50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

ایک لمبی پرسکون سانس لے کر آہل نے خود کو پرسکون کرنا چاہا تھا ۔۔
سر ٹایم ہو گیا ہے میٹنگ کا ۔۔وہ لڑکی پھر سے وہاں پر موجود تھی ۔۔
آپ چلے میں آتا ہوں ۔۔ آہل نے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔۔
اوکے سر ! وہ لڑکی جا چکی تھی ۔۔
غایب دماغی سے اسنے بہ مشکل میٹنگ اٹینڈ کی تھی ایک عجیب سی بے چینی تھی دل کر رہا تھا سب کچھ تہس نہس کر دے ایک لمحے میں اس کا دل چاہا اس سارے منظر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غایب ہو جاے ۔۔بلا وجہ گاڑی روڈ پر مسلسل ایک گھنٹے سے دوڑا رہا تھا جیسے کویی منزل ہی نہ ہو ۔۔


فارس کیا ہوا میری جان یے چوٹیں کیسی ہیں ؟؟ ماں ہونے کے تحت ان کا فکر مند ہونا لازمی تھا ۔۔
امی !! یکا یک فارس کی آنکھوں میں آنسوں امڈ گیے تھے کسی معصوم چھوٹے بچے کی طرح وہ اپنی ماں سے لپٹ گیا تھا ۔۔
کیا ہوا ہے فارس بتاو مجھے ؟؟ اس کی امی نے نہایت فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔
امی میں نے آہل کو کویی دھوکہ نہیں دیا میں اسے دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا امی وہ ۔وہ مجھے دھوکے باز کہتا ہے اسے لگتا ہے میں نے اسے دھوکہ نہیں دیا امی میری بات کا یقین کرے ۔۔بات تو سو فیصد سچ تھی لیکن کون یقین کرتا ۔۔
میری جان کیا ہوا ہے کھل کر بتاو مجھے بہت فکر ہو رہی ہے ۔۔ انہوں نے فارس کا ہاتھ تھام کر کہا تھا۔ ۔
امی اسے پتہ چل گیا میں بریرہ سے محبت کرتا ہوں لیکن وہ کہتا ہے میں نے کھیل کھیلا ہے میں نے اسے دھوکہ دیا ہے ۔۔۔
بیٹا ہر بھایی اپنی بہن کے معاملے میں بہت حساس ہوتے ہے وہ بھی ایک بھایی بن کر سوچ رہا ہے ۔۔۔ انہوں نے سمجھانا چاہا تھا ۔۔
نہیں امی وہ مجھے دھوکے باز کہتا ہے میں تو سمجھتا تھا وہ یقین کرے گا مجھ پر میری بات سنے گا لیکن وہ تو مجھے دھوکے باز سمجھتا ہے ۔۔فارس کی آنکھوں میں بے یقینی سی بے یقینی تھی ۔۔۔
نہ میری جان اس طرح نہیں کہتے جا کپڑے بدل کر آ میں کھانا لگاتی ہوں ۔۔ ایک محبت سے بھر پور بوسہ انہوں نے فارس کی پیشانی پر ثبت کیا تھا ۔۔


بھایی آپ کے لیے کھانا لگاوں ؟؟ آہل کے گھر میں داخل ہوتے ہی بریرہ نے خوشدلی سے پوچھا تھا ۔۔
کویی جواب دینے کے بجاے اس نے ایک اچٹتی اجنبی بے حد اجنبی نگاہ اس نے اپنی بہن پر ڈالی تھی جو اس کے یقین کے پر خچچے اڑا رہی تھی ۔۔۔
کویی جواب دیے بغیر وہ سڑھیاں چڑھ گیا تھا شاید اسے تنہایی کی طلب ہو رہی تھی ۔۔
آ گیے تم میری کالز کیوں نہیں پک کر رہے تھے ۔۔۔ آہل نے جیسے کمرے میں قدم رکھا تھا مرش نے شکوہ شکویتوں کی بارش کرنی شروع کر دی تھی ۔۔
بزی تھا ۔۔ اس نے سرسری سا جواب دیا تھا ۔۔۔
اتنے بزی تھے کی میری ایک کال پک کرنے کا تمہارے پاس ٹایم نہیں تھا ۔۔مرش فورن برا مان گیی تھی ۔۔
