Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 29
Rate this Novel
Episode 29
صبح ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ کر ہر فرد ناشتے میں مصروف تھا ۔۔
آہل ۔۔ جاوید صاحب نے پکارا ۔۔
جی ۔۔ آہل نے ان کی طرف دیکھ کر جواب دیا ۔۔
کیا ضرورت ہے آفس جانے کی اپنا زخم دیکھو ۔۔ باپ ہونے کے ناتے جاوید صاحب کا فکرمند ہونا لازمی تھا ۔۔
کیا ؟؟ آہل نے چونک کر انہیں دیکھا ۔۔
آپ چاہتے ہیں اس معمولی سی چوٹ پر میں گھر کی زینت بن کر بیٹھ جاوں تو ایم سوری میرا آفس جانا ضروری ہے ۔۔ آہل کوٹ ہاتھ میں پکڑ کر چییر سے اٹھ گیا تھا ۔۔
بریرہ چلیں ۔۔ اس نے بریرہ سے پوچھا ۔۔
جی بھایی ۔۔ بریرہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر باہر آ گیی تھی ۔۔
آہل زن سے گاڑی اڑا لے گیا تھا ۔۔
فارس مجھے ڈر لگ رہا ہے آج ہم پہلی بار یوں کسی ریسٹورینٹ میں ملیں گے ۔۔ بریرہ کی آواز میں خوف کا عکس صاف تھا ۔۔
پھر سے تم ڈرنے لگی ابھی رات کو ہی سمجھایا تھا بریرہ ملنا ضروری ہے ہمارا اور خود سوچو کتنا دن ہو گیا ہمیں ملیں ہوے ۔۔ فارس نے ناراض ہوتے ہوے کہا ۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم مجھے کالج سے پک کر لو ۔۔ بریرہ نے ہار مانتے ہوے کہا ۔۔
تمہیں آفس میں بھی چین نہیں ملتا کیا ۔۔ مرش لاونج میں بیٹھ کر مسلسل آہل سے بے وجہ کی گفتگو میں سر پھوڑ رہی تھی ۔۔
نہیں ملتا یار دل کرتا ہے کب تمہارے پاس آ جاوں ۔۔ آہل نے بڑے سکون سے جواب دیا اس کی شرارتی آنکھوں کے سامنے مرش کا غصے سے لال چہرہ لہرایا تھا یقینن وہ اندر ہی اندر جل کر خاست ہو رہی تھی ۔۔
آفس میں کویی کام نہیں ہوتا کیا ۔۔ مرش نے سوال کیا ۔۔
تمہیں لگتا ہے میں اتنا فارغ ہوں تمہارے علاوہ بھی بہت سے کام ہوتے ہیں مجھے لیکن میں ان سب کاموں میں سب سے زیادہ تمہیں ترجیح دیتا ہوں ۔۔ بات میں سچایی سو فیصد تھی ۔۔
آہل ؟؟ مرش کی آواز یک لخت بھاری ہو گیی تھی ۔۔
کیا ہوا ۔۔ آہل نے بے چینی سے پوچھا ۔۔
مرش یار کیا ہو گیا ہے ۔۔ آہل نے جھنجھلاتے ہوے کہا بات اس کی سمجھ دے باہر تھی ۔۔
مرش پلیز چپ ہو جاو اس طرح تو بچے بھی نہیں روتے جس طرح تم رو رہی ہو ۔۔ آہل کو حیرت اس بات پے تھی یے آنسوں کس غم میں بہاے جا رہے تھے لیکن پھر بھی وہ مرش کو تسلی دے رہا تھا ۔۔
مرش کے رونے میں پہلے سے زیادہ شدت آ گیی تھی ۔۔
مرش میری جان پلیز اب رونا بند کر دو ۔۔ آہل اب اپنا سر پکڑ چکا تھا ۔۔
تم ۔۔ تم ایسا کیوں کر رہے ہو ۔۔ رونے کی وجہ سے مرش ہچکیاں شروع ہو گیی تھی بہ مشکل روکتے ہوے اس نے کچھ الفاظ ادا کیے تھے ۔۔
کیا ۔۔۔ کیا ہے میں نے ؟؟ حیران ہونے کی باری اب آہل کی تھی ۔۔
مجھے پڑھنا ہے آہل پلیز مجھے پڑھنے دو ۔۔ گالوں پر گرتے آنسوں کو بڑی رحمی سے پونچھ کر اپنے رونے کا مقصد بیان کیا گیا تھا ۔۔
