50.5K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا سب کو شدت سے انتظار تھا ۔۔
ثمرہ ایک گلاس پانی دے دو پلیز ۔۔ سامنے بیٹھی ثمرہ کو مرش نے دیکھتے ہوے کہا ۔۔
ایک منٹ میں لے کر آتی ہوں ۔۔ ثمرہ کمرے سے جا چکی تھی ۔۔
واو مرش کیا روپ آیا ہے بیٹیفل ۔۔ زارا دل کھول کی مرش کی تعریف کی ۔۔
تھینکس ۔مرش نے زبردستی مسکراتے ہوے کہا ۔۔ ایک عجیب سے بے چینی تھی اس کے دل اس کی دلی کیفیت کو کویی نہیں سمجھ سکتا تھا ۔۔ زندگی نے ایک الگ راستہ اختیار کر لیا تھا ایک ایسے امتحان میں ڈال دیا تھا جس کے بارے میں اس نے کبھی تصور ہی نہیں کیا تھا ۔۔
مرش پالر جانے سے صاف انکار کر رہی تھی وہ آخر کس لیے سجتی سنورتی اس شخص کے لیے جس سے اسے پوری کاینات میں سب سے زیادہ نفرت تھی ۔۔
مرش کو مکممل طور پر تیار کر دیا گیا تھا ۔۔ لایٹ میکپ اس نے اپنی ضد کی وجہ سے کروایا تھا ۔۔
یے لو پانی ۔۔ ثمرہ پانی کا گلاس لے کر حاضر تھی ۔۔
شکریہ ۔۔ مرش کا حلق تک خشک ہو گیا تھا پانی کا گلاس اس نے اپنے لبوں سے لگا لیا تھا ۔۔ جیسے آج کے بعد اسے کبھی نصیب نہیں ہوگا ۔۔
آج تو آہل شاہ آفندی کی خیر نہیں تمہارا حسن دیکھ کر تو اس نے ویسے بھی اپنے ہوش و ہواس کھو دینا ہے ۔۔ اریشہ نے شرارت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
اللہ کرے مر ہی جاے ۔۔۔ مرش کے دل نے شدت سے دعا کی ۔۔
یار تم دونوں کی جوڑی کمال کی میں تو سچ کہہ رہی کتنے لوگوں نے دیکھ کر جل کر راکھ ہو جانا ہے ۔۔ ثمرہ نے تککہ لگایا ۔۔
اللہ کرے تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رہے ۔۔ زارا نے مسکراتے ہوے مرش کو دل سے دعا کی تھی ۔۔۔

ارے لڑکیوں اب جلدی نیچے مرش کو لے کر نیچے آو ۔۔
آفندی ہاوس سے مہمان کب کے آ چکے ہیں ۔۔فایزہ بیگم خوشی کی کویی انتہا نہیں تھی آج وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو جایں گی ۔۔
آنٹی بس آ رہے ہے پانچ منٹ ۔۔ جواب اریشہ کی طرف آیا ۔۔
جلدی کرو بیٹا سارے مہمان آ چکے ہیں ۔۔۔ فایزہ بیگم جا چکی تھی ۔۔
مرش کے آنسوں اپنی پوری روانی کے ساتھ نکل رہے تھے یے تھی اس کی زندگی اتنا بے بس کر دیا گیا تھا اسے اپنے حق کے لیے بھی آواز نہیں اٹھا سکتی تھی اتنی مجبور کر دیا گیا تھا ۔۔۔

بہت ہی خوبصورت انتظام لان میں کیا گیا تھا روشنی کا چوکا چوند رنگ برنگے آنچل مہمانوں کی گج مج قہقہوں کا شور آج کی رات چاند بھی آپنی پوری آبتاب سے چمک رہا تھا ۔۔ آہل کی نظر مسلسل سامنے اٹھ رہی تھی دشمن جاں کے دیدار کے لیے لیکن ابھی اس کی خواہش پورے ہونے تھوڑا اور وقت لگنا تھا ۔۔
میں سوچ رہا ہوں میں کب دلہا بنوں گا کب آیں گے میرے اچھے دن ۔۔ فارس آہل کو چیھڑنے کے لیے مسکراتا ہوا بولا ۔۔۔
کوشش میں لگا رہے ہو سکتا ہے تیرے بھی دن قریب ہی ہو ۔۔ آہل نے بھی دو بدو جواب دیا ۔۔
ہماری ایسی قسمت کہاں ہے ۔۔ فارس نے افسوس بھرے لہجے میں کہا ۔۔
اپنی خیر سوچ کر رکھے رکھنا میری جان مرش بھابھی نے آج تیرا وہ حشر کرنا ہے کی بس ۔۔۔ فارس کی آنکھوں میں شرارت کی چمک تھی ۔۔
بس دعا کر تو باقی سب اللہ مالک ہے ۔۔ آہل نے بِھی جواب دینے میں کویی کسر نہیں چھوڑی ۔۔

