122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

آہل آج وقت سے پہلے اٹھ گیا تھا ۔۔ اس کے بر عکس مرش دنیا سے غافل بے خبر سو رہی تھی ۔۔
پاگل لڑکی ۔۔ مرش کا چہرہ دیکھ کر آہل نے ایک نظر ڈال کر مسکراتے پوے کہا ۔۔
فریش ہونے کے بعد آہل کمرے سے جا چکا تھا مرش کو اکیلا چھوڑ کر اس کا بلکل ارادہ نہیں تھا اس کی صبح کا آغاز جان لیوا ہو ۔۔

گڈ مارنگ مرش بھابھی ۔۔ بریرہ شرارت سے مسکراتی ہویی دھپ سے مرش کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیی ۔۔۔
گڈ مارنگ ۔۔ مرش نے تھوڑا دھیمے انداز میں جواب دیا ۔۔۔
پہلے یے بتاو بھایی نے کیا گفٹ دیا ہے مجھے بہت بے چینی ہو رہی دیکھنے کی جلدی دکھاو ۔۔۔ بریرہ نے بیچین ہوتے ہوے کہا ۔۔
گفٹ ؟؟ مرش ہونق بنی بریرہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔
ہاں گفٹ یار ۔۔ اب مجھ سے کیا شرمانا جلدی سے دکھاو ۔۔ بریرہ نے پھر سے اپنی بات دہرایی۔ ۔۔
مرش نے کن اکھیوں سے صوفے کی طرف دیکھا اب اسے بے حد پچھتاوا ہو رہا تھا پھینک کر ۔۔
آں بریرہ پلیز مجھے ایک گلاس پانی لے آو میرا گلا خشک ہو رہا ہے ۔۔۔ مرش نے بڑی حمت کر کے بات بنایی ۔۔۔
اوکے میں لے آتی ہوں ۔۔ بریرہ ایک لمحے میں وہاں سے غایب ہو چکی تھی ۔۔۔
مرش نے ایک سکون بھرا سانس لیا اس کا بولا گیا جھوٹ جو ۔ کامیاب ہو گیا تھا ۔۔۔
زمین پر بیٹھ کر مرش نے اپنا ہاتھ بڑاھایا صوفے کے نیچے گرا پیک آخر اس کے ہاتھوں لگ ہی گیا ۔۔۔ گفٹ لے کر وہ تیزی سے بیڈ پر آکر بیٹھ گیی ۔۔۔
اتنی ہی دیر میں بریرہ پانی کا گلاس لیے حاضر ہو چکی تھی ۔۔
یے لو پانی ۔۔بریرہ نے ہاتھ بڑھا کر مرش کو پانی کا گلاس تھمایا ۔۔۔۔
بہت شکریہ ۔۔مرش نے مسکراتے گلاس تھام لیا ۔
یے رہا گفٹ ۔۔ مرش نے آنکھ کے اشارے سے گفٹ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
یے کیا یے تو پیک ہے تم نے کھول کر دیکھا نہیں تھا کیا ۔۔۔ بریرہ نے گفٹ کو دیکھ کر حیرت سے کہا ۔۔
آں وہ آہل نے صبح ہی دیا ہے تو کیسے کھولتی ۔۔۔ مرش نے مسکراتے ہوے سارا الزام آہل پر ڈال دیا ۔۔۔
بھایی بھی نہ ۔۔۔ یے لو چلو کھولو تم ۔۔۔ بریرہ گفٹ کو مرش کی طرف بڑھاتے ہوے کہا ۔۔
م۔۔مم میں تم کھولو نہ ۔۔۔مرش نے گڑبڑاتے ہوے کہا ۔۔۔
یے تمہارا پہلا گفٹ ہے اس لیے تم ہی کھولو ۔۔ بریرہ نے گفٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ۔۔۔
مرش نے دل پر پتھر رکھتے ہوے گفٹ کھولا ۔۔۔
واو دیٹیس بیوٹیفل ۔۔۔ بریرہ نے دل کھول کر تعریف کی ۔۔۔
