Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 19
Rate this Novel
Episode 19
علی جا چکا تھا لیکن آہل کو سخت کوفت ہو رہی تھی آفس مے بریرہ کو کالج سے پک کرنے کے بعد وہ سیدھا گھر آ گیا تھا ۔۔
علی شہرز کے بولے گیے الفاظ ابھی بھی آہل کی تن بدن مے آگ لگا رہے تھے بیڈ پر لیٹ کر آہل مسلسل اسی کو سوچے جا رہا تھا ۔۔
شدید غصے مے سڑھیاں اتر کر آہل کھانے کی ٹیبل پر پہنچا ۔۔
بابا جا چکے ؟؟ آہل نے چییر پر بیٹھتے ہوے مریم بیگم کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے پوے پوچھا ۔۔۔
ہاں دوپہر کے وقت کی فلایٹ تھی ۔۔ مریم بیگم نے بڑے تحمل سے جواب دیا ۔۔
اچھا ۔۔ آہل نے دھیمے سے جواب دے کر کھانے مے مشغول ہو گیا ۔۔
آہل ؟ مریم بیگم نے کچھ جھجکتے ہوے آہل کو پکارا ۔۔
ہوں ! آہل ان کے چہرے پر بغیر دیکھے جواب دیا ۔۔
بیٹا میرے خیال سے تمہیں مرش کو ساتھ لے کر شاپنگ کرنے جانا چاہیے ۔۔ مریم بیگم کو تو بلکل امید نہیں تھی آہل جانے کے لیے کبھی تیار ہوگا ۔۔
آہل کے ہونٹوں کے کونے مے ایک بے حد شریر مسکراہٹ رینگ گیی ۔۔
نہیں آپ چلی جایں نہ ساتھ میرے جانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔ آہل کی ایکٹنگ کمال کی تھی ۔
نہیں بیٹا تم جاو گے زیادہ سہی ہوگا ۔۔ مریم بیگم نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔
اوکے ۔۔ آہل نے بڑے اطمنان سے جواب دیا وہ کسی کے بھی سامنے اپنا حال دل نہیں کھولنا چاہتا تھا ۔۔
میں فایزہ سے بات کر چکی ہوں کل تم جا کر مرش کو پک کر لینا ۔۔
ہاں ضرور ۔۔ آہل اپنی بے جا !سکراہٹ کو دباتے ہوے کہا ۔۔
امی میرے جانے کی کیا ضرورت ہے آپ پلیز انہیں انکار کر دیں میں نہیں جاوں گی ۔۔۔مرش نے جب سنا تھا کل اس کو اپنے قریبی دشمن کے ساتھ جانا ہے تب سے گھر مے واویلا مچا کر رکھا تھا ۔۔
مرش زبان دراضی بند کرو آخر تم اپنے شوہر کے ساتھ جا رہی ہوں تو مسلہ کیا ہے ہاں ۔۔فایزہ بیگم کو بے حد غصہ آ رہا تھا مرش کا اس طرح سے انکار کیا جانا ۔۔
امی ! مرش لاچار ہو گیی تھی اس کی بے بسی حد سے زیادہ بڑھ گیی تھی
بس ۔۔ اب مجھے کچھ نہیں سننا آخر کو میں انہیں زبان دے چکی ہوں ۔۔ فایزہ بیگم اب کمرے سے جا چکی تھی ۔۔
کیوں آہل شاہ آفندی کیوں اتنا مجبور کرتے ہو مجھے آخر کیوں میں تمہارے سامنے ہار جاتی ہوں ۔۔ مرش کی حلق مے آنسوں کا غولہ کب کا اٹکا ہوا تھا ۔۔
میں تم سے ڈرتی نہیں ہوں تم ہوتے کون ہو میں بھی مرش ہوں بہت ہو چکی تمہاری مرضی اب نہیں ۔۔مرش خود سے عہد کر چکی تھی اب اسے مضبوط بننا ہے وہ اب آہل شاہ آفندی کے سامنے کبھی نہیں ہارے گی ۔۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر بریرہ کے فون پر مسلسل فارس کالنگ رنگ ہو رہی تھی لیکن بریرہ بجتی رنگ ٹون کو لگاتار نظرانداز کیے جا رہی تھی ۔۔
