50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

مجھے تو ڈر ہے کہیں یے لڑکا کچھ غلط نہ کر بیٹھے ۔۔ جاوید شاہ آفندی آہل کے حوالے سے بہت فکرمند ہو رہے تھے ۔۔
اب وہ بڑا ہو گیا ہے کویی چھوٹا بچہ نہیں ہے جو کچھ غلط کریں گا ۔۔ مریم بیگم نے جاوید شاہ آفندی کو تسلی دی ۔۔


کون ہو سکتا ہے یے شخص میں۔۔ میں آخر اس کے میسیج کا انتظار کیوں کر رہی ہوں ۔۔ مرش تو کہہ رہی تھی کویی اپنا بہت قریبی ہو سکتا ہے ۔۔ اب مجھے پتہ لگوانا ہوگا ۔۔
فارس !! ۔۔ کہیں فارس تو نہیں ۔۔ بریرہ کی زبان پر ایک لخت فارس کا نام آیا ۔
نہیں نہیں فارس کیوں ہوگا ۔۔ لیکن پتہ لگانے میں کیا حرج ہے ۔۔ بریرہ اب طے کر چکی تھی آگے اسے کیا کرنا ہے ۔۔

بریرہ اپنا فون دینا ۔۔ اسی وقت آہل بریرہ کے کمرے میں آیا اس سے اس کا سیل فون مانگ نے ۔۔
بریرہ کی اوپر کی سانس اوپر نیچے کی سانس نیچے ہی اٹکی رہ گی ۔۔
ک۔ ۔ک۔ ۔ کیوں بھایی ۔۔ اگر اس انجان شخص کا مسلہ نا ہوتا تو بریرہ اپنا فون دینے میں ذرا بھی دیر نا کرتی ۔۔
تمہارے چہرے کا رنگ اتنا زرد کیوں پڑ رہا ہے ۔ آہل نے بریرہ کا چہرہ دیکھتا ہوا کہا ۔۔
ن۔ ۔ نہیں تو یے لیں ۔ بریرہ کے پاس اب کویی چارہ نہیں تھا ۔۔
یے لو ہو گیا کام ۔۔ آہل بریرہ کو پکڑاتے ہقے کہا ۔۔
آہل اب جا چکا تھا ۔۔ لیکن بریرہ کی حالت اب بھی ویسی کی ویسی تھی ۔۔۔


مرش یے کون سا طریقہ تھا تمہارے انکار کرنے کا ۔۔ فایزہ بیگم مرش کی اس وقت اچھی خاصی کلاس لے رہی تھی ۔۔
کچھ غلط تو نہیں کیا تھا میں نے مجھے شادی نہیں کرنی تھی ابھی بس مجھے جو سہی لگا میں نے کر دیا ۔۔۔
چپ رہو بہت زبان چلتی ہے تمہاری گھر آے مہمانوں سے کویی اس طرح پیش آتا ہے ۔۔ فایزہ مرش سے سخت ناراض تھی ۔۔
امی چھوڑے بھی بتاے کھانے میں کیا بنا ہے مجھے شدید بھوک لگی ہے ۔کالج سے آنے کے بعد بھی کچھ نہیں کھایا تھا میں نے ۔۔ مرش منھ بناتے ہوے بولی ۔۔


جیسے ۔۔جیسے سمجھایا ہے سب ویسا ہی ہونا چاہیے اگر کچھ بھی گڑبڑ ہویی تو اپنے پیدا ہونے پر تم لوگ کو پچتاوا ہوگا ۔۔ کچھ سمجھ آیی ۔۔
آہل ایک گھنٹے سے انہیں کل کے لیے درس دے رہا تھا ۔۔