مرش گردن نیچے جھکاے ہولے ہولے سڑھیاں اتر رہی تھی ۔۔ خوبصورت آنچل اس کے اوپر پھیلاے زارا ثمرہ اریشہ اور سدرہ جو خود بھی بہت پر کشش دکھ رہی تھی ہولے سڑھیاں اتر رہی تھی ۔۔۔
یکا یک آہل شاہ آفندی کی نظر اس حسن کے پیکر پر پڑی تو پلٹنا بھول گیی ۔۔
کمال ۔۔ فارس نے بھی مرش کی تعریف اپنے لفظوں میں کی ۔۔
مرش اسٹیج پر لا کر آہل کے پاس بیٹھا دیا گیا تھا ۔۔
بیٹیفل ۔۔وہاں پر موجود لوگ اپنی نظریں پھیرنا بھول گیے تھی واقعی رب نے ان دونوں کی جوڑی ہی کچھ ایسی بنایی تھی جس کی تعریف کیے بغیر کویی نہیں رہ سکتا تھا ۔۔ ایسا لگ رہا تھا ایک شہزادے کو جنت کی کویی حور مل گیی ہو ۔۔
مرش بہت بہت بہت مبارک ہو ۔۔بریرہ اسٹیج پر چھڑتے ہوے مرش کو گلے لگا کر خوب مبارک باد دی ۔۔۔ آج وہ بھی بہت خوش تھی اس کے اکلوتے بھایی کی شادی تھی وہ بھی اس کی اپنی سہیلی کے ساتھ ۔ ۔۔
مرش نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا ۔۔
باری باری سب نے دل کھول کی مبارک باد دی ۔۔۔ چاروں طرف لڑکیوں نے ان دو معصوم جوڑو کی گھیر کر رکھا تھا ہنسی مزاق قہقہے سن سن کر مرش کو ابکایی آنے لگی تھی دل کر سب کچھ تہس نہس کر دے اپنے پاس بیٹھے شخص کو جان سے مار دے مرش آہل ۔۔ یے وہ نام تھے جس کو سن کر مرش اپنے کان پر ہاتھ کر انسونہ کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

ہمیشہ خوش رہو بیٹا ہنستی مسکراتی رہو سدا سہاگن رہو ۔۔مریم بیگم نے بھی دل کھول کر مرش کو دعاوں سے نوازا ۔۔
آہل شاہ آفندی کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے کسی ریاست کا شہزاہ بیٹھا ہو ۔۔ لڑکیوں نے آہل کی تعریف کر کے تھکنے والی نہیں تھی ۔۔
مرش نے ایک بار بھی زحمت نہیں کی آہل شاہ آفندی پر نظر ڈالنے کی ۔۔خالی خالی نظروں سے ان ہنستے مسکراتے چہرے کو دیکھ رہی تھی کبھی وہ بھی یوں ہی ہنسا کرتی تھی لیکن اس ظالم شخص نے اس کی مسکراہٹ تک چھین لیا تھا کچھ نہیں بچا تھا اس کے پاس اپنا آپ تو کب کا مر چکا تھا ۔۔


فارس کیا کر رہے ہو اتنے مہمان ہے یہاں پر ۔۔۔ بریرہ نے گھبراتے ہوے کہا ۔۔
موقع ملتے ہی فارس نے بریرہ کو آڑے ہاتھوں لیا اس کی کلایی پکڑ کر ایک سایڈ لے گیا ۔۔ جہاں سے کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
آج تو تم مجھے پہچان ہی نہیں رہی ہو میں کب سے دیکھ رہا ہوں تم مجھے مسلسل اگنور کیے جا رہی ہو ۔۔۔ فارس نے اپنا دھکڑا سنایا ۔۔
اب میں سب کے سامنے آپ کو مسکرا مسکرا کر دیکھنے سے رہی فارس صاحب وقت کی نزاکت کو سمجھا کریں آپ ۔۔ بریرہ نے بڑی سہولت سے مسکراتے ہوے جواب دیا ۔۔
بریرہ میڈم محبت کرنے نڈر ہوتے ہے میری طرح ۔۔ فارس نے کالر جھاڑ کر خود کی تعریف کی ۔۔۔۔
اچھا جی آپ نڈر ہے ۔۔ بریرہ نے معصومیت بھرا سوال کیا ۔۔۔
بلکل ۔۔ فارس نے فورن ہاں میں گردن ہلایی ۔۔
فارس بھایی فارس وہ ہمیں ہی دیکھ رہے ہو وہ آ رہے ہے ۔۔۔بریرہ نے ہڑبڑاتے ہوے کہا سنجیدگی کا عکس صاف نمایاں تھا ۔۔
کیا !!!!! ماتھے پر پسینے کی بوندیں صاف چمک رہی تھی ۔۔ اب تو میں جان سے گیا ۔۔ فارس نے ڈرتے ڈرتے گردن پیچھے کی طرف گھمایی ۔۔
بریرہ کو اپنی ہنسی پر قابو کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔
دور دور تک آہل کی پرچھایی کا بھی نام و نشان نہیں تھا ۔۔ مطلب میں بیوقوف بنایا گیا ہوں ۔۔ فارس کے ذہن میں فورن خیال آیا ۔۔
ہا ۔۔ہا ۔۔۔۔۔ فارس صاحب آپ ڈر گیے کیا ۔۔ بریرہ کا قہقہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔
ایسی کویی بات نہیں ہیں ۔۔ اپنی بے عزتی برداشت کرنا تھوڑا مشکل ہو رہا تھا فارس کو ۔۔
مان لو تم ڈر گیے اب یوں ایکٹینگ کرنے سے تمہاری عزت تو واپس نہیں آ جانی ۔۔ہا۔۔۔ہا ہا! ۔۔
اچھا جی چلیں مان لیتا ہوں ڈر گیا میں اب ٹھیک ۔۔ فارس نے تھوڑا کھسیاتے ہوے کہا ۔۔
فارس اب مجھے جانے دو ۔۔ بریرہ نے التجا کیا ۔۔
اوکے جاو لیکن یاد رکھنا میں یہی پر ہوں اگنور کرنے کی کوشش بھی مت کرنا ۔۔ فارس نے تھوڑا پتھریلے انداز میں کہا ۔۔
اچھا بابا نہیں کرتی اگنور ۔۔ بریرہ مسکرا کی کہتی ہویی پھر سے ایک بار محفل کا حصہ بن گیی تھی ۔۔

