122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

چلے جائیں آپ یہاں سے مجھےکچھ نہیں سننا،،،،مرش کی پھنسی پھنسی سی آواز جو شاید رونے کی وجہ سے ہوئی تھی اندر سے آی ،،،
بابا کی جان آپ باہر آئیں اور کھانا کھائیں ورنہ آپ کی طبیعت خراب ہو سکتی ہے…
سرفراز صاحب ہارے ہوئے لہجے میں بولے ۔۔۔ ایک بار دروازہ تو کھول دے انہوں نے پھر ہلکی دستک دی۔۔۔۔۔
مرش سے اب بھوک ہڑتال نہیں ہو سکتی تھی صرف صبح کا ناشتہ کر کے رہنا اسکے لئے بہت مشکل تھا۔۔
۔۔۔ آخر ہار کر مرش دروازہ کھول دیتی ہے اور دنیا جہاں کی معصومیت اپنے چہرے پر سمو ےاپنے بابا جان کے گلے لگ گی اور موٹےموٹے آنسوؤں سے اپنے بابا کی براؤن شرٹ بھگو دی،،،،،
بس میری جان بس آپ بتاے مجھے’کیا ہوا ہے ۔۔ سرفراز صاحب کی آنکھوں سے بھی آنسو گرنے لگے ۔۔

بیٹی کے آنسو ان کی برداشت سے باہر تھے۔

فائزہ بیگم دونو باپ بیٹی کو کھانے پر بلانے آیی ۔۔۔ ‘ سرفراز صاحب فائزہ بیگم سے ،مخاطب ہوے ،، فائزہ بیگم اپنے ہماری گڑیا کو کیا کہا ہے ،،،،
فائزہ بیگم نے ایک نظر اپنے شوہر پر ڈالی پھر اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھا جو آنسوؤں سے سرخ ہو چکا تھا
بب ا،بابا، ہچکیوں کی وجہ سے مرش کی آواز نکلنی مشکل ہو گی تھی بمشکل اس نے کچھ الفاظ اپنی زبان سے ادا کے کیے ،،،
پرسوں میری فرینڈز کی “”Birthday”” ہے اور مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں! تو مسؑلہ کیا ہے ہم جاینگے ضرور جاینگے ،، سرفراز صاحب اپنی بیٹی کو خوش کرنے کےلئے کچھ بھی کر سکتے تھے
سچی، مرش بےیقینی سے اپنے بابا کے آنکھوں میں دیکھنے لگی
مچی، سرفراز نے خوش ہوتے ہوئے کہا
ہم گفت کیا لیکر جاینگے اسنے اپنے بابا کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھا،،، جو آپ کو پسند ہو انہوں نے خوش ہوتے ہوے کہا
“””Thank u””” Thank u sooo much “”مرش کی خوشی دیدنی تھی
چلیں اب آپ کھانا کھایں سرفراز صاحب نے غصے کی شکل بنا کر کہا،،،،،،
اوکے مرش اپنے بابا کے ساتھ ٹیبل کی طرف بڑھ گیی


ارے واہ کیا کمال کی ڈریسنگ ہے
فارس بے آہل کوایک نظر دیکھتے ہوئے اس کی تعریف میں جو قصیدہ شروع کئےتو سفرتمام ہونے کے بعد ہی ختم ہو سکتے تھے

شٹ اپ!یہ بتا کس ریسٹورنٹ میں جانا ہے آہل ڈرائیونگ کرتے ہوئے پوچھا ،،،،،
وہیں جہاں تو لے کر جاےگا،،،فارس نے اپنے جان سے عزیز پیارے سے دوست کو دیکھا۔۔۔۔
آہل جاوید شاہ آفندی اور فارس ہاشمی کی دوستی بے مثال تھی اسکول، کالج، یونیورسٹی، دونوں نےساتھ ہی طے کیا۔ہر مشکلات میں ساتھ ساتھ ،ہر خوشی اور غم میں ایک ساتھ ، جیسے ایک دوست کو ہونا چاہیے
آہل کی زندگی میں ایک فارس ہی ایسا شخص تھا جس سے آہل کو زندگی کے ہر رنگ اچھے لگنےلگے تھے آہل کے سامنے کسی کی بھی ہمّت نہیں تھی اونچی آواز میں بات کر سکے،، سواے جاویدشاہ آفند ی کے علاوہ وہ بھی اسلئے شاید وہ باپ کا درجہ رکھتے تھے۔۔۔۔


مرش میں گاڑی نکال رہاہوں۔جلدی سے آجاؤ بیٹا سرفراز صاحب نے باہر نکلتے ہوئے آواز دی
جی بابا جان ! آپ چلیں میں بس 2منٹ میں آیی ۔مرش کہتے ہوئےاپنے بالوں میں
برش کی اور اپنی خوبصورت سی چادرکو لپیٹتے ہوئے دروازے کی طرف بھاگی۔فائزہ بیگم ظہر کی نماز ادا کرنے میں مصروف تھیں، ورنہ کو نا کوئی نصیحت ضرور کرتیں۔ ۔۔۔۔