یس سر ۔۔ جو آپ کا حکم ۔۔ سبھی گاڈز نے ایک ایک کر کے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
گڈ ۔۔ اور یاد رہے یے بات صرف ہمارے درمیان رہے گی ۔۔ اگر یہاں سے کویی بھی بات باہر نکلی ۔۔ تو اپنی موت کا سامان بھی لے کر آنا ۔۔
آہل اتنا کہہ کر واپس مڑا بلیک سن گلاسیز آنکھوں پر لگا کر گاڑی گھر کی طرف موڑ دی ۔۔۔


گڈ مارنگ بابا مرش ناشتے کی
ٹیبل پر پہنچ سرفراز صاحب کو گڈ مارنگ کہا ۔ ۔
گڈ مارنگ بیٹا ۔۔ سرفراز صاحب نے بھی مسکرا کر جواب دیا ۔۔ آج تو کالج ٹایم سے پہلے اٹھ گیی آپ ۔۔ سرفراز صاحب نے تھڑا حیرت سے کہا ۔۔
آج کالج سے میرا جلدی آنے کا ارادہ ہے آج نایبہ کی مہندی ہے اس نے خاص طور پر انوایٹ کیا ہے اس لیے جلدی جاوں گی تو جلدی آوں گی ۔۔
مرش نے آج سرفراز صاحب کو جلدی اٹھنے کا ریزن بتایا ۔۔
بابا اب چلتی ہوں خدا حافظ ۔۔ مرش سرفراز کے خدا حافظ کہہ کر باہر آ گیی ۔ آج اس نے بس کا سفر کرنا تھا کیوں کی وین اپنے ہی وقت پر آتی تھی ۔۔


کالج نہیں جاو گی کیا تم ؟؟ آہل بریرہ کا حولیہ دیکھ کر بولا ۔۔
نہیں آج موڈ نہیں ہے جانے کا ۔۔ بریرہ نے آہل کو جواب دیا ۔۔
جب موڈ نہیں ہے تو کویی ضرورت نہیں جانے کی ۔۔ آہل کرخت لہجے میں بولتا ہوا گاڑی کی طرف آیا۔ ۔
اس کا کام تو اور آسان ہو گیا تھا بریرہ کی طرف سے وہ تھوڑا ہریشان تھا لیکن اب سہی ہو گیا تھا ۔۔


میرے سارے اسایمینٹس تیار ہو گے اور آج مجھے گھر جلدی جانا ہے ۔۔ بریرہ اور زارا بھی نہیں ہے ۔۔ تم لوگ ساتھ کیوں نہیں چلتی ۔۔ مرش نے انہیں ساتھ چلنے کی آفر دی ۔۔
نہیں ہمیں تو ابھی تھوڑا ٹایم لگے گا ۔۔ تم جاو ویسے بھی تمہیں مہندی کے فنکشن میں جانا ہے ۔۔ جواب اریشہ نے دیا ۔۔
اچھا ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا خدا حافظ ۔۔ مرش ان لوگوں سے خدا حافظ کر کے کالج گیٹ باہر آیی ۔۔

سر مس مرش ابھی ابھی کالج سے باہر نکلی ہے ۔۔ کان میں بلوتوت لگاے آہل کچھ فایلز میں روز کی طرح بزی تھا ۔۔
اس کو جانے دو ہمارا ٹارگیٹ ابھی وہ نہیں ہے ۔۔ کالج آف ہونے میں بس تھوڑا وقت رہ گیا ہے ۔۔ آہل نے جواب دیا ۔۔ تین گاڈز کالج کے گیٹ کے باہر ایک بلیک چماچماتی گاڑی میں بیٹھ کر آہل کو پل پل کی خبر دے رہے تھے ۔۔ جب کام ہو جاے فوری طور پر اطلاع دینا مجھے ۔۔
اوکے سر ۔۔


