50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

مرش اٹھو یہاں سے چلو “”” زارا ثمرہ اور اریشہ مرش کی حاکت دیکھتے ہوے بولی ۔۔ بریرہ کی ہمت نہیں ہو رہی تھی وہ مرش کا سامنہ کر سکے ۔۔ کچھ بھی تھا ۔۔ آہل شاہ آفندی اسی کا بھایی تھا ۔۔۔

پلیز چلی جاو یہاں سے تم لوگ مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دو ۔۔ مرش روتے ہوے بولی ۔۔
اس وقت مرش کو اکیلا چھوڑنا ہی بہتر تھا ۔۔ زارا نے آنکھ کے اشارے سے سب کو جانے کے لیے کہا اور خود بھی وہاں سے ہٹ گیی ۔۔


فارس بریرہ کو لے کر گھر پہنچ چکا تھا ۔۔وہ دونوں آہل کے کمرے میں داخل ہوے اس کو اچھی خاصی سنانے کے لیے ۔۔
آہل کو اتنا پرسکون دیکھ کر بریرہ کو حیرت ہویی ۔۔
بھایی آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ۔۔ کیوں کیا آپ نے مرش نے آپ کا کیا بگاڑا تھا “”” بریرہ آہل سے سخت غصہ تھی ۔۔

اس ٹاپک پر ہم پھر کبھی بات کریں گے ۔۔ ابھی میں بہت تھکا ہوا ہوں ۔۔
آہل ایک لمبی سانس بھرتے ہوے کھڑا ہوا ۔۔
فارس آہل کو صرف دیکھے جا رہا تھا اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ کیا بولے ۔۔
بھایی اگر کویی میرے ساتھ اس طرح کرتا تو آپ کیا کرتے ۔۔ بریرہ کا موڈ ابھی آہل کو ایک دو سنانے کا تھا ۔۔۔
زندہ زمین میں گاڑ دیتا ۔۔ آہل ایک ایک لفظ چبا کر بولا ۔۔
آہل کی باتیں سن کر فارس کا ہلک تک خشک ہو گیی ۔۔ ایک لمحے کو لگا آہل واقعی اس شخص زمین میں گاڑ ہی دیتا ۔۔
وہ بھی کسی کی بیٹی ہی ہے ۔۔ بریرہ بیٹی الفاظ پر زور دیتے ہوے کمرے سے نکل گی ….

آہل اس بیچاری کے ساتھ تیری کیا دشمنی تھی ۔۔ اگر تیری اتنی ہی خواہش تھی اس کی انسلٹ کرنے کی تو ایکلا بلا کر دیتا ۔۔ مجھے تو ترس آ رہا ہے اس لڑکی پر ۔۔ فارس آہل کو تیکھی نظروں سے گھورتے ہوے بولا ۔۔۔

ہو گیا ۔۔ اب میں جاوں سونے ۔۔ آہل فارس کو اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے فارس اتنی دیر سے کویی جوک سنا رہا ہو ۔۔
آہل تجھ سے تو کچھ کہنا ہی بیکار ہے ۔۔ فارس کو اس وقت سخت چڑ رہی ہو رہی تھی آہل کو اتنا پرسکون دیکھ کر ۔۔۔ جا رہا ہوں میں لیکن سوچنا ضرور جو تونے کیا ہے پھر تجھے احساس ہوگا کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنا کیا ہوتا ہے ۔۔ فارس دندناتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

فارس ؟؟؟ بریرہ کافی کا مگ لیے اس کو آواز دیتے ہوے پاس آیی ۔۔۔۔ فارس کا نام آج بریرہ نے پہلی بار لیا تھا ۔۔۔۔ اپنا نام دشمن جاں کی منھ سے سن کر فارس کو اندر ہی اندر بے تحاشا خوشی ہویی ۔۔