کس کی کال ہے ؟؟ آہل نے بریرہ کی گھبرایی ہویی حالت دیکھ کر پوچھا ۔۔
وہ کالج سے ہے بھایی ۔۔ بریرہ نے صاف جھوٹ بولا ۔۔
تو پک کرو ۔۔ آہل نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوے کہا ۔۔
بعد مے کر لوں گی بھایی ۔۔ بریرہ زبردستی مسکراہٹ کے ساتھ بولی ۔۔لیکن وہ سہی معانوں مے خوفزدہ ہو گیی تھی ۔۔
اوکے میں باہر ویٹ کر رہا ہوں ۔۔ آہل اپنا فون ہاتھ مے لیتے ہوے باہر جا چکا تھا ۔۔بریرہ بھی اسی کے ہمراہ چلتی ہویی گاڑی مے آ بیٹھی ۔۔
بریرہ کو کالج ڈراپ کرنے کے بعد آہل آفس آ چکا تھا ۔۔ جہاں پر فارس پہلے سے ہی موجود تھا ۔۔
گڈ مارنگ ۔فارس آہل کو دیکھ کر مسکراتے ہوے بولا ۔۔
گڈ مارنگ ۔۔ آہل نے بھی ایک فریش مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ۔۔
آہل فارس کو کب سے نوٹ کر رہا تھا وہ مسلسل کسی کو کال ملاے جا رہا تھا۔۔
لگتا ہے بھابھی ناراض ہے ۔۔ آہل کو یقین تھا فارس اس وقت کسی کو نہیں بلکی اپنی گرل فرینڈ کو کال ملا رہا ہے ۔۔
بھابھی !! نہیں یار ۔۔ فارس نے کھسیاہٹ بھری مسکراہٹ کے ساتھ نفی مے سر ہلایا ۔۔
اب بتا بھی دے کون ہے وہ بد نصیب ۔آہل کی آنکھوں مے شرارت صاف نمایاں تھی ۔۔
ک۔ ۔کک کویی نہیں یار ۔۔فارس نے نظریں چراتے ہوے جواب دیا ۔۔
میں دیکھ رہا ہوں کچھ دن سے تو بدلہ بدلہ سہ دکھایی دے رہا ہے آہل جانچتی نظروں سے فارس کو دیکھ کر بولا ۔۔
بدلہ ؟ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے تجھے خواہ مخواہ لگ رہا ہے ۔۔فارس صاف مکر گیا تھا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے مان لیتا ہوں لیکن اس معاملے مے تیرے اوپر بھروسہ کرنا مشکل ہے ۔۔
آہل نے ہنستے ہوے ایک نظر ریسٹ واچ پر نظریں ڈالی ۔۔
اب مجھے کہیں جانا ہے ۔۔ آہل نے اٹھتے ہوے کہا ۔۔
لیکن میٹینگ ہے یار تو کہاں جا رہا ہے ۔۔فارس نے حیرت سے پوچھا ۔۔
تیری بھابھی کو شاپنگ کرانی ہے ۔۔ آہل نے آنکھ مارتے ہوے کہا ۔۔
اوہ ۔۔ پھر تو جا ۔۔ فارس نے شریر لہجے مے ہنستے ہوے کہا ۔۔
مرش تیار ہو جاو ۔آہل دس منٹ مے آ رہا ہے ۔۔فایزہ بیگم مرش کے کمرے مے آتے ہوے اپنا حکم صادر کی ۔۔
میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں میں نہیں جاوں گی ۔۔ مرش نے بھی آج ضد باندھ لی تھی نہ جانے کی ۔۔
میں کچھ نہیں سننا چاہتی آہل آ رہا ہے تیار ہو باہر آو ۔۔ فایزہ بیگم غصے سے کہتی پ
ہویی باہر جا چکی تھی ۔۔