ہاں نہیں تھا ٹایم آفس میں میں کام کرنے جاتا ہوں فارغ نہیں بیٹھا ہوتا ۔۔نہ چاہتے ہوے بھی آہل کا لہجہ تلخ ہو گیا تھا ۔۔
تم مجھ سے اس طرح کیوں بات کر رہے ۔۔مرش فورن اس کا تلخ لہجہ بھانپ گیی تھی ۔۔
کس طرح بات کر رہا ہوں میں ؟؟ آہل بھی اب میدان جنگ میں اتر چکا تھا ۔
تم خود جانتے ہو مجھ سے کیسے بات کر رہے ہو ۔۔ مرش کو اب غصہ آ رہا تھا ۔۔
میں اسی طرح بات کرتا ہوں بہتر ہوگا تم آدی ہو جاو ۔۔ ٹایی کی ناٹ کھولتے ہوے اس نے بے زاری سے کہا تھا ۔۔
ہوا کیا ہے تمہیں ؟؟ اس کی حالت دیکھ کر مرش کو تھوڑی حیرانگی ہو رہی تھی ۔۔
کچھ بھی نہیں سو جاو تم ۔۔حکم دیا گیا تھا ۔
اور تم کیا کرو گے ۔۔ مرش نے چونکتے ہوے پوچھا تھا ۔۔
مجھے کچھ کام ہے میں تھوڑی دیر بعد سووں گا ۔۔ آہل ایک نظر اس پر ڈال کر فورن نظریں چرا گیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اس کی اس حالت کا سب کو علم ہو ۔۔
ٹھیک ہے تم کھانا نہیں کھاو گے ۔۔مرش نے یاد آنے پر فورن پوچھا تھا ۔۔
نہیں بھوک نہیں ہے ۔۔ آہل نے جیسے جان چھڑانی تھی ۔۔
ٹھیک ہے ۔۔ مرش نے کچھ غایب دماغی سے جواب دیا تھا اس نے پہلی بار آہل کا ایسا وریہ دیکھا تھا ہمیشہ نکھرا نکھرا سا آہل شاہ آفندی آج بکھرا بکھرا سا لگ رہا تھا ۔۔
نہ جانے رات کے کس پہر مرش کی آنکھ کھلی تھی آہل کو نہ پا کر اسے تھوڑی حیرت ہو رہی تھی ۔۔۔
تم ابھی تک جاگ رہے ہو ؟؟ مرش چل کر اس کے پاس آ گیی تھی ۔۔
کام بہت تھا اس لیے ۔۔ صاف جھوٹ بولا گیا تھا ۔۔
تم اسموکنگ کر رہے ہو ؟ ایش ٹرے میں رکھے گیے ان گنت سگریٹ کو دیکھ کر مرش کو سدید حیرت ہو رہی تھی اس نے پہلی بار اسے اسموکنگ کرتے ہوے دیکھا تھا ۔۔
ہاں کبھی کبھی جب موڈ ہوتا ہے !! آہل منھ سے دھوا اڑا کر زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا ۔۔
اتنی زیادہ سگریٹ تم نے کش کی ہے پتہ ہے کتنا نقصان دہ ہوتا ہے یے ۔۔مرش نے ہاتھ بڑھا کر آہل کی انگلیوں میں پھنسا سگریٹ چھین لیا تھا ۔۔۔
مرش پلیز تنگ نہ کرو جا کر سو جاو ۔۔ کھونکار نظروں سے اس نے مرش کی طرف دیکھا تھا ۔۔
آہل پلیز !! مرش نے بے بسی سے اسے دیکھا تھا جو ایک بار پھر سے سگریٹ جلا رہا تھا ۔۔
مرش جاو یہاں سے ۔۔ آہل نے اب سختی سے کہا تھا ۔۔
کیوں جاوں میں نہیں جاوں گی اور تم نے یے کیا حولیہ بنا رکھا ہے ہوا کیا ہے !! مرش چل کر اس کے قریب ہی صوفے پر بیٹھ گیی تھی ۔۔
یہی تو چاہیے تھا آہل شاہ آفندی کو کسی سہارے کی ہی تو ضرورت تھی اسے اپنا غم بانٹنے کے لیے اس کسی ساتھی کی ہی تو ضرورت تھی ۔ایک ہارے ہوے جواری کی طرح وہ مرش کے شانے پر اپنا سر رکھ دیا تھا آنسوں کو ضبط کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا تھا ۔۔
آہل کیا ہوا ہے ؟؟ مرش نے ہولے سے پوچھا تھا !!
