Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 6
Rate this Novel
Episode 6
مرش آج وقت سے پہلے اٹھ گیی تھی ۔۔۔۔اسکو خوشی کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی ۔۔۔
۔دس بجے کے قریب اسنے ناشتہ کیا اور تیار ہونے کے لئے کمرے میں آگئی ،،
،زارا کی برتھ ڈے کے لئے وہ بہت ایکساٹیڈ تھی۔۔۔
شاور لینے کے بعد اسنے اپنے گیلے بالوں کو کھلا چھوڑ دیا،اورینج کلر کا ڈریس نکال کر اسنے زیب تن کیا کومبنیشن اورینج کے ساتھ ہلکی جیولر ی پہنی, جو کے بہت ہی نفیس قسم سے آراستہ تھی ۔ اس نے کھلے بالوں سے ایک بار پھر سے برش کیا۔۔۔۔گلابی گالوں پر ننھا سا ڈمپل جو اسکی خوب صورتی کو چار چاند لگا رہا تھا ۔۔۔،،
ستواں ناک، آنکھیں بهوری ہونٹ شر بتی جیسے ہنسی ہو تو کی موسم ہنس پڑے ہوں،،پتلی اور خوبصورت کلائی میں خوبصورت گولڈن بریسلیٹ ڈال کر کالی چادر کو ارد گرد پھیلاتے ہوئے ،میک اپ کا آخری ٹچ دیا ۔۔۔۔ نفیس سی میڈیم سایز کی ہیل اپنے موم جیسے پیروں میں پہنا ۔۔ جلدی سے فائزہ بیگم سے دعایں لی ۔۔
مرش جس طرح جانے کی جلدی ہے اسی طرح آنا بھی جلدی”””” فایزہ بیگم مرش کو ہدایت دیتے ہوے بولی ۔۔۔
ٹھیک ہے امی ۔۔۔ پرامس جلدی آوں گی ۔۔ مرش مسکراتی ہویی بولی ۔ سرفراز صاحب گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوے روڈ پر لے آے ۔۔ بابا ان لوگوں نے گاڑی بھیج دی تھی کیا مرش اس وقت حیران ہوتے بولی ۔۔
ہاں بیٹا اسی دن رات کو بھیج دی تھی ۔۔ سرفراز صاحب نے جواب دیا ۔۔۔۔
گآڑی زارا کے گھر کے باہر جا کر رکی ۔۔
مرش واپسی کس ٹایم ہوگی بیٹا ؟؟ “”” سرفراز صاحب مرش کو دیکھتے ہوے بولے ۔۔۔۔
آپ پریشان نا ہو بابا ۔۔ ثمرہ مجھے ڈراپ کر دے گی ۔۔ مرش مسکراتی ہویی بولتے ہوے ہوے گھر کی جانب قدم بڑھا دی ۔۔۔
اندر زیادہ لوگ نہیں تھے ۔۔ پھر بھی مرش بہت نروس تھی ۔۔ مرش کا وہاں بہت اچھا استقبال ہوا ۔۔۔ کچھ لوگ تو مرش کی خوبصورتی دیکھ کر سرگوشیاں کرنے پر مجبور ہو گے ۔۔۔۔۔
ہاے !!! “”””
۔ ۔۔۔ مرش کو اپنے عقب سے آواز آیی ۔۔۔
اس نے گردن موڑ کر دیکھا ۔۔ سامنے ایک نوجوان ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ پھنساے مرش کو نظروں کے حصار میں لیا ۔۔
۔۔۔ مرش نے سرسری سی نظر اس شخص پر ڈالی جو مسلسل اسے گھورے جا رہا تھا مرش کو اسکی نظروں سے الجھن ہونے لگی تھی اور اسے نظر انداز کرتی ہوئی قدم آگے کی طرف بڑھا لی ۔۔علی کو مرش کا یوں نظرانداز کرنا ایک آنکھ نہ بھایا ،،،اسنے اپنا سرخ چہرہ لئے غصےکو ضبط کرتا وہیں کرسی پر براجمان ہوا__
کچھ دیر کی گفتگو کے بعد کیک کٹا ۔۔ اور خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا ۔۔۔ مرش کو اب گھر جانے کی جلدی تھی ۔۔۔
مش ۔۔۔ ثمرہ گھبراتی ہویی مرش کے پاس آیی ۔۔۔
ہاں ۔۔ تم اتنی پریشان کیوں ہو ۔۔ مرش جانچتی ہوی نظروں سے ثمرہ کو دیکھتے ہویی بولی ۔۔۔
یار ۔۔ ماما کی کال آیی تھی بابا کی طبعیت اچانک خراب ہو گی
مجھے جانا ہوگا ۔۔ ایم ریلی سو سوری ۔۔ ثمرہ پریشان ہوتی ہویی بولی ۔۔۔
اچھا کویی بات نہیں تم جاو میں چلی جاوں گی ۔۔
مرش ثمرہ کو تسلی دیتے ہوے بولی ۔۔
ثمرہ الٹے قدموں واپس چلی گی ۔۔
اب میں کس کے ساتھ جاوں ؟؟؟ ۔ مرش پریشان ہوتی ہویی زارا سے بولی ۔۔ میں ڈراپ کر دوں ؟؟ “”” ۔۔ علی موقع کا فایدہ اٹھاتا ہوا بولا ۔۔