رخصتی کا وقت ہو چکا تھا ۔۔ مرش کی آنسوں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔سرفراز صاحب کی آنکھوں سے بھی بیٹی کے لیے آنسوں نکل رہے تھے ۔۔ سب کی آنکھیں نم ہو گیی تھی ۔۔ مرش نہ تو گھر کی ہی لاڈلی تھی بلکی اپنے محلے کی بھی لاڈلی تھی ۔۔
بابا ۔۔۔ سرفراز صاحب کے گلے لگ کر اس کا پھوٹ پھوٹ کر رونا سب کی آنکھوں میں آنسوں لے آیا تھا ۔۔
بابا کی جان ہمیشہ خوش رہو ۔۔ سرفراز صاحب کی اب برداشت سے باہر تھا لیکن دنیا ک یہی دستور ہے بیٹیاں کتنی بھی لاڈلی ہو ایک نہ ایک دن تو انہیں پیا دیس جانا ہوتا ہے ۔۔۔
امی ۔۔۔ فایزہ بیگم بھی بیٹی کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔ اپنی لاڈلی کو غیروں کے ساتھ رخصت کرنا آسان بات نہیں ہوتی ۔۔۔۔
آہل چپ چاپ مرش مرش کے گرتے آنسوں دیکھ رہا تھا ۔۔اس وقت اسے شدت سے محسوس ہوا جیسے ان آنسوں کا زمیدار وہ خود ہے ۔۔
چلو میری جان ۔۔ مریم بیگم مرش کو اپنے ساتھ سمبھالتی ہویی گاڑی میں بیٹھایی اس سے پہلے کی وہ اور رو رو کر اپنی طبعیت خراب کر لیں ۔۔۔
آہل ہماری مرش کا بہت خیال رکھنا بیٹا ۔۔سرفراز صاحب آہل کے گلے لگتے ہوے بولے ۔۔۔
جی ضرور آج سے وہ میری زمیداری ہے آپ بے فکر رہے ۔۔۔ آہل نے تسلی بھرا جواب دیا ۔۔۔
باری باری سب کے گلے لگتے ہوے آہل بھی گاڑی کے اندر آ کر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
ڈرایو فارس کر رہا تھا ۔۔فرنٹ سیٹ پر آہل شاہ آفندی بیٹھا تھا ۔۔۔ پیچھے مرش اور اس کے ساتھ بریرہ بیٹھی تھی ۔۔۔

گاڑی آفندی ہاوس کے گیٹ کے سامنے آ کر رکی تھی ۔۔۔
مرش کا دل دھڑکنا بند گیا تھا جیسے اب وہ یہاں پر ہمیشہ کے لیے قید ہو جاے گی ۔۔
فوری طور پر دو ملازمایں حاضر ہویی آخر کو ان کے چھوٹے صاحب کی شادی تھی ۔۔ وہ دونوں مرش کا لہنگا نیچے سے پکڑی ہویی تھی بریرہ مرش کو اپنے ساتھ لیے اندر داخل ہویی ۔۔
آفندی ہاوس کی در و دیوار سے خوشیاں رقص کر رہی تھی ۔۔ جاوید صاحب کی خوشی سب سے بڑی تھی ۔۔ زندگی میں انہیں اتنی خوشی محسوس نہیں ہویی تھی جتنی آج ہو رہی تھی ۔۔
آج تمہارا اس گھر میں پہلا قدم ہے میری دعا ہے تم ہمہشہ شاد و آباد رہو بیٹا خود کو اجنبی کبھی محسوس مت کرنا یہاں پر سب تمہارے اپنے ہے تم اس گھر میں بہو کی حیثیت سے نہیں بلکی بیٹی کی حیثیت سے رہو گی ۔۔جاوید صاحب مرش کے سر پر ہاتھ رکھ دعایں دے رہے تھے۔ ۔۔
آفندی ہاوس میں مرش کا اتنا شاندار استقبال کیا گیا تھا سب عش عش کر رہے تھے ۔۔ آج کے دن جاوید صاحب کے بہت خاص خاص لوگ آے تھے کچھ دیر بعد ایک ایک کر کے سارے مہمان جا چکے تھے ۔۔
تھک ہار کر اپنے کمرے میں کچھ دیر ریسٹ کرنے کے لیے آے ۔۔ جبھی مریم بیگم بھی کمرے میں داخل ہویی جاوید صاحب کسی تصویر کسی تصویر کو لے ایک ٹک دیکھنے میں محو تھے انہیں مریم بیگم کی آمد کی خبر تک نہیں ہویی تھی ۔۔۔
مریم بیگم اسی خاموشی کے ساتھ کمرے سے باہر چلی گیی تھی ۔۔
نورا آج ہمارے لاڈلے بیٹے کی شادی ہو گیی نورا تم کہتی تھی نہ میں آہل کی شادی بہت دھول دھام سے کروں گی ۔۔ نورا میں نے تمہاری یے خواہش ضرور پوری کر دی وہ لڑکی کویی اور نہیں نورا تمہاری بہن فایزہ کی بیٹی ہے ۔۔جاوید صاحب کی آواز دکھوں سے گھری ہویی تھی وہ تصویر کو دیکھ کر اپنے ان گزرے لمحوں کو یاد کرنے لگے جو انہوں نے نورا بیگم کے ساتھ گزارے تھے ۔۔


