندر داخل ہوتی بریرہ پر پڑی تھی ذہن میں اچانک بے تحاشہ سوال الجھ رہے تھے ۔۔
بریرہ منھ پر انگلی رکھ کر اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی اندر بہت کچھ ٹوٹا تھا چھن سے ساری امیدیں ٹوٹ گیی تھی لیکن اسے پھر بھی اپنے رویہ پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی پچھتاوا ہو رہا تھا ۔۔
بریرہ کیا ہوا تم ٹھیک ہو ۔۔مرش اسے دیکھ کر فورن دوڑتی ہویی کمرے میں آیی تھی کیوں کی اسے فکر تھی وہ اس کی نند ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی دوست بھی تھی ۔۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں بس یونہی ۔۔بریرہ نے جبرن مسکرانے کی کوشش کی تھی ۔۔
نہیں تم ٹھیک نہیں ہو بتاو مجھے کیا ہوا ہے فارس نے کچھ کہا ہے ۔۔مرش اس کا تھام کر قدرے نرم لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔۔
مرش وہ مجھ سے ناراض ہے مجھ سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہا پتہ نہیں کیا ہوا ہے وہ کیوں کر رہا ہے ایسا مرش ۔۔بریرہ اس کے گلے لگ کر رو رہی تھی ۔۔
بریرہ حوصلہ رکھو ویسے بھی آہل کو سب پتہ چل گیا ہے شاید اس لیے ۔مرش اس کی پشت سہلا کر تسلی دے رہی تھی کچھ کچھ اندازہ تو اسے بھی تھا فارس کے اس طرح کے رویہ پر ۔۔
کیا ؟؟ بھایی کو پتہ چل گیا یہ تم کیا کہہ رہی ہو مرش کیا بھایی اور فارس کے بیچ فایٹنگ بھی ہویی تھی مرش یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے میں کیا کروں ؟؟ بریرہ رو رو کر اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرا رہی تھی کیوں آدھے سے زیادہ غلطی اسی کی تھی ۔۔
بریرہ یہ تو ہونا ہی تھا تم لوگ کو چاہیے تھا آہل کو پہلے بتا دیے ہوتے کم از کم یہ تماشہ تو نہ ہوتا ۔۔۔ مرش کی بات تو سہی تھی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ۔۔
اس کی کویی غلطی نہیں ہے مرش وہ تو ہمیشہ سے کہتا تھا بھایی کو بتانے کے لیے لیکن میں نے اسے بتانے نہیں دیا تھا کیوں کی مجھے ڈر لگ رہا تھا سب غلطی میری ہے مرش سب !!! بریرہ کی رونے میں مزید روانی آ گیی تھی ۔۔
اب رونے سے کچھ نہیں ہوگا بریرہ حوصلہ رکھو اور پلیز یہ آنسوں صاف کرو ورنہ میں ناراض ہو جاوں گی ۔۔۔بریرہ کو منانے کی ایک یہی تدبیر مرش کو نظر آیی تھی ۔۔
لیکن مرش اب کیا ہوگا ؟؟ بریرہ نے نہ جانے کس خوف کے تحت پوچھا تھا ۔۔
تم ڈر کس سے رہی ہو بریرہ محبت کی ہے تم نے چوری نہیں اب یہ ڈرنے کا سلسلہ بند کرو ۔۔ مرش نے مصنوعی غصے کے ساتھ اسے ڈپٹا تھا ۔۔


کل رات اڑ رہے تھے ستارے ہوا کے ساتھ ۔۔
اور میں اداس بیٹھا تھا اپنے خدا کے ساتھ ۔۔
یہ تو قبولیت کے طریقے سکھا مجھے ۔۔
یہ مجھ کو باندھ دے اپنی رضا کے ساتھ ۔۔

