Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 34
Rate this Novel
Episode 34
صبح سورج کی چمکتی کرن آہل کے چہرے کا طواف کر رہی تھی فورن اس کی آنکھ کھلی تھی معمول وقت کے مطابق تھوڑی دیر ہو گیی تھی اس نے ذرا سی گردن مڑ کر بےسدھ سویی مرش پر ڈالی تھی لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ مچل گیی تھی شاید صبح صبح محبوب کا دیدار اتنا ہی دلکش ہوتا ہے ۔۔کچھ دیر وہ اس کے چہرے کودیکھتا رہا بے ساختہ دل میں ایک ننھی سی خواہش جاگی تھی اور اسے اپنی خواہش پوری کرنے میں کسی قسم کی کوویی پابندی نہیں تھی ۔۔وہ اس کے اوپر تھوڑا سا جھک کر اپنے ہونٹوں سے اس کی پیشانی پر محبت بھری مہر ثبت کی تھی اس وقت اگر مرش بے خبر نہیں سوتی تو ضرور تھوڑا سا واویلا مچاتی لیکن نیند اتنی گہری تھی کہ آہل کی اس حرکت کو دیکھنا نہ ممکن تھا ۔۔
اس نے مرش کو ڈسٹرب کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا شاید اسے مرش کا ضرورت سے زیادہ ہی خیال تھا یہ پھر کسی سوے ہوے انسان لو ڈسٹرب کرنا اس کی گڈ بکس میں شامل ہی نہیں تھا بہرحال وہ آفس کے لیے تیار ہو کر نیچے آ گیا تھا جہاں سبھی موجود تھے سواے بریرہ کے ۔۔
مدہم لیجے میں سلام کر کے وہ چییر پر براجمان ہو گیا تھا ۔۔
آہل آخر ایسا کب تک چلے گا ؟؟ جاوید صاحب بے حد سنجیدگی سے آہل کو دیکھ کر پوچھ رہے تھے ۔۔
کیا ؟؟ میں سمجھا نہیں ؟ آہل نے چونکتے پوے پوچھا تھا کیوں کی اس کی سمجھ سے باہر کی بات تھی ڈیڈ کس سلسلے میں بات کر رہے ہیں !
مرش کے بارے میں بات کر رہا ہوں میں وہ تمہاری بیوی ہے اگر تمہیں یاد ہو تو اسے اس طرح سے قید کر کے رکھنے سے تمہیں کیا خوشی مییسر ہوتی ہے ذرا وضاحت کرنے کی تکلیف کرو گے !! جاوید کا لہجہ سنجیدگی سے بھر پور تھا آہل کی حرکتوں سے وہ کافی پریشان تھے انہیں مرش کا خیال تھا کہیں اس کے ساتھ کویی زیادتی تو نہیں ہو رہی تھی ۔۔
ڈیڈ آپ کی بہو مجھے کتنا خوار کرتی ہے کتنا تنگ کرتی ہے کیا بتاوں !! آہل محض سوچ کر رہ گیا تھا زبان سے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔
ڈیڈ میں کوشش کروں گا آیندہ آپ کو ایسی شکایت نہ ہو !! آہل نے مسکرا کر انہیں یقین دلایا تھا ۔۔
خیال رکھنا آہل اسے ہم سے کویی شکایت نہ ہو ۔۔ جاوید صاحب میکانکی انداز میں بولے تھے ۔۔
جی ضرور ۔۔آہل چییر سے اٹھ گیا تھا کیوں کی اسے آفس جانا تھا ۔۔
تقریبن دس بجے کے قریب مرش کی آنکھ کھلی تھی فریش ہو کر وہ نیچے آ گیی تھی آج ایسا پہلا دن تھا کی اس کی آنکھ اتنی لیٹ کھلی تھی ۔۔
السلام علیکم مام اینڈ ڈیڈ ۔۔ جاوید صاحب اور مریم بیگم اسے لاونج میں ہی نظر آ گیے تھے مسکرا کر وہ ان کے قریب آ گیی تھی ۔۔
