Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
بریرہ شکر ہے تمہارا دیدار تو ہوا ۔۔ فارس بریرہ کو پک کر کے مسلسل اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا ۔۔
خوش تو میں بھی ہوں ویسے بھایی تم پر اندھا بھروسہ کرتے ہے فارس لیکن ہم دونوں انہیں دھوکہ دے رہے ہے ۔۔
بریرہ آہل سے میں کچھ نہیں کہہ سکتا پتہ نہیں وہ مجھے کیا سمجھے گا لیکن مجھے بہت برا لگ رہا ہے پر یار محبت پر زور کس کا ہیں ۔۔ فارس نے افسوس بھرے لہجے میں کہا ۔۔
مجھ سے پہلے کتنی لڑکیوں کو محبت کا حوالہ دے چکے ہو ۔۔بریرہ اب شرارت پر اتر آیی تھی ۔۔
کسی کو نہیں یار بس ایک دو لڑکیوں کو ڈیٹ کیا تھا اور کچھ نہیں ۔۔ فارس نے ہنستے ہوے کہا ۔۔
تم مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے نہ فارس ۔۔ بریرہ نے ایک آس بھری امید سے پوچھا ۔۔
میں سوچتا ہوں بریرہ جس دن میں نے تمہیں چھوڑنے کی بات کی اس دن میرے نصیب میں موت سے زیادہ بڑی اور کویی سزا نہیں ہوگی ۔۔ فارس کے ایک ایک لفظ میں سچایی تھی ۔۔
آیی لو یو فارس ۔۔
لو یو ٹو ۔۔ فارس نے گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہوے کہا ۔ ۔۔۔
رات میں کال کروں گی ۔۔
میں شدت سے انتظار کروں گا ۔۔ فارس نے خوش ہوتے ہوے جواب دیا ۔۔
بریرہ گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر جا چکی تھی ۔۔
مرش یے تو بہت ہی خوبصورت ہے بھایی آہل کی پسند تو واقعی بہت اچھی ہے ۔۔فایزہ بیگم مرش کی گیی شاپنگ کو دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ آہل کی پسند کو بھی داد دے رہی تھی ۔۔
اس نے نہیں پسند کیا امی میں نے کیا ہے ۔۔ مرش نے جھٹ سارا کریڈٹ اپنے سر لیا ۔۔
بھیی تم پسند کرو یہ آہل بات تو ایک ہی ہے ۔۔ فایزہ بیگم نے ایک بار پھر سے آہل کی پسند کو ترجیح دیا ۔۔ شادی کی تیاری عروج پر تھی لڑکوں والی کی بھی طرف سے اور لڑکی والوں کی بھی طرف سے فایزہ بیگم اپنی اکلوتی بیٹی کو زندگی ساری آسایش دینا چاہتی تھی ۔۔
امی اتنی ساری تیاریوں کی کیا ضرورت ہے ۔۔ مرش کو اتنی تیاریاں دیکھ کر سخت الجھن ہو رہی تھی ۔۔
کیسی بات کر رہی ہو بیٹا ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں جاوید صاحب نے ایک ایک چیز کے لیے منا مر دیا تھا ۔۔ فایزہ بیگم نے بڑے تحمل سے جواب دیا ۔۔
مرش تم ٹھیک تو ہو نہ بیٹا تمہارا چہرہ اتنا بجھا بجھا سا کیوں لگ رہا ہے شادی پر لڑکیوں کی ہزاروں خواہشیں ہوتی ہے ۔۔فایزہ بیگم مرش کی حالت سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔
میں آپ کو کیا بتاوں امی آپ کی وہ مرش تو کہیں کھو گیی تھی اس کی ہنسی اس کی خوشیاں اس کی چھوٹی خواہشیں سب کچھ ایک ظالم انسان نے چھین لیا تھا ۔۔ مرش کا دل درد کی ایک شدت سے کانپ اٹھا تھا مگر چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجانا اس کی مجبوری تھی وہ کسی کو کویی شک میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
ایسی تو کویی بات نہیں ہے امی میں زندگی میں پہلی بار آپ لوگ سے اتنی دور چلی جاوں گی میں کیسے رہ پاوں گی آپ اور بابا کے بغیر ۔۔مرش کے آنسوں اپنی پوری روانی کے ساتھ بہے رہے تھے ۔۔
نہ میرا بچہ ہر لڑکی کو جانا ہوتا ہے وہ تو ماں باپ کے گھر مہمان ہوتی ہے ۔۔فایزہ بیگم مرش کو گلے لگا کر خود بھی رو دی ۔۔
آہل شاور لینے کے بعد کھانے کی ٹیبل پر آیا ۔۔ جہاں پر بریرہ اور مریم بیگم پہلے ہی اس کے منتظر تھے ۔۔۔
اسلام علیکم ۔۔ آہل بہت مدھم آواز میں سلام کر کے چیر پر بر اجمان ہو چکا تھا ۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔ ٹیبل پر بیٹھے نفوس نے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔
آہل شاپنگ ہو گیی بیٹا ۔۔ مریم بیگم نے بڑی آس سے پوچھا ۔۔
ہاں ۔۔ آہل جواب دے کر کھانے میں مصروف ہو گیا تھا ۔۔
آہل کا یے رویہ دیکھ کر مریم بیگم کو بے حد خوشی ہو رہی تھی ۔۔ کم از کم وہ ان سے سہی طریقے سے بات تو کرنے لگا تھا ۔۔۔
سمیرا پانی دو ۔۔ پاس کھڑی ملازمہ کو آہل نے حکم دیا ۔۔
رکو میں دیتی ہوں ۔۔ مریم بیگم نے ملازمہ کے بڑھتے ہاتھ کو روک کو رہا ہے ۔۔
مریم بیگم نے جیسے ہی پانی کا گلاس آہل کی طرف بڑھایا اچانک ان کا ہاتھ ڈگمگا گیا پانی آہل کی کپڑے کو پوری طرح بھگو چکا تھا ۔۔
اگر میں نے آپ سے دو چار بات کر لی ہے تو اس کا مطلب یے نہیں ہے آپ کو میں معاف کر چکا ہوں ہزار بار کہا ہے میں نے دور رہا کرے مجھ سے لیکن آپ کو سمجھ میں کیوں نہیں آتا ہے ۔۔ آہل پانی کا گلاس ٹیبل پر پٹکتے ہوے سڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔۔
بریرہ حیرت زدہ آہل کو دیکھے جا رہی تھی کچھ بھی تھا وہ وہ اس کی سگی ماں تھی جس کی آہل شاہ آفندی نے ابھی ابھی اتنی عزت افزایی کی تھی ۔۔
مریم بیگم کی آنکھیں آنسوں سے نم ہو چکی تھی ۔۔
مما ۔۔ بریرہ مریم بیگم کے گلے لگتے ہوے خود بھی رو دی ۔۔
مما بھایی آپ کے ساتھ ہمیشہ ایسا کیوں کرتے ہو وہ مجھے بہنوں کی طرح مانتے ہے لیکن ان کا رویہ آپ کے ایسا کیوں ہے ۔۔ بریرہ کی بات اپنی جگہ بلکل سہی تھی آخر آہل شاہ آفندی اس کی ماں سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہے کیا وجہ ہے !!!!