مرش بیٹا دعاپڑھیں ،،،سرفراز صاحب نے بیٹی کو نصیحت کی۔۔ مرش نے حکم کی تعمیل کی۔ اور آنکھیں بند کرکے دعا کی گردانی کر کے اپنے چاروں طرف اپنے بابا کے پاس پھونک دی۔ ۔۔۔سرفراز صاحب گاڑی آہستہ چلاتےہوئے روڈ پر ائے۔۔۔۔اور اچانک گاڑی کا ٹائر چرچرایا،،فضا میں چڑیوں کی چہچہاہٹ گونجی،اور گاڑی کا ایک ٹائر پنکچر ہوا سرفراز صاحب کا اسٹیرنگ پر سے ہاتھ ہٹا۔۔۔۔ گاڑی ایک تیزرفتار سے ایک پیڑ سے جا لگی۔ ۔۔مرش کی چینخ فضا میں گونجی۔ ۔۔۔۔۔
فارس کی چینخ کی آواز آہل کے کانوں سے ٹکرای ۔۔۔۔۔۔آہل کو اچانک ہوش آیا،،،اور دونوں جلدی سر گاڑی کا دروازہ کھول کر ہککا بککا ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔۔
مرش نے گردن موڑ ی اوردیکھا وہ دونوں شخص گاڑی کے قریب آے،،، مرش نے تیز رفتاری سے اپنے چہرے کو ڈھکااور آنکھوں سے آنسوں کی دھارے شروع ہو گیی وہ خالی خالی نظروں سے کبھی اپنے بابا کو کبھی ان دونوں شخص کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“”””I am sorry”””I am really sorryy”””
فارس کی آنکھوں میں ڈر کی لکیریں صاف دکھ رہی تھی۔ آہل نے ناچاہتے ہوے بھی فارس کے لاکھ کہنے پر اسنےکچھ ٹوٹےپھوٹے لفظ بمشکل ادا کیا۔۔۔۔۔
“””I..am sorry””” محترما
آہل نے سرد نظر اس لڑکی پر ڈالی جو اس وقت پریشان سی حالت میں آنکھوں سے گرتے آنسووں کو ہاتھ سےرگڑ کر انقاب سے چہرے کو پوری طرح چھپاےگاڑی سے نکلی اور سخت غصے میں بولی۔۔۔۔۔مانا کہ یہ گاڑی آپ کی ملکیت ہے لیکن یہ روڈ میرےخیال سے آپ کی ملکیت ہے ۔۔۔مرش چڑاتے ہوئے انداز میں بولی ،،،،
فارس گھبراتے ہوئے بولا دیکھیں غلطی ہم سے ہوگی ہے

“””I am sorry”””
سرفرازصاحب گاڑی کی چابی نکال کر باھر اے اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولے اچّھے گھر کے دیکھتے ہیں بیٹا آپ دونوں ،،،، غلطی ہوئی ہے ایندا خیال رکھیے گا۔۔۔۔۔
سرفراز صاحب اپنی شگفتہ طبیعت کی وجہ سے کچھ نا بول سکے۔۔۔۔اسلئے انہوں نے بات کو در گزر کرنا چاہا۔۔۔۔۔
تبھی مرش بیچ میں اونچی آواز میں بولی ،،،، بابا ،،ایسے کیسے ،،،، اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تو ،،،، یہ امیر لوگ خود کونا جانے کیاسمجھتےہیں، ساری چیز تو ان کی ملکیت ہے۔مرش نے آخری الفاظ دہراتے ہوۓ آہل پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالی۔۔
“”I am sorry uncle””
آیندہ ہم خیال رکھیں گےفارس نے افسردہ لہجے میں کہا۔۔۔انکل اگر آپ کو کہیں جانا ہو تو ہم ڈراپ کر سکتے ہیں
۔””””۔If u don’t mind”””” فارس مسکراتے ہوئے کہا آہل کو اب یہ سب سے بیزاریت محسوس ہورہی تھی ۔۔۔
فارس فری ہوجانا تو گاڑی میں آجانامیں ویٹ کر رہا ہو تمہارا آہل کا یہ انداز فارس کو ایک آنکھ نا بھایا۔۔۔۔ایک لمحے کے لئے آہل شاہ آفندی اور مرش سرفراز احمدکی نظریں ٹکرایں۔۔۔۔مرش کی آنسوؤں سے بھری بهور ی آنکھیں اہل شاہ آفندی کو کنفیوز کر رہی تھی ۔۔۔جس پر سیاہ گھنی پلکوں نے آنسوؤں سے نم تر آنکھوں کو دو بالا خوب صورت کر دیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایک ہی پل میں جھک گئی ۔۔۔۔۔۔
“بدتمیز”مرش نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔۔جو آہل شاہ آفندی کے کانوں نے بخوبی سنا تھا__
لیکن موبائل میں مصروف ہوتا ہواآگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
کارجو کے آہل شاہ آفندی کی من پسند بلیک کلر کی خوب صورت چم چماتی ہوئی کار تھی۔۔۔۔۔
نہیں نہی بیٹا کوئی بات نہیں ہم چلے جاینگے ،، سرفراز صاحب نے مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔۔ہمیں کسی کا احسان لینے کی ضرورت نہیں ہے ،،، مرش چڑچڑھی انداز میں بولی ۔۔۔۔۔
فارس نے مرش کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر سرفراز صاحب سے بولا””انکل ہمیں شرمندگی محسوس ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔پلیز چلیں ہم آپ کو ڈراپ کر دیں۔ ۔۔۔۔۔

                                (جاری)