50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

فارس جیسے تیسے ڈرایو کر کے ہاسپٹل پہنچا تھا وقت بہت کم تھا ۔۔آہل کا خون رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے آنکھیں اسی طرح بند تھی پیشانی پر بال بکھرے ہوے انداز میں گرے تھے ۔۔
آپ پلیز باہر رکیں ۔۔۔ نرس نے فارس کو آپریشن تھیٹر کے اندر جانے سے روکا تھا ۔۔
آہل شاہ آفندی کی سانسیں اکھڑ رہی تھی پورا جسم بے جان مردے کی طرح پڑا تھا یوں جیسے یہ آخری منظر ہو آج کے بعد آہل شاہ آفندی ہمیشہ کے لیے سب کو چھوڑ کر چلا جاے گا سب ختم ہو جاے گا موت اسی کے انتظار میں کھڑی ہے لیکن ہمیں امید ہوتی ہے ہمیں ڈاکٹروں پر یقین ہوتا ہے وہ ہمیں بچا لیں گے ۔۔
ڈاکٹر پلیز میرے دوست کو کچھ نہیں ہونا چاہیے میں آپ سے بھیک مانگتا اسے بچا لیجیے ۔۔خدا کے واسطے ۔۔ فارس اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑ کر التجا کر رہا تھا اس کی سفید شرٹ خون سے لال ہو گیی تھی آنکھوں میں بےیقینی سی بےیقینی تھی ایک ڈر تھا دل میں ایک خدشہ تھا نہ جانے قسمت کو کیا منظور تھا یہ ساتھ کب تک کا تھا کون جانے ۔۔
ہم کوشش کریں گے آپ بس دعا کیجیے ۔۔ڈاکٹر معاذ نے اس کے کاندھے پر رکھ کر تسلی دی تھی اور آگے بڑھ گیے تھے ۔۔


نہیں امی ایسا کیسے ہو سکتا ہے میرے آہل کو کچھ نہیں ہو سکتا کبھی نہیں ۔۔ مرش چینخیں لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھی فارس نے انہیں فون کر کے بتا دیا تھا جو کی بے حد ضروری تھا ۔۔ اتنی ہی دیر مرش سمیت پوری فیملی ہاسپٹل میں موجود تھی رو رو کر سب کا برا حال تھا لیکن جاوید صاحب بہت ہمت سے کام لے رہے تھے لیکن کویی ان کے دل سے پوچھتا ایک باپ کے اوپر اس وقت کیا گزر رہی تھی ۔۔مرش کی حالت بد بدتر ہوتی جا رہی تھی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا ابھی ۔۔چند صرف چند لمحے پہلے آہل اس سے کیسے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا اور ابھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا ۔۔۔
بیٹا حوصلہ رکھو بس دعا کرو کچھ نہیں ہوگا میرے بچے کو ۔۔ فایزہ بیگم اسے گلے سے لگا کر تسلی دے رہی تھی ان کی بھی حالت مرش سے کچھ کم نہیں تھی لیکن انہوں اپنے آنسوں پر ضبط کیا ہوا تھا ۔۔ آہل کو اس وقت آنسوں سے زیادہ دعاوں کی ضرورت تھی ۔۔ بریرہ کو ایک چپ سی لگ گیی تھی اس کا جان سے عزیز بھایی اس وقت موت کا سامنہ اکیلے کر رہا تھا ۔لب مسلسل ہل رہے تھے آہل شاہ آفندی کی زندگی کی دعا کی جا رہی تھی نہ جانے کس کی دعا رنگ لے آے ۔۔
امی میرے آہل کو کچھ نہیں ہوگا مجھے بتاے نہ امی ؟؟ روتے روتے مرش کی آواز مدہم ہو گیی تھی ۔۔ اپنے سامنے اسے سواے اندھیروں کو کچھ نہیں دکھایی دے رہا تھا ؟۔تو کیا اللہ نے چھین لیا تھا مرش سے اس کا آہل ۔۔کیا ان کا ساتھ بس اتنا سا ہی تھا ۔۔۔
