122.8K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

آہل شاہ آفندی یہی نام ہے نہ تمہارا ہا ہا ہا ۔۔ علی شہروز کی ہنسی بے وجہ تھی ۔۔
اگر تم اتنے ہی فارغ تھے تو کسی قلب میں چلے جاتے کیوں کی میں تمہاری طرح فارغ نہیں ہوں ۔۔۔آہل کو اب مزید غصہ آ رہا تھا ۔۔
بیٹھ جاو پہلے ۔۔چییر کی طرف اشارہ کیا گیا تھا ۔۔
تم یہاں آنے کا مقصد بتاو ۔۔۔ آہل شاہ آفندی نے قدرے رسان سے کہا تھا ۔۔
تمہارا عزیز دوست نظر نہیں آ رہا کہاں ہیں ؟؟ علی یہاں وہاں گردن کا رخ کر کے دریافت کر رہا تھا ۔۔
اس سے تمہیں کویی غرض نہیں ہونا چاہیے مطلب کی بات کرو تم ۔۔آہل کو بے تحاشہ غصہ آ رہا تھا اس گھٹیا انسان کو مزید برداشت کرنا اس سے باہر تھا ۔۔
اسی سے تو غرض ہے سمجھ میں نہیں آ رہا بات کا آغاز کہاں سے کیا جاے ۔۔علی شہروز نے نہایت پرسکون سے جواب دیا تھا ۔۔
کون سی بات ؟؟ آہل نے پوچھا تھا ۔۔
چی چی چی بہت افسوس ہوا مجھے لیکن اب کیا کر سکتے ہیں ایک راز کی بات بتاوں تمہارا دوست اصل میں اول درجے کا گھٹیا انسان ہے !! علی شہروز نہایت اطمینان سے جنگل میں آگ لگا رہا تھا ۔۔
جو کہنا ہے کھل کر کہو پہلیاں بجھوانے کا میرے پاس وقت نہیں ہے ۔۔اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر آہل نے بڑے سکوت سے کہا تھا ۔۔
تو مجھ سے بہت آگے تھا نہ بزنیس میں پیسے میں شہرت میں لیکن افسوس تیرا نام میں ایک لمحے کے اندر مٹی میں ملانے کی طاقت رکھتا ہوں اب آہل شاہ آفندی واہ بلا کا غرور تھا نہ تجھے لیکن تو اب مجھ سے ڈر ۔۔ علی اپنی جگہ سے اٹھ ہو کر آہل کے مقابل آ کھڑا ہو گیا تھا الفاظ کی چنگاریاں دہک رہی تھی آگ لگنے کو تھی شکاری جال میں آہستہ آہستہ پھنس رہا تھا ۔۔۔
مطلب کیا ہے تیرا !! آہل کی آنکھوں میں لال سرخی اتر آیی تھی لیکن آفس میں کویی تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا اس لیے بڑے تحمل کے ساتھ اسے برداشت کر رہا تھا ۔۔
تیری ایک بہن ہے نہ کیا نام ہے اس کا۔۔۔ بریرہ ہاں بریرہ نام تو سہی ہے نہ ۔۔خباثت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اپنے لگاے گیے اندازے کو دروست کرنے کے لیے اس نے آہل کی طرف دیکھا تھا ۔۔
علی !!! آہل کی برداشت اب جواب دے رہی تھی اس نے سختی سے اس کا گریبان پکڑا تھا ۔۔۔
غصہ نہیں اس دن ریسٹورینٹ میں دیکھا تھا اسے بڑی پیاری تھی اور بھولی بھی لکین گل تو بڑے بڑے کھلا رہی ہے اس کو دیکھ کر کویی اندازہ نہیں لگا سکتا میڈم کے اندر اتنی بیہودگی بھری ہے تیرا دوست فارس ویسے سچ میں کیا لمبا ہاتھ مارا ہے جس شخص کے اوپر تو اتنا بھروسہ کرتا ہے چی چی وہی تیری عزت پر ہاتھ ڈال رہا ہے مزا کر رہا ہے ۔۔۔۔ علی نے بھر پور مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بات کا آغاز مین پواینٹ سے کیا تھا ۔۔۔