آہل آفس سے باہر آ چکا تھا ۔۔ اب اسے شدت سے کام ہو جانے کا انتظار تھا ۔۔
سر کام ہو گیا ۔۔ دوسری جانب سے حد سے خوشی سے بتایا گیا ۔۔
ویل ڈن ۔۔ میں بس آ رہا ہوں ۔ ۔ اس جگہ لے کر پہنچو جہاں میں نے بتایا تھا آہل شاطرانا مسکراہٹ کے ساتھ بولا ۔۔
سر ہم بس پہنچنے ہی والے ہے ۔۔ گاڈز نے اپنے باس کو ایک اور لوش خبری دی
کتنی ہے ؟؟ ۔ آہل نے پھر سے سوال کیا ۔۔
سر دو ہے ! گاڈز نے جواب دیا ۔۔
کون کون سی ہے ؟ آہل ڈرایو کرتا ہوا ساتھ ساتھ سوال بھی کر رہا تھا ۔۔
سر ۔۔ آیی تھنک ۔ ایک ثمرہ ہے ایک اریشہ ہے ۔ گاڈز کو اچھے سے نہیں پتہ تھا کس والی کا کون سا نام ہے ۔۔
انہیں باحفاظت کمرے میں چھوڑ کر آو ۔۔اور میری اجازت کے بغیر کویی کمرے میں اپنی پرچھایی تک نہیں دیکھاے گا ۔۔ آہل تھوڑا سختی سے بولا ۔۔ آہل کو پہنچنے میں ابھی تھوڑا وقت لگنا تھا ۔کیوں وہ علاقہ شہر سے بہت دور تھا بہت پوشیدہ تھا ۔۔

اوکے سر ۔ ۔ آہل کے حکم کی فورن تعمیل کی گیی ۔۔

دوا کا اثر ختم ہو چکا تھا آہستہ آہستہ اریشہ نے آنکھ کھولی اسے کچھ سمجھ نہیں میں نہیں آ رہا تھا وہ کہاں پر ہے ۔۔ ثمرہ اب بھی نیم بے ہوش تھیناریشہ نے اسے جھنجھوڑ کر اٹھایا ۔۔
ثمرہ یے ہم کہاں ہے ۔۔ اریشہ نے آہستہ سے ثمرہ سے پوچھا ۔ ۔۔
یے تو ہمارا گھر نہیں ہے ہم تو کالج تو تھے ۔۔ ثمرہ کا دمازغ گھوم گیا تھا ۔۔
آیی تھنک ہمیں کیڈنیپ کیا گیا ۔۔ اریشہ کچھ سوچتے ہوے بولی ۔۔

گڈ آفٹرنون ۔۔ ایک ادھیڑ عمر کی عورت مسکراتی ہویی کمرے میں داخل ہویی ۔
ہم ۔۔ اس وقت ہم کہاں پر ہے ۔۔ ثمرہ نے یے سوال کرنا ضروری سمجھا ۔۔
آپ کے کیے کیا کھانے کو لے کر آوں ؟؟ ۔ اس عورت نے ان کیے گے سوال کو نظر انداز کر کے اپنی بات جاری کی ۔۔
ہم پوچھ رہے ہیں ہم ہے کہاں !! آپ ہم سے کھانے کا پوچھ رہی ہے ۔۔ ثمرہ غصے سے بولی ۔۔
آپ لوگ کو جس چیز کی ضرورت ہو ہمیں فورن اطلاع دیجیے گا کیوں کی ہمارے باس کا آڈر ہے آپ لوگ کا خاص خیال رکھا جاے ۔۔ عورت نے ایک بار پھر سے ان لوگ کی بات نظر انداز کی ۔۔۔
کون ہے تمہارے باس انہیں بلاو ہمیں ان سے بات کرنی ہے ۔۔ اریشہ نے چڑھ کر کہا ۔

