Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 17
Rate this Novel
Episode 17
سب کچھ اللہ کی خیر سے نمٹ گیا تھا ۔۔ جاوید صاحب جانے کے لیے کھڑے ہو گیے تھے ۔۔ سب ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے ۔۔
آنٹی خدا حافظ ۔۔ آہل کو ایک عجیب سی کنفیوزن ہو رھی تھی ۔۔ ایسا لگ رہا تھا یے چہرہ کسی کی یاد اسے شدت سے دلا رہا تھا اس کے ذہن مے عجیب عجیب سے خیالات آ رہے تھے ۔۔
اپنا بہت خیال رکھنا بیٹا ۔۔ فایزہ بیگم نے آہل کو دعا دیتے ہوے کہا ۔۔
گاڑی آفندی ہاوس آ چکی تھی آہل شاہ آفندی جاوید شاہ آفندی مریم بیگم گھر کے اندر جا چکے تھے ۔۔بریرہ کچھ دیر بعد گاڑی سے اتری فارس ہاتھ باندھے گاڑی سے ٹیک لگاے بریرہ کا ہی انتظار کر رہا تھا ۔۔
فارس نے مسکراتے ہوے بریرہ کی کالایی پکڑ کر اپنی اور کھینچا بریرہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی ایک لمحے مے فارس کے سینے سے آ لگی ۔۔
فارس کیا کر رہے ہو کویی دیکھ لے گا ۔۔ بریرہ کو ڈر تھا اتفاق سے کویی دیکھ نہ لے ۔۔
کون دیکھے گا ۔۔ فارس نے بریرہ کی حالت سے محفوظ ہوتے ہوے کہا ۔۔
کویی بھی پلیز مجھے جانے دو ۔۔ بریرہ فارس کے اتنے قریب تھی اس کی کان کی لویں تک سرخ ہو گیی تھی ۔۔
پاگل لڑکی اتنی رات کو کون ہمیں دیکھنے آے گا ۔۔
فارس بھایی دیکھ لیں گے پلیز ۔۔
اچھا یار چھوڑ دیا ۔۔ فارس بریرہ کی پکڑی ہویی کلایی چھوڑ چکا تھا ۔۔
کال کروں گا ۔۔
میں انتظار کروں گی ۔۔ بریرہ ہنستی ہویی اندر چلی گیی ۔۔
آہل آج میں بہت خوش ہوں تمہارا کیا گیا فیصلہ مجھے بہت پسند آیا بھلے تم نے اپنی مرضی سے یے فیصلہ کیا تھا لیکن میں بہت خوش ہوں میرے بیٹے ۔۔ جاوید صاحب آج ضرورت سے زیادہ ہی خوش تھے ۔۔
آخر بابا کو اتنی خوشی کیوں ہو رہی ہے ۔۔ آہل کے دل مے بے اختیار خیال آیا ۔۔
اب تم جاو آرام کرو ۔۔ جاوید صاحب نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ کے کہا ۔۔
آہل اپنے کمرے مے آ چکا تھا شاور لینے کے بعد آینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے گیلے بالوں کو ترتیب دے رہا تھا اچانک اس کے دل مے خیال آیا ۔۔
کیوں نہ جانے جاں کو ایک کال کی جاے ۔۔
مسلسل بجتی رنگ پر مرش کا دل کر رہا تھا موبایل کو شوٹ کر دے ۔۔
آہل نے ایک اور بار ٹرایی کیا ۔۔لیکن نو رسپانس ۔۔
مرش یے آخری کال ہے میری اس کے بعد اپنی سزا کے لیے تیار ہو جانا ۔۔ آہل نے اب میسیج کیا تھا ۔۔
میسیج سین ہو چکا تھا ۔۔ ہمم آیا بڑا سزا دینے والا ۔۔ مرش نے منھ مے بڑبڑاتے ہوے کہا ۔۔
ٹھیک ہے جیسے آپ راضی مرش میڈم ویسے ہم بھی راضی ۔۔ آہل شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔۔
فارس کیا تمہیں نہیں لگتا ہمیں آہل بھایی کو بتا دینا چاہیے ۔۔ بریرہ کو ڈر رہی تھی آہل سے کیوں یے بات بہت چھوٹی نہیں تھی ۔۔
کیوں میری معصوم سی جان لینے پر تلی ہو ۔۔ فارس نے ایکٹنگ کرتے ہوے کہا ۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے پتہ نہیں آہل بھایی کا کیا ریکشن ہوگا ۔۔