فارس بیڈ پر سیدھے لیٹ کر چھت کو گھور رہا تھا آنکھوں کے سامنے سارے منظر ناچ رہے تھے کیوں ہوا تھا یہ سب کیا مقصد تھا ان سب کا کس چیز کے تحت یہ سب ہوا تھا کیا چاہتا تھا علی شہروز کیوں کیا اس نے ایسا کیا ملا اسے یہ سب کر کے ۔۔۔
علی شہروز میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں بہت غلط کیا ہے تو نے ایک ایک بات کا بدلہ لوں گا اب میں تمہیں بتاوں گا کون ہوں میں ۔۔ فارس خود سے ہمکلام تھا آنکھیں شدید سرخ ہو رہی تھی غصے کی وجہ سے مٹھیاں بھینچ گیی تھی ۔۔
اب میں تمہاری ہر چیز پر نظر رکھوں گا آخر مقصد کیا ہے تمہارا کیا چاہتے ہو تم ؟ فارس اٹھ کر ببیٹھ چکا تھا بالوں میں انگلیاں پھیر کر اس نے خود سے عہد باندھا تھا ۔۔


امی میں بلکل ٹھیک ہوں آپ سناے آپ کیسی ہے اور بابا کیسے ہیں ؟؟ مرش کمرے میں ٹہل ٹہل کر فایزہ بیگم سے فون پر بات کرنے میں مصروف تھی کیی دنوں بعد اس نے فایزہ بیگم کو فون کیا تھا اس لیے باتوں کا سلسلہ ابھی ختم ہونے والا نہیں تھا ۔۔
میں ٹھیک ہوں اور تمہارے بابا بھی ٹھیک ہے بس تمہیں بہت یاد کرتے ہے ۔۔فایزہ بیگم نے مسکرا کر جواب دیا تھا ۔۔
امی میں آپ لوگوں کو بہت بہت مس کرتی ہوں بس جلدی سے آپ لوگوں کو ملنے آوں گی ۔۔۔مرش نے خود یقین دلانا چاہا تھا شاید اب اسے تھوڑا ممکن لگنے لگا تھا ۔۔
یونہی ہی کچھ کی گفتگو کے بعد سلسلہ منقطع ہو گیا تھا ۔۔ثمرہ کو کال ملانے کے خیال سے وہ دوبارہ فون ہاتھ میں لے کر بیٹھ گیی تھی ۔۔ بدقسمتی سے علی شہروز کی کالنگ آنے لگی تھی ۔۔
اب اسے کیا مسلہ ہے !! مرش نے دانت پس کر خود کو پرسکون کرنا چاہا تھا ۔۔
بولو !! مرش نے بےزاریت کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔
کیسی ہو جانے من ۔۔ مقابل نے بڑی ڈھٹایی کا مظاہرہ کیا تھا ہر فکر سے آزاد گویا کچھ ہوا ہی نہیں ہے جنگل میں آگ لگا کر خود بڑے مزے لے رہا تھا ۔۔
مسٹر علی اگر آپ مجھے کویی کمزور لڑکی سمجھ رہے ہے تو نہایت غلط سوچ رہے ہیں آپ جاہل انسان ۔۔۔ مرش کچکچا کر بولی تھی جیسے علی شہروز نظروں کے سامنے ہی ہو ۔۔
جانے من کیا آواز ہے تمہاری میں تو فین ہو گیا تمہارا ۔۔ علی نے ہنستے ہوے کہا تھا مطلب اسے مرش کے لفظوں سے کویی فرق نہیں پڑا تھا ۔۔۔
بکواس بند کرو ۔۔مرش اکتا کر بولی تھی ۔۔
میری بات دھیان سے سنو بنا چوں چاں کیے ورنہ اپنے نقصان کی زمیدار خود ہوگی تم پانچ منٹ کے اندر گاڑی گیٹ پر آے گی ایک لفظ منھ سے نکالے بغیر گاڑی میں بیٹھ جانا ویسے میں تمہیں ایڈریس سینڈ کر دیتا ہوں تاکی کویی مشکل نہ پیش آے اگر تمہیں اپے باپ کی جان عزیز ہے تو میرا کہا مان لو میری جان ورنہ بڑا نقصان ہوگا تمہارا اور ہاں ایک اور بات اگر کسی کو بھی کچھ بتانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کویی نہیں ہوگا اب فون رکھتا ہوں ملتے ہیں کچھ دیر بعد خدا حافظ سویٹ ہارٹ !! کال کٹ چکی تھی لیکن مرش کا سر چکرانے لگا تھا کچھ وقت لگا تھا اسے سمبھلنے میں علی نے کیا کہا تھا کیا کرنا چاہتا تھا ۔۔سوچ سوچ کر اس کا ذہن ماوف ہو رہا تھا ۔۔
اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی آنکھیں آنسوں سے بھر آیی تھی اپنے بابا کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا کہیں کچھ غلط ہو گیا تو اس کی قصوروار صرف اور صرف مرش خود کو قصوروار ٹھہراتی اسے اپنے بابا کی فکر رہی تھی اور کسی کی نہیں اسے اپنے بابا کو بچانا تھا چاہے جیسے بھی ۔۔
مرش بہت ہی لاابالی سی لڑکی تھی ہر فیصلہ جزبات میں کرنا اس کی سب سے بڑی بیوقوفی تھی ۔۔
بی بی جی آپ نہیں جا سکتی صاحب کا حکم ہے ہم آپ کو کہیں نہیں جانے دے سکتے ۔۔ گاڈز فورن اس کے راستے میں ہموار ہوے تھے کیوں کی وہ بھی مجبور تھے اپنے صاحب کے حکم کو ماننا ان کے لیے ضرورت سے زیادہ لازمی تھا ۔۔
ہٹو میرے راستے سے مجھے جانا ہے دیکھو تم لوگو مجھے جانے دو کویی ایمرجنسی پیشْ آ گیی ہے ۔۔مرش کو نہ چاہتے ہوے بھی انہیں جواب دینا پڑا تھا ایک تو وہ پہلے سے بوکھلایی ہویی تھی اوپر سے یہ لوگ ۔!!
دیکھیں بی بی جی ۔۔گاڈز نے پھر زبان کھولی تھی لیکن مرش درمیان میں ہی بول پڑی تھی ۔۔
تم لوگ میرا راستہ چھوڑ رہے ہو یہ نہیں ہٹو میرے راستے سے ۔۔۔مرش کو سخت غصہ آ رہا تھا دل کر رہا تھا سب تہس نہس کر دے ۔۔
گاڈز راستے میں سے ہٹ گیے تھے اب کہاں اتنی مجال تھی کی وہ کچھ اور بولتے کچھ بھی تھا لیکن پھر بھی مرش ان کے لیے قابل عزت تھی ۔۔
انجان گاڑی میں اسے بیٹھتے دیکھ کر گاڈز کو شدید حیرت ہویی تھی گھر میں موجود بےتحاشہ گاڑی ہونے کے باوجود مرش بی بی کس انجان گاڑی میں بیٹھ رہی تھی اس سے پہلے کی وہ کچھ پوچھتے گاڑی ہایی اسپیڈ سے آگے بڑھ گیی تھی ۔۔۔
صاحب جی بی بی جی ابھی ابھی گھر سے باہر نکلی ہے ۔۔ واچمین نے فورن آہل کو فون کھڑکایہ تھا کیوں کی اسے ہر ہال میں اپنے صاحب کو اطلاع دینی تھی جو کی بے ضروری تھی ۔۔
کس کے ساتھ گیی ہے ؟؟ آہل کو بے تحاشہ غصہ آ رہا تھا مرش کی اس جرت پر جس لڑکی کے لیے وہ اتنا خوار ہو رہا تھا اس کے نزدیک اس کی بات کی کویی اہمیت نہیں تھی ۔۔
صاحب جی انجان گاڑی تھی !! واچمین نے تعابداری سے بتایا تھا ۔۔
کیا مطلب پہلیاں کم بجھواو صاف صاف بتاو ۔!!! آہل نے ٹھوس لہجے میں پوچھا تھا ۔۔۔
صاحب جی انجان گاڑی تھی باہر آیی تھی بی بی جی جا کر بیٹھ گیی گاڑی آگے بڑھ گیی تھی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں پتہ صاحب جی ۔۔واچمین نے گھبراتے ہوے بتایا تھا اسے ڈر لگ رہا تھا کہیں اس کی اچھی خاصی کلاس لے لی نہ جاے ۔۔
بیوقوف انسان فون رکھو !! آہل فون ٹیبل پر پٹکھا تھا ۔۔