وہ بس آنے ہی والے ہی والے ہے ۔۔ عورت اتنا کہہ کر خاموشی سے چلی گیی ۔۔
آہل پہنچ چکا تھا ۔۔ یے علاقہ شہر سے بہت ہی دور تھا جہاں چڑیوں کی چہچہاہٹ سننے کو انسان ترس جاے یہاں کی ہر چیز لکڑی کی بنی ہویی تھی ۔۔
سر وہ دونوں لڑکیاں جاگ چکی ہے اور مسلسل بولے جا رہی ہے ۔۔ ایک خبری نے آہل کو اطلاع دی ۔۔
اوکے اپنی اپنی جگہ سب کے سب کھڑے رہو ۔۔ میں آتا ہوں ۔ آہل اتنا کہہ کر کمرے میں کے اندر داخل ہوا ۔۔
خوشاآمدید ۔۔ آہل مسکراتا ہوا بیڈ کے سایڈ پر رکھی چیر پر بیٹھ گیا ۔۔
ت۔ ۔تم تو بریرہ کے بھایی ہو ۔۔ اریشہ حیرت سے آہل کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔
بڑی اچھی یادداشت ہے ۔۔ سو کیسا لگا یے روم آہل ان لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش آ رہا تھا جیسے وہ کویی بہت خاص مہمان ہو ۔۔
تم ۔۔ تم ہمیں کیوں لے کر آے ہو ۔۔ ثمرہ نے ڈرتے ہوے پوچھا ۔۔
کسی مقصد کے لیے ۔۔ آہل کی مسکاہٹ معنی خیز تھی ۔۔
مقصد کون سا مقصد ؟؟ اریشہ اب آہل کا مقصد جاننا چاہتی تھی ۔۔

مایی ڈیریسٹ وہ بھی پتہ چل جاے گا اپنے چھوٹے سے ذہن پر اتنا زور مت دو ۔۔ آہل اریشہ کے سر پر رکھ کر کہا ۔۔

زہرہ بی بی ۔۔ آہل نے کسی عورت کا نام لے کر پکارا ۔۔
جی صاحب جی ۔۔ وہی ادھیڑ عمر عورت اندر آیی ۔۔
لگتا ہے آپ نے ہمارے مہمانوں کی خاطر داری نہیں کی ۔۔ ان کی خوب اچھے سے خاطر کیجیے ۔۔ کویی شکایت نہیں ہونی چاہیے انہیں ۔۔۔ آہل ایسا بول رہا تھا ۔۔ جیسے وہ سب اپنی یہاں پر خاطر کروانے آیی ہو ۔۔
جو حکم صاحب جی ۔۔زہرہ بی بی اسی وقت کمرے سے باہر گیی کچھ دیر بعد ضرورت سے زیادہ ہی خانے پینے کی ٹرالی لے کر اندر داخل ہویی ۔۔
جیسے انہیں دعوت پر مدعو کیا گیا ہو ۔۔
خانے سے پہلے ایک فوٹو لینا چاہتا ہوں تم لوگوں کی ۔۔۔ آہل موبایل جیب سے نکالتے ہوے بولا ۔۔
فوٹو ؟؟ لیکن کیوں ۔۔ ثمرہ نےسمجھی سے کہا ۔۔
بہت خوبصورت ہو نہ تم لوگ اس لیے ۔۔ آہل نے ان کا مزاق اڑایا ۔۔
بال آگے کرو چہرے کا اکسپریشن تھوڑا جینج کرو پاس آو ۔ آہل انہیں اسٹایل پر اسٹایل بتاتے چلا جا رہا تھا ۔۔
ثمرہ اور اریشہ کو ایک پل کے لیے بھی محوسوس نہیں ہوا وہ کسی کی قید میں ہے ۔۔۔ جس طرح ان کی خاطر توازو کی جا رہی تھی اس سے ایسا لگ رہا تھا وہ وقعی دعوت میں مدعو ہے ۔۔۔

