122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

_

ڈاکٹر پلیز بتاے آ۔۔ آہل کو ہوش آیا یہ نہیں ؟؟ مرش نے بہ مشکل ٹوٹتی پھوٹتی زبان میں پوچھا تھا اسے اپنا دل گہرایی میں ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
مبارک ہو آپ سب کو آپ لوگ کی دعایں رنگ لایی ہے مسٹر آہل کو ہوش آ گیا ہے ۔۔ ڈاکٹر معاذ نے مسکرا کر بتایا تھا انہیں بھی بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی آخر ان کی کامیابی رنگ لایی تھی ۔۔
کیا ؟؟ یہ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو واقعی اپنے بندے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ۔۔ مریم بیگم کی آنکھیں مارے خوشی کی بھررا گیی تھی ۔۔
آہل ۔۔ میرا آہل زندہ ہے ۔امی آہل ہوش میں آ گیا ۔۔ امی اللہ نے میری سب لی ۔۔مرش فورن فایزہ بیگم کے گلے میں جھول گیی تھی مارے خوشی کے دل باغ باغ ہو گیا تھا ہک لخت مسکراہٹ نے اس کے لبوں پر اپنا گھیرا بنا لیا تھا وہ اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا ۔۔
جاوید صاحب کی آنکھیں مارے خوشی سے چمک اٹھی تھی ان کا شہزادہ جو واپس آ گیا تھا ۔۔۔
اللہ میاں آپ کا بہت زیادہ والا شکریہ آپ نے میرے بھایی کو ٹھیک کر دیا ۔۔ بریرہ بھی بھی بے پناہ خوش تھی اس کا جان سے عزیز زندگی اور موت کی جنگ لڑتے لڑتے آخر کو زندگی کو فتح کر لیا تھا ۔۔۔
اللہ اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا تو واقعی رحیم و کریم ہے ۔۔ سرفراز صاحب جاوید صاحب کے گلے لگ گیے تھے انہیں بھی نہایت خوشی محسوس ہو رہی تھی کیوں کی یہ بات ہی خوشی کی تھی ۔۔
آپ ان سے مل سکتی ہے لیکن پلیز اس بات کا خاص خیال رکھیے انہیں کسی قسم کی ٹینشن نہ ہو ۔۔ ڈاکٹر معاذ اپنے ڈاکٹر ہونے کے حوالے سے چند ضروری ہدایات دے رہے تھے ۔۔
فارس بھایی کو ہوش آ گیا ۔۔ بریرہ کوررنر کی سایڈ میں جا کر فارس کو اس خوشخبری کی اطلاع دے رہی تھی کیوں کی یہ فارس کی ایک ہزار مرتبہ کال تھی بریرہ کے فون پر ۔۔ اسے بے چینی تھی بے سکونی تھی دل پرملال تھا پتہ نہیں اس نے ہاسپٹل لے جانے میں کہیں دیر تو نہیں کر دی تھی ۔۔آہل کو ہاسپٹل پہنچانے کے بعد فارس سیدھا گھر آ کر کمرے میں بند ہو گیا تھا دراصل اس کی ساری ہمت ختم ہو گیی تھی کسی کا سامنہ کرنے کی ہمت نہیں بچی تھی ۔۔اگر آہل کو خدانخواستہ کچھ ہو جاتا تو اس کا اصل زمیدار فارس ہوتا اس نے اسے ہاسپٹل لے جانے میں دیر کر دی اس کی وجہ سے آج اس کا دوست ان کے درمیان نہیں ہے ۔۔ یہ محض فارس کی سوچ تھی۔۔