تم کیوں رو رہی میری جان وہ تمہارا بھایی ہے بس غصے کا تھوڑا تیز ہے ۔۔ مریم بیگم نے اپنے آنسوں کو چھاپاتے ہوے کہا ۔۔
وہ عورت سمجھتی کیا ہے خود کو میری ماں کی جگہ لے لی گی ۔۔۔نہیں !!!میں اپنی ماں کی جگہ کسی کو نہیں دوں گا ۔۔ آہل نے ایک معصوم بچے کی طرح نفی میں گردن ہلایا ۔۔
اپنے بگڑے ہوے موڈ کو سہی کرنے کے لیے آہل کے دل میں یکدم خیال آیا کیوں نہ جان مرش کو تھوڑا تنگ کی جاے ۔۔
مرش کا جسم بخار سے تپ رہا تھا جسم میں ٹیس اٹھ رہی تھی اپنی پیشانی کو ہولے ہولے سہلا رہی تھی ۔۔
موبایل کی رنگ اپنی زور شور پر تھی ۔۔ ایک اچٹتی نظر سے موبایل پر چمکتے نمبر کو دیکھا ۔۔۔
یے مجھے کیوں کال کر رہا ہے جاہل انسان ۔۔مرش منھ ہی منھ بڑب
ایک پوری رنگ ختم ہو چکی تھی مگر مرش نے کال پک کرنے کی زحمت نہیں کی ۔۔۔
آہل کا موڈ ایک بار پھر سے خراب ہو رہا تھا ۔۔ اس نے دوبارہ ٹرایی کیا ۔۔
دوسری رنگ پر مرش کو نہ چاہتے ہوے بھی کال پک کرنی پڑی ۔۔
کیا ہے کیا مسلہ ہے تمہیں !!! مرش نے چڑتے ہوے کہا ۔۔
اتنی لیٹ کال کیوں پک کی۔ ۔ آہل کا سوال ذومعنی تھا ۔۔
کیوں تمہیں تکلیف ہو رہی تھی کیا کس لیے کال کیے ہو وجہ بتاو گے ۔۔ مرش بحث کے موڈ میں بلکل نہیں تھی ۔۔۔
تمہیں پتہ ہونا چاہیے جان تمہیں کال کرنے کے لیے مجھے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہے ۔۔آہل نے بڑے پر سکون انداز میں جواب دیا ۔۔
تو آپ بتانا پسند کرے آہل صاحب آپ نے مجھے کال کرنے کی زحمت کیوں کی ۔۔ مرش نے ایک ایک لفظ بہ مشکل ادا کیا ۔۔
جب میں تمہیں کال کروں ایک رنگ پر کال پک ہو جانی چاہیے اور ہاں جب تک میری بات ختم نہ ہو کال ڈیسکنیٹ نہیں ہونی چاہیے ۔۔ آہل کا حکم دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔۔
نہیں کروں گی پک کیا کر لو گے تم آہل شاہ آفندی تم نے مجھ سے صرف نکاح کیا ہے خرید نہیں لیا ہے تم نے جو میں تمہارا سارے حکم پر لببیک کہتی جاوں ہہہ ۔مرش کا غصہ بڑھتا ہی جا رہا تھا وہ آہل آفندی کو ذلیل کرنے کا ایک بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی ۔۔
نکاح کا مطلب خریدنا ہی ہوتا ہے میری جان ۔۔۔ آہل نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔
میں کال رکھ رہی ہوں مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔ مرش نے پیچھا چھڑوانے کے لیے بہانہ بنایا ۔۔
تمہاری عادت ہیں نہ کسی بھی بات کو سیدھے طریقے سے نہیں ماننا اور تم مجھے مجبور کرتی ہوں دوسرا طریقہ اختیار کرنے پر ۔۔ اور اگر تم نے کال ڈیسکنیٹ کی تو مجھے دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا ۔۔