آہل کو اب پریشانی ہو رہی تھی اسے بتاے بغیر مرش جا کہاں سکتی ہیں آہل مرش کے فون پر مسلسل کالز ملا رہا تھا لیکن کویی جواب نہیں مل رہا تھا اسے شدید غصہ آ رہا تھا کم از کم مرش کالز تو پک کر سکتی تھی لیکن نہیں اسے کس کی پرواہ تھی اپنے علاوہ ۔۔
آہل تھک ہار کر گھر آ گیا تھا پریشانی کا عالم بڑھتا ہی جا رہا تھا روم میں آ کر وہ بیڈ پر تھک ہار کر گرنے والے انداز میں سویا تھا اس کی سمجھ باہر تھا آخر مرش جا کہاں سکتی تھی شاپنگ پر بھی جاتی تو گھر کی گاڑی سے جاتی لیکن یوں اس طرح اسے بتاے بغیر کسی انجان گاڑی میں بیٹھ کر کیسے جا سکتی تھی ۔۔اس نے ایک بار پھر سے کال ملایی تھی جیسے اسے کویی امید ہو شاید اس بار مرش کال پک کر لے گی لیکن روم میں بجتی رنگ ٹون نے اس کا دھیان اپنی طرف مبذول کیا تھا ۔۔
جلدبازی میں مرش اپنا فون روم میں ہی بھول گیی تھی اسے تو صرف جانے کی جلدی تھی فون لے جانا اس کے ذہن سے بلکل نکل گیا تھا ۔۔
اوہ تو میڈم اپنا فون بھول کر گیی ہے ۔۔ مرش کا فون ہاتھ میں لے کر آہل منھ ہی منھ بڑبڑایا تھا شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا شاید بہت بڑا نقصان ہونے سے بچ سکتا تھا ۔۔
مرش کا فون ہاتھ میں لے کر یونہی بے دھیانی میں آہل کی نظر اسکرین پر چمکتے میسیجیس پر پڑی تھی لفظ بہ لفظ اس نے میسیج پڑھا تھا ایک اور انکشاف ہوا تھا ببے حد غیر متوقع نہ جانے ابھی کتنے امتحانات باقی تھے ۔۔آہل کو بے حد غصہ آ رہا تھا اتنا کی شاید اگر اس وقت مرش اس کے سامنے ہوتی تو وہ اسے شوٹ میں کرنے میں ایک لمحہ زایا نہیں کرتا ۔۔ لیکن اس وقت اسے عقلمندی سے کام لینا تھا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ گاڑی میں آ کر بیٹھا تھا اسے مرش تک پہنچنا تھا چاہے کسی بھی طرح کاش اس وقت۔ وقت کو پر لگ جاتے ۔۔آہل کے دل نے شدت سے خواہش کی تھی ۔۔ آج آہل شاہ آفندی بے حد تیز یاہی اسپیڈ سے گاڑی ڈرایو کر رہا تھا زندگی میں پہلی بار اس نے اتنی فاسٹ ڈروایو کی تھی اگر اس وقت ایکسیڈینٹ ہو جاتا تو کویی شک نہیں تھا ۔۔۔


ایک کمرے میں لاکر مرش کو چھوڑ دیا گیا تھا کمرا کا حال اچھا خاصا برا تھا شراب کی بوتلیں زمین پر رقص کر رہی تھی سگریٹ کے پیک کھلے پڑے تھے اور نہ جانے کتنی دیگر چیزیں تھی جو کی مرش کے علم میں ہرگز نہیں تھی جو شاید ایک گھٹیا انسان ہی استعمال کرتا ہے ۔۔۔کچھ وقت بیتنے کے بعد علی کمرے میں داخل ہوا تھا شرٹ کی بٹن پوری طرح سے آزاد تھی کالر کو عجیب بے ڈھنگے طریقے سے اسٹایل کیا گیا تھا ۔۔ علی کو سامنے پا کر مرش نے فورن اپنی خشک زبان پر لب پھیر کر سوال کیا تھا ۔۔
علی میرے بابا کہاں ہیں ؟؟ مرش کی آنکھوں میں خوف صاف جھلملا رہے تھے۔۔