بیوٹیفل !! آہل ان کی تصویر لے کر باہر جا چک تھا ۔۔


مرش تیار ہو گیی تم ۔۔ فایزہ بیگم کمرے کے اندر داخل ہوتے ہوے پوچھی ۔۔
ہاں امی بس جا رہی ہوں ۔۔ مرش نے بالوں میں برش کرتے ہوے کہا ۔۔
اچھا احتیاط سے جانا ۔۔ میں ذرا جا رہی ہوں آرام کرنے اپنے کمرے میں ۔۔
آپ جاے آرام کرے میں بس نکل رہی ہوں ۔۔ مرش نے گرے کلر کا شوز پہنتے ہوے کہا ۔۔ اس کی تیاری مکمل ہو چکی تھی ۔۔ روز کی طرح آج بھی اس کا حسن چار چاند لگا رہا تھا ۔۔
فایزہ بیگم جا چکی تھی ۔۔
تبھی مرش کے موبایل کی میسیج رنگ نے تیزی سے آواز کرنی شروع کی ۔۔
ارے بھیی کون پے میسیج پر میسیج کیے جا رہا ہے ۔۔
مرش نے میسیج انباکس اوپین کیا ۔۔
اسکرین پر جو تصویر چمک رہی تھی ۔مرش کا ہوش کچھ پل کے لیے آڑا لے گیی ۔۔
اریشہ ثمرہ ؟؟ ۔۔ یے کیسی تصویر ہے ۔۔ مرش اس سے پہلے کی کچھ اور سوچتی ۔۔ کسی انجان نمبر سے کال آنی شروع ہو گیی ۔

ہیلو !! مرش پہلی ہی فرصت میں کال پک کی ۔۔
کیسی ہو میری ڈال ؟؟ ۔۔ آہل نہایت بے فکری سے بولا ۔۔
کون ہو تم ؟ مرش ابھی آہل کی آواز نہیں پہچان پایی تھی ۔۔
مطلب تعاروف کی ضرورت ہے اتنی جلدی مجھے بھول گیی ۔۔ تھوڑا دماغ پر زور ڈالو ۔۔ ابھی یاد آے گا کون ہوں میں ۔
۔ آہل شاہ آفندی کے اندر بدلے کی آگ اتنی بڑھ چکی تھی اسے کسی بھی طرح سے اس دو ٹکے کی لڑکی کو اس کی حیثیت نہ یاد دلا دیتا چین سے نہیں بیٹھنے والا تھا ۔۔

مرش کو ایک لمہ لگا تھا اس کی آواز پہچاننے مے ۔۔۔
تم ۔۔ تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا ۔۔۔ مرش بے انتہا غصے میں آ چکی تھی ۔۔
مجھے تو تم خود مل سکتی ہوں ۔۔ یے نمبر تو بہت معمولی سی چیز ہے میری جان ۔۔
پھوٹو تو تم دیکھ چکی ہو تمہاری دونوں کارٹونس اس وقت میرے قید مے ہے ۔۔
کیا ؟؟؟؟؟ ۔۔ مرش نے چلاتے ہوے کہا ۔۔
اس کی زمیدار تم خود ہو ۔۔ اب بھی سب کچھ تمہارے اوپر ہے ۔۔ آہل اب مین مقصد پر آیا ۔۔
تم کیا بول رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے ۔۔ مرش پریشان سی حالت مے بولی ۔۔
سب سمجھ مے آ جاے گا ۔ ڈونٹ وری میں ہوں نہ آہل نے مرش کی حالت سے محفوظ ہوتے ہوے کہا ۔۔
دروازے سے باہر آو ۔۔ آہل مرش کو حکم دیا ۔۔
مرش باہر آ چکی تھی ۔۔
لیفٹ سایڈ دیکھو ۔! آہل مرش کو لیفٹ سایڈ دیکھنے کا حکم دیا ۔۔
بلیک گاڑی دکھ رہی ہے اس کے ساتھ ایک سیکریٹری کھڑا ہوگا ۔۔
ہاں ہے ۔۔ مرش نے ہاں میں ہامی بھری ۔۔
اب بلکل چپ چاپ گاڑی مے جا کر بیٹھ جاو یہی تمہارے لیے بہتر ہے ۔۔ سب کچھ تمہارے ہاتھ مے ہے ۔۔۔
خدا حافظ ۔۔ آہل کال کٹ کر چکا تھا ۔۔
میری ۔میری بات سنو !! مرش آہل کو پکارتی ہی رہ گی ۔۔
اس کے پاس اب کویی چارہ نہیں تھا ۔۔ یا اللہ یے شخص مجھ سے چاہتا کیا ہے ۔۔ لیکن اب یے سب سوچنا بے کار تھا ۔۔ مرش کو نہ چاہتے ہوے بھی گاڑی مے بیٹھنا پڑا ۔۔ وہ سوچ ۔سوچ کر پاگل ہو رہی تھی ۔ آخر آہل کا مقصد کیا ہے ۔۔

