Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 28
Rate this Novel
Episode 28
شرم و حیا کی وجہ مرش کا چہرہ گلال ہو گیا تھا ۔۔
آہستہ آہستہ اس نے اپنی آنکھیں کھولی تھی ۔۔
آہل اب اس کو اپنی گرفت سے آزاد کر چکا تھا ۔۔
آہل ؟؟ مرش نے بے ساختہ پکارا ۔
جی جان آہل ۔۔ آہل اب اس کی طرف متوجہ تھا ۔۔
محبت کرتے ہو مجھ سے ۔۔ مرش نے کپکپاتے لب سے پوچھا ۔۔
بے پناہ !! آہل نے ہاں میں گردن ہلایی ۔۔
محبت کرنے والے تکلیف تو نہیں دیتے ۔۔ مرش نے لب کچلتے ہوے کہا ۔
آہل اس کی بات سن کر بے ساختہ مسکرا دیا ۔۔
ایک دن اس کا ازالہ بھی کروں گا میری جان ۔۔ اس نے مرش کا ہاتھ اپنی گرفت لے کر کہا ۔۔
تم بہت ظالم ہو آہل ۔۔ مرش نے ایک ٹک بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔۔
صرف تمہارے معاملے کیوں کی اس میں خود کو بہت بے بس پاتا ہوں ۔۔
مرش نے کچھ کہنے کے لیے جیسے اپنا منھ کھولا تبھی دروازے پر دستک ہویی مرش کرنٹ کی طرح بیڈ سے اٹھ کر جلدی سے اپنا دوپٹہ اٹھا کر اپنے گرد اچھے پھیلا کر سیدھے کھڑی ہو گیی۔ ۔
یس !! آہل بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر پرسکون انداز میں بولا ۔۔
جاوید صاحب مریم بیگم ساتھ ساتھ کمرے میں داخل ہوے تھے ۔۔
ڈیڈ آپ ۔۔ آہل سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا ۔۔
بھیی ہمیں بریرہ نے ابھی ابھی بتایا کیسے کر رہے تھے ڈرایو ہزار بار کہا ڈرایور کو ساتھ لے کر جایا کرو لیکن نہیں تمہیں تو اپنے آگے کسی کی سننی ہی نہیں ۔۔ جاوید صاحب نے اچھی خاصی آہل کو ڈپٹ لگایی تھی ۔۔
آہل نے سکون کا سانس لیا تھا شکر ہےبریرہ نے یے نہیں بتایا تھا یے سب فایٹنگ کی وجہ سے ہوا تھا ورنہ جاوید صاحب کے سوال در سوال آہل کو بور کرنے کے لیے کافی تھے ۔۔
آہل یے میں تمہارے لیے ہلدی والا دودھ لےکر آیی تھی دیکھو کیسا مرجھا گیا ہے چہرہ ۔۔ مریم بیگم کی اتنی غلط بیانی پر مرش کا منھ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا ۔۔
مام !!! دودھ کی ضرورت مجھے نہیں مرش کو ہے چوٹ مجھے لگی ہے درد اسے ہو رہا ہے ۔۔ آہل شوخی سے بولتا ہوا غلطی سے ہی سہی لیکن زندگی میں پہلی بار اس نے مریم بیگم سے ماں کہہ کر مخاتب ہوا تھا ۔۔
مریم بیگم جیسے بت کی بن کر رہ گیی تھی پورے جسم میں ایک عجیب سی خوشی کی لہر دوڑ گیی تھی ۔۔
آہل کو فورن احساس ہوا تھا کیا سے کیا بول گیا تھا وہ ۔۔
آ۔ ۔ نو تھینکس آپ جانتی ہے مجھے دودھ نہیں پسند ۔۔ اس نے فورن خود کو کمپوز کیا تھا ۔۔
آہل تمہاری صحت کے لیے اچھا رہے گا ۔ جاوید صاحب نے کہا ۔۔