“”””””””””””””””””””””””””””””””” کل رات اڑ رہے تھے _ ستارے ہوا کے ساتھ “”””””””””””””””””””””””””
“””””””””””””””””””””””””””””””””اور میں اداس بیٹھا تھا —– اپنے خدا کے ساتھ “””””””””””””””””””””””””
“”””””””””””””””””””””””””””””” کی یا تو قبولیت کے طریقے سکھا مجھے “”””””””””””””””””””””””””””””””””
“”””””””””””””””””””””””””””””” یا مجھ کو باندھ دے اپنی رضا کے ساتھ “”””””””””””””””””””””””””””””””””

۔ جاوید شاہ آفندی کو خود پر کتنا غرور تھا ان کے نام کی کتنی شہرت تھی ہر چیز سے مکمل !! نورا بیگم آہل شاہ آفندی کی ماں ۔۔۔ اس گھر کی مالکن اس گھر پر راج کرنے والی ۔۔۔ آج مٹی کے ڈھیر میں دفن تھی !!! جاوید شاہ آفندی اپنے باپ کے اکلوتے سپوت تھے کالج کے زمانے سے ہی لڑکیاں ان پر قربان تھی ۔۔۔۔۔ انہی لڑکیوں میں سے ایک نازک سی لڑکی بھی تھی نورا ہاشم !!!! ۔۔۔ نورا ہاشم نے بھی جاوید شاہ آفندی کی مہبت میں خود کو مبتلا کر لیا تھا ۔۔۔
جاوید شاہ آفندی کو یے معصوم سی دلربا سی لڑکی بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔۔ جاوید شاہ آفندی خود کو روک نا پاے نورا ہاشم کی مہبت میں خود کو مبتلا کرنے سے ۔۔۔۔۔
نورا ہاشم کا رشتہ طے تھا ۔۔۔ طاہا خان سے ۔۔ لیکن وہ اس شادی کے لیے راضی نہیں تھی !!
۔۔۔ جب اولاد کی مرضی نہ ہو تو والیدین کو زبردستی نہیں کرنی چاہیے کیوں کی اس کے بعد اولاد جو قدم اٹھاتی ہے ماں باپ پوری زندگی ہاتھ مسلتے رہ جاتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نورا ہاشم نے رو رو کر باپ کے سامنے شادی سے انکار کیا تھا ۔۔۔ لیکن ہاشم صاحب اپنی ضد کے آگے کچھ بھی سننے کے لیے تیار نہیں تھے ۔۔۔ فایزہ بیگم کی پیدایش کے دوران ہی زہرا بیگم جاں بحق ہو گی تھی ۔۔۔ اس وقت نورا صرف دو سال کی تھی ۔۔۔ ہاشم صاحب نے اپنی بیٹیوں کے لیے دوسری شادی نہیں کی تھی ۔۔۔۔ وقت دھیرے دھیرے پروان چڑھتا گیا ۔۔۔ نورا ہاشم نے بچپن سے فایزہ کا بہت خیال رکھا تھا ۔۔فایزہ نورا کو ہی ماں کی جگہ سمجھتی تھی ۔۔۔
شادی کا گھر تھا ۔۔۔ ہر طرف رنگ بکھرے تھے روشنی ڈھولک کی تھاپ سب کو اپنی لیپیٹ میں لے رہی تھی ۔۔۔ مہندی کے دن رنگوں کا سماں تھا ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نے گھیر رکھا تھا ۔۔۔ رات کی تنہایی میں نورا ہاشم نے جو قدم اٹھایا وہ سب کے لیے نا قابل اعتبار تھا ۔۔۔ ہر طرف یہی شور نورا گھر سے بھاگ گی ۔۔۔ نورا ہاشم نے بھاگ کر جاوید شاہ آفندی سے کورٹ میرج کر لیا تھا ۔۔ جاوید شاہ آفندی کے باپ ہمایوں آفندی شاہ بیٹے کے ساتھ ہر وقت کھڑے رہے ہر اچھے برے میں برابر کے شریک رہے ۔۔۔۔۔
اس طرح نورا ہاشم سے نورا شاہ آفندی ہو گی جاوید شاہ آفندی نورا شاہ آفندی کو اپنی عزت بنا کر اپنے گھر لے آے ۔۔۔۔۔۔۔
ہاشم صاحب کا عزت خاک خاک ہو گی ۔۔۔۔۔۔
۔۔ کہیں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا نورا شاہ آفندی نے ہاشم صاحب ڈر گے تھے جب پانچ اولادوں میں سے کویی ایک اولاد بے غیرت نکل جاے تو ماں باپ کا بھوروسہ مان ختم ہو جاتا ہے باقی اولادوں پر سے ۔۔۔۔۔۔