وعلیکم السلام بیٹا ۔۔دونوں نے تازگی بھری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا تھا ۔۔
تو کیسی رہی میری بیٹی کی نیند ؟؟ مریم بیگم نے مسکرا کر پوچھا تھا ۔۔
بہت اچھی ۔۔آنکھوں کے سامنے رات کا منظر لہرایا تھا لبوں پر ایک شرمیلی مسکراہٹ سج گیی تھی ۔۔
مرش بیٹا میں سوچ رہا تھا کیوں نہ آج آپ کو آپ کی امی کے گھر چلیں میری ایک میٹنگ بھی ہے وہی سے گزروں گا تو آپ کو ڈراپ کر دوں گا آپ کی تفریح بھی ہو جاے گی ۔۔ اخبار میز پر رکھ کر انہوں نے مسکرا کر مرش سے کہا تھا ۔۔
واو سچی میں ضرور چلوں گی ڈیڈ لیکن آہل کہیں برا نہ مان جاے ۔۔مرش کے دل میں تھوڑا سا خوف بھی تھا اور شاید اس کی فکر بھی تھی ۔۔
نہیں وہ کیوں برا ماننے لگا کچھ نہیں ہوتا چلو ساباش تیار ہو جاو ابھی کچھ دیر میں نکلنا ہے ہمیں ۔۔ جاوید صاحب ٹھوس لہجے میں بولے تھا ۔۔
ٹھیک ہے میں تیار ہو کر آتی ہوں۔ ۔مرش خوشی سے چہک اٹھی تھی ابھی رات میں ہی کیا گیا وعدہ بھی رتتی برابر اسے یاد نہیں تھا وہ ایسی ہی تھی لاابالی سی لاپراوہ ہر چیز سے بے نیاز ۔۔
ماں میں نے ایک دو جگہ جاب کے لیے اپلایی کیا ہے بس انٹریو کال کا انتظار ہے ۔۔ فارس اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر پر عزم لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔
فارس میرے بچے بس یہ جاب واب کا چکر چھوڑو میری بس اتنی سی خواہش ہے اپنے پوتے پوتیوں کو کھلا سکوں ۔۔ ایک ماں کا خواب جس طرح کا ہوتا ہے اس کے بارے میں تو شاید سب کو علم ہوگا فارس کی ماں کی بھی بس اتنی سی خواہش تھی ۔۔
ماں کون دے گا مجھ غریب کو اپنی بیٹی آج کل کے زمانے میں پیسہ بہت اہم ہوتا ہے ۔۔ فارس نے ہنس کر بات کا مزاق اڑایا تھا ۔۔
ایسے کیسے کویی نہیں دیے گا اپنی بیٹی میرے چاند جیسے بیٹے کو بس تمہارے ہاں کا انتظار ہے مجھے ۔۔ انہوں نے ممتا بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا اسے ۔۔
اچانک فارس کے موبایل کی بپ جلترنگ سے بجنے لگی تھی ماں اور بیٹے کی گفتگو کے بیچ میں خلل پڑی تھی ۔۔
ماں اہم کال ہے سن کر آ رہا ہوں ۔۔ فارس فون ہاتھ میں لے کر چھت پر آ گیا تھا محبوب سے بات کرنے کے لیے تنہایی سب سے بہتر جگہ ہوتی ہے ۔۔
بریرہ میں نے منا کیا تھا نہ کال نہیں کرنے کو ۔۔ فارس کا لہجہ ضرورت سے زیادہ تلخ تھا کیوں کی اسے تلخ رکھنا تھا وہ نرم نہیں پڑنا چاہتا تھا وہ مزید کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔
تمہیں کیا لگا تمہارے منا کرنے سے میں مان جاوں گی تم نے سوچ بھی کیسے لیا میں تمہاری جان لے لوں گی اگر اب کال کرنے کے لیے مجھے منا کیا تو !! بریرہ اپنے آنسوں کو بے رحمی سے رگڑ کر دھمکی دی تھی ۔۔
