122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

بیس دن بعد !!

آہل آرام سے بیٹا ۔۔ جاوید صاحب اسے کاندھوں سے پکڑ کر سہارہ دینے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔
ڈیڈ پلیز آپ نے تو مجھے بلکل چھوٹا بچہ سمجھ لیا ہے ایم فاین ۔۔ آہل قدرے اکتا سا گیا تھا حد سے زیادہ سب کا کیر کرنا اسے پتہ نہیں کیوں اچھا نہیں لگ رہا تھا سب لوگوں نے تو اسے محض دو سال کا بچہ ہی بنا لیا تھا ۔۔ آج ہاسپٹل سے آہل ڈسجارج ہو کر گھر آیا تھا جہاں اس کے استقبال کے لیے شاندار انتظام کیا گیا تھا ۔۔
میرے بچے ابھی تم پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوے ہو اس لیے تمہارا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے ۔۔ مریم بیگم نے مسکرا کر بیچ میں لقمہ دیا تھا ۔۔
ایک بے حد شاندار قسم سے آہل شاہ آفندی کا استقبال کیا گیا تھا لوگوں کا ملنا ملانا کچھ دیر چلتا رہا ۔۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے تحت آہل کو زیادہ سے زیادہ بیڈ ریسٹ کرنا تھا جس کی اسے اس وقت شدید طلب ہو رہی تھی لوگوں کا جھنڈ دیکھ کر ۔۔
مام کیا اب مجھے اپنے روم میں جانے کی اجازت مل سکتی ہے دراصل تھوڑا تکلیف محسوس ہو رہی ہے پلیز ؟ آہل نے بے امید بھری نظروں سے مریم بیگم کو دیکھا تھا ۔۔تکلیف تو سراسر ایک گول مول سا بہانہ تھی مقصد تو صرف مرش سے تنہایی میں ملنے کی شدید خواہش بےچین کر رہی تھی ۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں ۔ مریم بیگم کو فورن اس کی تکلیف کا اندازہ ہوا تھا ۔۔
ایک ملازم کی مدد بلاآخر آہل اپنے روم میں آنے کے لیے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا ۔۔ملازم اسے بیڈ پر لیٹا کر الٹے قدموں واپس چلا گیا تھا ۔۔
تھوڑا سایڈ ہو میں تکیہ سہی کر دوں ۔۔ مرش اسے روم میں جاتا دیکھ کر فورن کمرے میں داخل ہویی تھی شاید آہل کے معاملے میں وہ حد سے زیادہ احساس ہو گیی تھی ۔۔
پہلے دروازہ بند کر دو ۔۔ آہل کھلے ہوے دروازے کی طرف اشارہ کر کے مسکرایا تھا ۔۔
وہ کس خوشی میں !! مرش کمر پر دونوں ہاتھ رکھ بے حد لڑاکو بیویوں والے انداز میں پوچھ رہی تھی ۔۔
وہ اس لیے تاکہ کویی ہمارے بیچ ڈسٹربینیس نہ پیدا کرے ۔۔ آہل کا جواب ذومعنی تھا ۔۔
پلیز یار اب گھورنا بند کرو قسم سے کویی غلط ارادہ نہیں ہے بس یونہی کہہ رہا ہوں ۔۔ مرش کی نظروں کو اپنے اوپر جماے دیکھ بے حد معصومیت سے بھرپور لہجے میں بولا گیا تھا ۔۔
اچھا کرتی ہوں ۔۔ مرش کو بے اختیار ہنسی آ گیی تھی اس طرح اسے صفایی دیتے ہوے ۔۔ لیکن پھر بھی بنا کویی سوال کیے اچھی بیویوں کی طرح شوہر کے حکم کو مان گیی تھی دروازہ بند کر کے اس نے مسکرا کر پلٹ کر اسے دیکھا تھا ۔۔