مرش اللہ سے دعا کرو میری بچی دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔۔ مریم بیگم مرش کو گلے لگا کر سمجھا رہی تھی اگر ان کے بس میں ہوتا تو آہل کی جگہ شاید وہ خود موت کے حوالے کر دیتی اور اپنے لخت جگر کو بچا لیتی ۔۔۔
یا اللہ میرے آہل کو مجھے واپس کر دے میرے مولا وہ میری زندگی میں سب سے اہم ہے اس کی سانسوں کو معطر کر دیں مالک وہ میرے لیے بہت قیمتی ہے وہ نہیں تو میں کچھ بھی نہیں ہوں وہ میری زندگی ہے میں اسے نہیں کھونا چاہتی ۔۔۔ مرش آنکھ بند کر کے جانماز پر بیٹھ کر سجدے میں گر سی گیی تھی وہ اپنے رب سے اس کی زندگی کی دعا مانگ رہی تھی اور نہ جانے کتنی دیر تک وہ سجدوں میں گر کر روتی رہی تھی ۔۔۔

میم یہ پیشینٹ کی دیگر چیزیں ہے ۔۔۔ سفید کپڑوں میں ملبوس ایک کم عمر کی نرس ہاتھوں میں وایلیٹ ‘ واچ ۔۔اور بھی کچھ ضروری سامان تھے جس کو وہ فایزہ بیگم کے ہاتھوں میں تھما رہی تھی ۔۔
میرا بچہ اب کیسا ہے خدا کے لیے مجھے بتاے ۔۔ نرس کے ہاتھوں سے سامان پکڑ کر فایزہ بیگم بلک بلک کر پوچھ رہی تھی ۔۔۔
ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ایم سوری ۔۔ نرس نے بے حد آہستہ سے کہا تھا اور الٹے قدموں واپس چلی گیی تھی ۔۔
اچانک آہل کے وایلیٹ سے ایک بےحد چھوٹے سے سایز کا فوٹو زمین پر آ گرا تھا لگتا ہے وہ جو کویی بھی تھا بہت قیمتی تھا آہل شاہ آفندی کی زندگی میں جبھی تو اسے یوں چھپا کر رکھا گیا تھا ۔۔
فایزہ بیگم نے جھک کر وہ فوٹو اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا تھا آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیی تھی اس فوٹو کا کیا مطلب تھا یہ آہل کی وایلیٹ میں کیا کر رہا تھا۔یہ تو ان کی بہن نورا ہاشم کا فوٹو تھا ۔۔۔
یہ فوٹو آہل کی ماں کا ہے نورا شاہ آفندی کا ۔۔۔ مریم بیگم نے ان کے ہاتھ سے فوٹو لے کر بے حد اداس لہجے میں بولی تھی آنکھیں آنسوں سے لبریز تھی کچھ بھی تھا آہل ان کی سگی اولاد سے بڑھ کر تھا ۔۔۔
یہ۔۔یہ تو میری بہن نورا ہے ۔ ۔فایزہ بیگم بےیقینی سی بولی تھی آج انہیں یاد آ رہا تھا وہ اکثر آہل کا چہرہ دیکھ کر کھو سی کیوں جاتی تھی یہ چہرہ اتنا جانا پہچانا سا کیوں سا لگتا تھا ۔۔
