Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
مام آپ یہاں کیا کر رہی ہے ؟ فایزہ بیگم سے بات کرنے کے بعد مرش سیدھا بارچی خانے میں آ گیی تھی اپنے لیے اپنے ہاتھوں سے اسپیشل کافی بنانے کے لیے لیکن مریم کو بیگم کو وہاں کھڑا دیکھ کر پوچھ بیٹھی ۔۔
بیٹا میں تمہارے بابا کے لیے چاے بنا رہی ہوں انہیں میرے ہاتھ کی چاے بہت پسند ہے ۔ مریم بیگم نے مسکرا کر جواب دیا ۔
آپ ہٹیں میں بنا دیتی ہوں ۔ مرش نے آگے بڑھتے ہوے کہا ۔۔
ارے نہیں نہیں میں لیتی ہوں بیٹا آپ جا کر آرام کرے ۔۔ مریم نے محبت بھری شفقت سے کہا ۔۔
مام آپ اتنی اچھی ہے اتنی محبت کرنے والی مجھے رو بلکل اپنی امی کی طرح لگتی ہے ۔۔ مرش کو اس پورے گھر میں مریم بیگم سب سے زیادہ اچھی لگتی تھی ۔۔
مایں اپنے بچوں سے اسی طرح پیار کرتی ہے بیٹا ۔۔ مریم بیگم نے چولہے پر چاے کا پانی چھڑاتے ہوے کہا ۔
تو پھر بچے کیوں نہیں کرتے آہل بھی تو آپ ہی کا بچہ ہے اس کا رویہ آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہے ؟ مرش اتنے دنوں میں جان چکی تھی آہل شاہ آفندی کا رویہ اپنی ماں کے ساتھ کیسا تھا لیکن کیوں ؟؟
آہل بہت اچھا ہے مرش بس غصہ کا تھوڑا تیز ہے ورنہ مجھے تو لگتا ہے وہ مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے !! مریم بیگم نے نظریں چراتے ہوے بڑی صفایی سے جھوٹ بولا تھا ۔۔
تم یے سب چھوڑو کیا باتیں لے کر بیٹھ گیی ہو چلو ۔۔مریم بیگم ٹرے ہاتھ میں باورچی خانے سے باہر نکل چکی تھی ۔۔
مرش کال پک کرو !! یے تیسری بیل جا رہی تھی مرش کے فون پر آہل کی کال لیکن اس بار بھی آہل کو ناکامی کا سامنہ کرنا پڑا ۔۔
کال کیوں نہیں پک کر رہی ؟ آہل میٹنگ سے پھری ہونے کے بعد مرش کو تنگ کرنے کے حوالے سے کال ملا رہا تھا لیکن جواب ندارد !
مرش مجھے معاف کر دینا میں جانتا ہوں تم مجھ ناراض ہو تمہارا حق ہے مجھ پر غصہ کرنا لیکن میں نے سب تمہارے لیے کیا تھا تمہیں میں اپنی وجہ سے کویی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا لیکن میں مجبور ہوں مرش میں یے سب کچھ صرف تمہارے لیے کر رہا ہوں کیوں کی میں تمہیں اپنی وجہ کویی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تمہارے اوپر سختی کرنا بھی میری ایک مجبوری ہے لیکن شاید تم کبھی نہیں سمجھو گی ۔۔ مرش کا نام موبایل اسکرین پر پوری آبوتاب سے چمک رہا تھا آہل ایک ٹک اس کے نام پر نظریں جماے اپنی ان خطاوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو شاید اس نے کیا ہی نہیں تھا ۔۔
مرش کس کی کال ہے بیٹا پک کر لو ۔۔ مریم بیگم نے مرش کا موبایل دیکھ کر کہا ۔۔مرش اپنے ارد گرد سے بے خبر میگزین میں منھ گھساے کچھ پڑھنے میں مگن تھی حالانکی رنگ کی آواز اس کے کان با آسانی سن رہے تھے لیکن آہل شاہ آفندی کا نام پڑھ کر اس نے فورن نظرانداز کرنا شروع کر دیا تھا ۔۔
کسی کی نہیں مام رانگ نمبر ہے ۔۔ مرش نے بناوٹی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر مریم بیگم کو یقین دلایا ۔۔
