50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

صبح معمول کے مطابق آہل ناشتا کر کے برہرہ کو کالج ڈراپ کیا اور گاڑی فارس کے گھر کے راستے پر گامزن کر دی ۔۔ تھوڑی دیر بعد آہل فارس کے بیڈ روم میں موجود تھا ۔۔ یہاں وہاں کی گفتگو کرنے میں دونوں مگن تھے ۔۔ فارس کو دو مرحلے کا گھر بہت ہی خوبصورت تھا ۔۔ اس گھر میں صرف دو نفوس رہتے تھے وہ اور اس کی ماں بچپن میں ہی فارس کے ابو کا انتقال ہو گیا تھا جس اس کی ماں ڈپریشن کر مریضا ہو گی تھی ۔۔وقت کے ساتھ ساتھ فارس کو اپنی زمےداریوں کا بھی احساس ہو گیا تھا ۔۔

اگر آپ کی تیاری مکمل ہو گی ہو تو چلیں ۔۔ آہل فارس کی تیاری کو دیکھتے ہوے بولا ۔۔
خود تو شہزادہ بن کر آیا ہے اور مجھے اچھے سے تیار بھی نہیں ہونے دے رہا ہے ۔۔ یے پر فیوم تو اسپرے کو لوں ۔۔ فارس منھ پھلاتے ہوے بولا ۔۔
فارس بھی کسی شہزادے سے کم نہیں تھا ۔۔ نکھرا نکھرا سا فارس ہزاروں لڑکیوں کا جان تھا ۔۔
کر لیجیے۔ ۔۔ آہل بناوٹی مسکراہٹ مسکراتے ہوے بولا ۔

ایک دو کلاسیز اٹینڈ کرنے کے بعد وہ پانچوں فیلڈ کی ہری بھری گھاس پر بیٹھی مسلسل بولے جا رہی تھی ۔۔
یار کل جب ہم بریرہ کے گھر جاینگے تو خالی ہاتھ تو جاینگے نہیں بھی ہماری عزت کا سوال ہے ۔۔ “””” مرش کی باتوں پر سب نے اپنے کان دھرے ۔۔

ہاں یار یے تو ہم بھول ہی گے تھے ۔۔ زارا نے بھی اپنی راے دینی ضروری سمجھی ۔۔
زارا جو کی بریرہ سے آج اس کی پہلی ملاقات تھی ۔۔ پھر میں دونوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا ۔۔ جیسے ایک دوسرے کو برسوں سے جانتی ہو ۔۔۔۔

ارے نہیں نہیں اس کویی ضرورت نہیں ہے تم سب میں لوگ آ جاو بس میرے لیے وہی کافی ہے ۔۔ بریرہ نرمی سے مسکراتے ہوے بولی ۔۔
ایسے کیسے ۔۔ ہماری عزت کا سوال ہے ۔۔۔ مرش کو جلدی سے اپنی عزت کا خیال آیا ۔۔
یار لیکن ہمارے پاس تو اس وقت پیسے ہی نہیں ہے ۔ ۔مرش کا نقتا اب پیسوں پر تھا ۔۔ ویسے تو ان لوگوں کے پاس پیسے کی کویی کمی نہیں تھی ۔۔لیکن اس وقت کالج میں ہونے کے باعث اتنا پیسا نہیں تھا یے شاپنگ کر سکے ۔۔۔
یے تو کویی پرابلم ہی نہیں ہے میرا کریڑیٹ کارڈ ہے نا ۔۔ زارا نے جھٹ سے اپنا کریڈٹ کارڈ ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔۔
ارے واہ ۔۔ مرش نے زارا کے ہاتھ پر تالی مارتے ہوے خوش ہو کر کہا ۔۔
تو چلو پھر دیر کس بات کی ۔۔ اریشا کو اب جانے کی جلدی تھی ۔۔

یار کلاس اٹینڈ کر کے چلتے ہے ۔۔ بریرہ نے کلاس اٹینڈ کرنا ضروری سمجھا ۔۔
نہیں ضروری ہے کیا ۔۔مجھ سے تو صبر ہی نہیں ہو رہا ۔۔ چلو ۔۔””” ۔۔ مرش بے چین ہوتے بولی ۔۔
ہاں چلو ۔۔ ثمرہ کو بھی جانے کی جلدی تھی ۔۔
وہ پانچوں اپنا اپنا بیگ سمبھالتی چپکے سے گیٹ عبور کرتی ہویی سڑک پر آیی ۔۔ دور سے ایک ٹیکسی آتی ہویی دکھایی دی ۔۔ ان لوگوں نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو رکوایا ۔۔ ایک ایک کر کے سب لوگ اندر ایڈجیسٹ ہویی ۔۔


آہل نے مال کی قریب جا کر گاڑی پر روکی ۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر دونوں باہر آیے ۔۔۔ فارس ہم یہاں زیادہ ٹایم نہیں روکیں گے ۔۔ آہل فارس کا چہرہ بغور دیکھتے ہوے بولا ۔۔
کچھ سمجھ میں آیا کیا کہہ رہا ہوں میں ۔۔ آہل کو جواب نا ملنے پر ایک بار پھر سے فارس کو مخاتب کیا ۔۔
ٹھیک ہے یار پہلے اندر تو چل ۔۔ فارس نے اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔ وہ دونوں قدم سے قدم ملاتے ہوے اندر داخل ہوے ۔۔ فارس تھری سوٹ دیکھنے میں مگن تھا ۔۔
اس کے بر عکس آہل کسی سے کال پر مصروف تھا ۔
یار ہم یہاں پر ہم شاپنگ کرنے آے ہے تو مسلسل فون پر بزی ہے ۔۔ فارس دو ٹوک لہجے میں بولا ۔۔
آفاق صاحب کا کال ہے یار بہت امپورٹینٹ ہے ۔۔ آہل معذرت خواہ لہجے میں بولا ۔۔ تو ویٹ کر میں بس کال سن کر آ رہا ہوں ۔۔ آہل فارس سے کہتا کانچ کا دروازہ کھول کر باہر چلا آیا ۔۔