اسی لیے میں پیچھے ہٹ گیا تھا آہل میرے لیے بہت عزیز ہے میں اسے کسی بھی دھوکے مے نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔۔ فارس کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
فارس مجھے تمہاری امی سے ملنا ہے ۔۔ بریرہ بیچین تھی فارس کی امی سے ملنے کے لیے ۔۔
یار کیا ہے ایک کے بعد ایک خواہش بتاتی جا رہی ہوں ۔۔
فارس پلیز نہ مجھے ملنا ہے ۔۔ بریرہ اب ضد باندھ چکی تھی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔ کل کالج سے پک کر لوں گا ۔۔ فارس نے ہارتے ہوے کہا ۔۔
مرش تم کالج نہیں جاو گی ۔۔ آہل کا میسیج اسکرین پر چمک رہا تھا ۔۔ میسیج پڑھ کر مرش کا غصہ ساتویں آسمان پہنچ گیا ایک منٹ مے اندر اس نے آہل کو کال ملایی ۔۔
تم ہوتے کون ہو مجھ پر اپنا حکم چلانے والے تمہارا کہنے سے میں کالج نہیں جاوں گی تمہیں یقین ہے ۔۔ مرش نے ایک ایک لفظ چباتے ہوے کہا ۔۔
میں نے ایک بار کہہ دیا نہ تم کالج نہیں جاو گی ۔۔
اور میں نے بھی کہہ بھی دیا میں جاوں گی ۔۔
ہوتے کون ہو تم مجھ پر حکم چلانے والے ؟؟ مرش نے آواز مے سختی لاتے ہوے کہا ۔۔
سویٹ ہارٹ میرے خیال نہیں تمہیں ایک ہی بات بار بار بتانے کی ضرورت ہے ۔۔ آہل نے صاف صاف لفظوں مے اسے باور کرایا ۔۔
میں کالج جاوں گی تمہیں جو کرنا ہے کر لو ۔۔ مرش نے کہتے ہوے غصے سے موبایل آف کر دیا تھا
امی میں کالج جا رہی ہوں ۔!! مرش نے شال سمبھالتے ہوے کہا ۔۔
مرش تمہارا کل نکاح ہوا ہے ایک ہفتے بعد رخصتی ہے تمہاری کالج جانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ فایزہ بیگم مرش کا کالج جانا اب اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔
میرے نکاح کا میرے کالج سے کیا تعلق اور امی پلیز رخصتی ابھی ایک ہفتے بعد ہے کم از کم مجھے ایک ہفتے تو کالج جانے دے ۔۔
اچھا ٹھیک ہے جاو لیکن دھیان سے جانا ۔۔ فایزہ بیگم نے آخر مرش کو جانے کی اجازت دے ہی دی ۔۔
کالج پہنچتے ہی اسے کینٹین مے ثمرہ اور اریشہ موموز سے انصاف کرتی ہویی دکھی ۔۔
کیسی ہو ثمرہ ۔۔ مرش نے دوڑتے ہوے ان کے گلے لگ کر کہا ۔۔
ہم تو بلکل ٹھیک ہے ۔۔ اریشہ نے اس طرح جواب دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔
اس نے تم لوگ کو کویی نقصان تو نہیں پہنچایا ۔۔ مرش نے تصدیق چاہی ۔۔
کیسا نقصان یار جب اتنا ہینڈسم بندہ کیڈنیپ کرے تو کہاں یاد رہتا ہے ہم کیڈنیپ ہوے ہے ۔۔ ثمرہ نے آنکھ مارتے ہوے کہا ۔۔
بکواس بند کرو یار شکر ہے تم لوگ ٹھیک تو ہو ۔۔مرش نے ایک بار پھر سے شکر کیا ۔۔اسی دوران بریرہ بھی آ چکی تھی ۔۔ مرش نے بہت ہمت کر کے بریرہ کو مخاطب کیا تھا کچھ بھی تھا وہ آہل شاہ آفندی کی ہی بہن تھی ۔۔
کلاسیز شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ مرش کتاب مے سر جھکاے آس پاس سے بے خبر پڑھنے مے مصروف تھی ۔۔
آہل کی گاڑی کالج کے باہر ہی کھڑی تھی ہاتھ کے اشارے سے آہل نے کالج کے ملازم کو پاس بلایا ۔۔
ج۔ ۔جی ۔سر ۔۔ ملازم کو بلکل بھی توقع نہیں تھی آہل شاہ آفندی کھڑا ہوگا ۔۔
