50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

صبح میں پرندوں کی چہچہاہٹ شروع ہو چکی تھی ہلکی دھوپ کی کرن آہل شاہ آفندی کے کمرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔
آہل کی آنکھ اپنے مقرر وقت کے مطابق کھلی تھی اپنے بازوں پر اسے کسی نرم ملایم ہاتھ کی تپش محسوس ہویی اس ذرا ترچھی نظر کر کے دیکھا تو مرش اس سے بس کچھ فاصلے پر تھی دوپٹہ آدھا سینے پر آدھا زمین پر رقص کر رہا تھا ۔۔ ایک ہاتھ سینے کے نیچے رکھا تھا دوسرا آہل کے کاندھے پر تھا ۔۔
صدقے !! آہل کے لبوں پر بے حد خوبصورت مسکراہٹ مچل گیی اس نے ہاتھ بڑھا کر مرش کا ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔ مرش کو اپنے ہاتھ پر کسی کی کے انگلیوں کے لمس محسوس ہوے اس نے فورن آنکھ کھول کر دیکھا آہل اس کے اوپر تھوڑا سا جھکا ہوا تھا ۔۔
گھٹیا انسان کیا کر رہے ہو تم میرے سونے کا فایدہ اٹھا رہے ہو ۔۔ مرش ایک لمحہ لگا تھا سب کچھ سمجھنے میں ۔۔
گڈ مارنگ میسیز آہل ! آہل اب بھی اس کے اوپر یوں ہی جھکا ہوا تھا ۔۔۔
دیکھو دور رہو مجھ سے ۔ مرش اپنے دونوں ہاتھوں سے آہل کو پیچھے کی اور دھکا دینے کی جوڑ توڑ کوشش کر رہی تھی لیکن آہل مجال ہے جو ٹس سے مس بھی ہو ۔۔
ویسے مجھے نہیں پتہ تم راتوں رات مجھ سے رومینس بھی کرتی ہو ۔۔ آہل اس کی زلفوں کو کان کے پیچھے لے جا کر مسکرا کر کہا ۔۔
کیا مطلب تمہارا ؟مرش کی دماغ میں فورن خطرے کی گھنٹی بجی تھی ۔۔
اب جھوٹ نہ بولو تمہارا ہاتھ میرے کاندھے پر کیا کر رہا تھا میرے خیال سے تم رومینس کرتے کرتے سو گیی تھی ۔۔ آہل نے لفظ رومینس پر زور دیتے ہوے کہا۔
تمہیں لگتا ہے میں نے جان بوجھ کر تمہارے اوپر ہاتھ رکھا تھا ۔۔ مرش ابھی بات کی تحقیق کر رہی تھی کیوں کی اس کی سمجھ سے باہر تھا آہل اس وقت کہہ کیا رہا ہے ۔
آف کورس ۔۔ آہل اس کے اوپر سے ہٹتا ہوا بے فکری سے بولا ۔۔
مجھے تو لگتا ہے تم نے زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے اوپر رکھا ہوگا ویسے بھی تم تو ہو ہی گھٹیا ۔۔ مرش نے نظریں چراتے ہوے سارا الزام آہل کے سپرد کر دیا ۔۔
ہا ہا ہا ۔۔ الزام تراشی کرنا کویی تم سے سیکھے ۔۔ آہل مرش کا مزاق یوں اڑا رہا تھا جیسے اس سے زیادہ آج سے فنی بات کبھی ہویی ہی نہیں ۔۔
ہاں تو غلطی سے گیا ہوگا میرا ہاتھ تمہیں زیادہ خوشفہمی پالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ مرش نے آخر اپنا جھوٹ قبول کر ہی لیا تھا ۔۔
کاش ایسی گستخای ہر روز ہوجان مزا ہی آ جاے گا ۔۔ آہل دل پر ہاتھ رکھ کر مزے سے بول رہا تھا ۔۔
اپنی بکواس بند کرو ۔۔ مرش نے کھا جانے والی نظروں سے آہل کو دیکھا ۔۔
