Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 10
Rate this Novel
Episode 10
نائیس ٹو میٹ یو “””” آہل کی مسکراہٹ مرش کو کنفیوز کر رہی تھی ۔۔
مرش کا ہاتھ ابھی بھی آہل کے ہاتھوں میں تھا ۔۔ “”” مرش دھیرے دھیرے بہت کوششوں کے بعد ہاتھ چھڑانے میں کامیاب ہو گیی تھی ۔۔
تو یے ہے مرش ۔۔ ہم تو پہلے بھی مل چکے ہیں ۔۔ آہل مرش کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوتا ہوا بولا ۔۔
اچھا کب ملیں ہے آپ دونوں ؟؟ بریرہ حیران ہوتی ہویی بولی ۔۔
یے تو تمہیں مرش ہی بتایں گی ۔۔ آہل مرش کے نام پر زور دیتا ہوا بولا ۔ ۔۔
ن۔ نہیں ۔۔ مجھے یاد نہیں ہے ۔۔ مرش جلدی سے بولی ۔۔
جب یاد آ جاے تو بتا دینا میری بہن کو نیند نہیں آے گی ۔۔ آہل مسکراتے ہوے بولا ۔۔
اکسکیوز می ۔۔ آہل اکسکیوز کرتا وہاں سے ہٹ گیا ۔۔
مرش کی اٹکی سانس بجال ہویی ۔۔ اور دل ہی دل میں شکر کیا ۔۔
پوری پارٹی میں آہل کی گھرتی نظریں مرش کو چہرے کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔
مرش آہل کی نظروں سے بچنے کے لیے کارنر کی سایڈ میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے اس طرح چھپنے سے تم بچ جاو گی ۔۔ آہل نا جانے مرش کے پاس آ دھمکا ۔۔
تم ۔ ایک گھٹیا انسان ہو ۔۔ چلے جاو یہاں سے مرش دانت پر دانت سختی سے جماتی ہویی بولی ۔۔
تعریف کا شکریا ۔۔ مرش میڈم ۔۔۔”” آہل غصے سے مرش پر ایک نظر ڈالتا ہوا ہٹ گیا ۔۔
مرش کو سانس لینا مشکل ہو رہا تھا وہ تو اس وقت کوس رہی تھی جب اس نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔
اللہ اللہ کر کے پارٹی ختم ہویی ۔۔ بریرہ اب ہم چلتے ہے ٹایم بھی کافی ہو گیا ہے ۔۔ ثمرہ ریسٹ واچ پر نظریں ڈالتے ہوے بولی ۔۔ ہاں ٹایم کافی ہو گیا ہے اب ہمیں چلنا چاہیے ۔۔ مرش کی الگ بے چینی تھی گھر جانے کی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں ڈرایور سے کہتی ہوں تم لوگوں کو ڈراپ کر دیں ۔۔ بریرہ مرش کا چہرہ دیکھتے ہوے بولی ۔۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ہماری گاڑی باہر آ گی ہے ہم لوگ چلیں جایں گے ۔۔ اریشا باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولی ۔ ۔
چلو ٹھیک ہے خدا حافظ پہنچ کے مجھے کال کرنا بریرہ ایک ایک کر کے سب سے گلے ملتے ہوے بولی ۔۔
خدا حافظ ۔۔ مرش خدا حافظ کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوے باہر آیی ۔۔ اسے گھر پہنچنے کی کچھ زیادہ ہی جلدی تھی ۔۔ زارا ثمرہ اور اریشا ابھی باہر نہیں آیی تھی ابھی ان کی سلام دعا کی رسم ہو رہی تھی ۔۔
مرش یہاں وہاں نظریں دوڑا رہی تھی گاڑی کی تلاش میں ۔۔ یوہی بے خیالی میں اس کی نظر اوپر کی جانب اٹھی ۔۔ آہل دونوں کے ہاتھوں کے سہارے ریلینگ پر جھکا ہوا تھا ۔۔ حالانکی آہل خاص طور سے کا ہی انتظار کر رہا تھا ۔۔
اپنی دو انگلیوں کو آنکھ کے پاس لے جا کر مرش کی طرف کی ۔۔ گویا وہ اس کو یقین دلانا چاہ رہا ہو وہ اب مرش کی نظروں کی قید میں ہیں ۔۔ اتنے گاڑی مرش کے قریب آ چکی تھی مرش ایک لمہہ زایا کیے بغیر گاڑی میں بیٹھ گی ۔۔ تب تک وہ تینوں بھی باہر آ چکی تھی ۔۔ ایک ایک کر سب گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔۔ گاڑی اب اپنی منزل کے راستے پر چل چکی تھی ۔۔
آہل اب وہاں سے ہٹ چکا تھا ۔۔بیڈ پر تھکے ہوے انداز میں گرا اور آنکھیں بند کر کے الجھی ہوی گتھی کو سلجھانے لگا ۔۔ اس نے مجھے تھپڑ مارا زندگی میں پہلی بار کسی نے میرے اوپر ہاتھ اٹھایا وہ بھی دو ٹکے کی لڑکی ۔ ۔۔۔ تمہای بربادی کے دن شروع ہو چکے ہیں مرش ۔۔ اب میں تمہیں بتاوں گا گھٹیا انسان ہوتا کیسا ہے ۔۔ آہل کی سوچوں کا مرکز مسلسل مرش ہی تھی ۔
مرش کل تو کالج فنکشن یے تمہاری تیاری ہو گی ۔۔ اریشہ مرش کا چہرہ دیکھتے ہوے بولی ..
