50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

انکار کرنے کی وجہ جان سکتا ہوں ۔۔ آہل پر سکون ہوتا ہو پوچھا ۔۔
کیوں کی تم انکار کے ہی قابل ہو ۔۔ مرش نے بے ساختہ کہا ۔۔
بات سنو لڑکی !! میری زندگی میں تم وہ پہلی لڑکی ہو جس نے مجھے تھپڑ مارا ہے ۔۔ تمہیں اپنی حد کا علم ہونا چاہیے ۔۔آہل مرش کا دونوں بازوں سختی سے دبوچ کر کہا ۔۔ میں اب تمہارے ساتھ وہ سلوک کروں گا جس کا تم نے اپنے خوابوں مے بھی نہیں سوچا ہوگا ۔۔ آہل کا غصہ دیکھ کر مرش کچھ پل کے لیے تھم سی گی ۔۔

مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔ پلیز میرا بازوں چھوڑو۔۔ مرش نے دکھ سے آہل کی طرف دیکھتے ہوے کہا ۔۔
تمہارے اس درد سے مجھے سکون مل رہا ہے ۔۔ آہل کی آنکھوں مے طیش صاف ظاہر ہو رہا تھا ۔۔

اگر تمہیں اپنی دوستیں عزیز ہے تو صرف میرا کہا مانو ۔۔ ورنہ پوری زندگی تمہیں پچھتانا پڑے گا ۔۔

کیا مطلب کیا کرنے والے ہو تم ۔۔۔ مرش نے آہل کا چہرہ کو بغور دیکھتے ہوے پوچھا ۔۔
جب کویی مرد بھوکا ہو اور اس کے سامنے کچھ بھی پیش کیا جاے تو اسے جھپٹنے مے ذرا بھی دیر نہیں لگاتا ۔۔ اسی طرح یہاں پر بہت سے لوگ بھوکے ہیں ۔۔ میرے خیال سے اب تمہیں میری بات سمجھ مے آ گیی ہوگی ۔۔

نہیں پلیز ت ۔ کچھ ان کے ساتھ کچھ مت کرنا ۔۔ یے ہمارا مسلہ ہے نہ تو تم ان لوگ کو کیوں گھسیٹ رہے ہو ۔۔ مرش آہل کی بات کا مفہوم سمجھ چکی تھی اس کے رونگٹے تک کانپ گے تھے ۔۔

کیا چاہتے ہو مجھسے ۔۔۔ مرش کی آنکھیں آنسوں سے لبریز تھی زندگی نے اسے ایسے موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا تھا جہاں سے اب واپسی کا راستہ نا ممکن تھا ۔۔

اگر تمہیں اپنی دوستوں کی ذرا سی بھی فکر ہے ۔۔ تو میرے کہے گیے الفاظ پر غور ضرور کرنا۔ ۔

شادی تو تمہیں مجھ سے ہی کرنی ہے ۔۔ تم خود اس انکار کو اقرار مے بدلو گی ۔
تمہیں اس رشتے کے لیے ہاں کہنا پڑے گا وہ بھی آج رات کے اندر مجھے صبح تک خوش خبری مل جانی چاہیے ۔۔ ورنہ میں تمہاری دوستوں کا وہ حشر کروں گا پوری زندگی پاتھ مسلتی رہ جاو گی تم ۔۔ آہل شاہ آفندی نے اپنا مقصد مکمل طور پر واضح کر دیا تھا ۔۔

کیوں کر رہے ہو تم ایسا نہ کرو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔ میری زندگی مت کرو برباد ۔۔۔ ۔مرش بے بسی اس کے قدم چوم رہی تھی ۔۔ مرش روتی روتے زمین پر بیٹھ گی ۔۔
تم نے یے راستہ خود چنا ہے میری جان ۔۔اور جب مسافر اپنا راستہ چن لے پھر اسے اسی راستے پر چلنا پڑتا ہے ۔۔
آہل نے مرش کا ہاتھ کھینچ کر کھڑا کیا ۔۔
اس کی بھوری آنکھیں جو رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی آہل کو کچھ پل کے لیے شرمندگی مے مبتلا کر رہی تھی ۔۔ مرش کو احساس ہو رہا تھا اس کا جسم سن ہو چکا ہے ۔۔۔
یے آنسوں آیندا کے لیے بچا کر رکھو ۔۔ کام آے گے ۔۔ آہل مرش کے گرتے آنسوں کو دیکھ کر کہا ۔۔