جی یہ آپ کی بہن ہے میں جانتی ہوں اور یہ آہل کی ماں ہے اس کی سگی ماں لیکن کینسر جیسی بیماری نے انہیں زیادہ مہلت نہیں دی تھی اور آہل کی زمیداری میرے سپرد کر گیی تھیں ۔۔ ہمیں اسی دن پتہ چل گیا تھا جس دن ہم آہل کے لیے مرش کا ہاتھ مانگنے گیے تھے لیکن یہ بات ہم آپ سے چھپا گیے تھے کیونکہ ہمیں ڈر تھا سچایی جاننے کے بعد آپ ہمیں مرش کا ہاتھ دینے سے انکار کر دیں گی ۔۔۔ مریم بیگم فایزہ بیگم کے قریب بیٹھ کر انہیں حقیقت سے آگاہ کر رہی تھی ۔۔ جس بہن کو انہوں نے گلی گلی ڈھنڈا تھا وہ ملی بھی تو ایسی قدرت نے اس طرح ان کا ملن کروایا تھا انہیں بے حد دکھ بھی ہوا تھا ان ک بہن اب اس دنیا میں نہیں تھی لکین ایک خوشی کا احساس بھی ہوا تھا۔۔ ان کی اپنی سگی بہن کا بیٹا آہل نہ صرف ان کا داماد تھا بلکہ ان کی بہن کا بیٹا تھا ۔۔
آنٹی آپ نے مجھے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا تھا ۔۔۔ مرش ابھی ابھی جانماز لپیٹ کر روم سے باہر آیی تھی لیکن مریم بیگم کے الفاظ پر اس کے پیر اسی جگہ پر جم سے گیے تھے ۔۔
ہمیں ڈر تھا مرش پتہ نہیں تمہارا کیا ریکشن ہوگا ۔۔۔ مریم بیگم اس کے چہرے کو دیکھ کر نرمی سے بولی تھی ۔۔
آہل نہ صرف اس کا شوہر تھا بلکہ اس کی خالہ کا بیٹا بھی تھا ۔۔ یہ بات مرش کے اندر ایک خوشی لی لہر دوڑ گیی تھی لیکن فلحال اس کا شوہر اور خالہ کا بیٹا موت کے منھ میں تھا ۔۔۔
تقریبن چار گھنٹے کے بعد آپریشن روم کھلا تھا ۔۔ڈاکٹرز کو باہر آتا دیکھ کر مرش ان کی طرف دوڑ لگایی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر پلیز بتاے آہل ٹھیک ہے یہ نہیں ؟؟ مرش کی آنکھوں سے آنسوں کی مسلادھار بارش ہو رہی تھی جسم میں شدید تکلیف محسوس ہو رہی تھی کیوں کی ملسل چار گھنٹے سے وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھ کر روے جا رہی تھی حلق تک خشک ہو گیا ایک تنکا بھی اس کے اوپر حرام تھا اگر جو اس نے منھ میں ڈالا ہوتا اسے صرف آہل شاہ آفندی چاہیے تھا اس کے بغیر تو اس کے وجود کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا زمانے کی دھوپ اور چھاو سے اسی نے ہمیشہ اسے چھپا کر رکھا تھا اس کا مجازی خدا تھا اسے اس کے سنگ جینا تھا اس کا محافظ تھا اس کا رازداں تھا ایک بیوی کا شاید سب سے اچھا رازداں اس کا شوہر ہی ہوتا ہے ۔۔
اپنے آپ کو سمبھالیے میسیز آہل سب کچھ اللہ کے منصحر ہے میں اور آپ کچھ نہیں کر سکتے آپریشن تو ہو گیا ہے ان کی دونوں گولیاں باہر نکال لی گیی ہے لیکن اگر چوبیس گھنٹے میں انہیں ہوش نہیں آیا تو ایم سوری !!!! ڈاکٹر معاذ کو بے تحاشہ ترس آیا تھا مرش کی اس حالت پر لیکن وہ کیا کر سکتے تھے سواے دواوں کے زندگی اور موت تو کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتی اگر ایسا ہو جاے تو شاید دنیا کے کویی بھی انسان اپنے پیاروں کو مرنے نہیں دیتا ۔۔۔
اور اگر چوبیس گھنٹے میں ہوش نہیں تو ۔؟؟ تو کیا ؟؟ کیا میرا آہل مجھے چھوڑ کر چلا جاے گا ہاں ؟؟ ایسے کیسے نہیں ۔۔نہیں ۔۔ وہ ایسے کیسے جا سکتا ہے ۔۔ وہ نہیں جا سکتا ۔۔نہیں جا سکتا وہ ۔۔۔ مرش کی چینخ فضا میں گونج اٹھی تھی آنکھوں میں سونامی امڈ رہی تھی اس کے اوپر قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔۔ ڈاکٹر معاذ کا گریبان مرش کے ہاتھوں میں جکڑا ہوا تھا وہ جیسے ڈاکٹر معاذ کو زندہ مار دے گی ۔۔