ہاں بس ہو ہی گیی ہے ۔۔ مرش آنکھ بند کیے جواب دی ۔۔
چلو اچھا ہے ۔۔ اریشہ خوش ہوتے ہوئے بولی ۔۔
گاڑی مرش کے دروازے پر آ کر رکی ۔۔
خدا حافظ ۔۔ مرش ان لوگوں کو خدا حافظ بولتی اندر چلی گیی ۔۔
ماما میں بہت تھک چکی ہو گڈ نائٹ ۔۔ بریرہ مریم بیگم سے گڈ نایٹ بولتی ہویی اپنے روم میں چلی گی ۔۔
موبائل ہاتھ میں لئے نا جانے اسے کس چیز کا انتظار تھا ۔۔
آج تو کوئی میسج نہیں آیا ۔۔ بریرہ بار بار میسج ان باکس کھول کر چیک کر رہی تھی ۔۔
اسلام وعلیکم !! بریرہ کے ہونٹوں پر بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ رینگ گی ۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔ بریرہ نے جواب دینے میں ذرا بھی دیر نہیں کی ۔۔
مجھے لگا آج تم میسج نہیں کروگے ۔۔ بریرہ مسکراتے ہوئے میسج ٹائپ کرکے سینڈ کی ۔۔
فارس کو میسج کرنا اچھا بھی لگ رہا تھا ۔۔ لیکن اسے آہل کا بھی ڈر تھا نا جانے اس کا ریکشن ہوگا جب اسے پتہ چلے گا ۔۔ لیکن جب مہبت ہو جاے انسان کو نی ڈر بنا دیتی ہے ۔۔ ایسا ہی کچھ حال فارس کا بھی تھا ۔۔
کیوں تم انتظار کر رہی تھی کیا ۔۔
نہیں تو ۔۔ میں نے یو ہی کہہ دیا ۔۔ تم خوش فہمییاں کم پالا کرو ۔۔ “”” ۔ بریرہ مزاق اڑاتے ہوے میسیج سینڈ کی ۔۔
میرے خیال سے تم اپنے بھایی سے کہنے والی تھی مجھے ۔۔ “”” تو کیا بنا اس مسلے کا ؟؟ ۔ فارس کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی ۔۔
شکر کرو تم میں نے نہیں کہا ۔۔ دیکھو میں تمہاری بھالایی کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔۔ میرے بھایی کو پتہ چل گیا نا تو وہ تمہاری جان لے لیں گے ۔۔ بریرہ کو اس کی پرواہ تھی ۔۔ اس لیے وہ خود آہل سے نہیں کہہ پا رہی تھی ۔۔
کہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہو گی ۔۔ جو میری بھلایی کے بارے میں سوچا جانے لگا ۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ بریرہ اس سوال پر صاف مکر گی ۔۔
میں تمہاری آواز سننا چاہتی ہوں ۔۔ بریرہ کو اب اس کی آواز سننے کی بیچینی تھی ۔۔
اگر تم میری آواز کے سہر میں گم ہو گیی تو ۔۔۔ فارس کا ارادہ ابھی بھی بریرہ کو تنگ کرنا تھا ۔۔
وہ تو سننے کے بعد پتا چلیگا ۔۔ بریرہ غصے والی یموجی سینڈ کی ۔۔
ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی ۔۔ فارس مسکراتا ہوا کال کیا ۔۔