مرش تم جانتی ہو فارس میرا واحد اور سب سے اچھا دوست تھا میں اسے بھایی کی طرح مانتا تھا لیکن اس نے یے کیا کر دیا اس نے مجھے دھوکہ دیا ہے میری بہن کے ساتھ محبت کا کھیل کھیلا یے سوچے سمجھے بغیر کی وہ میری بہن ہے کیوں کیا اس نے ایسا مجھ سے چھپا کر اس نے سب کی ہے جبکہ میں اس سے بار بار پوچھتا تھا کویی پسند ہے تو بتا دو لیکن تب بھی اس نے نہیں بتایا تھا جانتی ہو وہ دو ٹکے کا علی آج میری غیرت کو للکار کر گیا ہے میری بہن پر انگلی اٹھا کر گیا ہے ۔۔۔ آہل نے سب کچھ مرش کو بتا دیا تھا آنکھوں میں آنسوں آ گیے تھے جسے چھپانے کی ناکام کوشش کی جا رہی تھی ۔۔
آہل تمہیں نہیں لگتا ان سب میں تمہاری بھی کویی غلطی ہے دو محبت کرنے والوں کے بیچ ہم کیا کر سکتے ہے ہم کسیے انہیں الگ کر سکتے ہے آہل فارس تمہارا دوست ہے تمہیں ایک بار سمجھنا چاہیے تھا سوچنا چاہیے تھا ہم کون ہوتے ہے یہ فیصلہ کرنے والے کون کس کے لیے پرفیکٹ ہے ۔۔ مرش کی پوری حمایت فارس اور بریرہ کے ساتھ تھی ۔۔
تم نہیں سوجھوگی !! آہل نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا ۔۔
میں سمجھتی ہوں آہل کیوں کی میں جانتی تھی یے سب ۔۔ مرش نے مسکرا کر یے دھامکہ کیا تھا ۔۔
وآٹ ؟؟ آہل غصے سے اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ رہا تھا ۔۔
ہاں لیکن مجھے جلد ہی پتہ چلا ہے اور سچ بتاوں مجھے بہت خوشی ہویی تھی یے سب جان کر ۔۔ مرش خوشی سے بتا رہی تھی آہل کے چہرے کے تاثرات دیکھے بنا ۔۔۔
آہل وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہے چاہتے ہے ایک دوسرے کو پھر ہم ہوتے کون ہے انہیں الگ کرنے والے دیکھو آہل جس طرح تم نے مجھے اتنی تکلیف دی ہے مجھے جس طرح اپنا بنایا ہے شکر کرو فارس نے تمہاری بہن کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا سوچو پھر وہ تم سے کتنا اچھا ہے محبت کے معاملے میں تمہیں لگتا ہے تم اپنی جگہ بلکل ٹھیک تھے سب کو ایسا ہی لگتا ہے ہم اپنی جگہ ٹھیک ہے اسی طرح فارس کو بھی اپنی جگہ بلکل ٹھیک لگ رہی تھی ۔۔۔مرش ہولے ہولے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر کر سمجھانے کی کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
آہل ۔۔مرش نے ہولے سے اس کا نام پکارا تھا لیکن تب تک آہل غنودگی میں جا چکا تھا ۔۔


فارس پلیز کال پک کر لو ۔۔یے ایک سو ایک مرتبہ فارس کے موبایل پر کال کی گیی تھی لیکن اس بار بھی بریرہ کو ناکامی کا سامنہ کرنا پڑا تھا ۔۔