بریرہ لیسن ٹو می ہمہارا الگ رہنے ہی میں بہتری ہے ۔۔فارس یک لخت نرم پڑ گیا تھا وہ کب ایسے رویوں کا آدی تھا اور جن سے بے پناہ محبت ہوتی ہے ان کے لیے تو دل خودبخود مایل ہوتا جاتا ہے ۔۔
مجھے کچھ نہیں سننا کچھ بھی نہیں اور نا ہی تم مجھے منا کر سکتے ہو ایک بار نہیں ہزار بار کال کروں گی کیا کر لو گے تم ؟ بریرہ کی آواز دھیمی پڑ گیی تھی بچوں کی طرح وہ ضد کر رہی تھی ۔۔
میری جان پلیز رونا بند کرو ورنہ ابھی تمہارے پاس آ جاوں گا ۔۔۔ فارس ہار چکا تھا آخر کب تک وہ بریرہ سے اس طرح کا رویہ رکھتا اس کے لیے تو سب سے زیادہ مشکل تھا دو دن کیسے اس نے گزارے تھے کویی اس کے دل سے پوچھتا کیا حالت تھی اس کی ۔۔ کیسے دو دن گزرے تھے ۔۔
نہیں ہوں میں تمہاری جان اگر ہوتی تو تم اس طرح نہیں کہتے اتنی بدتمیزیاں نہیں کرتے ۔۔ بریرہ منھ پھلا کر شکوہ شکایت پر اتر آیی تھی کیوں یہ اس کا حق تھا ۔۔
بتاو کیا کرتا میں ایک تو تمہارے بھایی نے اچھی خاصی درگت بنا دی میری ابھی بھی جسم سے کراہ اٹھ رہی ہے ۔۔۔فارس ہنس دیا تھا کتنی دردناک ہنسی تھی کیسا کرب چھپا تھا اس ہنسی میں یہ ہنسی تو بہت مختلف تھی پہلی کی نسبت ۔۔۔
ایم سوری فارس سب میری وجہ سے ہوا ہے بھایی بھی مجھ سے بات نہیں کر رہے سخت ناراض ہے مجھ سے ۔۔۔ بریرہ کا لہجہ افسردگی سے بھرپور تھا لیکن فارس سے بات کر کے اسے تھڑی ڈھارس بندھی تھی ۔۔
ہاں تو کیوں نہ ہو ناراض تم نے اس سے اس کا لاڈلا اور پیارا دوست جو چھین لیا ہے ۔۔ فارس کا قہقہہ بے ساختہ تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا ۔۔
تمہیں مزاق سوجھ رہا ہے فارس ۔۔بریرہ برا مان گیی تھی ۔۔
مزاق کیوں کروں گا حقیقت بتا رہا ہوں ۔۔ فارس اب شرارت پر اتر آیا تھ۔ا ۔۔۔
فارس بھایی کیسے مانیں گے وہ مجھ سے ناراض ہے ان کا موڈ بہت خراب ہے ۔۔بریرہ آہل کی جانب سے قدرے پریشان تھی اسے ڈر تھا لگ رہا تھا نہ جانے کب تک ایسا چلے گا بھایی مانیں گے بھی یہ نہیں ۔۔
اس کا تو مجھے بھی کویی علم نہیں لیکن میں بتا رہا ہوں اب میں اپنی ہڈییاں توڑوانے کا رسک بلکل بھی افورڈ نہیں سکتا ۔۔ فارس نے ٹھیک ٹھاک افسوس کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔
جب بھی بولنا فضول ہی بولنا ۔۔ بریرہ نے دانت پیستے ہوے غصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
اور نہ جانے کتنے گھنٹوں تک دو دلوں کے درمیان سرگوشیاں ہوتی رہی تھی ۔۔۔
مرش فایزہ بیگم کے گلے میں جھول کر یکدم بچوں کی طرح نہ جانے کتنے گھنٹوں سے باتوں میں مصروف تھی ۔۔