موبائل کی پہلی ہی رنگ پر بریرہ نے کال پک کر لیا ۔۔
کچھ بولوگے تو میں تمہاری آواز کے سہر میں گم ہونگی نا ۔۔ بریرہ چڑتے ہوئے بولی ۔۔
ہا ۔۔ہا ہا ۔۔ میری آواز اتنی خوبصورت نہیں ہے تم کھو جاو گی ۔۔
میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔ بریرہ کی ایک اور ڈیمانڈ بڑھ گیی ۔۔
اتنی جلدی نہیں پہلے محبت کا آغاز تو ہو جائے پھر تو دیدار تو روز ہوگا ۔۔
مجھے تمہاری آواز جانی پہچانی سی لگ رہی ہے ۔۔ تم ۔۔!!! بریرہ ذہن پر زور دیتے ہوئے بولی ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم تمہیں نیند آ رہی ہوگی ۔۔ گڈ نایٹ ۔۔ “”” فارس ہڑبڑا کر بولتا ہوا فون کال ڈیسکنیٹ کر دیا ۔۔
بریرہ کی سمجھ سے باہر تھی اس کی یے حرکت ۔۔ آج تھکن کچھ زیادہ ہی تھی ۔۔ اس لیے جلد ہی وہ بھی سو گی ۔۔
بریرہ اگر تم ریڈی ہو تو میں ویٹ کر رہا ہوں باپر جلدی آو ۔۔ آہل موبایل جیب میں ڈالتا ہوا باہر چلا گیا ۔۔
بریرہ ایک منٹ زایا کیے بغیر باہر آیی آہل پہلے سے ہی اس کے انتظار میں بیٹھا تھا ۔۔۔
سفر کے دوران آہل اور بریرہ کے بیچ چند باتیں ہویی اتنے میں گاڑی کالج پہنچ چکی تھی ۔۔
خدا حافظ بھایی ۔۔ بریرہ خدا حافظ کہتی ہویی بھیڑ میں غایب ہو گی ۔۔ آہل کے پاس اتنا وقت نہیں تھا وہ ایک نظر کالج پر ڈالتا ۔۔
مرش تم بلکل بھی نروس مت ہونا ہم سب وہاں ہونگے ۔۔ بریرہ مرش کو حوصلہ دے رہی تھی ۔۔
مرش تم ڈرنا مت ۔۔ اب ہماری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے ۔۔ زارا مرش کو گلے لگتے ہوے بولی ۔۔
تم لوگ دعا کرنا سب اچھا ہو مرش افسوس سے بولی ۔۔
آج کالج کا فنکشن تھا جس کی تیاریاں بہت دنوں سے چل رہی تھی ۔۔ سب لوگوں نے زبردستی مرش کو بھی حصہ لینے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔ مرش صرف ان لوگوں کا دل رکھنے کے لیے تیار ہو گی تھی ۔ ۔
ہیلو ؟؟ آہل اپنی روبیلی آواز کے ساتھ بولا ۔۔
ج۔۔۔جی ۔۔ سر ۔۔ مسٹر شاکر گھبراتے ہوے بولے ۔۔
آہل شاہ آفندی بات کر رہا ہوں ۔۔ آہل نے اپنا تعارف کروایا ۔۔
ج۔ ۔ج۔ ۔۔جی ۔۔ سر بولے ۔۔ مسٹر شاکر کا گھبراہٹ سے برا حال تھا ۔۔
مرش ۔۔ نام تو سنا ہوگا آپ نے ۔””” آہل نے اپنے مقصد کا بیان کچھ اس طرح کیا ۔۔
مرش نامی لڑکی کا بایو ڈیٹا مجھے ۔۔۔۔۔۔
A to Zz چاہیے .