ڈایمنڈ کا چمکتا پینڈین سیٹ پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔
مرش نے ایک اچٹتی نگاہ اس سیٹ پر ڈالی ۔۔
مرش تمہیں نہیں پسند آیا کیا ۔۔۔ مرش کو یوں خاموش دیکھ کر بریرہ نے کہا ۔۔
نہیں اچھا ہے بہت اچھا ہے ۔۔۔ مرش نے زبردستی مسکراتے ہوے کہا ۔۔
مرش مام نے کہا ہے شام کے وقت تمہیں پالر لے کر جانا ہے ۔۔ بریرہ نے یاد آتے ہی مرش کو بتایا ۔۔
لیکن بریرہ !! مرش نے ابھی آگے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا ہی تھا کی بریرہ بول پڑی ۔۔
مام نے کہا ہے بھایی کے ساتھ جانا ہے ہمیں رات کے فنکشن کے لیے ۔۔۔مرش میں ابھی آتی ہوں تم کچھ دیر ویٹ کرو اوکے ۔۔ بریرہ کہتی ہویی کمرے سے جا چکی تھی ۔۔۔

میں پالر جاوں گی مر کر بھی نہیں اس ذلیل انسان کے لیے کبھی نہیں کتنا مجبور کرو گے تم مجھے آہل شاہ افندی ۔۔ مرش کا دماغ کھول گیا تھا ۔۔وہ اپنی ہی سوچوں میں گم آہل کو ایک سے ایک گالیوں سے نواز رہی تھی ۔۔۔
اسی اثنا میں آہل کمرے کے اندر آیا ۔۔ مرش کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔
آہل اپنی واڈروب کے سامنے کھڑا ہو کر کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
میں پالر نہیں جاوں گی !!! مرش کی غصے سے بارود آواز آہل کے کان سے ٹکرایی ۔۔
آہل مرش کی باتوں کو نظر انداز کرتا اپنے کام میں مصروف تھا ۔۔۔
تم نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہی ہوں ۔ ۔۔ مرش نے آہل کو یوں اپنے کام میں مصروف دیکھ کر تھوڑا مشکوک ہوتے ہوے کہا ۔۔۔۔
سن لیا اور کچھ ۔۔ آہل اب پوری طرح مرش کی طرف گھوم چکا تھا ۔۔۔
میں نے کہا میں پالر نہیں جاوں گی ۔۔۔ مرش نے بھنوے اچکاتے ہوے کہا ۔۔
کیوں وجہ جان سکتا ہوں نہ جانے کی ۔۔۔ آہل نے آواز میں تھوڑا سختی لاتے ہوے کہا ۔۔۔
وجہ یے ہے مسٹر آہل کی میری مرضی نہیں اور میں اپنی مرضی کے بغیر کویی کام نہیں کرتی ۔۔۔ مرش نے آواز اونچی کرتے کہا ۔۔۔
ہا ۔۔ہا ۔۔ تم اپنی مرضی کے بغیر کویی کام نہیں کرتی واٹ اے جوک سویٹ ہارٹ ۔۔۔ اگر تمہیں یاد ہو تو تم نے اپنے مرضی کے بغیر ہی اس خوبصورت لڑکے سے شادی کی ہے ۔۔ آہل کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔۔
اس کا حساب بھی میں تم سے لے لوں گی ۔۔۔ اپنا یوں مزاق اڑایا جانا مرش کو سخت زہر لگا تھا ۔۔۔
لے لینا یار لیکن اس کپڑے میں بہت کیوٹ لگ رہی ہو ۔۔۔ آہل مرش کو نظروں کے حصار میں لے کر مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
اس وقت مرش نے اورینج کلر کا سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا ۔۔