ٹھیک ہے جیسا تم کہو ۔۔۔۔ آہل شریر مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھ گیا واڈروب کھول کر ابھی وہ ٹاول ہاتھ میں لیے اندر کطچھ کھنگال رہا تھا عین اسی وقت مرش پر سے کودنے والے انداز میں نیچے اتری ۔آہل حیرت زدہ نظروں سے مرش کی بیوقوفی دیکھ رہا تھا آخر یے کر کیا رہی ہے ۔۔
مرش کی ہاتھ تیزی سے کام کر رہے تھے اس کا ارادہ تھا آج وہ پہلے شاور لے گی ہمیشہ آہل شاہ آفندی لیتا ہے لیکن آج وہ اس کی جیت ہوگی ۔۔
یے کیا سمجھتا ہر کام میں یے سب سے پہلے رہے گا ہمم ۔۔مرش ایک اچڑتی نگاہ آہل پر ڈال کر سوچ رہی تھی ۔۔
تم ٹھیک تو ہو ۔۔ آہل اس کے آنکھوں کے سامنے اپنا ہاتھ لہرا کر پوچھ رہا تھا ۔۔
مجھے کیا ہونا ہے میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔ مرش سرسری سا جواب دے کر جلدی جلدی اپنی ضرورت کی چیز ہاتھ میں لے رہی تھی ۔۔
اس پہلے کی مرش واشروم کی جانب اپنے قدم بڑھاتی آہل اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا ۔۔ اوہ تو یے معاملہ ہے ۔۔ آہل کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گیی تھی ۔۔
آہل نے فورن اپنے قدم واشروم کی جانب بڑھاے لیکن اس سے پہلے آہل اندر جاتا مرش اس کے راستے میں آ کر کھڑی ہو گیی ۔۔
آگے سے ہٹو مجھے شاور لینا ہے ۔۔ آہل نے تھوڑی سختی دکھانی چاہی ۔۔
آج میں پہلے شاور لوں گی سمجھے ۔۔ مرش دونوں بازوں سینے پر باندھے دو ٹوک لہجے میں بولی ۔۔
میں پہلے لوں گا شاور مجھے آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہے ۔۔ آہل ایک ایک چباتے ہوے کہا ۔۔
پہلے میں لوں گی ۔۔
پہلے میں لوں گا ۔۔
اوہ بریرہ دروازے پر کیوں کھڑی اندر آو ۔۔مرش سایڈ سے گردن نکال کر آنکھیں پٹپٹا کر ایکٹنگ کرنے میں مگن تھی ۔۔
بریرہ ۔۔آہل بغیر کچھ سوچے سمجھے پیچھے کی اور مڑا جہاں بریرہ تو دور بریرہ کا نام و نشان نہیں تھا ۔۔
ہا ہا ہا ۔دیکھا آج میں جیت گیی مسٹر آہل ۔۔ مرش قہقہ مار کر ہنستے ہوے فورن واشروم میں گھس گیی ۔۔
ایک لمحے میں آہل کو سمجھ آ گیا تھا مطلب وہ فول بنایا گیا ہے ۔کویی بات نہیں مرش میڈم جیت کس کی ہویی ہے یے اندازہ نہیں ہے تمہیں ۔۔ آہل نے ایک نظر بند دروازے پر ڈالی اور واپس صافے پر آ کر بیٹھ گیا ۔۔
آہل ۔۔۔ اندر سے مرش تیز تیز آواز میں آہل کو پکار رہی تھی اس لیے کی دیکھوں ہے کی نہیں بے چارہ کہیں چلا ہی نہ گیا ہو ۔۔
آہل ۔۔ اپنا نام آہل کو بہ خوبی سنایی دے رہا تھا لیکن اس کا تو ارادہ ہی کچھ اور تھا ۔۔ بنا کچھ بولے وہ اسی طرح بیٹھا ہوا تھا ۔۔
شکر ہے چلا گیا بے چارہ آج اسے پتہ چل گیا ہوگا آخر مرش بھی کویی چیز ہے ۔۔ اتنی ہی دیر میں مرش اپنی تعریف کے حوالے سے ایک سو ایک ناموں سے نواز چکی تھی خود کو ۔۔
براون کلر کا کپڑا زیب تن کیے وہ حد سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی ۔بالوں سے گرتی ننھی ننھی بوندیں اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی ۔۔