فارس تمہیں ہو کیا گیا ہے کال پک کرو ۔۔بریرہ منھ ہی منھ بڑبڑایی تھی وہ کمرے رات کے دو بجے تک فارس کے موبایل پر ٹرایی کرتی رہی لیکن جواب ندارد تھا ۔۔


آہل اٹھ بھی جاو آفس نہیں جانا کیا ۔۔۔ مرش اسے جگانے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی ۔۔
میری جان کچھ دیر اور سو لینے دو ۔۔۔آہل جیسے اجازت مانگی تھی ۔۔
بلکل بھی نہیں چپ چاپ اٹھو ورنہ میں ابھی اس جگ کا پانی تمہارے منھ پر انڈیل دوں گی ۔۔۔ مرش نے گویا دھمکی تھی ۔۔
بڑی ظالم بیوی ہو دیکھو کیسا گزارا ہوتا ہے اس معصوم کا ۔۔۔ آہل بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا ۔۔
ہا بڑے آے معصوم شکل دیکھی ہے اپنی ۔۔۔مرش نے اسے شرم دلانی چاہی تھی ۔۔
روز ہی دیکھتا ماشااللہ خدا نے بڑی فرصت میں بنایا ہے مجھے ۔۔۔ آہل نے مسکرا اکر خود کی تعریف کی تھی ۔۔۔
تبھی تو اتنی بری ہے ۔۔مرش بیڈ سے اٹھ گیی تھی شاور لینے کے ارادے سے جیسے ہی آگے بڑھی آہل اس کا بازوں پکڑ کر کھینچا تھا جس سے وہ اس کے مضبوط سینے سے جا لگی تھی آہل نے اس کی گردن میں منھ گھسا کر اپنے لب رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
آہل پلیز جانے دو ۔۔مرش مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی ۔۔
یار کبھی تو رومینٹک ہونے دیا کرو ۔۔۔
تم ہمیشہ رومینٹک رہتے ہو میں کون کون سی تمہاری خواہشات پوری کروں ۔۔۔مرش نے جھنجھلاتے ہوے کہا تھا ۔۔
ایک شوہر کی کیا کیا طلب ہوتی ہے اپنی بیوی سے تمہیں تو پتہ ہی ہوگا ۔۔۔ آہل نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے مزید قریب کیا تھا ۔۔
اچھا جی تو بتاے کون کون سی خواہشات ہوتی ہے وہ میں آپ کی پوری کر دوں ۔۔۔ مرش نے اس کی بکھرے بال کو مزید بکھیر دیا تھا ۔۔
اب میں تمہیں یہ بھی بتاوں !! آہل نے منھ پھلا کر ناراضگی ظاہر کی تھی ۔۔
تو مجھے کیسے پتہ ہوگا آپ کی کیا خواہشات ہیں ؟؟ مرش نے معصومیت سے پوچھا تھا ۔۔
چلو ایک کس دو جلدی سے یہ تو بہت چھوٹی سی خواہش ہے لیکن کویی بات نہیں پہلے اسے پورا کر دو ۔۔۔آہل نے حکم صادر کیا تھا ۔۔۔
کس ؟؟ تم پاگل تو نہیں ہو گیے ہو ؟؟ مرش نے مصنوعی غصہ دکھایا تھا ۔۔
بلکل پاگل نہیں ہوا ہوں بیوی کا فرض ہوتا ہے شوہر کی خواہش پوری کرنا تم اتنی چھوٹی سی خواہش پوری نہیں کر سکتی میری ۔۔۔آہل شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا ۔۔
اچھا لیکن یہ فرسٹ اینڈ لاسٹ کس ہوگی ۔۔۔مرش نے جان چھڑانی چاہی تھی ۔۔
