122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

مرش ! مرش ! مرش بیٹا اٹھ جاو_ فایزہ بیگم چلتی ہویی اس کے کمرے میں داخل ہویی مرش ایک بار پھر سے آواز دیتی اس کے چہرے سے لہاف کھنچی__ افف امی کیا ہے ‘ کم از کم آج کے دن تو سونے دیں !!!
مرش نیند سے ڈوبی آواز میں بولی “”” تمہارے بابا ناشتے پر تمہارا انتظار کر رہے ہے “” فایزہ بیگم کھڑکی سے پردے ھٹاتے ہویے بولی جہاں چمکتی دوپ نے اس کا استقبال کیا “!!!!! اچھا ٹھیک ہے آتی ہوں “” اس نے کمر تک آتے بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوے بولی “”” جلدی آنا ! فایزہ بیگم کہتی ہویی واپس چلی گی !!!!


کھٹ ۔۔۔کھٹ ۔۔۔ سلام صاحب کیا میں اندر آ جاوں !!!! سمیرا نے ڈرتے ہوے پوچھا !!! یس !!! اجازت ملنے پر سمیرا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے میں داخل ہویی !!!! صاحب جی آپ کی چاے “”” سمیرا گرم بھاپ اڑاتی چاے کا ٹرے ہاتھ میں لیے اندر آیی !!
ہمم !! آہل شاہ آفندی موبایل میں میسج ٹیکس کرتے ہوے جواب دیا !!
صاحب جی اب جاوں ؟؟ سمیرا جھجھکتے ہویے بولی “” آہل نے ہلکے سے گردن ہلا کر جانے کی اجازت دی !! سمیرا نے جیسے ہی باہر جانے کے لیے قدم بڑھاے !!!
سنو!!
جی ۔۔۔جی صاحب جی ؟؟؟ سمیرا ڈرتی ہویی بولی !!!
بریرہ کو بھیجنا !! آہل شاہ آفندی نے اپنی روبیلی آواز کے ساتھ بولا !!
جی صاحب جی !! اب جاوں ؟؟ سمیرا گھبراتی ہویی بولی !! ہمم !! آہل نے جانے کی اجازت دی !! آہل نے جیسے ہی چاے کا کپ لینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا !!! موبایل کی بجتی رنگ نے اس کو ہاتھ کو روک دیا ۔۔ ۔۔
ہیلو ؟ آہل نے ہلکے ہاتھوں سے اپنی پیشانی کو دباتے ہوے بولا !!
ہاں یار آہل !! یار ہماری جو میٹنگ تھی مسٹر شہروز کے ساتھ وہ کینسل ہو گی !! “”””” فارس گھبراتے ہوے بولا !!
اچھا اس کی رگوں میں لالچ کا خون دوڑنے لگا ہوگا !! آہل اپنی مٹھیوں کو بیھنچتے ہوے کہا !! تو ٹینشن نا لے میں کچھ کرتا ہوں !!! آہل پرسکون لہجے میں بولا موبایل رکھتے ہوے کسی نکتے کو ڈھونڈے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔


بریرہ شاور لے کر باہر نکلی گیلے بالوں کو سلجھاتے ہوے آینے کے سامنے کھڑی گنگنانے میں مگن تھی !! سلام بی بی جی !!! سمیرا دروازے پر کھڑی بریرہ کو سلام کیا !!!
وعلیکم اسلام !! بریرہ مسکراتی ہویی جواب دی !!
وہ جی بی بی جی آپ کو چھوٹے صاحب کمرے میں بلا رہے ہے !! سمیرا بولی !!
ٹھیک ہے تم جاو میں آتی ہوں !!! بریرہ نے جواب دیا !!
ٹھیک ہے بی بی جی !! سمیرا الٹے قدموں واپس چلی گئی !!


