Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
بریرہ بیٹا آپ یہاں کیا کر رہی آپ کی فرینڈس مجھ پوچھ رہی تھی آپ کا ۔۔۔مریم بیگم دروازے پر کھڑی بریرہ سے کہہ رہی تھی ۔۔
ج۔ ۔ج۔ ۔جی امی میں بس آ ہی رہی تھی آپ چلیں میں آتی ہوں ۔۔ بریرہ نے گلے میں اٹکی سانس کو بجال کرتے ہوے کہا ۔۔
جلدی آ جایں ۔۔مریم بیگم اٹلے قدموں واپس جا چکی تھی ۔۔
فارس اب پلیز اب مجھے جانے دو ۔۔ بریرہ نے اپنی کلایی چھڑاتے ہوے کہا ۔۔
اچھا ٹھیک ہے جاو ۔۔فارس کو آخر ترس آ ہی گیا تھا بریرہ کی بگڑتی حالت دیکھ کر ۔۔۔
بریرہ دوڑتے ہوے کمرے میں سے لمحے میں غایب ہو گیی ۔۔ فارس کچھ دیر بعد کمرے سے نکلا کہیں کسی دیکھنے والے کو شک نہ ہو جاے۔۔۔
رات کا پرگرام بہت ہی شاندار گزرا ایک ایک کر کے سارے مہمان چلے گیے ۔۔
مرش کی کمر اکڑ گیی تھی بیٹھے بیٹھے اس کا دل کر رہا تھا اڑ کر کمرے میں چلی جاے ۔۔۔ آخر اس کی خواہش کچھ دیر بعد پوری ہو ہی گیی تھی ۔۔
آینے کے سامنے کھڑے ہو وہ اپنے خوبصورت بالوں سے جھومر نکالنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ اس کے برعکس آہل لیپٹاپ پر نظریں جماے مسلسل کچھ ٹایپ کر رہا تھا جیسے اس سے ضروری اور کویی کام ہی نہیں ۔۔۔۔
آہل ۔۔ مرش آج زندگی میں پہلی بار اس کا نام پکار رہی تھی شاید مجبوری یہ کویی اور وجہ تھی ۔۔
ہمم ۔۔ آہل مصروف سے انداز میں بولا نظریں ابھی بھی لیپٹاپ پر جمی تھی ۔۔
وہ ایک بات پوچھنی تھی !! مرش کو نہ چاہتے ہوے بھی اچھے بننے کی ایکٹنگ کرنی پڑ رہی تھی ۔۔
ایک نہیں ہزاروں بات پوچھو ۔۔آہل لیپٹاپ بند کر کے سایڈ میں رکھ کر شرارت سے بولا ۔۔
وہ ۔۔وہ جو لڑکا آیا تھا جو تمہیں گفٹس دے رہا تھا ۔۔ اس کے بارے میں پوچھنا تھا ۔۔
لڑکے تو ہزاروں تھے گفٹس کی تعداد بھی کم نہیں تھی تمہیں کس کے بارے میں جاننا ہے وہ بتاو ۔۔ آہل کو بہ خوبی معلوم تھا مرش کس لڑکے کے بارے میں پوچھنا چاہ رہی تھی ۔۔
وہی جو تمہیں گفٹس دے رہا تھا تم یاد کرو اس کے چہرے پر کچھ نشانات تھے ۔۔مرش نے ذہن پر زور دیتے ہوے کہا وہ چاہتی تو علی کا نام بھی لے سکتی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں اس کا نام لینا اسے تھوڑا معیوب لگ رہا تھا ۔۔
اوہ !! تو تم اس کے بارے میں پوچھ رہی ہو پوچھو کیا پوچھنا ہے !! آہل مرش کا چہرہ بغور دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ کون تھا ؟؟؟ مرش کے منھ سے بے ساختہ الفاظ ادا ہوے ۔۔
تم ان سب سے دور ہی رہو تو بہتر ہے ہوگا ۔۔ آہل نے ناگواری سے جواب دیا تھا۔۔