اپنے دوست کے آگے جھولی پھیلا کر اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے ان سے بھیک مانگی اور ان عزیز دوست نے بھی ان کو خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹایا ۔۔۔۔۔
۔۔۔ اس طرح فایزہ بیگم بہت جلد سرفراز احمد کے نام سے جڑ گی !!! ۔۔۔۔
فایزہ بیگم کی شادی کے کچھ عرصے بعد ہاشم صاحب مالک حقیقی سے جا ملے ۔۔۔
کسی طرح یے خبر نورا شاہ آفندی کے کانوں تک پہہنچ تی ہے صدمے کی وجہ سے ان کی طبیعت بھی خراب ہو گی تھی باپ کی موت کا زمیدار وہ خود کو مانتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصے بعد ان کی کوکھ میں آہل شاہ آفندی نے جنم لیا ۔۔۔ نورا بیگم اور فایزہ بیگم کا ایک دوسرے سے تعلق ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا تھا ۔۔
وہ دونوں اس دنیا میں الگ الگ گلیوں میں گم ہو چکی تھی ۔۔۔۔
آہل کی پیدایش کے پانچ عرصے بعد نورا بیگم کا انتقال ہو گیا نورا بیگم کو پتہ تھا ان کے جانے کے بعد آہل اکیلا رہ جاے گا وہ اپنے ہوش و ہواس میں اپنے لاڈلے سپوت کی زمیداری کسی کو سوپنا چاہتی تھی کیوں کی آہل کو اس وقت ایک ماں کی اشد ضرورت تھی نورا بیگم نے اپنی موت کے ایک دن پہلے جاوید شاہ آفندی اور مریم بیگم کا نکاح کروا دیا تھا اور آہل شاہ آفندی کی زمیداری مریم بیگم کو سونپ دی تھی ۔۔۔
نکاح کے دوسرے دن ہی نورا بیگم مالک حقیقی کو جا ملی ۔۔۔ ننھا آہل شاہ آفندی طابوت میں سویی اپنی ماں خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہ گیا ۔۔ نورا بیگم کے انتقال کے بعد ہمیشہ اس کو یہی بتایا گیا تھا ۔ کرایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ مریم بیگم اس کی ماں ہے ۔۔

آہل کو . سخت نفرت تھی اپنے باپ سے اس کی ماں کے جاتے ہی جاوید شاہ آفندی نے اس کی ماں کی جگا کسی دوسری عورت کو دے دی ۔۔۔ میری ماں کو گیے ابھی دو دن بھی نہیں ہوے تھے دوسری عورت کو میری ماں کی جگہ دی اسی سوچ نے آہل کو کبھی مریم بیگم سے محبت نہیں ہونے دی
۔۔۔۔ مریم بیگم وقت کی ماری ہویی تھی ان کے گھر والوں نے زبردستی ایک گھٹیا انسان کے ساتھ انہیں باندھ دیا تھا ۔۔۔۔ لیکن مریم بیگم وہاں سے خود کو بچاتی تلاق لے لی ۔۔۔۔۔وہ شخص ان پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ۔۔۔ طلاق لینے کے بعد مریم بیگم یہاں وہاں کی ٹھوکریں کھاتی پھر رہی تھی ایک دن ان کی ٹکر نورا بیگم کی گاڑی سے ہویی ۔۔۔۔۔ نورا بیگم انہیں اٹھاتی ہویی اپنی گاڑی میں لایی ۔۔۔ مریم بیگم کی زبانی ان کی زندگی کے بارے میں جان کر نورا بیگم انہیں گھر لے آیی تھی آہل کا اس طرح سے خیال رکھنا جیسے وہ ہی اس کی سگی ماں ہو نورا بیگم کو مریم بیگم کو جان چکی تھی آہل کا خیال اس زیدا کویی نہیں رکھ سکتا ۔۔۔یے بھی ایک وجہ تھی نورا بیگم نے مریم بیگم کا جاوید شاہ آفندی سے نکاح کروا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی ہوا تھا سب تکدیر کا لکھا ہوا تھا لیکن آہل شاہ آفندی نے انہیں ماں کا درجہ کبھی نہیں دیا تھا اس کے دل میں نفرت کی آگ تھی ۔۔ شادی کے آٹھ سال بعد ننھی بریرہ نے جنم لیا آہل کو وہ کیوٹ سی بریرہ بہت اچھی لگتی تھی ایک اچھے بھایی کی طرح اس کی کییر کرنا اسے بہت پسند تھا لیکن اس کی ہی ماں سے آہل کو شدید نفرت تھی ۔۔۔۔۔