اچھا یے لو کافی پیو تمہارے ڈیڈ بھی بس آ رہے ہیں ۔۔ کافی کا ایک مگ مرش کو پکڑا کر مریم بیگم صوفے کی ایک وسط میں بیٹھ گیی اتنی ہی دیر میں جاوید صاحب بھی تشریف لے آے ۔۔ اب وہ تینوں گپ شپ کرنے میں مگن تھے ۔۔۔۔
آہل آج آفس سے جلدی آ گیے ؟ آہل شاہ آفندی ایک ہاتھ میں موبایل دوسرے ہاتھ میں کوٹ پکڑے آنکھوں پر بلیک سن گلاسیز ٹکاے وہ بلا کا خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔
بس یوہی آج میں سوچ رہا تھا مرش کو ڈنر پر ساتھ لے کر جاوں ۔۔ جاوید صاحب کے پوچھے گیے سوال پر آہل نے ایک نظر سامنے بیٹھی دشمن جاں کو دیکھ سرسری سا جواب دیا ۔۔
مرش کیا ہو گیا ہے ٹھیک تو ہو تم مرش ایک اچانک س شروع ہونے والی کھانسی سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی بریرہ ہاتھ پکڑے بیگ کو صوفے پر اچھالتی مرش کی جانب دوڑی ۔۔
ہا ہاں ۔ ۔۔ میں ٹھیک ہوں بہت شکریہ ۔۔ پانی کا گلاس تھامتے ہوے اس نے گٹ گٹ پانی کا گھونٹ گلے کے نیچے اتارا ۔۔
مجھے لگتا ہے میرے سر میں بہت درد ہو رہا ہے ۔۔ مرش نے اپنا سر پکڑ کر ایک نیا ہھتیار استعمال کیا ۔۔
پین کلر کھاو سہی ہو جاے گا آج رات میں تیار رہنا ۔۔ آہل ایک سرد نظر مرش کی ایکٹنگ پر ڈال کر رہا ۔۔
میں کیسے جاوں گی میرے سر میں درد ہے ۔ ۔۔ مرش کو بے حد غصہ آ رہا تھا اگر وہ نہیں جانا چاہتی پھر کیوں جاے ۔۔
پہلے ڈاکٹر کے پاس چلیں گے اس کے بعد ڈنر پر ۔۔ آہل نے فورن مسلہ کا حل نکالا ۔۔
ڈاکٹر کے پاس کیوں ؟؟ مرش کی زبان یک لخت پھسلی ۔۔
کیوں کی تمہارے سر میں درد ہے ۔۔ آہل نے اسے جتاتی ہوی نظروں سے دیکھا ۔
اچھا ہاں سر میں درد ہے ۔۔ اپنے بولے گیے جھوٹ شکر ہے مرش کو فورن یاد آ گیے ۔
یے تو بہت اچھی بات ہے مرش اس سے تمہاری بوریت بھی ختم ہو جاے گی ۔۔ بریرہ نے خوش ہوتے ہوے کہا۔۔
آ۔ ۔ م۔ میں ایک شرط پر جاوں گی ۔۔مرش معصوم بنتے ہوے مریم بیگم سے مخاتب ہویی ۔۔
آہل نے مشکوک کن نظروں سے مرش کو دیکھا ۔۔
وہ شرط یے ہے کی اگر بریرہ بھی میرے ساتھ جاے گی تو میں جاوں گی ویسے ڈیڈ مام میں تو کہتی ہوں آپ لوگ بھی چلیں ہمیں بہت خوشی ہوگی ہے نہ آہل ؟؟ آنکھیں پٹپٹا کر مرش نے اپنے بنے بناے منصوبے میں آہل کو بھی شامل کرنا چاہا ۔۔
آ۔ ۔ جی ۔۔ آہل کی زبان سے الفاظ بہ مشکل نکل رہے تھے یے لڑکی تو اس کی سوچ سے زیادہ چالاک نکلی ۔۔
نہیں مرش میں ؟ میں کیسے جا سکتی ہوں آیی مین کباب میں ہڈی بن کر میں پھر کبھی چلی جاوں گی فلحال تو تم لوگ جاو ۔۔ بریرہ فورن مرش کی آفر ٹھکرا دی ۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہو بریرہ پاگل ہو دیکھو تم جاو گی تو ہی میں جاوں گی ۔۔مرش نے منھ پھلاتے ہوے کہا ۔۔
لیکن میں کیسے ؟؟؟؟ بریرہ بے چاری پھنس چکی تھی ۔۔
ہاں ضرور کیوں نہیں بریرہ ساتھ چلو تم بھی ۔۔ آہل نے خوشی خوشی اپنی پیاری بہن کو بھی شرکت کے کیے مدعو کر چکا تھا اب ظاہر ہے مرش نے اسے اتن مجبور جو کر دیا تھا وہ انکار تو نہیں کر سکتا تھا ۔۔
لیکن میں ؟؟ بریرہ ابھی بھی وہی پر اٹکی ہویی تھی وہ کیسے دو لوگوں کے بیچ ہڈی بن کر ڈسٹرب کرے گی ۔۔
لیکن ویکن کچھ نہیں تمہیں ساتھ چلنا ہے ۔مرش نے ڈپٹتے ہوے کہا ۔۔
اوکے ڈن میں چلوں گی تمہارے ساتھ اب خوش !