میں صرف پوچھ رہی تھی سمجھے ۔۔مرش آہل کی نگاہوں سے بے حد کنفیوز ہو رہی تھی نظریں چرا کر اس نے منھ بناتے ہوے کہا ۔ ۔۔
آہل ٹایی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوے بیڈ سے اٹھا ہی تھا کی مرش کا کارنامہ دیکھ کر اسے تنگ کرنے کے لیے رک گیا ۔۔۔۔
آج اپنی ہڈییاں توڑوانے کا ارادہ ہے کیا صوفے سے گر کر ۔۔ مرش کو صوفے پر سوتا دیکھ کر آہل اپنی ابھرنے والی مسکراہٹ کو ضبط کرتے ہوے کہا ۔۔۔
تم سے مطلب میں آج کی تاریخ سے بیڈ پر نہیں سووں گی ۔۔ مرش اپنی خونخار نظروں سے آہل کو اپنا حکم سنا رہی تھی ۔۔لیکن اس کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا صوفے پر سونہ زندگی میں کبھی بھی وہ صوفے پر سونہ تو دور بیٹھا بھی نہیں کرتی تھی لیکن یہاں پر تو مسلہ ہی انہ کا تھا ۔۔
اب تم چاہتی ہو میں ہر روز تمہاری ضد کے آگے ہار کر اپنی باہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لے جا کر سلاوں ۔۔ آہل نے ہنس کر مرش کی ضد کی دھجیاں اڑا دی ۔۔۔
گھٹیا سوچ صرف تمہاری ہو سکتی ہے میری نہیں ۔۔ آہل کی بات سن کر مرش کا منھ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا تھا لیکن جلدی سمبھلتے ہوے اس نے حساب برابر کیا ۔۔
تو ٹھیک مرضی تمہاری ۔۔ آہل بے فکری سے بولتا چینج کرنے چلا گیا ۔۔
ہا ۔۔کتنا بدتمیز انسان ایک بار نہیں کہا بیڈ پر آ جاو میں خود سے تو نہیں جا سکتی مان لو ابھی میں چلی بھی گیی تو ہزاروں خوشفہمیوں میں مبتلا ہو جاے گا ۔۔۔ نہیں نہیں میں خود سے نہیں جاوں گی کبھی نہیں ۔۔۔ مرش خود سے ہمکلام ہوتی ہویی فورن گردن نفی میں ہلایی ۔۔
آہل چینج کرنے کے بعد آینے کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو پیچھے کی اور گنگناتے ہوے ترتیب دے رہا تھا ۔۔۔۔
مرش اسی اثنا میں بیٹھی آہل کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوے سوچ رہی تھی شاید ہی یے کھڑوس بندہ کہہ دے آ جاو بیڈ پر ۔۔۔
کہیں پیار تو نہیں آ رہا ہے مجھ پر جو اتنا دیکھا جا رہا ہے مجھے ۔۔ آہل کو ایک موقع مل گیا تھا مرش کو تنگ کرنے کا ۔۔۔
پیار ان کے اوپر آتا ہے جو پیار کے قابل ہوتے ہے ۔۔ اپنی چوری پکڑ جانے مرش نے فورن دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیا ۔۔۔
ہا۔ ۔ہا ۔۔ہا ایسا ہے تو پھر میں اب پوری کوشش کروں گا خود کو پیار کے قابل بنانے کے لیے ۔۔ آہل مسکرا کر کہتا بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
تم بیٹھی کیوں ہو سونہ نہیں ہے کیا ۔۔ آہل کے لہجے میں کوٹ کوٹ کر شرارت بھری تھی اس کو تو پہلے سے ہی علم تھا مرش میڈم چاہتی کیا ہے ۔