بڑی معصوم ہو تم آج مجھے پورا یقین ہو گیا یار معصوم ہونے کے ساتھ بڑی بیوقوف بھی ہو قسم سے اگر مجھے پتہ ہوتا شکاری اتنی آسانی سے جال میں پھنس جاے گا تو میں جال بھچھانے میں ذرا بھی دیر نہیں کرتا ۔۔۔ راکنگ چییر پر جھولتے ہوے علی شہروز نے اسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا تھا ۔۔
کیا مطلب تمہارا !! مرش کی چھٹی حس نے فورن گرین سگنل دیا تھا ۔۔
دیکھو میں تمہیں حاصل کرنا چاہتا کر لیا حاصل اور اب میں تمہارے جسم تک رسایی حاصل کرنا چاہتا ہوں جس سے تم مجھے روک نہیں سکتی ! ہے نہ ؟؟ علی نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا تھا شاید اپنے ہونے والے گمان کو یقین میں بدلنے کے لیے ۔۔
دیکھو میرے قریب بھی مت آنا ۔۔ مرش دو قدم پیچھے ہویی تھی ۔۔
کیوں شرم آ رہی ہے کیا ۔۔علی چییر سے اٹھ گیا تھا ۔۔
آہل تمہیں چھوڑے گا نہیں ۔۔نہ جانے مرش نے کس گمان میں آہل کے حوالے سے اسے ڈرانا چاہا تھا ۔۔
وہ مجھے پکڑے گا تب نہ میری جان جب وہ یہاں پر ہوگا ۔۔علی اس کے مد مقابل آ کھڑا ہوا تھا ۔۔
دور رہو مجھ سے ۔۔مرش کی آنکھوں میں آنسوں بھر گیے تھے خوف سے دل لرز رہا تھا ۔۔
کیوں مجھے کویی حق نہیں ہے کیا میری جان ۔ علی شہروز مرش کا ہاتھ تھام کر خباثت سے مسکرایا تھا ۔۔
میں نے کہا میرا ہاتھ چھوڑو ۔۔مرش اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن گرفت خاصی مضبوط تھی جس سے رہایی پانا تھوڑا مشکل تھا ۔۔
نہیں چھوڑا تو اب چپ کر جاو یار ابھی میں تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں تم واقعی میرے سامنے ہو ۔۔ علی شہروز تھوڑا اور اس کے قریب ہوا تھا ہاتھ بڑھا کر جیسے اس نے مرش کے گلے میں جھولتا دوپٹہ اتارنا چاہا تھا اچانک کسی نے اس کے بڑھتے ہوے ہاتھ کو روک دیا تھا شاید کویی فرشتہ تھا جس کو اللہ نے مدد کے لیے بھیجا تھا یہ شاید مرش کی قسمت بہت اچھی تھی جو آج ناپاک ہونے سے صاف صاف بچ گیی تھی ۔۔
تم ؟؟ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر علی کو اپنی آنکھوں پر یقین کرنا کافی مشکل تھا ۔۔
ہاں میں مسٹر علی کیوں حیرت ہو رہی ہے کیا مجھے دیکھ کر ۔۔ایک زور دار ک گھونسا علی کے منھ پر پڑا تھا ۔۔
مرش نے ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں کھولی تھی جسم میں ایک سکون کی لہر دوڑی تھی گویا وہ بچ گیی تھی وہ بلکل پاکدامن تھی کویی اس کے اوپر کیچڑ نہیں اچھال سکتا تھا ۔۔
بھابھی آپ پلیز سایڈ ہو جاے ۔۔فارس نے ایک نظر مرش کو دیکھ کر کہا تھا ۔۔
ایک اور مزے کا گھونسا علی کے پیٹ میں پڑا تھا جس سے وہ زمین پر منھ بل جا گرا تھا ۔۔
فارس آرام سے کہیں تمہیں چوٹ نہ لگ جاے ۔۔۔مرش نے گھبراتے ہوے کہا تھا جس طرح کی فایٹنگ ہو رہی تھی اس کا گھبرانا لازمی تھا ۔۔