یہ اللہ میں تیرا جتنا بھی شکر کروں وہ کم ہے تونے مجھے میری زندگی مجھے واپس کر دی اگر آہل کو کچھ ہو جاتا تو میں خود سے نظریں ملانے کے بھی قابل نہیں رہتا ۔۔ فارس آنکھ بند کر کے دل ہی دل میں اللہ تعالی کا شکریہ ادا کر رہا تھا ۔۔۔


سر وہ تینوں آدمی ہاتھ لگ گیے شہر سے بھاگنے کی تیاری کر رہے تھے لیکن اس وقت وہ ہماری کسٹڈی میں ہے ۔۔ فارس کے گاڈز نے ان تینوں نقاب پوشوں کا پتہ لگا لیا تھا اور اب وہ اپنے باس کو خوش خبری سنا رہے تھے ۔۔
ویری گڈ میں بس آ رہا ہوں ۔۔ فارس مسکرا دیا تھا آخر کو وہ کامیاب ہو گیا تھا اس کے دوست کا مجرم اب زیادہ دیر تک اس دنیا میں آزاد نہیں گھوم سکتا تھا ۔۔ آہل کے ایکسیڈینٹ کے دوران فارس نے ان نقاب پوشوں کے گاڑی کا نمبر اپنے ذہن میں نقش کر لیا تھا جس کے تحت وہ مجرموں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیے تھے ۔۔
کچھ دیر بعد فارس کی آنکھوں کے سامنے گھٹنے کے بل زمین پر بیٹھ کر سر جھکاے وہ اپنے جرم کا اعتراف کر رہے تھے ۔۔۔
ہماری کویی غلطی نہیں ہے ہمیں تو یہ کام کرنے کے لیے کہا گیا تھا جس کے لیے ہمیں رقم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور بس !! اس کے آگے ہم کچھ نہیں جانتے ۔۔ پہلے نقاب پوش نے اپنا جرم قبول کیا تھا ابھی بھی دنیا میں ایسے لوگ پاے جاتے ہیں جو صرف پیسے کی لالچ میں اپنا ضمیر تک بیچ دیتے ہیں ۔۔
کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کے لیے ۔۔ میں نے پوچھا کس نے کہا تھا نام بتاو اس کا ۔۔ ان کے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر ان کا چہرہ اپنی طرف کر کے فارس بھپرے ہوے شیر کی طرح پوچھ رہا تھا اس نے خود سے وعدہ کر لیا تھا وہ اپنے دوست کا خون ظایا نہیں ہونے دے گا ۔۔
ع ۔۔ علی ۔۔علی شہروز نامی لڑکے نے ۔۔ تیسرا نقاب پوش نے ہکلاتے ہوے اپنے مالک کا نام بتایا تھا ۔۔
اوہ تو وہ کمینہ انسان ہے ۔۔ فارس منھ ہی منھ بڑبڑایا تھا ۔۔
ان تینوں کو اتنا مارو اتنا مارو کی ان کی سانسیں تو چلیں لیکن مرنے نہ پاے ۔۔ اپنے گاڈز کے چہرے کو دیکھ کر فارس نے کچکچا کر رہا تھا ۔۔
جو حکم سر !! گاڈز نے فورن ہاں میں گردن ہلایی تھی ۔۔
ہیلو علی شہروز کیا حال ہے ؟؟ فارس علی کے مقابل چییر پر بیٹھ مسکرا کر پوچھ رہا تھا جو کی اس وقت بڑے مزے سے موموز سے انصاف کرنے میں مگن تھا ۔۔
اوہ تو تم آے ہو میں جانتا تھا تم آو گے ظاہر ہے میرے جیل سے رہا ہونے کے بعد میرا دیدار تمہارے لیے فرض ہے ۔۔ علی کے مسلسل چلتے منھ کو یک لخت بریک لگا تھا فارس کو اپنے سامنے دیکھ کر لیکن دل میں خوشی کی لہر امڈ رہی تھی آخر میرے سامنے یہ لوگ گھٹنے ٹیک ہی دیے ۔ ۔