امی میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں کتنے دن بعد اپنا کمرہ دیکھوں گی میں آپ کو بتا نہیں سکتی مجھے کتنی خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔۔۔مرش فورن اپنے کمرے میں جانے کے لیے کھڑی ہو گیی تھی ڈیر سارا کھانے پینے کا شاپر ہاتھ میں لے کر وہ اپنے کمرے میں داخل ہویی تھی ۔۔کچھ نہیں بدلہ تھا سب کچھ ویسا کا ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیی تھی کسی نے سہی کہا ہے اپنا کمرہ واقعی اپنی بادشاہت ہوتی ہے بیڈ پر پھیل کر بیٹھ کر وہ ساتھ میں لاے گیے کھانے پینے کی چیزیں پھیلا کر بیٹھی تھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کون سی چیز سے آغاز کیا جاے کیوں ضرورت سے زیادہ چیزیں تھی چیومگم کی مقدار حد سے زیادہ تھی کیوں چیومگم چبانا اس کا فیوریٹ مشغلہ تھا ۔۔۔
ڈیڈ آپ مجھے یہاں سے جلد از جلد باہر نکلوایں ۔۔ علی شہروز جیل کی سلاخوں کے پیچھے کسی بھپرے ہوے شیر کی طرح دھاڑ رہا تھا ۔۔
یو ڈونٹ وری بیٹا میں نے وکیل سے بات کر لی ہے بہت جلد تمہاری ضمانت ہوگی ۔۔۔ مسٹر شہرز نے بیٹے کو یقین دلایا تھا ۔۔
میں آہل شاہ آفندی کو جان سے مار دوں گا ڈیڈ اس کی سانسں چھین لوں گا تڑپا تڑپا کر اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا ۔۔۔ علی شہروز کی آنکھوں میں یقین تھا یقین سے بڑھ کر غرور تھا ۔۔
میں تمہارے ساتھ ہوں بیٹا ۔۔ مسٹر شہروز نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا کیسا تھا یہ باپ بیٹے کو روکنے کے بجاے اس کا ساتھ دینے کا وعدہ کر رہا تھا ۔۔لعنت ہے ایسے لوگوں پر ۔۔۔
سمیرا ؟ آہل ایک ایک کر کے تن فن کرتا سڑھیاں اترنے کے ساتھ تیز آواز میں ملازمہ کو پکار رہا تھا ۔
جی صاحب جی ۔۔ سمیرا نظریں نیچے جھکاے کھڑی تھی ۔۔
مرش کہاں پر ہے ؟؟ آہل کا سر چکرا گیا تھا مرش کو نا پا کر اسے ڈر تھا کسی انہونی سے کیوں وہ جانتا تھا اس بیوقوف لڑکی سے کچھ بھی توقع ک جا سکتی تھی۔۔
مرش تو اپنے والدین کی طرف گیی ہویی ہے میرے خیال سے وہ تمہیں بتانا بھول گیی ہوگی ۔ ۔۔ جواب سمیرا کے دینے کے بجاے مریم بیگم نے دیا تھا ۔۔
کس کی اجازت سے گیی ہے ؟؟ آہل اب شدید غصہ آ رہا تھا جبکہ دیکھا جاے تو اس میں کویی غصہ کرنے والی بات نہیں تھی وہ کسی غیر کے گھر نہیں بلکہ اپنے والدین کے گھر گیی ہویی تھی ۔۔
تمہارے بابا نے کہا تھا بیٹا ۔۔ مریم بیگم نے حقیقت بتایی تھی ۔۔
ڈیڈ بھی نا ” اوکے تھینکس ” آہل نے ایک نظر مریم بیگم پر ڈالی تھی اور باہر چلا گیا تھا ۔۔
السلام علیکم آنٹی ؟؟ آہل مسکرا کر فایزہ بیگم کو سلام جھاڑا تھا ۔۔
وعلیکم السلام ارے آہل بیٹا تم آو آو مجھے امید نہیں تھی تم آو گے مرش نے بھی کویی ذکر نہیں کیا تھا ۔۔ فایزہ نے نہایت خوشی سے اس کا استقبال کیا تھا کیوں نہ کرتی آخر وہ اس گھر کا اکلوتہ داماد تھا ۔۔
جی ” آنٹی ” میں مرش کو لینے آیا تھا ۔۔ آہل قریب رکھے صوے پر بیٹھ گیا تھا ۔۔
