50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

گاڑی کے پاس پہنچ کر آہل نے ایک ہاتھ کے سہارے سے دروازے کو کھولا اور مرش کو اندر کی جانب جیسے ہی بیٹھانے کے لیے جھکا اس کے جزبات مچلنے لگے تھے مرش کے وجود سے اٹھتی بھیی بھینی خوشبو آہل شاہ آفندی کو مدہوش کر رہی تھی ۔۔ اپنے جزبات کوقابو کر کے آہل نے ڈریونگ سیٹ سمبھال چکا تھا ۔۔
گاڑی مے مکمل خاموشی تھی آہل نے ایک بار بھی مرش کو مخاتب کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔۔
مرش کے آنسوں خاموشی سے زارو قطار بہے رہے تھے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لب دھیرے دھیرے کپکپا رہے تھے۔۔
آہل گاڑی کو کالج لے جانے کے بجاے گھر لے آیا تھا ۔۔ کیوں کی اسے ڈر تھا مرش کو کویی نقصان نہ پہنچے ۔۔
مرش اسی خاموشی کے ساتھ گاڑی سے اترنے لگی اچانک اس کی مخملی کلایی آہل شاہ آفندی کے مضبوط گرفت مے قید ہو چکی تھی ۔۔

ہاتھ چھوڑو میرا ۔۔ مرش اپنا ہاتھ چھڑوانے کی پوری کوشش کر رہی تھی ۔
مرش ایم سوری میرا ایسا کویی مقصد نہیں تھا۔ آہل بے حد شرمندگی سے مرش کی آنکھ مے دیکھ بولا ۔۔
تم جیسے مرد کو اور آتا ہی کیا ہے عورت کے اوپر ہاتھ اٹھا کر اپنی طاقت کی نمایش کرنے کے علاوہ ۔۔۔ مرش نے بے حد مضبوطی سے کہا ۔۔
تمہارے الفاظ ہی ایسے تھے مررش کسی بھی انسان کو غصہ دلا سکتے تھے ۔۔۔
چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔ مرش نے ایک بار پھر غصے سے کہا ۔۔
مرش ۔!! آہل نے اپنا نرم کشادہ لب مرش کے ماتھے پر رکھ دیا ۔۔۔ اسی لمحے مرش نے آنکھیں بند کر لی ۔۔ کچھ پل کے بعد مرش جیسے ہوش مے آ گیی تھی ۔۔
خدا حافظ مرش کی لرزتی پلیکں اوپر کی جانب اٹھنی مشکل ہو رہی تھی ۔۔ دروازے کو ایک جھٹکے سے کھول کر اندر کی جانب اپنے قدم بڑھا دیے ۔۔
آہل کے مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گیی تھی ۔۔


اسلام علیکم آنٹی ۔۔ بریرہ نے فارس کی امی فریحہ بیگم کو سلام کیا ۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔ فریحہ بیگم نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔
بریرہ نے دل کھول کر فریحہ بیگم سے خوب باتیں کی تھی ۔۔ فریحہ بیگم کو بریرہ شاہ آفندی بہت زیادہ اچھی لگی تھی ۔۔ کچھ دیر بعد فارس بریرہ کو روم دکھانے کے بہانےاپنے ساتھ اندر لے گیا ۔۔