اسلام و علیکم بھایی !! “””” بریرہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی آہل کو سلام کیا !!! بریرہ کو کمرے میں آنے کے لیے کبھی بھی آہل کی اجازت کی ضرورت نہیں پڑتی تھی !! اور نا ہی آہل نے کبھی اس کو اس بات کے لیے ٹوکا تھا ۔۔۔
وعلیکم اسلام !! آہل نے بریرہ کو جواب دیا ۔۔ کل سے کالج میں تمہیں پک اینڈ ڈراپ کرونگا ۔۔ آہل نے اپنی بات ختم کرتے ہوے نظریں بریرہ کے چہرے پر مرکوز کی !!! جیسا آپ کی مرضی بھایی !! بریرہ نے فورا حکم کی تعمیل کرتے ہوے بولی !!
اوکے اب جاو _ آہل نے اس کو جانے کی اجازت دی ۔۔۔ اور پھر سے میسج ٹیکس کرنے میں مصروف ہو گیا ۔۔۔ بھایی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے !!! بریرہ انگلیوں کو مروڑتے ہوے بولی !! بولو !! کیسی بات کرنی ہے !! آہل بریرہ کا چہرہ کو بغور دیکھتے ہوے بولا !! بھایی میں چاہتی ہوں کی کالج میں جیسے سب اسٹوڈینٹس رہتے ہے میں چاہتی ہوں مجھے بھی اسی نظروں سے دیکھا جاے جس طرح باقی اسٹوڈینٹس کو دیکھا جاتا ہے ،،،،کیوں کی میں جانتی ہوں وہ کالج ہمارا ہے تو مجھے کس طرح سے پروٹوکول دیا جائے گا ۔۔ بریرہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے آہل کے بولنے کا انتظار کرنے لگی __ ٹھیک ہے جیسا تم چاہتی ہوں ویسا ہی ہوگا ۔۔ آہل ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا !! یے مسکراہٹ بہت کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی !۔۔!! تھینکیوں بھایی !! بریرہ مسکرا کر تھنکس بولتی کمرے سے باہر چلی گئی


امی کتنا سکون مل رہا ہے !! آپ کے ہاتھوں کی تو بات ہی کچھ اور ہے ۔۔۔۔ آہ مزا آ گیا ۔۔ مرش آنکھ بند کرکے مسکراتی ہویی بولی ۔۔۔ آپ جب میرے بالوں میں مالش کرتی ہے مجھے جاروں طرف سکون ہی سکون محسوس ہوتا ہے !!!! مرش دونوں آنکھ بند کر کے بولی !!
اچھا اچھا بس کرو سب جانتی ہوں میں “”””””””” فایزہ بیگم غصے سے مصنوعی شکل بناتے ہوے بولی !!
امی —- مرش کی معصومیت پر سب کچھ قربان کر دیا جاے تو بھی کم تھا ۔۔۔ آپ کو پتا ہے آپ دنیا کی بیسٹ امی ہے !! “”””””” مرش اب یہ مکھن لگانا بند کرو اور بات بتاو کیا چاہیے تمیں __ فایزہ بیگم آواز میں سختی لاتے ہوے بولی !!!
آپ کو پتا ہے نہ میری کتنی دوستییں ہیں،،،مرش معصومیت سے بولی۔ ،،، ہاں بلکل پتہ ہے !!!!فائزہ بیگم نے سر سری سا جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کو یے بھی پتا ہوگا پرسوں میری دوست زارا کی برتھ ڈے ہے !! “”””” مرش دونوں آنکھ پٹپٹاتی ہویی بولی !! دیکھو مرش اگر تم مجھ سے اجازت چاہتی ہو تو میری طرف سے بلکل انکار سمجھو ۔۔۔۔۔ “””” فایزہ بیگم غصے سے بولی ۔۔۔ مرش ایک جھٹکے سے اٹھی اور آواز اونچی کرتے ہوے بولی ۔۔۔ کیوں میں کیوں نہیں جا سکتی ۔۔۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور آپ ابھی تک پرانی سوچ ہی لے کر بیٹھی ہے !! “””” حد ہے “”” مرش پیر پٹختی دوڑتے ہوے کمرے میں بھاگ جاتی ہے اور تیز آواز سے دروازے کو اندر سے بند کر لیا !!! ۔۔ مرش چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت جلدی بےزار ہو جاتی تھی ۔ !!!! “”””
فایزہ بیگم خالی خالی نظروں سے بند دروازے کو دیکھتی رہے گی ۔۔۔ اور اہک لمبی سانس خارج کرتے ہوے اٹھ گی ۔۔۔ فایزہ بیگم باورچی خانے میں کھڑی ہانڈی بنانے میں مصروف تھی !!! ہانڈی چڑھا کر دیوار کا ٹیک لگا کر کھڑی ہو گی !! آبھی بھی ان کی سوچوں کا مرکز مرش کی باتوں پر اٹکا تھا !!! سرفراز صاحب کھانے پینے کا شاپر پکڑے باورچی خانے میں داخل ہوے !! اور وہی کھڑے ہوکر اپنی بیوی کے چہرے پر آنسوں کی روانی دیکھنے لگے !!! فایزہ ؟؟ سرفراز صاحب افسردہ لہجے میں گویا ہوے ۔۔ فایزہ بیگم کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا !! پلکوں کی باڑ میں آے آنسوں کو بامشکل پیچھے کی اور ڈکھیلا !!! ارے آپ ؟ آپ کب آیے ؟؟ فایزہ بیگم جبرًا مسکراتی ہویی بولی !!!
میں تو اسی وقت آیا جب آپ رونے کا مشغلا فرما رہی تھی !!! سرفراز صاحب مسکراتے ہوے بولے !
ارے نہی نہیں میں تو بس یوںہی آپ بھی نا !! سرفرز صاحب جانتے تھے یے آنسوں کس کے لیے تھے اور انہوں نے اس بات پر کویی استفار نہیں کیا ۔۔۔۔۔ بھی ہماری گڑیا نطر نہیں آ رہی ہے کہاں ہے ۔۔۔۔ ویسے تو پورے گھر میں بللیوں کی طرح کودتی رہتی ہے ۔۔۔۔ “””” سرفراز صاحب نے مرش کے بارے میں دریافت کیا ۔۔۔ فایزہ بیگم مرش کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوے کھانا نکالنے لگی !!! سرفراز صاحب ناسمجھی کے عالم میں مرش کے کمرے کی طرف قدم بڑھاے ۔۔۔ دروازے پر ہلکی سی دستک دیتے ہوے بولے !!! مرش میری جان دروازہ تو کھولے !!! مرش بتاے تو سہی کیا ہوا ہے ۔۔ دیھکے گڑیا ہم آپ کی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتے


کچھ دیر رسٹ کرنے کے بعد آہل نے اپنی نیند سے ڈوبی آنکھیں کھولی ۔۔۔۔ آدھی رات تک آفس کا کام کرتا رہا اگلی میٹنگ پر آہل شاہ آفندی پوری جوڑ توڑ کوشش کر رہا تھا مسٹر شہروز کو سبق سکھانے کے لے اس کو اس کی حیثیت کا اندازہ کرانے کے لے ۔۔۔ ناشتے کی ٹیبل پر بھی آہل غیر موجود تھا “” اور نا ہی کسی کی اتنی جرات تھی وہ آہل شاہ آفندی کو ڈسٹرب کرتا ۔۔ عادت کے مطابق صبح بیڈ ٹی اس کی کمزوری تھی ۔۔۔ ایک بار پھر سے شاور لینے کے بعد ٹاول لیے گیلے بالوں کو روگڑنے لگا واڈروب کھول کرگنگناتے ہوے اپنی فیورٹ کلر “””” بلیک” “”” تھریپی تھریپی سوٹ نکالا ۔۔۔ کپڑا زیب تن کرنے کے بعد اس نےسیاہ گیلے بالوں کو برش کیا شرٹ کی آستین فولڈ کرتا غضب کا ڈھا رہا تھا ۔۔ اس ہاتھ بڑھا کر مہنگا ترین پرفیوم اسپرے کیا ۔۔۔ دایں ہاتھ میں خوبصورت رسٹ واچ پہنتا اس نے ایک نظر خود کو آینیے میں دیکھا خدا نے آہل شاہ آفندی کو ہر چیز سے نوازا تھا ۔۔ آہل شاہ آفندی کو دیکھ کر انسان سوچنے پر خود بخود مجبور ہو جاے ۔۔ خدا نے آہل شاہ آفندی کو بڑی فرصت میں بنایا ہوگا ۔۔۔۔ اسکول کے زمانے سے ان گنت لڑکیاں اس کی محبت میں خود کو پاگل کر بیٹھی تھی ۔۔ لیکن آہل شاہ آفندی کی سخت طبیعت کی وجہ سے کویی بھی اس کے قریب آنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا ۔۔۔ آہل نے ایک ہاتھ کی کلایی پر کوٹ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اپنا مہنگا خوبصورت موبایل ہاتھ میں لیے جوتے کی نوک سے ٹک ٹک کرتا سڑھیاں اترتا کھانے کی ٹیبل پر پہنچا ۔۔ ایک سرسری نگاہ ٹیبل پر بیٹھے نفوس پر ڈالی ۔سامنے بیٹھی اس عورت پر ڈالی جو شاید اس کی ماں تھی ۔ آہل مدہم آواز میں سلام کہتا کرسی پر براجمان ہو گیا ۔۔ ٹیبل پر بیٹھے سبھی نفوس نے سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔
جآوید شاہ آفندی نے ایک نظر اپنے شہزادے جیسے بیٹے کو دیکھا جو واقعی کسی شہزادے سے کم نہیں تھا ۔۔۔ سبھی لوگ خاموشی سے کھانا کھانے میں مگن تھے ۔۔۔ جاوید شاہ آفندی نے آنکھوں کے اشارے سے مریم بیگم کو تسلی دیتے ہوے آہل سے بات کرنے کی تہمید باندھی ۔۔۔
آہل ؟؟ جاوید شاہ آفندی نے آہل کو پکارا !!
جی ؟؟ آہل سوالیا نظروں سے جاوید شاہ آفندی کی طرف دیکھا !!!
بزنس کیسا چل رہا ہے ؟؟ جاوید شاہ آفندی نے بات کا آغاز کچھ اس طرح کیا،،،، جاید شاہ آفندی نے کچھ دنوں کے لیے بزنس سے چھٹی لے لی تھی اور سارا بزنس آہل کے سپرد کردیا۔
لیکن جب ان کا موڈ ہوتا آفس کا چکر لگاتے رہتے اور کویی نا کویی مٹینگس بھی اٹینڈ کرتے رہتے ۔۔۔
ویل ڈن “””” آہل پانی سے بھرا کانچ کا گلاس سرخ لبوں سے لگاتے ہوے بولا !!!
انگلیوں کی پوروں کو ٹشو سے صاف کرتا آہل کہتے ہوے کرسی پیچھے کی اور کرتا اٹھنے کے لیے تیار ہو گیا !!
آہل بیٹھو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔ جاوید صاحب دو ٹوک لہجے میں بولے !!!
آپ بولے میں کھڑا ہو کر بھی سن سکتا ہوں ۔۔۔ آہل ایک نظر سامنے بیٹھی عورت کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
مریم بیگم ڈرتے ہوے شوہر کی طرف نظریں مرکوز کی ۔