بہت بہت بہت زیادہ خوش ۔۔مرش نے فورن بریرہ کے گلے لگ کر خوشی سے جھوم اٹھی ۔۔
آہل نے ایک نظر اس چالاک لومڑی پر ڈالی جس کی آنکھوں میں فتح کی چمک تھی۔ ۔
آو بیٹھو چاے پیو ہمارے ساتھ ۔۔ جاوید صاحب آج بہت اچھے موڈ میں تھے شاید مرش کی وجہ سے اس لیے آج اپنے شہزادے کی ساری بدتمیزیاں بھلا کر چاے پینے کی آفر کر دیے ۔۔
نو تھینکس ۔۔ آہل بے فکری سے جواب دے کر سڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
ہا ہا ہا سچی زارا وہی تو کچھ لوگ سوچتے ہیں وہ جو کہے گے وہی ہوگا جیسا چاہیں گے ویسا ہوگا لیکن بے چارے کبھی کبھی الٹے منھ زمین پر ایسے پھسلتے ہے کی بس ہا ہا ہا ۔۔ مرش موبایل کان سے لگاے قہقہے مار مار کر زارا سے باتیں کر رہی تھی جبکی سچ تو یے ہے کی زارا کی کال کا نام و نمود نہیں تھا۔۔ بس آہل کا مزاق اڑانے کے لیے اس کو نیچا دکھانے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی ۔۔
آہل صوفے پر ٹانگ پھیلاے سگریٹ ہاتھ میں لیے مرش کی ایک ایک جملے کو بڑی دلچسپی سے سن رہا تھا ۔۔
کیا ۔۔۔ ہاہا ہا ایسے لوگوں کو لگتا ہے وہ خدا ہے وہ کویی دیوتا ہے جو ان کی پوجا کی جاے لیکن سچ تو یے ہے کی ان کی اتنی سے بھی حیثیت نہیں ہوتی ۔۔ مرش آہل کو کن اکھیوں سے ایک ایک منٹ پر دیکھ لیتی تھی ۔۔ اور پھر پھر نیی نیی لاینز سوچ لیتی تھی اس کے آگے کیا بولنا ہے ۔۔
اچھا ٹھیک ہے زارا میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں اپنا خیال رکھنا اللہ حافظ ۔۔مرش موبایل بیڈ پر رکھ کر واڈروب سے کپڑے نکالنے لگی ۔۔
تمہارا فون کہاں تھا ۔۔ آہل نے سرد آواز میں پوچھا ۔۔
میرا فون کہاں ہونا میرے پاس ہی تھا ۔۔ مرش نے عام سے انداز میں جواب دیا ۔۔۔
تو کالز کیوں نہیں پک کر رہی تھی ۔۔ آہل اب سیدھا پواینٹ کی بات کر رہا تھا۔
کس کی کالز ؟ مرش نے انجان بن کر پوچھا ۔
ظاہر ہے میری ۔۔ آہل کو اب غصہ آ رہا تھا ۔۔
کیوں میں تمہاری غلام ہوں جو کالز پک کرو اتنا فالتو وقت نہیں ہوتا میرے پاس اور یے جو تم کر رہے ہو نہ بہت غلط کر رہے ہو آہل بہت غلط تم مجھے تکلیف دینا چاہتے ہو بات سنو میری یے سب چونچلے مجھ سے نہیں ہوتے برداشت بہتر یہی ہوگا آج کے بعد تم اپنی فضول کی خواہشات میرے سپرد مت کرنا ۔۔مرش کے ایک ایک لفظ میں کڑواہٹ گھلی تھی ۔۔
ہو گیا جا کر کپڑے چینج کرو ۔۔ آہل مرش کی باتوں کو یوں نظرانداز کر رہا تھا جیسے اس نے کسی اور سے کہا ہو ۔۔
تم ۔۔۔تم میری بات مرش نے چلا کر کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس پہلے آہل اس کے منھ پر سختی سے اپنے ہاتھوں سے دبا کر دیوار کے پاس لے گیا ۔۔۔
چینج کر رہی ہو یہ پھر میں کچھ ہیلپ کرواں ۔۔ آہل نے اپنا ایک ہاتھ دیوار پر رکھ کر مرش کے ارد گرد گھیرا بنایا ہوا تھا جہاں سے اسے آزادی ملنی تھوڑی مشکل تھی ۔۔