یہ کیا کر رہے ہو تم ؟ مرش چونک گیی تھی اسے دیکھ کر جو اس وقت بے حد مشقت کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنی شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا ۔۔
شرٹ چینج کرنی ہے ۔۔۔ آہل سرسری سے انداز میں جواب دے کر پھر سے اپنے کام میں مغشول ہو گیا تھا ۔۔
میں کرتی ہوں نہ مجھ سے نہیں کہہ سکتے ؟ مرش کو غصہ آ رہا تھا ایک بار تو اسے کہنا چاہیے تھا وہ تو دوڑی چلی آتی ہے دل میں ایک سے بڑھ کر ایک خواہش جاگ رہی تھی کس طرح سے آہل کی خدمت کی جاے اتنے دنوں میں اس نے دن رات ایک کر دیا تھا آہل کا خیال رکھنے میں ۔۔۔
مجھے لگا شاید تمہیں اچھا نہ لگے ۔۔ آہل کی شرارت سے بھرپور مسکراہٹ ابھرنے کی جوڑ توڑ کوشش کر رہی تھی لیکن اسے ضبط کر گیا تھا کہیں وہ اپنے مقصد میں فیل ہی نہ ہو جاے ۔۔
سچ بتاوں تو اب مجھے صرف تمہارا ہی کام کرنا اچھا لگتا ہے اب زیادہ نکھرے نہ دکھاو ہاتھ ہٹاو میں اتارتی ہوں ۔۔ مرش اس کا ہاتھ تھام کر آہستہ سے ہٹا دی تھی کہیں اسے تکلیف نہ ہو اتنا خیال تو اس نے اپنا کبھی نہیں رکھا تھا جتنا آج اس شخص کا رکھ رہی تھی ۔۔
شرم و حیا کی وجہ پلکیں لرز رہی تھی کیی رنگ ایک ساتھ چہرے پر آے تھے لب کچلتے ہوے اسے مزید شرمندگی ہو رہی تھی جس طرح آہل اسے دیکھ رہا تھا اس کی نظروں کی تپش سے مرش کے چہرہ لال گلاب کی مانند دمک رہا تھا آج کتنے دنوں بعد یہ قربت حاصل ہویی تھی ۔۔ کتنے دنوں بعد آج وہ ایک دوسرے کے بے قریب ہوے تھے ۔۔
ایک منٹ بس !! مرش اسے بار بار ہدایت دے رہی تھی ایسے ہو اب ایسے ۔۔ اسی چکر میں نہ جانے وہ کب اس کے اتنے قریب ہو گیی تھی اس کی بالوں کی لٹ آہل کے گال سے بار بار مس ہو رہی تھی ۔۔
اللہ کر کے یہ مرحلہ طے ہوا تھا آخر کار وہ کامیاب ہو ہی گیی تھی ۔۔
میں دوسری شرٹ لے کر آتی ہوں ۔۔ مرش کے اندر اب اور برداشت کرنے کی ہمت نہیں تھی اس کی مسکراہٹ ہر سچے جزبے سے چمکتی آنکھیں کسرتی جسم پیشانی پر پر بکھرے بکھرے سے بال آہل شاہ آفندی کی اسمارٹنیس کو مزید دوبالا کر رہے تھے ۔۔
آج تمہیں یہ شرٹ پہننی ہے ۔۔ اس کی واڈروب سے ایک نیوی بلیو کلر کی شرٹ مرش اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کے پاس آیی تھی ۔۔
آہل پلیز اپنی آنکھیں بند کر لو ۔۔ایک فضول سی خواہش ظاہر کی گیی تھی ۔۔
کیوں ؟؟ آہل چونکتے ہوے پوچھا تھا ۔۔
کیوں تم مجھے جن نظروں سے دیکھتے ہو میں اس جنم میں کیا اگلے جنم ساتجنم میں بھی تمہیں شرٹ نہیں پہنا پاوں گی ۔۔ تھوڑی شرم تھوڑی جھجک کے ساتھ بلا آخر مرش بول ہی دی تھی ۔۔
عجیب ہے اب بندہ اپنی بیوی کو دیکھ نہیں سکتا رومینس تو دور کی بات ہے ۔۔ آہل شاید اس کی باتوں سے خفا ہو گیا تھا یہ بننے کی ایکٹینگ کر رہا تھا ۔۔
نہیں میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں میں تو !!