اپنی بکواس بند کرو دیکھو میں پالر نہیں جاوں گی یے میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔
تو یے بات جا کر ان سے کہو جنہوں نے حکم دیا ہے ۔۔ آہل نے مرش کو دو بدو جواب دے کر ہولے ہولے قدم بڑھا کر مرش کے قریب آیا ۔۔۔
مرش ایک دم خود میں سمٹ کر رہ گیی ۔۔۔
آہل آہستہ آہستہ اس کے چہرے پر تھوڑا جھکا ۔۔۔
مرش نے سختی سے اپنی دونوں آنکھ بھینچ لیی ۔۔۔۔
آہل نے ہاتھ بڑھا کر اپنا سیل فون اٹھایا ۔۔۔
آنکھیں کھول لو سویٹ ہارٹ تمہارا شوہر اتنا بھی بد تمیز نہیں ہے ۔۔ آہل اپنا سیل فون ہاتھ میں لے کر سیدھے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔
مرش نے ڈرتے ڈرتے پلکیں اوپر کی جانب اٹھایی ۔۔۔
تمہیں کیا لگا تھا میں کیا کرنے والا ہوں ۔۔ آہل کا ارادہ اب مرش کو تنگ کرنے کا تھا ۔۔۔
مجھے کچھ بھی نہیں لگا تھا سمجھے ۔۔۔ مرش نے نظریں چراتے ہوے کہا ۔۔۔
ہا ۔ہا ۔ہا ۔۔ رییلی مجھے لگا تم نے کچھ غلط سوچا۔۔۔ آہل کی آنکھیں شرارت سے صاف واضح ہو رہی تھی ۔۔۔
تم ۔۔۔۔ میری بات سنو تم جیسے مردوں کو میں اچھی طرح جانتی ہوں ۔۔ مرش نے شہادت کی انگلی آہل کی جانب کرتے ہوے غصے سے کہا ۔۔۔
تم میرے جیسے مردوں کو جانتی ہو نہ مجھے تو نہیں جس دن مجھے جان جاو گی اس دن میرے جیسے مردوں کو جاننے کی کویی ضرورت بھی نہیں پڑے گی ۔۔۔ آہل ایک آخری نظر مرش پر ڈال کر باہر جا چکا تھا ۔۔۔


ناشتہ میں مرش نے صرف دو تین لقمہ بہ مشکل خایا تھا خانہ اس کی حلف سے نیچے نہیں جا رہا تھا اپنی زندگی کی اتنی بڑی بربادی کے بعد خانہ کس کو یاد رہتا ہے ۔۔۔ مرش کے آنسوں ایک بار پھر سے بن بتاے شروع ہو چکے تھے۔۔۔
مرش ہم پالر نہیں جایں گے ایکچولی بھایی نے منا کر دیا ۔۔ بریرہ مرش کے سر پر سوار کھڑی تھی ۔۔
مرش تم رو رہی ہو ۔۔ بریرہ مرش کے گرتے آنسوں کو دیکھ چکی تھی ۔۔۔
نہیں بس امی بابا کی یاد آ رہی تھی ۔۔ مرش نے گال پر گرتے آنسوں کو رگڑتے ہوے کہا ۔۔
مرش رونہ کس بات کا وہ تم سے ملنے آیں گے نہ بریرہ مرش کو گلے لگاتے ہوے تسلی دینے میں مگن تھی ۔۔۔ ارے یار میں تو بھول ہی گیی وہ بیوٹینشن گھر پر ہی آ رہی ہے ابھی کچھ دیر میں ۔۔۔ بریرہ نے یاد آتے ہی مرش کو بتایا ۔۔


میم اب آپ مکمل طور پر تیار ہے ۔۔ مرش کے حسن کو چار چاند لگانے کے لیے پانچ لڑکیاں پالر سے بہ خوشی آیی تھی شہر کی مہنگے پالر سے انہیں بلایا گیا تھا ۔۔۔
نیوی بلو کلر کا خوبصورت لہنگا جس پر ایک ایک ورک بہت صفایی سے کیا گیا تھا اسی کلر کی میچینگ جیولری بھی پہنایا گیا تھا ۔۔۔۔