تم انسان ہو ہی نہیں سکتے تمہارے سینے مے دل نہیں ہے تم ظالم ہو بہت بڑے ظالم ہو تم اس کا حساب تم سے میرا رب لے گا ۔۔ مرش کو آج اپنی قسمت پر افسوس ہو رہا تھا ۔۔ اسے موت قبول تھی لیکن آہل شاہ آفندی کا ساتھ نہیں ۔۔

تو کیا سوچا تم نے ۔۔ آہل مرش کی باتوں کو نظر انداز کر چکا تھا ۔۔
تم مجھ سے بدلہ لے رہے ہو نہ میں نے تمہیں جو تھپڑ مارا تھا تو ٹھیک ہے تم مجھے اس کے بدلے دو تھپڑ مار لو تمہارا بدلہ پورا ہو جاے گا ۔۔ اس کے بعد تم میرے لیے اور میں تمہارے لیے ہمیشہ کے لیے اجنبی بن جاے گے ۔۔ “”” مرش نے آہل کی آنکھوں مے آنکھیں ڈال کر بات کی ۔۔ وہ ہمیشہ کے لیے اس عذاب سے جان چھڑانا چاہتی تھی ۔۔ رونے کے باعث مرش ٹھیک سے نہیں بول پا رہی تھی ۔۔۔

تھپڑ ؟؟ ۔۔۔ چی چی چی ۔۔۔ سچ کہتے ہے لوگ خوبصورت لڑکیاں معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ بیوقوف بھی ہوتی ہے ۔۔ آہل نے مرش کی بیوقوفی بھری باتوں کا مزاق اڑایا ۔۔
تم نے مجھے تھپڑ نہیں مارا تھا ۔۔ میری انہ کو چیلینج کیا تھا اور جب مجھے کویی چیلینج کرتا ہے نا مرش میڈم ۔۔ تو میں اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہوں اس چیلینج کو جتنے کے لیے ۔۔

تم یے مت بھولو تمہاری دوستوں کی زندگی ان کی عزت سب کچھ میرے ہاتھ مے ہیں ۔۔ آہل نے ایک بار پھر سے مرش کو اس کے حوالے سے اسے باور کرایا ۔۔

ہاں یا نہ ؟؟؟ ۔۔ بس ایک لفظ کا منتظر ہوں میں تمہارے منھ سے سننے کے لیے ۔۔ آہل نے دانت پر دانت جما کر درشت لہجے مے کہا ۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے تم بچ جاو گے میں یہاں سے جانے کے بعد سب کو چیخ چیخ کر بتاوں گی تم کتنے گھٹیا انسان ہو ۔۔ مرش اس کی آنکھوں مے آنکھں ڈال کر اپنی بات مکمل کی ۔۔۔

ہا ۔۔ ہا ۔۔ ہا ۔۔ آہل کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔ میری جان واقعی تم بہت معصوم ہو ۔۔ جب تک تم دنیا کو چیخ چیخ کر بتاو گی نہ تب تک تمہاری دوستوں کی چینخیں یہی دب کر رہ جاے گی ۔۔ آہل کی آنکھوں مے سنجیدگی صاف نمایاں تھی ۔۔
ہٹو میرے سامنے سے مرش آہل کی مضبوط گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑا کر دروازہ کھولی ۔۔ مرش کے لیے سب کچھ بہت مشکل تھا ۔۔ اس کا ذہن ماوف ہو چکا تھا ۔۔۔
ثمرہ اریشہ ۔۔ مرش چیخ کر انہیں پکار رہی تھی ۔۔۔ اتنے کمرے دیکھ کر اس کا سر چکر خا رہا تھا ۔۔۔

رایٹ سایڈ ۔۔ فرسٹ روم ۔۔پیچھے سے آہل کی آواز آیی ۔۔
مرش دوڑتے ہوے کمرے مے داخل ہویی ۔۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے آنسوں خود بخود جاری ہو گیے ۔۔۔
دونوں کے سر پر سوار ایک ایک گاڈز اپنی بلیک ریوالور تانے کھڑے تھے ۔۔
ان کی آہ تک مرش نہیں سن پا رہی تھی کیوں کی ان کے لبوں کو قدرے سختی سے باندھا گیا تھا ۔۔۔
ث۔ ۔ ث۔ ثمرہ اریشہ تم ۔۔ تم لوگ بلکل پریشان نہ ہونا میں آ گی ہوں نہ سب ٹھیک ہو جاے گا ۔۔ مرش دوڑ کر ان لوگوں کے پاس آیی ۔۔ اس کے کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا ۔۔
ثمرہ اور اریشہ کی آنکھوں سے آنسوں مسلسل جاری تھے ۔۔ لیکن وہ صرف مرش کو دیکھ سکتی تھی ۔۔
مجھے معاف کر دو میں ان سب کی زمیدار ۔۔ میں یہاں سے تم لوگ کو بہت جلد آزاد کرا دوں گی میرا وعدہ ہے تم لوگوں سے ۔۔۔ مرش کی آواز دم توڑ چکی تھی وہ ہار چکی تھی اس کے الفاظ مدہم پڑ چکے تھے ۔۔