تم کچھ بھی کہو میں اپنی آنکھیں اس جنم میں کیا اگلے سات جنم میں نہیں بند کروں گا ۔۔ مرش کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے آہل درمیان میں بول پڑا تھا ۔۔
تم !! مرش اس سے پہلے کی کچھ بولتی اس نظر شرٹ کے اندر سے زمین پر گری چمکتی شے پر پڑی تھی ۔۔ اس نے تھوڑا جھک کر وہ چمکتی ہویی چیز اپنے ہاتھوں میں اٹھا لی تھی ۔۔
آہل یہ ۔۔ یہ بریسلیٹ ۔۔ اپنے ہاتھوں میں چمکتا ہوا بریسلیٹ دیکھ کر وہ کچھ جیسے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
ہاں یہ بریسلیٹ بہت خاص ہے میرے لیے دراصل یہ بریسلیٹ میری ایکس گرل فرینڈ کا ہے ۔۔ اس کے ہاتھ میں سے بریسلیٹ لے کر آہل نہایت سنجیدگی سے بریسلیٹ کو دیکھ غمگین سے لہجے میں بول رہا تھا جیسے ابھی ابھی محبوب سے جدایی ہویی ہو ۔۔
جلن کی ایک رگ مرش کے پورے جسم میں دوڑ گیی تھی منھ کا زاویہ بھی ہلکا پھلکا بگڑ گیا تھا ۔۔ لیکن وہ اس کے سامنے اپنی بےعزتی کسی قیمت پر نہیں ہونے دینے دے سکتی تھی ۔۔
لیکن یہ تو میرا ہے مجھے یاد ہے میرا بریسلیٹ کہیں کھو گیا تھا ۔۔ مرش کے ذہن میں جھماکا سا ہوا تھا اسے یاد تھا جس دن وہ علی سے بچ کر بھاگی تھی اسی دن اس کا بریسلیٹ گم گیا تھا ۔۔۔
وآٹ ؟ تو تمہارے کہنے کا مطلب ہے تم میری ایکس ہو ۔۔ آہل کی آنکھیں شرارت سے مزید چمکنے لگی تھی نہ جانے اسے اتنی خوشی کیوں ملتی تھی مرش کو تنگ کر کے ۔۔۔
میں نے ایسا کب کہا میرا مطلب میرا بھی بریسلیٹ ایسا ہی تھا ۔۔ مرش نے کچھ الجھتے ہوے جواب دیا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ بریسلیٹ کا سوچے یہ اس کی ایکس کے بارے میں ۔۔
سویٹ ہارٹ چیزیں سیم بھی ہو سکتی ہے ضروری تو نہیں تمہاری جیسی چیزیں کسی کے پاس نہ ہو ۔۔ آہل مرش کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر بیٹھا کر اس کے جھکے ہوے سر کو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر آہستہ سے اوپر اٹھایا تھا ۔۔۔
میرا کہنے کا مطلب تھا کہ ۔۔ بس یونہی ہوتا تھا وہ اس کے سامنے بے حد کمزور پڑ جاتی تھی بہت کچھ کہنے کی خواہش بھی تھی کچھ نہ کہہ پانے کی کسک بھی ۔۔
ویسے کویی بات نہیں یہ بریسلیٹ تو میں اپنی ایکس گرل فرینڈ کو نہیں دے سکا لیکن اب بیوی کو تو دے سکتا ہوں ۔۔ آہل اب اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر کے اس کی کلایی میں بریسلیٹ پہنا دیا تھا ۔۔
اچھا ہے نہ ۔۔ نہ جانے آہل نے کس تحت پوچھا ۔۔
بہت ۔۔ مرش مسکرا دی تھی اسے بے پناہ خوشی اس بات کی ہو رہی تھی کم از کم آہل نے اپنی ایکس گرل فرینڈ کی یاد میں یہ بریسلیٹ سمبھال کر تو نہیں رکھا اور اسے پہنا دیا ۔۔
میری جان اب شرٹ پہنا بھی دو ۔۔ آہل اپنی مسکراتی آنکھوں کے اشارے سے شرٹ پہنانے کو کہہ رہا تھا ۔۔
اچھا پہناتی ہوں ۔۔ مرش تھوڑا اور اس کے قریب ہو کر بیٹھ گیی تھی ۔۔