جی !! فارس کو تو موقع مل گیا تھا بات کرنے کا جس کی شدید خواہش اس کے دل میں تھی ۔۔
آں وہ کیا بھایی نے آپ کو کچھ بتایا ؟؟ بریرہ فارس سے کچھ سن گن لینا چاہتی تھی ۔۔
نہیں ۔۔ کچھ بھی نہیں بتایا اس نے ۔۔ فارس افسوس سے بولا ۔۔
اچھا ۔۔ کافی پیںگے آپ میں بہت مزے کی کافی بناتی ہوں ۔۔۔ بریرہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ خود کافی پی رہی ہے اور گھر آے مہمانوں کو پوچھا تک نہیں ۔۔ حالانکی فارس اس گھر کا مہمان کبھی تھا ہی نہیں جاوید شاہ آفندی مریم شاہ آفندی نے ہمیشہ اسے ایک اپنے بیٹا کی طرح ہی سمجھا ہے ۔۔۔

بلکل پیوں گا ۔۔۔ فارس نے کافی کی آفر جلدی سے ایکسیپٹ کر لیا تھا ۔۔
اس پہلے کی بریرہ کا ارادہ بدل جاے ۔۔
بس پانچ منٹ میں ابھی بنا کر لے لر آتی ہوں ۔۔ بریرہ کہتی ہویی کچن کی جانب اپنے قدم بڑھا دیے ۔۔
آپ کی فیملی میں کون کون ہے ۔۔ بریرہ کافی کا سیپ لیتے ہوے بولی ۔۔
میں اور میری مام ۔۔۔ فارس بریرہ کو جواب دے کر کافی کی طرف متوجہ ہو گیا ۔۔
چند باتوں کے دوران کافی کا مگ خالی ہو چکا تھا ۔۔۔
اب مجھے چلنا چاہیے ۔۔ فارس کا دل تو نہیں کر رہا تھا جانے کا لیکن مجبوری بھی کسی چیز کا نام ہے ۔۔
اچھا خدا حافظ ۔۔ بریرہ الودایی کلمات ادا کرتے ہوے کمرے میں آ گی ۔۔۔ فارس بھی جا چکا تھا اس کے دل کی مراد آج رب تک پہنچ ہی گی تھی دشمن جاں کا صرف دیدار ہی نہیں گپ شپ بھی تھوڑی ہو گی تھی ۔۔۔


کیوں کر رہا ہے وہ ایسا میں نے کیا بگاڑا ہے اس کا کیا چاہتا ہے وہ مجھ سے ۔۔ مرش دیوار سے ٹیک لگاے اہک ہی پواینٹ پر سوچے جا رہی تھی ۔۔ میں اب اس کے سامنے کبھی نہیں جاوں گی یا اللہ میری مدد کر مرش آنکھ بند کر کے دل ہی دل میں اپنے رب سے دعا گو تھی ۔۔۔


آہلل ناشتے کی ٹیبل پر پہنچ کر سرسری سے انداز میں ٹیبل پر بیٹھے نفوس کو سلام کیا ۔۔
مریم بیگم نے ہمیشہ کی طرح خوش دلی سے جواب دیا لیکن جاوید شاہ آفندی نے سلام کا جواب دھیرے سے دیا ۔۔
بریرہ کہاں پر ہے ؟؟ ۔۔ بریرہ ٹیبل پر غیر موجود تھی آہل نے خیال آتے ہی پوچھا ۔۔
کالج جا چکی ہے وہ ۔۔ جواب مریم بیگم کی طرف سے آیا ۔۔
ویسے تو بریرہ آہل کے ساتھ ہی کالج جاتی تھی ۔۔ لیکن آج آہل کے ساتھ نہ جانے کا مقصد اپنی ناراضگی کا اظہار کرنا تھا ۔۔
اچھا ۔۔ آہل جان کو علم ہو چکا تھا ۔۔ آج اکیلے جانے کا کیا مقصد ہے ۔۔