لیکن !! آہل اس سے پہلے ایک بار پھر سے انکار کرتا مرش نے آنکھ اشارے سے التجایہ انداز میں دودھ کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔ مطلب صاف تھا پلیز آہل دودھ کا گلاس لے لو ۔۔
لاے دیں۔ ۔ آہل شاہ آفندی آج مجبور ہو گیا تھا صرف ایک لڑکی وجہ سے ۔۔
مرش مسکرا دی کم از کم آہل نے اس کی بات کا بھرم تو رکھا تھا ۔
مرش پین کلر ضرور دینا بہت لاپرواہ یے آہل ۔۔ جاوید صاحب نے مسکرا کر مرش سے کہا ۔۔
جی ڈیڈ ۔۔ مرش نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا ۔
اچھا اب ہم چلتے ہیں تم لوگ بھی کافی تھکے ہوگے ۔۔ مریم بیگم اور جاوید صاحب جا چکے تھے ۔۔
مجھے دودھ نہیں پسند ۔۔ آہل نے دودھ کا گلاس دیکھتے ہوے کہا ۔۔
پسند ہو یا نہیں پینا تو پڑے گا ۔۔ مرش آج زندگی میں پہلی بار اس کے لیے مسکرایی تھی ۔۔
ضروری ہے ؟؟ آہل نے خفگی سے پوچھا ۔۔
بے حد ۔۔ مرش نے کچھ بگڑ کر جواب دیا ۔۔
ایک کام کرو تم پی لو ۔۔ آہل نے مرش کو مسکرا کر آفر کی تھی ۔۔
بلکل نہیں چپ چاپ فینش کرو تم ۔۔ مرش نے خوشمگیں نظروں سے آہل کو گھور کر کہا تھا ۔۔
مرش میری جان پلیز تم پی لو ویسے بھی آگے چل کر تمہیں کیلشیم کی کافی ضرورت پڑے گی ۔۔ آہل نے ایک مار کر مرش کو چھیڑا تھا ۔۔
کیوں مجھےکیوں کیلشیم کی ضرورت پڑنےلگی ۔۔ مرش نے تنک کر پوچھا ۔۔
بہت معصوم ہو تم اب تمہیں یے بھی بتاوں کیوں ضرورت پڑے گی ۔۔ آہل نے چونکتے ہوے کہا ۔۔
ہاں بتاو ۔۔ مرش انجانے میں بول گیی تھی اس کے دل و دماغ میں نہیں تھا آہل کا ذہن کیا سوچ رہا ہے ۔۔
یار آگے چل کر میری بچوں کی مما تو تم نے ہی بننا ہے اس دنیا میں میرے بچوں کو تم نے ہی لانا ۔۔ اب بتاو سب زیادہ ضرورت کسے ہے ۔۔ آہل نے مرش کا چہرہ بغور دیکھتے ہوے سنجیدگی سے کہا تھا ۔۔
وآآٹ ؟؟ مرش کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔۔
کچھ غلط کہا کیا میں نے ۔۔ اس نے معصومیت سے پوچھا ۔
تم یے سب بھی سوچتے ہو ۔۔مرش نے حیرت کا اظہار کیا ۔
آف کورس کیوں غلط ہے کیا میں تو اس کے آگے بھی بہت کچھ سوچتا ہوں لیکن فلحال اتنا ہی کافی ہے تمہیں بتانے کے لیے ۔۔ اس نے بے حد پرسکون انداز میں جواب دیا ۔۔
نہ پیو میری بلا سے ۔مرش پیر پٹخ کر واشروم میں گھس گیی تھی ۔۔
آہل بنا چینج کیے نہ جانے کب غنودگی میں چلا تھا ۔۔
آہل ؟؟ مرش نے بالوں میں پھیرتے ہییر برش کو رکھ کر آہل کو پکارا ۔۔
کویی جواب نہ ملنے پر مرش نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔
جبھی اس کے موبایل کی پر زور زور اننون نمبر سے کال رنگ ہونے لگی تھی ۔۔
مرش نے چونک کر فون ہاتھ میں لیے بالکنی میں آ گیی تھی ۔۔
ہیلو ؟ مرش نے آہستگی سے کہا ۔۔
ہلیو مایی پرینسیز ہاو آر یو ۔۔۔ علی نے خیریت دریافت کرنی چاہی ۔۔