آہل میں بہت تھک گیی ہوں ! مرش کو اب یقین تھا اب آہل شاہ آفندی کہے گا آ جاو بیڈ پر ۔
تو میں کون سا تمہیں جنگ لڑنے کے لیے کہہ رہا ہوں ۔۔ آہل نے حیرانگی ظاہر کرتے ہوے کہا ۔۔
وہ ۔۔آ ۔۔میں وہ میں ۔۔ وہ میں چاہتی تھی کی تم صوفے پر جاو میں بیڈ پر ! مرش نے ہکالتے ہوے آخر اپنا جملہ جیسے تیسے پورا کر ہی لیا تھا ۔۔
کیا ۔۔ تمہیں لگتا ہے میں اتنا شریف ہوں اور رہی بات صوفے کی تو تمہارے لیے پرفیکٹ ہے آرام سے سو جاو میں بھی تھکا ہوا ہوں ۔۔۔ آہل کا جواب مرش کی سوچ سے یکدم الٹ تھا ۔۔ وہ کیا سوچ رہی تھی آہل شاہ آفندی کیا کہہ گیا تھا ۔۔۔
اپنے بازوں کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر آہل شاہ آفندی سونے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔لیکن مرش منھ کھولے اس ظالم شخص کو دیکھ رہی تھی خود تو کتنے مزے سے سویا تھا دوسروں کا ذرا بھی خیال نہیں تھا ۔۔۔
اب گھورنا بند کرو چپ چاپ آ کر سو جاو ورنہ تمہاری مرضی ۔۔ غنودگی میں ڈوبی آہل کی آواز مرش کے کانوں تک بہ مشکل پہنچی تھی ۔۔۔ ایک لمحہ ظایا کیے بغیر وہ بیڈ پر آ گیی ۔۔ تھکن کی وجہ سے اسے سخت نیند آ رہی تھی۔۔
میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں مرش نے اپنے لمبے سیاہ بال سلجھاتے ہوے آہل سے کہا ۔۔
نہیں جانے کی کویی ضرورت نہیں ہے آہل نے اپنی روبیلی آواز کے ساتھ صاف منا کر دیا تھا ۔۔
لیکن کیوں ؟؟؟؟ مرش کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔
کیوں کی میری مرضی نہیں ہے !! خود کے اوپر فرفیوم اسپرےکرتے ہوے آہل نے جانے کی وجہ صاف بتا دی ۔۔
لیکن امی نے ہمیں بلایا ہے !! مرش نے تیز آواز میں کہا ۔۔
میں آج پھری نہیں ہوں پھر کسی دن چلے گے ۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوے آہل اس کی طرف بنا دیکھے بول رہا تھا ۔۔۔
تم بزی ہو میں تو نہیں میں جاوں گی بس !!! مرش نے فیصلہ کر لیا تھا وہ جا کر رہے گی آخر یے شخص ہوتا کون ہے اسے روکنے والا اس کے اپنے ماں باپ کے گھر جانے سے ۔
میں بات دہرانے کا قایل نہیں ہوں اس لیے کان کھول کر اچھی طرح سن لو نہیں جانا تو بس نہیں جانا ۔۔ آہل کو اب غصہ آ رہا تھا مرش کی بے جا ضد پر ۔۔
میں انکل سے اجازت لوں گی تم سے نہیں ہوتے کون ہو تم مجھ پر اپنا حکم چلانے والا ۔۔ مرش نے چلاتے ہوے کہا ۔۔
مرش کا جبڑا سختی سے دبوچتے ہوے آہل اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوے ایک ایک لفظ چباتے ہوے بولا اپنی لیمیٹ کراس مت کرو مرش اور اگر تم نیچے جا کر ڈیڈ سے کویی بھی بات کی تو پھر اس کا انجام بھی سوچ کر رکھنا ۔۔۔ آہل نے غصے سے کہتے ہوے اس چہرہ دوسری طرف جھٹک دیا ۔۔