ہاں میں نے سوچا کیوں نہ تم سے مل لیا جاے دشمنوں کو بھی یاد رکھنا میرا پسندیدا مشغلہ ہے ۔۔ فارس ہاتھ بڑا ایک موموز اپنے منھ میں رکھ مسکرا کر بولا تھا لیکن دل کر رہا تھا سامنے بیٹھے شخص کا منھ نوچ لے ۔۔
ہا ہا ۔۔ مجھے بڑا افسوس ہوا تمہارے دوست کا میرے خیال سے تم سب کی سمجھ میں آ گیا ہوگا ۔۔ میں چیز کیا ہوں ۔۔ کالر جھاڑ کر علی اپنی تعریف کرنے میں مگن تھا ۔۔
ہاں یہ تو ہے تم واقعی بہت بڑی چیز ہو ۔ ۔۔ ہم تو ڈر گیے تم سے ۔۔ فارس نے اس کی آنکھوں میں آکھیں ڈال کر پرسکونی سے کہہ رہا تھا ۔۔
اسی لیے کہتے ہے انسان کو اپنی اوقات دیکھ کر پر پھیلانا چاہیے ۔۔لیکن تمہارے دوست نے اوقات دیکھے بنا ہی اپنے پر پھیلا دیے تھے ۔۔ علی کی آنکھوں میں فتح کی چمک تھی ہونٹوں پر ناچتی مسکراہٹ بیہودگی سے بھری تھی ۔۔۔
بات میں دم ہے تیری یہ سچ میں تو واقعی بہت بڑی چیز ہے لیکن مجھے یقین نہیں آ رہا تو ۔ تو جیل میں تھا پھر آہل کو گولی کیسے لگی مطلب تو جھوٹ بھی تو بول سکتا ہے کہیں تو کسی اور کا کریڈیٹ اپنے نام تو نہیں کر رہا ۔؟؟ فارس اپنی شکی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ دراصل وہ سچ کے بے حد قریب تھا ۔۔
میں تجھے اتنا کمزور دکھتا ہوں کیا میں نے کہا تھا نہ میں واپس آوں گا اور دیکھو میں آ بھی گیا اور اپنا کیا گیا وعدہ بھی پورا کر دکھایا ۔ابھی میں اتنا گرا پڑا نہیں ہوں کی دوسروں کا کریڈٹ اپنے نام کروں ایسے ایسے کام میں تو میں ماہر ہوں بھلے اس وقت میں جیل میں تھا لیکن میں جیل کے اندر بیٹھ کر اپنے کچھ آدمیوں سے تیرے دوست کو موت کے گھاٹ اتارا دیا جس کے لیے میں بے تحاشہ خوش ہوں ۔۔ ناسمجھی میں علی شہروز اپنی موت کو دعوت دے چکا تھا اس بات سے بے خبر کی اس کے ایک الفاظ الفاظ ریکارڈ ہو رہے تھے ۔۔
میں تو امپریس ہو گیا تمہاری کاگردگی سے ایم بیگیسٹ فین آف یو ۔۔ فارس مسکرا کر کھڑا ہو گیا تھا وہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو گیا تھا ۔۔۔
صاحب جی باہر پولیس آیی ہے ۔۔ علی کے گھر کا ملازم پولیس کو باہر کھڑا دیکھ کر دوڑ کر اپنے صاحب کے پاس آیا تھا ۔گھبراہٹ سے اس کی آواز بے حد آہستہ تھی ۔۔
پولیس لیکن کیوں ؟؟ علی کو بے حد حیرت ہو رہی تھی اب پولیس کا کیا کام اس کا جرم تو کب کا معاف پو چکا تھا ۔۔
بیسٹ آف لک علی شہروز مان گیا تو دنیا کا سب سے بڑا بیوقوف انسان ہے ۔۔ فارس کا قہقہ بے ساختہ تھا ۔۔
علی کی سمجھ سے باہر تھا ہو کیا رہا ہے کیا وہ پکڑا گیا تھا ۔۔ بے یقینی سی نظروں سے وہ ایک بار فارس کو ایک بار اپنے سامنے کھڑی پولیس کو دیکھ رہا تھا جو اسے کے سامنے آ کھڑی ہویی تھی ۔۔