اپنی بکواس بند کرو میں تمہیں بتا رہی ہوں اپنی حد رہو علی ۔۔ مارے خوف سے مرش کا جسم لرز رہا تھا لیکن اسے ہمت کرنی تھی وہ اپنا کردار کسے سامنے مشکوک ہوتا نہیں دیکھ سکتی تھی خاص طور پر آہل شاہ آفندی کے سامنے ۔۔
آج کیا لگ رہی تھی یار ۔۔الفاظ ہی نہیں ہے میرے پاس تمہاری تعریف کے لیے ۔۔ دوسری جانب سے بڑی ڈھٹایی کا مظاہرہ کیا گیا تھا ۔۔
کیوں کر رہے ہو تم ایسا ؟؟ مرش کے ذہن میں چلتا سوال آخر زبان پر آ ہی گیا تھا ۔۔
تمہارے اس نام و نہاد شوہر کے لیے جس مجھے بڑی شدید قسم کی نفرت ہے میں اسے جب بھی مارنا چاہتا ہوں وہ بچ جاتا ہے بڑا ہی کویی خوشنصیب انسان ہے لیکن صرف وقتی طور پر ۔۔ علی نے اپنی مٹھی کو سختی سے بند کرتے ہوے کہا ۔۔
تمہاری آہل کے ساتھ کیا دشمنی ہے ؟؟ مرش نے بے اختیار پوچھا ۔۔
ایک بات ہو تو بتاوں نہ اس نے مجھے ہمیں سکشت دی ہے میری ہر چال چلنے سے پہلے مجھ پر ہی وار کر دیتا تھا ایک میٹنگ تھی ہماری امریکہ کے مانے جانے بزنیس مین کے ساتھ ان لوگ کی ڈیل تھی ہماری کمپنی کے ساتھ طے ہویی تھی مجھے آٹھ کروڑ کا فایدہ ہونے والا تھا لیکن افسوس آہل شاہ آفندی میرے راستے میں آ کر مجھے آٹھ کروڑ سے محروم کر دیا تھا اور اس کے بعد بھی بہت کچھ ہوا لیکن اس بار نہ صرف اس نے مجھے نیچا نہیں دکھایا ہے بلکہ میری عزت نفس کو کھاک میں ملا دیا تمہیں مجھ سے چھین کر اگر تم چاہو تو ہم اب بھی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں میں تمہیں بہت چاہتا ہوں مرش تم ۔۔ تم اگر چاہو تو آہل سے خلاء لے سکتی ہوں ۔۔ علی اپنی ہی دھن میں روانی سے بولے چلا جا رہا تھا ۔۔
شٹ اپ میری طرف تم جہنم میں جاو ۔۔ مرش نے دانت پر دانت جماتے ہوے سختی کہہ کر فون کو آف کر دیا تھا ۔۔
آہل اسی طرح بے خبر سویا ہوا تھا جس طرح مرش اسے چھوڑ کر گیی تھی ۔۔
وہ موبایل سایڈ میں رکھ کر ہولے سے بیڈ پر بیٹھ گیی تھی بے وجہ نہ جانے آنسوں کی لڑی کب سے اس کے گالوں کو بگھو رہی تھی اس نے گردن گھما کر آہل کا چہرہ دیکھا جو ہر قسم کے داغوں سے بے نیاز نور چشم کی طرح پھوٹ رہا تھا کویی دیکھ کر یے اندازہ نہیں لگا سکتا تھا یے وہی کھڑوس سا آہل شاہ آفندی ہے جس کے اندر بے حد غرور ہے لیکن اس وقت وہ کسی ننھے بچے کی طرح سو رہا تھا اس کے سانسوں کی ہلکی سے ارتعاش پورے کمرے کو جکڑ رہی تھی ۔۔
مرش اپنے آپ سے بے خبر یک ٹک آہل کے چہرے کا جایزہ لے رہی تھی جیسے کچھ ڈھنڈنے کی کوشش ہو ۔۔
کیا تھا یے شخص کبھی دھوپ کبھی چھاو اس کا شوہر اس کا مجازی خدا اس کا سرتاج کتنا مضبوط رشتہ تھا ان کا ۔۔
