50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

دس دن بعد !!
مرش پلیز تم بھایی سے بات کرو وہ ایسا کیسے کر سکتے ہے میرے ساتھ پلیز مرش ہیلپ می پلیز !! جب سے بریرہ کو پتہ چلا تھا جاوید صاحب اور آہل نے مل کر اس کا رشتہ پککا کر دیا ہے تب سے کمرے میں بیٹھ مرش کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔
بریرہ میں نے آخری کوشش کر کے دیکھ لی ہے لیکن کویی فایدہ نہیں ہے آہل تو یکدم میری طرف سے کان بند کر لیا ہے بولو میں کیا کروں !! مرش اس کے بالوں میں آہستہ آہستہ ہاتھ پھیر رہی تھی اور ساتھ میں خود بھی روے جا رہی تھی اسے اندازہ تھا بریرہ کے دل پر اس وقت کیا گزر رہی تھی ۔۔
میں یہ شادی نہیں کروں گی بھایی اور بابا نے مجھ سے پوچھنا تک گوارہ نہیں کیا میری مرضی کے بغیر انہوں نے ہاں کہہ دیا کم از کم بھایی کو مجھے وقت دینا چاہیے تھا میں ذہنی طور پر تیار تو ہو جاتی اتنی جلدی تھی انہیں پانچ دن کے اندر اندر میرا رشتہ پککا کر دیا اور کل میری شادی ہے ۔۔ ایک ایسی شادی جس سے میں خوش ہی نہیں ہوں ۔۔ رونے کی وجہ سے بریرہ کی آنکھیں مزید لال اور سوج گیی تھی بات تو اس کی بھی سہی تھی لیکن کویی سمجھتا تب نہ چار دن سے گھر میں شادی کا ماحول بنا ہوا تھا ۔۔ سب خوش تھے اس گھر کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کی شادی ہونے جا رہی تھی اس بات کی پرواہ کیے بغیر کی وہ اکلوتی اور لاڈلی بیٹی خوش ہے بھی یہ نہیں ۔۔
بریرہ چپ کر جاو میری جان اب کچھ نہیں ہو سکتا بس اتنا سمجھ لو قسمت کے آگے کسی کا زور نہیں چلتا ۔۔ مرش اس وقت اتنی بے بس دکھایی دے رہی تھی کی جیسے شطرنج میں ہارا ہوا کھلاڑی لیکن وہ بے چاری کیا کر سکتی ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ چکی تھی ایک ہی ٹاپک پر بحث کر کر کے ان دونوں میں چار دن سے بول چال بند تھی ۔۔ آہل تو کبھی کبھار اسے مخاطب کر لیتا تھا لیکن وہ نہ بولنے کی قسم کھا کر بیٹھی تھی ۔۔
مرش تم باہر جاو مجھے بریرہ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔ آہل نہ جانے کب وہاں پر آ دھمکا تھا اور مرش کو اس طرح کمرے سے جانے کا حکم دے رہا تھا جیسے وہ کویی بہت غیر ہو ۔۔
اوکے !! اتنی بے عزتی پر مرش کا وہاں رکنا مزید بےعزتی سے کم نہیں تھا ۔۔
مرش فورن کمرے سے باہر نکل گیی تھی اسے شوق بھی نہیں تھا بھایی بہن کی باتیں سننے کا ۔۔
میری گڑیا ناراض ہے مجھ سے ۔۔ بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ کر آہل محبت بھرے لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔۔
بھایی آپ ایسا کیسے کر سکتے ہے ؟ بریرہ بس اتنا ہی بول پایی تھی اور رونا پھر شروع ہو گیی تھی ۔۔
بریرہ تم میری بہن ہو کیا تمہیں اپنے بھایی پر بھروسہ نہیں ہے میں جانتا ہوں ہم نے تمہاری مرضی نہیں پوچھی گڑیا جس پر ہمیں مان ہوتا وہ ہمارا کیا گیا فیصلہ کبھی رد نہیں کریں پھر ان کی مرضی کویی معنی نہیں رکھتی اور مجھے بھی تم بہت مان ہے کیوں کی میں جانتا ہوں تم میرا فیصلہ کبھی نہیں رد کرو گی ۔۔ کیا مان تھا کیا غرور تھا آہل شاہ آفندی کی آنکھوں میں اتنا یقین اتنا بھروسہ صرف ایک بار “ایک بار اگر اس کی بہن اس شادی سے انکار کر دیتی تو کیا رہ جاتا سارا غرور مٹی میں مل جاتا ۔۔
بھایی میں کبھی آپ کے فیصلے پر انکار نہیں کرتی لیکن ۔۔ !!