مرش ہمیں لگا آج تم کالج نہیں آو گی زارا مرش کی سوجی ہویی آنکھیں دیکھتے ہوے بولی ۔۔ بریرہ سر جھکاے بیٹھی تھی ۔۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا اگر وہ مرش کے چہرے پر دیکھ لے گی تو زندگی میں کبھی اس کا سامنہ نہیں کر پاے گی ۔۔

کیوں لوگ میری کمزوری کا فایدہ اٹھاتے ہے لیکن اب میں کمزور نہیں ہے ۔۔ مرش اونچی آواز میں بولی ۔۔

مرش ایم ریلی سو سوری ۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں اپنے بھایی کی طرف سے میں تم معافی مانگتی ہوں ۔۔بریرہ کو واقعی شرمندگی محسوس ہو رپی تھی ۔
تمہاری کویی گلتی نہیں ہے بریرہ اٹس اوکے ۔۔ مرش بہت ہی تحمل کے ساتھ بولی ۔۔
ان سب کو چھوڑو میں تم لوگ کو ایک جوک سناتی ہوں ۔۔۔ ثمرہ ماحول کی غمگینی کم کرنا چاہ رہی تھی ۔۔


مجھے آپ سے بات کرنی ہے بابا ۔۔ آہل جاوید شاہ آفندی کو بہت کم ہی بابا کہہ کر پکارتا تھا ۔۔
جاوید شاہ آفندی اخبار سایڈ میں رکھ کر آہل کی طرف متوجہ ہوے ۔۔
آہل چل کر کمرے کے اندر آیا بیڈ کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھا ۔۔ آہل کو دیکھ کر اس وقت ایسا لگ رہا تھا ۔۔ جاوید شاہ آفندی آہل کے باپ نہیں آہل ان کا باپ ہو ۔۔

بولو ؟ ۔۔ جاوید شاہ آفندی سوالیہ نظروں سے آہل کو دیکھتے ہوے بولے ۔۔
میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔!!!
۔ آہل اس وقت ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس وقت سے زیادہ اور کویی وقت پرسکون ہو نہیں سکتا ۔۔

یے تو اچھی بات ہے میں نے تمہارے لیے نبیل کی بیٹی ۔۔۔ جاوید شاہ آفندی کی بات ادھوری ہی رہ گی کی آہل بیچ میں سے ہی ان کی بات کاٹ دیا ۔۔

یے رہا لڑکی کا ایڈریس ۔۔۔ نام مرش ہے ۔۔۔ آج ہی رشتہ لے کر جاے اس کے گھر یے کام تو میں خود کر سکتا تھا ۔ ۔ لیکن شاید آپ جایں گے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔۔ آہل اپنی بات ختم کر چکا تھا ۔۔

تم ہم سے اجازت لینے آے ہو یا ہمیں اپنا فیصلہ سنانے ۔۔ جاوید شاہ آفندی غرراتے ہوے بولے ۔۔ مریم بیگم خاموشی سے سب دیکھے جا رہی تھی ۔۔
فیصلہ سنانے ۔۔ یے کام آج ہی ہو جانا چاہیے ۔۔ آہل اپنی بات مکمل کر کے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
پیچھے جاوید شاہ آفندی اور مریم شاہ آفندی آہل کی نشت دیکھتے رہ گے ۔۔
اس لڑکے کو دیکھ رہی ہو کتنا بدتمیز ہو گیا ہے ۔۔ جاوید شاہ آفندہ آہل سے سخت ناراض تھے ۔۔
رہنے دے نہ آہل نے پہلی بار کچھ مانگا ہے وہ اپنی زندگی کے بارے میں ہم سے اچھا سوچ سکتا ہے ۔۔ غصہ چھوڑے ۔۔۔ چلے اٹھے ہمیں جانا بھی تو ہے ۔۔ مریم بیگم ہر طریقے سے آہل کی سایڈ ہی بولے جا رہی تھی ۔۔ جاوید شاہ آفندی مجبور تھے کیوں کی فیصلہ ان کے بیٹا کا تھا۔۔۔