سر یہ رہا ثبوت مجرم کو سزا دینے کے لیے آپ لوگ کو ثبوت چاہیے نہ تو یہ رہا ثبوت !! فارس پولیس آفیسر کے سامنے ریکاڑڈنگ آن کر دیا تھا ۔۔۔
پھر کیا یہی پر ہوتا ہے علی شہروز کا قصہ تمام ۔۔ اب وہ پولیس کی گرفت میں تھا دس دس سال کی سزا کے لیے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جیل کا مہمان ہو کر رہ گیا تھا ۔۔
آخر فارس ہاشمی اپنے دوست کے قاتل کو سزا دلانے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا ۔۔


آہل میرے بچے خدا کا شکر ہے تم ٹھیک ہو ۔۔ جاوید صاحب نے محبت سے برا بوسہ اس کی پیشانی پر ثبت کیا تھا ۔۔
آہل شاہ آفندی پھر سے زندگی کی طرف لوٹ آیا تھا لیکن بے حد کمزور سا لگ رہا تھا آہستہ آہستہ اس نے اپنی آنکھیں کھولی تھی پٹیوں سے جکڑا جسم اسے کروٹ لینے میں تکلیف تک دے رہے تھے نہ جانے اسے کب تک اس ہاسپٹل کی زینت بن کر رہنا تھا ۔۔
ڈ ۔۔ڈیڈ ۔۔ ٹوٹی پھوٹی زبان میں وہ بہ مشکل اپنے ڈیڈ کو پکار رہا تھا ۔۔
ہاں میرے بچے آپ بلکل ٹھیک ہوں میں آپ کے پاس ہی ہوں میری جان ۔۔ جاوید صاحب آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہے تھے ۔۔آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گرے تھے ۔۔۔
آہل میرے بچے آپ جلدی سے ٹھیک ہو جاو ہم آپ کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتے ۔۔۔ مریم بیگم اس کا تھام کر بلکتے ہوے کہہ رہی تھی اپنے آنسوں پر ضبط کرنا ان کے لیے بے حد مشکل تھا ۔۔
مام ۔۔ آہل کے ذہن میں پورن جھماکا سا ہوا تھا یہ نہیں تھا اسے کچھ یاد نہ ہو نہ ہی اس کا حافظہ اتنا کمزور تھا اسے تو سب یاد تھا وہ ساری باتیں جو جاوید صاحب نے اسے بتایی تھی وہ ساری حقیقت جس سے وہ باخبر تھا وہ تو اپنی ماں سے معافی مانگنے جا رہا تھا اپنی غلطیوں کی تلافی کرنے جا رہا تھا لیکن قسمت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔۔
مام ایم سوری ۔۔ آہل کی آنکھیں بھررا سی گیی تھی اللہ تعالی نے اسے پھر سے زندگی عطا کی تھی تو وہ معافی مانگنے میں دیر کیوں کرتا اسے ڈر تھا کہیں اس کی سانسیں پھر سے نہ چھین لی جاے اور وہ ہمیشہ کے لیے گنہگار رہ جاتا ۔۔
سوری کس بات کی میرے بچے ۔۔ تم بس جلدی سے اچھے ہو جاو ۔۔ مریم بیگم کو اپنی سماتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا لیکن وہ آہل کا جھکا ہوا سر دیکھنے کی کب خواہش مند تھی ۔۔۔
مام آیی لو یو ۔۔ آہل شاہ آفندی کی خوبصورت مسکراہٹ لوٹ آیی تھی ۔۔