مرش ؟؟ کچھ دیر بعد آہل بھی بلا آخر پہنچ ہی گیا تھا آہل کو سامنے پاکر مرش کی تو گویا سانس ہی تھم گیی تھی خوف سے چہرہ لال ہو گیا تھا پلیکں اوپر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔۔
آہل شاہ آفندی چند لمحے ساکت ہو گیا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا عزیز دوست وہاں موجود تھا اس کی عزت جس نے بچایی تھی وہ آہل شاہ آفندی کا دوست تھا جس کو ابھی کل آہل شاہ آفندی منھ کے بل گرا کر آیا تھا آج وہی دوست اس کے خاطر لڑ رہا تھا خود کو زخمی کر رہا تھا۔۔۔
آہل شاہ آفندی نے اپنے دوست کو اکیلے لڑنے نہیں دیا تھا وہ بھی اس کے ساتھ تھا اس نے بھی فارس کا مکمل ساتھ دیا تھا چند گھنٹوں بعد علی شہروز کو پہچان پانا کافی مشکل ثابت ہوا تھا آہل اور فارس نے مل کر اس کی وہ درگت بنایی تھی جس کو شاید اس نے کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچا ہوگا ۔۔آہل موقع کی مزاکت کو دیکھتے ہوے گھر سے نکلنے کے کچھ دیر بعد پولیس کو انفارم کر دیا تھا ۔۔ جس سے پولیس عین موقع پر وہاں پہنچ گیی تھی ۔۔
کچھ پوچھ گچھ کے بعد پولیس آفیسر نے علی شہروز کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا ۔۔
تم مجھ سے زیادہ دن تک بچ کر نہیں رہ سکتے آہل شاہ آفندی میں واپس آوں گا تو دونوں کو دیکھ لوں گا ۔۔جاتے جاتے علی شہروز دھمکی دینا نہیں بھولا تھا پتہ نہیں یہ صرف کھوکھلی دھمکی تھی یہ اس میں بھی کچھ حقیقت چھپی تھی یہ تو وقت ہی بتاے گا ۔۔
آپ ٹھیک ہیں بھابھی ؟؟ فارس صرف اور مرش سے مخاتب تھا گویا اس کے علاوہ یہاں پر اور کویی موجود نہیں ہے ۔۔
جی میں ٹھیک ہوں فارس لیکن آپ کی انگلی سے تو خون بہہ رہا ہے ڈاکٹر کے پاس چلیں ۔۔ مرش کے لیے واقعی پریشان تھی اور کیوں نہ ہوتی ظاہر ہے یہ زخم اسی کی وجہ سے تھے ۔۔
جی بس ڈاکٹر کے پاس ہی جاوں گا بہت شکریہ خدا حافظ ۔۔ فارس ایک زخمی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا چہرے سے اداسی صاف عیاں تھی لیکن شاید وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
ؑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچھڑا کچھ اس ادا سے کی رت ہی بدل گیی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک پل کو ان دونوں کی نظریں ملی تھی اور ایک ہی پل میں جھک گیی تھی ۔۔فارس یوں ہی نظریں جھکاے آہل کے پاس سے گزر گیا تھا کیا اب وہ دونوں ہمیشہ ایسا ہی رہیں گے کیا ان کے بیچ کبھی پہلی جیسی دوستی نہیں ہو پاے گی ؟ آہل بس فارس کو دیکھ کر رہ گیا تھا الفاظ ہی کہاں تھے وہ اس سے کچھ کہتا کہیں یہ شرمندگی تو نہیں تھی ؟
