Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 5
Rate this Novel
Episode 5
کلاس ختم ہوتے ہی سبھی سٹوڈنٹس اپنی اپنی باتو مصروف ہو گئے ۔۔۔۔کچھ سٹوڈنٹس کلاس سے باہر چلے گئے کچھ کلاس میں ہی بیٹھے کے گپ شپ میں مصروف تھے ۔۔۔
ہاے،،،وہ تینوں بریرہ کے سر پر موجود تھیں
ہیلو بریرہ مسکرا تی ہوئی جواب دی۔۔۔۔
“”نام کیا ہے تمہارا”” مرش بریرہ کو یوں مخاطب کی جیسے کوئی پرانی جان پہچان ہو۔۔۔۔۔””بریرہ جاوید شاہ آفندی”” بریرہ نے جھٹ سے اپنا نام بتایا،،،
اور آپ لوگوں کا،،،،،اریشہ جیسے اسی موقع کی تلاش میں نے تھی۔۔۔۔میں اریشہ عباد اور ے میری فرینڈ مرش سرفراز احمد
اور ثمرہ نعمان ہماری ایک اور فرینڈ ہے زاراعبّاس لیکن کل اسکا برتھڈے اسلئے وہ آج نہیں آیی۔۔۔۔۔
اچّھا بریرہ کو یہ نٹ کھٹ لڑکیاں کافی اچّھی لگی تھیں۔۔۔۔۔
تمہارا نیا ایڈ میشن ہے کیا؟؟؟ثمرہ کے سوال سے بریرہ کو ہنسی آگی۔۔۔جی میرا نیو ایڈمیشن ہے
Actully I Iived in london
بٹ وہاں سے پڑھائی کومپلیٹ کرکے وآپس آگئی ۔۔مجھے اردو پڑھنے کا بہت شوق تھا تو یہاں addmisson لے لیا اردو کی کلاس کا ۔۔بریرہ نے اپنی بات ختم کی ۔۔کچھ دیر کی گفتگو کے باد ان تینوں کی بریرہ سے اچّھی بورڈنگ ہو ہو چکی تھی ۔۔مرش ریسٹ واچ پر ڈیلتے ہویے بولی یار ٹائم کافی ہو گیا ہےاب چلنا چاہیے ثمرہ اور اریشہ نے ہاں میں ہاں ملائی ۔تم بھی کیوں نہیں آتی کل ایک چھوٹی سی پارٹی ہے ۔اریشہ نے بھی انوائٹ کرنے کی کوئی کثر نہ چھوڑی ہاں یار پلیز آنا ۔۔ارے نہیں پھر کبھی ابھی آپ لوگ جاہیں ۔لٹ ہو رہا ہے ۔۔۔بریرہ کو انکار کرنے کا کافی بہانہ سوچ رہا تھا ۔۔اچّھا ٹھیک ہے پھر ملیں گے byee see u وہ تینوں ہاتھ ہلاتی کلاس سے باہر چلی گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسٹر شہروز مارکیٹ میں اپنا مرجن رکھنا کویی خاص بات نہیں ۔۔۔ آہل کی اس وقت میٹنگ اس وقت کسی خاص معاملے پر ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ فارس سامنے والی کرسی پر بیٹھا اپنے دوست کی صلاحیت کو نظر بھر کے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ خدا نے ہر چیز سے آہل کو نوازا تھا ۔۔۔ خوبصورت دل ۔۔۔جو دنیا کے لیے تو نہیں ہاں لیکن فارس کے لیے ضرور تھا ۔۔۔ہر آشایش سے بھر پور ۔۔۔۔ فارس کی صلاحیت بھی کسی سے کم نہیں تھی ۔۔ آہل کے بہت اسرار کرنے پر ہی فارس آہل کے آفس میں جاب کرنے کے لیے راضی ہوا تھا ۔۔۔۔ شاید وہ دوست کا احسان نہیں لینا چاہتا تھا ۔۔۔ دیکھیے مسٹر آہل ہمارا پروفیٹ دس پرسینٹ کم ہوگا ۔۔۔۔۔ اور ہمارا نقصان ہوگا ۔۔۔۔۔۔
مسٹر شہروز پیسے کے پیچھے بھاگنے والا انسان کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔۔۔
اوکے فاین ہمیں آپ کے ساتھ کویی ڈییل نہیں کرنی ۔۔۔
آہل غصے سے کہتا سب کچھ چھوڑ کر میٹنگ روم سے باہر آیا ۔۔۔انتہاہی غصے کے عالم میں
اپنے کیبن میں آتے ہوے آہل نے ٹیبل پر ہاتھ کے زریعے ایک کک ماری ۔۔۔۔ فارس آہل کو پیچھے سے آواز دیتا کیبن میں آیا ۔۔۔۔ اور پر سکون ہوتا ہوا chair پر براجمان ہوا ۔۔۔۔ ٹہرے ہوے لہجا میں بولا ۔۔۔
یار آہل چھوڑ اس شہروز کو گھٹیا انسان دس پرسینٹ کے لیے مرا جا رہا ہے اور ویسے بھی نقصان اس کے بزنس کا ہوگا انسلٹ اس کی ہوگی ۔۔۔۔۔ ہماری نہی ۔۔۔!!!!! فآرس آہل کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوے آہل کے غصے کو کم کرنے کی جوڑ توڑ کوشش کر رہا تھا !!!!!