مرش کی آنکھیں آنسوں سے ڈبڈبا گیی چمکتے موتی اس کی گالوں پر ٹوٹ ٹوٹ کر برس رہے تھے ۔۔
میں نیچے جا رہا ہوں پانچ منٹ کے اندر ناشتے پر پہنچو ۔۔۔ آہل حکم دیتا کمرے سے جا چکا تھا ۔۔۔پیچھے مرش اس کی سسکیاں رہ گیی تھی ۔۔
کیا یے شخص اب مجھے میرے والدین سے بھی نہیں ملنے دے گا یا اللہ اس شخص کے کتنے روپ ہے ۔۔
اسلام علیکم !! وایٹ کلر کی شرٹ بلیک پینٹ جس کی آستین تھوڑا اوپر تک فولڈ کی گیی تھی ایک ہاتھ میں کورٹ دوسرے ہاتھ میں فون پکڑے آہل شاہ آفندی بلا شبہ کا حسین تھا ۔۔
و علیکم اسلام ٹیبل پر بیٹھے سبھی نفوس نے خوش ہوتے ہوے جواب دیا ۔۔ جیتے رہو خوش رہو ۔۔ مریم بیگم نے ڈھیر ساری دعاوں سے آہل کو نوازا ۔۔ لیکن آہل انہیں نظر انداز کرتا پانی گلاس لبوں لیا ۔۔
کچھ ہی منٹ بعد مرش ناشتے کی ٹیبل پر پہنچی سلام کر کے آہل کے بازوں میں رکھی خالی چییر پر مجبورن اسے بیٹھنا پڑا ۔۔
کیسی ہے آپ بیٹا ؟ جاوید صاحب نے فریش مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا ۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں انکل ۔۔ مرش نے بھی مسکرا کر جواب دیا ۔۔
انکل !! بیٹا آپ مجھے ڈیڈ کہہ سکتی ہے ۔۔ جاوید صاحب نے مرش کی طرف سیکھتا ہوے کہا ۔۔
جی ڈیڈ ! مرش نے مسکراتے ڈیڈ لفظ دہرایا ۔۔
مرش نے بہت ہمت کر کے بات کرنے کی سعی باندھی ۔۔
ڈیڈ ؟ مرش نے ایک نظر آہل پر ڈالی اور جاوید صاحب سے مخاتب ہویی ۔۔
ہاں بولو بیٹا ۔۔ جاوید صاحب پوری طرح مرش کی جانب متوجہ ہوے تھے ۔
امی اور بابا نے ہمیں بلایا ہے لیکن آہل تو مصروف ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو کیا میں چلی جاوں ۔۔ مرش نے ایک ایک سانس میں اپنی بات ختم کی تھی ۔۔
ارے اس میں پوچھنے والی کیا بات تم ضرور جاو ۔۔۔ جاوید صاجب نے خوش ہوتے ہوے کہا وہ بھلا مرش کی خواہش کیسے رد کر سکتے تھے ۔۔
میں نے جب ایک بار منہ کر دیا یے تو تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آیی تھی ۔۔ کب سے خاموشی سے بیٹھ کر ساری باتیں سن رہا تھا لیکن بات اب اس کی برداشت سے باہر تھی ۔۔
کیوں نہیں جاے گی اس کے ماں باپ نے اسے بلایا ہے اس کو روکنے کی کیا وجہ ہے بھلا مرش تم جاو گی ۔۔ جاوید صاحب نے بڑے تحمل کے ساتھ جواب دیا انہیں ڈر تھا سرفراز احمد کے سامنے شرمندگی کا سامنہ کہیں نہ کرنا پڑے ۔۔