اسلام علیکم آنٹی ۔۔ آہل نے مسکراتے ہوے فایزہ بیگم کو سلام کیا ۔۔
وعلیکم اسلام بیٹا ۔۔ فایزہ کو بے حد خوشی ہو رہی تھی اپنی بیٹی کا اتنا شریف شریک حیات دیکھ کر ۔۔
کیسے ہو بیٹا ۔۔؟؟ فایزہ بیگم نے مسرت بھرے لہجے مے پوچھا ۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ۔۔ آہل کے چہرے پر اس وقت اتنی شریف قسم کی مسکراہٹ تھی جیسے اس سے زیادہ شریف انسان اس دنیا مے ہے ہی نہیں ۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں ۔۔ فایزہ بیگم یہاں وہاں کی باتوں مے آہل کو لگاے ہویی تھی ۔۔
لیکن آہل کی نظر یہاں وہاں بھٹک رہی تھی دشمن جاں کا دور دور تک کویی اتہ پتہ ہی نہیں تھا ۔۔
تم بیٹھو بیٹا میں چاے لاتی ہوں ۔۔فایزہ بیگم باورچی خانے مے جا چکی تھی ۔۔
جی ضرور ۔۔ آہل نے خوش ہوتے ہوے جواب دیا ۔۔ فایزہ بیگم جا چکی تھی ۔۔موقع پاتے ہی آہل نے مرش کے کمرے کی راہ لی ۔۔آہل کمرے کے اندر آچکا تھا اس نے یہاں وہاں نظریں دوڑا کر مرش کو ڈھونڈنہ چاہا لیکن مرش اس کی نظروں سے اوجھل تھی ۔۔
بالکنی کی کھڑکی سے خوبصورت نیلے رنگ کا دوپٹہ لہرا رہا تھا آہل کی نظر اچانک اس خوبصورت دوپٹے پر پڑی ۔۔ ایک بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رقص کرنے لگی ۔۔ ہولے ہولے قدم بڑھا کر آہل مرش کے عین پیچھے جا کھڑا ہوا ۔۔۔لیکن مرش آس پاس سے بے خبر ریلینگ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اوپر اڑتے پرندے کو دیکھنے کی جوڑ توڑ کوشش کر رہی تھی ۔۔ چند لمحوں مے اسے محسوس ہوا اس کی کمر مے کسی کا مضبوط ہاتھ پوری طرح گھیرا بنایا ہوا تھا ۔۔ آہل شاہ آفندی آج خود پے کو قابو نہیں رکھ پایا تھا۔۔
دشمن جاں کا اتنا دلکش روپ دیکھ کر آہل کے جزبات مچل اٹھے تھے ۔۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھ مرش کی کمر مے ڈال کر ایک جھٹکے سے خود سے قریب کیا ۔۔ مرش کی ہوا اڑتی زلفوں کو آہل دھیمے دھیمے کانوں کے پیچھا کرتا ہوا اس کی نرم گزار گردن پر اپنے لب رکھ دیے ۔۔
مرش کو چار سو چالیس واٹ کا کرینٹ لگا تھا ۔۔ اس نے ایک جھٹکے سے چہرہ آہل کی طرف گھومایا ۔۔۔
آہل یے کیا کر رہے ہو ؟ مرش یکدم گڑبڑا گیی تھی ۔۔
رومینس ۔ آہل کو بے حد مزا آ رہا تھا مرش کی ایسی حالت دیکھ کر ۔۔آہل نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ریلنگ پر رکھ دیا تھا جس سے مرش اس کے گھیرے مے آ چکی تھی ۔۔
دیکھو دور رہو مجھ سے ۔۔ مرش کا چہرہ مارے شرم کے لال ہو چکا تھا ۔۔
دور ہی تو نہیں رہ سکتا مایی ڈول ۔۔ آہل کی گرم سانس مرش بہ خوبی محسوس کر سکتی تھی ۔۔
