Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
فارس تم ؟؟ بریرہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
آ۔ ۔ وہ ۔۔ فارس کے منھ سے سارے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے ۔ ۔
بریرہ نے فارس کے ہاتھ سے موبایل جھپٹ لیا ۔۔
جان بریرہ ۔۔!!!! ۔ اسکرین پر چمکتا اپنا نام دیکھ کر بریرہ کی سدھ بدھ کھو گیی تھی ۔۔
میں جانتا ہوں بریرہ مجھ سے غلطی ہو گی لیکن میرا یقین کرو میں تم سے بے پناہ محبت کرتا ہوں ۔۔ میں خود پر قابو نہیں رکھ سکا ۔۔ فارس نے آج اپنی محبت کا اقرار زبانی کر ہی دیا ۔۔
فارس تم ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔ بریرہ کے اوپر آسمان ٹوٹ پڑا تھا ۔۔
جانتا ہوں میں نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے ایسا میں نے جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ غلط تھا ۔۔ کیوں کی میں ڈرتا تھا آہل میرا دوست ہے وہ مجھ خود سے بھی زیادہ بھروسہ کرتا ہے ۔۔۔
لیکن میں اس کا بھروسا نہیں توڑنا چاہتا تھا ۔۔ فارس کی آواز افسردگی سے بھر پور تھی ۔۔
لیکن تم نے وہ بھروسہ توڑ دیا ۔۔ بریرہ نے دل شکشتہ نظروں سے فارس کو دیکھ کر کہا ۔۔
میری بات سنو بریرہ میں تم سے واقعی محبت کرتا ہوں بہت بے بس ہو گیا تھا میں تم مجھے پہلی ہی نظر میں بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔۔ لیکن میں معافی چاہتا ہوں میں اب کبھی میسیج نہیں کروں گا ۔۔۔ فارس کی آنکھوں مے اداسی صاف نمایاں تھی ۔۔ اس نے دل تھام کر ایک ایک لفظ کہا ۔۔
تم ۔۔ بریرہ کی سمجھ مے نہیں آ رہا تھا وہ کیا بولے ۔۔ اور تیزی سے دوڑتی ہویی اند بھاگ گیی ۔۔ فارس خالی خالی آنکھوں سے بریرہ کی پشت ہی دیکھتا رہ گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جسارت دل دکھانے کی کہاں سے سیکھ لی تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روایت آزمانے کی کہاں سے سیکھ لی تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرش گھر پہنچ چکی تھی اس کے اندر کسی کا سامنہ کرنے کی ہمت نہیں تھی دوڑتے ہوے وہ اپنے کمرے میں آ گیی تھی ۔ دروازے کو اندر سے تیز آواز میں بند کر لیا اس کی سسکیاں سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہی۔۔ مرش کے جیسے ہاتھ پاوں پھول گیے تھے ۔۔ اسے اپنے چاروں طرف آہل شاہ آفندی کے الفاظ سنایی دے رہے تھے ۔۔ اس کا جسم بے جان سا ہو گیا تھا ۔۔
مرش ؟ باہر سے فایزہ بیگم نے مرش کو آواز لگایی ۔۔ دروازہ تو کھولو مرش !!
امی !! مرش ایسی حالت میں فایزہ بیگم کے سامنے نہیں جا سکتی تھی اسے ڈر تھا فایزہ بیگم اس کی ایسی حالت دیکھ کر کویی سوال نہ پوچھ بیٹھے ۔۔
امی بس آ رہی ہوں ۔۔ اندر سے مرش کی آواز آیی ۔۔
جلدی آو تمہارے بابا پوچھ رہے ہے تمہارا ۔۔ فایزہ بیگم واپس جا چکی تھی ۔۔
مرش نے کپڑا چینج کیا اور اپنا حولیہ درست کر کے کمرے سے باہر آیی ۔۔
اسلام علیکم بابا ۔۔ مرش نے زبردستی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوے سلام کیا ۔۔
کیسا رہا فنکشن ۔۔ جاوید صاحب نے مرش کے سلام کے سلام کا جواب دے کر سوال کیا ۔۔۔
بہت اچھا ۔۔میں نے خوب انجوے بھی کیا ۔۔ مرش نے یکدم صاف جھوٹ بولا ۔۔
کچھ دیر کی گفتگو کے بعد مرش نے بات کرنے کی تہمید باندھی ۔۔ اس کے سارے لفظ بے جوڑ تھے ۔۔
بابا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔ مرش نے زمین پر ایک ٹک دیکھتے ہوے کہا ۔۔