آہل کی مسکراہٹ فاتحانا قسم کی تھی آخر جیت جو اس کی ہویی تھی ۔۔ آج تک آہل شاہ آفندی نے ایسا کویی خیل نہیں تھا جس اس کی ہار ہویی ہو تو بھلا اس کھیل مے کیسے اس کی ہار ہو سکتی تھی ۔۔

ہو گیا ۔۔ آہل نے مرش کو پکار کہا ۔۔
میں تیار ہوں تم جیسا کہو گے مے ویسا کروں گی میں ۔۔ میں ۔۔۔ نکاح کے لیے تیار ہوں ۔۔۔ مرش نے آخری الفاظ بغیر کسی تہمید کے ادا کیے ۔۔ آخر مرش سرفراز احمد کی ہار ہو چکی تھی ۔۔ اس نے آہل شاہ آفندی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے ۔۔۔
ثمرہ اریشہ صرف مرش کے الفاظ سن رہی تھی ۔۔۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کس کا نکاح کون سا نکاح ۔ ۔۔

اسے کہتے ہیں گڈ گرل ۔۔ اتنی چھوٹی سی بات تھی اور تمہارا نکھرا ہی نہیں ختم نہیں ہو رہا تھا ۔۔
لیکن تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہوگا تم انہیں کویی نقصان نہیں پہنچاو گے ۔۔ مرش بے بسی سے آہل کی آنکھوں مے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

جب تک میرا کام مکمل نہیں ہو جاتا میں وعدہ نہیں کر سکتا ۔۔ آہل نے مرش کے کان مے شرگوشی کی ۔۔۔

میں نے کہا نہ میں تیار ہوں ۔۔ مرش نے اپنے آنسوں کو رگڑ کر کہا ۔۔
اپنے گھر جا کر یے بات کرنی ہے تم نے ۔۔ اور ہاں کل میری صبح خوش گوار ہونی چاہیے ۔۔ ورنہ ۔۔ !! تمہیں سمجھ آ گی ہو گی ورنہ آگے کیا ہوگا ۔۔
اب گھر جاو اور جلد از جلد مجھے خوش خبری سناو ۔۔۔ آہل مرش کی ناک دبا کر کہا ۔۔
مرش بھیگی بھیگی پلکیں ایک بار پھر سے اٹھایی ثمرہ اور اریشہ کو دیکھنے کے لیے ۔۔۔
تم دنیا سب بڑے ظالم انسان ہو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی ۔۔ مرش اتنا ہی الفاظ بول کر باہر کی اور جانب دوڑ کر بھاگی ۔۔
مرش جا چکی تھی ۔۔ ثمرہ اور اریشہ کے ہاتھ پیر کھول دیے گیے تھے ۔۔۔

سوری تم لوگ میرا نکاح مے تو نہیں رہو گی اس کے لیے مجھے بے حد افسوس ہے ۔ ۔ لیکن ولیمے مے تم لوگ خاص طور انوایٹیڈ رہو گی ۔۔ آہل نے مسکرا کر کہا ۔۔

تم مرش سے نکاح کرو گے ؟؟ اریشہ ابھی بھی بے یقینی کے عالم تھی ۔
ہاں ۔۔ آہل اتنا کہہ کر جانے کے لیے کھڑا ہو گیا ۔۔
اب مے چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا تم لوگ ۔۔ آہل نے ثمرہ اور اریشہ سے کہا ۔۔ آنکھوں کے ذریعے ان دونوں گاڈز کو باہر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔


فارس آیا ہے کیا مجھے آزمانا چاہیے ۔۔۔ بریرہ ایک ہی ٹاپک سوچے جا رہی تھی ۔۔ کیا ہو گیا میں کچھ غلط تو نہیں کروں گی ۔۔ بریرہ سوچ چکی تھی اب اسے اس شخص کو پتہ لگانے کے لیے اسے جو کچھ کرنا ہوگا وہ کرے گی ۔۔

فارس اس وقت آہل کے کمرے مے موجود تھا ۔۔
یار آج تو کہاں بزی تھا ۔۔ فارس نے آہل سے پوچھا ۔۔
ایک ضروری میٹنگ تھی اس مے تھا ۔۔ آہل نے یکدم صاف جھوٹ بولا ۔۔
میٹنگ ؟۔ ۔۔نہیں تو جہاں تک مجھے یاد ہے ایسی کویی میٹنگ نہیں تھی ۔۔ فارس نے سوچتے ہوے کہا ۔۔
آہل شاہ آفندی اگر چاہتا تو فارس کو بھی ان سب پلان مے ضرور شامل کرتا لیکن فارس کا لیکچر آہل کو بلکل سننے کا موڈ نہیں تھا ۔۔ اس لیے اس نے فارس سے اس بارے مے کچھ بھی ذکر نہیں کیا ۔۔۔
ہاں مطلب آج نہیں تھی لیکن اس کی تیاری تو چل رہی ہے نہ ۔۔ آہل نے بے فکری سے کہا ۔۔
اچھا مے اب چلتا ہوں کافی دیر ہو گیی ہے مجھے آے ہوے فارس آہل سے بغل غیر ہوتا ہوا کمرے سے باہر آیا ۔۔ اسی وقت اس کے موبایل پر آفاق صاحب کی کال آیی ۔۔ فارس کال موصول کر کے بات کرنے کے ساتھ ساتھ سڑھیاں بھی اتر رہا تھا ۔۔
بریرہ براون پردے کے پیچھے چھپی ہویی تھی وہ فارس کی جاسوسی کر رہی تھی ۔۔ میں نے تو میسیج کیا ہے لیکن یے تو پہلے سے ہی موبایل پر بزی ہے رپلایی تو نہیں دے رہا ہے ۔۔
فارس چلتا ہوا لان مے آ چکا تھا ۔۔ بریرہ اب اپنے کمرے کی کھڑی کے اوٹ مے سے فارس کو دیکھ رہی تھی ۔۔ بریرہ نے اس انجان شخص کو کال ملایی ۔۔

جی خدا حافظ ۔۔ فارس آفاق صاحب سے خدا حافظ کہتا ہوا موبایل جیب مے رکھا ۔۔۔ اور ہاتھ بڑھا کر اس خوفیاں موبایل کو باہر نکالا ۔۔
دو ۔۔ دو موبایل بریرہ کو حیرت کا جھٹکا لگا ۔۔
کال پک کر لی گی تھی ۔۔
زہنصیب ۔۔ آج آپ نے خود تکلیف کی اس غریب کو فون کرنے کی ۔۔۔
میں نے سوچا کیوں نہ آج میں تمہیں کال کرو ۔۔۔ کیسے ہو ۔۔
تمہاری دعاوں سے بلکل ٹھیک ۔۔ فارس نے خوش ہو کر جواب دیا
بریرہ فارس کو باتوں مے مصروف رکھی تھی ۔۔ وہ اب نیچے آ چکی تھی ۔۔
ہولے ہولے قدم بڑھاتی لان مے آ یی ۔۔
کہاں پر ہو اس وقت ۔۔۔ بریرہ نے پوچھا ۔۔
ایک فرینڈ کے گھر ہوں ۔۔ فارس نے جواب دیا ۔۔
مجھ سے کتنی محبت کرتے ہو ۔۔۔؟؟ بریرہ کا سوال سن کر فارس کو اور خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
اپنی جان سے بھی زیادہ ۔۔ فارس نے بالوں مے ہاتھ پھیرتے ہوے کہا ۔
بریرہ فارس کے پیچھے ہی کھڑی تھی ۔۔
ذرا پیچھے ایک نظریں کرم کرنا ۔۔ بریرہ اب بھی سماتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔
اسی اثنا مے فارس نے پیچھے کی طرف گردن گھمایی ۔۔
بریرہ پھٹی پھٹی نظروں سے سامنے کھڑے شخص کا چہرہ دیکھے جا رہی تھی ۔۔
بریرہ ۔۔ فارس کی زبان سے بہ مشکل اتنے ہی الفاظ ادا ہو پاے ۔۔