122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

بریرہ بہت نروس تھی ۔۔۔ کیوں کی آج کالج کا فرسٹ ڈے تھا ۔۔ ہر کسی سے انجان نا ہی کویی فرینڈ ۔۔۔ وہ کلاس میں بیٹھی آتے جاتے لوگوں کا ہجوم دیکھ رہی تھی۔ ۔ ۔۔ بریرہ کی خوبصورتی سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔۔ اس کے لیے یہ سب بہت ٹف تھا۔ ۔


فارس آخر کار تھک ہار کر آفس خود چلا گیا ۔۔ بہت ہی غصےمیں آہل کی راہ دیکھنے لگا ۔ ۔۔۔۔
آہل شاہ آفندی کی بلیک چمچماتی ہویی گاڑی آٹھ منزلا عمارت کے سامنے آ کر رکی ۔۔۔ اس سفید سنگ مرمر سے بنی لوگوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی تھی ۔۔ AD GROUPS OF COMPANY “””””” ۔۔ جس کی شہرت ہر ملک میں پھیلی ہویی تھی ۔۔ ۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر آہل شاہ آفندی باہر آیا ۔۔۔ آہل کو اپنا ہر کام زیادہ تر خود کرنے کی عادت تھی ۔ ڈرایور نوکر یے سب بہت کم تھا اس کی گڈ بکس میں ۔۔۔
آہل لمبے لمبے ڈگ بھرتا آفس میں داخل ہوا ۔۔
گڈ مارنگ سر “””” سبھی اسٹاف میمبر ادب سے کھڑے ہو گے ۔۔۔ کیوں کی اپنے باس کی سخت طبیعت سے سبھی واقف تھے ۔۔۔
گڈ مارنگ ۔۔ آہل سر کو ہلکا سا سر زنش کرتا ہوا بولا ۔۔
اپنے کیبن میں داخل ہوتے ہی سامنے فارس کا غصے سے لال چہرہ نظروں کرے تعاقب میں آیا ۔۔۔ آہل کچھ پل فارس کو دیکھتا رہا ۔۔
فارس ٹکی باندھے آہل کو دیکھ رہا تھا ۔۔
فارس تو کب آیا یار ؟؟؟ ۔۔۔ آہل نے مسکرا کر بات سمبھالنی چاہی ۔۔۔
کون میں ؟؟؟ فارس شہادت کی انگلی اپنی طرف مرکوز کرتے ہوے بولا ۔۔۔
ہاں ظاہر ہے تو ہی ۔۔ کیوں یہاں کویی اور بھی ہے کیا ؟؟
اہل اپنی بلیک کورٹ اتار کر چییر پر ٹکاتا ہوا بولا ۔۔۔
فارس ایم سوری ۔۔۔ ایک پرابلم میں پھنس گیا تھا ۔۔
آہل معذرت خواہ لہجے میں بولا ۔۔۔۔
آہل تو ایک بار مجھے بتا تو دیتا یار میں وہاں پر کھڑا تیرا انتظار کر رہا تھا تو ایک کال تو کر سکتا تھا ۔۔
یار بتایا تو ہے پرابلم میں پھنس گیا تھا ۔۔ ایک بدتمیز لڑکی سے ٹکر ہو گی تھی ۔۔آہل نے ایک بار پھر سے اپنی صفایی پیش کی ۔۔۔
یہ فایلز دینی تھی تجھے ۔۔ آج میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے میں آفس آنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔ فارس نے ناراضگی سے کہا ۔
روک میں چاے منگواتا ہوں ۔۔ پھر ٹھنڈا ہوگا تو ۔۔ “”” آہل کال کرتا ۔پیون کو دو کپ چاے لانے کے لیے کہا ۔۔ “””” اور ایک بار پھر سے فارس کی طرف متوجا ہوا ۔۔۔
کس لڑکی سے ٹکر ہویی تھی ۔؟؟۔ فارس کا موڈ اب تھوڑا بہتر ہو گیا تھا ۔۔ اس لیے اب اسے اتنا اہم سوال اسے یاد آیا تھا ۔۔
پتا نہیں یے تو نہیں جانتا !!!! ۔۔ آہل ابھی اس بدتمیز لڑکی کے بارے میں کچھ بولتا ۔۔ باہر سے دستک کی آواز آیی ۔۔۔
یس کم ان ۔۔ اندر سے اجازت آیی ۔
پیون ٹرے میں چاے کا دو کپ لیے داخل ہوا ۔۔
پیون کو آتا دیکھ ان دونوں کے بیچ مکمل خاموشی چھا چکی تھی__


