50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

پوری رات مرش کے آنسوں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔ اس کی سسکیاں اسی کمرے مے گونج کر دفن ہو جاتی تھی ۔۔ آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں یہ اللہ کیوں ملوایا مجھے اس شخص سے نفرت ہے مجھے ۔۔ کیوں !! رونے کی وجہ سے مرش کی آواز بیٹھ گیی تھی وہ مسلسل رب سے شکوہ کیے جا رہی تھی ۔۔ کیا قصور تھا اس کا جو اس کو اتنی بڑی سزا مل رہی ہے ۔۔


پہنچ گیی تم لوگ کویی پرابلم تو نہیں ہویی ۔۔ آہل ثمرہ اور اریشہ کی خیریت سے پہنچنے کی خبر لے رہا تھا ۔!!
ہاں کویی پرابلم نہیں ہویی ۔۔ ثمرہ نے جواب دیا !!!
شکریہ میرا ساتھ دینے کے لیے !! آہل نے مسکراتے ہوے ان کا شکریہ ادا کیا ۔۔
شکریہ کرنے کی کویی ضرورت نہیں ہے ہم اپنی دوست کو بچانے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہے !! اسپیکر آن ہونے کی وجہ سے اریشہ نے جواب دیا ۔۔ لیکن ہمیں بہت برا لگ رہا ہے ہماری فرسٹ فرینڈ کی شادی ہے اور ہم رہے گے ہی نہیں !! ثمرہ نے اداس ہوتے ہوے کہا ۔!
ولیمے پر تم دونوں کو اسپیشلی انوایٹ کروں گا یار !! آہل نے ہنستے ہوے کہا ۔۔
ہم انتظار کریں گے ۔۔ ثمرہ نے منھ بناتے ہوے کہا ۔۔
بہت جلد تم لوگ کا انتظار بھی ختم ہو جاے گا ۔ اب فون رکھتا ہوں خدا حافظ !! آہل انہیں خدا حافظ بول کر کال ڈیسکنیٹ کر دیا تھا ۔۔

آہل اپنی پوری زندگی مے کبھی ایسا قدم نہ اٹھاتا جو آج اس نے مرش کے لیے اٹھایا تھا ۔۔ وہ لڑکی میرے لیے اتنی خاص کیوں بنتی جا رہی ہے ۔۔۔ میں اس کی زندگی بچا رہا ہوں لیکن کیوں بھاڑ مے جانے دیتا مجھے اس سے کیا غرض؟؟ آہل کی سوچوں کا مرکز مرش بنی تھی ۔۔ وہ مرش کا بریسلیٹ لے کر مسلسل اسی کو سوچے جا رہا تھا ۔۔

فارس کل نکاح ہونے جا رہا ہے !! آہل فارس کو کال کر کے نکاح کی خوشخبری سنا رہا تھا ۔۔
کیا ؟ وہ مان گیی ۔۔ فارس کو حیرت ہو رہی تھی ۔۔
ہاں ابھی ابھی محترما نے خود ہاں کہا ہے ۔۔ آہل کے لبوں پر ایک شریر سی مسکراہٹ تھی ۔۔ آہل نے فارس کو یے تو بتایا تھا وہ مرش سے شادی کرنے والا ہے لیکن یے نہیں بتایا تھا کس طرح سے کرے گا ۔۔
لیکن کیسے یار ؟؟ وہ لڑکی مان گیی مجھے تو یقین نہیں آ رہا ضرور تو نے کچھ کیا ہوگا ۔۔ فارس اب آہل کی تفتیش کر رہا تھا ۔۔
کچھ خاص نہیں بس اس کی دو دوستوں کو کیڈنیپ کیا تھا !! آہل نے پرسکون ہوتے ہوے کہا ۔۔
کیڈنیپ ؟؟ فارس نے کیڈنیپ لفظ پھر سے دہرایا
ہاں کیڈنیپ ۔۔ آہل نے سامنے رکھے بریسلیٹ پر ایک نظر ڈال کر کہا۔
لیکن تونے مجھ سے کیڈنیپ کا ذکر تو نہیں کیا تھا ۔۔ فارس نے ناراض ہوتے ہوے کہا ۔۔
وہ کیا ہے نہ میں تیرا لیکچر بلکل بھی سننے کے موڈ مے نہیں تھا اس لیے تجھے نہیں بتایا !! آہل نے ہنستے ہوے کہا ۔۔
بہت ہی برا یے تو !! فارس نے چڑتے ہوے کہا ۔۔
معاف کر یار ۔۔ آہل نے معافی مانگی ۔۔
مطلب کل تو دلہا بنے گا ۔۔ فارس اب شرارت پر اتر آیا تھا ۔۔
بکواس بند کر خدا حافظ ! آہل فارس کا مذاق سننے کے بلکل بھی موڈ مے نہیں تھا ۔۔