اوہ تو یے ہے وجہ جس کے لیے بے شمار ندیاں آراستہ کی جا رہی تھی ۔۔ آہل نے مسکرا کر مرش کا دبے لفظوں میں مزاق اڑایا تھا ۔۔
تم مجھے نہیں پڑھنے دوگے ۔۔ مرش نے ایک بار پھر سے اپنی بات دہرایی تھی ۔۔
میں نے بہت سوچا تھا اور تب جا کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کی تمہیں کلاسیز تو نہیں کرنے دے سکتا ہاں لیکن ایگزامز دے سکتی ہو تم میں نہیں چاہتا تمہاری سال برباد ہو ۔۔ آہل بہت سوچنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچا تھا اسے بہ خوبی احساس تھا وہ مرش کے ساتھ کیا زیادتی کر رہا تھا لیکن مجبوری بھی کسی چیز کا نام ہے ۔۔
سچی ۔۔!!! مرش کو ایک لمحہ لگا تھا مسکرانے میں ۔۔
تمہاری قسم ۔۔ آہل نے مسکرا کر کہا ۔۔
تھینکس ۔۔ مرش نے چہک کر فورن تھینکس کیا تھا ۔۔
یے تو بہت چھوٹا ہے بس اویں ہی تھینکس ۔۔ آہل نے منھ بناتے ہوے کہا ۔۔
تو پھر کیا چاہیے تمہیں ۔۔ مرش نے اس کی خواہش پوچھی ۔۔
جو مانگوگا دوگی ؟؟ آہل نے جیسے یقین دہانی کروانی چاہی ۔۔
ہاں مانگو !! مرش کو کہاں یاد تھا وہ اپنی خوشی میں کون کون سے وعدے باندھ رہی تھی ۔۔
رات کو بتاوں گا ۔۔ آہل نے تیر سیدھا نشانے پر مارا تھا ۔۔
اوکے پھر رات کو ہی بتانا خدا حافظ۔۔۔ مرش کو بے جلدی تھی یے خبر سب کو بتانے کی ۔۔
خدا حافظ ۔۔ آہل فون رکھ چکا تھا ۔۔
تم ان چڑیلوں کو کیوں دیکھ رہے ہو ۔۔ بریرہ نے منھ پھلا کر ایک بے حد غیر معمولی سا الزام فارس کے اوپر لگایا تھا ۔۔
وآٹ ۔۔ تمہارا کہنے کا مطلب یے ہے میں ان آنٹی ٹایپ لڑکیوں کو دیکھ رہا ہوں ۔۔ فارس نے حیرت سے آتی جاتی لڑکیوں کو دیکھ کہا تھا ۔۔
ہاں دیکھ تو رہے ہو ۔۔ بریرہ نے اب پہلے سے زیادہ ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔۔
اچھا بابا اب نہیں دیکھتا ۔۔ فارس نے شرارت سے کہا ۔۔
وہ دونوں کافی دنوں بعد ایک دوسرے کے سامنے کافی کیفے کے اندر بیٹھے ہوے تھے ۔۔
فارس کل جس فایٹنگ ہویی تھی وہ لڑکا کون تھا ؟
تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہی ہو ؟
کیوں میرا پوچھنا گناہ ہے کیا ؟
نہیں یار میں نہیں چاہتا تم فضول کی سوچوں میں اپنا وقت برباد کرو ۔۔
لیکن وہ تھا کون ؟
گھٹیا آدمی ہے وہ چھوڑو یہ سب کویی اور بات کرتے ہیں ۔۔
فارس اگر کویی ہمیں دیکھ لے گا تو ؟
کیسے کویی دیکھ لے گا یار بریرہ مجھ پر بھروسہ رکھو ۔۔
آیی لو یو ۔۔ بریرہ کا موڈ سہی کرنے کے لیے یے الفاظ ضروری تھے ۔۔
بریرہ مجھے بھی یوں اس طرح اچھا نہیں لگتا یار ایک طریقے سے ہم دونوں آہل کو دھوکہ دے رہے ہیں بریرہ میری بات سنو ہم آہل کو بتا دیتے ہیں کم از کم میں اس شرمندگی سے تو باہر آ جاوں گا نہ میں اس کو دھوکہ دے رہا وہ مجھ پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ کرتا ہے میں نہیں چاہتا اسے کسی اور سے معلوم ہو ۔۔ بریرہ کا ہاتھ تھام کر فارس نے بڑی سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