دھیرے دھیرےلوگوں کا ہجوم ہٹا مرش اپنا بیگ اٹھاتی ثمرہ اور اریشہ کے ساتھ سیڈھیاں عبورکرتی کلاس میں داخل ہوئی ۔۔۔۔کچھ سٹوڈنٹس نیچے ہو۔نے والے تماشے کو دیکھ نہیں پاے کلاس مے ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔مرش نےشکرادا کیا۔۔۔وہ تینوں چلتی ہوئی اپنی جگہوں پر براجمان ہوئی۔۔۔۔ویسے مرش تم نے اچّھی خاصی انسلٹ کردی بیچارے کی۔۔۔۔اریشہ نے مہ بناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔کیوں تمھیں اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے،،مرش نےجانچتی نظرو سے اریشہ کو دیکھا۔۔۔۔یار ویسے ہی کہ رہی ہوں لیکن قسم سے سمارٹنیس کیاغضب کی تھی۔۔۔۔اریشہ اہل کا شفاف چہرہ سوچتے ہوئے مسکرائی۔۔۔،،،،،شٹ اپ اگر میرے بس میں ہوتا تو اسکا منہ نوچ لیتی،،،””بدتمیز “”‎ پتا نہیں کس ماں باپ کی بگڑی ہوئی اولاد تھا ،،،تھپپڑ لگاتی میں اسے دو چار ایک دو لفظ اور بولتا ،،،،مرش کا غصہ ساتہویں آسمان کو چھو رہا تھا،،،سمر کے کچھ یاد آنے پر اسنے مر ش کومخاطب کیا ،،،،یار تم نے یہ کیو ں کہا کےوہ تمہیں فالو کر رہا ہے،،سمرہ نے تنبیہ کیا۔۔۔وہ actully کل ہماری گاڑی سے اسکی ٹکر ہوگیی تھی””infact” ہوئی نہیں تھی مجھے یہ ہی پلان لگ رہا ہے مرش نےسر جھٹکتے ہویے بتایا۔۔۔یار نہیں اچّھے خاندان کا لگ رہا تھا_ہوسکتا ہے غلطی سے ہوئی ہو،،،چھوڑو یار تم لوگ ایک ہی ٹوپک لیکر بیٹھ گیی ہو۔۔۔مرش چڑچڑاتے ہوئے بولی.””

بریرہ ان لڑکیوں کی باتیں سننے میں مگن تھی۔۔۔اسے ان لڑکیوں کی باتیں سننےمیں مزا آرہا تھا۔۔۔ہلکے سے مسکرائ اور پیچھے کی طرف مڑکر دیکھا۔ ۔۔تین لڑکیاں بات کرنے میں مصروف تھیں۔ ۔۔مرش کی نظر اچانک بریرہ کی طرف گی “”یار وہ کون ہے””مرش کے سوال پرسمر ا اور اریشہ نے بھی بَریر ا کو آنکھوں کے حصار میں لیا۔۔۔۔شاید نیو سٹوڈنٹ ہے۔۔ سمرہ نے اپنی راۓ کا اظہار کیا۔۔۔چلو اسکے پاس چلتے ہیں اریشہ جلد از جلد بریرا کے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔رکو مرش نے ہاتھ پکڑ کر رکنے کو کہا۔۔۔کلاس ختم ہونے کے بعد چلیں گے۔۔۔
اریشہ برا سا منھ بناتی بیٹھ گیی۔۔۔
گڈ مارننگ میم مس رشنا کے کلاس میں داخل ہوتے ہی سارے سٹوڈنٹ ادب سے کھڑےہوے۔ ۔۔
گڈ مارننگ مس رشنا نے فریش مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا _ “”sit down””مس رشنا نے بیٹھنے کو کہا اردو کی کتاب میں نظریں جماےکچھ پڑھانے کے لئے جیسے ہی منہ کھولا انکی نظریں بلکل سامنے بیٹھی مرش پر گیی جو کی اس وقت کھسر پھسر کرنے میں مگن تھی چیونگم منہ میں چباتی کسی معصوم گڑیاسے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔مرش سرفراز احمد !،مرش کو اپنا نام بلاتا ہوا کوئ لگا,,, اس نے یہاں وہاں نظریں دوڑائ ۔۔۔سبھی سٹوڈنٹ مرش کےچہرے پر ٹکی باندھے ایک ٹک دیکھ رہے تھے ۔۔۔”standup”مس رشنا نے حکم کیا””” مرش چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی ہوئی کھڑ ی ہوی،،،کیا کھا رہی ہیں آپ ؟؟مس رشنانے مرش کے چلتے ہوے منہ کو بغور دیکھتے ہوے پوچھا۔۔۔آ۔۔آ۔۔وہ۔ ۔آ میں وہ۔ایکچولی وہ میں کچھ بھی نہیں۔ ۔۔مرش کے چہرے کی ہوائیاں اڑرہی تھی سمرہ اریشہ کتاب می۔ منہ گھساےکھی کھی کرنے میں مصروف تھی مرش ہواس باختہ کچھ با معنی لفظ بول کر رہ گی ۔۔۔۔ مس رشنا کی سوالیہ نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں

اگر آپ کو کلاس میں رہنا ہے تو پلز اپنی بچو ں جیسی حرکتیں بند
کردیں ۔۔۔۔مس رشنا شاید آج اچھی خاصی مرش کو سنانے کے موڈمیں تھی۔۔۔ایم سوری میم مرش رو دینے کو تھی،،،، But next tine u careful ,ok __ ok میم مرش اداس سی شکل بناتے ہوئے بیٹھ گیی۔۔۔۔۔۔پوری کلاس میں ایک بار پھر سے خاموشی چھا گیی۔۔۔۔۔


“”MAY I come in Sir”” مسز آفاق باہر کھڑی اجازت طلب نظروں سےآهل کو دیکھ رہی تھی
“یس” اہل نے ہلکے سے سرزنش کی ۔۔۔السلام علیکم سر ان فائل پر آپ کی signature چاہیے ہم وہ پروجیکٹ تیّار کر چکے ہیں نیکسٹ ویک آپ کی حمدان صاحب کے ساتھ میٹینگ ہے۔۔۔۔
اوکے اہل فائل پڑ signature کرتے ہوے کچھ کاغزی سوالات بھی کئے جن کا جواب مسز آفاق بخوبی دے رہی تھیں

“WELDONE”
اہل نےمسکراتے ہوئے انکی تعریف دبے لفظوں میں کی اہل کی مسکراہٹ ان کےلئے حیرت زدہ تھی بہت کم ہی آهل آفندی مسکراتا تھا۔۔۔مسز آفاق فائل اٹھاتے کمرے سے باہر چلی گیں ۔۔۔


یہ لیں چاے فائزہ بیگم چاے کا کپ تھماتی بیڈ کے کچھ فاصلے پر بیٹھی سرفراز صاحب سے مخاطب ہوئیں۔۔۔
مرش کے بارے میں کیا سوچا ہے اپنے پوری زندگی پڑھانا ہی ہے یا آگے بھی کچھ سوچا ہوا ہے۔۔۔۔فائزہ بیگم کی بات سن سرفراز صاحب کچھ سوچتے ہویے مسکراے اور پر سکون لہجے میں گویا
ہویے،،، مرش ہماری اکلوتی بیٹی ہے۔۔آپ جانتی ہیں نا کتنی منتوں کے بعد رب نے اسے ہماری جھولی میں ڈالا ہے۔۔۔
ابھی اپنی بیٹی کی خواہشات پوری کرونگا وہ ایم ایس سی میں ماسٹرز کرنا چاہتی ہے۔۔۔سرفراز صاحب مرشکی خواھشات کے بارے میں بتاے ۔۔۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے،،،فائزہ بیگم دوٹوک لہجے میں بولی۔۔۔بیٹیاں جتنی جلدی اپنے گھر کو رخصت ہوجاییں اچّھا ہے۔۔۔۔انکے لئے بھی اور ماں باپ کے لئے بھی،،،وہ تو جیسے آج ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہ رہی ہوں۔۔
بھی فائزہ ابھی ہماری بیٹی کی عمر ہی کیا ہے ،، اسکے اندر ابھی بہت ہی بچپنا ہے سرفراز صاحب اپنی بیٹی کی حرکتیں سوچ کر مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔کچھ بھی ہو جلد ہی کوئی فیصلہ کیجئے اولاد جب بدی ہو جائے ماں باپ کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔۔۔۔فائزہ بیگم کہتی چاۓ کا کپ اٹھا ے کچن کی راہ لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                                             (جاری)