آہستہ آہستہ دروازہ کھول کر تھوڑی سے گردن باہر نکال کر دیکھا ایک بار خود کو تسلی بھی تو دینی تھی آہل شاہ آفندی واقعی روم سے باہر چلا گیا ۔۔۔
یہ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے چلا گیا ۔۔ مرش کے لبوں سے شریر مسکراہٹ ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔
لیکن یے کیا یے تو آہل شاہ آفندی تھا جو جن کی طرح اس کے سامنے حاضر ہوا تھا وہ بھی بغیر شرٹ کے اس کا کسرتی مضبوط سینہ صاف نظر آ رہا تھا ۔۔
مرش کی سانس اوپر کی اوپر نیچے کی نیچے ہی اٹکی رہ گیی ۔۔ آنکھیں پھاڑے وہ اپنے سامنے کھڑے شخص کو ایک ٹک دیکھ رہی تھی ۔ ۔
ت۔۔ت۔ ۔تم گیے نہیں تھے کیا ۔۔ مرش نے خشک پڑتے گلے کو تر کرتے ہوے پوچھا ۔۔
ہششش۔ ۔ آہل مرش کے کپکپاتے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھ کر تھوڑا اور آگے بڑھا ۔۔
آ۔ ۔ آ۔ ۔آہل وہ میں تو بس مرش نے فورن آہل سے دو قدم پیچھے ہویی ۔۔
بیوٹیفل ۔۔ آہل کی انگلی ابھی بھی مرش کے لبوں پر تھی ۔آہل دھیرے دھیرے مرش کی اور اپنا قدم بڑھا رہا تھا ۔۔ اس کے بر عکس مرش اپنے قدم پیچھے کی اور لے جا رہی تھی ۔۔
آہل پلیز جانے دو ۔۔ مرش آہل شاہ آفندی اتنے قریب تھی کی اس کے لو دیتے اشاروں کو بہ خوبی سمجھ رہی تھی ۔۔
پیچھے جانے کا راستہ ختم ہو چکا تھا مرش کا دیوار سے جا لگا اس نے فورن اس جگہ کو آنکھیں گھما گھما کر دیکھا یے کویی اور جگہ نہیں بلکی یے تو وہی واشروم تھا ۔۔
آہل پلیز مجھے جانے دو ۔۔ مرش کا ہاتھ بے ساختہ آہل شاہ آفندی کے مضبوط چوڑے سینے سے جا لگا ۔۔
جیت اس کی ہوتی ہے جس کو انجام کا خوف نہ ہو لیکن تم تو بہت ڈر رہی ہو ۔۔ آہل اس کی کمر میں اپنا بازوں حایل کرتا خود سے اور بھی قریب کر لیا ۔۔
وہ ۔۔وہ م۔۔میں نے صرف مزاق کیا تھا ۔۔ مرش بہ مشکل اپنا جملہ مکمل کر رہی تھی ۔۔
مجھے مزاق پسند نہیں ہے جان ۔۔ آہل نے اس کے کانوں میں دھیرے سرگوشی کی۔۔
وہ دونوں عین شاور کے نیچے کھڑے تھے ۔۔ آہل نے ایک ہاتھ بڑھا کر ٹیپ کو گھمایا ۔۔۔ اچانک ٹھنڈا یخ پانی زورو شور سے نیچے گر کر ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔ سانسوں کو جینے کا اشارہ مل گیا
۔۔۔۔ڈوبا میں تجھ میں تو کنارہ مل گیا
۔۔۔ تو ملا تو خدا کا سہارا مل گیا
۔۔۔۔ غم زدہ ” غم زدہ ” دل یے تھا غم زدہ

مرش کا پورا وجود پانی سے گیلا ہو چکا تھا ۔۔اس کے جسم کے باقی حصے صاف نمایاں ہو رہے تھے ۔۔۔ آہل نے ہاتھ بڑھا کر ٹیپ بند کر دیا سایڈ میں ہینگ کیا ٹاول مرش کی جانب اوچھال دیا ۔۔ مرش نے اپنی آنکھیں آہستہ آہستہ کھولی جہاں آہل شاہ آفندی ٹاول کے ذریعے ہلکے ہلکے اپنے بالوں کو سکھا رہا تھا ۔۔
تم میری سوچ سے بھی زیادہ خوبوصورت ہو سویٹ ہارٹ ۔۔ آہل اس کو اوپر سے نیچے تک اپنی جازب نظروں کے حصار میں لیا ۔۔