دور رہو مجھ سے ۔۔ گاڈز نے جیسے ہی دروازہ کھولنا چاہا مرش اس سے کوسو دور ہو گیی ۔۔
میڈم ہمیں جو آڈر دیا گیا ہے ہم وہی کر رہے ہے ۔۔ وہ گاڈز اپنی صفایی مے بولا ۔۔
میری ایک بات یاد رکھنا نہ تم بچو گے نہ تمہارا باس ۔۔ مرش گھورتی ہویی گاڑی مے بیٹھ چکی تھی ۔۔
سر میڈم بہت غصہ کر رہی ہے ۔۔ گاڈز نے فورن آہل کو خبر پہنچایی ۔۔
میں نے کہا تھا چپ چاپ بیٹھنا ۔۔ ورنہ اس کی سزا بھی طے ہے تمہارے لیے ۔۔
مرش کے موبایل اسکرین پر آہل کا میسیج چمکا ۔۔
ذلیل انسان ۔۔ مرش نے حساب چکانے مے کویی کسر نہیں چھوڑی ۔۔

ہمارے گھر والے پریشان ہو رہے ہونگے پلیز ہمیں جانے دو ۔۔ ثمرہ اداس سے لہجے میں بولی ۔۔
ابھی تمہاری ہیڈ پہنچ رہی ہے ۔۔پھر کچھ سوچتے ہے۔ ۔
ایک منٹ اپنا فون دو ؟؟ آہل اریشہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوے بولا ۔۔
وہ بیگ میے ہیں بیگ تو تمہارے گاڈز کے پاس ہے ثمرہ نے جواب دیا ۔۔

ان لڑکیاں کے بیگز کہاں ہے ؟؟ آہل گاڈز کے چہرے پر نظریں جما کر کہا ۔۔
سر یے رہا بیگ ۔۔ تبھی زہرہ بی بی نے بیگ آہل کی طرف بڑھایا ۔۔
آہل ان دونوں کا سیل فون لے کر دوبارہ سے کمرے مے داخل ہوا ۔۔
اپنا اپنا فون اٹھاو !! ۔۔ آہل نے فون کی طرف اشارہ کیا ۔۔
کویی چالاکی نہیں ۔ ورنہ ہمیشہ کے لیے دنیا بھول جانا آہل آنکھوں میں شرارت صاف نمایاں تھی اس بہت مزا آ رہا تھا ان دو بیوکوفوں کے ساتھ ۔ اریشہ اور ثمرہ بہت زیادہ خوفزدہ تھی ۔۔ لیکن آہل کے ہاتھ مے گھومتی ریوالور کو دیکھ کر ان کی بولتی بند ہو جاتی تھی ۔۔ پہلے تم اپنے گھر فون کر ۔۔ اور ان سے بولو تم اریشہ کے گھر ہو اسایمینٹس بنا رہی ہو ۔۔ آہل ثمرہ کو ساری لاینز یاد کرا رہا تھا ۔۔
ہیلو !! ماما میں اریشہ کے گھر پر ہوں ہم اسایمینٹس تیار کر رہے ہے آپ بلکل پریشان نا ہویے گا ۔۔ ثمرہ کی آنکھ سے آنسو جاری تھے کچھ بھی تھا وہ لوگ واقعی کیڈ نیپ کی گی تھی ۔۔۔
ویل ڈن !! آہل اب اسے شاباسی دے رہا تھا ۔۔
اب تمہاری باری ۔۔ آہل اب اریشہ کو حکم دے رہا تھا ۔۔
اریشہ کی کال اس کے بابا نے ریسیو کی تھی ۔۔
بابا میں اس وقت ثمرہ کے گھر پر ہوں ہم اسایمینٹس بنا رہے ہے آپ پریشان نہ ہویے گا ۔۔۔ ایشہ نے سیم وہی لاین دہرایی جو ثمرہ نے دہرایی تھی ۔۔۔