رات میں میسیج نہیں کر سکا اس کے لیے دل سے معافی ۔۔ میسیج کی رنگ نے بریرہ کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔۔
تم تو یو معافی مانگ رہے ہو جیسے میں پاگل ہو رہی تھی تمہارے میسیج کے لیے ۔۔۔ بریرہ حساب پورا کرنے میں ماہر تھی ۔۔
میں سوچتا ہوں تمہیں کب مجھ سے محبت ہوگی ۔۔۔ فارس آج وقعی بہت اداس تھا ۔۔
محبت خودبخود ہو جاتی ہے اور اگر تمہیں مجھ سے محبت ہونی ہوتی کب کی ہو چکی ہوتی ۔۔ بریرہ کا جواب فارس کو شک میں مبتلا کر رہا تھا ۔۔
تم کسی اور سے محبت کرتی ہو کیا کون ہے وہ خوش نصیب ؟؟ ۔۔
پاگل مت بنو ۔۔ میں کیوں کسی سے محبت کروں گی اور اس وقت میں کالج ہوں رات کو بات کروں گی خدا حافظ ۔۔
بریرہ کا میسیج پڑھ کر فارس کو بے انتہا خوشی ہو رہی تھی ۔۔ مطلب اسے مجھ سے بات کرنا اچھا لگتا ہے ۔۔
انتظار رہے گا جان بریرہ ۔۔ فارس نے آخری الفاظ بہت سوچ سمجھ کر لکھا تھا ۔۔


السلام علیکم ۔۔ جاوید شاہ آفندی گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے سلام کیا انہونے ۔۔۔
فایزہ بیگم کچن میں چاے بنانے میں مصروف تھی ۔۔ سرفراز صاحب کچھ حیران ہوتے ہوے ان کے پاس آے ۔۔
وعلیکم اسلام !! تشریف رکھیے ۔۔ جاوید شاہ آفندی اور مریم شاہ آفندی مسکراتے ہوے صوفے پر بیٹھ گے ۔۔
معاف کریے گا میں نے آپ لوگوں کو پہچانا نہیں ۔۔ سرفراز تھوڑا مشکوق ہوتے ہوے بولے ۔۔
ہم پہلی بار مل رہے ہے بھایی صاحب اس لیے آپ ہمیں پہچاننے سے قاصر ہے ۔۔ جواب مریم بیگم نے دیا ۔۔ کچھ دیر کی گفتگو کے بعد جاوید شاہ آفندی اپنے پواینٹ پر آے ۔۔ دراصل ہم سے کچھ مانگنے آے ہے ۔۔ امید ہے آپ ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹایےگے ۔۔ جاوید شاہ آفندی بہت پر امید تھے جیسے آج ہی وہ کویی فیصلہ کر لیں گے ۔۔
اسی اثنا میں فایزہ بیگم ہاتھ میں چاے کا کپ لیے حاضر ہویی ۔۔ یے ایک ایسی گھڑی تھی جس کو جاوید شاہ آفندی اپنے خوابوں خیالوں میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے ۔۔
فایزہ !!! ۔۔ جاوید شاہ آفندی اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔ یے تو فایزہ ہے ان کے دل نے دہایی دی ایسی ہی کچھ حالت مریم شاہ آفندی کی بھی تھی۔۔ یے تو وہی آنکھیں ہے یے تو نورا کی بہن ہے یے چہرہ اتنا شناشا ہے میں اس کو ہزاروں سال بعد بھی دیکھ کر پہچان سکتا ہوں ۔۔