بریرہ مجھ سے وعدہ کرو اپنے بھایی کا یہ مان کبھی نہیں توڑو گی سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے فیصلہ تمہارے اوپر ہے ۔۔ آہل کی آنکھوں میں بہن کی لیے محبت ہی محبت تھی پھر سب کچھ جانتے ہوے اتنا بے حس کیسے بن گیا تھا ۔۔۔
بریرہ ہار گیی تھی اپنے بھایی کی محبت کے آگے یقین کے آگے مان کے آگے ۔۔ بے بس وہ ہو گیی تھی وہ اس نے تو کبھی اپنے بھایی کو شرمندہ نہیں کیا تھا آخر کار بریرہ شاہ آفندی ہار چکی تھی اپنے بھایی کے سامنے اور ہاں میں سر ہلا دی تھی ۔۔ قسمت کا لکھا سمجھ کر ۔۔!
آیی لو یو ۔۔ آہل اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا وہ اس کی اکلوتی بہن تھی جو صرف آج رات کی مہمان تھی کل کو پیا دیس سدھارنا تھا اپنے آنگن کو سونا سونا چھوڑ کر ۔۔
آہل اور جاوید صاحب نے مل کر بریرہ کا رشتہ فکس کر دیا تھا آہل کی ہی بےقراری کی وجہ سے پانچ دن کے اندر اندر شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر دی گیی تھی ۔۔ اور پورے گھر میں شادی کا سماں تھا تیاریاں زورشور سے چل رہی تھی لیکن مرش دل پر پتھر رکھ کر ایک ایک کام میں دلچسپی لے رہی تھی اس رات کے بعد آہل اور مرش کے درمیان کویی بات نہیں ہویی تھی اگر ہوتی بھی تو سواے بحث کے ۔۔۔


آنٹی تو آپ آیں گی نہ ۔۔ آج اتنے دنوں کے بعد آہل شاہ آفندی خود اپنے پیروں سے چل کر فارس ہاشمی کے گھر آیا تھا اپنے دوست کے گھر ۔۔
ہاں ۔۔ ہاں کیوں نہیں میں تو ضرور آوں گی ۔۔ فریحہ بیگم کی چہرہ مارے خوشی کے دمک رہا تھا مسکراہٹ ان کے لبوں ہر جم سی گیی تھی نہ جانے آہل نے ان سے کیا باتیں کی تھیں کی وہ اتنی خوش ہو گیی تھی کی جتنی آج سے پہلے کبھی نہیں ہویی تھیں۔۔
ماں میں آپ کی دوا لے آیا یہ لیں ۔۔ فارس ہاتھ میں دوا کا پیک لیے فریحہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوا تھا لیکن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیی تھی سامنے بیٹھے ہنستا مسکراتا آہل کا چہرہ دیکھ کر ۔۔
بہت شکریہ بیٹا ۔۔ فریحہ بیگم اس کے ہاتھوں سے دوا کا پیک لے لی تھیں ۔۔
فارس دیکھو آہل آیا ہے تم سے ملنے ۔۔ فریحہ بیگم خوشی خوشی بتا رہی تھی ۔۔
ایک لمحے کو دونوں کی نظریں ملی تھیں کویی بتا ہی نہیں سکتا تھا کسی وقت میں یہ ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست رہ چکے تھے اس وقت انجان بے انجان سے لگ رہے تھے دونوں جیسے آج پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔
کیا حال ہے ؟ فارس کے اندر کم از کم تھوڑا بہت احساس تو تھا اور گھر آے مہمان کے ساتھ وہ کسی قسم کی بدسلوکی نہیں کر سکتا تھا خیر یہ کویی مہمان نہیں اس کا دوست تھا ۔۔
اچھا ہوں میں صبح سے تیرے فون پر کال کر رہا تھا تو پک نہیں کر رہا تھا اس لیے سوچا خود تم سے ملنے آ جاوں ۔۔ اس برعکس آہل مسکرا کر بتا رہا تھا یہ مسکراہٹ تو یکدم سچی تھی بلکل شفاف یہ تو وہی ہنسی تھی جب کبھی یہ دونوں کسی بات پر ہنسا کرتے تھے مسکراتے تھے ۔۔
