Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 3
Rate this Novel
Episode 3
فارس کے اتنے اسرار پر سرفراز صاحب مجبور ہوکر مرش کی طرف دیکھے مرش نے ہاں میں سر ہلا دیا ،
وہ بھی صرف اسلیے کی اس چمچماتی ہویی دھوپ میں جانا اسکے لئے مشکل تھا۔
فارس ہلکی سی مسکان کے ساتھ ان دونوں کو اپنے ساتھ گاڑی کی طرف لایا پھر دروازہ کھولکر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔آہل نے موبائل سے نظرے اٹھایی اور سرد نظروں سے فارس کی اور دیکھا ،فارس نے آنکھوں کے سہارے آہل کو چپ رہنے کے لئے کہا ۔۔
آہل نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اچانک سے میوزک کا بٹن دبا دیا اور کسی خوبصورت سے سنگر کی آواز پورے ماحول کو گنگنانے پر مجبور کر دیتی ہے_
“”ہم نا سمجھے تیری نظروں کا تقاضہ کیا ہے،،،
کبھی جلوہ کبھی پردہ یہ تماشا کیا ہے”۔۔۔۔۔
*ماحول کے مطابق مرش کو سخت غصّہ آیا۔ یہ کیسی میوزک ہے بند کریں اسے مرش نے بھاری آواز میں چڑھتے ہوئے کہا۔ آہل صرف اور صرف *مرش* کی باتیں فارس کے لئے برداشت کر رہا تھا،اسے ہی ہمدردیاں نبھانے کا بہت شوق تھا۔۔۔_
آپ کی منزل کہاں ہے میرے خیال سے آپ بتائنگی تبھی ہم پہنچ سکتے ہیں،”آہل جیسے صاف لفظوں میں مرش کا مذاق اڑا رہا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔یہاں سے دو گلی چھوڑکر ہے، مرش نے گاڑی سے باہر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔غصّہ تو بہت آیا دل تو کر رہا تھا قرارا سا جواب دے لیکن شاید اسکے بس میں نہیں تھا’ بابا جو وہاں موجود تھے۔۔۔
گاڑی اندر نہیں جا سکتی اہل نے گاڑی روکتے ہوئے بور سے لہجے میں کہا۔ آہل کے چہرے سے یوں زاھر ہو رہا تھا جیسے کسی غریب کے اوپر احسان کر رہا ہو۔
کیوں! گاڑی کیوں اندر نہیں جاےگی؟مرش نے جھٹ سے سوال کیا، آپ یوں کہیں نا آپ ہمیں چھوڑنا ہی نہیں چاہتے مرش نے اپنی کٹیلی آنکھوں سے آہل کو دیکھا،Mirror سے دونوں کی نظریں ٹکرائیں آہل سرد اہ بھرتے ہوئے پھر سے گویا ہوا۔”
دیکھیں محترمہ گاڑی بڑی ہے اندر لیکر جانا مشکل ہے آہل چڑچڑاتے انداز میں بولا۔۔فارس بخوبی جانتا تھا گاڑی اندر جاسکتی ہے لیکن اہل شاہ کا شاید موڈ نہیں تھا لیجانے کا۔۔فارس نےجلدی بات سنبھالتےہوےسرفراز صاحب سے مخاطب ہوا”Iam sorry سر گاڑی اندر نہیں جا سکتی ہے ،آپ please اگر آپ کو کوئی اعتراض نا ہو تو آپ یہیں اتر جائیں اور آپ بےفکر رہیں ہم آپ کی گاڑی اپنے ڈرائیور سے بھجوا دینگے،فارس نے جلدی جلدی بات ختم کی ، اسے پہلے آحل کوئی لفظ اپنے منہ سے نکالتا تبھی،” شکریہ بیٹا اللہ تمھے خوش رکھے۔ اس پورے سفر میں ایک بار بھی آحل نے سرفراز صاحب سے مخاطب ہونا ضروری نہیں سمجھا،شاید ایسے لوگوں کی اسکی نظر میں کوئی value نہیں تھی۔مرش چادر سمبھالتی ہوئی گاڑی کا دروازہ کھولکر باہر آی اور ہلکے سے انداز میں فارس کو thanx کیا اور اپنے بابا کے ساتھ وہ گھر کی طرف چل پڑی۔۔۔۔۔۔