ثمرہ وہ دیکھو کتنا خوبصورت اسٹال ہے چلو وہاں چلتے ہے ۔۔ مرش شہادت کی انگلی سے اریشا کو دکھاتی ہویی بولی ۔۔
رکو یے تو پسند کر لیں پھر چلتے ہے ۔۔ اریشا سرسری سے انداز میں بولتے ہوے ایک بار پھر سے رنگس دیکھنے میں مصروف ہو گی ۔
میں تو جا رہی ہوں تم لوگ کا دل ہو تو آ جانا ۔۔ “””” مرش کہتی آگے بڑھ گی ۔ ۔۔۔
مرش اپنی ہی دھن میں چلتی ہویی آ رہی تھی ۔۔ آہل شاہ آفندی موبایل کان سے لگاے باتوں مصروف سامنے سے آ رہا تھا ۔۔
مرش کو اپنے سامنے وہی شخص کھڑا ملا مرش بے خیالیمیں ایک ٹک آہل کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔
نظر لگاو گی کیا ۔۔ آہل مرش کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتا ہوا بولا ۔۔
کیوں تم بہت خوبصورت ہو کیا ۔۔ مرش نظریں چراتی ہویی بولی ۔۔
یے تو آپ بتایں گی ۔
کک کیا مطلب ؟؟ ۔۔ مرش غصے سے بولی ۔۔
مطلب بہت پوچھتی ہے آپ ۔۔ آہل ہونٹوں پر بہت ہی گہری مسکراہٹ تھی ۔۔
تم میرا پیچھا !!۔۔۔۔ مرش اس سے پہلے آگے کچھ بولتی آہل موبایل کو جینس کی جیب میں ڈال کر ادھر ۔۔ادھر دیکھا اور مرش کا دونوں بازوں سختی سے دبوچتا ہوا کونے کی سایڈ لے گیا جہاں سے لوگوں کا دکھنا خاصا مشکل تھا ۔۔
ت۔ ۔تم کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے گھٹیا انسان ۔۔ مرش آواز اونچی کرتے ہوے بولی
اگر میں تمہارا پیچھا کرتا ۔۔ ۔۔۔
تو تم یہاں پر نہیں میرے بیڈ روم میں ہوتی ۔۔ آہل نے آج سارا عزت کا چولا اتار دور پھینکا ۔۔ آہل مرش کے تھوڑا اور قریب ہوتے ہوے بولا ۔
مرش کے تن بدن میں آگ لگ گی ۔۔
اس کے بعد جب ہم ملیں گے تم یے الفاظ نہیں دہراو گی ورنا اس کی زمیدار تم خود ہوگی ۔۔
کیوں ہم پھر کیوں ملیں گے ؟؟
مرش بے چینی سے بولی ۔۔
وجہ تو وقت بتاے گا ۔۔
آہل کا ہاتھ ابھی بھی مرش دونوں بازوں پر تھے ۔۔
چھوڑے مجھے ۔۔ گھٹیا انسان ۔۔ مرش چلاتی ہوی بولی
آہل مرش کا بازوں چھوڑتا اپنے قدم واپس موڑ لیا ۔۔
ذلیل انسان چھوڑوں گی نہیں تمہیں میں ۔۔آہل مرش کا الفاظوں کو نظر انداز کرتا چلا گیا ۔۔
یار اب صرف انکل کے لیے گفٹ لینا ہے چلو چلتے ہے ۔ ثمرہ کہتی ہویی آگے بڑھی ۔۔ بریرہ ان لوگوں سے کچھ فاصلے پر تھی ۔۔ زارا ثمرہ اور ایشا دوسری جانب چلی گی ۔۔
بریرہ بیگ میں کچھ ٹٹولتی ہویی آ رہی تھی اس کی نظروں کے عین سامنے فارس بریرہ کو تک رہا تھا ۔۔
بریرہ دونوں آنکھوں کو سختی سے بند کرتی ہوی پیچھے مڑ گی ۔۔
فارس مسکراتا ہوا بریرہ کے پاس آیا ۔۔ آج اس کی خوش قسمتی تھی دشمن جاں کا دیدار ہوا تھا ۔۔
آپ یہاں ؟ فارس کی مسکراہٹ کسی کو بھی اپنی طرف متوجا کر سکتی تھی ۔۔
پلیز آپ بھایی سے مت کہیے گا پلیز۔۔
لیکن آپ آیی کس کے ساتھ ہے؟۔۔ “””” ۔ فارس کا سوال بے ساختا تھا ۔
اپنی فرینڈز کے ساتھ پلیز آپ بھایی سے نا کہیے گا ۔۔ بریرہ فارس کی التجا کرتی ہویی بولی ۔۔
اوکے ٹھیک ہے ٹھیک ہے نہیں کہوں گا ۔۔
آپ مسکرا کیوں رہے ہے ؟؟ بریرہ فارس کی مسکراہٹ بغور دیکھتے پوچھ بیٹھی ۔۔
مسکرانا گناہ ہے کیا ۔۔ فارس کی مسکراہٹ اور گہری ہو گی ۔۔
ٹھیک ہے مسکرایں لیکن بھایی سے نا کہیے گا ۔۔
بریرہ ۔۔۔ ثمرہ کی عقب سے آواز آیی ۔
آتی ہوں ۔۔ بریرہ ایک نظر فارس پر ڈال کر اس کی نظروں سے اوجھل ہو گی ۔۔