میں نے کہہ دیا نہیں جاے گی ایک بات میری کان کھول کر سن لیں “”” میں اپنے رشتے میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کروں گا “””” آپ سب سمجھ جاے تو بہتر ہے ۔۔ آہل کی آواز سن کر مرش نے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔
اور تم میری اجازت کے بغیر ایک قدم بھی باہر نکالی تو مجھ سے برا کویی نہیں ہوگا ۔۔۔ آہل شہادت کی انگلی سے وارن کر کے غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا ۔۔۔
انکل امی بابا نے اتنے پیار سے بلایا تھا مجھے میں ان سے کیا کہوں گی میں نے تو یے بھی کہہ دیا تھا ہم آیں گے ۔۔ مرش نے بے حد دکھے دل سے کہا لہجے میں افسردگی صاف نمایاں تھی ۔۔۔
آپ جایں گی بیٹا ضرور جایں گی آہل تو آفس گیا ایک ضروری میٹنگ بھی تھی آج آپ ڈرایور کے ساتھ شام ہونے سے پہلے میں گاڑی بھیج دوں گا آپ تیاری کرے جانے کی ۔۔ جاوید صاحب آہل کی پرواہ کیے بغیر مرش کو جانے کی اجازت دے دیے تھے وہ مرش کو کویی دکھ نہیں پہنچانا چاہتے تھے ۔۔
تھینک یو سو مچ انکل ۔۔ مرش بے حد خوش تھی آخر اسے اجازت مل ہی گیی تھی جانے کی لیکن ایک بات اس کے خیال سے بلکل نکل گیی تھی انسان جب غلطی کرتا ہے تو اس کے لیے سزا بھی مقرر کی گیی تھی ۔۔۔
یے ڈریس تو تم پر بہت جچ رہی ہے ۔۔ بریرہ مرش کی تیاریاں دیکھ کر بولی ۔۔
بریرہ آہل کو پتہ تو نہیں چلے گا نہ ۔۔ مرش نے چاہتے ہوے بھی پوچھ لیا تھا نہ جانے اس کے دل میں خوفی بھی تھی لیکن دل کے ایک کونے میں آہل شاہ آفندی کے غصے کا ڈر بھی تھا ۔۔
بھایی کچھ نہیں کہتے مرش تم خواہمخواہ ڈر رہی ہو آرام سے جاو ویسے بھی بھایی تم سے محبت کرتے ہیں پھر وہ تمہیں کیوں ڈاٹیں گے ۔۔بریرہ نے شرارتی انداز میں کہا ۔
چپ کرو ۔۔ مرش نے بریرہ کو ڈپٹنے والے انداز میں کہا ۔
بی بی جی گاڑی تیار ہے بڑے صاحب آپ کو بلا رہے ہیں ۔۔ ملازمہ سمیرا دروازے پر نظریں جھکاے کھڑی پیغام دے رہی تھی ۔۔
بس میں آتی تم چلو ۔۔مرش نے شال اپنے ارد گرد پھیلاتے ہوے کہا ۔۔۔
گاڑی اچھے سے چلانا ۔۔جاوید صاحب برسوں پرانے ملازم کو آج پہلی بار ہدایت دے رہے تھے ۔۔
جی صاحب ! ملازم نے نظریں جھکا کر اپنے صاحب کے حکم کی تعمیل کی ۔۔
یے لو آ گیی ہماری بیٹی ۔۔ جاوید مرش کو آتا دیکھ کر بولے ۔۔
مرش گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے جاوید صاحب کے اوپر ایک نظر نہ ڈالنا نہ بھولی ۔۔۔
گاڑی گیٹ سے باہر نکل چکی تھی ۔۔ واچمین نے دروازہ بند کرتے ہی فورن کسی کو کال ملایی ۔۔۔
بولو ۔۔صاحب جی بی بی جی ابھی ابھی گھر سے باہر نکلی ہے ۔۔
اوکے ۔۔۔ فون بند ہو چکا تھا ۔۔ آہل کچھ دیر بند فون پر نظریں جماے کسی پواینٹ کو سوچ رہا تھا ۔۔