بکواس بند کرو ذلیل انسان ۔۔۔ مرش کی آنکھوں میں آنسوں آ گیے تھے شاید اپنی بے بسی پر ۔۔
سو بیو ٹیفل ۔۔ آہل ایک آخر فقرہ مرش کی جانب اچھال کر واشروم سے باہر چلا گیا ۔۔
کچھ دیر بعد مرش واشروم سے باہر نکلی لیکن آہل کب کا جا چکا تھا ۔۔ آینے کے سامنے کھڑے ہو کر وہ اپنے گیلے بالوں کو سلجھا رہی تھی جبھی اس کے موبایل کی میسیج رنگ ہویی ۔۔
مرش نے برش رکھ کر موبایل ہاتھ میں اٹھایا سامنے نیو نمبر سے میسیج پوری آبوتاب سے چمک رہا تھا ۔۔
گڈ مارنگ ۔۔ مرش نے میسیج دہرایا ۔۔
کون ؟ مرش نے ذہن میں آتے سوال کو موبایل پر تحریر کر کے سینڈ کیا ۔۔
جان من تمہارا بہت قریبی !! جواب فورن موصول ہوا ۔۔
گھٹیا انسان کون ہو تم ۔۔مرش نے غصے سے ٹایپ کر کے پوچھا ۔۔
لیکن اب جواب ندارد تھا ۔۔ مقابل آف لاین ہو چکا تھا ۔۔
مرش نظر انداز کر کے پھر سے


گڈ مارنگ ۔۔ آہل تیار ہو کر ہر روز کے مطابق آج بھی آہستہ سے گڈ مارنگ کرتا چییر پر بیٹھ گیا ۔۔
گڈ مارنگ ۔۔ سب نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔
کالج جانا ہے تمہیں ؟؟ آہل اب بریرہ کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
جی بھایی جانا ہے ۔۔ بریرہ نے ہاں میں گردن ہلایی ۔۔
اوکے ۔۔ آہل پھر سے ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔۔
اسلام علیکم مام ڈیڈ اینڈ مایی بیسٹ فرینڈ ۔۔مرش بریرہ کے گلے کر خوشی سے چہکی ۔۔
وعلیکم اسلام بیٹا ۔۔ مریم بیگم جاوید صاحب نے خوشی خوشی جواب دیا ۔۔
مرش نے ایک اچٹتی نظر آہل پر ڈالی جو بغیر کسی کی طرف دیکھے ناشتے میں مصروف تھا ۔۔
ڈیڈ ؟؟ مرش نے جاوید صاحب کو مخاتب کیا ۔۔
جی بیٹا ۔۔
میں کالج جانا چاہتی ہوں ۔۔ مر۔ش نے آخر وہ بات اپنی زبان پر لے ہی لایی جس کو کیی روز سے سوچے بیٹھی تھی ۔۔
ہاں تو مسلہ کیا ہے ! آپ جاو ضرور ۔۔ جاوید صاحب نے اپنی طرف سے پوری اجازت دے دی تھی اس کو سوچے بغیر آہل کا کیا رییکشن ہوگا ۔۔
آہل کا گلاس کی طرف بڑھتا ہاتھ فورن رک گیا ۔۔ دل کر رہا تھا مرش کے گال پر ایک دو تھپڑ رسید کر دے ۔۔
جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا اب چپ چاپ گھر بیٹھو ۔۔ آہل نے مرش کو گھور کر اپنے اپنے ہونے کا یقین دلایا ۔۔
لیکن میں پڑھنا چاہتی ہوں ڈیڈ ۔۔مرش آہل کو یکسر نظر انداز کر کے جاوید صاحب سے مخاتب ہویی ۔۔
اس کی پڑھایی مکمل تو ہو جانے دو آہل بیچ میں پڑھایی چھوڑ کر کیا فایدہ ۔۔ جاوید صاحب مرش کی حمایت میں بولے ۔۔
اور پڑھ کر کیا فایدہ ہے جب ایک بار کہہ دیا نہیں پڑھنا تو نہیں پڑھنا میں بحث کرنے کا قایل نہیں ہوں ۔۔ آہل نے اپنی سرد آواز کے ساتھ مرش کو ایک ایک لفظ سے باور کرایا ۔۔