مرش کا حسن آج سب سے الگ لگ رہا تھا ہر چیز سے مکمل اللہ تعالی نے مرش کو بنایا تھا ۔۔۔
کیا آپ لوگ مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ سکتی ہے پلیز ۔۔۔ مرش کو اکتاہٹ ہو رہی تھی اپنا اتنا سجا سنورا روپ دیکھ کر ۔۔
جی ضرور وہ پانچوں ایک ایک کر کے کمرے سے جا چکی تھی ۔۔۔
آینے کے سامنے کھڑے ہو کر مرش نے اپنا سنگار دیکھا ۔۔۔ میں کس لیے تیار ہویی ہوں ۔۔ اس شخص کے لیے جس کو میں نے قبول ہی نہیں کیا کتنی ظالم ہے نہ یے دنیا کویی میرا درد نہیں سمجھ سکتا ۔۔۔ مرش کی آنکھ سے ایک موتی ٹوٹ کر گال پر رقص کر رہا تھا اس نے اپنی دونوں آنکھیں سختی سے بند کر لی ایسا لگ رہا تھا اگر وہ اپنی آنکھیں کھول دے گی تو قیامت آ جاے گی ۔۔۔۔
آہل فون کان سے لگاے مصروف سے انداز میں کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ آینے کے سامنے مرش کو اس طرح دیکھ کر آہل لبوں پر بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ رینگ گیی ۔۔۔
ویسے تو سب مکمل ہے لییکن صرف ایک چیز کی کمی ہے ۔۔ آہل مرش کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے قریب کرتے ہوے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
ایک منٹ آہل مرش کو اپنی قید سے آزاد کرتے ہوے آگے بڑھ گیا ۔۔
مرش نہ سمجھی سے گا ہے بگا ہے آہل کو دیکھ رہی تھی ۔۔
آینے کے سامنے کھڑے وہ دونوں کسی چاند سے کم نہیں لگ رہے تھے ۔۔
آہل مرش کی گردن میں ہاتھ ڈال کر ہیرے کا چمکتا پینڈین سیٹ اس کے گلے میں پہنا دیا ۔۔۔
پرفیکٹ ۔۔ آہل نے آینے میں مرش لال ٹماٹر جیسا تمتماتا چہرہ دیکھ کر بولا ۔۔۔
ایک سیلفی کیوں نہ لیں اپنی شادی کی یادگار تصویر کیوں کی جب تم مجھے چھوڑ کر جاو گی میں بے چارا انہی تصویروں سے اپنا دل بہلا لیا کروں گا ۔۔۔ آہل نے معصومیت سے منھ بناتے ہوے کہا ۔۔
مجھے کویی تصویر نہیں لینی اور میں اسے نہیں پہنوں گی ۔۔ مرش جیسے ہوش میں آ گیی تھی ۔۔۔
اگر تم نے یے لاکیٹ اتارا تو تمہارا تو پھر انجام بھی سوچ کر رکھے رہنا ۔۔ آہل نے سرد آواز میں دھمکی دی۔۔۔
چپ چاپ کیمرے کی طرف دیکھو ۔۔۔
ایک بے حد خوبصورت تصویر آہل کے فون میں قید ہو چکی تھی ۔۔۔

ہمم ہمم ۔۔۔ بریرہ نے گلا کھنکارتے ہوے آنکھ بند کر لی ۔۔۔
ارے میری گڑیا وہاں کیوں کھڑی ہے اندر آو ۔۔ آہل بریرہ کی حرکت دیکھ کر مسکراتے ہوے کہا ۔۔۔
مجھے لگتا ہے میں غلط وقت پر آ گیی ۔۔۔ بریرہ نے اندر آتے ہوے کہا ۔۔
بلکل صحیی وقت پر آیی ہو ۔۔ جواب مرش کی طرف سے آیا ۔۔