آہل کیا ہو تم آہل کا علی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ایسا کیا ہے جو میں نہیں جانتی آہل شاہ آفندی کیا چھپا رہے ہو تم مجھ سے آخر کیا ۔۔ ثمرہ اریشہ ان دونوں کی باتیں کویی لڑکی اغوا ہونے کے بعد اس شخص کی تعریف کیسے کر سکتی جس نے ان کی عزت کا جنازہ نکالنا چاہا ۔۔ مرش آہل کے ستایشی چہرے پر نظریں جماے اسے ایک ٹک دیکھ کر سوچنے میں محو تھی ۔۔
سویی نہیں تم ؟؟ غنودگی میں ڈوبی آہل کی آواز مرش کے کانوں تک بہ مشکل پہنچی تھی ۔۔
تم جاگ رہے ہو ۔۔ مرش کو یکا یک شرمندگی نے آن گھیرا تھا ۔۔
نہیں میں سو رہا تھا لکین اس طرح دیکھو گی تو ظاہر ہے نیند کھلے گی ہی ۔ جواب صاف تھا ۔۔
لیکن تم تو بے خبر سو رہے تھے ۔!! مرش کی سویی اب بھی وہی اٹکی تھی ۔۔
ایک بات بتاو گی ؟؟ آہل نے مسکرا کر پوچھا ۔۔
پوچھو !! مرش نے نظریں چراتے ہوے کہا ظاہر ہے اس کی چوری پکڑی گیی تھی ۔۔
راتوں رات جاگ کر مجھے دیکھنے کا سلسلہ کب سے شروع کی ہو ؟؟ سوال بے حد معصوم سا تھا ۔۔
کیوں کیا میں نہیں دیکھ سکتی میرے دیکھنے پر کویی پابندی ہے کیا ؟؟ جواب دینے کے بجاے الٹا سوال کیا گیا تھا ۔۔
دیکھ سکتی ہو سویٹ ہارٹ بلکہ دیکھنا تو بہت چھوٹی بات ہے تم جو چاہے کر سکتی بے فکر رہو پورا کا پورا تمہارا ہی ہوں جب چاہے جو چاہے کر سکتی ہو ۔۔ آہل نے پوری آنکھ کھول کر بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر مسکراتے ہوے کہا تھا ۔۔
بہت شکریہ آپ نے مجھے یے اعجاز بخشا آہل صاحب ۔۔ مرش نے چڑھانے والے انداز میں کہا ۔۔
ایک بات میں پوچھو ؟؟ مرش نے لب کچلتے ہوے اجازت طلب کی ۔
پوچھیے ۔۔ رات کے اس پہر یے بندہ آپ کو جواب دینے کے لیے راضی ہے ۔۔
تمہیں کیسے پتہ چلا میں تمہیں دیکھ رہی تھی ۔۔ مرش نے مشکوک ہو کر پوچھا ۔۔
تمہاری چوڑیوں کی کھنک سے ۔۔ آہل نے صاف گویی جواب دیا ۔۔
مرش کی نظر بے ساختہ اپنی چوڑیوں پر گیی تھی ۔۔ اوہ میں تو بھول ہی گیی تھی اتارنا ۔۔ مرش اب اپنی چوڑیاں ایک ایک کر کے اتارنے میں مگن تھی ۔۔
ایسا کیا دیکھ رہے ہو ۔۔ آہل کی تپش دیتی نظروں سے مرش نے گھبرا کر آخر پوچھ ہی لیا تھا ۔۔
یوہیں ۔۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔
اب سو جاو ۔۔ آہل کو حکم دے کر مرش پوری طرح کمبل خود پر تان چکی تھی۔۔
مرش ؟ آہل نے ایک بار پھر اسے ڈسٹرب کیا تھا ۔
اب کیا ہے ؟؟ مرش نے چہرے سے کمبل ہٹا کر اس کو دیکھا تھا ۔۔
آیی لو یو ۔۔ مرش کی گرم پیشانی پر آہل نے اپنے لب رکھ کر محبت بھری مہر ثبت کی تھی ۔۔
گڈ نایٹ ۔۔ آہل نے مسکرا کر کہا ۔
مرش کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا بہ مشکل اس نے اپنی آنکھیں بند کی تھی لیکن یہاں نیند کس کو آ رہی تھی ۔۔
ڈیر ریڈر ایم سوری کافی وقت لے لیا تھا میں نے لیکن آپ لوگ کو بہت مس بھیکیا تھا 😊😊 چلیں آج کا ایپیسوڈ پڑھ کر بتاے کیسا ہے ؟ 😍😍