سر میٹیگ کا ٹایم ہو گیا ہے چلیں ۔۔ میسیز آفاق اپنے باس کو میٹینگ بتا کر ادب سے کھڑی تھی ۔۔
میٹینگ از کینسل ۔۔ آہل نے دانت پر دانت جما کر سرد آواز میں کہا ۔۔
بٹ سر وہ انتظار کر رہے ہے !! میسیز آفاق کی سمجھ سے باہر تھی اپنے اس کھڑوس باس کی بات جس میٹنگ کے لیے اتنے دنوں سے تیاری جاری تھی وہ ایک لمحے میں کیسے کینسل ہو سکتی ہے ۔۔
میں نے کہا میٹنگ کینسل مطلب کویی میٹنگ نہیں ہوگی ۔۔ آہل غصے سے کہتا آفس کے باہر آیا گاڑی اسٹارٹ کر کے زن دے روڈ پر دوڑانے لگا ۔۔۔
بی بی جی آ گیی آپ کی منزل ۔۔ڈرایور نے گاڑی روکتے ہوے مرش سے کہا ۔۔
ہاں بہت شکریہ آپ کا میری بات سنے اگر آہل آپ سے بھی کچھ میرے بارے میں پوچھے تو نہ بتایے گا پلیز ۔۔۔ مرش کو پورا یقین تھا آہل شاہ آفندی اسے پاتال میں سے بھی ڈونڈ سکتا ہے ۔۔
بی بی جی ہم اپنے صاحب سے کیسے جھوٹ بولیں گے ۔۔ڈرایور کو خوف آ رہا تھا ۔۔
آپ پلیز نہ کہیے گا میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔مرش اب منت پر اتر آیی تھی ۔۔
ٹھیک ہے بی بی جی جیسا آپ کا حکم ۔۔ ڈرایور نے آخر ہار کر سر تسلیم خم کر دیا ۔۔۔
بہت شکریہ ۔۔مرش مسکرا کر گاڑی سے نیچے اتری جیسے وہ کسی قید سے ابھی ابھی آزاد ہویی تھی ۔۔
اپنی ہی دھن میں چلتے ہوے وہ اندر آیی ۔۔
اسلام علیکم امی ۔۔خوشی سے چہکتے ہوے اس نے سب سے پہلے فایزہ بیگم کو سلام جھاڑا ۔۔۔
لیکن یے کیا سامنے کا منظر دیکھ کر مرش کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیی نہیں یے نہیں ہو سکتا یا اللہ آہل شاہ آفندی مجھے یہاں پر بھی نظر آ رہا ہے ۔۔مرش نے جلدی سے آنکھیں رگڑ کر کھولی لیکن حقیقت کو کون بدل سکتا تھا ۔۔۔
ہاے میرا بچہ آیا ہے یہاں پر کیوں کھڑی ہو اندر چلو۔۔ فایزہ بیگم نے اسے گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔
مرش منھ کھولے سامنے بیٹھے شخص کو ایک ٹک دیکھ رہی تھی ۔۔ جو اس وقت بڑے مزے سے آس پاس سے بے خبر چاے پینے میں مگن تھا ۔۔۔
آہل تو کب آیا مجھے لگا تم نہیں آو گی لیکن آہل نے کہا بس تم پہنچ رہی ہو بیٹا ۔۔۔
جی ۔۔ میں بس پہنچ ہی رہی تھی ۔۔
مرش آنٹی کو بتاو نہ ہم اکٹھے کیوں نہیں آ سکے ؟ آہل مسکراہٹ میں ایک عجیب سے چمک تھی یے آہل شاہ آفندی وہ آہل شاہ آفندی میں کتنا فرک تھا ۔۔۔
ہاں ام۔ ۔م۔ ۔می وہ آہل آفس چلا گیا تھا تو میں تھوڑا لیٹ ہو گیی ۔۔۔ مرش نے بہ مشکل تھوک نگلتے ہوے کہا ۔۔۔
مرش ہمیں بہت خوشی ہویی آپ کو یہاں دیکھ کر دل اب تھوڑا پرسکون ہو گیا ہے آپ کو دیکھ کر ۔۔۔
بابا میں کیسے نہ آتی آپ نے اتنے پیار سے جو بلایا تھا مرش سرفراز صاحب کے گلے لگ گیی تھی ۔۔