بھایی آپ کتنے ڈیشینگ لگ رہے ہے یور لوکینگ سو اسمارٹ ۔۔ بریرہ آہل کی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکی ۔۔۔
تھیک یو ۔۔۔ آپ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہی ہے ۔۔ آہل نے بریرہ کی ناک دبا کر تعریفی جملہ ادا کیا ۔۔۔
لیکن مرش سے کم ۔۔ بریرہ نے منھ پھلاتے ہوے کہا ۔۔
ارے مرش تو کچھ بھی نہیں ہے تمہارے آگے ۔۔ آہل نے صاف لفظوں میں مرش کے بے عزتی کی تھی ۔۔ جو کی مرش کو سمجھ میں نہ آ سکے ۔۔۔
سچی ۔۔ بریرہ نے بھایی کا ساتھ دینے میں ذرا کسر چھوڑی ۔۔
مچی ۔۔ آہل نے مسکراتی آنکھوں سے کہا ۔۔
میں چلتا ہوں آپ اپنی بھابھی کو جلدی سے باہر لے کر آو ۔۔ آہل نے مرش کا دل جلانے میں کویی کمی نہیں باقی رہنے دی ۔۔۔
مرش میں کیسی لگ رہی ہوں ۔۔ آہل کے جاتے ہی بریرہ کا پہلا سوال تھا ۔۔
بہت بہت بہت پیاری ۔۔ مرش نے سچے دل سے بریرہ کی تعریف کی ۔۔
بریرہ نے سی گرین کلر کا خوبصورت لہنگا پہنا ہوا تھا ۔۔۔چمکتے بالوں کو کھلا ہی چھوڑ دیا تھا ۔۔ نفاست سے کیا گیا میکپ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔

آفندی ولا ۔۔ کی درو دیوار پر خوشیاں رقص کر رہی تھی ۔۔ آج آہل شاہ آفندی کا ولیمے کا فنکشن تھا ۔۔۔ ڈیکوریش دیکھ کر ہر کویی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔۔ لایٹس کی چوکاچوند پورے آفندی ولا کو چمکا رہی تھی ایک سے بڑھ کر ایک لوگ آج اس فنکشن پر انوایٹیڈ تھے ہر کویی حسین و جمیل دکھنے کی جوڑ توڑ کوشش کر کے آیا تھا ۔۔ جاوید شاہ آفندی کے اکلوتے سپوت کی شادی اٹینڈ کرنے کے لیے بیرونی ملک سے ہزار لوگ آے تھے ۔۔۔۔ ایسی شادی انجوے کرنے کے لیے بچہ بچہ آیا تھا شہر کے بہترین کامیاب بزنیسمین کے بیٹے کی شادی تھی جس کی شہرت ملک ملک تھی ۔۔
بریرہ مرش کو اپنے ساتھ لیے اسٹیج پر چھڑی دلہن کو ودیکھ کر زور و شور تالیوں کی آواز گونج رہی تھی ۔۔
گفٹس کی گنتیاں کرنا بہت مشکل تھا ۔۔ ویٹرز کی لاین لگی ہویی تھی ۔۔۔ اتنا شاندار فنکشن دیکھ کر سبھی حیرت زدہ دیکھ تھے ۔۔۔
مرش کو آہل کے بہت ہی قریب لا کر بیٹھا دیا گیا تھا ہزاروں کیمرے میں تصویرے سب قید کر رہے تھے ۔۔۔ہلکے ہلکے سروں میں گانہ اپنی دھن میں بج رہا تھا ۔۔۔
اریشہ زارا اور ثمرہ بھی تشریف لا چکی تھی ۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو مسٹر آہل ۔۔ ثمرہ نے مرش کو مکمل طور پر نظر اندز کیے آہل سے مخاتب تھی ۔۔۔
تھینک یو مس ثمرہ ۔۔ آہل نے بھی مسکرا کر مبارک باد قبول کی۔۔