اور جہاں معاملہ دل کا ہو پھر دور رہنے لی قربت کم از کم میں تو برداشت نہیں کر سکتا ۔۔ آہل مرش کی حالت دیکھ مر محفوظ ہو رہا تھا اس کا مقصد صرف مرش کو تنگ کرنا تھا ۔۔۔
آہل کے اس قسم کے الفاظ سنتے ہی مرش کی کان کی لویں تک سرخ ہو گیی تھی ۔
آہل امی آ جایں گی وہ کیا سوچیں گی ۔۔ مرش کو ڈر تھا کہیں فایزہ بیگم نہ آ جاے ۔۔
آنے دو قانونی اور شرعی طور پر تم میرے نکاح مے ہو جان آہل ۔۔ آہل نے مسکراتے ہوے ایک بار پھر سے اس کی کمر مے ہاتھ ڈال کر خود سے قریب کر لیا تھا ۔۔ جس سے مرش اس کے چوڑے سینے سے آ لگی تھی۔۔
آہل پلیز جاو یہاں سے ۔۔مرش نے گھنی پلکیں آہل کی جانب اٹھاتے ہوے کہا ۔۔
تم ساتھ چل رہی ہو یہ نہیں ؟؟ آہل نے تھوڑا سختی سے پوچھا ۔۔
نہیں بلکل نہیں میں نہیں جانا چاہتی ۔۔مرش بچوں کی طرح ضد کرتے ہوے بولی ۔۔
ٹھیک ہے پھر آج کی رات ہم ایسے ہی گزاریں گے میں تمہیں آزاد نہیں کرنے والا ویسے اچھا ہے آج پوری رات رومینس کرنے مے گزار دیں گے ۔۔ آہل کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھی اس نے ایسا تیر مارا تھا جو سیدھا نشانے پر جا کر لگا تھا ۔۔
ن۔ ۔۔ن۔ ۔نہیں ۔۔نہیں۔ ۔میں جاوں گی میں کیوں نہیں جاوں گی میں بلکل تیار ہوں ۔۔
مرش نے اٹک اٹک کر بہ بمشکل لفظ ادا کیے ۔۔ کیوں کی وہ جانتی تھی آہل شاہ آفندی جو کہتا ہے وہی کرتا ہے آہل کی بات سن کر مرش کو جھرجھری سی آ گیی تھی ۔۔
اسے کہتے ہے فرمابردار بیوی ۔۔ آہل مرش کا گال تھپتھپا کر کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔۔
پیچھے مرش کے آنسوں اس کی حیثیت اس کی انہ سب دم توڑ چکی تھی ۔۔ یہ اللہ یہ شخص میرے ہی نصیب مے کیوں لکھا تھا ایسا کون سا گناہ کیا ہے میں نے جو مجھے اتنی بڑی سزا مل رہی ہے ۔۔ مرش کی سسکیاں شروع ہو چکی تھی ۔ لیکن اسے ہمت نہیں ہارنی تھی وہ اس شخص کا برابری کا مقابلہ کرے گی ۔ ۔۔ مرش طے کر چکی تھی اب وہ اس شخص کے سامنے ڈٹ کر رہے گی ۔۔ لیکن ہمیشہ ناکامی اس کا منھ چڑاتی تھی ۔۔
بلیک شال شانوں کے ارد گرد پھیلاے مردہ جسم کے ساتھ مرش کمرے سے باہر آیی ۔۔ جہاں آہل فایزہ بیگم کو پوری طرح اپنے شیشے مے اتار چکا تھا ۔۔۔ فایزہ بیگم نہ جانے آہل کو کیوں متاثر کر کر رہی تھی اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا وہ کسی کے سامنے نہیں اپنی ماں کے سامنے بیٹھا ہو فایزہ بیگم کا ایک ایک نقش اس کی ماں سے ملتا تھا ۔۔
مرش کو دیکھتی ہی فایزہ بیگم چل کر اس کے قریب آیی ۔۔ کتنا لیٹ کر دی وہ بیچارہ کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا ۔۔ فایزہ بیگم نے ڈپٹتے ہوے کہا ۔۔