تمہیں جو کرنا ہے کرو مجھے کویی فرق نہیں پڑتا ۔۔مرش نے غصے سے کہتے ہوے کال کٹ کر دی ۔۔ لیکن دل میں ایک عجیب سا خوف تھا نہ جانے آہل شاہ آفندی کون سا طریقہ اختیار کرنے کی بات کر رہا تھا ۔۔۔
بخار کی وجہ سے نیند اس کی سرخ آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔
جیسا تم چاہو جان آہل ۔۔ آہل دل ہی دل میں کچھ عہد کر کے کمرے سے باہر آیا رات کے اس پہر سب اپنی میٹھی میٹھی نیند میں مدہوش تھے ۔۔
کچھ دیر بعد مرش کے موبایل پر میسیج دھڑ دھڑ آنا شروع ہو گیا تھا ۔۔
ایک بار پھر سے مرش کو موبایل اٹھانا پڑا اسکرین پر چمکتے میسجیس اس کے دماغ کو گھما ڈالا تھا ۔ ۔
کھڑی کھولو مایی لیٹل ہرٹ ۔۔ میسیج پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا ۔۔
مرش لحاف سے نکل کر دوڑتے ہوے کھڑکی کے پاس آیی اپنی آنکھوں پر یقین کرنا اسے مشکل ہو رھا تھا ۔۔
نیچے آہل سینے پر ہاتھ باندھے گاڑی سے ٹیک لگا کر ہولے ہولے ہاتھ لہرا کر ہاے کا پیغام دیا رہا تھا ۔۔
مرش نے اپنی زندگی اس زیادہ بڑا بلیک میلر شخص کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔
آہل اپنی خوبصورت چمکتی آنکھوں سے کھڑی پر مرش کا چہرا دیکھے جا رہا تھا زندگی میں اسے اتنا مزا کبھی نہیں آیا تھا جتنا آج مرش کے ہواییاں اڑتے چہرے کو دیکھ کر آ رہا تھا ۔۔
تین منٹ کے اندر نیچے آو ورنہ پھر سے مجھے دوسرا طریقہ اختیار کرنا ہوگا ۔۔
یے یا اللہ یے یہاں پر کیوں آیا ہے اگر کویی دیکھ لیا تو ۔۔ مرش کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔اس نے فورن آہل کے نمبر پر کال ملایی ۔۔
تم پاگل ہو گیے ہو کیا پلیز چلے جاو یہاں سے ۔۔مرش نے التجاییہ انداز میں بولا ۔۔
اب بچا دو منٹ ۔۔ آہل اس کی باتوں کو نظر انداز کر کے ہاتھ میں پہنی گھڑی پر ایک نظر ڈال کر مسکراتے ہوے کہا ۔۔
اچھا ٹھیک ہیں م۔۔م۔ ۔میں آ رہی ہوں پلیز تم اندر نہ آنا ۔۔ مرش نے روتے ہوے کہا یے شخص نہ تو اسے دن میں چین لینے دیتا تھا نہ ہی رات میں ۔۔
مرش اپنے گلابی دوپٹے کو کاندھے پر ڈالے آہستہ آہستہ دروازہ کھول کر باہر آیی ۔۔
سامنے آہل شاہ آفندی کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھ کر قتل کرنے کا مرش کا دل نے شدت چاہا ۔۔۔
کیوں آے ہو یہاں تم پاگل ہو گیے ہو کیا ۔۔ ڈر کی وجہ سے مرش کا ہاتھ پاوں ٹھنڈا پڑ گیا تھا اسے ڈر تھا کہیں کویی دیکھ ہی نہ لیں ۔۔
تمہیں دیکھنے آیا ہوں جنگلی بلی ۔۔ آہل کی آنکھوں کی چمک اور بڑھ گیی تھی ۔۔
آہل پلیز چلے جاو یہاں سے کویی دیکھ لے گا ۔۔مرش کا دل مارے خوف سے لرز اٹھا تھا ۔۔
سویٹ ہارٹ میں اپنی بیوی سے ملنا آیا ہوں کسی غیر سے تو نہیں ۔۔ آہل نے مسکراتے ہوے بڑے تحمل سے جواب دیا ہر ہر قسم کے خوف سے آزاد ۔۔