اوکے !! آہل نے فورن اچھے بچوں کی طرح آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔۔
مرش نےکچھ جھجھکتے ہوے اس کے گال پر اپنے لب رکھ دیے تھے ۔۔
اب بس !! مرش فورن دو قدم پیچھے ہٹی تھی ۔۔
اچھی تھی لیکن بہت عام سی تھی ۔۔۔آہل اس کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا ۔۔
چپ کرو میں جا رہی ہوں شاور لینے ۔۔مرش دوڑ کر فورن واشروم میں گھس گیی تھی ۔۔۔
بیوقوف لڑکی !! آہل نے مسکرا کر منھ ہی منھ بڑبڑایا تھا ۔۔۔

آہل کل میں نے تم سے کچھ کہا تھا ۔۔ ناشتے کی ٹیبل پر جاوید صاحب آہل سے مخاطب ہوے تھے ۔۔
جی دراصل کل میں بہت مصروف تھا وقت ہی نہیں ملا آج آ کر آپ سے بات کرتا ہوں ۔۔ آہل نے ان پر ایک سرسری سی نظر ڈال جواب دیا تھا ۔۔
آہل فارس کیوں نہیں آ رہا کتنے دنوں سے میری اس سے ملاقات نہیں ہویی ہے ۔۔جاوید صاحب فارس کے بارے میں دریافت کر رہے تھے کیوں کی زیادہ تر دنوں سے انہوں نے فارس کو نہیں دیکھا تھا ۔۔
اب وہ آے گا بھی نہیں ۔۔۔!! جوس کا گلاس لبوں سے لگا کر اس نے سرسری سا جواب دیا تھا ۔۔۔
کیا مطلب ؟؟ مریم بیگم چونکی تھی ۔۔
مطلب آپ اپنی بیٹی سے پوچھ لیجیے وہ مجھ سے بہتر بتاے گی آپ کو ۔۔۔آہل نے اپنی سرخ آنکھیں مریم بیگم کے چہرے پر مرکوز کرتے ہوے کہا ۔۔
کیا مطلب ۔۔مریم بیگم کے چلتے ہاتھ رک گیے تھے ۔۔
مجھے لیٹ ہو رہا ہے چلتا ہوں ۔۔ آہل اپنا فون اور کوٹ ہاتھ میں لے کر جا چکا تھا سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کی اس نے بریرہ سے کالج جانے کا پوچھا تک نہیں تھا ۔۔
بریرہ بت کی بنی بیٹھی تھی ۔۔۔
عجیب لڑکا ہے ۔۔جاوید صاحب نے انسنی کر دی تھی اگر دیکھا جاے تو یہ بات انسنی کرنے کے بلکل قابل نہیں تھی ۔۔۔
میں کالج جا رہی ہوں ۔۔۔بریرہ زبردستی کی مسکاراہٹ چہرے پر سجا کر فورن نو دو گیارہ ہو گیی تھی ۔۔

فارس دیکھو بیٹا دروازے پر کون بیل دے رہا ہے ۔۔فارس نے اپنے عقب میں اپنی ماں کی آواز سنی تھی ۔۔۔
جی دیکھتا ہوں !! بے رف سے حولیے میں بھی وہ نہایت ہینڈسم دکھ رہا تھا ۔۔۔
تم یہاں !! دروازے پر بریرہ کو دیکھ کر فارس نے بے یقینی سے کہا تھا ۔۔
مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔بریرہ نے الجھتے ہوے اسے دیکھا تھا ۔۔
لیکن مجھے کویی بات نہیں کرنی ۔۔۔نہ چاہتے ہوے بھی فارس کو اپنا لہجہ سخت کرنا پڑا تھا کیوں کی اب وہ مزید کسی کو دھوکہ میں نہیں رکھنا چاہتا تھا ایک پل کو تو فارس کا دل چاہا بریرہ کو گلے لگا قربت کی پیاس کو بجھا لے لیکن اس نے خود پر جبر کیے ہوا تھا اپنے جزبات کو کنٹرول کیے ہوا تھا ۔۔۔