اسکے جانے کے بعد ہی آہل فارس پر پھٹ پڑا، کیا ضرورت تھی انھیں گاڑی میں بٹھانے کی بہت ہمدردیاں کرنے کا شوق ہے تجھے NGO کھولکر بیٹھ جا_فارس کو تو پہلے سے پتا تھا سرفراز صاحب کے جانے کے بعد ۔ کہرام ہونے والا ہے،فارس نے ایک نظر اس سنگدل انسان کو دیکھا اور گویا ہوا،”تو کتنا بے رحم ہےاور ہاں یہ مت بھول ACCIDENT ہماری ہی گاڑی سے ہوا ہے”۔۔۔۔ وہ تو شکر ہے کوئی نقصان نہیں ہوا اور نا ہی انھیں چوٹ آی فارس نے اللہ کا شکر کیا۔
خاموشی کے ساتھ آہل نے گاڑی ٹرن لیتے ہوے گھر کی طرف گامزن کر دی ۔۔۔ کیوں کی وہ گھر جلد از جلد پہنچ جانا چاہتا تھا ۔۔
یار ایم سوری پلیز ریسٹورنٹ چل قسم سے پیٹ میں ایک سو ایک چوہے دوڑ رہے ہیں ۔۔۔ فارس شرارتی انداز میں بولا ۔۔۔
شٹ اپ “””” آہل دھیمےمگر کرخت لہجے میں بولا ۔۔۔
یار کیوں نہیں جائیں گے ؟؟؟ فارس جنجھلاتے ہوے لہجے میں پوچھا۔۔۔
میرا موڈ نہیں ہے ۔۔۔ آہل دو ٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے “””””فارس سنجیدگی سے کہتا خاموش ہو گیا “” کیوں کی وہ جانتا تھا اب ضد کرنا بے جا تھا ۔۔
پورچ میں گاڑی روک کر آہل دروازہ کھول کر باہر آیا ۔۔ دوسری جانب سے فارس بھی گاڑی اترا ۔۔ اندر چلیں ۔۔ آہل فارس سے مخاطب ہوا ۔۔
نہیں اب گھر جاوں گا ۔۔ لیکن جاوں گا کیسے ؟؟
فارس آہل کےچہرے پر نظریں مرکوز کرتے ہوے بولا !!!
اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے لے چابی پکڑ ۔۔ آہل ہاتھ بڑھا کر فارس کو چابی پکڑایا ۔۔ فارس منھ پھلاے آہل کے ہاتھ سے چابی لی ۔۔ گاڑی میں بیٹھتا آگے بڑھ گیا ۔
گھر میں داخل ہوتے ہی مرش سے جو جو بن سکا اس نے ان دو خوبصورت نوجوانوں کے بارے میں راے قایم کی ۔۔۔کھانے کی ٹیبل پر بھی مرش کی زبان پر اب بھی وہی قصہ تھا ۔۔ آپ نے دیکھا نہیں تھا کتنا پراوڈلی بندہ تھا ۔۔ مرش منھ بناتی ہویی بولی ۔۔۔۔ مرش بیٹا اب رہنے بھی دے ۔۔ کیا ہو گیا ۔ ۔ سرفراز صاحب اکتاتے ہوے بولے ۔۔
کس بارے میں بات کر رہے ہے آپ ؟؟ فایزہ بیگم منھ میں لقمہ رکھتی ہویی بولی ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ سرفراز صاحب بات ختم کرنی چاہی ۔۔۔ خاموشی کے ساتھ کھانا کھایا گیا ۔۔ سرفراز صاحب شکر کرتے اٹھ گے ۔۔۔
فایزہ بیگم کی مرش کے ساتھ بول چال بند تھی ۔۔
امی ؟؟
مرش حسرت بھری نظروں سے فایزہ بیگم کو پکاری ۔۔ لیکن فایزہ بیگم اس کو نظر انداز کرتی ٹیبل سے روٹی اٹھاتے باورچی خانے کی طرف قدم بڑھا دی ۔۔۔ مرش بھی ان کے پیچھے چلتی ہویی باورچی خانے میں داخل ہویی ۔۔۔۔ امی ایم سوری “””” مرش معصوم سی شکل بناتے ہوے بولی ۔۔ امی مان جاے نا “””” مرش کہتی ہویی ان کے گلے میں جھول گیی !!! ۔ فایزہ بیگم جانتی تھی جب تک وہ اس سے بولیں گی نہیں وہ سر کھاتی رہے گی !!!