ن۔۔ن۔ نہیں فارس پلیز نہیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے بھایی پتہ نہیں میرے بارے میں کیا سوچیں گے ابھی نہیں ہم بتا دیں گے لیکن ابھی نہیں ۔۔ بریرہ نے ڈرتے ہوے کہا ظاہر ہے ڈرنا تو لازمی تھا آہل شاہ آفندی جس شخص کے اوپر سب سے زیادہ بھروسہ کیا تھا وہی شخص اس کی اپنی بہن کے ساتھ کون سا کھیل کھیلا جا رہا تھا اس کی پیٹ پیچھے ۔۔
بریرہ کیوں یار کیا تم یے چاہتی ہو اسے کسی اور سے پتہ چلے ۔۔ فارس کو اب غصہ آ رہا تھا ۔۔
میں نے یہ کب کہا جب وقت آے گا تب بتا دینا فلحال کے لیے نہیں پلیز ۔۔ بریرہ نے جیسے التجا کی تھی ۔۔
بریرہ دیکھنا تم کسی دن ہماری دوستی لے ڈوبوگی ۔۔ فارس کافی کا سیپ لے کر بڑی طمانیت سے کہا تھا ۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ۔۔بریرہ نے جیسے خود کو یقین دلایا تھا ۔۔
زندگی بھی کبھی کبھی کیسے کھیل کھیلتی ہے نہ جس کا ہمیں خود علم نہیں ہو پاتا فارس بریرہ اپنی محبت کے سمندر میں غرق تھے یے کون سوچتا ہے کب کس کی زندگی میں طوفان آ جاے اسی طرح وہ دونوں بھی بے خبر اپنی محبت میں پروان چڑھ رہے تھے لیکن انہیں کہاں خبر تھی ان کی زندگی بھی دوسرا رخ موڑ چکی تھی آج ان کی ایک ایک تصویر کیمرے کے اندر قید ہو رہی تھی نہ جانے آگے کیا طوفان آنے والا تھا اس کی خبر کس کو تھی ۔۔۔
آفس ٹایمنگ ختم ہونے کے بعد آہل بریرہ کو مقرر وقت پر گھر پہنچ گیے تھے ۔۔
ڈراینگ روم سے آتے شور کو سن کر آہل اوپر جانے کے وہیں پر آ گیا تھا سامنے فایزہ بیگم اور سرفراز صاحب کو سامنے بیٹھا دیکھ کر اسے تھوڑی حیرانگی ضرور ہویی تھی ۔۔
اسلام علیکم انکل آنٹی آپ لوگ کب آے ۔۔ آہل نے بے حد خوشدلی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔
وعلیکم اسلام بیٹا ۔۔۔ بس یونہی پلان بن گیا تھا ۔۔ سرفراز صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔
مرش آہل کو مسلسل نظر انداز کیے فایزہ بیگم سے چپک کر بیٹھی تھی جیسے ان کے علاوہ یہاں پر اور کویی ہے ہی نہیں ۔۔
امی کھانا کھا کر جانا ہے آپ لوگ کو ۔۔
۔۔نہیں۔۔ نہیں پھر کبھی سہی مرش کافی دیر ہو گیی ہمیں آے ہوے ۔۔۔
نہیں پلیز میں آپ لوگ کو ایسے نہیں جانے دونگی دیکھو نہ آہل امی بابا پہلی بار ہمارے گھر آے ہوے ہیں اور کھانا بھی نہیں کھا کر جایں گے ۔۔ اپنے مطلب کے لیے مرش کو فورن آہل کی یاد آیی تھی ۔۔
بلکل آنٹی ۔۔ آہل نے بھی ہاں میں ہاں ملایی ۔۔
سب لوگوں کے اصرار پر نا چاہتے ہوے بھی فایزہ بیگم اور سرفراز صاحب کو کھانا پڑا تھا کھانا بے حد خوشگورا ماحول میں کھایا گیا تھا ۔۔ کچھ دیر بعد فایزہ بیگم اور سرفراز صاحب رخصت ہو گیے تھے ۔۔