اپنی بکواس بند کر علی ورنہ جان سے مار دوں گا تجھے ایک لفظ نہیں ۔۔۔ ایک ایک لفظ چبا چبا کر آہل نے طیش میں کہا تھا اس کی آنکھیں لال ہو رہی تھی ظاہر کویی بھی بھایی اپنی بہن کے بارے میں اس طرح کی باتیں تو سن کر خوش ہونے سے رہا ۔۔۔
مجھے پتہ تھا تو یقین نہیں کرے گا اس لیے میں ثبوت کے ساتھ تمہارے سامنے کھڑا ہوں تا کہ بعد میں مجھے کویی الزام نہ دینا ۔۔علی نے اب سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔۔
کیسا ثبوت ؟؟؟ آہل کے اندر ایک جھماکا سا ہوا تھا وہ کمزور سا شخص بلکل بھی نہیں تھا وہ تو بہت مضبوط تھا لیکن حالات کبھی کبھی کسی مضبوط سے مضبوط انسان کو بھی کمزور کر کے ہی چھوڑتے ہیں ۔۔۔
ایک منٹ ۔۔سب سے پہلے جیکٹ کی زیپ اوپر سے نیچے کی گیی تھی اندر ہاتھ ڈال کر ایک لمبا چوڑا لفافہ باہر نکالا گیا تھا جس کو بہت ہی حفاظت کے ساتھ اندر رکھا گیا تھا ۔۔۔
میں چاہتا ہوں اندر موجودہ چیز کو تم اپنے پاک صاف ہاتھوں سے نکالو ظاہر ہے یے تمہارا حق ہے اور میں کسی کا حق نہیں مارتا ۔۔۔علی نے ایک لمبی سانس لے کر لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا تھا جسے آہل بنا چوں چاں کیے تھام لیا تھا ۔۔
سر گھوم گیا تھا ایک چکر سا آنے لگا تھا پلکیں جھپکنا بھول گیی تھی سامنے رکھی پانچ چھ تصویرں کو دیکھ کر اس کی شاید ایسی حالت کا تصور کیا جا سکتا تھا ۔۔
آہل شاہ آفندی بیوی کو تو بڑے قرینے سے سمبھال کر رکھا تھا لیکن بہن کو یوں سر بازار چھوڑ دیا اور سب سے بڑی خوشخبری کی بات تو یے ہے کی فارس تیرا دوست تیری ْنکھوں دھول جھونک رہا تھا تیری بہن تیرے یار کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی ہے اور تجھے خبر ہی نہیں یے دیکھ کتنے قریب بیٹھے ہیں ایک دوسرے کے سوچ تیری عزت کا کیا ہوگا جب میں یے فوٹو پوری دنیا میں دکھاوں گا لوگ تھو تھو کریں گے آہل شاہ آفندی کی بہن اس کے دوست کے ساتھ گل چھررے اڑا رہی ہے ہا ہا ہا کتنا مزا آے گا نہ تجھے آے نہ آے مجھے بڑا مزا آے گا ۔۔ علی قہقہے مار کر اپنی بے جا لفظوں کو املی جامہ پہنانے میں مگن تھا ۔۔
گیٹ آوٹ ۔۔۔ آنکھوں کو سختی سے ایک دوسرے میں بھینچ کر آہل نے اس کو جانے کو کہا تھا ۔۔۔
میری ایک بات یاد رکھنا آہل شاہ آفندی تیری بہت قیمتی چیز میرے ہاتھوں میں ہے مجھ سے تمیز سے بات کرنا تمہارا رازداں ہوں میں اب میں چلتا ہوں لیکن پھر ملیں گے جلد ہی ایک اچھی ملاقات کے ساتھ ۔۔ علی جاتے جاتے اسے بہت کچھ باور کرا گیا تھا اب آہل شاہ آفندی اس کے پورے دباو میں ہے اس کی عزت اس کا وقار سب کچھ اس شخص کے ہاتھوں میں ہے ۔۔۔