اور ویسے بھی ماں اور اولاد میں کب تک خاموشی رہ سکتی تھی ۔۔۔ فایزہ بیگم نے اس کے ماتھے پر ممتا بھرا بوسا ثبت کیا ۔۔۔ مرش خوش ہوتے ہوے ان کے گلے لگ گی ۔۔۔
بھایی آپ نے کھانا نہیں کھایا ۔۔۔ بریرہ آہل کے کمرے میں داخل ہوتے ہوے بولی ۔۔۔ نہیں بھوک نہیں ہے آہل اپنی انگلیوں کو بالوں میں پھیرتے ہوے بولا ۔۔۔
لیکن بھایی !! بریرہ نے ابھی کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا ہی تھا ۔ ۔۔ آہل بیچ میں بول پڑا ۔۔
بریرہ پلیز سخت نیند آ رہی ہے ۔۔ ہم صبح بات کرے آہل نیند سے ڈوبی آواز میں بولا کیوں کی جب سے گھر آیا تھا لیپٹاپ پر ہی بزی تھا ۔۔
اوکے بھایی گڈ نایٹ ۔۔ بریرہ مسکراتی کمرے سے باہر نکل گی ۔۔ آہل شاہ آفندی کے اوپر نیند کا غلبا تھا ۔۔ آہل کب کا نیند کی وادیوں میں کھو چکا تھا ۔۔ اس کے خوبصورت چمکتے بال نم آلود پیشانی کو چھو رے تھے !!
صبح روشن ہو چکی تھی چڑیوں کی چہچہاہٹ پوری فضا میں گونج رہی تھی ۔۔۔۔ مرش جلدی جلدی بالوں کو پونی کی شکل دی ۔۔۔ بیگ اٹھاتے ہوے کمرے سے باہر آیی ۔۔۔ چادر کو ارد گرد پھیلاتی فایزہ بیگم کی جانب ۔ دوڑی ۔۔۔
سوری امی بہت لیٹ ہو رہا ۔۔ بس بھی نکل جاے گی ان کمبختوں نے گاڑی بھی نہیں بھیجی ۔۔۔
مرش کی آنکھوں کے سامنے آہل اور فارس کا چہرا لہرایا ۔۔ لیکن مرش بیٹا ناشتا فایزہ بیگم ناشتے کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولی ۔۔ بہت لیٹ ہو رہا ہے قسم سے امی ۔۔ مرش فایزہ بیگم کو بوسا لیتے ہوے باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔
یا اللھ بس مل جاے ۔۔ مرش دعا کرتی تیزی سے قدم آگے بڑھا رہی تھی ۔۔۔ اوپر والے نے اس کی دعا سن لی تھی ۔۔۔ بس کو نکلنے میں ابھی دو منٹ اور رہے گے تھے ۔۔۔۔ مرش کا اس بس پر چڑھنا خاصا مشکل ہو رہا تھا ہر قسم کے لوگ اس بس میں موجود تھے ۔۔۔ وہ تو شکر ہے کونے کی ایک سیٹ خالی دیکھ کر جھٹ سے اس پر براجمان ہو گی ۔۔۔
آہل تیار ہوکر نیچے آیا بلیک پینٹ پر وایٹ شرٹ بہت ہی کھل رہی تھی اس کے کسرتی جسم پر ۔۔۔ ناشتا کرنے کے بعد آہل باہر آیا جہاں پر ٹھنڈی پر نور فضا نے اس کا استقبال کیا ۔۔۔ مالی بابا پانی دینے میں مصروف تھے ۔۔۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ سننے پر مجبور کر رہی تھی ۔۔ رنگ برنگے پھول ہر جانب بھرے تھے ۔۔۔ آہل کو یہ منظر بہت ہی بھلا لگ رہا تھا ۔۔۔
بریرہ ہاپتی کاپتی رسٹ واچ ہاتھ میں پہنتے ہوے باہر آیی ۔۔ سامنے آہل کو دیکھ کر اس کو تھوڑا سکون ملا ۔۔۔