مس مرش کو جا کر بھیجو اور ہاں ان سے کہنا ان کا ریلیٹیو آے ہیں ۔۔
جیسا آپ کا حکم صاحب ۔۔ ملازم اندر جا چکا تھا ۔۔
میڈم جی آپ سے کویی ملنے والے آے ہیں وہ آپ کو باہر بلا رہے ہے ۔۔ ملازم اب مرش کے سر پر سوار تھا ۔۔
میرے ؟؟ مجھ سے کالج مے کون ملنے آے گا ۔۔۔ مرش تھوڑا مشکوک ہویی ۔۔
وہ جی آپ کے ریلیٹیو بتا رہے ہیں ۔۔
میرا ریلیٹیو نہیں ہے جاے آپ یہاں سے۔۔ مرش نے بری طرح ڈپٹا ۔۔کیوں کی اس کے دل و دماغ پر بے زاری سوار تھی ۔۔
وہ جی ایک بار جا کر دیکھ لے ۔۔ ملازم نے ایک بار پھر سے ہمت کر کے کہا ۔۔
کون ہو سکتا ہے اچھا ٹھیک ہے جاتی ہوں ۔۔ مرش کو نہ چاہتے آنا پڑا ۔۔
وہ اپنی ہی دھن مگن ہوتی ہویی چلی آ رہی تھی نظروں کے عین سامنے آہل دونوں بازوں باندھے آنکھوں پر بلیک سن گلسیز لگاے ہوے تھا ۔۔
یے ۔۔ مرش کا دل غیر معمولی رفتار سے دھڑکنے لگا ۔۔ مرش جیسے آیی تھی اسی طرح تیز رفتاری پیچھے پلٹ کر دوڑ لگانی چاہی ۔۔
ہاے لیکن ساری کوشش ناکام ہو گیی آہل نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ٹھنڈی پڑتی کلایی کو اپنی ہتھیلی مے دبوچتے ہوے خود سے قریب کیا ۔۔
آہل یے کیا کر رہے ہو ؟ چھوڑو مجھے یے کالج ہے تمہارا بیڈروم نہیں ۔۔ مرش نے اپنی لرزتی پلیکں اوپر کی جانب اٹھاتے ہوے کہا ۔۔
تو بنا لیتے ہے بیڈروم کیا ارادہ ہے ۔۔ آہل نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔
یے۔۔ یے تم ۔۔م۔ کیا کر رہے ہو ۔۔مرش کی آواز لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر آہل نے مرش کو اند کی جانب کھینچ کر بٹھایا ۔۔
یے کیا حرکت ہے تمہاری دیکھو مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔ جانے دو مجھے ؟؟ گاڑی اپنی پوری رفتاری کے ساتھ روڈ پر دوڑنے لگی تھی ۔۔
میری معصوم سی جان تم کسی غیر کے ساتھ تھوڑی ہو اپنے خوبصورت شوہر کے ساتھ ہو ۔۔ آہل نے خود کی تعریف کرنا ضروری سمجھا ۔۔
میں تمہارا گلا دبا دوں گی ۔۔ مرش نے اپنے آنسوں بہ مشکل روکا ہوا تھا ۔۔
نقصان تمہارا ہی ہوگا ۔۔ آہل نے ہنستے ہوے کہا ۔۔
لیکن ہم جا کہاں رہے ہیں ؟ مرش ایسا راستہ دیکھ کر تھوڑا ڈر سی گیی تھی دور دور تک کویی گاڑی نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔
ہنی مون منانے !! آہل کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔
بدتمیز ! مرش نے چڑتے ہوے کہا ۔۔
آخر کار گاڑی اپنی منزل تک پہنچ ہی گیی تھی ۔۔ ایک طرف گھوڑو کا استبل تھا جس کی دیکھ ریکھ کے لیے دو تین ملازم موجود تھے ۔۔۔
یے کون سی جگہ ہے ؟ مرش کو اس جگہ سے خوف آ رہا تھا ۔۔
تمہارے شوہر کا فیوریٹ فام ہاوس ۔۔ آہل نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوے کہا ۔۔
میں نہیں جاوں گی تمہیں جانا ہے تو جاو ۔۔ مرش ایک اور سمٹ کر بیٹھ گیی جیسے آہل شاہ آفندی اس کی بات مان جاے گا ۔۔
اگر تمہاری خواہش ہے کی میں تمہیں اپنی باہوں مے لے کر جاوں تو نو پرابلم ۔۔ آہل یکدم سے مرش کے اوپر جھکا ۔۔