اوہ میں اپنا روم میں ہی بھول گیا تھا ماں کی دوا لانا تھا تو چلا گیا تھا ۔۔ فارس نے جیب ٹٹولتے ہوے سنجیدگی سے اسے بتایا تھا اور سچ میں وہ اپنا فون گھر پر ہی بھول گیا تھا ۔۔
چل کویی بات نہیں میں تجھے ایک خوشخبری سنانے آیا ہوں ۔کل بریرہ کی شادی ہے ایم سوری شاید میں نے تھوڑا لیٹ کر دیا ہے انوایٹ کرنے میں لیکن کویی بات اس لیے ایم سوری ۔۔ ایکچولی میں تجھے اور آنٹی کو انوایٹ کرنے آیا تھا میری اکلوتی بہن کی شادی ہے اور میری دلی خواہش ہے آپ لوگ شرکت کرے ۔۔ تو ‘ تو ضرور آنا کیوں سارے انتظامات تجھے ہی دیکھنے ہے ابھی میں اتنا بہتر نہیں ہوا ہوں کی کچھ کر سکوں ۔۔ تو آے گا نہ ؟؟ ۔۔ کتنا بے حس تھا آہل شاہ آفندی بلکل پھتر کی مانند کسی کی پرواہ ہی نہیں تھی کچھ فرق ہی نہیں پڑتا تھا کون کیا سوچ رہا ہے کیا گزر رہی ہے اس کے اوپر ۔۔
فارس کے گویا قدموں تلے زمین کھسک گیی تھی آنکھیں پتھترا سی گیی تھی اندر دل چینخ رہا تھا جواب مانگ رہا تھا یہ سب اس کے ساتھ کیوں ہو رہا ہے ۔۔
کتنا خود غرض ہے تو آہل میں نے کبھی سوچا تک نہیں تھا تو اتنا سنگ دل ہے میں نے تیرح لیے کیا کچھ نہیں کیا اور تو ۔۔ تو کیسے مجھے میری بربادی کی دعوت دینے آ گیا کیسے ؟؟؟ فارس کے اندر ایک آگ سی بھڑکی تھی اسے آج زندگی میں پہلی بار آہل سے چڑھ محسوس ہو رہی تھی ۔۔
تو کچھ بول کیوں نہیں رہا ؟؟ فارس کو خاموش دیکھ کر آہل نے جانچتی ہویی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔
آ ۔۔ ہاں کیوں نہیں میں ضرور آوں گا ماں کو ساتھ لے کر میرا تو فرض بنتا ہے بریرہ کی شادی میں آنا تیرا تیرا دوست ہونے کے ناطے ۔۔ فارس دل پر جببر کر کے بولا تھا اس نے خود سے عہد کر لیا تھا وہ جاے گا اس شادی میں جس میں آہل شاہ آفندی نے خود انوایٹ کیا تھا ۔۔ “” میں آوں گا آہل شاہ آفندی میں دیکھنا چاہتا ہوں آخر اس لڑکے کے اندر ایسا کیا ہے جو میرے اندر نہیں ہے ۔۔ فارس اتنی ہی دیر میں نہ جانے کتنے عہد خود سے کر بیٹھا تھا ۔۔
اچھا آنٹی میں چلتا ہوں انتظار رہے گا مجھے آپ لوگ کا ۔۔ ایک آخری الوداعی نظر آہل شاہ آفندی فارس پر ڈال کر باہر نکل گیا تھا ۔۔
کتنا پیارا بچہ ہے بھیی میں تو شادی میں ضرور جاوں گی اور تم بھی اچھے سے تیاری کر لو ۔۔ فریحہ بیگم جوش سے بول رہی تھی بیٹے کے چہرے کے تاثرات دیکھے بغیر ۔۔ تو کیا اب فارس ہاشمی کی زندگی میں بریرہ نامی کتاب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دی گیی تھی تو کیا قسمت کو یہی منظور تھا ۔۔
ایک چھوٹے بچوں کی طرح فارس اپنے کمرے میں بند پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا اس نے تو صرف بریرہ سے محبت کی تھی ۔۔ اور وہ بھی اسے حاصل نہیں ہویی تھی کل وہ کیسے دیکھ پاے گا اپنی بریرہ کو کسی اور کا ہوتے ہوے دیکھ ۔۔ کہاں سے لاے گا وہ اپنے اندر اتنی ہمت ۔۔


آج ظالم وقت اور دن کی آمد ہو چکی تھی آج کے دن بریرہ شاہ آفندی نہ جانے کیا بننے والی تھی ” شاہ آفندی سے ہٹ کر “
مرش فنگر کی ڈریسینگ چینج کر دو پلیز !! آہل کی آواز میں درد تھا محبت تھی اپناییت تھی وہ خود کر لیتا لیکن مرش کو مخاطب کرنے کے لیے کسی نہ کسی بہانے کی ضرورت تو تھی ہی ۔۔