کیا ہو گیا ہے مرش سب ٹھیک تو ہے نہ ۔۔ فایزہ بیگم نے تفتیش سے کہا ۔۔
جی ۔۔ کیا ہونا ہے امی سب ٹھیک ہے ۔۔ مرش نے جواب دیا ۔۔
بابا میں شادی کے لیے تیار ہوں میں نے بہت سوچا اور آخر کار میں نے فیصلہ کر ہی لیا مجھے شادی کر لینی چاہیے امی سہی کہتی ہے بیٹیاں جتنی جلدی اپنے گھر کو رخصت ہو جاے اچھا ہوتا ہے ۔۔۔ مرش کا دل ہی جانتا تھا وہ کسی اذیت سے گزر رہی تھی ۔۔۔
یے تو اچھی بات ہے ۔۔ فایزہ بیگم نے خوش ہو کر کہا ۔۔
مجھے خوشی ہویی مرش آپ کا یے فیصلہ سن کر ۔۔ سرفراز صاحب کو بھی مرش کا کیا گیا فیصلہ پسند آیا تھا ۔۔
کل جس رشتے کے لیے میں نے انکار کیا تھا مجھے اب احساس ہو رہا میں نے غلط کیا تھا ۔۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے ۔۔ مرش کی آنکھوں سے آنسوں بس گرنے ہی والا تھا ۔۔ لیکن اسے یے قربانی دینی تھی اسے اپنی معصوم دوستیں بہت عزیز تھی ۔۔
ہاں میں تو سوچ رہا تھا اتنے بڑی کمپنی کے مالک اتنے بڑے بزنیس مین ہمارے گھر رشتہ لے کر آے ہماری تو خوش قسمتی ہے ۔۔۔ سرفراز صاحب جاوید شاہ آفندی کے بارے میں جان چکے تھے ان کا معیار کتنا اونچا ہے ۔۔
بابا آپ ابھی فون کر کے ان سے کہہ دے مرش تیار ہے ۔۔ میرے خیال سے انہیں زیادہ انتظار نہیں کروانا چاہیے ۔۔ مرش کے الفاظ اس کا ساتھ چھوڑ رہے تھے دل مے ایک کراہ سی اٹھی ۔۔
ٹھیک ہے صبح بات کرتا ہوں ۔۔ سرفراز صاحب نے اطمینان سے جواب دیا ۔۔
نہیں ۔۔ مرش کی زبان سے نہیں کا لفظ بے اختیار نکلا ۔۔۔
میرا مطلب ہے نہیں آپ اسی وقت بات کر لے نہ اچھا رہے گا نیک کام دیری کیسی ۔۔ آپ بات کر لیں بابا میں نہیں چاہتی میں کسی کو انتظار کراوں ۔۔ مرش نے چور نظروں سے سرفراز صاحب کی طرف دیکھتے ہوے کہا ۔۔
ہاں کر لیں نہ انہوں نے کہا بھی تھا وہ مرش کے فیصلے کے منتظر رہے گے ۔۔ فایزہ بیگم نے بھی ہاں میں ہاں ملایی ۔۔
صاحب جی کھانا لگ گیا ہے نیچے سب آپ کا انتظار کر رہے ہے ۔۔۔ کسی ملازم نے آ کر کھانا لگنے کی آہل کو اطلاع دی ۔۔
آتا ہوں ۔۔ آہل نے آستین فولڈ کرتے ہوے کہا ۔۔
جی ۔۔ ملازم واپس جا چک تھا ۔۔۔
السلام علیکم ۔۔ آہل نے نہایت دھیرے سے سلام کر کے چیر پر بیٹھ گیا ۔۔ پوری ٹیبل خانے پینے کے چیزیں بہت ہی نفاست سے لگی تھی ۔۔۔
کیسے ہو ۔۔ جاوید صاحب نے آہل سے پوچھا ۔۔
فاین ۔۔! آہل نے جواب دیا ۔۔
اب بھی ناراض ہو ۔۔ آہل نے بریرہ سے پوچھا کیوں کی اس واقعے کے بعد بریرہ نے آہل سے بول چال بند کی تھی ۔۔
نہیں ۔۔کب تک ناراض رہ سکتی ہوں آپ سے ۔۔ بریرہ نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔
خانے کے دوران ہی جاوید شاہ آفندی کے موبایل پر رنگ ہویی ۔۔
ایک پل کے لیے آہل بھی ان کی آیی ہوی کال پر اپنا دھیان خود متوجہ کیا ۔۔
اسلام علیکم جاوید صاحب کیسے ہیں آپ ؟؟ سرفراز نے سلام کرنے بعد ان کی خیریت دریافت کی ۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔ جاوید صاحب کو ایک انجانی سی خوشی ہو رہی تھی ۔۔
سلام دعا کے بعد سرفراز صاحب اپنے مقصد پر آے ۔۔
آہل کی آنکھوں مے غرور صاف دکھ رہا تھا اس کی شاطر مسکراہٹ معنی خیز تھی ۔۔
دراصل مرش شادی کے لیے تیار ہو گیی ہے اس کی مرضی مکمل طور پر ہے ۔۔ اس لیے میں نے آپ کو کال کی ہے میرے خیال سے آپ لوگ انتظار کر رہے تھے ۔۔ سرفراز صاحب نے نپے تلے انداز مے بات کی ۔۔