رات کافی ہو گیی ہے یار اور رات کے اس پہر یے معصوم بچہ ڈر رہا ہے گھر جاتے ہوے اگر تم آج تم اپنی باہوں میں پناہ دے دو تو ۔۔۔ آہل نے باقی کا جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا ۔۔
پلیز جاو یہاں سے ۔۔۔ مرش نے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوے ایک بار پھر سے اپنا جملہ دہرایا ۔۔
کال کسی خوش میں کٹ کی گیی تھی ۔۔ آہل نے اب پواینٹ کی بات کی ۔۔
میری مرضی مرش نے اکڑتے ہوے کہا ۔۔
اب تمہاری مرضی کویی معنی نہیں رکھتی جان آہل ویسے رات کے پہر تمہارا روپ کچھ زیادہ ہی خوبصورت ہو جاتا ہے ۔۔ آہل نے مسکرا کر کہتے ہوے مرش کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے قریب کیا ۔مرش اپنا توازو برقرار نہیں رکھ پایی ایک لمحے میں آہل کے مضبوط چوڑے سینے سے جا لگی ۔۔۔
تم ٹھیک تو ہو ۔۔ مرش کا تپتا جسم آہل محسوس کر چکا تھا ۔۔
میں بکل ٹھیک ہوں پلیز تم جاو یہاں سے ۔۔ مرش نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔۔
لیکن تمہیں تو بخار ہے !! مرش کے خوبصورت کٹیلے ہونٹوں پر آہل اپنی مضبوط انگلیاں پھیرتے ہوے کہا ۔۔۔۔
میں نے کہا نہ میں ٹھیک ہوں ۔۔ مرش کو ضرورت سے زیادہ غصہ آ رہا تھا اپنی بات یوں نظر انداز کیے جانا وہ کیا کہہ رہی تھی اور آہل شاہ آفندی کیا بات کہہ رہا تھا ۔۔
ڈاکٹر کے پاس چلو ۔۔ آہل کا اب نیا حکم سن کر مرش کے تن بدن میں آگ لگ گیی ۔۔
میں نے کہا نہ میں ٹھیک ہوں پلیز چلے جاو آہل پلیز ۔۔ مرش اب بلکل ہار چکی تھی ہاتھ جوڑ کر اس نے ایک بار پھر سے التجا کیا ۔۔۔۔
لیکن ۔۔مرش !! آہل نے ابھی کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا لیکن مرش کے جڑے ہاتھ دیکھ کر خاموش ہو گیا ۔۔
پلیز چلے جو آہل پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز ۔۔
اوکے۔۔ آہل کے دل میں شاید خدا نے تھوڑا رحم ڈال دیا تھا یہ شاید وہ مرش کو کویی تقلیف نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔
گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے آہل نے مرش کے پیشانی پر محبت بھرا ثبت کیا ۔۔۔
خدا حافظ ۔۔ آہل جا چکا تھا ۔مرش بھی دوڑتی ہویی گھر کے اندر جا چکی تھی ۔۔
فارس ایک بات بتاو گے ۔۔ بریرہ لان میں ٹہلتے ہوے مسلسل فارس سے بات کرنے میں مصروف تھی اس کا خیال تھا سب سو چکے ہے ۔ آس پاس سے بے خبر وہ بات کرنے میں مگن تھی ۔۔
میرا اداس دل اور سونہ سونہ کمرہ مجھ سے پوچھتا ہے اس کمرے کو دونق بخشنے والی کب آے گی ۔۔فارس مسلسل بریرہ کو تنگ کر رہا تھا ۔۔
اپنے کمرے سے کہہ دو جب وقت آے گا تب ۔۔ بریرہ نے ہنستے ہوے کہا ۔۔