اچھا پہلے تم بیٹھو میں تمہارے لیے چاے لاتی ہوں ۔۔ فایزہ بیگم اٹھ گیی تھی چاے کا ارادہ کر کے ۔۔۔
نو نو آنٹی ، بہت شکریہ پلیز آپ تکلف نہ کریں ۔۔آہل نے انکار میں سر ہلا دیا تھا دراصل اسے چاے زیادہ پسند ہی نہیں تھی ۔۔
کچھ دیر کی گفتگو کے بعد آخر فایزہ بیگم نے اسے مرش کے کمرے کی جانب اشارہ کیا تھا ۔۔
آہل نے کمرے میں جیسے ہی قدم رکھا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر اسے قدرے حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔
مرش چیومگم کے ذریعے بڑا سا گبارہ پھلا کر بیٹھی تھی جیسی ہی اس کی نظر سامنے کھڑے آہل پر پڑی تھی غبارہ کو فورن منھ کے اندر کیا گیا تھا اسے تھوڑی شرمندگی بھی محسوس ہو رہی تھی نہ جانے آہل کیا سوچے اس کی اس حرکت پر ۔۔
تم ؟؟ مرش نے تھوڑی حیرانگی کا ردعمل ظاہر کیا تھا ۔۔
جی میں اور آپ بتانا پسند کریں گی یہ منھ میں کون سی چیز چبایی جا رہی ہے ۔۔ اس کے مسلسل حرکت کرتے منھ کو دیکھ کر آہل نے آنکھ دکھایی تھی ۔۔
آ ۔۔ وہ میں دراصل میں چیونگم کھا رہی تھی ۔۔ مرش نے مسکرا کر بتایا تھا اس کا اندازہ تھا آہل خوش ہو جاے گا ۔۔
مرش کیا بچوں کی طرح پورے کمرے کو بےحال بنا رکھی ہو اور پلیز فورن اس چیونگم کو تھوک کر آو ورنہ مجھ سے برا کویی نہیں ہوگا ۔۔ بیڈ پر سوز سمیت بیٹھ کر آہل نے مصنوعی غصے سے کہا تھا ۔۔
لیکن آہل مجھے پسند ہے لو تم بھی ٹرایی کرو ۔۔ مرش نے ایک چیونگم کا پیک اس کی طرف بڑھا کر مسکراتے ہوے کہا تھا ۔۔
مرش میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے باہر تھوک کرو ۔۔۔آہل نے غرارتے ہوے کہا تھا شاید تھوڑا بہت اثر ہو جاے مرش پر ۔۔
ٹھیک ہے !! مرش منھ پھلا کر چیونگم ڈسٹبین میں ڈال دی تھی لیکن دل بے حد اداس ہو گیا تھا ابھی تو اس نے چیونگم کا خوب اچھے سے مزہ بھی نہیں لیا تھا ۔۔
اور یہ ساری چیزیں کون کھاے گا ۔؟؟ آہل کا اشارہ بیڈ پر پھیلی دیگر چیزوں کی طرف تھا جو ایک انسان کے حساب سے بہت زیادہ تھی ۔۔
یہ سب میں کھاوں گی ۔۔ مرش نے اپنی جانب اشارہ کیا تھا جبکہ سچ تو یہ تھا کی مرش کھانے پیننے میں حد سے زیادہ کاہل تھی جس کا اندازہ آہل کو بخوبی تھا ۔۔
مرش دوپٹہ کہاں پر ہے تمہارا ۔۔ آہل اس کا نیلا رنگ کا دوپٹہ دیکھ کر بولا تھا جس کا ایک حصہ زمین پر تھا اور ایک حصہ بیڈ پر تھا یہ نہیں تھا کی آہل شاہ آفندی اس کے اوپر پابندیاں لگا رہا تھا وہ صرف اس کو احساس دلانا چاہتا تھا اس کی اتنی لاپرواہی سہی نہیں تھی آج تو چل گیا کیوں اس کا شوہر تھا اس رازداں تھا اس کی عزت اپنی عزت سمجھنے والا تھا لیکن اگر اسی جگہ کویی اور شخص ہوتا تو وہ کس نظر سے دیکھتا کیا نیت ہوتی اس کی ۔!!!