آہل اب تو جا تیری خونخار شیرنی تیرا انتظار کر رہی ہوگی ۔۔ فارس نے کھلکھلا کر ہنستے ہوے کہا ۔۔
بہت بدتمیز ہے تو ۔۔۔ آہل نے گھورتے ہوے کہا ۔۔
اب میں چلتا ہوں کل صبح ملیں گے خدا حافظ اور میری پیاری بھابھی کو زیادہ تنگ مت کرنا ۔۔ فارس ایک بار پھر سے پٹری سے اترنے لگا ۔۔
تو جا رہا یہ نہیں ۔۔ آہل نے دانت پر دانت جماتے ہوے کہا ۔۔
اچھا جا رہا ہوں ۔۔ فارس آہل سے بغلغیر ہوتا ہوا جا چکا تھا ۔۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد آہل نے قدم کمرے کی طرف بڑھایا ۔۔ اسے تو پہلے سے ہی اندازہ تھا اندر کون سا توفان برپا ہوگا ۔۔۔۔ مہاز جنگ شروع ہو چکی ہوگی ۔۔
دھیرے دھیرے کمرے کا دروازہ کھول کر آہل نے اپنے مضبوط قدم کمرے میں رکھا سامنے کا منظر دیکھ کر بہت ہی لمبی ٹھنڈی سانس لے کر خود کو پر سکون کیا ۔۔۔
درازے کو اندر سے لاک کرنے کے بعد بیڈ کے سامنے رکھے صوفے پر بہت ہی پرسکون انداز میں بیٹھ گیا اور اپنی سرخ آنکھوں سے مرش کی ایک ایک کارنامے کو جی بھر کے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

میں کس کے لیے یے چوڑیاں پہنو تمہارے لیے ہاں کبھی نہیں یے ۔۔آہل شاہ آفندی کبھی نہیں ۔۔ مرش نے اپنی کلایی میں رقص کرتی چوڑیوں کو بہت ہی بے دردی سے نکالا نرم سفید کلایی زخمی زخمی ہو چکی تھی گلے میں پڑا خوبصورت نیکلیس کو بے رحمی سے نکال کر بیڈ کو دوسری سایڈ اچھال دیا گیا ۔۔
میں تم اے نفرت کرتی ہوں آہل شاہ آفندی نفرت اتنی نفرت کرتی ہوں ایک دن تمہیں بھی پچھتاوا پوگا مجھ سے شادی کر کے ۔۔۔ رونے کی وجہ سے مرش کی آواز مدہم پڑ پڑ گیی تھی اس کی آواز اسی کمرے میں دب کر رہ جاتی تھی ۔۔۔
اپنے لیے اتنا شدید نفرت نامہ سن کر آہل کے لبوں پر بے حد خوبصورت مسکراہٹ مچل گیی ۔۔۔
مرش نے اپنا سارا حولیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا چوڑیاں ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر گیی تھی پورے بیڈ پر اس کی کنھکتی چوڑیاں پازیب نیکلیس ہر چیز بے ترتیب پھینکی گیی تھی ۔ جیسے آہل شاہ آفندی سے زیادہ یے چیزیں اس کی بربادی کی زمیدار ہو ۔۔۔

تم کیا سمجھتے ہو تم نے مجھے حاصل کر لیا نہیں تم غلط ہو تم نے صرف میرا وجود حاصل کیا ہے مجھے نہیں ۔۔۔ میں تم سے ایک ایک چیز کا حساب لوں گی ۔۔۔۔ مرش کا لفظ بہ لفظ انگارے پر دہک رہا تھا ۔۔۔

قیامت لگ رہی ہو یار قسم سے ۔۔۔ آہل کی آنکھیں شرارت سے صاف واضح تھی مرش کی ساری باتوں نظر انداز کر کے مسکراتے ہوے تعریف کیا ۔۔۔