بریرہ کلاس روم سے باہر آیی کیفے میں بیٹھ کر آہل کا انتظار کرنے لگی !!! کافی کا آڈر کر کے بریرہ موبایل میں مگن ہو گی۔۔۔۔ کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بریرہ نے تھک ہار کر آہل کو کال کی !!!! ہیلو بھایی آپ کہاں ہے میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں میرا کالج کب کا آف ہو چکا ہے !!! بریرہ نان اسٹاپ بولتی گی اسے اندازہ ہی نہیں ہوا دوسری جانب کون اس ساہرہ کے سحر میں گرفتار ہو رہا ہے !!! بھایی ؟؟؟
کویی رسپانس نا ملنے بریرہ نے ایک بار پھر سے آہل کو پکارا !!!!
اں اکیچولی آہل کچھ کام سے باہر گیا ہے !!! موبایل آفس میں ہی بھول گیا ہے !!!
بریرہ کا منھ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا !!! OH سوری میں سمجھی بھایی آپ پلیز بھایی سے کہہ دے میں ان کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔ “””” بریرہ نے جلدی جلدی بات ختم کرتے ہوے کال ڈسکنیٹ کر دی !!!
,*
موبایل کی اسکرین پر بریرہ کا نام جگمگاتا دیکھ فارس نے مسکرا کر نام زیرلب دہرایا !!! کچھ دیر بعد آہل کیبن میں داخل ہوا !!! فارس نے انجان بنتے ہوے موبائل آہل کے ہاتھ میں میں پکڑایا !!! یار کسی بریرہ نامی لڑکی کا کال آ رہی تھی ۔۔۔ آہل اور فارس کے درمیان بہت کم فیملی کے بارے ڈسکشن ہوتا تھا ۔۔۔۔ بریرہ پڑھایی مکمل کرنے کے لیے لندن چلی گی تھی ۔۔۔ اس کی واپسی پر بھی آہل نے کبھی ذکر نہیں کیا تھا ۔۔۔ حالانکی فارس کو پتا تھا آہل کی ایک بہن بھی ہے لیکن کبھی دیکھ نہیی سکا !!! بچپن میں اسے گول مٹول سی سی ننھی بریرہ کا چہرا ہلکا ہلکا ذہن پر نقش تھا !!! فارس ایک بار پھر سے فایلز میں مگن ہو گیا تھا !!!!
آہل پریشان سی حالت میں آفس سے باہر آتا ہے گاڑی کو انلاق کرتا دروازہ کھول کر بیٹھا گاڑی کو تیز رفتاری سے بریرہ کے کالج کی طرف گامزن کر دی !!!
اللہ اللہ کر کے ان تینوں نے گفٹ لیا زارا کی برتھڈے کے لیے !!! مرش تو کل ہی گفٹ لینے کے لیے نکلی تھی !! اس ایکسیڈینٹ کے بعد مرش کی ہمت نیہں تھی گفٹ لے کر گھر جاے !!! لہزا کل کی نسبت اس نے آج گفٹ لیا !!! ایک دو سیلر مین سے تو مرش کی اچھی خاصی بحث ہو گی تھی !!!
فایزہ بیگم کا پریشانی سے برا حال تھا !!! مرش کو کال کر کر تھک گی تھی لیکن مجال ہے جو اس لڑکی نے کال ریسیو کی ہو ۔۔۔۔۔ فایزہ بیگم کا کسی انہونی ہونے کی دستک سے دل لرز اٹھا ۔۔!!!!!
بریرہ کا پریشانی سے برا حال تھا اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندے ٹپکنے لگی تھی !!!! بس ایک دو لوگ ہی رہے گے تھے !!! جن سے بریرہ کی ہمت تھوڑی بہت بچی تھی !!! آہل کی خوبصورت بلیک کار گیٹ کے پاس رکی !! آہل دروازہ کھولتا تیزی سے بریرہ کے پاس آیا !!! ایم سوری میری جان !!
آہل کی مریم بیگم کے ساتھ لاکھ دشمنی سہی لیکن بریرہ کے لیے اس کے دل میں ہمیشا عزت اور احترام تھا !!!! کیوں کی اس کے ماضی میں بریرہ کا کویی قصور نظر نہی تھا !!!!! آہل بریرہ کا ہاتھ تھامے گاڑی کے پاس لے گیا دروازہ کھولتا بیٹھنے کو اشارہ کیا !!!!!
آہل کو سامنے دیکھ کر بریرہ کی سانس بجال ہویی !!!
آیس کریم کھانے چلے ؟؟؟
آہل اپنی غلطی کی تلافی کچھ اس طرح سے کرنا چاہا !!!