دور رہو مجھ سے مرش نے ہمت کر کے بس اتنا ہی الفاظ بہ مشکل ادا کیا تھا ۔
ہو گیا دور اب خوش دس منٹ کے اندر اپنا حولیہ دورست کر کے آو ۔۔ آہل نے اپنا ہاتھ پیچھا کھینچ لیا تھا جس مرش فورن اس سے تھوڑا فاصلے پر ہو گیی تھی ۔۔
براون کلر کے سوٹ میں مرش آج ضرورت سے زیادہ ہی اچھی لگ رہی تھی ریڈ کلر کا دوپٹہ اپنے ارد گرد پھیلاے کسی معصوم گڑیا سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔ آنکھوں میں کاجل کی ہلکی لکیر لبوں پر تھوڑا سرخی سجاے ہایی ہیل پیر میں ڈالے نک سک سے تیار ہو کر مرش بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
اس کے بر عکس آہل شاہ آفندی ٹوٹل بلیک تھریپی سوٹ میں ملبوث تھا کیوں کی بلیک کلر اس کا موسٹ فیوریٹ کلر تھا ۔۔
آینے کے سامنے کھڑے ہو کر مرش اپنے سلیقے سے کیے گیے میک اپ کو آخری ٹچ دے رہی تھی جبھی اس کے موبایل پر تین بار میسیج رنگ ہویی ۔۔
آہل کی نظر اچانک بیڈ پر رکھے موبایل پڑی اس سے پہلے کی وہ ہاتھ بڑھا کر موبایل کو ہاتھ میں لیتا مرش نے فورن جھپٹ لیا ۔۔
میری چیزوں کو ہاتھ لگانے کی کوشش بھی مت کرنا ۔۔ کھا جانے والی نظروں سے مرش نے آہل کو دیکھا ۔۔
جان تمہارے دانتوں کے نشان اب بھی میرے ان گنہگار ہاتھوں پر نشان چھوڑ گیے ہے ویسے میں نے اپنا تعاروف نہیں کروایا ۔۔میں علی ! علی شہروز نام تو سنا ہی ہوگا یار قسم سے اس دن کیا غضب کی ڈھا رہی تھی دل کر رہا تھا تمہیں اپنے سنگ اڑا لے جاوں ۔۔ آج کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے باقی کی باتیں بعد میں کریں گے ۔۔ لفظ بہ لفظ مرش نے ایک ایک لفظ پڑھا ویسے ویسے اس کی سانسیں دم توڑنے لگی تھی چہرے پر بارہ بج رہے تھے ۔۔
آیی یو اوکے ! مرش کو اس طرح حواس باختہ دیکھ کر آہل نے پوچھا ۔۔
ی۔ ۔ی۔ یس ایی ایم فاین ۔۔ مرش نے ہکلاتے ہوے بات بنایی ۔۔ لیکن مرش کے چہرے کے تاثرات سے کویی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کویی نہ کویی بات ضرور ہے ۔۔ اوکے میں باہر ویٹ کر رہا ہوں ۔آہل کمرے سے جا چکا تھا پیچھے مرش دم سادھے کھڑی تھی یا اللہ اب یے کون سی نیی آزمایش ہے مجھے بچا میرے مولا ۔۔ مرش کے لرزتے لب فورن اللہ سے دعا گو ہوے ۔۔۔
کہاں پر ہے تو آہل ایک ہاتھ سے ڈرایونگ کرنے کرنے کے ساتھ ساتھ فارس سے کال پر بات بھی کر رہا تھا ۔۔
آج میری طرف سے ٹریٹ لے لے آ جا ۔۔ آہل نے ہنستے ہوے اپنے عزیز دوست کو مدعو کیا ۔۔
اوے ہوے آج تو بڑا خوش لگ رہا ہے ٹھیک ہے آتا ہوں بھابھی سے ملنے ۔۔ فارس نے چہکتے ہوے کہا ۔۔
گاڑی شہر کے مہنگے ترین ریسٹورینٹ کے سامنے جا کر رکی تھی ۔۔
وہ تینوں گاڑی میں سے نیچے اترے مرش مسلسل آہل کو نظر انداز کیے بریرہ سے باتوں میں مگن تھی وہ آہل کو مکمل طور پر فراموش کر چکی تھی ۔۔