میں فری نہیں ہوں !! آینے کے سامنے کھڑے ہو بالوں کو سلجھاتے ہوے مرش بے فکری سے بولی تھی ۔۔
پلیز کر دو یار ۔۔ آہل بیڈ سے اٹھ کر عین اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا یہ بھی ایک منانے کا بہترین طریقہ تھا ۔۔
مرش کی پلکییں فورن ہی آینے کے سامنے اٹھی تھی کتنی مکمل تھی نہ ان کی جوڑی کتنا مکمل تھا آہل شاہ آفندی ہر چیز سے نوازا گیا تھا اسے سواے ایک نرم دل کے ۔۔
آہل میں نہیں ہوں پھری مجھے اور بھی بہت سے کام ہے آج بریرہ کی شادی ہے مجھے تیاری کرنی ہے کسی اور سے جا کر کروا لو ۔۔ مرش ایک سیکینڈ کے اندر آینے کے سامنے سے ہٹی تھی خفا خفا سا چہرہ صبح صبح بے حد دلکش لگ رہا تھا ۔۔
ٹھیک ہے پھر کسی ملازمہ سے جا کر کروا لیتا ہوں جب تم نہیں کرو گی ۔۔ اتنی معصومیت سے کہا گیا تھا کی مرش مجبور ہو گیی تھی اس کا چہرہ دیکھنے پر ۔۔لیکن اس سے پہلے کی کچھ بولتی آہل کمرے سے جا چکا تھا ۔۔
لیکن مرش کو کویی پچھتاوا محسوس نہیں ہو رہا تھا اس نے جو کیا تھا سہی کیا تھا ۔۔۔


ہاے اللہ میری بہت پیاری لگ رہی ہے اللہ نظر بد سے بچاے ۔۔
ریڈ کلر کے لہنگے میں بریرہ آج بے حد خوبصورت لگ رہی تھی میکپ بھی بے حد سلیقےسے کیا گیا تھا ۔۔۔ ہر ماں کی طرح مریم بیگم اسے سینے سے لگا کر دعاوں سے نواز رہی تھی ۔۔
امی میں آپ لوگ کو بہت مس کروں گی ۔۔ برہرہ پھر سے رونے پر اتر آیی تھی۔۔
تو ہم کون سا اپنی گڑیا بھول جایں گے تو صرف اس گھر سے جا رہی ہو ہمارے دلوں سے نہیں ۔۔ آہل کسی کام سے کمرے میں آیا تھا لیکن بہن کو دیکھ کر اسے سارے کام بھول گیے تھے ۔۔
بھایی میں آپ کو بہت مس کروں گی ۔۔ بریرہ آہل کے سینے سے لگ کر رو دی تھی ۔۔
میں بھی آپ کو سب سے زیادہ مس کروں گا ۔۔ اس کا ہاتھ تھام کر آہل محبت سے لبریز لہجے میں بولا تھا ۔۔ آنکھوں کے کونے میں نمی سی تیر گیی تھی آخر کو وہ اس کی اکلوتی اور لاڈلی بہن تھی ۔۔


مہمانوں کی تعداد اچھی خاصی تھی بزنیس پاٹنر کولیگز اور دیگر لوگ تھے ڈیکوریشن حد سے زیادہ خوبصورت کی گیی تھی لایٹس میوزک کیمرہ ایک ایک چیز شادی کی زینت بنی ہویی تھی ۔۔۔ ویٹرز کی تعداد گننے میں نہیں آ رہی تھی سب لوگ تشریف لا چکے تھے سواے فارس اور اس کی ماں کے علاوہ ۔۔

افف اللہ کیا کروں یہ زپ تو مجھ سے بند ہی نہیں ہو رہی ۔۔ اسکایی بلیو کلر کے فراک میں مرش بے تحاشہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ نہ جانے وہ کتنی دیر سے فراک کی زپ بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کا ہاتھ نہیں پہنچ رہا تھا ۔۔
اچانک واشروم کا دروازہ کھلا تھا آہل ٹاول ہاتھ میں لے کر بالوں کو ہلکا ہلکا رگڑتے ہوے اندر سے برامد ہوا تھا ۔۔ مرش حیرت زدہ اسے دیکھ رہی تھی اس کا خیال تھا کی آہل جا چکا ہوا ہے لیکن خیال بے حد غلط نکلا تھا ۔۔
مجھے کیا جاے یہ نہ جاے !! مرش بے فکری سے شانے اچکا کر پھر زپ بند کرنے کی کوشش میں لگ گیی تھی ۔۔