آیی لو یو ٹو میری جان ۔۔ مریم بیگم نے اپنے لب اس کے ہاتھوں پر رکھ دیا تھا ۔۔ آج ماں اور بیٹے کے درمیان سبھی غلطفہمیاں دور ہو گیی تھی آج ایک ماں اور بیٹا ایک ہو گیے تھے ۔۔۔
فایزہ بیگم کو بے تحاشہ خوشی ہو رہی تھی ان کا آہل واپس آ گیا تھا اور اب تو ان کا ایک نہیں بلکہ دو دو رشتہ تھا ۔۔
آہل میری جان بس اب اس بستر کو چھوڑ دو میں مزید تمہیں اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔ فایزہ بیگم اس کے قریب آ کھڑی ہویی تھی اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہی تھی ان کی نورا کا صاف عکس آہل کے چہرے سے جھلملا رہا تھا ۔۔
میں تو ٹھیک ہو جاوں گا آپ نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے ۔۔ آہل مسکرا دیا تھا ۔۔
اگر تم ٹھیک نہیں ہوے تو میں نورا کو کیا جواب دوں گی تم مجھے شرمندہ کرنا چاپتے ہو اس کے سامنے ۔۔ فایزہ بیگم اس کے گھنے کالے بالوں میں ہاتھ پھیر کر شکوہ کر رہی تھی ۔۔
اچھا کیا مام آپ سے روز ملنے آتی ہیں کیا ۔۔ آہل شرارت سے مسکرا دیا تھا ۔۔
ہاں میرے خوابوں میں آ کر مجھ سے پوچھے گی تو میں کیا جواب دوں گی ۔۔ فایزہ بیگم نے اسی کے انداز میں اسے جواب دیا تھا ۔۔
تم میرے لیے بہت قیمتی ہو آہل میری نورا کے واحد نشانی ہو تم تمہیں کھونے کی ہمت میرے اندر نہیں ہے سچ بتاوں تو یہ سب جان کر مجھے اتنی خوشی محسوس ہویی ہے جتنی کی آج سے پہلے کبھی نہیں ہویی ۔۔
تادیر فایزہ بیگم اور آہل شاہ آفندی کے درمیان ایموشنل سین چلتا رہا تھا ۔۔
بھایی آپ اس جگہ پر بلکل نہیں جچ رہے بلکل اچھے نہیں لگ رہے !! بریرہ بھی اپنے بھایی کا ہاتھ تھام کر شکوہ کر رہی تھی آخر وہ کیوں دیر کرتی اس سے ملنے سے اس کا جان سے عزیز بھایی جو تھا ۔۔
میری گڑیا میرا بس چلے نہ تو ابھی یہاں سے بھاگ جاوں مجھے بھی ذرا اچھا نہیں لگ رہا ۔۔ آہل کی آنکھوں میں ٹھنڈک سی پڑ گیی تھی بریرہ کو دیکھ کر اتنے دن کی ناراضگی آخر کو ختم تو ہویی تھی ۔۔
اچھا ایک بات بتاو تمہاری بھابھی نہیں دکھایی دے رہی ۔۔ آہل سب سے مل چکا تھا سواے مرش کے اسے حیرت ہو رہی تھی اب تک مرش کیوں ملنے نہیں آیی ۔۔
وہ تو کل رات سے روے جا رہی ہے ایک منٹ میں اسے بھیجتی ہوں ۔۔ بریرہ مسکرا کر اٹھ گیی تھی اسے اپنے بھایی کے دل کی بےچینی کا تھوڑا تھوڑا سا اندازہ تو تھا ۔۔
آہل نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا تھا دل میں شدید خواہش جاگی تھی مرش کا روتا ہوا چہرہ دیکھنے کی ۔۔
کچھ دیر بعد مرش نگاہیں زمین پر گاڑے کمرے میں داخل ہویی تھی سوجی سوجی سی آنکھیں بکھرا بکھرا سا حولییہ ایک عجیب دلکشی لیے ہوے تھا ۔۔