ن ۔۔۔ نہیں مرش ابھی انکار کرنے کے منھ کھولی ۔۔ زارا بیچ میں بول پڑی ۔۔ ارے مرش علی بھایی تمیں ڈراپ کر دیں گے ۔۔ بہت بھروسے کے انسان ہے ۔۔ زارا کو علی کے بارے میں جیسا بتایا گیا تھا ۔۔ ویسا ہی اس کے اوپر بھروسا کرتی تھی ۔ ۔۔ اچھا ٹھیک ہے ۔۔ مرش جانے کے لیے تیار ہو گیی ۔۔ کیوں کی اس کو گھر جانے کی بہت جلدی تھی ۔۔ زارا سے گلے مل کر زارا کے والدین سے سلام دعا کرتی وہ گاڑی میں آ کر بیٹھی ۔۔۔ “”” علی گاڑی میں پہلے سے ہی موجود تھا ۔۔
مرش کو اندر ہی اندر گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی ۔۔
تمہارا کویی بواے فرینڈ ہے ؟؟ “”” باتوں کا آغاز علی کی طرف سے ہوا ۔ ۔
نہیں مجھے بواے فرینڈ کی کویی ضرورت نہیں ہے ۔۔ مرش نے تحمل سے جواب دیا ۔۔
تو بنا لو ۔۔ علی اپنی طرف اشارہ کرتے ہوے بہت ہی خبیث مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔۔۔ میں نے کہا نہیں ،،، مجھے ضرورت نہیں ہے ۔۔ مرش غصے سے بولی
۔۔ لیکن مجھے تو ہے “””” علی مرش کا ہاتھ پکڑتے ہوے بولا ۔۔
یے یے ۔۔کیا حرکت ہے بکواس بند کرو ۔۔۔
مجھے چیپ باتیں بلکل پسند نہیں ۔۔۔
چیپ لوگ تو پسند ہیں نا ۔۔ علی خباثت سے مسکراتے ہوے بولا ۔۔
گھٹیا انسان ۔۔ منھ بند کرو اپنا ۔۔ اسکی چیپ باتوں سے وہ ڈر گیئ ۔۔۔علی اس سے پہلے کچھ اور کرتا۔۔۔۔ مرش اپنے نکیلے دانت علی کی ہاتھوں میں گاڑ دی
آہ ۔۔۔ علی کی چینخ بہت درد ناک تھی ۔۔
مرش موقع پاتے ہی گاڑی سے اتری ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کی علی گاڑی اسٹارٹ کر دیتا ۔۔۔ دیکھ لوگا تمہیں ۔۔ علی غصے سے بولا ۔۔
مرش خود کو بچانے کے لیے دوڑتی ہویی کچھ آگے آیی ۔۔ آچانک اس کی ٹکر کسی گاڑی سے ہویی مرش اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی ۔۔ مرش ایک جھٹکے سے زمین پر گر گیی ۔۔
آہل شاہ آفندی گاڑی کا دروازہ کھول کر جلدی سے باہر آیا ۔۔
اگر آپ کو اتنا ہی مرنے کا شوق ہے تو پلیز کسی چھت سے چھلانگ لے وہ موت زیادہ بہتر ہوگی ۔۔ آہل غصے سے بولتا ہوا مرش کا بازوں دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر کھڑا کرتا ہوا بولا ۔۔
سامنے وہی آنسووں سے بھری بھوری آنکھیں جو آہل کے ذہن پر نقش ہو چکی تھی شام کے وقت سڑک تھوڑا سنسان تھی اس حالت میں دیکھ کر اسے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔آ پ ٹھیک تو ہیں ؟؟ اہل نے نرم لہجے میں پوچھا _مرش جو پہلے سے ہی گھبرایی تھی ،،،،،اس وقت اس کی سمجھ میں
کچھ نہیں آ رہا تھا ۔۔ کیوں کی وہ فایزہ بیگم کو سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی ۔
۔ مرش نے اپنی کالی سیاہ پلکیں اٹھایی سامنے اس شخص کو کھڑا پایا ۔۔۔جس کی امید نہیں تھی اس کو ۔
۔ اسے اس وقت ناجانے کیوں محسوس ہو رہا تھا ۔۔
جیسے وہ کسی محفوظ ہاتھوں میں آ گی ہو ۔۔ اب اسے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔اسنے بنا کچھ سوچے سمجھے آہل کی شرٹ اپنی انگلی میں دبوچ لی بلا جھجک وہ آہل شاہ آفندی کے گلے لگ گی ۔۔ آہل ابھی اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھا ۔۔ وہ حیرت ذدہ مرش کو صرف دیکھنے لگا ۔۔۔
چلو میں آپ کو ڈراپ کردوں۔۔ اہل کے کہنے پر وہ جیسے ہوش میں آیی اور جلدی سے پیچھے ہوئی,,,,,,
اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اندرجا بیٹھی ۔۔ ملگجا سا اندھیرا ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ گاڑی کے اندر ہلکا سا اندھیرا تھا ۔۔۔ مرش کو اندر گھٹن محسوس ہو رہی تھی ۔۔ اس نے چہرے سے شال ہٹا دی ۔۔
آہل کا ہاتھ نا چاہتے ہوے بھی لایٹ آن کی بٹن کی طرف بڑھ گیا پورے گاڑی میں روشنی کا چوکا چوند ہو گیا ۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں مرش سرفراز احمد ۔۔۔ آہل شاہ آفندی کی نظریں ملی ۔۔
آہل شاہ آفندی مرش کو اس طرح دیکھ رہا تھا گویا اس سے پہلے کبھی لڑکی دیکھی ہی نہیں ۔۔
اتنے ندیدے پن سے کیوں دیکھ رہے ہو ۔۔
مرش شال کو اپنے ارد گرد اچھے سے لپیٹتی ہویی بولی ۔۔
شاید آپ مجھے اچھی لگ گی ہے ۔۔ آہل کی زبان بے ساختا پھسلی ۔۔۔
کک ۔۔۔کیا مطلب دیکھو مسٹر میں اکیلی ہوں تو اس کا یے مطلب نہیں تم مجھ سے پ
فری ہوگے ۔۔کچھ بھی تھا ۔۔
ان سب کے دوران آہل کے خیال سے بلکل نکل گیا تھا اس نے بریرہ کو بھی پک کرنا ہے ۔۔
تبھی موبایل کی وایبریشن ہویی ۔۔ آہل نے ایک ہاتھ کے سہارے سے اسٹیرنگ سمبھالتا دوسرے ہاتھ سے کال اٹینڈ کی ۔۔
بھایی آپ کہاں رہ گے ہے ۔۔ میں آپ کا کب سے انتظار کر رہی ہوں ۔۔”””” دوسری جانب سے بریرہ کی پریشانی سے ڈوبی حالت میں آواز آیی ۔۔۔!!
اوہ ۔۔ ایم سوری میری (جان) ۔۔۔۔ ذہن سے بلکل نکل گیا تھا ۔۔
جان “””” ۔۔۔ اس الفاظ کو سنتے ہی مرش کے دونوں کان کھڑے ہو گے ۔۔
دراصل ایک مصیبت میں پھنس گیا ہوں ۔
۔ آہل شاہ آفندی “مصیبت” کا الفاظ دہراتے ہوے مرش پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی ۔۔
لفنگا ۔۔ نا جانے کتنی بے چاری معصوم لڑکیوں کو پھنسا کر رکھا ہے ۔۔۔ مرش کے ذہن تیزی سے چلنے لگا تھا ۔۔۔
یو ڈونٹ وری ۔۔میں بس پانچ منٹ کے اندر فارس کو آپ کے پاس بھیج رہا ہوں ۔۔
مرش دھیرے۔۔۔ دھیرے پوری جوڑ توڑ کوشش کرتی آہل کے کان سے لگے موبایل کی طرف اپنا کان لایی ۔۔ دوسری جانب سے آتی آواز مرش سننے کے لیے بے چین تھی۔۔۔۔
بھایِی پلیز جلدی بھیجیں میں انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔
اوکے ۔۔ جسٹ ٹو منٹ ۔۔ آہل بریرہ کو تسلی دیتا موبایل کان سے ہٹایا ۔۔
۔۔۔۔۔ یے کیا حرکت ہے ؟؟؟ ۔۔ مرش کی چوری پکڑی جا چکی تھی ۔۔
کک کون سی حرکت ۔۔۔۔ تمہیں کیا لگ رہا ہے میں تمہاری باتیں سن رہی ہوں ۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ۔ دراصل میں کسی کی باتیں سنتی ہی نہیں ۔۔ یے سب میری عادت نہیں ہے ۔۔ “””” ۔ مرش اپنی صفایی میں کچھ زیادہ ہی بول گی تھی ۔۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ ۔۔۔ میں نے یے کب کہا آپ میری باتیں سن رہی ہے ۔۔۔
آہل موبایل اسکرین پر نظریں ہٹا کر مرش کے چہرے پر مرکوز کرتا ہوا بولا ۔۔
!!!۔۔۔۔ضروری نہیں ہر بات کہی ہی جاے کچھ باتیں سوچی بھی جا سکتی ہے ۔۔
مرش نظریں چراتی ہویی بولی ۔۔
ان سب کے دوران مرش راستا بھی گایڈ کراتی جا رہی تھی ۔۔۔
ویسے مجھے لگ نہیں رہا تھا ۔
۔ آپ میری باتیں سن رہی ہے ۔۔۔
مجھے یقین تھا ۔۔۔
آپ میری باتیں سن رہی ہے ۔۔۔
آہل شاہ آفندی کے سرخ ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ رینگ گیی تھی ۔۔۔۔
مرش نے خاموش ہی رہنے میں عافیت سمجھی ۔۔۔۔
مرش کو لاجواب کرتا آہل فارس کو کال ملانے لگا ۔۔۔۔