ماں باپ بھی کتنی عظیم چیز ہیں نہ ۔۔فایزہ بیگم اور سرفراز صاحب کو رخصت کرنے کے بعد وہ دونوں بھی اپنے کمرے میں آ گیے تھے بیڈ پر بیٹھتے ہوے مرش نے مسکرا کر کہا ۔۔
ہاں شاید !کلایی پر بندھی بلیک سوبر مردانہ واچ آہل نے اتارتے ہوے اس کی بات سے اتفاق کیا تھا ۔۔
شاید کیوں تمہیں نہیں لگتا کیا ؟ مرش نے حیرت سے پوچھا ۔۔
نو آنسر ۔۔ آہل اب جھک کر اپنے جوتے کے تسمیے کھول رہا تھا ۔۔
ہاں تمہیں کیسے پتہ ہوگا تم تو اپنے ماں باپ کو کچھ سمجھتے ہی نہیں ہو ۔۔ مرش کے الفاظ بے حد سخت تھے ۔۔
ایک پل کے لیے آہل کا ہاتھ کو بریک لگ گیا تھا اسے مرش سے ایسی باتوں کی توقع نہیں تھی ۔۔
کچھ بول کیوں نہیں رہے ؟؟ اس کی خاموشی مرش خل رہی تھی ۔۔
سب کچھ تو تم نے بول دیا میں کیا بولوں ۔۔۔ وہ اب آینے کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا ۔۔
ایک بات کہوں ۔۔۔ مرش نے نظریں اٹھا کر جیسے اجازت مانگی تھی وہ بھی بلا وجہ ۔۔۔
کہوں !! وہ اب پوری طرح اس کی طرف گھوم چکا تھا ۔۔
تمہیں اپنے ماں باپ کی ذرا قدر نہیں ہے کیوں ؟؟ پہلے سے زیادہ سلگتے الفاظ تھے ۔۔
میری زندگی میں کس کی کتنی قدر ہے کون میرے نزدیک کیا حیثیت رکھتا آیی تھنک مجھے یے بات تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ آہل کو سخت غصہ آ رہا تھا لیکن وہ ضبط کر گیا تھا کیوں کی وہ ضبط کرنا جانتا تھا ۔۔
تو پھر تمہارا رویہ ان کے ۔۔۔۔
مرش پلیز مجھے اس بے وجہ کی گفتگو میں ذررا برابر دلچسپی نہیں ہے کیا اس ٹاپک کے علاوہ ہم کویی اور بات نہیں کر سکتے ہیں ۔۔۔ اس سے پہلے کی وہ اپنی بات مکمل کرتی آہل نے درمیان میں ہی اس کی بات کاٹ دی ۔۔
ٹھیک ہے نہیں کرتی اس ٹاپک پر بات ۔۔ اس نے ہار مان لی تھی ۔۔
تمہارا زخم کیسا ہے ؟ شکر ہے مرش کو یاد آ گیا تھا ۔۔
تمہارے سامنے ہے دیکھ لو ۔۔ آہل نے بے فکری سے جواب دیا ۔۔
مجھے کیسے پتہ چلے گا تمہارے زخموں میں تکلیف کتنی ہے ۔۔۔ اب کی بار وہ قدرے جھنجھلایی تھی ۔۔۔
ہاں یے بھی ہے تمہیں میری تکلف کے بارے میں کیسے پتہ ہوگا یے تو تکلیف میری ہے ۔۔ آہل نے ایک تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا نہ جانے وہ اسے کیا باور کرانا چاہتا تھا ۔۔
چھوڑو یار مسلسل ہم بے وجہ کی باتوں پر بحث کر رہے ہیں ۔۔ آہل ٹاول کاندھے پر ڈالے واشروم میں چلا گیا تھا ۔۔
اسے کیا ہوا آج اتنا بجھا بجھا سا کیوں ہے مرش کو تھوڑا تفتیش ہو رہی تھی آہل کا رویے سے کتنا عجیب ہوتا ہے نہ بعض دفعہ ہم ہی لوگوں کو دکھ دے کر سوچتے ہیں اسے دکھ کیا ہے ۔۔۔
کیا سوچ رہی ہو ؟؟ آینے کے سامنے کھڑے ہو کر گیلے بالوں کو تولیہ سے ہلکا ہلکا رگڑ کر آہل نے مصروف سے انداز میں پوچھا ۔۔
کچھ بھی نہیں ۔۔ ایک لمحے کے لیے مرش کی گویا سانسیں ہی تھم گیی تھی آہل شاہ آفندی کا چوڑا کسرتی سینہ دیکھ کر لیکن اگلے ہی پل اس نے نظریں چرا لی تھی کہیں اس کی چوری پکڑی نہ جاے ۔۔۔