دوپٹہ یہ رہا ۔۔مرش اندر ہی اندر خفیف ہو رہی تھی لیکن وہ جھٹ سے دوپٹہ زمین سے اٹھا کر اپنے ارد گرد اچھے سے پھیلا رہی تھی اور ْآہل اسے یوں دوپٹہ سہی کرتے ہوے بڑی دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ایم سوری مجھے یاد ہی نہیں تھا دوپٹہ میرے پاس نہیں ہے ۔۔ مرش نہ جانے کیوں وضاحت دینے پر اتر آیی تھی ۔۔
مرش میں چاہتا ہوں تم اپنے آپ کو چھپا کر رکھو صرف میرے لیے کیوں تمہارے اوپر کسی غیر کی نظر میں برداشت نہیں کر سکتا تمہیں میں صرف تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اپنے آپ کو بہت زیادہ چھپا کر رکھا کرو میرے سامنے تم کسی بھی حالت میں رہوگی وہ مجھے قبول ہے کیوں کی ہمارا رشتہ ہی ایسا ہے لیکن پلیز اپنا خیال رکھا کرو ۔۔ آہل اس کا تھام کر بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا کیوں کی وہ جانتا تھا مرد کی نیت بدلنے میں ایک لمحہ نہیں لگتا اب علی شہروز کو ہی دیکھ لیں ۔۔۔
اوکے !! مرش اچھے بچوں کی طرح گردن ہاں میں ہلا دی تھی ۔۔
میں تمہارے لیے پانی لاتی ہوں ۔۔ آہل اس سے پہلے کویی اور گستاخی کرتا مرش فورن اپنا ہاتھ چھڑا کر نو دو گیارہ ہو گیی تھی ۔۔
دیوار پر لگی تصویروں کو دیکھ کر آہل کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گیی تھی کیوں کی وہ اس کی دشمن جاں کی تصویرے تھی ۔۔
رینک میں بے تحاشہ کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا کتابوں کے ساتھ ساتھ البمس بھی بڑی نفاست کےساتھ سجاے گیے تھے ۔۔ آہل کے دل میں نہ جانے کیا خیال آیا وہ اٹھ کر رینک کے قریب آ گیا تھا ۔ حیرت تو اسے اس بات پر ہو رہی تھی کالج بکس ایک بھی موجود نہیں تھی سواے رومینٹک ناولوں کے علاوہ اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک ناول نکالا تھا کچھ دیر یونہی ورک گردانی کرنے کے بعد وہ دوبارہ کتاب اسی جگہ پر سجا دیا تھا ۔۔
اچانک اس کی نظر ایک البم پر پڑی تھی دل میں شدید خواہش جاگی تھی مرش کے بچپن کو دیکھنے کی ، بچپن میں کس قدر موٹی تھی ؟ یہ محض آہل کی سوچ تھی آنکھیں شرارت سے چمکنے لگی تھی لبوں پر شریر مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی ۔۔وہ البم ہاتھ میں لے کر بیڈ پر آ گیا تھا ۔۔ پہلی ہی فوٹو پر آہل کا قہقہہ برامد ہوا تھا ۔۔ جس میں مرش چاکلیٹ کھاتے کھاتے اپنے پورے منھ میں تھوپی ہویی تھی موٹی گپلو ایسی مرش بے حد کیوٹ لگ رہی تھی جیسے آج بھی لگتی ہے ۔۔ ایک کے بعد دو ، دو کے بعد تین ایسے ایسے تصویرں کا جایزہ لیتے ہوے آہل کا قہقہہ اچانک ہوتا تھا ۔۔
