Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Last updated: 9 July 2025
Rate this Novel
Sang Jo Tu Hai
By Zariya
کلاس ختم ہوتے ہی سبھی سٹوڈنٹس اپنی اپنی باتو مصروف ہو گئے ۔۔۔۔کچھ سٹوڈنٹس کلاس سے باہر چلے گئے کچھ کلاس میں ہی بیٹھے کے گپ شپ میں مصروف تھے ۔۔۔ ہاے،،،وہ تینوں بریرہ کے سر پر موجود تھیں ہیلو بریرہ مسکرا تی ہوئی جواب دی۔۔۔۔ ""نام کیا ہے تمہارا"" مرش بریرہ کو یوں مخاطب کی جیسے کوئی پرانی جان پہچان ہو۔۔۔۔۔""بریرہ جاوید شاہ آفندی"" بریرہ نے جھٹ سے اپنا نام بتایا،،، اور آپ لوگوں کا،،،،،اریشہ جیسے اسی موقع کی تلاش میں نے تھی۔۔۔۔میں اریشہ عباد اور ے میری فرینڈ مرش سرفراز احمد اور ثمرہ نعمان ہماری ایک اور فرینڈ ہے زاراعبّاس لیکن کل اسکا برتھڈے اسلئے وہ آج نہیں آیی۔۔۔۔۔ اچّھا بریرہ کو یہ نٹ کھٹ لڑکیاں کافی اچّھی لگی تھیں۔۔۔۔۔ تمہارا نیا ایڈ میشن ہے کیا؟؟؟ثمرہ کے سوال سے بریرہ کو ہنسی آگی۔۔۔جی میرا نیو ایڈمیشن ہے Actually I Iived in london بٹ وہاں سے پڑھائی کومپلیٹ کرکے وآپس آگئی ۔۔مجھے اردو پڑھنے کا بہت شوق تھا تو یہاں addmisson لے لیا اردو کی کلاس کا ۔۔بریرہ نے اپنی بات ختم کی ۔۔کچھ دیر کی گفتگو کے باد ان تینوں کی بریرہ سے اچّھی بورڈنگ ہو ہو چکی تھی ۔۔مرش ریسٹ واچ پر ڈیلتے ہویے بولی یار ٹائم کافی ہو گیا ہےاب چلنا چاہیے ثمرہ اور اریشہ نے ہاں میں ہاں ملائی ۔تم بھی کیوں نہیں آتی کل ایک چھوٹی سی پارٹی ہے ۔اریشہ نے بھی انوائٹ کرنے کی کوئی کثر نہ چھوڑی ہاں یار پلیز آنا ۔۔ارے نہیں پھر کبھی ابھی آپ لوگ جاہیں ۔لٹ ہو رہا ہے ۔۔۔بریرہ کو انکار کرنے کا کافی بہانہ سوچ رہا تھا ۔۔اچّھا ٹھیک ہے پھر ملیں گے byee see u وہ تینوں ہاتھ ہلاتی کلاس سے باہر چلی گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_____
مسٹر شہروز مارکیٹ میں اپنا مرجن رکھنا کویی خاص بات نہیں ۔۔۔ آہل کی اس وقت میٹنگ اس وقت کسی خاص معاملے پر ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ فارس سامنے والی کرسی پر بیٹھا اپنے دوست کی صلاحیت کو نظر بھر کے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ خدا نے ہر چیز سے آہل کو نوازا تھا ۔۔۔ خوبصورت دل ۔۔۔جو دنیا کے لیے تو نہیں ہاں لیکن فارس کے لیے ضرور تھا ۔۔۔ہر آشایش سے بھر پور ۔۔۔۔ فارس کی صلاحیت بھی کسی سے کم نہیں تھی ۔۔ آہل کے بہت اسرار کرنے پر ہی فارس آہل کے آفس میں جاب کرنے کے لیے راضی ہوا تھا ۔۔۔۔ شاید وہ دوست کا احسان نہیں لینا چاہتا تھا ۔۔۔ دیکھیے مسٹر آہل ہمارا پروفیٹ دس پرسینٹ کم ہوگا ۔۔۔۔۔ اور ہمارا نقصان ہوگا ۔۔۔۔۔۔ مسٹر شہروز پیسے کے پیچھے بھاگنے والا انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اوکے فاین ہمیں آپ کے ساتھ کویی ڈییل نہیں کرنی ۔۔۔ آہل غصے سے کہتا سب کچھ چھوڑ کر میٹنگ روم سے باہر آیا ۔۔۔انتہاہی غصے کے عالم میں اپنے کیبن میں آتے ہوے آہل نے ٹیبل پر ہاتھ کے زریعے ایک کک ماری ۔۔۔۔ فارس آہل کو پیچھے سے آواز دیتا کیبن میں آیا ۔۔۔۔ اور پر سکون ہوتا ہوا chair پر براجمان ہوا ۔۔۔۔ ٹہرے ہوے لہجا میں بولا ۔۔۔ یار آہل چھوڑ اس شہروز کو گھٹیا انسان دس پرسینٹ کے لیے مرا جا رہا ہے اور ویسے بھی نقصان اس کے بزنس کا ہوگا انسلٹ اس کی ہوگی ۔۔۔۔۔ ہماری نہی ۔۔۔!!!!! فآرس آہل کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوے آہل کے غصے کو کم کرنے کی جوڑ توڑ کوشش کر رہا تھا !!!!!
**** بریرہ کلاس روم سے باہر آیی کیفے میں بیٹھ کر آہل کا انتظار کرنے لگی !!! کافی کا آڈر کر کے بریرہ موبایل میں مگن ہو گی۔۔۔۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بریرہ نے تھک ہار کر آہل کو کال کی !!!! ہیلو بھایی آپ کہاں ہے میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں میرا کالج کب کا آف ہو چکا ہے !!! بریرہ نان اسٹاپ بولتی گی اسے اندازہ ہی نہیں ہوا دوسری جانب کون اس ساہرہ کے سحر میں گرفتار ہو رہا ہے !!! بھایی ؟؟؟ کویی رسپانس نا ملنے بریرہ نے ایک بار پھر سے آہل کو پکارا !!!!
اں اکیچولی آہل کچھ کام سے باہر گیا ہے !!! موبایل آفس میں ہی بھول گیا ہے !!! بریرہ کا منھ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا !!! OH سوری میں سمجھی بھایی آپ پلیز بھایی سے کہہ دے میں ان کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔ """" بریرہ نے جلدی جلدی بات ختم کرتے ہوے کال ڈسکنیٹ کر دی !!! **,***** موبایل کی اسکرین پر بریرہ کا نام جگمگاتا دیکھ فارس نے مسکرا کر نام زیرلب دہرایا !!! کچھ دیر بعد آہل کیبن میں داخل ہوا !!! فارس نے انجان بنتے ہوے موبائل آہل کے ہاتھ میں میں پکڑایا !!! یار کسی بریرہ نامی لڑکی کا کال آ رہی تھی ۔۔۔ آہل اور فارس کے درمیان بہت کم فیملی کے بارے ڈسکشن ہوتا تھا ۔۔۔۔ بریرہ پڑھایی مکمل کرنے کے لیے لندن چلی گی تھی ۔۔۔ اس کی واپسی پر بھی آہل نے کبھی ذکر نہیں کیا تھا ۔۔۔ حالانکی فارس کو پتا تھ