سر میں ابھی دس منٹ کے اندر آپ کو ایمیل کرتا ہوں ۔۔
مسٹر شاکر کی سمجھ سے باہر تھا آخر مرش کا بایو ڈیٹا کیوں چاہیے ۔۔لیکن یہاں سوال کرنے کی کس کی ہمت تھی ۔۔
دس ؟؟ دس منٹ نہیں پانچ منٹ کے اندر بھیجو ۔
کالج کیسا جا رہا ہے ؟؟ آہل نا جانے کیوں آج کالج کے بارے میں پوچھ بیٹھا تھا ۔۔۔
سر کالج تو بہت اچھا جا رہا ہے اور آج فنکشن بھی ہے ۔۔ لیکن آپ تو آیں گے نہیں اس لیے آپ کو علم نہیں ہوگا ۔۔ مسٹر شاکر ایک ہی سانس میں اپنی بات ختم کر کے جواب کا انتظار کرنے لگے ۔۔
فنکشن ؟؟
جی آج فنکشن ہے ۔۔ مسٹر شاکر نے ایک بار اپنی بات پھر سے دہرایی ۔۔
کیوں نہیں میں ضرور آوں گا ۔۔ آہل ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جیسے شکار اپنے شکاری کو قید کر چکا ہو ۔۔
۔ آہل اپنی بات ختم کر کے کال ڈیسکنیٹ کر دیا ۔۔
فارس آج ہمیں فنکشن میں جانا ہے تو ساتھ چلے گا ؟؟ آہل آفس کا دروازہ کھول کر اندر آتے ہوے پوچھا ۔۔
وآٹ ۔۔۔ تو فنکشن میں جاے گا ۔۔ مطلب کی آہل شاہ آفندی فنکشن میں جاے گا ۔۔ سچ کہہ رہا تو ؟؟ فارس کو آہل کی کہی ہویی بات یقین نہیں
آیا تھا ۔۔
ہاں جا رہا ہوں اس میں کویی حیران ہونے والی بات نہیں ہے ۔۔ ابھی کچھ دیر مے میں نکل رہا ہوں ۔۔ اتنے میں آہل کے موباہل پر مرش کا پورا بایو ڈیٹا چمک رہا تھا ۔۔ لیکن ابھی اسکے لئے سب سے ضروری کالج پہنچنا تھا ۔۔ تاکی جان مرش کا دیدار ہو سکے ۔۔
مرش واو بہت ہی زیادہ پیاری لگ رہی ہوں ۔۔ اریشہ مرش کی خوبصورت چہرے کو سراہتے ہوے بولی ۔۔
پورا اسٹاف تیار تھا آہل شاہ آفندی کا استقبال کرنے کے لیے ۔۔ لڑکوں اور لڑکیوں کا ہجوم ایک ایک گروپ کی ٹولی میں اکٹھا تھا ۔۔
فارس ٹایم ہو گیا ہے اب چلو ۔۔ آہل چیر سے اٹھتے ہوے بولا ۔۔۔
کیا تو سیریس ہے ۔۔ فارس اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔
تو جانتا ہے میں اتنا گھٹیا مزاق نہیں کرتا چلنا ہے تو چل ورنہ میں اکیلے بھی جا سکتا ہوں ۔۔ آہل چڑے ہوے انداز میں کہتے ہوے شرٹ کی آستین فولڈ کرتا ہوا اٹھا ۔۔
چلتا ہوں غصہ تو نا کر ۔۔ فارس اب آہل کت ساتھ قدم سے قدم ملاتا ہوا چلنے لگا ۔۔
آہل گاڑی کو گیٹ کے سامنے روکتے ہوے اترا ۔۔
لوگوں کا ہجوم کافی تھا ۔۔ آہل نے پہلے سے ہی دو گاڈز کا بندوبس کیا تھا جو پہلے سے ہی وہاں پر موجود تھے ۔۔ آہل اور فارس کو دیکھتے ہی وہ ان کی پیچھے آ کھڑے ہوے ۔۔
یے تو آہل شاہ آفندی ہے میں تو اس کی بہت بڑی فین ہوں ۔۔ قریب سے ایک لڑکی کی آواز آیی ۔۔ ایسے کمینٹس ہزاروں لوگوں نے کیا ۔۔ لیکن آہل شاہ آفندی کا مقصد ہی کچھ اور تھا ۔۔ اس کے دماغ میں جو اس وقت چل رہا تھا اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی ۔۔
فنکشن اپنے زورو شور پر تھا ۔۔ آہل اور فارس ہر کویی آگے آگے لاین میں لگا ہوا تھا ۔۔
آہل یہاں پر جب سے آیا تھا مسلسل موبایل میں بزی تھا اس کا تو مقصد ہی کچھ اور تھا ۔۔ آہل کی نگاہیں مسلسل مرش کی تلاش کر رہی تھی ۔ جیسے مرش اس کے آس پاس ہی ہو ۔۔