واو بریرہ نے ریسٹورینٹ کی تعریف کی یے ایک ایسا ریسٹورینٹ تھا جہاں شاید صرف پیسے والے ہی جا سکتے تھے اندر بلا کی خاموشی تھی ۔۔ دو تین ٹیبلس پر شاید کپلس بیٹھے ہوے تھے ۔۔ اتنی ہی دیر میں فارس بھی آ چکا تھا ۔۔
ہیلو ایوری بڈی !! فارس نے چہکتے ہوے سب کو سلامی کی اچانک اس کی نظر نروس سی بیٹھی بریرہ پر پڑی یے اتفاق تھا شاید آج اتنے دنوں بعد ان کا دیدار عشق ہوا تھا ۔۔
مجھے پتہ تھا تو ضرور آے گا ۔۔ آہل نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ فارس کا مزہ لیا ۔
کیسا نہ آتا ویسے بھی میرے خیال سے اتنی شاندار ٹریٹ کویی پاگل ہی ٹھکراے گا ۔۔ فارس نے کورٹ کی بٹن بند کرتے ہوے کہا ۔۔
مرش یے ہے فارس میرا عزیز دوست ۔۔ آہل نے مسکرا کر فارس کا تعاروف کروایا ۔۔
اسلام علیکم فارس کیسے ہے آپ ؟؟ مرش نے آہل کو یسکر نظر انداز کر کے فارس کو مخاتب کیا ۔۔
وعلیکم اسلام مرش بھابھی بس اللہ کا شکر ہے ۔۔ فارس نے خوشدلی کا مظاہرہ کیا ۔۔
وہ دونوں باتوں میں یوں مگن تھے جیسے ان کے علاوہ اور کویی ہے ہی نہیں ۔۔
ہیلو بریرہ !! خاموش بیٹھی بریرہ کو فارس نے مخاتب کیا ۔۔
ہاے ! بریرہ نے بس مسکرانے پر ہی اکتفا کیا حالانکی گا ہے بگا ہے ایک نظر فارس پر ڈال لیتی تھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ۔۔
فارس آپ اتنے اچھے ہے پھر آپ نے ایسے ایسے لوگوں کو کیوں دوست بنایا ہے ۔۔ مرش نے ایک نظر آہل پر ڈال کر منھ کا زاویہ بگاڑ کر پوچھا ۔۔
میرے خیال سے آپ آہل کی بات کر رہی ہے اگر ایسا ہے تو آپ کی سوچ غلط ہے میرا یار تو بہت ہی دلدار ہے ۔۔فارس نے آہل کو ایک آنکھ مار کر اپنے لفظوں میں تعریف کی ۔۔
اتنی ہی دیر میں سب کی پسند کی ڈشیز آ چکی تھی ویٹر نے ایک ایک چیز کیفایت سے ٹیبل پر رکھا ۔۔
سر اور کچھ ؟ ویٹر دونوں ہاتھ سلیقے سے باندھے نظریں نیچے جھکاے کھڑا تھا ۔۔
نہیں بہت شکریہ ۔۔ آہل نے سرسری سا جواب دیا ۔
اوکے سر ! ویٹر واپس جا چکا تھا ۔
ٹیبل پر بیٹھے سبھی نفوس کھانے میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔ ایک چییر پر آہل اس کے سامنے والی چییر پر مرش بیٹھی ہویی تھی اسی طرح فارس کے عین سامنے بریرہ بیٹھی ہویی تھی ۔۔
اوہ ۔۔ مرش کی زبان سے ہلکی سی چینخ برامد ہویی کسی بہت مضبوط جوتے کی نوک اس کے پیروں پر پڑی تھی ۔۔ اب یے شخص مجھے یہاں پر بھی سکون نہیں لینے دے گا ابھی بتاتی ہوں اسے ۔۔۔
مرش نے اپنی ہایی ہیل سے ایک زوردار گھوسا آہل کے پیروں جڑا ۔۔
آہم آہم آہل ابھی اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا بہ مشکل اس نے کھانسا درد کی ایک شدید لہر اس کے پیروں میں اٹھی تھی آخر مرش نے اپنی پینسل جیسی ہیل سے حملہ بولا تھا ۔۔