میں تمہیں جان سے مار دوں گی تم نے میرے ساتھ زبردستی کی ہے تم ۔۔۔تم ۔۔دنیا کے واحد انسان ہو جس میں سب سے زیادہ نفرت کرتی ہوں ۔۔۔ مرش آج اپنی بے بسی پر قابو نہیں رکھ پایی تھی آج دل کی ساری بھڑاس نکال دینا چاہتی تھی ۔۔۔
آہل اب صوفے سے اٹھ کر چل کر بیڈ پر بیٹھی مرش کے قریب آیا ۔۔۔ اور اپنے ہونٹوں کو آہستہ آہستہ مرش کے کان کی طرف لے جا کر سرگوشی کیا ۔۔
شادی مبارک ہو میسیز آہل شاہ آفندی ۔۔۔
دور رہو مجھ سے میرے قریب آنے کی کوشش مت کرنا ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گی تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔ مرش ایک لمحے کے اندر آہل سے کوسوں دور ہویی جیسے ابھی اگر وہ چھو دے گا تو وہ کھاک کھاک ہو جاے گی ۔۔۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا کیوں ۔۔۔۔کیوں ۔۔۔ مجھے جواب دو اس کا مجھے جواب چاہیے جواب دو مجھے ۔۔۔مرش کی چینخ پورے کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔
یوں سمجھ لو یے ہمارا نصیب تھا اور کچھ نہیں ۔۔۔ نکاح ہو چکا ہے ہمارا بہتر ہوگا اب تم اپنے رشتے کو سمجھ جاو ۔۔۔۔
آہل کا سکون دیکھ کر مرش کا دل نے شدت چاہ کی کاش میرے ہاتھ اس وقت گن ہوتی میں اس کو شوٹ کر دیتی ۔۔۔
میں نہیں مانتی اس نکاح کو جس میں میری مرضی ہی شامل نہ ہو یے صرف چند دنوں کا کاغزی رشتہ ہے میں اس کو ختم کر دوں گی تم دیکھتے ہی رہ جاو گے ۔۔۔ مرش نے پھر سے تیز آواز میں بولنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔

جو کرنہ ہوگا کر لینا فلحال تو یے سب ہٹاو مجھے سونا ہے ۔۔ آہل بیڈ پر بکھرے سامان کو دیکھ کر اپنی پیشانی پر ہاتھ سہلاتے ہوے کہا ۔۔۔
میں بیڈ پر نہیں سوں گی ۔ مرش نے بیڈ لفظ پر زور دیتے ہوے کہا ۔۔۔
تو کیا میری باہوں میں سونے کی خواہش ہے کیا ۔۔۔ آہل کا ارادہ مرش کو تھوڑا اور تنگ کرنے کا تھا ۔۔
تم ۔۔بہت ظالم آہل بہت ظالم صرف ظلم کرتے ہوے ہو کتنی لڑکیوں کو اپنی حوس کا شکار بنا کر چھوڑ چکے ہو ۔۔۔ مرش کا ارادہ ابھی چپ رہنے کا نہیں تھا ۔۔۔
مرش !!!!!!!! آہل کی آنکھوں میں غصے کا شدید اشتعال تھا اس نے ایک ہی چیخ میں مرش کا دل دہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
اپنی حد میں رہو مرش گھٹیا باتیں نہ تو مجھے پسند ہے اور نہ ہی ۔ میں برداشت کرتا ہوں ۔۔۔ آہل مرش کے قریب ہوتے ہوے اس دونوں جبڑوں کو سختی سے دبوچتا ہوا کہا ۔۔۔
آج کے اگر اس قسم کے الفاظ تمہارے منھ سے میں دوبارہ نہ سنوں ورنہ بولنے کے قابل نہیں رہو گی تم میری بات سمجھ آیی اور اگر نہیں سمجھ آیی تو اچھے سے سمجھ لو ۔۔ آہل مرش کا سر جھٹکتا چینج کرنے کی نیت سے واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
اتنی دیر میں مرش کا رو رو کر برا حال چکا تھا سر درد سے پھٹے جا رہا تھا ۔۔۔ لیکن یے درد تو بہت معمولی سا تھا اس درد کا کیا جو اس کی زندگی میں لکھ دیا گیا تھا ۔۔۔
تم اب تک ایسے ہی بیٹھی ہو جا کر چینج کرو ۔۔۔ آہل مرش کو حکم دے کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
میں نے کہا نہ میں بیڈ پر نہیں سوں گی ۔۔مرش بچوں کی طرح ضد کر رہی تھی ۔۔۔
تو پھر تمہیں کیا لگتا ہے میں عام ناولوں کے رومینٹک ہیرو کی طرح زمین پر سو جاوں گا اپنے محبوبہ کو تقلیف سے بچانے کے لیے خود کو تقلیف دوں گا تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے بیکار کی سوچ ہے تمہاری ۔۔۔ آہل کا انداز مزاق اڑانے والا تھا ۔۔۔۔
میں صوفے پر سووں گی ۔۔۔ مرش آخر فیصلہ کر ہی چکی تھی اسے کہاں سونا ہے ۔۔۔
شوق سے ۔۔ آہل بے فکری سے بولا ۔۔۔