مرش شدید حیرت سے اپنی ان دوستوں کے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی جیسے وہ سب اس کو پہچان ہی نہیں رہی ہو ۔۔۔
مجھے بہت خوشی ہویی آپ لوگ کو یہاں دیکھ کر ۔۔۔ بات کا آغاز آہل نے شروع کیا ۔۔۔
آنا پڑا ہمیں آخر کو آپ نے خود ہمیں انوایٹ کیا تھا ۔۔ اریشہ نے اتراتے ہوے جواب دیا ۔۔۔
اس کے لیے تو میں آپ سب کا دل سے شکر گزار ہوں ۔۔ آہل کا اتنا رنگ روپ دیکھ کر مرش کو چار سو چالیس واٹ کا کرینٹ پھر سے لگا تھا یے وہی شخص تھا جس نے ان دونوں کو قید کیا تھا وہی ظالم شخص جس نے ان لوگوں کو زبان پر بھی تالا لگا دیا تھا اتنی تکلیف دی تھی اس نے دو دن اپنے پاس رکھ کر ان پر ظلم و ستم کیا تھا ۔۔ اور یے لوگ کیسے بانچھے پھیلا پھیلا کر اس سے مل رہی ہے کیا انہیں سب بھول گیا تھا ۔۔۔ مرش اب اریشہ کا ہنستا مسکراتا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

آہل شاہ آفندی ان لوگوں سے ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے ان لوگوں سے کتنی پرانی دوستی ہو ۔۔۔
ایک منٹ ہم اپنی دوست سے بھی مل لیں ۔۔ ثمرہ اریشہ اب مرش کی جانب مبذول ہویی ۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو مرش ۔۔ ثمرہ نے مرش کا حسن دیکھ کر تعریف کی ۔۔
تم لوگ یہاں کیوں آیی ہو پاگل ہو گیی تھی کیا ۔۔ مرش نے بہت ہی برداشت کے ساتھ دھیمے انداز میں ان دونوں کی کلاس لے رہی تھی ۔۔۔
وہ ہمیں آہل بھایی نے انوایٹ کیا تھا ۔۔ اریشہ نے آہل کی جانب اشارہ کرتے ہوے کہا جو اس وقت مکمل طور پر فارس سے بزی تھا ۔۔
بھایی !!!! مرش نے بھایی لفظ بہ مشکل دہرایا ۔۔
تم لوگ پاگل ہو گیی ہو کیا ۔۔ آخر تم لوگ کو اس ذلیل انسان کی شادی میں آنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔ مرش جیسے کسی اور کے بارے میں بات کر رہی تھی ۔۔
یار اب وہ سب بھول بھی جاو مرش آہل بھایی تو بہت اچھے ہے ۔۔ ثمرہ نے بے فکری سے کہا ۔۔۔
مرش پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ان کے بولے گیے الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ تم لوگ واقعی پاگل ہو گیی ہو یے مت بھولو آج میں یہاں صرف تم لوگوں کی وجہ سے بیٹھی ہوں ۔۔ مرش کی آواز غمگین ہو گیی تھی جیسے ابھی وہ رو دے گی ۔۔
مرش کیا ہو گیا ہے اب رو مت دینا سب کی نظر ادھر ہی ہے ۔۔وہ دونوں مسکراتے ہوے کہہ کر وہ اسٹیج سے نیچے اتر چکی تھی ۔۔
مرش کو حیرت زدہ چھوڑ کر ۔۔۔
بریرہ بہت ہی گرم جوشی سے زارا اریشہ اور ثمرہ سے ملی تھی وہ سب ایک جھنڈ بناے اسٹیج کے تھوڑا فاصلے پر کھڑی باتوں میں مگن تھی ۔۔۔