تو ٹھیک ہے !! فارس نے آہل کو بغور دیکھ کر پوچھا ۔۔
یس ایم فاین ! ایک تیز نظر سامنے بیٹھی مرش پر تیکھی نظر ڈال کر آہل نے کہا ۔
بریرہ کو یوں کھانے میں مگن دیکھ کر فارس نے ایک اور کک مارنا چاہا ۔۔ اس کی سمجھ سے باہر تھا بریرہ کویی رسپانس کیوں نہیں دے رہی لیکن اسے نہیں پتہ تھا وہ گھونسا بد قسمتی سے مرش کو جا لگا تھا ۔۔
فارس نے پھر سے ایک زوردار کک بریرہ سمجھ کر مرش کو جڑ دیا ۔۔
اف !! یا اللہ اس کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا لگتا ہے ایک گھونسے کی اور ضرورت ہے اسے تو یے لو ۔۔ مرش نے فورن پہلے سے بھی زیادہ تیز کک آہل کے پیروں پر جڑنا چاہا ہاے اس سے پہلے کی آہل کے پیر پھر سے زخمی ہوتے اس نے فورن پیر پیچھے کر لیا ۔۔مرش کا پیر یکدم کسی لوہے سے ٹکرایا درد کی ایک شدید لہر اس کے معصوم پیروں پر گزر رہی تھی ۔۔
مرش کیا ہوا ؟؟ آہل نے اپنی شریر مسکراہٹ دبا کر پوچھا ۔۔
کچھ نہیں ۔۔مرش نے اپنے لب کچلتے ہوے کہا ۔۔
اچھے سے کھانا کھاو ۔۔ آہل نے کھانے کی طرف اشارہ کیا ۔۔
ہمم ۔۔ فارس نے گلا کھنکھار کر بریرہ کو متوجہ کرنا چاہا ۔۔
بریرہ نے فورن نظریں اٹھا کر دیکھا ۔۔
فارس نے نیچے کی جانب اشارہ کیا ۔۔
بریرہ نے نا سمجھی سے گردن ہلایی ۔۔
فارس نے پھر سے ایک کک مارنی چاہی لیکن اس سے پہلے مرش نے فورن نیچے جھک کر دیکھا ۔۔
یا اللہ یے تو فارس ہے لیکن یے مجھے کک کیوں مار رہا ہے ۔۔مرش نے اٹھتے ہوے سوچا ۔۔
میں میں ہوں یار ۔۔ مرش نے شہادت کی انگلی اپنی جانب کر کے فارس کو اشارہ کیا ۔۔
اوہ نو ۔۔ فارس ایک لمحے کے لیے ہل ڈول نہیں سکا ۔۔۔
آہل ہر چیز سے بے خبر ٹشو سے اپنی پوروں کو صاف کر رہا تھا جبھی اس کی نظر لاسٹ ٹیبل پر بیٹھے شخص پر پڑی جو بڑی دلچسپ نگاہوں سے انہی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
یے گھٹیا انسان یہاں پر کیا کر رہا ہے ۔۔ آہل نے سوچ کن نظروں سے علی شہروز کو دیکھا ۔۔۔
یاے آہل !! علی بنا تاخیر کیے چل کر آہل کے ٹیبل پر آ دھمکا ۔۔
مرش نے نظریں اوپر کی جانب اٹھا کر دیکھا ایک لمحے کو لگا تھا آج اس کا آخری دن ہے مرش کی ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمک رہی تھی ۔۔ اوہ میرا خدایا یے کمینہ انسان یہاں پر کیا کر رہا ہے کہیں یے میرے لیے تو نہیں آیا اس کے میسیج ۔۔ مرش کا ڈرنا بلاوجہ نہیں تھا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا یہاں پر علی بھی ہو سکتا ہے ۔۔
یہاں پر کیا کر رہا ہے تو ۔۔ آہل دبے لفظوں میں غرراتے ہوے پوچھا ۔۔
جو تو کرنے آیا ہے ہاں یے الگ بات ہے کی میرے ساتھ کویی حسینہ نہیں ہے ۔ علی نے اپنی خباثت سے بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔۔
اپنی بکواس بند کر ۔۔ آہل کو اب طیش آ رہا تھا ۔۔
جتنے ملین لینے ہے لے لیں صرف آج کی رات اپنی خوبصورت بیوی کو میرے حوالے کر دے قسم سے صرف آج کی رات میں بھی تھوڑے مزے کر لوں ۔۔ علی شہروز کے ایک ایک لفظ سے اس کی بغیرتی ظاہر ہو رہی تھی ۔۔
علی !!! آہل نے شدید غصے کے عالم میں علی کا گریبان جکڑ کر ایک گھونسا اس کے منھ پر دے مارا جس سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا سیدھا زمین پر جا گرا ۔۔
ایک لفظ بھی اپنے منھ سے نکالا زبان کاٹ دوں گا تیری ۔۔ آہل کی آنکھیں غصے کی وجہ سے لال ہو چکی تھی ۔۔
مرش منھ پر ہاتھ رکھ کر پھٹی پھٹی نظروں سے کبھی آہل کو کبھی علی کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کا دل دھڑکنا بند ہو چکا تھا ۔۔
تو نے مجھ پر پھر سے ہاتھ اٹھایا علی نے بھی ایک زوردار کک آہل کو ماری جس سے آہل کا پیشانی مرش کی چییر سے جا لگی ۔۔
تیری اتنی ہمت فارس نے ایک زوردار گھونسا علی کے پیٹ میں جڑ دیا جس سے وہ پھر سے زمین پر جا گرا تھا ۔۔ لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہو چکا تھا سب حیرت زدہ اس فایٹنگ کو آنکھ پھاڑے دیکھ رہے تھے ۔۔
تو نے بیچ میں آ کر اچھا نہیں فارس یاد رکھنا میرا نام علی ہے تجھ سے بھی میرے کیی حساب باقی ہے یے جو تو آج کل رنگرلیاں منا رہا ہے نہ اچھے سے جانتا ہوں میں اپنی خیریت سوچ کر رکھنا بیٹا ۔۔۔ علی فارس کے کان میں پھسپھسا کر نہ جانے اسے کیا باور کرا گیا تھا ۔۔
ایم سو سوری سر ایم ریلی سو سوری ۔۔ مینیجر دوڑ کر آہل کی ٹیبل کے پاس آیا بھر پور شرمندگی کے ساتھ اس نے معافی مانگی ۔۔
اٹس اوکے آہل اپنی پیشانی پر رومال رکھ کر بولا ۔۔
آہل تمہیں تو خون بہہ رہا ہے پلیز اسے روکو ۔۔ مرش کی آنکھیں کب کیسے اپنے آپ آنسوں سے لبریز ہو چکی تھی ۔۔
؟میرے اتنے چھوٹے سے زخم پر اتنے آنسوں بہا رہی ہو جس دن میں مر گیا اس دن کیا کرو گی۔۔ آہل نے مسکرا کر مرش کو چھیڑا ۔۔
آہل پلیز یے وقت ایسی باتوں کا نہیں ہے تمہیں تو بہت خون بہہ رہا ہے پلیز ڈاکٹر کے پاس چلو ۔۔ مرش نے روتے ہوے کہا ۔۔
ہاں یار پہلے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے ۔۔فارس نے بھی ہاں میں ہاں ملایی ۔۔
نو نیڈیڈ ۔۔ گھر چلو ۔۔ آہل نے بے فکری سے جواب دیا ۔۔
لیکن ؟ فارس نے ابھی کچھ بولنا چاہا درمیان میں ہی فارس نے اس کی بات کاٹ دی ۔۔
پلیز گھر چلو یار ۔۔ آہل نے بے زاریت سے جواب دیا ۔۔
ڈرایونگ سیٹ فارس نے سمبھال لی تھی آہل فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔۔ مرش اور بریرہ پیچھے کی سیٹ پر بر اجمان تھی ۔۔
گاڑی زور شور سے روڈ پر رواں دواں تھی ۔۔ وہ چاروں خاموشی سے بیٹھے تھے اس ہونے والے واقع کو سوچ سوچ کر مرش کا ذہن ماوف ہو چکا تھا ۔۔۔