ہاں ۔۔ ہاں ہماری مکمل مرضی ہمیں بہت خوشی ہویی آپ کے اس فیصلے سے ۔۔ جاوید صاحب کی خوشی انگ انگ سے چھلک رہی تھی ۔۔ ہم کل ہی مل کر کویی فیصلہ کرتے ہے ۔۔۔ جاوید صاحب نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔ تو ٹھیک ہے پھر کل بات ہوتی ہے ۔۔ کال ڈیسکنیٹ ہو چکی تھی ۔۔
کس کی کال تھی ۔۔ آہل بخوبی جانتا تھا کال کس کی ہے ۔۔ لیکن پھر بھی انجان بننا اس کا فرض تھا ۔۔
سرفراز صاحب کی بتا رہے تھے مرش تیار ہو گیی ہے شادی کے لیے ۔۔جاوید شاہ آفندی خوب جانتے تھے مرش کیوں تیار ہویی ہے ضرور ان سب مے آہل کا ہاتھ ضرور شامل ہے ۔۔ لیکن کچھ بھی تھا ۔۔ انہیں مرش کا فیصلہ بہت پسند آیا تھا ۔۔
بریرہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔۔ مرش شادی کے لیے تیار ہو گیی ہے ۔۔ بابا یہاں پر مرش کا کیا ذکر ۔۔ ؟؟ ۔۔
تمہارا بھایی تمہاری فرینڈ مرش سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔ اسی کے رشتے کی بات ہو رہی ہے ۔۔ جاوید نے بریرہ کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔
کیا ؟؟؟؟؟ بھایی مرش سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔مجھے تو اس بارے مے کچھ پتہ ہی نہیں ۔۔
ابھی کل ہی تو ہمیں خود بتایا ہے اس نے ۔۔ جاوید شاہ آفندی نے آہل کر طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ۔۔
آپ دوبارہ سے کال کرے انہیں ۔۔ آہل نے موبایل کی طرف اشارہ کرتے ہوے جاوید شاہ آفندی سے کہا ۔۔
کیوں ؟؟ جاوید شاہ آفندی نے تھوڑا حیرت سے آہل کو دیکھا ۔۔
میں نکاح کرنا چاہتا ہوں کل !! آہل نے بے فکری سے کہا ۔۔
نکاح ؟؟ ۔
اتنی جلدی تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔۔ جاوید صاحب کو آہل کا اس طرح سے فیصلہ کرنا سخت زہر لگتا تھا ۔۔
میں کہہ رہا ہوں نہ آپ کال کرے نکاح میں جلد از جلد کرنا چاہتا ہوں ۔۔ آہل کو کویی فرق نہیں پڑتا تھا مقابل کا کیا رییکشن ہے ۔۔
ہر فیصلہ تمہاری مرضی سے نہیں ہوگا آہل ۔۔ جاوید شاہ آفندی نے آواز میں سختی لاتے ہوے کہا ۔۔
آپ مجھے مجبور کر رہے ہے ۔۔ آپ کال کر رہے ہے یہ میں کرو ۔۔
کریں نہ ہو سکتا ہے وہ تیار ہی ہو جاے ۔۔ مریم شاہ آفندی نے جاوید شاہ آفندی کو سمجھاتے ہوے کہا ۔
جاوید شاہ آفندی مجبور تھے انہیں ڈر تھا کی کہیں آہل کچھ اور نہ غلط کر دیں ۔۔
کرتا ہوں ۔۔ جاوید شاہ آفندی نے غرراتے ہوے کہا ۔۔
سرفراز صاحب اگر آپ کو کویی اعتراض نہ ہو تو کیا ہم کل نکاح کی رسم ادا کر لیں دراصل میں میں کچھ دنوں کے لیے بیرونی ملک جا رہا ہو ۔۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کیوں نہ اس فرض کو کل ہی ادا کر دیا جاے ۔۔ جاوید شاہ آفندی نے بہت تحمل سے بات کی ۔۔
کل ؟؟ ۔۔ ہم لڑکی والے ہے کل ساری تیاریاں کیسے ہو سکتی ہے اور اتنی بھی کیا جلدی ہے میرے خیال سے ہمیں آرام سے فیصلہ کرنا چاہیے ۔۔
بابا میں تیار ہوں ۔۔ آج نہیں تو کل آپ نے کرنا ہی میں تیار ہوں مجھے کویی اعتراض نہیں ہے ۔۔ نکاح ہی تو کرنے کے لیے کہہ رہے ہے ۔۔۔ مرش دھڑکن بہت دھیمی ہو گی تھی ۔۔ نہ چاہتے ہوے بھی اسے وہ سب کرنا پڑ رہا تھا جس مے اس کی مرضی کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا ۔۔
ہم بہت سادگی سے نکاح کرنا چاہتے ہے ۔۔ اور رخصتی ایک ہفتے بعد کر لیں گے ۔۔۔ جاوید شاہ آفندی کسی بھی طرح سے سرفراز صاحب کو قایل کرنا چاہتے تھے ۔۔۔
ٹھیک ہے ہم تیار ہیں ۔۔ سرفراز صاحب نے آخر ہاں کر ہی دی تھی ۔۔ جب سب کی مرضی شامل تھی تو انہیں سب کچھ مناسب لگ رہا تھا ۔۔
مرش کے رخسار سے دو دو موتی ٹوٹ کر گالوں کو بھگو دیے تھے . ۔۔