آہل تیری تو قسمت اچھی تھی مرش بھابھی نے تیرے سر کے بال نہیں نوچے ۔۔۔ فارس مسلسل آہل کا مزاق اڑاے جا رہا تھا وہ زندہ اور سہی سلامت کیسے ہے ۔۔۔
بس اللہ کا شکر ہے یار ۔۔ آہل بھی مزے سے بولا ۔۔
آہل اور فارس کی باتوں کے دوران فارس کی نظر لمحہ بہ لمحہ بھٹک کر بریرہ کی طرف اٹھ رہی تھی ۔۔ آنکھوں میں محبت کے دیپ سجاے وہ بریرہ کو بڑی ستایش نظروں سے دیکھ رہا تھا اس بات سے بے خبر کی سامنے آہل شاہ آفندی اس کا بھایی بیٹھا ہے ۔۔
آہل فارس کی یے ایک لگاتار حرکت دیکھ رہا تھا ۔۔ فارس کی ہی نظروں سے آہل نے اپنی نظریں دوڑایی سامنے اس کی بہن کا ہنستا مسکراتا چہرہ تھا ۔۔
بریرہ !! آہل نے بریرہ کا نام زیرلب دہرایا ۔۔
فارس کی آنکھوں کی چمک آہل شاہ آفندی سے پوشیدہ نہیں تھی جو کھیل فارس کھیل رہا تھا فلحل وہی کھیل آہل شاہ آفندی بھی کھیل رہا تھا ۔۔
فارس ؟؟ آہل نے جانچتی نظروں سے فارس کو دیکھ کر پکارا ۔۔
ہاں !! فارس نے اپنی توجہ آہل کی جانب مبذول کی ۔۔
کچھ نہیں ۔۔ آہل نے مسکرانے پر ہی اکتفا کیا ۔۔۔
آہل میں پانچ منٹ میں آیا مام کی کال آ رہی ہے ۔۔ فارس فون ہاتھ میں لیے اسٹیج سے نیچے اتر کر بریرہ کو گھر کے اندر آنے کا اشارہ کر کے آگے بڑھ گیا ۔۔۔
میری بیوی نے میری تعریف کی ہی نہیں کیسا دکھ رہا ہوں میں ۔۔موقع پاتے ہی آہل نے مرش کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا ۔ ۔۔
ہمیشہ کی طرح بہت ہی گھٹیا ۔۔ مرش نے گھٹیا الفاظ پر زور دیتے ہوے کہا ۔۔۔
صدقے اس تعریف پر ۔۔ آہل نے دھمیے سروں میں سرگوشی کرتے ہوے سامنے کی جانب دیکھا ۔۔۔
علی شہروز ہاتھ گفٹ لیے اسی جانب آ رہا تھا ۔۔
یے کمینہ انسان یہاں پر کیا کر رہا ہے ۔۔ آہل نے بدنماں چہرہ دیکھ کر سوچا ۔۔
ہیلو مسڑ آہل شاہ آفندی شادی کی بہت بہت مبارک ہو یے ایک چھوٹا سا تحفہ آپ کے لیے ۔۔۔ علی کی مسکراہٹ ایک بدترین انسان سے کم نہیں تھی ۔۔۔
تو یہاں کس لیے آیا ہے ایک لمحے کے اندر یہاں سے چلا جا علی ورنہ یہاں سے تیری لاش جاے گی ۔۔۔ آہل کی برداشت اب جواب دینے لگی تھی ۔۔۔
کنٹرول مایی فرینڈ “”””””ویسے تیری بیوی بہت خوبصورت ہے اندر سے بھی باہر بھی “””” علی نے اپنی خباثت بھری مسکراہٹ کے ساتھ آہل کے کان میں سرگوشی کی ۔۔
مرش جو کسی سے بات کرنے میں محو تھی ایک نسوانی آواز پر ان سامنے کی اور دیکھا ۔۔۔
یے ۔۔۔ یے ۔۔ مرش کی سانس تھم چکی تھی ایسا لگتا تھا وہ ابھی گشی کھا کر گر جاے گی ۔۔ یے بے ہودہ انسان یہاں پر کیا کر رہا ہے ۔۔ اس کی سمجھ سے سب باہر تھا ۔۔۔