فارس ایک بات پوچھو ؟ بریرہ ایک سوال کو لے کر کیی دنوں سے الجھن کا شکار تھی ۔۔۔
ہاں پوچھو یار تم تو ڈرا رہی ہو مجھے ۔۔ فارس نے تھوڑا ڈرنے کی ایکٹینگ کی ۔۔
مجھے ایسا کیوں لگ رہا مرش کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے مطلب بھایی نے پورے کالج کے سامنے اس کی انسلٹ کی تھی اور پھر شادی کے لیے ایک اچانک سے تیار ہو گیی مرش تو بھایی سے بے انتہا نفرت کر رہی تھی پھر سہ کیسے تیار ہو گیی ۔۔
یار تمہارا بھایی انکار کرنے کے قابل ہے اور چھوڑو یے بتاو شادی کی تیاری کیسی چل رہی ہے ۔۔ فارس نے بات ٹالنی چاہی کیوں یے راز صرف ان دونوں کے ہی بیچ تھا وہ کسی تیسرے کو بتا کر رسک نہیں لینا چاہتے تھے ۔۔
لیکن فارس پہلے ۔۔ بریرہ نے ایک بار پھر سے پوچھنا چاہا ۔۔
بریرہ میں سوچ رہا ہوں ہماری شادی کب ہوگی کب کب میں تمہارے گھر بارات لے کر آوں گا ۔۔ فارس نے شرارت سے کہا ۔۔
جب تمہارا دل چاہے لے آو میں تو انتظار میں بیٹھی ہوں ۔۔بریرہ نے قہقہ لگاتے ہوے کہا ۔۔
تم صبح میں میری کال کیوں نہیں پک کر رہی تھی کم از کم ایک میسیج ہی کر دیتی ۔۔ فارس نے یاد کرتے ہوے صبح جو کال پک نہیں کی گیی تھی ۔۔
بھایی تھے میرے ساتھ یار کیسے پک کرتی ۔۔۔ بریرہ نے ایک لمبی سانس لیتے ہوے کہا ۔۔
مطلب بھایی بہن اب دونوں سے مجھ معصوم کو ڈرنا پڑے گا ۔۔ فارس نے خود کو تھوڑا معصوم بیان کرنا چاہا ۔۔۔
معصوم ہا ہا ہا ۔۔ فارس ایک منٹ ۔۔بریرہ کے قہقہ کو بریک لگ گیا تھا جب پورچ میں آتی گاڑی پر اس کی نظر پڑی ۔۔
آہل گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے اترا ۔۔ لان کے بیچو بیچ کھڑی بریرہ کو کھڑا دیکھ کر آہل کو تھوڑا حیرت ہویی ۔۔
اس ٹایم تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔ آہل نے بریرہ کا چہرہ بغور دیکھتے ہوے پوچھا ۔۔
وہ بھایی مجھے نیند نہیں آ رہی تھی تو میں نے سوچا کیوں نہ تھوڑا لان میں واک کر لوں طبعیت فریش ہو جاے گی ۔۔ بریرہ نے مسکراتے ہوے صاف جھوٹ بولا ۔۔
ٹایم کافی ہو گیا ہے جا کر سو جاو ۔۔ آہل نے ایک نظر بریرہ پر ڈال کر اندر جا چکا تھا ۔۔۔
شکر ہے آج تو بال بال بچ گیے ۔۔ بریرہ نے دوپٹے کی اوٹ میں سے موبایل نکالا جو آہل کے آتے ہی چھپا لیا گیا تھا ۔۔
یار بھایی آ گیے تھے پتہ نہیں مجھے لگا تھا یے سو گیے ہے لیکن یے تو کہیں گیے ہوے تھے ۔۔بریرہ نے سکون بھرا سانس لیتے ہوے کہا ۔۔
اس ٹایم آہل کہاں گیا تھا ۔۔ فارس نے بریرہ سے آہل کے متعلق استفار کیا ۔۔
مجھے کیا پتہ اچھا اب میں فون رکھتی ہوں خدا حافظ اینڈ آیی لو یو ۔۔بریرہ نے کال کٹ کر کے گھر کے اندر آ گیی تھی ۔۔ اس سے پہلے کی آہل آ جاتا ۔۔