یے یہاں ؟؟ علی کو گیٹ عبور کرتا دیکھ فارس منھ ہی منھ بڑبڑایا تھا ۔۔
ایک عجیب بے حد عجیب سی فاتحانہ مسکراہٹ علی شہروز نے اس کی طرف اچھالی تھی ۔۔
بدتمیز !! فارس اس پر ایک کھونکھار نظر اس پر ڈال کر اندر چلا گیا تھا ۔۔
آہل یے رہی فایل قسم سے بہت خوار کرایا ہے تونے مجھے ۔۔فارس نے اس کے کیبین میں قدم رکھتے ہی شکوہ شکایت کرنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔
آہل ؟؟ کویی جواب نہ ملنے پر فارس نے اسے پھر سے پکارا تھا ۔۔
آہل تو ٹھیک تو ہے میں فایل لے آیا یار چل !! فارس اس سے ذرا فاصلے پر تھا اس لیے میز پر رکھی تصویر نہیں دیکھ سکا تھا ۔۔۔
غصے کی شدید لہر آہل شاہ آفندی کے اوپر سوار ہو چکی تھی طوفان بے تابی سے امڈ رہا تھا مٹھیاں سختی سے بند تھی ہاتھ اور پیشانی کی رگیں تن گیی تھی ۔۔۔
آہل ؟ فارس اب اس کے عین سامنے کھڑا تھا لیکن الفاظ یک لخت کمزور بے حد کمزور پڑ گیے تھے جب نظریں میز پر رکھی تصویروں پر گیی تھی اور پلٹنا بھول گیی تھی تو کیا آج آہل شاہ آفندی کی دوستی خاموشی سے بہتے سمندر میں کہیں ڈوب رہی تھی کیا اب وہ وقت آ گیا تھا جس سے فارس خوف کھاتا تھا کیا اب ان کی دوستی اپنی قیمت کھو رہی تھی ۔۔
فارس ایک لفظ جھوٹ نہیں کیا یے سچ ہے ؟؟ آہل نے بہ مشکل اپنی خون جیسی آنکھیں کھولی تھی ۔۔
آ۔ ۔۔آ۔ ۔۔ہل ۔۔فارس کی آواز کہیں گم ہو رہی تھی یوں لگ رہا تھا آج کے بعد وہ کبھی بول نہیں پاے گا ۔۔
دل کر رہا ہے تجھے جان سے مار دوں!!
کیوں کیوں ؟؟؟؟؟؟ کیوں کیا تو نے ایسا کیوں فارس جواب دے ۔۔۔
آہل ۔۔م۔ م۔ میں تجھے !! الفاظ ساتھ چھوڑ رہے تھے ۔۔
جواب دے فارس ۔۔۔ اب کی بار آہل نے صرف کہا نہیں بلکہ دھاڑا تھا ۔۔
آہل میں تجھے بتانے ہی والا تھا م۔ م۔ میں تجھے بتانا چاہتا تھا لیکن ۔۔ فارس ایک پھر اپنی صفایی کے لیے الفاظ کا چناو کر رہا تھا ۔۔
بتانے والا تھا لیکن بتایا تو نہیں نہ ۔۔نہیں بتایا نہ تونے تجھے پتہ اس دو ٹکے کا گھٹیا انسان آج مجھے میری اوقات بتا کر گیا ہے میری عزت دو کوڑی کر گیا خاک میں ملا دیا سب کچھ جس شخص سے اپنی عزت بچانے کی خاطر میں نے مرش کو اپنا بنایا تھا اگر میں چاہتا اس سے زبردستی بھی نکاح کر سکتا تھا لیکن صرف اور صرف اپنے گھر کی عزت بچانے کے لیے میں نے اس سے نکاح کا یے طریقہ اپنایا تھا لیکن آج اس کے ہاتھوں میں ذلیل ہو گیا اسے میری کمزوری مل گیی ہے جس کے بل بوتے پر اب وہ مجھے بلیک میل کر رہا ہے ۔۔۔۔ آہل شاہ آفندی ہار گیا تھا ایک ہارے ہوے جوواری کی طرح اپنی ہار تسلیم کر رہا تھا ۔۔۔
آہل میں تجھے بتانے والا تھا میرا یقین کر میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا اس کے ساتھ میں محبت کرتا ہوں اس سے ۔۔۔ فارس نے جیسے خود کو پرسکون کرنا چاہا تھا ۔۔۔