بندہ ایک میسیج ہی کر لیتا ہے ۔۔ بریرہ ایک ۔ایک منٹ پر موبایل پر میسیج انباکس کھول کر چیک کر رہی تھی ۔۔ لیکن نہ تو کویی میسیج اور نہ ہی کویی کال ۔۔
غلطی تو اسی کی تھی جھوٹ بولا تھا اس نے کم از کم میں تو معافی نہیں مانگ رہی ۔۔ بریرہ ایک لگاتار کمرے کا چکر کاٹ رہی تھی ۔۔ اس کی ییچینی حد سے زیادہ تھی۔۔ بے صبری سے اسے فارس کے میسیج کا انتظار تھا ۔۔ بریرہ شاہ آفندی بھی محبت مے پوری طرح شرابور ہو چکی تھی اس کے دل مے فارس کے لیے جو بھی فیلینگز تھی کم از کم وہ نفرت نہیں تھی ۔۔ ایک عجیب سی بیچینی تھی ۔۔اس کے دل کے ایک گوشے فارس کا نام چھپا ہوا تھا ۔۔۔رات کافی ہو چکی تھی اب اور انتظار کرنا بیوقوفی تھی ۔۔ نہ چاہتے ہوے بھی بریرہ کو آنکھ بند کرنا پڑا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔


امی یہ سب کیا ہے نکاح سادگی سے ہوگا یہ شادی کا جوڑا کس لیے ۔۔ مرش کوبےانتہا کوفت ہو رہی تھی سامنے لال رنگ کا جوڑا دیکھ کر جس پر بے حد نفیس کڑھایی اراستہ تھی ۔۔
مرش کیا ہو گیا ہے شادی کے دن ہر لڑکی کو یہ جوڑا پہننا ہوتا ہے وہ تو شکر ہے میں نے یہ پہلے سے خرید کر رکھا تھا ۔۔ فایزہ بیگم نے خوش ہوتے ہوے کہا ۔۔
امی آپ بھی نہ اور یہ سب مٹھایی وغیرہ کیا ضرورت تھی ان سب کی ۔۔ مرش کا بس نہیں چل رہا تھا ایک ایک چیز کو آگ لگا دے ۔۔
یہ سب رسم ہوتی ہے میری جان یہ دیکھو تمہارا ہاتھ کتنا سونہ لگ رہا ہے دلہنوں کے ہاتھ یوں خالی نہیں رہتے ۔۔ پالر جا کر اچھے سے تیار ہو کر آو ۔۔
امی پلیز میں ایسے ہی سہی ہوں اور رہی مہندی کی بات نمرہ سے لگوا لیتی ہوں لیکن پالر نہیں جاوں گی میں ۔۔۔ مرش ان سب سے جلد از جلد پیچھا چھڑوانا چاہا—!!
اتنی جلدی ان لوگوں نے نکاح کرنے کے لیے کہہ دیا ۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کیا کیا کروں ۔۔ فایزہ بیگم نے پریشان ہوتے ہوے کہا ۔۔
مجھے صرف آپ کی دعاییں چاہیے امی ۔۔ مرش کے آنسوں پلکوں کو بھگو رہے تھے ۔۔
میری دعایں تو صرف تمہارے لیے ہی ہے میری جان ۔۔ فایزہ بیگم نے مرش کو گلے لگاتے ہوے کہا ۔۔


یار قسم سے کیا غضب کا ڈھا رہا ہے آج نہ جانے کتنی بیچاری لڑکیوں کا دل توڑے گا تو !!! فارس ایک لگاتار دل کھول کر آہل کی تعریف کیے جا رہا تھا ۔۔
فارس صبح صبح ہی آہل کے کمرے مے آ دھمکا تھا ۔۔۔

ویسے ایک بات تو ہے تو مرش کے سامنے تو دل ہار بیٹھا تھا یے نہ ؟؟ فارس کے سوالات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے !!! آہل نے صاف انکار کیا ۔۔
چلنا ہے یہ نہیں آہل ریسیٹ واچ ہاتھ مے ڈالتے ہوے کہا ۔۔
وہ دونوں نیچے آ چکے تھے جہاں پر جاوید شاہ آفندی مریم اور بریرہ پہلے سے ہی منتظر تھے ۔۔
ایک لمحے کے لیے فارس کی گستاخ نظر بریرہ کی جانب اٹھی جو اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔ فارس نے جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلا ۔۔