آہل تم آفس چلے جاتے ہو بریرہ کالج آخر مرش گھر میں بیٹھ کر کیا کرے گی بور ہو جاتی ہے میں چاہتا ہوں تم دونوں ہنی مون پر جاو مرش کو اپنا وقت دو تھوڑا ۔۔ جاوید صاحب نے بڑے تحمل کے ساتھ آہل سے کہا ۔۔
ہنی مون پر ہمیں کب جانا ہے یے میں خود ڈیسایڈ کر لوں گا فلحال میرا کویی موڈ نہیں ہے جانے کا اور تم اپنی فضول کی خواہشات کو قابو میں رکھا کرو ۔۔ آہل چییر سے اٹھ کر مرش کو کھا جانی والی نظروں سے گھورا ۔۔
چلو بریرہ ۔۔ آہل باہر جا چکا تھا پیچھے اس کے اپنے کن نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے اسے اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں تھی ۔۔


ارے واہ آج تو عید کا چاند نظر آیا ہے ۔۔فارس آہل کو پورے دو دن بعد دیکھ رہا تھا ۔۔
سدھرے گا نہیں تو ۔۔ آہل اس کے پیٹھ پر ایک زور دار کک مارتا چییر پر بیٹھ گیا ۔۔
آج کیسے آفس آ گیا مجھے تو لگا تھا آج بھی تو نظر نہیں آنے والا ۔۔ فارس نے مسکراتے ہوے اس کا مزاق اڑایا ۔۔
بریرہ کو کالج ڈراپ کر کے سیدھا یہی پر آ گیا ہوں اگر تجھے پتہ ہو تو میں کل بھی آیا تھا لیکن تو دو دن سے عید کا چاند بن کر بیٹھا ہے ۔۔ آہل ایک ایک کر کے سارا حساب کلییر کیا ۔۔
یار بھابھی کی کیا حال ہے تیرے تو مزے ہی مزے ہونگے ۔۔ فارس نے آنکھ مار کر آہل کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔
بس ٹھیک ہی ہے تیری بھابھی ۔۔ آہل کی آنکھوں کے سامنے مرش کا غصہ کرتا چہرہ لہرایا ۔۔ اچانک اس کے لبوں پر مسکراہٹ نے احاطا کیا ۔۔
یار مجھے بھابھی سے ملوا اسپیشلی مجھ سے اکیلے میں ملوا آخر میں بھی تیرا کچھ لگتا ہوں ۔۔فارس نے منھ پھلاتے ہوے ایکٹنگ کی ۔۔
اچھا بابا ملوا دونگا پہلے کام تو کر لیں ۔۔ آہل فارس کو تسلی دے کر کام میں مصروف ہو گیا ۔

امی میرا آنے کا دل کر رہا ہے ۔۔ مرش فون پر فایزہ بیگم سے اپنے روم میں بیٹھ کر باتیں کرنے میں مصروف تھی ۔۔
بیٹا آہل کہہ رہا تھا وہ کام سے پھری ہو جاے گا تو تمہیں ساتھ لے کر آے گا ۔۔
کیا اس نے ایسا کہا ہے ۔۔ مرش نے حیرت سے پوچھا ۔۔
مرش یہ ” اس ” کیا ہوتا ہے ۔۔ میں نے تمہیں سمجھایا تھا نہ اس کی عزت کیا کرو شوہر ہے تمہارا ۔۔ فایزہ نے مرش کو تنقید کی ۔۔
اچھا امی سوری ۔۔مرش نے منھ بناتے ہوے معافی مانگی ۔۔
ایک تو تمہیں اتنی دنوں بعد اپنی ماں کی یاد آیی ہے تم سے زیادہ تو آہل میرا خیریت پوچھ لیتا ہے ہر روز فون کرتا ہے اللہ میرے بچے کو صحت دے ۔۔ فایزہ بیگم نے آہل کو دل سے دعا دی ۔۔
کیا ۔۔!! یے شخص کتنا رنگ بدلتہ ہے پہلے تو مجھے میرے ہی ماں باپ سے نہیں ملنے دیتا اور ان کی اتنی فکر بھی کرتا ہے ۔۔مرش کو سوچ سوچ کر حیرت ہو رہی تھی ۔۔
اچھا امی میں فون رکھتی ہوں اپنا خیال رکھیے گا بابا کو میرا سلام کہیے گا ۔۔ مرش فایزہ بیگم سے الوداعی کلمات لیتے ہوے فون بند کر دی ۔۔