آہل یکدم اچھے بچوں کی شرٹ پہن لیا تھا ۔۔
اچھا لگ رہا ہوں نہ ۔۔ مرش کو اپنی جانب متوجہ پا کر آہل نے اپنی تعریف میں دو چار قصیدے سننا اپنا حق سمجھ رہا تھا ۔۔
بے حد بے تحاشہ “” اتنے اچھے لگ رہے ہو کی دل کر رہا ہے ؟؟؟ ۔۔ آج مرش نے پہلی بار دل کھول اس کی تعریف کی تھی لیکن تعریف تھوڑی مہنگی پڑ گیی تھی ۔۔
کیا دل کر رہا ہے بولو رک کیوں گیی ؟؟ اسے خاموش دیکھ کر آہل کو بے چینی سی ہونے لگی تھی ۔۔
۔ ن نہیں کچھ بھی دل نہیں کر رہا ۔۔ مرش تھوڑا پیچھے کی اور سرکی تھی ۔۔
میں بتاوں میرا کیا دل کر رہا ہے ؟؟ آہل اس کی کم میں ایک ہاتھ ڈال کر جھٹکا دیا تھا جس سے مزید اس کے قریب آ گیی تھی ۔۔
کیا ؟؟ اس کی جھیل سی آنکھوں میں دیکھ کر یک لخت مرش کی زبان پھسلی تھی ۔۔
یہ ۔۔ اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں پر رکھ آہل شاہ آفندی نے محبت بھری مہر لگا دی تھی ۔۔
آہل جانے دو ۔۔ مرش اس کی باہوں میں کسمسا کر آزادی کی بھیک مانگ رہی تھی ۔۔
ٹھیک ہے سویٹ ہارٹ اس وقت جانے دیتا ہوں لیکن پھر اس کے بعد کبھی نہیں مجھے روکو گی ۔۔ آہل کو شاید ترس آ گیا تھا اس پر اس لیے اپنی قید سے آزاد کر دیا تھا ۔۔
پرامس کبھی نہیں روکوں گی ۔۔ مرش نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد جب وہ شاور لے کر باہر نکلی تو ۔ دروازے پر دستک ہویی تھی ۔۔
آ جاو ۔۔ مرش نے اجازت دی تھی ۔۔
بی بی جی کھانا لگ گیا ہے صاحب جی بلا رہے ہے آپ دونوں کو ۔۔ ملازمہ دروازے پر کھڑی جاوید صاحب کا پیغام پہنچانے آیی تھی ۔۔
ٹھیک ہے تم جاو ہم آتے ہے ۔۔ مرش نے اسے جانے کی اجازت دے دی تھی ۔۔
آہل تم روم میں ہی رہنا میں یہی پر کھانا لے کر آتی ہوں ۔۔ مرش تولیے سے بالوں کو ہلکا ہلکا رگڑ کر اسے نیچے نہ آنے کی ہدایت دے رہی تھی ۔۔
بلکل نہیں ۔ ۔۔ میں جا رہا ہوں اویں ہی کمرے میں بیٹھ کر کھانا کھاو فالتو کی بات ۔۔ آہل بغیر اس کی پرواہ کیے کمرے سے نکل گیا تھا ۔۔
پیچھے مرش منھ کھولے حیرت سے اسے دیکھتے رہ گیی تھی ۔ ۔۔۔


نہایت خاموشی سے سب کھانے میں مصروف تھے ۔جاوید نے آہل کی اچھی خاصی کلاس لی تھی ان کا ماننا تھا آہل کو ضرورت سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔۔ لیکن یہ لڑکا سننا ہی کس کی گوارہ کرتا تھا ۔۔
کھانے کے ہی دوران جاوید صاحب کے موبایل کی رنگ ہویی تھی ۔۔ کھانے سے ہاتھ روک کر انہوں کال پک کی تھی شاید کویی ضروری کال تھی ۔۔
ہیلو ؟ جاوید صاحب نے ایک سب پر ڈال کر سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
سلام دعا کے بعد جس ٹاپک پر بات ہو رہی تھی سب لوگ بڑے دھیان سے سن رہے تھے ۔۔
سر آپ کے کہنے سے پہلے ہی مجرم کو سزا مل چکی ہے ۔۔
کیا کیسے کس نے دلوایی ہے اسے سزا ؟ جاوید صاحب کو حیرت ہو رہی تھی آہل جب ہاسپٹل میں تبھی انہوں نے اپنے آدمیوں کو مجرموں کو ڈھونڈ نکالنے کا کام سونپا تھا لیکن یہ بات ابھی ان کے علم میں آیی تھی مجرم کو سزا کب کی مل چکی ہے ۔۔