یے رہا ہمارا روم ۔۔فارس نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔
ہمارا نہیں صرف تمہارا ۔۔ بریرہ نے نکھرا دکھانا ضروری سمجھا ۔۔
میرا تو ہے ہی بس اب اس روم کو ایک خوبصورت لڑکی کی ضرورت ہے ۔۔
تم لے آو لڑکی !
لے آتا یار لیکن مسلہ یے ہیں کی اس لڑکی کا ملنا بہت مشکل ہے ۔
کوشش کرو ہو سکتا ہے مل جاے وہ لڑکی ۔۔
کوشش ہی تو کر رہا ہوں جان ۔۔ فارس نے بریرہ کا ہاتھ پکڑتے ہوے کہا
اف !! فارس ٹایم کافی ہو گیا ہے مجھے کالج بھی تو ڈراپ کرنا ہے تم نے ۔۔
جب بھی میں تھوڑا رومینٹک ہونے کوشش کرتا ہوں تمہیں ہزاروں بہانے مل جاتے ہے مجھ سے پیچھا چھڑوانے کے ۔۔۔ فارس نے ناراضگی کا اظہار کیا ۔۔
فارس رومینس بعد مے کر لینا ۔۔ پلیز چلو ۔۔
اچھا ٹھیک ہے ۔۔ وہ دونوں اب کمرے سے اب ہار آ چکے تھے ۔۔
آنٹی اب میں چلتی ہوں خدا حافظ ۔۔ بریرہ فریحہ بیگم کے گلے لگتے ہوے بولی ۔۔
میں انتظار کروں گی بیٹا پھر آنا ۔۔ فریحہ بیگم نے خوش دلی کا مظاہرہ کیا ۔۔
جی ضرور ۔۔وہ دونوں اب گاڑی مے بیٹھ چکے تھے ۔۔


آہل مرش کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد سیدھا آفس آ گیا تھا ۔۔لیپٹاپ پر اس کی کی انگلیاں مسلسل چل رہی تھی ۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہویی ۔۔
یس ! آہل نے اونچی آواز مے کہا ۔۔
سر آپ سے مسڑ علی ملنے آے ہیں ۔۔ پیون نے اندر آتے ہی آہل کو خبر دی ۔۔
اچھا لیکن باہر شور کس لیے ہو رہا ۔۔ باہر سے اونچی آواز آہل کے کانوں سے بھی ٹکرایی تھی ۔۔۔
سر مسڑ علی مسلسل بدتمیزی کر رہے ہے اسٹاف سے انہوں نے فایٹینگ بھی کی ہے ۔۔ پیون نے لفظ بہ لفظ باہر ہونے والے واقعے کو اپنے باس کو بتایا ۔۔
اس کو میرے کیبین مے بھیجو ۔۔ آہل کی آنکھیں غصے کی وجہ سرخ ہو رہی تھی ۔۔
اجازت ملتے ہی پیون واپس جا چکا تھا ۔۔
کچھ لمحے انتظار کے بعد علی اپنے بیہودہ ہولیہ مے اندر داخل ہوا ۔
خوشاآمدید ۔۔۔علی شہروز ۔۔ آہل کی تنظیہ مسکراہٹ علی شہروز کا دل خاک خاک کر دی ۔۔۔
تونے بہت غلط کیا آہل شاہ آفندی تجھے اس کا حساب دینا ہوگا ۔۔ بزینس مے تو توں مجھ سے آگے تھا ہی لیکن تو تو بازی بھی لے گیا ۔۔ واہ علی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تالی بجا کر آہل کو داد دی ۔۔۔

بازی جیتنا میری فطرت مے ہے میرے یار اب کیا کیا جا سکتا ہے سواے افسوس کے ۔۔ آہل شاہ آفندی ہولے ہولے قدم بڑھاتا علی شہباز کے مقابل آ کھڑا ہوا ۔۔۔
تو تو بہت چالاک ہے ۔۔ تو نے مرش کو بھی مجھ سے چھین لیا ۔۔ ایک ہفتے کے لیے میں پیرس کیا گیا تونے نکاح ہی کر لیا اس سے ۔۔ علی شہروز کی آنکھوں مے نشے کی لکیر صاف دکھ رہی تھی چہرے پر بدنماں نشان منھ شراب کی بدبو آہل کو مزید غصہ دلا رہی تھی ۔۔

تو بہت بھولا ہے یار چھے سال سے تیری میری دشمنی ہے لیکن تو مجھے سمجھ نہیں پایا ۔۔ چی ۔۔چی ۔۔ آہل نے افسوس بھرے لہجے مے کہا ۔۔۔