بھایی ؟؟ بریرہ نے آہل کو آواز دی ۔۔ آہل نے نظریں بریرہ کی جانب مرکوز کی ۔۔۔ ہلکے سی گرین کلر کے سوٹ میں بریرہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ میچنگ اسٹال گلے میں مفلر کی طرح باندھے ہوے تھی ۔۔۔ کالی سیاہ آنکھ میں کاجل کی لکیر غضب کی ڈھا رہی تھی !!! آہل شاہ آفندی جانتا تھا اس کی بہن بہت خوبصورت ہے ۔۔ ۔
ہاں چلو ۔۔ آہل گاڑی کا دروازہ کھولتا سیٹ پر بیٹھتے ہوے سیٹ بیلٹ باندھا ۔۔۔ بریرہ کو پیچھے کا دروازہ کھولتا دیکھ آہل فورا بولا ۔۔۔ آگے آ کر بیٹھو ۔۔ “””” آہل دو ٹوک لہجے میں بولا ۔
بھایی میں ہی comfotable ہوں ۔۔۔ بریرہ نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔۔
لیکن میں uncomfotable ہوں ۔۔ “”” آہل سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔
اچھا ٹھیک ہے آتی ہوں ۔۔۔ “”” بریرہ نے فورا حکم کی تعمیل کی ۔۔۔
میڈم جی کرایا ۔۔ کنڈکٹر سامنے کھڑا کرایے کی مانگ کر رہا تھا ۔۔ مرش اپنی سوچوں سے باہر آیی ۔۔ بیگ میں یہاں وہاں ہاتھ ماری کچھ سرخ سرخ چند نوٹیں اس کے ہاتھ میں آیی ۔۔ مرش نے جلدی سے ان نوٹوں کو کنڈکٹر کے ہاتھ میں پکڑایا ۔۔۔
بلیک چمچماتی گاڑی یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے رکی ۔۔۔ بریرہ گاڑی کا دروازہ کھولتی باہر اتری ۔۔
تھینکس “””” بریرہ مسکراتی ہویی آہل کو تھینکس بولتی لوگوں کی بھیڑ میں گم ہو گی ۔۔۔ آہل کو مسلسل فارس کی کال آ رہی تھی لیکن نیٹورک ایشو ہونے کی وجہ سے کال سن نہیں پا رہا تھا ۔۔آہل گاڑی کا دروازہ کھولتا باہر نکلا ۔۔ اور فارس کو کال ملانے لگا ۔۔۔۔
آخر کار سفر تمام ہوا مرش لوگوں کے ہجوم سے بچتی بس سے نیچے اتری ۔۔۔ یار وہ کون ہے ؟؟ اریشا موموز سے انصاف کرتی ہویی بولی ۔۔ کون ثمرہ نے یہاں وہاں نظریں دوڑایی ۔۔۔
سامنے دیکھو ۔۔ اریشا چاے کا مگ ٹیبل پر رکھتے ہوے ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوے بولی ۔۔
ہاں یار ۔۔ پتا نہیں کون لیکن کیا اسمارٹنیس ہے واو ۔۔۔ ثمرہ آہل کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوے کمنٹ پاس کی ۔۔۔ آیی تھنک یہ مرش آج نہیں آنے والی اریشہ منھ بناتی ہویی بولی ۔۔۔
مرش اپنی ہی دھن میں چلتی ہویی سامنے سے آ رہی تھی ۔۔۔ ہاں امی ضرور کھا لونگی پلیز آپ پریشان نا ہو ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے ناشتا بھی کر لونگی ۔۔ مرش فایزہ بیگم کی نصیحت سننے میں مگن اپنی دھن میں چلی آ رہی تھی ۔۔۔