کیوں نہیں تمہیں مجھ سے بات کرنی دیکھو فارس مجھے تم اس طرح اگنور نہیں کر سکتے !! بریرہ کا لہجہ بے بسی سے بھر پور تھا ۔۔
دیکھو بریرہ آج کے بعد یم کبھی نہیں ملیں گے اور پلیز تم یہ کال کرنا بند کر دو ۔۔۔فارس نے مخمور لہجے میں کہا تھا دل کے کسی کونے میں ہلکا سا درد بھی ہوا تھا لیکن اسے اس درد کو برداشت کرنا تھا ۔۔۔
تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو فارس ہوا کیا اور یہ چوٹیں کیسی لگی ہیں ؟؟ بریرہ نے اس کے پیشانی پر لگی چوٹ کو دیکھ کر فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔۔
تمہاری بھایی نے دی ہے !! فارس نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔
کیا ؟؟ مجھے صاف صاف بتاو کیا ہوا ہے ۔۔ بریرہ اب رو دینے کو تھی ۔۔
کچھ بھی نہیں ہوا میری بات سنو بریرہ آج کے بعد مجھے کال کرنے کی کوشش مت کرنا نہ مجھ سے کویی رابطہ کرنا میں نہیں چاہتا خواہمخواہ کویی تماشہ ہو میری زندگی میں پہلی ہی مزید الجھن ہے ۔۔۔فارس پوری توجہ سے ڈراینگ کرنے میں مگن تھا لیکن دل کی حالت ایسی تھی کی جیسے کسی سمندر میں غوطے لگا رہا ہو ۔۔
تم ۔۔میں جانتی ہوں تم مجھے چھوڑ رہے ہو کویی اور مل گیا ہوگا تمہیں ایسا ہی ہے نہ ۔۔ بریرہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہے رہے تھے دل پر ایک گھونسا سا پڑا تھا ۔۔
ہاں شاید ۔۔فارس کے اندر اب اتنی ہمت نہیں تھی کی وہ مزید بریرہ کا دل دکھاتا ۔۔۔
آیی ہیٹ یو ۔۔ یہ آخری الفاظ تھے جو بریرہ کے زبان سے ادا ہوے تھے آنکھوں میں شدید بے یقینی تھی یہ یقین کرنا زیادہ مشکل تھا دھوکہ کس نے دیا ہے محبت نے یہ محبت کرنے والے نے ۔۔۔
بہت شکریہ اب گیٹ کے اندر جاو اور مجھے کبھی تنگ مت کرنا ۔۔۔ فارس نے تھوڑی سختی اختیار کر لی تھی ۔۔
آیی ہیٹ یو مجھے زندگی میں کبھی مڑ کر اپنی شکل مت دکھانا ۔۔ بریرہ دروازہ کھول کر تن فن کرتی ناہر نکلی تھی ۔۔۔
تمہاری خواہشات پوری کرنا میرا حق ہے ۔۔۔ فارس نے ایک تیکھی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی تھی اور زن سے آگے بڑا دیا تھا لیکن دل تھا کی کچھ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا دل کہہ رہا تھا سب کچھ بھول بھال کر پھر سے اسی راہ پر چل پڑیں لیکن دماغ کہہ رہا تھا کبھی نہیں یہ غلط ہے ۔۔۔