ڈر اور خوف کی وجہ سے اس نے آہل کا ہاتھ زندگی میں پہلی بار بہت سختی سے پکڑا تھا ۔۔
اچھا میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھیے گا بھابھی ۔۔۔ علی واپس پلٹ کر جا چکا تھا لیکن مرش کا ہاتھ اب بھی آہل کے ہاتھوں میں ہی تھا ۔۔
مرش تم یہی پر بیٹھو میں آ رہا ہوں ۔۔ آہل مرش سے اپنا ہاتھ چھڑواتا علی کے پیچھے پیچھے جانے لگا ۔۔
گریبان سے آہل علی کو پکڑ کر باہر کی طرف لے گیا ۔۔۔
کس نے تجھے انوایٹ کیا تھا بتا ۔۔ آہل کی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی ۔۔
انوایٹ تو کسی نے نہیں کیا تھا بس تیری بیوی کو بڑا دل چاہ رہا تھا دیکھنے کا ۔۔۔
اپنی بکواس بند کر علی آہل نے ایک زور دار پنچ سے اس کا چہرے کا حولیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔
یے مار تجھے بہت مہنگی پڑنے والی ہے آہل ۔۔۔ علی نے اپنے رستے خون کو چھوتے ہوے کہا ۔۔
تو جا رہا ہے یا نہیں ۔۔ آہل نے سرد آواز میں چلاتے ہوے کہا ۔۔
جا رہا ہوں ۔۔ علی اپنا گریبان چھڑا کر جا چکا تھا ۔۔


فارس تمہیں پتہ بھی ہے میں کتنی مشکلوں سے آیی ہوں ۔۔ بریرہ نے ناراض ہوتے ہوے کہا ۔۔۔
محبت میں اتنا تو رسک لینا پڑتا ہے جان ۔۔ فارس بریرہ کا ہاتھ پکڑ کر خود سے قریب کرتے ہوے کہا ۔۔۔
فارس مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں کویی آ نہ جاے ۔۔ بریرہ نے ڈرتے ہوے کہا ۔۔
یار فنکشن باہر ہے گھر میں نہیں کون آ سکتا ہے ۔۔ فارس بے فکری سے بولا ۔۔
آج تو بہت پیارے لگ رہے ہو ۔۔ فارس کے کورٹ کی بٹن سے کھیلتے ہوے بریرہ نے کہا ۔۔۔
چلیں آپ نے اس غریب کی تعریف تو کی ۔۔ فارس نے خود کو غریب باور کرایا ۔۔
بریرہ میرا دل کر رہا ہے یہاں سے تمہیں اٹھا کر اپنے روم میں لے کر چلا جاوں ۔۔
بدتمیز ۔۔ بریرہ پوری طرح بلش کر گیی ۔۔
میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں آہل سے بات کروں گا کیوں کی میں اور نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر ۔۔
فارس ابھی نہیں وقت آے گا تب کرنا پلیز ابھی نہیں ۔۔ بریرہ نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے نہیں کرتا فارس بریرہ کو خود اے اور قریب کرتے ہوے کہا ۔۔۔
فارس اب چلو پلیز کویی آ جاے گا ۔۔۔
کویی نہیں آتا بے فکر رہو ۔۔ فارس نے بے فکر ہوتے کہا ۔۔۔ فارس جو اس وقت بریرہ کے کمرے میں تھا لیکن پردے کے پیچھے کھڑا تھا ۔۔
بریرہ ؟؟؟ دروازے پر کویی کھڑا تھا جو بریرہ تیز آواز میں پکارا تھا ۔۔۔