ایک منٹ یے رہا تمہارا منھ دکھایی تحفہ میں نہیں چاہتا کسی کے سامنے میری بیوی کو شرمندگی اٹھانی پڑے ۔۔ آہل نے ایک بڑا گفٹ کا پیک اس کی طرف بڑھایا جس کو مرش نے مسکراتے ہوے تھام تو لیا تھا لیکن اتنی ہی تیزی سے اس ڈبے کو زمین پر پٹکا تھا کی وہ پھسلتے ہوے صوفے کے اندر چلا گیا تھا ۔۔۔
میں تمہاری گفٹس پر لعنت بھیجتی ہوں ۔۔۔ مرش نے ایک ایک لفظ سختی سے ادا کیا ۔۔
میں سونے جا رہی ہوں مجھ سے بات کرنے کی کوشش بھی مت کرنا ۔۔مرش نے اس طرح جتایا تھا جیسے آہل شاہ آفندی ترس رہا ہو اس سے بات کرنے کے لیے ۔۔۔
مرش کا لہنگا اتنا وزندار تھا کی صوفے پر سونہ کافی مشکل ہو رہا تھا اور نہ اس نے چینج کیا تھا کیوں کی آہل شاہ آفندی کا نے حکم دیا تھا تو وہ کیسے مان لیتی ۔۔۔۔ مر کر بھی نہیں ۔۔۔
آہل بیڈ پر بے فکری انداز سے لیٹا ہوا تھا نیند تو اس کی آنکھوں سے بھی غایب تھی اگر مرش مشکل میں تھی تو آہل بھی کچھ کم نہیں تھا ۔۔۔

صوفے پر سونا وہ بھی اپنی ضد پر مرش کو بہت بھاری پڑ گیا تھا ۔۔۔ ایک طرف اس سایڈ کروٹ تو دوسری طرف اس سایڈ کروٹ لے لے کر مرش تھک گیی تھی ۔۔۔ تھکن کی وجہ سے اور شاید سر درد کی بھی وجہ سے بہت جلد ہی غنودگی میں چلی گیی تھی ۔۔
آہل بیڈ پر بیٹھ کر ایک ٹک اس ضدی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کسی دن اپنا بہت بڑا نقصان کرواے گی اپنی ضد کی وجہ سے ۔۔۔ آہل کی سوچوں کا مرکز سواے مرش کے اور کویی نہیں تھا ۔۔۔
آہل نے جیسے اپنی آنکھیں بند کی اچانک اس کے کان میں ایک بہت تیز آواز گونجی ۔۔۔ آہل نے فورن اپنی آنکھیں کھولی سامنے کا منظر دیکھ کر اپنی ہسنی ضبط کرنا اس سے بہت مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔
مرش نیند کی ہی حالت میں صوفے سے زمین بوس ہو چکی تھی ۔۔ صوفہ تھا تو بہت بڑا لیکن مرش کے بھاری لہنگے سے ایڈجیسٹ نہیں ہو پایا تھا ۔۔۔۔
مرش کی آنکھ فورن کھلی سامنے آہل شاہ آفندی کا ہنستا مسکراتا چہرہ زہر سے بھی زیادہ کڑوا لگا تھا مرش کو فورن اپنی عزت افزایی کا خیال آیا ۔۔۔ آہل پر ایک گھورتی نظر ڈال کر پھر سے صوفے پر سونے کے لیے چڑھی مطلب وہ بھی اپنی ضد کی پککی تھی ۔۔۔۔
آ جاو بیڈ پر اس سے پہلے کی ایک بار پھر سے زمین تمارا بوجھ سہے ۔۔ آہل کی مسکراہٹ اور گہری ہو گیی تھی ۔۔۔۔
مجھ سے زیادہ پھری ہونے کی ضرورت نہیں ہے مرش نے اکڑتے ہوے کہا اور پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
اچانک اسے اپنی کمر میں کسی کا ہاتھ محسوس ہوا ۔۔۔ مرش نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹا کر دیکھا آہل پوری طرح اس پر جھکا ہوا تھا ۔۔۔
کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے ۔۔۔ مرش آہل کی باہوں میں بن پانی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی ۔۔
آہل مرش کو پوری طرح اپنے باہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لا کر پٹک دیا تھا ۔۔ ۔
میں تمہارے ساتھ کبھی نہیں سوں گی ۔۔۔ مرش نے چلاتے ہوے کہا ۔۔۔
چپ یکدم چپ آہل مرش کی لبوں پر اپنی شہادت کی انگلیاں رکھ کر کہا ۔۔
مجھے نیند آ رہی ہے بہتر ہوگا چپ چاپ سو جاو ۔۔۔ آہل مرش پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر پھر سے سونے کے لیے جا چکا تھا ۔۔۔
یا اللہ مرش نے تڑپ کر اپنے رب کو پکارا لیکن اب سارے گلے شکوے دم توڑ چکے تھے ۔۔ ہاتھ بڑھا کر لایٹ آف کر کے مرش بھی چپ چاپ سو گیی تھی لیکن بیڈ کے اتنے کنارے تھی کی اگر ایک بار پھر سے گر جاتی تو کویی شک نہیں تھا ۔۔۔
پھر سے گرنے کا ارادہ ہے کیا ۔۔۔ آہل کی غنودگی میں ڈوبی آواز آیی ۔۔۔
نہیں ۔۔ تم اپنے کام سے کام رکھا کرو ۔۔۔ مرش نے بھی جواب دینے ذرا بھی دیر نہیں کی ۔۔۔
کچھ دیر بعد ان دونوں پر نیند کا غلبہ طاری تھا وہ دونوں اب اپنے اپنے خوابوں میں سیر کر رہے تھے ۔۔۔

❤❤❤❤

آ