جی فارس ہاشمی نامی شخص نے مجرموں کو سزا دلوایی ہے ۔ دوسری طرف سے مزید انفارمیشین میں اضافہ کیا گیا تھا ۔۔
فارس نے ؟؟ جاوید صاحب نے فارس کا نام دہرایا تھا جس کو آہل کے کانوں نے بخوبی سنا تھا ۔۔
نام کیا مجرم کا ؟؟ جاوید صاحب نے اپنی روبیلی آواز میں پوچھا تھا ۔۔
علی شہروز اس نے ہی آپ کے بیٹے پر حملہ کروایا تھا ۔۔ دوسری طرف سے یکدم سہی انفارمیشن دی گیی تھی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں بعد میں بات کرتا ہوں آپ سے !! جاوید صاحب فون رکھ دیے تھے انہیں تو حیرت اس بات پر ہو رہی تھی یہ سب علی شہروز کروا سکتا ہے ۔۔
آہل کیا دشمنی تھی تمہاری اس سے ؟؟ جاوید صاحب آہل کی طرف دیکھ بے حد سنجیدگی سے پوچھ رہے تھے ۔۔
ڈیڈ صرف بزنیس کو لے کر جھگڑا تھا اینڈ میری اس سے کبھی بنی ہی نہیں ۔۔ آہل پوری سچایی کے ساتھ جاوید صاحب کو بتا دیا تھا آخر ان سب کے پیچھے ریزن کیا تھا ۔۔۔
اچھا خیر چھوڑو اس سے میں بعد میں نبٹ لوں گا ۔۔ مجھے تم سے ایک بڑی ضروری بات کرنی ہے ۔۔ جاوید صاحب علی کے معاملے کو رفع دفع کر کر کسی دوسری بات کی متعلق کچھ بات کرنا چاہتے تھے ۔۔۔
جی کہے ۔۔ آہل ان کی بات پوری توجہ کے ساتھ سن رہا تھا ۔۔
تم میرے دوست ندیم کو تو جانتے ہو نہ ۔۔؟؟ جاوید صاحب نے اپنے کسی دوست کا نام لے کر اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔
یس جانتا ہوں !! آہل اچھی طرح سے ندیم احمد کو جانتا تھا ان کی کیی ڈیلینگ بھی ساتھ رہی تھی دراصل ندیم احمد سے آہل کی کبھی کبھار ہی ملاقات ہو پاتی تھی ۔۔۔
ان کا ایک بیٹا ہے فہد ابھی جلدی ہی لنڈن سے واپس آیا ہے پڑھایی مکمل کر کے اپنا بزنیس بھی ہے دراصل ندیم نے مجھ سے فہد کے لیے ہماری بریرہ کا ہاتھ مانگا ہے میں اتنی جلدبازی میں کویی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا تمہیں جیسا مناسب لگے مجھے بتاو ۔۔ جاوید نے شاید آہل سے یوں پوچھ رہے تھے جیسے اس کی مرضی سب سے زیادہ اہم ہے ۔۔ یہ شاید واقعی اہم ہے ۔۔
بریرہ کے جسم میں ایک کراہ سی اٹھ رہی تھی دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا لب ایک دوسرے میں پیوست ہو گیے تھے حلق مزید خشک ہو گیا تھا جیسے پانی کبھی نصیب ہی نہ ہوا ہو ۔۔
ہاں اچھا لڑکا ہے مجھے تو کافی پسند ہے ۔۔ آہل ایک لقمہ بنا کر منھ میں رکھ جاوید صاحب کی بات سے اکتفا کیا تھا ۔۔
مرش کو اس وقت بے حد غصہ آ رہا تھا اسے اچھے سے اندازہ تھا بریرہ کی حالت کا لیکن وہ بےچاری کیا کر سکتی تھی سواے آہل کو کھا جانے والی نظروں سے گھورنے کے علاوہ ۔۔
ڈیڈ ہم بعد میں اس ٹاپک پر بات کرتے ہے ۔۔ آہل کو جیسے ترس آ گیا تھا بریرہ کی حالت پر یہ شاید کچھ اور ۔۔