آہل کو دیکھ کر لوگ تعریف کیے بنا نہیں رہ سکتے تھے ۔۔ کچھ لڑکیاں تو گروپ کی ٹولی بنا کر آہل کی تعریف کے قصیدے پڑھنے میں مگن تھی ۔۔
ٹھیک ہے آ رہا ہوں ۔۔ آہل موبائل پر فارس سے بات کرتا ہوا بولا ۔۔
آہ ۔۔۔ مرش کی چینخ اتنی تیز تھی کی آتے جاتے لوگوں کی نظر اس پڑ رہی تھی ۔۔۔۔
آہل کی نظروں کے سامنے وہی بھوری آنکھیں تھی۔۔۔ جو وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں پہچان سکتا تھا ۔۔۔
مرش نے نظریں آٹھا کر دیکھی وہی پراوڈلی بندہ سامنے تھا ۔ ۔۔۔۔ آہل مرش کو بازوں سے پکڑے ہوے تھا ۔۔
مرش ایک جھٹکے سے خود کو چھڑاتی پیچھے کی اور ہٹی ۔۔۔
تم ؟؟ تم یہاں !!!! ۔ یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔ اوہ اب میں سمجھی تم مجھے فالو کر رہے ہو ہاں ؟؟؟ ۔۔ اپنی حد میں رہو مسٹر سمجھتے کیا ہو ؟؟ ۔۔ تم مجھے جانتے نہیں ہو ۔۔۔ میں کون ہوں ۔۔ اور ہماری گاڑی پر قبضہ کر لیا تم نے ۔۔۔ آج کے بعد اگر تم مجھے اس کالج میں دوبارہ دکھا تو دھککے دے کر باہر نکلواوںگی ۔ ۔۔۔ مرش کے منھ میں جو جو الفاظ آے ۔۔۔ منھ سے پھوٹ دیا ۔۔۔
اس کو یے بھی اندازہ نا ہو سکا مقابل کون ہے ۔۔۔
“””””” حد میں آپ رہے میڈم ورنہ میں ساری حدودیں پار کر دونگا ۔۔۔ آہل غصےمیں مرش کا بازوں ایک بار پھر سے دبوچتے ہوے بولا ۔۔۔
ثمرہ اور اریشا کی نظر سامنے مرش پر پڑی ۔۔ جو اس وقت سخت غصے میں تھی ۔۔ وہ دونوں دوڑتی ہویی مرش کے قریب آیی ۔۔ ۔۔ چلو یہاں سے ثمرہ مرش کا ہاتھ پکڑتے ہوے بولی ۔۔
چپ رہو تم دونوں !!
ایسے لوگوں سے نبٹنا مجھے اچھی طرح آتا ہے ۔۔ مرش آہل شاہ آفندی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوے بولی ۔۔۔
اگر تم مجھے اس کالج میں کبھی نظر آے تو میں تمہارا قتل کر دونگی ۔۔۔
آہل کا قہقہہ بے ساختا تھا ۔۔ مجھے جوکس بلکل پسند نہیں ہاں لیکن فرسٹ ٹایم مجھے کویی جوک بہت پسند آیا ۔۔ آہل ہنستے ہوکہا،،،،اور واپس مڑتے ھوے کار کا دروازہ کھولکر اندر بيٹھتےھوے کار اسٹارٹ کی,,,,,,,
ابھي لوگوں کا ھجوم ويسا کا ويسا ھی تھا۔
آھل نے کار آگے بڑھا کر ”مرش“ کے پاس روکی،شيشہ نيچے کرتے ھوے طنزيہ مسکراکرنظريں مرش پر مرکوز کی ,,,,مرش کار کے اتنے قريب تھی کی آھل کی آوازبخوبى سن سکتی تھی۔
“””نظروں سے قتل کرنے والے کا ھر قتل قبول ھے ۔“””
آھل نے کھتے ھوے sunglasses آنکھوں پر لگايا اور شيشہ اوپر کرتے ھوے تيز رفتاری سے آگے بڑھ گيا۔
“”پاس رہکر بھی ھميشہ وہ بھت دور ملا،
اس کا انداز تغافل تھا خداٶں جيسا۔“”