کتنی اچھی بچی ہو تم لوگ ۔۔ آہل خوش نے خوش ہو کر کہا ۔۔

سر ہم بس پہنچ چکے ہے پانچ منٹ کے اندر مس مرش آپ کے پاس ہونگی ۔۔ آہل اس خبر کو سنتے ہی مسکرا دیا ۔۔تیر بلکل نشانے پر جا کر لگا تھا ۔۔

رمیض ۔۔ کام پر لگ جاو ۔۔ آہل ایک گاڈز کا نام لے کر پکارا ۔۔
یے یے کیا کر رہے ہو تم لوگ ۔ ہمیں باندھ کیوں رہے ہو ۔۔ اریشہ اور ثمرہ کو دوسرے روم میے شفٹ کر دیا گیا تھا ۔۔ جہاں پر ضرورت سے زیادہ اندھیرا تھا ۔۔ ان دونوں کے منھ پر کالا سیاہ کپڑا باندھ دیا گیا تھا ہاتھ پیر کو اتنی سختی سے باندھا گیا تھا ہلنا ڈلنا مشکل تھا ۔۔

آہل جیب میے ہاتھ ڈالے باہر آیا ۔۔ مرش گاڑی سے باہر آ چکی تھی ۔۔ اتنے گاڈز اتنا پوشیدہ علاقہ اس نے زندگی مے پہلی بار دیکھا تھا ۔۔

مرش کی نظر جیسے ہی آہل پر پڑی وہ دوڑتے ہوے اس کے پاس آیی ۔۔ اس کا کالر اپنی مٹھیوں مے بھینچ کر تیز آواز مے چلایی ۔۔ کہاں ہے میری دوستیں ۔۔ بولو کمنے انسان ۔۔

آرام سے اس طرح پکڑوگی تو سب ہمارے اوپر شک کر کریں گے ۔۔۔ آہل کی !سکراہٹ مرش کا دل جلا کر خاک کر رہی تھی ۔۔
میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں ۔۔ تم ایک ۔۔ مرش اس سے پہلے دو چار گالیوں سے آہل کو نوازتی آہل نے انتہایی سختی سے اس کی کلایی اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لی اور کھینچتا ہوا ایک کمرے مے لے گیا ۔۔ !! مرش اسٹیچو بنی آہل کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔ آہل نے دروازے کو اندر سے لاک کر دیا تھا ۔۔
یے ۔۔یے تم دروازہ کیوں بند کر رہے ہو ۔۔ مرش بہت ہمت کے سارھ بولی ۔۔

اتنا تیار ہو کر آو گی مجھے نہیں پتہ تھا ۔۔ ورنہ یے جگہ کبھی نہ بک کرتا ۔۔ آہل کا ارادہ تھا ابھی مرش کو تھوڑا ڈرانے کا ۔۔

میں تمہارے لیے نہیں تیار ہو کر آیی ہوں زیادہ خوشفہمیاں پالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ درازہ کھولو مجھے باہر جانا ہے ۔ مرش بے خوفی سے بولی وہ آہل کو یے باور کرانا چاہ رہی تھی ۔۔ وہ اس سے ڈرتی نہیں ہے ۔۔