نہیں ۔۔میں ۔۔میں آ رہی ہوں نہ ہٹو تم ۔۔ مرش کو جیسے کرنٹ لگ گیا تھا ۔
مرش کی بے بسی حد سے زیادہ تھی اس کے آنسوں سوکھ چکے تھے ۔۔
مرش آہل کے ہمراہ چلتی ہویی ایک بہت ہی خوبصورت کمرے مے دونوں داخل ہوے ۔۔ کمرے مے اچھا خاصا اندھیرا تھا ۔۔
آہل ہم یہاں کیوں آے ہیں ؟؟ مرش نے ٹھنڈے پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوے پوچھا ۔
یہاں پر آو ۔۔ آہل صوفے پر بیٹھ چکا تھا اس کے بر عکس مرش دروازے کے پاس کھڑی تھی ۔۔
آہل پلیز چلو یہاں سے !! مرش کے گال پھر سے گیلے ہونے لگے تھے ۔۔
کیوں ڈر لگ رہا ہے کیا ۔۔
تم سمجھتے کیا ہو خود کو آخر تم انسان بھی ہو کہ نہیں ظالم انسان پلیز مت کرو ایسا کتنا ظلم کرو گے ۔۔ سچ کہتے ہیں لوگ تم ایک امیر ماں باپ کے بگڑے ہوے اولاد ہو آخر کو تم بھی ایک عورت کی کوکھ سے پیدا ہوے ہو یے حیثیت ہے عورت کی تمہارے نزدیک ۔۔ تمہاری ماں تو ایسی نہیں ہیں آخر تم کس کے بیٹے ہو مجھے سمجھ مے نہیں آ رہا ۔۔ تمہیں سہی معانوں مے بتاوں تم دراصل مفاد پرست انسان ہو صرف اپنے مطلب کے ہو آخر کتنی لڑکیوں کو استعمال کیا ہے تم نے ۔۔۔ مرش ایک ہی سانس مے انگارے پر دہکتے الفاظ کہہ گیی تھی ۔۔
مرش !!!!! آہل کی چینخ سے مرش کا دل دہل گیا تھا اس نے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔
چٹاخ ۔۔!!!!
آہل کے انگلیوں کے نشان مرش کے گال پر بلکل صاف نمایاں ہو رہے تھے ۔۔
مرش کے ہاتھ فورن اپنے گال کو چھوا ۔۔ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیی ۔۔ یے تھی اس کی اوقات ۔۔ آہل شاہ آفندی نے آج اسے اس کی اوقات کا اندازہ کرا دیا تھا ۔۔۔
کالج کے لیے منا کیا تھا نہ میں نے پھر کس کی اجازت سے تم نے گھر کے باہر قدم نکالا تھا ۔۔۔ آہل مرش کا دونوں بازوں سختی سے دبوچ کر دیوار مے لگا کر بولا ۔۔
مرش کی آواز کہیں دم توڑ چکی تھی ڈر کی وجہ سےوہ اپنے ہوش سے غافل پو چکی تھی ۔۔۔
آہل کی آنکھیں غصے سے لال ہو چکی تھی ۔۔
مرش اس سے پہلے کی کچھ بولتی اس کی آہیں شروع پورے کمرے مے گونج رہی تھی ۔۔۔
مرش اتنی تیز آواز مے رو رہی تھی جیسے کسی معصوم بچے کا کویی خیلونہ ٹوٹ جاتا ہے ۔۔ اور وہ رونہ شروع ہو جاتا ہے ۔
آہل کو بے انتہا شرمندگی محسوس ہو رہی تھی زندگی مے پہلی بار اس نے کسی عورت کے اوپر ہاتھ اٹھایا تھا ۔۔
اب یے رونہ دھونا بند کرو گاڑی مے چل کر بیٹھو ۔۔ آہل شاہ آفندی نے اس کی بھوری آنکھوں مے دیکھتے ہوے کہا ۔۔
مرش میں تم سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔ مرش جیسی کی تیسی بیٹھی تھی اس کی آنکھوں سے ایک لگاتار آنسوں جاری تھے ۔۔
اوکے فاین !! آہل مرش کو اپنے دونوں ہاتھوں کے سہارے اسے اپنی باہوں مے اٹھا لیا ۔۔ مرش یکدم خاموش تھی وہ ایک ٹک آہل کی سرخ آنکھوں مے دیکھے جا رہی تھی ۔۔
آہل کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی موم کی گڑیا اس کی باہوں مے ہیں یوں لگ رہا تھا وہ کسی معصوم گڑیا کو کو قید کیے ہوے تھا ۔۔۔ جیسے ابھی اس سے کویی چھین لے گا ۔۔۔