لیکن تجھے یے پتہ کیسا چلا میں کرنے کیا والا ہوں ۔۔ علی کو شدید حیرت ہو رہی تھی آخر اس کا بنا بنایا پلان کی خبر آہل شاہ آفندی کو کیسے ہو سکتی تھی ۔۔

تجھے جاننا ہے تو ٹھیک ہے سن میں بتاتا ہوں ۔۔
وہ دن یاد ہے تجھے جس دن تو نے مجھے مال مے مرش کے ساتھ دیکھ لیا تھا ۔۔ میں سمجھ گیا تھا تیرے اس دو ٹکے ذہن مے کیا چل رہا ہوگا ۔۔ تیری تو دشمنی جو بھی تھی سب میرے سے وابستہ تھی لیکن تو مجھے نیچا دکھانے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔ اس وقت تجھے لگا ہوگا میرے اور مرش کے بیچ مے کچھ ہے اور تیرا اگلا ٹارگیٹ مرش سرفراز بن چکی تھی ۔۔۔
اپنے ذہن پر زور دے تو تجھے یاد آے گا میں نے اپنے آدمی کو تیرے پیچھا لگا رکھا تھا اور تیری پل پل کی خبر مجھے مل رہی تھی ۔۔۔
آہل شاہ آفندی نے کچھ غلط نہیں کیا تھا اس نے جو بھی کیا تھا سب کچھ مرش کی حفاظت کے لیے ۔۔۔۔

کیا تو نے اپنے ایک آدمی کو میرے پیچھے لگا رکھا تھا اوہ تو جس دن میں پاپا سے مرش کی بارے بات کر رہا تھا تو مطلب تو آس پاس ہی تھا ۔۔ علی شہروز کو یقین نہیں آ رہا تھا وہ خود ایک جال مے پھنس رہا تھا ۔۔ آہل شاہ آفندی اس کی سوچ سے بھی زیادہ تیز نکلا تھا ۔۔۔

اپنے ذہن پر تھوڑا اور زور دو اور یاد کرو اس دن تو نے اپنے گھٹیا باپ سے کیا بات کی تھی ۔۔ آہل نے دل جلا دینی والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔

اس دن ؟ علی شہروز اپنے باپ سے ہونے والی گفتگو کے بارے سوچنے لگا ۔۔
پاپا مجھے آہل کی کمزوری مل گیی ہے جس کی مجھے شدت سے تلاش تھی مرش ۔۔ مرش نام ہے اس لڑکی کا وہ آہل کی گرل فرینڈ ہے میں اس کا استعمال کر کے آہل شاہ آفندی تک پہنچ سکتا ہوں ۔۔۔

علی پہلے تم پیرس جاو بیٹا وہاں جانا بہت ضروری ہے پھر اس کے بعد تمہارا جو دل چاہے وہ کرنا ۔۔۔ مسٹر شہروز نے علی کو سمجھاتے ہوے کہا کیوں کی بیٹے سے زیادہ ان کی خود کی آہل شاہ آفندی سے دشمنی تھی ۔۔۔ لیکن ایک اہم میٹینگ کے سلسلے مے وہ علی کو پیرس بھیجنا چاہتے تھے ۔۔۔

پاپا صرف ایک بار میں مرش کو میسر ہو جاے ایک رات اس کے ساتھ گزار کر اسے گنہگار نہ بنا دیا تو میرا نام بھی علی نہیں ۔۔۔ میں اس کی عزت دو کوڑی کی بنا کر رکھ دوں گا ۔۔ اس کی صرف اتنی غلطی ہے کی وہ آہل شاہ آفندی کے رشتے مے ہیں ۔۔۔