فارس جا چکا تھا آہل کی اب پوری توجہ مرش کی جانب تھی ایک قہر برساتی نظروں سے اس نے مرش کو دیکھا تھا اور کلایی دبوچ کر گاڑی میں لے آیا تھا درد کی شدت سے مرش بلبلا اٹھی تھی لیکن زبان سے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔
صوفے پر اس دھککا دینے والے انداز میں پٹکا گیا تھا ۔۔
آہل ایم سوری ۔۔۔مرش نے آنسوں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ آہل کو دیکھا تھا جو اس وقت آنکھ بند کر کے شاید غصہ تھوڑا کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
ایم سوری !! مرش نے پھر سے وہی کھوکھلا سا سوری لفظ دہرایا تھا ۔۔
مرش تم پاگل تو نہیں ہو گیی تھی مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کیا سچ میں تم اتنی معصوم ہو یہ صرف دکھاوے کے لیے اپنی معصومیت سے سب کو امپریس کرنا چاہتی ہو ۔۔ آہل کو شدید غصہ آ رہا تھا اسے مرش سے کم از کم اس حماقت کی توقع ہرگز نہیں تھی ۔۔
وہ میرے بابا کو مار دیتا آہل ؟؟ اپنی صفایی کے چکر میں مرش حد سے زیادہ احمقانہ جواز پیش کی تھی ۔۔۔
وآٹ تم کسی دن مجھے پاگل کر کے چھوڑو گی مرش میں مر گیا تھا ہاں ؟؟ آخر تم نے مجھ کیوں نہیں بتایا کیا اتنا سا بھی بھروسہ نہیں تھا مجھ پر ۔۔ آہل اسے گھور رہا تھا غصہ کرنے کا حق تھا اسے مرش کی اس بیوقوفی پر ۔۔
مجھے ڈر لگ رہا تھا تمہیں بتاتے ہوے ۔۔ اپنے آنسوں کو ٹشو پیپر سے صاف کر کے مرش نے کہا تھا ۔۔۔
آیی یو میڈ تمہیں پتہ ہے میں کتنا ڈر گیا تھا میری کیا حالت ہو گیی تھی مرش وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتا تھا ایک بار بھی میرے بارے میں تمہیں خیال نہیں آیا ۔۔ آہل اس کے لگاتار بہتے آنسوں کے سامنے تھوڑا نرم پڑ گیا تھا شاید کچھ زیادہ ہی روڈ ہونے لگا تھا دل تو کر رہا تھا اس بیوقوف لڑکی کو خوب کھری کھری سنا کر دماغ سیٹ کر دے لیکن اس کے روانی سے بہتے آنسوں کو دیکھ کر فورن اپنے دل کو ڈپٹا تھا ۔۔
تم مجھے بیوقوف کہہ رہے ہو ؟؟ مرش منھ پھلا کر فورن پواینٹ کی بات پر آیی تھی ۔۔۔
میری جان میں تمہیں بیوقوف نہیں کہہ رہا لیکن خود سوچو اگر وہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچاتا تو میرا کیا ہوتا کم از کم میرے بارے اتنا سا سوچ لیا کرو ۔۔ آہل اسے شانوں سے تھام کر سینے سے لگا لیا تھا ابھی کچھ دیر پہلے وہ اس کے پاس نہیں تھی کیسے پاگل ہو رہا تھا تو گویا یہ سچ تھا کہ آہل شاہ آفندی مرش سرفراز کے بنا نہیں رہ سکتا تھا ۔۔
تم مجھ ناراض تو نہیں ہو ؟؟ مرش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ۔۔
تم سے ناراض رہ سکتا ہوں میں لیکن پلیز مجھ سے وعدہ کرو اب تم مجھے ساری بات بتاوگی کسی بھی راز کو راز نہیں رکھو گی ۔۔ آہل اپنا ہاتھ اس کے آگے پھیلا دیا تھا جس پر مرش نے مسکرا کر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا مطلب وعدہ پکا !!