نہی بھایی دل نہیں چاہ رہا !!
بریرہ طمانیت سے مسکراتی ہویی بولی !!!
ان تینوں نے اپنے اپنے گھر کی راہ لی !!! مرش دبے قدموں گھر میں داخل ہویی فایزہ بیگم کی نظر اس پڑی اور غصے سے چلتی ہویی اس کے پاس آیی !!!! “”””” مرش یے وقت ہے تمہارے گھر آنے کا !! فایزہ بیگم دیوار گیر گھڑی کی طرف نظریں مرکوز کرتی ہویی بولی !!! فایزہ بیگم زمانے سے خوف کھاتی تھی !!!
ایم سوری امی ۔۔۔۔ اب کبھی لیٹ نہی ہوگا !!! مرش کو صہیح معنوں میں شرمندگی ہو رہی تھی !!
فایزہ بیگم بلا وجا زمانے سے نہی ڈرتی تھی !! زمانے ہی اتنا خراب ہے !!! ۔۔۔ نہی اگر دیکھا جاۓ تو زمانے نہی زمانے میں رہنے والے لوگ خراب ہے !! ہم تو زمانے کو خواہ مخواہ ہی بدنام کر کے رکھے ہے !!!
امی اب کبھی لیٹ نہیں ہوگا ایی پرامس یو !!! ۔۔۔۔۔۔۔ مرش آج یے آخری مرتبا معاف کر رہی ہوں آج سے ایسی گلتی کبھی نہی کروگی ؟؟ ٹھیک ہے امی کبھی نہیں وادا کرتی ہوں آپ سے !! مرش معصوم سی شکل بناتے ہوے بولی !!! چلو ہاتھ منھ دھو کر کھانا کھاو !!! فایزہ بیگم کہتی کھانے لگانے میں مصروف ہو گی !!
کھانا کھانے کے بعد مرش اپنے کمرے میں آیی !! تھکن کی وجا سے بدن میں کراہیت ہو رہی تھی ۔۔۔۔ کل پارٹی میں اسے فریش دکھنا تھا ۔۔ مرش ابھی سونے کے لیے لیٹی ہی تھی !! آنکھیں بند کرتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے آہل شاہ آفندی کا مسکراتا ہوا چہرا سامنے آیا !! مرش جلدی سے اٹھ بیٹھی مرش کی نیندیں آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔۔۔ کس وجا سے وہ خود انجان تھی !!! اس نے اٹھ کر کھڑی سے پردے ہٹاے چمکتا چاند پوری آب و تاب سے روشنی دے رہا تھا ۔۔۔ مرش اپنی ہی سوچوں میں محو تھی !!!
“”نظروں سے قتل کرنے والے کا ہر قتل قبول ہے “”!! بہت ہی انجان مسکراہٹ نے مرش کے ہونٹوں پر احاطا کیا !!!
مرش خود کو سر زنش کرتی کھڑی بند کی !! بیڈ پر لیٹتے ہوے اس نے آہل شاہ آفندی کو دو چار گالیوں سے نوازا !!
نیند نے اب اس کے اوپر قبضا کر لیا تھا !! مرش آج معمول سے پہلے سو گی تھی صبح پارٹی میں جو جانا تھا !!!!! ۔۔۔۔۔۔۔
,*
اہل پیچھے سے کسی نے آواز دی۔۔۔۔اہل نے گردن موڈی پیچھے مریم بیگم اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کھڑی تھیں
جی اہل جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا،،،اور بہت ہی برداشت کے ساتھ ان کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔
یہ دودھ لائی تھی میں،،،،فائزہ بیگم دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
کس خوشی میں اہل نے ہنس کر پوچھا ،،،
پرابلم کیا ہے آپ کی ،،،نہیں آپ کو ہزار بار بتا چکا ہوں ،،،دور رہا کریں مجھسے ،،،شاید آپ کو میری بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔
اپنا یہ گلاس اٹھایں اور جایئں یہاں سے پلیز ۔۔۔۔۔
اہل نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا_ اہل میری جان!میں تمہاری ماں ہوں۔مریم بیگم کی آنکھوں سے کچھ موتی ٹوٹ کر گرے۔۔۔ مآئیں تو ایسی نہیں ہوتیں۔۔۔میری ماں کو مجھ سے چھین کر آپ ماں ہونے کا حق جتا رہی ہے۔ اہل کے لہجے میں بدتمیزی نمایاں تھی _اہل تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو،،،،میری بات تو سنو ،،
مریم بیگم آگے بڑھتی اسے پہلے اہل نے جوس کا ٹرے ان کے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔۔۔
وہ رہا باہر جانے کا راستہ،،،اہل باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،،،
مریم بیگم آنسوں پوچھتی ایک نظر اہل پر ڈال کر کمرے سے باہر چلی گیں
ہارے ہوئے انسان کی طرح اہل بیڈ پر گر پڑا،،،اور اپنی آنکھیں موند لی ۔۔۔۔۔
جاری