علی لیکن ۔۔۔ مسٹر شہروز ابھی کچھ اور بولتے علی نے درمیان مے ہی انہیں ٹوک دیا ۔۔۔
پاپا بس ۔۔ اب میں وہی کروں گا جو میرا دل چاہے گا ۔۔آہل شاہ آفندی کا سارا غرور مٹی مے ملا دوں گا اس نے جس طرح ہمیں ہماری اوقات دلایی تھی سب کے سامنے ذلیل کر کے اسی طرح میں بھی وہی کروں گا ۔۔۔ علی اپنی بات مکمل کر کے جا چکا تھا ۔۔۔

لیکن مجھے یے سمجھ نہیں آ رہا اگر تو اس سے اتنی محبت کرتا تھا تو پھر اس دن کالج مے اس اتنی انسلٹ کرنے کا کیا مقصد تھا ۔۔ علی نے تھوڑی حیرت سے کہا کیوں کی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا اگر آہل شاہ آفندی کی وہ گرل فرینڈ تھی تو اس نے اس کی اتنی انسلٹ کیوں کی تھی ۔۔۔

وہ سب اس لیے کیا تھا کیوں کی میں تجھے اس دن کالج مے دیکھ چکا تھا تو کس کے لیے آیا ہے ۔۔ میرا وہاں جا کر اس کی انسلٹ کرنے کا کویی ارادہ نہیں تھا لیکن میں صرف تیری غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا تجھے یقین دلانا چاہ رہا تھا میرا اور مرش کا ایسا کویی تعلق نہیں ہے ۔۔ اس لیے میں نے اس کی انسلٹ کی تھی تا کی تجھے یقین ہو جاے ۔۔۔ اور تجھے یقین ہو بھی گیا تھا میرا اور مرش کا ایسا کویی تعلق نہیں تھا ۔۔۔
علی شہروز کو یقین ہو گیا تھا کی آہل اور مرش کا ایسا کویی تعلق نہیں ہے کیوں کی اگر ہوتا تو آہل شاہ آفندی پورے کالج کے سامنے اس کی انسلٹ نہ کرتا جو اس نے کیا تھا ۔۔ اسی بنا پر وہ ایک ہفتے کے لیے پیرس چلا گیا تھا یے سوچ کر کی پیرس سے واپس آنے کے بعد ضرور کچھ کروں گا ۔۔

کیا مطلب وہ سب جھوٹ تھا ۔۔اچھا نہیں کیا تو نے آہل ۔۔۔
نکاح تو تونے کیا ہے آہل شاہ آفندی لیکن تیری بیوی کے شوہروں والے سارے حقوق میں ادا کروں گا ۔۔۔ علی نے خباثت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔۔

علی !!!!!! اس قسم کے الفاظ سنتے ہی غصے کی وجہ سے آہل کے ساری رگیں صاف دکھ رہی تھی ۔۔ آہل نے دونوں ہاتھوں سے علی کا گریبان جکڑ کر دیوار می طرف دھکا دیتے ہوے کہا ۔۔۔

مرش کے بارے ایک لفظ نہیں ۔۔۔ ورنہ تیری زبان کاٹ تیرے ہاتھ مے دو دوں گا ۔۔۔ آہل کی آواز مے دنیا جہاں کی سختی تھی ۔۔۔
تو خود یہاں سے جا رہا ہے یہ میں دھکے دے کر تجھے باہر پھنکوں ۔۔۔ آہل نے لفظ بہ لفظ چبا کر کہا ۔۔۔
جا رہا ہوں میں لیکن تجھے ایک بات بتاتا چلوں آہل شاہ آفندی تیری بیوی خود چل کر میرے پاس آے گی ۔۔ علی نے وارنگ دیتے ہوے انداز مے کہہ کر باہر جا چکا تھا ۔۔۔
پیچھے آہل شاہ آفندی کی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی ۔۔ اس نے جو کچھ کیا سب اس بیوقوف لڑکی کے لیے کیا تھا لیکن اس کی کہاں سمجھ آنے والا تھا ۔۔