واڈروب کھول کر آہل نے نیو وایٹ کلر کی شرٹ باہر نکالی تھی لیکن پورا دھیان مرش کی جانب تھا جو بےچاری اس وقت حد سے زیادہ پریشان لگ رہی تھی ۔۔
شرٹ کی آستین کہنی تک فولڈ کرتے ہوے آہل آینے کے سامنے اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا ۔۔
ہاتھ ہٹاو میں بند کر دیتا ہوں ۔۔ شاید آہل کو دیکھ نہیں گیی تھی اس کی پریشانی اس لیے بنا کسی لگی لپٹی رکھے آفر کر دی تھی ۔۔
نو تھینکس میں خود کر لوں گی ۔۔ مرش ایک نظر اسے دیکھ کر فورن اس کی گیی آفر کو ٹھکرایی تھی ۔۔
میں کہہ رہا ہوں ہاتھ ہٹاو ۔۔ آہل کے مزاج میں تھوڑا سختی آ گیی تھی صرف دکھاوٹی تھی اگر نہ ہوتی تو مرش کبھی نہیں مانتی ۔۔
ایک سیکنڈ لگا تھا مرش کو ہاتھ ہٹانے میں اس کی بھی مجبوری تھی ۔۔
جب بیوی اتنی خوبصورت ہو تو دل کرتا ہے راتیں بھی ہمیشہ خوبصورت ہو “” آہل کو بہکنے میں ایک لمحہ لگا تھا ۔۔ آینے کے سامنے کھڑے وہ دونوں ایک دوسرے کے چہرے کو بڑی غور سے دیکھ رہے تھے ۔۔
زپ بند کرنے سے پہلے اس نے اپنے ہونٹوں کو مرش کی گردن پر رکھ دیا تھا اور مرش آہستہ سے اپنی دونوں آنکھیں بند کر لی تھی کیوں اسے پوری امید تھی آہل سے اس طرح کی جرکت کی ۔۔ جو کی غلط بھی نہیں تھی ۔۔
دو انگلیوں کی بیچ زپ کو پھنسا کر آہستہ سے اس نے اوپر کر دیا گیا تھا ۔۔ایک سکون کی سانس مرش نے لی تھی اور دوڑتے ہوے کمرے سے باہر نکل گیی تھی ۔۔پیچھے آہل کے لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ منڈلا گیی تھی ۔۔


بریرہ کو اسٹیج پر لا کر بیٹھا دیا گیا تھا ۔۔ آج وہ اتنی مجبور ہو گیی تھی سواے آنسوں کو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی آج اس کے اوپر اس کے دل پر قیامت گزر رہی تھی آنکھیں کالین پر جم گڑھ سی گیی تھی ۔۔
مردوں سے زیادہ عورتوں کا ہجوم تھا رنگین آنچلوں کی بھرمار تھی ۔۔
فریحہ بیگم اور فارس بھی تشریف لا چکے تھے ۔۔ فارس ہاشمی خود کو بہت سمجھا بجھا کر آیا تھا لیکن ساری ہمت گویا سلب ہو گیی تھی رگیں تن سی گیی تھی دل میں شدید خواہش جاگی تھی سب کچھ تہس نہس کرنے کرنے کی ۔۔
فریحہ بیگم کا استقابال بے حد اچھا ہوا تھا وہ تو یوں مسکرا رہی تھی جیسے بیٹے کا دکھ ایک لمحے میں بھول بھال سی گیی تھی ۔۔
نکاح خواہ تشریف لا چکے تھے گہما گہمی مچ گیی تھی بریرہ کا دل اندر ہی اندر چینخ رہا تھا نا انصافی ہو رہی تھی اس کے ساتھ ہو رہی تھی اس کے ساتھ ۔۔
میری جان اس طرح روں گی تو ابھی تمہارے پاس آ جاوں گا ۔۔
محبت کرتا ہوں تم سے ۔۔۔
جاننے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔
شاید کویی جاننے والا ہو ۔۔
ایک کے بعد ایک سوچ بریرہ کا دماغ گھما رہی تھی چکر سا آنے لگا تھا ۔۔ فارس میں آج کسی اور کے نام ہونے جا رہی ہوں کہاں ہو تم کہاں چلے گیے دیکھو تمہاری بریرہ کسی اور کی ہونے جا رہی ہے کسی اور کو اپنا سب کچھ سوپنے جا رہی ہے ۔۔ کہاں ہو تم فارس ۔۔ موتیوں کی لڑی ایک ساتھ گالوں پر گری تھی ۔۔ اسے نہیں پتہ تھا محبت کے راستے پر چلانے والا اس کا ساتھی اس کے سامنے ہی کھڑا تھا بت بن کر ۔۔