مرش سمبھالو خود کو میری بچی چھوڑو اسے ۔۔ جاوید صاحب مرش کو بڑی مشکل سے پکڑے ہوے تھے ۔۔
ڈیڈ دیکھیں نہ یہ ڈاکٹر کہہ رہا ہے چوبیس گھنٹے میں اگر آہل کو ہوش نہیں آیا تو وہ ہمیں چھوڑ کر چلا جاے گا ۔ مرش غایب دماغی کے ساتھ جاوید صاحب کو دیکھ رہی تھی اگر اس وقت کویی مرش کو پاگل قرار دیتا تو کویی بعید نہیں تھی ۔۔
مرش میری بچی چھوڑو انہیں چلو ہم وہاں پر چل کر بیٹھتے ہے ۔۔ بلا آخر جاوید صاحب کامیاب ہو ہی گیے تھے مرش کسی روبوٹ کی طرح ان کے ساتھ چلنے لگی تھی ۔۔۔
ڈیڈ اس نے کہا صرف چوبیس گھنٹے ہے آہل کے پاس ۔۔ کیوں ؟ ڈیڈ اگر آہل کو ہوش نہیں آیا تو ۔۔ مارے خوف کے مرش کا پورا جسم لرز اٹھا تھا ۔۔
ایسے کیسے اسے ہوش نہیں آے گا اگر اسے ہوش نہیں آیا تو بہت ڈاٹ لگاوں گا میں اسے پھر دکیھنا کیسے ہوش میں نہیں آتا ۔۔ جاوید صاحب مرش کو اپنے ساتھ لگا کر کسی چھوٹے بچوں کی طرح پچکار رہے تھے ۔۔لیکن ان کی اپنی حالت ایسی تھی کویی دیکھ لیتا تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا یہی جاوید شاہ آفندی ہے ٹھاٹ بھاٹ سے رہنے والے ۔۔
رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی گھڑی کی سویی ایک رفتار سے چل رہی تھی چاہے کتنے بھی بڑے دکھ اور غم کیوں نہ کو لیکن ظالم وقت کبھی نہیں رکتا ۔۔
مرش آیی ۔۔سی ۔۔یو ۔۔ کے باہر کھڑی ہو کر اندر بے سدھ بے خبر سوے ہوے شخص کو دیکھ رہی تھی کیا اس کے اندر ذرا بھی رحم نہیں تھا کیسے تڑپا رہا تھا لوگوں کو اور اپنے کتنے مزے سے سویا ہوا تھا ۔۔ مرش اس کے مضبوط جسم لو دیکھ کر یک ٹک سوچے جا رہی تھی ٹپ ۔۔ٹپ آنسوں زمین پر اپنا راستہ بنا رہے تھے ۔۔ دل کر رہا تھا اندر جا کر اسے جھنجھوڑ کر جگا دے کیوں دے رہا ہے وہ اسے اتنی بڑی سزا ۔۔
آہستہ آہستہ گھڑی کی سویی آگے بڑھ رہی تھی ظالم وقت اپنا پورا ہونے کی اطلاع دے رہا تھا ۔۔ نرس ڈاکٹرز کا ایک جھنڈ اندر کی جانب دوڑا تھا ۔۔ باہر بیٹھے لوگوں کی سانسیں دھیری ہو رہی تھی خاموشی کا ایک عجیب راز تھا درو دیوار سے خوف ٹپک رہا تھا باہر ہوتی تیز بارش نہ جانے کس طوفان کا پتہ دے رہی تھی آہیں سسکیاں سب زمین میں دھسی چلی جا رہی تھی پلکیں بےحس ہو گیی تھی لب ایک دوسرے میں پیوست ہو گیے تھے ۔۔
کچھ وقت گزرنے کے بعد ڈاکٹروں کا جھنڈ باہر آیا تھا ۔۔۔ مرش سمیت پوری فیملی خالی خالی نظروں سے سامنے کھڑے ڈاکٹرز کو دیکھ رہی تھی ۔۔
ان کے چند الفاظ نہ جانے طوفان لانے والے تھے یہ ہر سو خوشیاں بکھیرنے والے تھے ۔۔۔