آہل یہ لو میں تمہارے لیے کافی بنا کر لایی ہوں ۔۔مرش ہاتھ میں کافی کا ٹرے لیے کمرے میں داخل ہویی تھی ۔۔جیسے ہی اس کی نظر البم پر پڑی حلق سے ایک جی دار چیخ برامد ہویی تھی ایسا لگ رہا تھا مرش کی نا جانے کون سی چوری پکڑی گیی تھی ۔۔ اس نے جلدی سے ٹرے میز پر رکھا تھا اور فورن اس کی طرف بھاگی آیی تھی چہرہ شرم کے مارے سرخ ہو گیا تھا کیوں البم میں موجودہ تصوریں حد زیادہ فنی فنی تھی ۔۔
واو مرش لگتا ہے بچپن میں خوب کھایی پیی تھی دیکھو کتنی ہلدی لگ رہی ہو ۔۔ آہل کا انداز سراسر مزاق اڑانے والے تھا ۔۔
آہل پلیز مجھے یہ البم دو ۔۔ مرش اب اس کے ہاتھ سے البم جھپٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
اس میں یار کیا غضب کی لگ رہی ہو میں سوچ رہا ہوں تم چل کیسے پاتی تھی یار تمہارا ویٹ بچپن میں جب اتنا زیادہ تھا تو اب کتنا ہوگا ؟ آہل تصویروں سے نظریں ہٹا کر اس کا مکمل جایزہ لینے میں مگن تھا ۔۔
آہل تمیں شرم آنی چاہیے کسی کی پرسنل چیز اس طرح سے دیکھنا وہ بھی اس کی اجازت کے بغیر ۔۔مرش نے ایک بار پھر سے البم جھپٹنے کی کوشش کی تھی نتیجہ آہل اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر ہلکا سا جھٹکا دیا تھا جس سے مرش اس کے چوڑے سینے سے آ لگی تھی پلیکں یکایک زمین پر گڑھ گیی تھی لب لرزنے لگے تھے ۔۔
دیکھ رہا ہوں آج اتنا وزن ہے جب میرے بچوں کی مما بنو گی تب کتنا ہوگا ۔۔ آہل کا لہجہ ہنوز شرارت تھا ۔۔
آہل وہ البم مجھے دو ۔۔مرش اس کی باہوں میں ابھی بھی قید تھی لیکن پھر بھی وہ اسی طرح البم لینے کا جدوجہد کر رہی تھی ۔۔
کیوں نہ مما پاپا بننے کی تیاری کی جاے کیا خیال ہے ۔۔ آہل کا لہجہ حد سے زیادہ بے باقی لیے ہوے تھا ۔۔
شرم سے مرش کا نظریں ملا پانا مشکل ہو رہا تھا وہ اس کی باہوں میں آزاد ہونے کے لیے کسمسا رہی تھی لیکن گرفت خاصی مضبوط تھی آزادی ملنا اتنا بھی آسان نہیں تھا ۔۔
اچانک ایک بہت بڑا انکشاف ہوا تھا وقت ٹھہر سا گیا تھا پلکیں جھپکنا بھول گیی تھی یک لخت آہل کی گرفت کمزور ہویی تھی جس پر مرش کو تھوڑی حیرت بھی ہویی تھی ۔۔
مما !! آہل نے یہ لفظ منھ ہی منھ کہا تھا جس کو شاید اس نے ٹھیک سے سنا بھی تھا یہ نہیں ۔۔
یہ ۔۔یہ کون ہے مرش ؟؟ ایک بڑے سایز کا فوٹو آہل کے ہاتھوں میں تھا جس میں اس کی مما یعنی فایزہ بیگم اور نورا بیگم کی تصویرے تھی جو صرف آفندی ہاوس میں تھی جاوید صاحب کے پاس آہل نے تو ان تصویروں کو کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کی اپنی مما کا فوٹو ہمیشہ اس کے وایلٹ میں محفوظ ہوتا تھا ۔۔