افف یار ۔۔۔ صدمے سے چور آہل کی آواز مرش کے کانوں تک پہنچی تھی ۔۔
کیا ہوا ؟ اس نے بے ساختہ پوچھا ۔۔
بٹن ٹوٹ گیی ۔۔ آہل نے افسوس سے کہا ۔۔
کیسے ؟؟ سوال بے جد احکمانا تھا ۔۔
اب مجھے کیا پتہ کیسے ٹوٹ گیی اس نے مجھے بتایا تھوڑی ہے ۔۔ آہل نے ہلکے پھلکے انداز میں مرش کا مزاق اڑایا تھا جس کو سمجھ پانا کم از کم مرش کے لیے مشکل تھا ۔۔
اب کیا کروں ؟؟ آہل نے خفگی سے مرش سے پوچھا جیسے سارا قصور مرش کا ہی ہو ۔۔
دوسری پہن لو ۔۔جواب صاف تھا ۔۔
لیکن دوسری کیسے پہنوں ۔۔ آہل نے مصنوعی غصہ دکھانا چاہا ۔۔
جیسے پہنی جاتی ہے ۔۔ مرش نے کچھ نوگواری سے جواب دیا تھا ۔۔
اگر تمہیں یاد ہو تو تم نے ایک وعدہ کیا تھا مجھ سے ۔۔ آہل کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گیی تھی ۔۔
کون سا وعدہ ؟؟ مرش نے ذہن پر تھوڑا زور دیا تھا ۔۔
یاد کرو ۔۔ آہل اب واقعی غصہ آ رہا تھا ۔۔
اوہ ہاں یاد آیا ۔۔ تو پھر ؟؟؟ مرش کو اپنا کیا گیا وعدہ یاد تو آ گیا تھا لیکن اب جی بھر کے پچھتاوا ہو رہا تھا ۔۔
تو اس وعدے کو پورا بھی کرو ۔۔ آہل نے جیسے ہری جھنڈی دکھایی تھی ۔۔
کیسے ؟؟ مرش نے نا سمجھی کے عالم میں پوچھا تھا ۔۔۔
یار میری اس بٹن کو پھر سے لگا دو بڑی مہربانی ہوگی تمہاری ۔۔۔ آہل نے جیسے التجا کی تھی ۔۔
مجھے نہیں آتا یے سب کام ۔۔ مرش فورن ایک قدم پیچھے ہویی ۔۔
تم وعدہ خلافی کر رہی ہو مرش ۔۔ آہل نے مسکرا کر کہا ۔۔
کیسی وعدہ خلافی ؟؟ مرش نے اکتا کر جواب دیا ۔۔
مطلب تم یے کام نہیں کرنے والی ۔۔ آہل نے جیسے پوچھا تھا ۔۔
نہیں بلکل بھی نہیں ۔۔مرش نے فورن گردن نفی میں ہلایا ۔۔
تو دوسرا آپشن بھی ہے ۔۔ آہل نے شرارت سے آنکھ مار کر ایک آپشن اسے قدموں میں رکھ دیا ۔۔
کون سا ؟؟؟ مرش نے بے چینی سے پوچھا ۔۔
سیمپل میرے یے شرٹ اتار کر دوسری پہنا دو تم ۔۔ آہل اس اس طرح راے دے رہا تھا جیسے وہ جھٹ سے قبول کر لے گی ۔۔
بلکل نہیں میں یے نہیں کروں گی ۔۔ مرش نے دو بدو جواب دیا ۔۔
سوچ لو تمہارے اوپر ڈیپنڈ ہے ورنہ پھر مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا ۔۔ آہل جواب دے کر صوفے پر قدرے آرام سے ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
مرش اس کشمکش میں بیچ و تاب کھا کر رہ گیی تھی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں پہلی والی مان لیتی ہوں ۔۔ مرش منھ پھلاتے ہوے مان ہی لیا تھا اس ڈر سے کہیں اس کا دماغ پھر سے کہیں خراب ہو گیا تو مجھے ایگزامز بھی نہیں دینے دے گا ۔۔
گڈ گرل ۔۔ آہل مسکرا دیا تھا ۔۔
نیچے جاو کسی بھی ملازمہ سے سویی دھاگہ مانگ کر لاو ۔۔ آہل نے ایک اور حکم صادر کیا ۔۔
اوکے ۔۔مرش جا چکی تھی ۔۔۔
پانچ منٹ بعد اس کے ہاتھ میں سویی دھاگہ دیکھ کر آہل کو ایک پل کے لیے بہت تیز ہنسی آیی تھی لیکن ہنس کر اسے اپنا نقصان نہیں کروانا تھا ۔۔۔