آ تو گیی ہوں نہ امی ۔۔ مرش اپنے نرم نرم آنسوں کو روکتے ہوے بولی ۔۔
اب ٹھیک ہے جاو ۔۔
اچھا آنٹی اب شام مے ملاقات ہوتی ہے ۔۔آہل شاہ آفندی کے اتنے روپ دیکھ کر مرش کو شدید حیرت کا جھٹکا لگ رہا تھا ۔۔
اللہ تم دونوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھے فایزہ بیگم نے دل سے دعایں دیتے ہوے کہا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ملا تو خدا کا سہارا مل گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غم زدہ ۔۔ غم زدہ دل یے تھا غم زدہ ۔۔
گاڑی کے اندر فل میوزک چل رہی تھی ۔۔ مرش کا سر چکرانے لگا تھا اسے بے چڑ ہو رہی تھی ایسے گانوں سے ۔۔۔
آہل پلیز یے سونگ بند کرو ۔۔
کیوں تمہیں نہیں پسند کیا ؟؟
ایسے چیپ قسم کے سونگ تم جیسے لفنگے ہی سنتے ہو ۔۔۔
ہا ۔ہا ہا تم مجھے لفنگا کہہ رہی ہو یہ سونگ کو ؟؟
تم بند کر رہے ہو نہیں ۔۔
یار کیا ہو گیا اتنا رومینٹک سونگ ہے ۔۔
بدتمیز ۔
اوکے کر دیتا ہوں بند آہل نے ہاتھ بڑھا کر آف کی بٹن دبا دی ۔۔
شہر کے سب سے مہنگے ترین مال کے سامنے آہل شاہ آفندی کی بلیک چمچماتی ہویی گاڑی آ کر رکی ۔۔ وہ دونوں گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آ چکے تھے ۔۔
مال کے اندر قدم رکھتے ہی مرش کو تھوڑا عجیب سا محسوس ہو رہا تھا زندگی میں پہلی بار وہ اتنے مہنگے ترین مال میں آیی تھی ۔۔
میم آپ کو کس کلر کا لہنگا چاہیے ۔۔۔
بلیک کومبینیشن ریڈ ۔۔۔سوال مرش سے کیا گیا تھا لیکن جواب آہل کی طرف سے آیا تھا ۔۔
نہیں مجھے بلیک کلر نہیں پسند ۔۔ مرش نے آہل کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوے کہا ۔۔
میم آپ اتنی پیاری ہے آپ پر ہر کلر جچے گا ۔۔ اس لڑکے نے مرش کی تعریف دبے لفظوں میں کی ایک منٹ میں ابھی آپ کو دکھاتا ہوں ۔۔ وہ لڑکا اٹھ کر جا چکا تھا ۔۔۔
اسی لیے تو یے معصوم بچہ تمہارے اوپر دل ہار بیٹھا تھا ۔۔ آہل نے دھیرے سے مرش کے کان میں سرگوشی کی تھا ۔۔
چپ رہو سمجھے ۔۔مرش آہل سے دو کوس دور جا کر بیٹھ چکی تھی ۔۔
میم یے کلر دیکھے ۔۔ اس لڑکے نے مرش کے سامنے رنگ برنگے کلر لا کر رکھ دیے تھے ۔۔ جن کی پرایز مرش سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔
یے کلر اچھا ہے ۔۔ آہل اورینج کلر کا خوبصورت دوپٹہ دیکھتے ہوے بولا ۔۔ اسے عورتوں کی شاپنگ کا تو دور دور تک کویی آیڈیا نہیں تھا لیکن مرش کو چھیڑنے میں اسے الگ ہی مزا آتا تھا ۔۔۔
نہیں ۔۔ مجھے نہیں پسند ۔۔ مرش یکدم بول اٹھی میں آہل شاہ آفندی کے پسند کے کپڑے پہنوں گی ۔۔ کبھی نہیں ۔۔ ابھی میرے اتنے برے دن نہیں آے مرش نے ایک نظر آہل کو دیکھ کر دل ہی دل میں سوچا ۔۔