بریرہ شاہ آفندی ولد جاوید شاہ آفندی آپ کو فارس ہاشمی کے نکاح میں سکہ رایج الوقت 1 لاکھ روپے دیا جاتا ہے !!! کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ یک ٹک سب کی نظریں بریرہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔ اس نے سنا ہی کہاں تھا مولوی صاحب کیا بول رہے تھے ۔۔
بریرہ شاہ آفندی ولد جاوید شاہ آفندی اپ کو فارس ہاشمی کے نکاح میں سکّہ رائج الوقت 1 لاکھ روپے دیا جاتا ہے .۔۔

کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟ !! کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ۔۔ مریم بیگم نے اسے ہلکے سے ٹہکا دیا تھا اور تب جا کر وہ ہوش کی دنیا میں آیی تھی ۔۔ کیا ہو رہا تھا یہ سب سمجھ سے باہر تھا ۔۔
قبول ہے ۔۔! اس نے آہستگی سے ہاں میں گردن ہلا دی تھی ۔۔
ّاور تیسری بار بھی پوچھنے پر اس نے ہاں میں گردن ہلا دی تھی ۔۔
مام یہ ۔۔ یہ نکاح تو فارس کے ساتھ ہو رہا ہے مطلب فہد ۔! یہ سب کیا ہو رہا ہے مام ؟؟ مرش کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا کیا ہو رہا تھا یہ سب ۔۔ گھبراہٹ کی وجہ سے اس کے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔۔
مرش بیٹا ہماری بریرہ کا نکاح تو فارس کے ساتھ ہی ہونا تھا دراصل یہ سرپرایز تھا جو آپ سے بھی چھپایا گیا تھا ۔۔ مریم بیگم کو ہنسی آ گیی تھی ۔۔ کیوں انہیں علم تھا مرش کی حالت کیا ہو گی وہ ضرور بتا دیتی مرش کو اگر آہل انہیں نا روکتا ۔۔
وآٹ ؟ مرش ابھی بھی حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی ۔۔

فارس کو اپنا نام تو سنایی دیا تھا لیکن کہاں یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا ذہن تو یکدم ماوف ہو گیا تھا ۔ کیا تھا یہ سب ۔۔
اب یہیں پر کھڑا رہے گا یہ اسٹیج پر بھی چلے گا ۔۔ آہل اس کے پاس آ کر سنجیدگی سے بولا تھا ۔۔لیکن آنکھوں میں شرارت کی چمک جگمگا رہی تھی ۔۔
آ ۔۔آہل تو ۔۔ الفاظ کہاں تھے کی کچھ بولے جاتے وہ دونوں دوست ایک دوسرے کے گلے لگ گیے تھے ۔۔ کتنے دنوں بعد آج دونوں دوست یکدم پہلے جیسے لگ رہے تھے ۔۔
تیری عادت بدلی نہیں نہ مجھے سرپرایز دینے کی !! فارس کی مسکراہٹ میں کیا بات تھی ایک پل کو آہل کھو سا گیا تھا کتنی زیادتی کی تھی اس نے فارس کے ساتھ غصے کی آگ میں اس نے اپنے جان عزیز دوست کو کیا کچھ نہیں کہا تھا لیکن ایک رات ایسی نہیں گزری تھی کی وہ پچھتایا نہ تھا ۔۔
کیسی جاتی تونے ہی تو لگایی ہے ۔۔ آہل کھلکھلا کر ہنس دیا تھا ۔۔
فارس بے حد اچھا اور ہینڈسم دکھ رہا تھا ۔۔ ان آنکھوں میں صرف ایک لمحے میں اداسی کی جگہ چمک آ گیی تھی ۔۔
آہل اسے اپنے ساتھ لے کر اسٹیج پر چڑھ گیا تھا ۔۔
نکاح خواہ نے نکاح پڑھنا شروع کر دیا تھا ۔۔
فارس ہاشمی ولد آیاز ہاشمی بریرہ جاوید شاہ آفندی ولد جاوید شاہ آفندی کے ساتھ آپ کا نکاح طے پایا گیا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ مولوی صاحب فارس کا چہرہ دیکھ رہے تھے ۔
قبول ہے ۔۔
مولوی صاحب نے دوسری بار پوچھا تھا ۔۔
قبول ہے !!