آہل مرش کو تھوڑا اور خود سے قریب کیا تھا اسے بال پر اپنا ہونٹ رکھ کر چوما تھا ۔۔مرش کو اتنے قریب دیکھ کر آہل شاہ آفندی کے جزبات مچل اٹھے تھے آج بہت دنوں بعد اس کا موڈ تھوڑا فریش ہوا تھا اتنی خواری کے بعد کم از کم آہل یہ سب ڈیزو کرتا تھا ۔۔
آہل کا ہاتھ یک لخت اس نیوی بلو فراک کی زپ پر جا کر رکا تھا جس کو ہولے ہولے آہل نیچے کر رہا تھا ۔۔

آہل !! مرش کی آواز کہیں دم توڑ رہی تھی ۔۔
آج میں کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہوں مرش ۔۔آہل اس کے لبوں پر انگلیاں رکھ اسے دانستہ چپ کرا چکا تھا ۔۔
مارے شرم کے اس کا چہرہ مزید سرخ ہو گیا تھا عارض دہک رہی تھی مرش ہار چکی تھی آہل شاہ آفندی کی باہوں میں اس نے چپ چاپ اپنا آپ سونپ دیا تھا ۔۔
آہل اسے اپنے بازوں میں اٹھا کر بیڈ پر لے آیا تھا اس کے اوپر جھک کر اس نے مرش کی گردن پر اپنا ہونٹ رکھ دیا تھا حیا سے پلیکں مزید جھک گیی وہ اس کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کر رہی تھی ۔۔۔
آہل اپنی شرٹ کے بٹن ایک ایک کر کے کھول رہا تھا آخری بٹن بھی قید سے آزاد ہو چکا تھا اس نے اپنی شرٹ صوفے پر اچھال دی تھی اس کے اوپر جھک کر اپنا ہونٹ مرش کے لرزتے ہونٹوں پر رکھ دیا تھا مرش بھی مکمل ساتھ دے رہی تھی اس کا شرم و حیا ایک طرف رکھ کر مرش بھی اس کے پیار میں پور پور ڈوب چکی تھی ۔۔
آہل نے آہستہ سے اس کی آستین کاندھے سے تھوڑا نیچے کی اور اس کے کاندھے پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوما تھا مرش کی آنکھیں یک لخت سختی سے بھینچ گیی تھی ۔۔
آہل نے آہستگی سے اس کے کانوں میں جھومتے جھومکے کو اتارا تھا اور اس کی کان کی لویں کو چوما تھا آہستہ آہستہ وہ پوری طرح مرش کے جسم تک رسایی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔۔آج آہل شاہ آفندی پوری طرح ایک شوہر ہونے کا حق حاصل کر چکا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔ مغرور ہی سہی ، مجھے اچھا بہت لگا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ وہ اجنبی تو تھا مگر اپنا بہت لگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ روٹھا ہوا تھا ہنس تو پڑا مجھے دیکھ کر ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ مجھ کو تو اس قدر بھی دلاسہ بہت لگا ۔۔۔۔