آہل میری دعا ہے تم اپنی زندگی مے ہمیشہ شاد آباد رہو بیٹا ۔۔ مریم بیگم نم آنکھوں سے آہل ڈھیر ساری دعاوں سے نواز رہی تھی ۔۔
تھینکس !! آہل نے انہیں نظر انداز کرتے ہوے تھینکس لفظ ادا کیا ۔۔
بھایی آپ تو بہت پیارے لگ رہے ہے میں بہت خوش ہوں ۔۔ بریرہ نے آہل سے گلے لگتے ہوے کہا ۔۔
میری جان آپ بھی بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔ آہل نے مسکراتے ہوے کہا ۔۔


مرش آپ کی طبعیت خراب ہو جاے گی بیٹا ۔۔ اتنا کیوں رو رہی ہے ۔۔ سرفراز صاحب نے مرش کے بال کو سہلاتے ہوے کہا ۔۔
مرش ایک گھنٹے سے مسلسل روے جا رہی تھی ۔۔ اس کے دل مے لاوے اٹھ رہے تھے لیکن یے مجبوری بھی نہ انسان سے کیا کیا کرواتی ہے ۔۔
بابا ۔۔ مرش اور پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔
مرش روتے نہیں ہے بیٹا ایک نہ ایک دن ہر لڑکی کو جانا ہوتا ہے ۔
۔سرفراز صاحب نے مرش کے ماتھے پر ممتا بھرا بوسہ ثبت کر کے کمرے سے جا چکے تھے کیوں کی مرش کے آنسوں ان کی برداشت سے باہر تھے ۔۔

مرش بہت پیاری لگ رہی ہو کسی نظر نہ لگے تمہیں ۔۔ سدرا جو کی مرش کی پڑوسی تھی اور ایک طرف سے مرش کی فرینڈ بھی ۔۔
شکریہ سدرہ ۔۔ مرش نے زبردستی مسکراتے ہوے کہا ۔۔ آنکھوں میں اداسی صاف نمایاں تھی لب خشک ہو چکے تھے ایسا لگ رہا تھا کچھ پل مے اس کی سانس تھمنے والی ہے ۔۔ نہ چاہتے ہوے بھی مرش کو خوبصورت عروسی جوڑا زیب تن کرنا پڑا لایٹ میکپ چہرے کو چار چاند لگا رہے تھے ۔۔


آہل شاہ آفندی کا آج پہلا قدم تھا اس گھر مے اس نے کبھی سوچا تک نہیں تھا زندگی مے ایسا بھی موڑ آے گا ۔۔سرفراز صاحب نے خاطر توازو میں کویی کسر نہیں چھوڑیی تھی ۔۔ لان مے نکاح کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔
نکاح کا وقت ہو چکا تھا ۔۔ قاضی صاحب تشریف لا چکے تھے ۔۔
آہل کے دل مے ایک عجیب سی خواہش پیدا ہو رہی تھی جان مرش کے دیدار کے لیے ۔۔
مرش نکاح کا وقت ہو گیا ہے ۔۔ فایزہ بیگم نے اندر آتے ہوے کہا ۔۔ مرش کا دل بیٹھ سا گیا تھا اس کے دل پر قیامت گزر رہی تھی ۔۔کان کی لویں تک سرخ ہو گیی تھی ۔۔ آخر وہ گھڑی آ ہی چکی تھی ۔۔ دو تین لڑکیاں مرش کو لے کر کمرے سے باہر آیی ۔۔ آہل کی نظر یکایک سامنے کی جانب اٹھی آہل شاہ آفندی نظریں پھیرنا بھول گیا تھا ۔۔ مرش کو لے جا کر آہل کے قریب بیٹھا دیا گیا تھا ؟۔ چاند سورج کی جوڑی لگ رہی تھی ان دونوں کی ہر کسی کی نظروں مے ستایش تھی ۔۔ مرش نظریں مسلسل زمین پر ٹکی ہویی تھی یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ کیوں صرف میرے ساتھ ہی کیوں ؟؟ مرش کا دل دوہیاں مانگ رہا تھا ۔
اب قاضی صاحب سب کچھ بولنے کے بعد مرش کی جانب متوجہ ہوے ۔۔
کیا آپ کو آہل شاہ آفندی اپنے نکاح مے قبول ہے ؟؟
کیا آپ کو یے نکاح قبول ہے ؟؟
مرش کی خاموشی وہاں کھڑے نفوس کو پریشان کر رہی تھی ۔۔

قبول ہے !!!!!! ۔یے تھا قدرت کا فیصلہ شاید اسے ہی قسمت کہتے ہیں ۔۔
چند ہی لمحے مے مرش سرفراز احمد سے مرش آہل شاہ آفندی بن چکی تھی ۔۔۔
اب قاضی صاحب مکمل طور پر آہل کی جانب متوجہ ہوے ۔
۔ مرش ولد سرفراز احمد کیا آپ کو اپنے نکاح مے قبول ہے ؟
قبول ہے !! آہل نے مکمل طور پر ہاں کہہ دیا تھا ۔