مرش نے کچھ خاص نہیں لیا تھا ۔۔۔ ابھی وہ اندر اپنی لاینز تیار کر رہی تھی ۔۔
اور وہ پانچوں بھی مرش کو تسلی دینے میں مگن تھی ۔۔
مرش ہمارے لیے یے موقع بہت اہم ہے تمہیں ڈرنا بلکل نہیں ہے ۔۔ ثمرہ نے بھی تسلی دینے میں کویی کسر نہیں چھوڑی ۔۔۔
آہل اگر تجھے یہی کام کرنا تھا تو تو کس خوشی میں آیا ہے ۔۔۔ فارس موبایل کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا ۔۔
میرا یہاں آنے کا مقصد دوسرا ہے تھوڑا انتظار کر ۔ پتہ چل جاے گا ۔۔۔۔
مرش کا نام پکارا جا چکا تھا ۔۔ آہل مسلسل چلتی انگلیوں کو بریک لگ گیا ۔۔
میرا کام تو اور آسان ہو گیا ایک ایسا اتفاق تھا جس کو نا تو مرش نے سوچا تھا اور نا ہی آہل شاہ آفندی نے ۔۔
مرش بہت ہی کانفیڈینس سے ہولے ہولے قدم بڑھاتی ہویی اسٹیج پر تشریف لایی ۔۔ مرش کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ اپنی پلکوں کو اٹھا سامنے دیکھے سامنے بیٹھا شخص کون ہے ۔۔۔۔
آہل کی ایک ٹک مرش کو دیکھا جا رہا تھا گویا اس کویی خزانہ مل گیا ہو ۔۔
شاید اسے ہی اتفاق کہتے ہیں جس شخص کی ہم شکل نہیں دیکھنا چاہتے وہی شخص ہماری نظروں میں بار بار کیوں آتا ہے ۔۔
مرش کو بہت دیر سے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کی نظروں کے حصار میں ہے ۔۔ مرش نے جیسے ہی پلکیں اٹھایی اسے لگ رہا تھا جیسے ابھی زمین میں دھنس جاے گی ۔۔
آہل کی مسکراہٹ اور گہری ہو گی تھی ۔۔۔ آہل مرش کو آنکھ مارتا ہوا پھر سے موبایل میں بزی ہو گیا ۔۔ حالانکی اس کا پورا دھیان مرش کی طرف تھا ۔۔
مرش کی خاموشی سب کو پریشان کر رہی تھی ۔۔۔ مرش اپنے آگے کا سارا الفاظ بھول چکی تھی ۔۔
مرش کمان !!! کمان مرش ۔۔۔ نیچے کھڑے لوگوں کا شور مرش کے کانوں تک پہنچ تو رہا تھا ۔۔ لیکن مرش اس وقت سب سے غافل آہل کا چہرہ دیکھے جا رہی تھی ۔۔ کاش اس وقت زمین پھٹتی اور میں اس میں دفن ہو جاتی ۔۔ مرش نے دل سے دعا کر رہی تھی ۔۔۔
کیا یہاں پر ڈراما چل رہا ہے ۔۔ آہل چیر سے اٹھتے ہوے مرش کے قریب آیا ۔۔
اگر آپ الفاظوں کا چناو نہیں کر پا رہی ہے تو اسٹیج پر آنے کی ضرورت کیا تھی ۔۔
مرش خاموشی سے آہل کے الفاظ کو سن رہی تھی ۔۔۔ جب حد ہو گی تو آہل کو ایک اور موقع مل گیا جس کی تلاش اسے بہت شدت سے تھی ۔۔
۔۔۔۔کیا بکواس ہے ۔۔ اگر آپ فالتو ہے تو ضروری نہیں یہاں پر بیٹھا ہر شخص فارغ ہے ۔۔۔
منھ میں زبان ہے ؟؟ آہل اپنی سرخ آنکھیں مرش کے چہرے پر جماتے ہوے بولا ۔۔۔
میں پوچھ رہا ہوں زبان ہے یا نہیں ؟؟؟ ۔۔ آہل آج پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا حساب چکانے ۔۔
ہا ۔۔ ہاں ۔۔۔ مرش ہکلاتے ہوے ہاں میں گردن ہلایی ۔۔
مطلب کان نہیں ہے جبھی لوگوں کی آواز سنایی نہیں دے رہی ہے ۔۔
آخر اس جیسی لڑکیوں کو سلیکٹ کیوں کیا جاتا ۔۔۔ جب ہمت ہی نہیں اور ساری لڑکیاں مر گی ہے ۔۔۔ آہل کا غصے سے پورا اسٹاف تھر تھر کانپ رہا تھا ۔۔
حالانکی یے کویی اتنا غصہ کرنے والی بات نہیں تھی ۔۔۔