ٹھیک ہے اب میں کچھ نہیں بولتا جو تمہیں اچھا لگے وہی لو اب خوش ۔۔ آہل بے حد غصہ آ رہا تھا سایڈ میں رکھی ایک چیر پر بیٹھ کر آہل موبایل چلانے میں مصروف ہو گیا ۔۔
میم یے دیکھے یے بہت خوبصورت ہے ابھی اس کی ایک ہی پیس آیی ہے ۔۔ نیوی بلو کلر کا خوبصورت لہنگا جس پر بے حد نفیس کڑھایی بنی ہویی تھی ۔۔
ہاں یے تو بہت خوبصورت ہے ۔۔ مرش کو ایک نظر میں ہی وہ لہنگا دل و جان سے پسند آ گیا تھا ۔۔
اسے پیک کر دیں ۔۔ مرش نے لہنگے کو پیک کرنے کا آڈر دیا ۔۔
دکھاو ۔۔ آہل جن کی طرح فورن حاضر ہوا ۔۔۔ واہ دیٹیس بیوٹیفل ایسا لگتا ہے یے تمہارے لیے ہی بنا ہے ۔۔ آہل کو بھی واقعی وہ لہنگا کافی پسند آیا تھا ۔۔
نہیں ۔۔نہیں مجھے نہیں پسند اس میں ایسی کویی بات ہی نہیں جو پسند کی جاے ۔۔ مرش آہل کی پسند کو کبھی ترجیح نہیں دے سکتی تھی ۔۔
بٹ میم ابھی تو آپ کو یے کافی پسند تھا ۔۔ اس لڑکے نے تھوڑا حیرت سے منھ بناتے ہوے کہا ۔۔
ہاں تو اب نہیں پسند نہ تمہیں سمجھ میں نہیں آ رہا ۔۔ مرش نے جلدی جلدی اپنی بات مکمل کی ۔۔
آہل ایک ٹک مرش کی بے جا حرکتوں کو نوٹس کر رہا تھا ۔۔
پیک کرو اسے ہمیں یہی چاہیے ۔۔ آہل نے اس لڑکے کو آڈر دے کر مرش کے چہرے کو بغور دیکھا ۔۔
مایی لیٹل ڈول ۔۔ جو چیز تمہارے شوہر کو پسند آے گی وہی چیز تمہیں پہنی ہے یے بات اچھی طرح سمجھ جاو ۔۔ آہل نے ایک ایک لفظ چباتے ہوے ادا کیا ۔۔
کریڈیٹ کارڈ سے بل پے کرنے کے بعد آہل مرش کی کلایی دبوچتا دوسری سایڈ لے گیا ۔۔
تمہیں جو چیز چاہیے جلدی خریدو ۔۔ کیوں مجھے سخت بوریت ہو رہی ہے یہاں ۔۔
مجھے کچھ نہیں چاہیے گھر چلو ۔۔
زیادہ نکھرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھی ۔۔ مرش آہل کو ایک بار پھر سے غصہ دلا رہی تھی ۔۔
میں نے کہا نہ مجھے کچھ نہیں چاہیے تمہیں سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا ۔۔مرش نے بھی اب تیز آواز میں بولنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
مطلب تمہارے نکھرے ابھی ختم نہیں ہونے والے ۔۔
تو نہ اٹھاو نکھرے کہے تو رہی ہوں گھر پہنچا دو آخر تم خود کو سمجھتے کیا ہو میں تم سے نہیں ڈرتی آہل شاہ آفندی تم بھی اس زمین پر رہنے والے ایک عام انسان ہو کویی خدا نہیں جس سے میں ڈروں ۔۔ مرش نے حساب چکانے میں کویی کسر نہیں چھوڑی ۔۔
آسمانی خدا تو نہیں ہوں لیکن میری جان تمہارا مجازی خدا ضرور ہوں ۔۔ آہل کا غصہ اس وقت کسی بارود سے کم نہیں تھا ۔۔