آپ لوگ بیٹھے میں آتی ہوں ؟فایزہ بیگم باورچی خانے میں جا چکی تھی ۔۔۔
مرش بھی ان کے پیچھے پیچھے آ گیی ۔۔
ارے مرش تم باورچی خانے میں کیوں آیی ہو بیٹا چلو جاو تم ۔۔ فایزہ بیگم مرش کو باورچی خانے میں دیکھ ناراضگی سے بولی ۔۔
امی کیا ہو گیا ہے میں وہی مرش ہوں آپ نے تو مجھے بلکل اجنبی ہی سمجھ لیا ہے ۔۔۔مرش نے افسوس بھرے لہجے میں کہا ۔۔
مرش ؟ فایزہ بیگم بیٹی کا چہرہ دیکھ کر پکاری ۔۔
بیٹا تم آہل کو (تم ) کیوں کہتی ہو وہ شوہر ہے تمہارا اور تم بیوی ہو اس کی عزت کیا کرو بیٹا اس کی ۔۔فایزہ بیگم اب نصحیت پر اتر آیی تھی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے امی اب ” آپ ” ہی کہوں گی ۔۔ مرش نے مسکرا کر انہیں تسلی دے تو دی تھی مگر ذہن میں تو کچھ اور ہی تھا ۔۔۔
خانہ خوشگوار موڈ میں کھایا گیا تھا ۔۔۔ مرش نے فایزہ بیگم سے خوب باتیں کی تھی ۔۔۔
انکل اب ہمیں جانا چاہیے ٹایم کافی ہو گیا ہے ۔۔ آہل نے اٹھتے ہوے کہا ۔۔۔
بیٹا میں سوچ رہی تھی کیوں نہ آج آپ لوگ یہی پر رک جاے ۔۔فایزہ بیگم نے دل کی بات کہی ۔۔۔
نہیں نہیں آنٹی پھر کبھی فلحال تو جانا ہوگا چلیں مرش ۔۔ آہل مرش کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوے کہا ۔۔
جب امی کہہ رہی ہے تو آج رک جاتے ہیں نہ ۔۔۔ مرش نے معصوم بنتے ہوے کہا ۔۔
پھر کبھی آج نہیں ویسے بھی مرش ڈیڈ ہمارا انتظار کر رہیں ہونگے ۔۔۔ آہل نے بہت ہی ضبط کے ساتھ ڈیڈ لفظ پر زور دیتے ہوے کہا۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔ مرش نے منھ بناتے ہوے کہا ۔۔۔
الواداعی کلمات لیتے ہوے وہ دونوں گاڑی میں آ کر بیٹھ گیے ۔۔
آہل بلکل خاموشی سے ڈرایونگ کرنے میں محو تھا ۔۔۔
کچھ بول کیوں نہیں رہا ۔۔۔ آہل کی خاموشی کو پریشانی میں مبتلا کر رہی تھی ۔۔
آہل پلیز گاڑی کی اسپیڈ کم کرو مجھے ڈر لگ رہا ہے !! اتنی ہایی اسپیڈ پر مرش کبھی گاڑی میں سفر نہیں کی تھی ۔۔۔
اسپیڈ پہلے سے بھی زیادہ تیز ہو گیی تھی ۔۔۔
واچمین نے دوڑتے ہوے گیٹ کھولا ۔۔
آہل گاڑی پورچ میں روک نیچے اترا دوسری سایڈ سے مرش کا ہاتھ پکڑ کر بے دردی سے لے گھسیٹتا لے کر جا رہا تھا ۔۔
آہل پلیز میرا ہاتھ چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔ مرش درد کے مارے کراہ رہی تھی ۔۔
کس کی مرضی سے گیی تھی ۔۔۔ صوفے پر پٹکنے والے انداز میں مرش کو دھکا دے کر بیٹھایا ۔۔
وہ ۔۔۔میں مجھے اپنے ماں باپ کے گھر جانے کے لیے کسی کی مرضی درکار نہیں ہیں ۔۔۔ مرش بھی میدان میں اتر چکی تھی ۔۔۔