باہر بھی چلیں گے پہلے یہاں پر تھوڑا سا وقت تو گزار لے ۔۔
گھٹیا انسان دور رہنا مجھ سے ۔۔
ابھی نکھرے اٹھانے کے موڈ مے بلکل نہیں ہوں میں سو چپ چاپ میرے قریب آ جاو ۔۔ مرش کا چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا ۔۔ آہل اس کے اس خوف سے حظ اٹھا رہا تھا ۔۔

تمہیں پتا ہے مجھے عورتیں بہت پسند ہے اور جب تم جیسی ہو تو میں اپنے آپ مے نہیں ہوتا ۔۔ آہل کے الفاظ مرش کو ڈرا رہے تھے ۔۔

دیکھو میرے قریب مت آنا ۔۔ مرش ایک قدم پیچھے کرتے ہوے بولی ۔۔
میری جان !! ہماری منزل ایک ہی ہے تو پھر سفر تنہا کرنے کا کیا فایدہ ۔۔
میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔ پلیز مجھے اور میری دوستوں کو یہاں سے جانے دو ۔۔۔ مرش اب التجا پر اتر آیی تھی ۔۔

دل کا کنیشن جوڑ لو ۔۔ ہاتھ جوڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی ۔۔ آہل نے مرش کا اپنے ہاتھوں مے لے کر کہا ۔۔
تمہاری مجھسے دشمنی ہے نا آخیر تم مجھسے چاہتے کیا ہو ؟؟؟ مرش نے غصے اسکی شرٹ کے کالر کوپکڑ کر بے خوف سی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔
تم سے “”””تمسخرانا مسکراہٹ کےساتھ آہل اسکی طرف انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
آہل کی مسکراہٹ اسکا مرش کا دل جلا رہی تھی
بتاؤ کہاں ہیں میری فرینڈس مرش چینختے ہوئے اسکا کالر چھوڑ ادھر ادھر پاگلوں کی طرح دوڑ تے ہوئے پوچھنے لگی

آہل چلتے ہوئے مرش کے قریب جانے لگا۔۔۔آہل مرش کے اتنا قریب آ چکا تھا کے پیچھے جا نے کا راستہ ختم ہو چکا تھا

مرش کے ماتھے پر گرے خوبصورت بال اسکی کی پیشانی کو چھو رہے تھے ۔۔
گالوں پر رقص کرتی زلفوں کو آہل مرش کے کان کے پیچھے کرتا ہوا چہرہ اس کے اور قریب لے گیا ۔۔

تم سے تو بہت کچھ چاہتا ہوں جان من! آہل مرش کو خود سے قریب کرتے ہوئے اسکے کان میں سر گوشی کی ۔۔۔۔
کبھی فرصت مے ملو تو بتاؤنگا یوں خوںخوار شیرنی بن کر پوچھو گی تو یہ معصو م بچہ کیا خاک بتاے گا۔۔۔ آہل اپنی نگاہیں مرش کے چہرے پر مرکوز کرتے ہوئے بولا ۔۔

ویسے اب تم پوچھ ہی رہی تو اس معصوم بچے کی ایک اور خواہش ہے ۔۔
وہ کون سا شعر ہے !! آہل اپنی پیشانی پر انگلی سہلاتے ہوے یاد کرنے کی کوشس کر رہا تھا ۔۔
ہاں یاد آیا ۔۔
آہل مرش کے کان کے پاس اپنے ہونٹوں کو قریب لے گیا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کویی رات میرے آشنا مجھے یو بھی تو نصیب ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ رہے خیال لباس کا وہ اتنا میرے قریب ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرش کو بلکل توقع نہیں تھی آہل سے ایسے شعر کی ۔۔۔
تمہاری طرح تمہارا شعر بھی گھٹیا ہے ۔ ۔ مرش آہل سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔
ہا ۔۔ ہا ۔۔ یے شعر تو تمہارے لیے تھا ۔۔

اب جو میں کہنا جا رہا ہوں میری بات بہت غور سے سنو ۔۔ آہل شاہ آفندی اپنے پرانے بھیس مے واپس آ چکا تھا ۔۔۔