فارس حیرت زدہ آہل کو دیکھ رہا تھا ۔۔ ہو گیا اسے ؟؟ فارس منھ ہی منھ بڑبڑایا ۔۔۔
ایسا ہی حال نیچے کھڑے نفوس کا تھا ۔۔ بریرہ کو یقین نہیں آ رہا تھا بھایی یے سب بول رہے ہے ۔۔۔
سر مرش بہت اچھی لڑکی ۔۔۔ سر عباد ابھی کچھ بولتے آہل نے بیچ میں ہی انہیں ٹوک دیا ۔۔
اچھی ۔۔ کس لہاز سے یے اچھی ہے ۔۔ جب ہمت نہیں ہے تو اسٹیج پر خود کی نمایش کرنے سے بہتر ہے اپنے کلاس تک ہی محدود رہے ۔۔
آہل کے الفاظ مرش کی دل میں تیر کی طرح چبھ رہے تھے ۔۔۔
اس کے موٹے موٹے آنسوں گالوں پر گر رہے تھے ۔۔۔
آج کے بعد کسی بھی فنکشن میں اس جیسی لڑکی کو اگر کسی نے سلیکٹ کیا تو ایک ایک کر کے سب کو فارغ کر دوں گا ۔۔ آہل ایک ایک کو وارن کرتا ہوا نیچے اترا لوگ آنکھ پھاڑے آہل شاہ آفندی کو دیکھ رہے تھے ۔۔ لیکن وہ سب کو اگنور کرتا ہوا باہر کی جانب آیا ۔۔
مرش اپنے آنسوں پوچھتے ہوے اسٹیج سے نیچے اتری اسے آہل شاہ آفندی سے بات کرنی تھی ۔۔ مرش دوڑتے ہوے باہر کی جانب بھاگ کر آیی جہاں پر آہل ابھی گاڑی کو انلاک کر رہا تھا ۔۔
تمہاری دشمنی کیا ہے مجھ سے ۔۔ میں نے تمہارا ک۔۔ک۔ ۔کیا بگاڑا ہے ۔۔ رونے کی وجہ سے مرش کی آواز نکلنی مشکل ہو رہی تھی ۔۔
آہل مرش کی کلایی پکڑ کر کارنر کر سایڈ لے گیا ۔۔
میں میں ۔۔ نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ۔۔ تمہارا یے غرور صرف پیسے کے بل بوتے پر ہے نا ت۔ ۔۔تم بہت پچھتاو گے ۔۔ میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ۔۔۔
آہل مرش کا ایک ایک الفاظ کو بہت غور سے سننے کے بعد مرش کی کمر میں اپنا بازوں حایل کیا مرش آہل کے اتنے قریب تھی آہل شاہ آفندی اس کے دل کی دھڑکن کو بظاہر سن سکتا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابتداے عشق ہے روتا ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہل مرش کے آنسوں کو چٹکیوں میں اڑاتے ہوے یے شعر پڑھا ۔۔۔
مرش بھوری آنکھیں رونے کی وجہ سے سوج گی تھی ۔۔ مرش کے آنسوں آہل شاہ آفندی کو کمزور کر رہے تھے ۔۔ آہل نظریں چراتے ہوے مرش کے کو ایک جھٹکے سے چھوڑ دیا ۔۔۔ دونوں ہاتھوں کو جینس کی جیب میں ڈالے وہ مرش کو ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا ۔۔ مرش ہچکیاں اس کے دل میں اتر رہی تھی ۔۔۔ خود پر قابو رکھتے ہوے آہل گاڑی میں آ کر بیٹھ چکا تھا ۔۔ اتنی ہی دیر میں فارس بھی آ چکا تھا ۔۔۔
فارس تو آفس سے گاڑی منگوالے ۔۔ اور بریرہ کو لے کر گھر پہنچ ۔۔ آہل گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا ۔۔ لیکن بیک مرر سے مرش کو ہی دیکھے جا رہا تھا ۔۔ مرش ابھی بھی اسی طرح بیٹھی ہویی تھی ۔۔ آہل کے دل کو کچھ ہونے لگا تھا ۔۔ جیسے وہ پچھتا رہا ہو ۔۔۔ لیکن اب سب بیکار تھا ۔۔۔
میرے خاموش ریڈرس آپ لوگ ۔۔۔ نایس ۔۔ زبردست ۔۔ سے ہٹ کر ناول کے بارے میں کمنٹ کرے تو میری حوصلہ افزایی ہوگی ۔۔ آپ لوگ سے میری درخواست ہے ۔۔مجھے ناول کے بیسک پر کمنٹس کرے ۔۔ مجھے خوشی ہوگی ۔۔