میں نے پوچھا کس کی مرضی سے گیی تھی !!!!!!! آہل کی چینخ سے سارا گھر دہل گیا تھا ۔۔خوف کے مارے مرش کا دل بیٹھ رہا تھا ۔۔
میری مرضی سے گیی تھی ۔۔جاوید صاحب شور کی آواز سنتے ہی دوڑے آے ۔۔
اوہ تو یے آپ کی دی ہویی شے تھی ۔۔ آہل اب جاوید شاہ آفندی کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا ۔۔
ہاں میں نے ہی جانے کی اجازت دی تھی آخر ہم اسے کس لیے نہیں جانے دیتے وہ اس کے ماں باپ کا گھر ہے کسی غیر کا نہیں ۔۔۔ جاوید صاحب کو سخت غصہ آ رہا تھا یے ان کی تربیت کا تو اثر نہیں تھا ۔۔
مرش آنکھ پھاڑے دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
۔””” بیوی میری ہے آپ کی نہیں اس کا ہر فیصلہ کرنے کا اختیار صرف مجھے ہے اس لیے اچھا ہوگا آپ دور رہے ورنہ میں بھی بھول جاوں گا آپ میرے باپ ہیں ۔۔ آہل کا الفاظ تھا کہ ہتھوڑا جاوید صاحب کا دل چھلنی چھلنی ہو گیا تھا ۔۔
ایک خونخار نظر مرش پر ڈال کر آہل سڑھیاں عبور کرتا اوپر چلا گیا تھا ۔۔
مرش کے آنسوں روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔ مرش برا نہیں منانا بیٹا آہل غصے کا تھوڑا تیز ہے لیکن دل کا بہت اچھا ہے ۔۔جاوید صاحب مرش کو بیٹھ کر سمجھا رہے تھے ۔۔
انکل لیکن اس نے آپ کے ساتھ ۔۔مرش کا بولنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔
وہ بس ایسا ہی ہے بیٹا چلیں آپ اپنے کمرے میں جاے جا کر آرام کریں ۔۔۔ جاوید صاحب اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر جا چکے تھے ۔۔
مرش آہستہ آہستہ دروازہ کھول کر کمرے میں آیی ۔۔
آہل صوفے پر بیٹھ کر سامنے رکھے میز پر اپنی دونوں ٹانگیں ایک دوسرے پر رکھے سگریٹ کے کش لینے میں مصروف تھا ۔۔۔
مرش ڈرتے ڈرتے بیڈ کے کونے میں ٹک گیی ۔۔ اس ڈر کی وجہ کیا ہے وہ خود نہیں جانتی تھی ۔
یہاں پر آو ۔۔ آہل سگریٹ باول میں رکھ کر مرش کا چہرہ بغور دیکھ کر بولا ۔
مرش نے ڈرتے ڈرتے لرزتے قدم اس کی جانب بڑھاے ۔۔
ببیٹھو !! ایک نیا حکم صادر کیا گیا ۔
مرش جھٹ صوفے پر بیٹھ گیی ۔۔
منا کیا تھا نہ میں نے ! آہل نے سرد آواز میں کہا ۔۔
وہ ڈیڈ نے کہا تھا ۔۔مرش سوختے لبوں پر زبان پھیرتے ہوے کچھ بولنے کے لیے جیسے ہی منھ کھولا آہل نے درمیان میں ہی اس کی بات کاٹ دی ۔۔
میری اجازت ضروری ہے یہ ڈیڈ کی ۔!! آہل کا کیا گیا سوال مرش کو لاجواب کر رہا تھا ۔۔
وہ میں ۔۔ بس
آج کی تاریخ سے اگر تم میری اجازت کے گھر سے باہر اپنے قدم نکالی پھر میں تمہیں بتا دے رہا ہوں دنیا کی رنگینیوں کس بھول جانا ۔۔ آہل کے ایک ایک لفظ میں سچایی تھی ۔۔
آہل کی بات سن کر مرش کی نظر بے ساختہ اس کی جانب اٹھی ۔۔