آہل میں چاہتا ہوں تم اپنی ماں کے ساتھ اپنا رویہ دروست رکھو!!! جس طرح ماں کو عزت دی جاتی ہے اسی طرح تم اپنی ماں کو عزت دو ان کا احترام کرو !!! گھر میں ہزار ملازمایں ہے ان کے سامنے تم نے اپنی ماں کی عزت دو کوڑی کی کر کے رکھ دی ہے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ “””” جاوید صاحب نے اپنی بات مکمل کی اور آہل کے بولنے کا انتظار کرنے لگے ۔۔
بریرہ خوفزدہ آنکھوں سے آہل کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ماں !!!!
میری ماں کون ہے ؟؟ جہاں تک میرا خیال ہے میری بچپن میں ہی گزر چکی ہے !!! اور یے عورت صرف جاوید شاہ آفندی کی بیوی ہے ۔۔
آہل !!!!!!!
جاوید صاحب غصے سے دھاڑے —–
بتمیزی بند کرو آہل میں تمہارا باپ ہوں ۔۔
کآش آپ نے مجھے تمیز سکھایی ہوتی تو آج یے دن نہیں دیکھنا پڑتا آپ کو ۔!!!!!
مریم بیگم کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر ان کے گالوں کو بھگو دیا !!!!
آہل بات ختم کر کے جانے کے لیے پلٹا !! کچھ یاد آنے پر پھر سے پلٹا !!!
ضروری نہیں بابا جان “””””””” آپ جو چاہے ہمیشا وہی ہو !!!!
آہل کی مسکراہٹ سے صاف ظاہر ہو رہا تھا ،،،
جیسے جاوید شاہ آفندی کا مزاق اڑا رہا ہو_