آہل لبوں پر بے حد خوبصورت مسکراہٹ رینگ گیی تھی اسے اندازہ تو تھا مرش کی حالت کا لیکن اتنا نہیں تھا جتنا اس وقت اسے دیکھ کر ہو رہا تھا ۔۔
مرش یکدم خاموشی سے چل کر اس کے پاس آ کر بیٹھ گیی تھی گلے میں جھولتا دوپٹہ کا کونا زمین کو پر جھول رہا تھا ۔۔
کیسے ہو ؟ مرش کی آنکھیں کو سے آنسوں پھر سے گر کر گال کو بھگونے لگے تھے ضبط کی کڑی ٹوٹ رہی تھی ۔۔
تمہارے سامنے ہوں دیکھ لو ۔۔ آہل کے لبوں پر بے حد خوبصورت مسکراہٹ مچل رہی تھی ۔۔
ت ۔ تم ۔۔ سارے الفاظ ٹوٹ گیے تھے زبان لڑخھڑا سی گیی تھی وہ اس بات کی پرواہ کیے بغیر کی اسے اس کے اس عمل سے تکلیف بھی ہو سکتی تھی فورن اس کے گلے لگ گیی تھی ۔۔
آہ ۔۔آہل کے منھ سے ہلکی سی چینخ برامد ہویی تھی ۔۔
کیا ہوا درد ہو رہا ہے ۔۔ مرش نے چہرہ اوپر کر کے پوچھا تھا ۔۔
ہاں ! آہل اپنی بے ساختہ ابھرنے والی مسکراہٹ کو ضبط کر گیا تھا ۔۔
اوہ سوری ۔۔ مرش شرمندہ سی ہو گیی تھی ۔۔
مرش فارس کہاں ہے ؟؟ کیا وہ نہیں آیا ۔۔ آہل نے بہت ہمت کر کے پوچھا تھا ۔۔
نہیں ۔۔ وہ نہیں آیا شاید اسے معلوم نہ ہو تمہیں ہوش آ گیا ۔۔ مرش نے سرسری سے انداز میں جواب دیا تھا ۔۔
میں نہیں مانتا اسے معلوم نہ ہوا ہوگا اور مجھے اچھی طرح سے یاد ہے میں نے اپنی آنکھ فارس کی ہی گود میں بند کی تھی میں نے آخری آواز اسی کی سنی تھی ۔۔ آہل بہت سنجیدگی سے بول رہا تھا ۔۔شاید فارس کو یہاں نہ پاکر اسے تکلیف ہویی تھی ۔۔

میں کچھ نہیں جانتی تم پہلے مجھے یہ بتاو تم کب تک یونہی سوے رہو گے میں یہاں زیادہ دن تک نہیں رہ سکتی جلدی سے ٹھیک ہو جاو پلیز میرے لیے ۔۔ مرش کی رندھی رندھی سی آواز کمرے میں کھنک رہی تھی ۔۔
کیوں تمہیں اچھا نہیں لگ رہا مجھے اس طرح دیکھ کر ۔۔ آہل کا ارادہ اسے تنگ کرنے کا تھا ۔۔
ہاں نہیں اچھا لگ رہا ۔۔ مرش کی آنکھوں سے مسلادھار بارش پھر سے شروع ہو گیی تھی ۔۔
کہیں محبت تو نہیں ہو گیی مجھ سے ؟ آہل کو اپنے چاروں طرف سکون قلب محسوس ہو رہا تھا مرش کو اپنے لیے یوں فکرمند دیکھ کر ۔۔کم از کم اس کی اتنی سی تو اہمیت تھی کی وہ اس کے لیے فکرمند تھی ۔۔
ہاں ہو گیی ہے محبت بے حد بے پناہ اور اب میں تم سے ایک سیکینڈ کے لیے دور نہیں رہ سکتی میری تکلیف کو دور کر دو میرے بے چین دل کو سکون قرار دو ۔۔آیی لو یو ۔ آیی لو یو سو مچ ۔۔ مرش اس کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا لی تھی محبت کی چاشنی پورے جسم میں گھل گیی تھی ۔۔۔
ایی لو یو ٹو جان آہل ۔۔ آہل اس کا دونوں ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا لیا تھا ۔۔ بے چین دل کو صبرو سکون مل گیا تھا دو دلوں کی محبت اپنی آمدگی پر بے پناہ خوش تھی ۔۔۔