اب تم بیٹھے رہو گے تو میں کیسے بٹن لگاوں گی ۔۔ مرش کھا جانے والی نظروں سے آہل کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
نہیں میری ٹانگ میں بہت درد ہے تم بیٹھ کر لگا دو ۔۔ آہل نے مزے سے جواب دیا ۔۔
لیکن میں ۔۔۔
جلدی کرو مجھے سونا بھی ہے ۔۔ آہل نے ایک گھورتی نظر اس کے چہرے پر ڈالی تھی ۔۔
مرش پوری توجہ سے سویی میں دھاگہ ڈال رہی تھی اس کے برعکس آہل بے حد مزے اس کے خفا خفا سے چہرے سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔۔
دیکھو ہلنا نہیں ورنہ تمہارا ہی نقصان ہوگا ۔۔ مرش نے شہادت کی انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا تھا ۔۔
اوکے ۔۔آہل نے بے حد اچھے بچے کی طرح گردن ہاں میں ہلا دی تھا ۔۔
مرش پوری توجہ سے بٹن لگا رہی تھی لیکن آہل کے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی فرفیوم کی مہک اسے ہوش کی دنیا سے غافل کر رہی تھی ۔۔
آہل یک ٹک اس کے چہرے کے اتار چڑھاو کے رنگ کو دیکھ رہا تھا آج وہ دونوں بے حد قریب تھے اتنے قریب کی ان کی اپنی سانسیں ایک دوسرے میں پیوست ہو رہی تھی ۔۔ آہل اب اپنے ارادے پر اتر چکا تھا اس نے مرش کی کمر میں اپنا بازو حایل کر کے خود سے اور قریب کر لیا تھا ۔۔
آہل آہستہ سویی تمہیں چھب جاے گی ۔۔مرش اس آفتاد کے لیے تیار نہیں تھی لیکن پھر بھی اسے آہل کا خیال تھا ۔۔
ہاٹ ۔۔آہل نے مدہم سروں میں اس کے کانوں سرگوشی کی تھی ۔۔
کیا ؟؟ مرش نے نظریں اٹھا کر اس سے پوچھا ۔؟
تم ۔۔ آہل نے پھر سے اس کے کان میں سوگوشی کی تھی ۔۔
ایسے الفاظ سنتے ہی مرش کی کان کی لویں تک سرخ ہو گیی تھی چہرہ مزید بلش کر گیا تھا ۔۔
کیا خیال ہے آج رات اسے صوفے پر گزار دی جاے ۔۔۔ آہل کی آنکھوں میں محبت کا خمار ہی خمار تھا لیکن کچھ غلط بھی نہیں تھا آخر وہ اس کی بیوی تھی اس کی عزت تھی اس کے ساتھ نکاح جیسے مضبوط رشتے میں تھی ۔۔
آہل پلیز ہلنا نہیں میں دھاگہ توڑ دوں ۔۔ مرش نے التجایہ نظروں سے آہل کو دیکھا تھا اور پوری طرح اس کے سینے پر جھک کر دھاگہ دانتوں سے توڑنے کی کوشش کر رہی تھی دھاگہ تو ٹوٹ گیا تھا لیکن اچانک اس کے نرمی ہونٹ آہل کے سینے کو چھو گیے تھے ۔۔
آ۔ ۔ ایم سوری ۔۔ مرش نے ہکلاتے ہوے سوری بولا غلطی سے ہی سہی لیکن سوری بولنا اس کا فرض تھا ۔۔۔
اشش ۔۔ آہل اس کے ہاتھوں سے سویی دھاگہ لے کر میز پر رکھ چکا تھا ۔۔
مرش کی آنکھوں میں بھی ایک عجیب سی چمک تھی اسے بھی آہل شاہ آفندی کی قربت کی پیاس تھی بار بار اس کی پناہ میں آنا اس کی ایک عجیب سی خواہش تھی ۔۔
آہل اب اس کے اوپر مزید جھک گیا تھا مرش آہستہ آہستہ پیچھے کی اور سرک رہی تھی لیکن اچانک سے وہ صوفے پر بلکل سونے والے انداز میں گر سی گیی تھی رات آہستہ آہستہ پراون چڑھ رہی تھی ان دونوں کی محبت دور کھڑی اپنی آمد کا علان کر رہی تھی ۔۔۔