زبردستی مرش کو وہ ساری چیزے خریدنی پڑی جس کی اسے ضرورت تک نہیں تھی ۔۔ اللہ اللہ کر کے شاپنگ مکمل ہویی مرش کے اوپر قیامت گزر رہی تھی دل کر تھا اس شخص چھپ کر کسی ایسی دنیا میں چلی جاے جہاں پر اس کا نام و نشان نہ ہو ۔۔
گاڑی میں بیٹھنا یہ اٹھا کر بیٹھاوں ۔۔۔ مرش کو اس طرح کھڑے دیکھ کر آہل غصے سے بولا ۔۔
ایک لمحے کے اندر مرش گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔۔
تمہاری بدتمیزیاں دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے مجھے لگتا ہے اس کا علاج کرنا پڑے گا مجھے ۔۔ آہل گاڑی کو گھماتے ہوے نشتر بھی چلاے جا رہا تھا ۔۔
انسان کو پہلے اپنا آپ دیکھنا چاہیے وہ کس حد تک گر چکا ہے ۔۔ مرش شیشے کے باہر اڑتے پرندے کو دیکھتے ہوے بولی ۔۔
اپنی حد کا تمہیں اندازہ پونا چاہے لڑکی ایک بیوی کا شوہر کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہیے ذرا سہ بھی اندازہ ہے تمہیں ۔۔ آہل سوال جواب کرنے والی عورتیں سخت نہ پسند تھی ۔۔
شوہر کا سلوک جیسا بھی رپے وہ سہی ہے لیکن بیوی کا سلوک سب سے اچھا ہونا چاہیے ایک بات میری یاد رکھنا آہل شاہ آفندی مجھ سے اچھے کی توقع کبھی مت رکھنا تم جیسے لوگوں پر میں لعنت بھیجتی ہوں ۔۔ ایسے شوہر سے اچھا میں مر جانا زیادہ پسند کروں گی ۔۔ مرش لب و لہجا کسی تیر سے کم نہیں تھا ۔۔
اپنی بکواس بند کرو مرش میں نہیں چاہتا ایک بار پھر سے میرا ہاتھ اٹھے ۔۔۔ آہل کی آنکھیں غصے کی وجہ سے شدید لال ہو چکی تھی ۔۔
تمہاری جیسی لڑکیاں میرے قدموں کی دھول بنی رہتی ہے ۔۔ آہل نے اپنے بے قابو پوتے غصے کو کنٹرول کرتے ہوے کہا ۔۔
تو میری زندگی کیوں برباد کی تم نے آخر کو میں ہی کیوں ملی تھی تمہیں انہی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ۔۔۔ مرش کا آنسوں ایک بار پھر سے زور شور سے رواں ہو رہے تھے ۔۔
مرش کی بات سن کر آہل کے لبوں پر ایک بے حد شریر مسکراہٹ کھیلنے لگی تھی ۔۔
یہی تو مسلہ ہے میری جان جو بات تمہارے اندر ہے جو چیز تم تم مجھے دے سکتی ہو وہ کویی دوسری لڑکی نہیں دے سکتی ۔۔تین دن بعد ہماری رخصتی ہے پھر بتاوں گا تم مجھے کیا کیا دے سکتی ہو ۔۔ کتنی محبت کتنی اپنایت سب کچھ ۔۔۔
آہل کی بات سن کر مرش نے مزید بولنے سے گریز کیا ۔۔
گاڑی گھر کے باہر آ رکی تھی مرش ایک بھی لمحہ زایا کیے بغیر گاڑی سے نیچے اتری سارے شاپر کو ہاتھ میں تھامے ایک لمحے میں غایب ہو چکی تھی ۔۔ جیسے وہ آزاد ہو گیی ہو کسی کی قید سے کسی کے پنجرے سے ۔۔
آہل نے گاڑی روڈ پر رواں دواں تھی ۔۔ بریرہ کو کالج سے پک کرنے کا آدر فارس کو دے کر آیا تھا ۔۔ اب گھر جا کر اسے دشمن جاں کو کال بھی کرنی تھی ۔۔