تیسری بار ؟
قبول ہے ۔!! زندگی بھی کتنی عجیب ہے نہ گھما پھرا کر ہمیں ہمارے ہی مقام پر لا کھڑا کر دیتی ہے ۔۔ اپنے سایڈ میں بیٹھے فارس کا چہرہ دیکھ بریرہ کی مسکراہٹ اندر جانے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔
زندگی مسکرا دی تھی ۔۔
اس نے مارے خوشی سے پلکیں اٹھا کر آہل کو دیکھ رہی تھی کتنا اچھا تھا اس کا بھایی لاکھوں میں ایک سچ میں بریرہ کو ایسا بھایی ملنے پر بے تحاشہ رشک ہو رہا تھا اس نے کیسے سوچ لیا تھا اس کا بھایی اسے کویی تکلیف دے سکتا تھا ۔۔۔
آج میں نے بہت خوش ہوں یوں جیسے میں نے دنیا فتح کر لی ہے ۔۔ موقع پاتے ہی فارس بریرہ کے کان میں پھسپھسایا تھا ۔۔
کیوں ؟؟ بریرہ کو جواب چاہیے تھا تاکی تھوڑا وہ اور خوشی محسوس کر سکے ۔۔
کیوں کی ” سنگ جو تم ہو ” اپنا ہاتھ اس نے آہستہ سے بریرہ کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا ۔۔ اور کیمرے میں ہنستی مسکراتی ایک فوٹو اور قید ہو گیی تھی ۔۔
کیا باتیں ہو رہیں ہے کہیں میری بہن کو تنگ تو کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ؟؟ آہل فارس کے قریب رکھے صوفے پر آ کر بیٹھ گیا تھا اور بناوٹی غصہ چہرے پر سجا کر فارس سے پوچھ رہا تھا ۔۔
جی نہیں میں آپ کی بہن کو نہیں اپنی بیوی کو تنگ کر رہا ہوں !! فارس بریرہ کو دیکھ کر گرمجوشی سے بول رہا تھا ۔۔
اچھا بڑا غرور آ گیا ہے تیرے اندر مجھے تو آج لاین ہی نہیں مل رہی ہے بھیی نہ ہی بہن دے رہی ہے اور نہ ہی دوست !! آہل چہرہ رو دینے والا تھا ۔۔
ہا ۔۔ہا ہا ظاہر ہے بیوی آنے کے بعد سب بدل جاتے ہے انہیں لوگوں میں میں بھی شمار ہوں !! فارس نے بریرہ کا ہاتھ تھام آہل کو آنکھ مار کر ہری جھنڈی دکھایی تھی ۔۔
تجھے تو میں بعد میں دیکھ لوں گا ۔۔ آہل نے گھور کر فارس کو دھمکی دی تھی ۔۔
آہل تھیکنس !! فارس سنجیدہ تھا ۔۔
کس بات کے لیے ؟ آہل ٹھٹکا تھا ۔۔
اس سرپرایز کے لیے ۔!! فارس اپنی چمکتی آنکھیں آہل کے چہرے پر جما کر بولا تھا ۔۔
اب تو مجھے شرمندہ کر رہا ہے سچ بتاوں تو یہ تیرا حق تھا ۔۔ آہل اسے گلے لگا گیا تھا اسے اپنا دوست بہت بہت زیادہ عزیز تھا ۔۔