تم تھوڑا پریشان ہو لگ رہی ہو سب ٹھیک تو ہے ۔۔ اس وقت مرش اور بریرہ کلاس میں تنہا تھی کیوں کی وہ تینوں لایبریری میں گی ہویی تھی ۔۔
مرش کویی انجان شخص آپ کو میسیج کرے آپ سے محبت کا دعوا کرے اور وہ ہمارے بارے میں ساری خبر رکھتا ہو مطلب وہ سب کچھ جانتا ہم کیا کر رہے ہے اس وقت کس کے ساتھ ہے ؟؟ بریرہ اس جواب چاہیے تھا چاہے کسی سے بھی ۔
آفکورس وہ ہمارا کویی بہت قریبی ہوگا کویی جان پہچان کا ہوگا ۔۔ کیوں تمہیں کویی میسیج کر رہا ہے کیا ۔۔ مرش کو تھوڑا عجیب لگ رہا تھا بریرہ کا یے سوال ۔۔
ارے نہیں نہیں میں تو بس یونہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔ بریرہ مرش کسی شک میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے جلدی سے بات بنا گی ۔۔۔ کالج آف ہو چکا تھا ۔۔ بریرہ جا چکی تھی لیکن آہل کے ساتھ نہیں ڈرایور کے ساتھ مرش کی بھی وین آ چکی تھی ۔۔ گھر پہنچنے میں اسے بس تھوڑا سا وقت اور لگنا تھا ۔۔

سلام جواب کی رسم کے بعد کچھ دیگر لوازمات کے ساتھ فایزہ بیگم دوبارا سے آیی ۔۔
دراصل ہم اپنے بیٹے کے لیے آپ کی بیٹی مرش کا ہاتھ مانگنے آیے ہیں ۔۔ مریم بیگم خوش نے خوش ہوتے ہوے کہا لیکن ان کے دل میں ڈر بھی تھا اگر جواب انکار میں ملا تو آہل کا کیا ریکشن ہوگا ۔۔
ارے بہین آپ نے کچھ لیا ہی نہیں لے نا ۔۔ فایزہ بیگم مہمان کی خاطر کرنے میں کویی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔۔
دیکھے بھایی صاحب آپ ہماری طرف سے بلکل مطمین رہیے ۔۔ ہمیں یقین ہے آپ ہمیں خالی ہاتھ واپس نہیں جانے دیں گے ۔۔ امید کی کرن بہت دور تھی ایسا جاوید شاہ آفندی کو لگ رہا ہو ۔۔ کیوں وہ بہت خوش تھے آہل کی پسند سے انجانے میں ہی لیکن اس نے ایک ایسی لڑکی کو پسند کیا تھا جس کی تلاش سے جاوید شاہ آفندی ہار چکے تھے ۔۔۔ وہ کسی بھی طرح سے اس گھر سے رشتہ جوڑنا چاہتے تھے ۔۔۔ شاید رب ایک اور موقع دیا تھا انہیں ۔۔

آپ ہمیں شرمندہ کر رہے ہے جاوید صاحب ۔۔ ہماری بیٹی کا جو فیصلہ ہوگا وہی ہمارا بھی ہوگا ۔۔ سرفراز صاحب مرش کی مرضی کے بغیر کویی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔

آنٹی انکل آپ السلام علیکم ۔۔ مرش جیسے ہی گھر میں داخل ہوی سامنے بیٹھے مہمانوں کو پہچاننے میں اسے ذرا بھی دیر نہیں لگی ۔۔
مرش تم جانتی ہو انہیں ۔۔ فایزہ بیگم نے مرش کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔
جی یے بریرہ کی والیدین ہے ۔۔ مرش نے فایزہ کو جواب دیا ۔۔
یے یہاں پر کیوں آے ہے کیا وجہ ہو سکتی ہے ان کے آنے کی مرش سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی ۔۔ کہیں اس گھٹیا شخص کا ہی تو کوی پلان نہیں ہے ۔۔ مرش کا مارے خوف سے لرز اٹھا ۔۔
بیٹا ہم آپ کو اپنی بیٹی بنانا چاہتے ہے ۔۔ جاوید صاحب اتنے یقین سے مرش کو بتا رہے جیسے مرش اسی رشتے کے انتظار میں بیٹھی ہویی تھی ۔۔
مطلب ؟؟ مرش کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا جاوید شاہ آفندی کیا بول رہے ہے ۔۔
مرش یے لوگ آپ کا ہاتھ مانگنے آے ہیں اپنے بیٹے آہل شاہ آفندی کے لیے ۔۔۔ سرفراز صاحب ساری بات مرش کے سامنے صاف صاف رکھ دیے ۔۔ وہ بات کو گھما پھرا کر کرنے کر قایل نہیں تھے ۔۔۔
رشتہ ۔۔ مرش کو ایسا محسوس ہو رہا تھا ابھی وہ غش کھا کر زمین بوس ہو جاے گی ۔۔ میں اس رشتے کے لیے انکار کرتی ہوں ایم سوری آنٹی میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔ مرش کا جواب سن کر وہاں پر کھڑے نفوس سکتے کے عالم میں آ گے ۔۔ اتنے صاف انکار کی توقع نہیں تھی ان کو مرش سے ۔۔

مرش نے بہت ہمت کر کے اس رشتے کو انکار کیا تھا کیوں کی وہ جانتی تھی یے رشتہ کس کی مرضی سے ہو رہا ہے ۔۔۔ کس کی مرضی سے جاوید شاہ آفندی اور مریم شاہ آفندی آے ہیں ۔۔
اکسکیوز می ۔۔ مرش وہاں سے اکسکیوز کر کے کمرے میں آ گی ۔۔

کویی بات نہیں مرش ابھی چھوٹی ہے اسے سمجھ میں نہیں آ رہا ہوگا ۔۔ اگر وہ مان جاے تو ہمیں ضرور بتایے گا ۔۔ مریم بیگم ابھی آس لگاے بیٹھی تھی ہو سکتا ہے مرش کا فیصلہ بدل جاے ۔۔ کچھ دیر کی گفتگو کے بعد جاوید شاہ آفندی الوداعی کلمات ادا کرنے کے بعد گھر آ گیے ۔۔۔

آہل صوفے پر بیٹھ کر اپنی دونوں ٹانگیں سانے رکھے میز پر رکھا تھا ۔۔ یے بھی ایک اسٹایل تھا اس کے بیٹھنے کا ۔۔۔
جاوید شاہ آفندی غصے سے آہل کے سامنے آ کھڑے ہوے ۔۔
جواب کیا ملا ؟؟ آہل کا سوال سن کر ان کا غصہ مزید بڑھنے لگا ۔۔
جواب !! کیا ملنا تھا انکار میں ملا ہیں جواب وہ بھی لڑکی نے خود انکار کیا ہے ۔۔
جانتا تھا میں چلیں آپ لوگ کا فرض پورا ہوا ۔۔ میں اس کیے شکر گزار ہوں آپ لوگ کا ۔۔۔ آہل پرسکون ہوتا ہوا جواب دیا ۔۔۔
شرم آنی چاہیے آہل تمہیں ایک لڑکی کا انکار سن کر تم اتنے خوش ہو ۔۔
اس نے آج انکار کیا ہے دو دن کے اندر اس کا انکار اقرار میں بدل جاے گا آپ بے فکر رہے ۔۔ آہل صوفے سے اٹھ کر جاوید شاہ آفندی کے سامنے آیا ۔۔

کیا کرنے والے ہو تم دیکھو آہل کچھ غلط مت کرنا ۔۔ میں باپ ہونے کے ناتے تمہیں سمجھا رہا ہوں ۔۔۔
بابا آپ کو لگتا ہے آپ کا یے لاڈلا بیٹا کبھی کچھ غلط کر سکتا ہے ۔۔ آہل کی مسکراہٹ جاوید شاہ آفندی کو بہت سارے خدشو میں مبتلا کر رہی تھی ۔۔۔

*