یہ میری امی ہے اور یہ امی کی کویی جاننے والی ہے جو کی امی بے حد عزیز ہے میں ان سے کبھی ملی نہیں ہوں امی اکثر ذکر کرتی ہیں ان کا شاید میری کویی دور دراز کی کویی آنٹی ہے ۔۔۔ مرش کے علم میں جو کچھ تھا سب کچھ اس نے آہل کے گوش گزار کر دیا تھا ۔۔
چھوڑو تم یہ سب دیکھو اس چکر میں کافی بھی ٹھنڈی ہو گیی ۔۔مرش دوبارہ سے کافی کا ٹرے لینے کے لیے پلٹی تھی شاید وہ آہل کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ پایی تھی ۔۔۔
فوٹو جینز کی جیب میں ڈال کر وہ تن فن کرتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا اسے اپنے سوالوں کے جواب چاہیے تھے اسے حقیقت جاننی تھی جس سے وہ قطی لاعلم رکھا گیا تھا اور اس کا جواب صرف ایک انسان دے سکتا تھا وہ تھا اس کا باپ ” جاوید شاہ آفند”
آہل کافی ۔۔مرش کی آواز کہیں بہت پیچھے رہ گیی تھی اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔آہل کو ہوا کیا ہے خیز وہ اتنا سوچنے والوں میں سے کہاں تھی کی سوچتی کویی ضروری کام ہوگا ۔۔یہی کہہ کر اس نے خود کو پرسکون کر لیا تھا ۔۔۔
آہل ہایی اسپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا ایک الجھی ہویی گھتھی تھی جس کو سلجھانا بے حد ضروری تھا ۔۔
گاڑی کس بہت بڑی عمارت کے سامنے آ کر رکی تھی اس وقت جاوید صاحب سیاستدانوں کی محفل میں بیٹھ کر ایک بے حد ضروری اہم میٹںگ میں تھے ۔۔
سر اندر میٹںگ چل رہی ہے سر کا سخت آڈر ہے کویی اندر نہیں جا سکتا ۔۔۔ دروازے پر ہی گاڈز نے اسے اندر جانے سے روکا تھا ۔۔۔
سامنے سے ہٹو آہل شاہ افندی ہوں میں ۔۔ بس اتنا سا کہنا تھا کی فورن اندر جانے کا راستہ صاف ہو چکا تھا ۔۔۔
ڈیڈ ؟ آہل اپنی سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا جو اس وقت شہر کے اعلی بزنیسمین کے ساتھ میٹنگ کرنے میں مصروف تھے لیکن آہل کی آواز سن کر یک لخت ان کی زبان کو بریک لگا تھا ۔۔۔
مجھے بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔ آہل سوچ کر آیا تھا سوالوں کا جواب لیے بغیر وہاں سے ہلے گا بھی نہیں ۔۔
ایک معزرت خواہ نظر جاوید شاہ آفندی نے بیٹھے ہوے لوگوں پر ڈالی تھی ۔۔
چند ہی منٹ میں روم خالی ہو گیا تھا صرف باپ اور بیٹے رہ گیے تھے ۔۔
فایزہ آنٹی اور مما کا کیا ریلشن ہے ڈیڈ آپ مجھے اس سوال کا جواب دے ۔۔ آج وہ گھڑی آ گیی تھی جس راز کو راز گیا تھا آج اس کے فاش ہونے کی گھڑی آ گیی تھی ۔۔۔