ٹھیک ہے تم ابھی کچھ دیر میں میرے کمرے میں آ جانا کیوں کی مجھے انہیں جواب بھی دینا ہے ۔۔ جاوید صاحب نے بے حد صاف گویی سے معاملے نوییت آہل کو سمجھا پھر سے کھانے میں مصروف ہو گیے تھے ۔۔


کھانے سے فارغ ہو کر آہل جاوید صاحب سے بات کر کے آیا تھا لیکن معاملہ حد سے زیادہ سنگین تھا اس لیے وہ دونوں کمرے میں اس وقت بے حد اہم ٹاپک پر بحث کرنے میں مصروف تھے ۔۔
آہل تم اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہو ۔۔ مرش کو بے تحاشہ غصہ آ رہا تھا ۔۔
جو بھی ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے ۔۔ آہل موبایل پر ای میل چیک کرنے میں اتنا مگن تھا کی اسے مرش کی کسی بات سے کویی فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔
تم ۔۔ تم جانتے ہو بریرہ فارس ایک دوسرے کو پسند کرتے ہے لیکن نہیں تم کیوں جانو گے تمہیں تو کویی فرق ہی نہیں پڑتا ہے ۔۔۔ مرش اپنی بولے جا رہی تھی اس کے برعکس آہل بے حد آرام سے بیٹھ کر فون دیکھنے میں مگن تھا ۔۔
مرش پلیز میں کویی بحث نہیں کرنا چاہتا اور مجھے جو سہی لگا میں نے وہ کیا ۔۔۔ آہل فون میز پر رکھ کر اس کی طرف دیکھ قدرے اکتاے ہوے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔
آہل تم غلط کر رہے ہو ! بہت غلط یہ تو سراسر بریرہ کے ساتھ زیادتی ہے ۔۔ مرش کو ہرگز توقع نہیں تھی آہل سے اس طرح کی ۔۔
مرش کیا سہی ہے کیا غلط میرے خیال سے یہ بات میں تم سے بہتر جانتا ہوں اینڈ جب ڈیڈ کو اس رشتے پر کویی اعتراض نہیں تو پھر مجھے کیوں ہو ۔۔ آہل کا جواب سن کر مرش کو یقین نہیں آ رہا تھا آج ایک بار سے وہ اسے وہی ظالم آہل شاہ آفندی لگ رہا تھا ۔۔۔
اوہ میں تو بھول گیی تھی تم وہی آہل شاہ آفندی ہو مجھے گمان ہونے لگا تھا تم بدل رہے ہو بدل گیے ہو لیکن آج مجھے پتہ چلا میں غلط تھی۔ ۔ ۔۔ مرش کو آہل اتنی سنگدلی ذرا برابر نہیں جچ رہی تھی ۔۔
اچھا یار یہ سب چھوڑو فضول کی بحث ہے میرے سر میں درد ہو رہا ہے ذرا مساج کر دو پلیز ۔۔ آہل مسکرا دیا تھا اس بات کی پرواہ کیے بغیر اس کے دل پر اس وقت کیا گزر رہی تھی ۔۔
میں کچھ نہیں کروں گی جو کرنا ہے خود کر لو ۔۔ مرش بیڈ پر جا کر سیدھے لیٹ گیی تھی یہ شاید ناراضگی اظہار کرنے کا یہ سب سے بہترین طریقہ تھا ۔۔
مرش ۔؟؟ آہل کو یقین تھا یہ صرف سونے کا ڈرامہ کیا جا رہا ہے اس لیے بڑے پیار کے ساتھ اس کا نام پکار رہا تھا ۔۔
مرش ؟ آہل نے ہھر سے آواز لگایی تھی لیکن اس بار مرش کا رد عمل کچھ مختلف تھا کروٹ لے کر سر سے پاوں تک کمبل تان لی تھی ۔۔۔
ناراض ہو ؟؟ آہل اٹھ کر بیڈ پر اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ جواب دیے بغیر مرش کو رہ نہیں گیا تھا لیکن انداز حد سے زیادہ خفا خفا سا تھا ۔۔
اچھا میری جان سوری ۔۔ آہل تھوڑا اس کے اوپر جھکا تھا ۔۔
مجھے نہیں کرنی تم سے بات ۔۔ مرش دوسری طرف کروٹ بدل گیی تھی مطلب صاف تھا وہ نہیں مانی ہے اور نہ ہی منانے کا کویی چانس ہے !!