کیا بولا تو آہل شاہ آفندی کے مضبوط ہاتھوں سے ایک زوردار پنچ فارس کے منھ پر پڑا تھا غصے کی آگ آہل کو اندھا کر رہی تھی اپنے حواس کھونے لگا تھا ۔۔۔
آہ ۔۔ایک درد ناک ہلکی سی چینخ فارس کے منھ سے برامد ہویی تھی ماتھے سے خون کی ننھی ننھی بوندیں زمین پر گر رہی تھی ۔۔
پہلے مجھے لگتا تھا تیرے یے بدلے بدلے انداز مجھے کھٹکا رہے تھے مجھے شک ہونے لگا تھا لیکن میں نے خود کو غلط ثابت کیا خود کو غلط ٹہرایا کیوں ؟ کیوں کی میں تجھ پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتا تھا تونے کاش ایک بار مجھے خود بتایا ہوتا تو آج مجھے اس قدر شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا دراصل تجھ جیسے لوگوں کو اتنا سر نہیں چھڑانا چاہیے ایک نہ ایک دن اپنی اوقات دکھا ہی دیتے ہیں تونے مجھے دھوکہ دیا ہے میری پیٹھ پیچھے مجھ پر وار کیا ہے میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گا فارس کبھی نہیں کاش مجھے ذرا سا علم ہوتا تو اتنا غلیظ ہے تو کبھی تجھے منھ بھی لگانا پسند نہیں کرتا ۔۔آہل شاہ آفندی غصے کی آگ میں جل کر خاک ہو گیا تھا آنکھوں میں ایک عجیب سا اضطراب تھا جن آنکھوں میں ہمیشہ اپنے عزیز دوست کے لیے محبت ہوتی تھی چمک ہوتی تھی آج انہی آنکھوں میں بے یقینی تھی نفرت تھی شدید نفرت ۔۔۔
آج کے بعد میرے آفس میں تو نظر بھی آیا تو بہت برا ہوگا گیٹ آوٹ آیی سیڈ گیٹ آوٹ !!!! آہل شاہ آفندی کا یے انداز کس نے دیکھا تھا کون یقین کرتا یے اپنے دوست کے لیے ایسا رویہ اختیار کرنا بچپن کا ساتھ پل بھر میں ٹوٹا تھا ۔۔
فارس خالی خالی نظروں سے اپنے مقابل کھڑے شخص کو دیکھ رہا تھا جیسا اب بھی کویی امید باقی ہو جیسے ابھی وہ کہے گا مزاق کر رہا تھا یار !! خیر یے یار لفظ تو کہیں کھو سا گیا تھا ۔۔خون کی بوندیں اب بھی زمین پر ٹپک رہی تھی لیکن زخموں کی پرواہ کس کو تھی آج آہل شاہ آفندی کی وجہ سے اس تکلیف پہنچی تھی جو کبھی خود زمین پر بیٹھ کر اس کے زخموں پر مرہم رکھتا تھا ۔لیکن تب اور آج میں بہت فرق تھا ۔۔۔
چلا جا تو ورنہ دھکے دے کر نکلوا دوں گا فارس گیٹ لاسٹ ۔۔ اس کی طرف دیکھنا آہل شاہ آفندی کے لیے سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے جا رہا ہوں لیکن میری بات یاد رکھنا آہل شاہ آفندی میں نے تمہاری بہن کو کبھی کویی نقصان نہیں پہنچایا نہ سوچ سکتا ہوں ایسا محبت کرتا ہوں اس سے اور کرتا رہوں گا ۔۔۔ ایک آخری الوادعی نظر اپنے دوست پر ڈال لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ جا چکا تھا ۔۔۔
شاید قسمت کو یہی منظور تھا !!!