Sang Jo Tu Hai By Zariya Readelle50067 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
آہل نے فارس کو کال ملایی ۔۔۔ دوسری جانب سے کال ریسیو کر لی گی تھی ۔۔
فارس یار میں اس وقت کسی کام میں پھنس گیا ہوں ۔۔ بریرہ میرا ویٹ کر رہی ہے ۔۔ تم پلیز جا کر اس کو پک کر لو ۔۔ آہل دوسری جانب سے جواب کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے لیکن میں پہنچ گا کیسا ۔۔ میرا مطلب کالج کا نیم کیا ہے ؟؟ ۔۔ فارس الجھتے ہوے پوچھا ۔۔ ٹھیک ہے میں تجھے اور بریرہ کا کانٹیکٹ نمبربھی دے رہا ہوں ۔۔ تو آسانی سے پہنچ سکتا ہے ۔۔ آہل اس کی الجھن کو دور کرتے ہوے بولا ۔۔۔۔
اوکے یار ۔۔ کال کٹ ہو چکی تھی ۔۔
بریرہ کا نمبر فارس کو مل چکا تھا ۔۔ گاڑی کی چابھی اٹھاتا فارس ایک نظر آینے میں خود کو دیکھا ۔۔ اچھا خاصا ہینڈسم دکھ رہا تھا ۔۔ جس پر کسی بھی لڑکی کا دل آ سکتا تھا ۔۔۔ گاڑی کو اسٹارٹ کر کے فارس نے بریرہ کو کال ملایی ۔۔
ہیلو ؟ ۔۔ بریرہ نے کال ریسیو کی ۔۔
ہاے میں فارس بات کر رہا ہوں ۔۔ ایکچولی آہل نے مجھ سے کہا ہے میں آپ کو پک کو لوں ۔۔
کیا آپ مجھے کالج کا نیم بتا سکتی ہے ؟؟ ۔ فارس جواب کا انتظار کرنے لگا ۔۔ پلیز جلدی آ جاے ۔۔ بریرہ کالج کا نیم بتاتی ہویی بولی ۔۔ اٹس اوکے میں بس آ رہا ہوں ۔۔ کال کٹ ہو چکی تھی ۔۔
آہل کو پورا یقین تھا ۔۔فارس اب تک پہنچ چکا ہوگا ۔۔ کیوں کی آہل شاہ آفندی خود سے زیادہ فارس پر بھروسا کرتا تھا ۔۔
نام کیا ہے آپ کا ؟؟ ۔۔ آہل نے پھر سے بات کا آغاز کیا ۔۔
میرا نام جو بھی ہو تم سے مطلب ۔۔ مرش چڑتے ہوے بولی ۔۔
اگر میری مجبوری نہیں ہوتی تو میں تمہیں اور تمہاری اس گاڑی کو آگ لگا دیتی ۔۔ مرش غصے سے آواز کو تھوڑا تیز کرتی ہوی بولی ۔۔
کیوں آپ کے بس میں نہیں ہے کیا ۔۔ آہل ہنستے ہوے بولا ۔۔
جاہل انسان ۔۔ مرش آہل کو گالی سے نوازتی باہر کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔
فارس گاڑی کو پارک کرتا ہوا کالج کے اندر داخل ہوا ۔۔ یہاں وہاں نظریں دوڑاتے ہوے فارس کو ایک اچانک سے یاد آیا ۔۔۔ اوہ نو ۔۔ میں پہچانوگا کیسا ۔۔ فارس کالج کے پیچھے والے گیٹ سے داخل ہوا تھا ۔۔ جبکی بریرہ پہلے والے گیٹ کے سامنے کیفے میں بیٹھی ہویی تھی ۔۔ جو کی فارس کو نظر آنا خاصا مشکل تھا ۔ ۔۔۔
دو تین لڑکیاں فارس کو سامنے سے آتی ہویی دکھی ۔۔
یکسکیوز می ۔۔ فارس انہیں ہاتھ کے اشارے سے روکتا ہوا بولا ۔۔
آر یو بریرہ ؟؟
فارس کے اس عجیب و غریبوں سوال پر ان لڑکیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔ نہیں ۔۔ ان سب میں سے ایک لڑکی نے جواب دیا ۔۔
اوہ سوری ۔۔ فارس جلدی سے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا ۔۔
اب کہاں ڈھونڈو محترما کو ۔۔ موبایل بھی سویچٹ آف ہو گیا ۔۔
فارس کو ایک بار پھر سے ذلت اٹھانی پڑی ۔۔
ایکسکیوز می ؟؟ فارس اس لڑکی کے سامنے آ کر روکتا ہوا بولا ۔۔
یس ؟ وہ لڑکی حیرت سے فارس کو دیکھتے ہوے بولی ۔۔
آر یو بریرہ ؟؟ ۔۔
وآٹ ۔۔۔ نو ۔۔ بس فری ہونا ہوتا ہے تم لوگوں کو بدتمیز ۔۔ وہ لڑکی فارس کو برا بھلا کہتی آگے بڑھ گیی ۔۔
فارس ٹہلتے ٹہلتے آخر کیفے کے پاس پہنچا ۔۔ سامنے ہی اس کی نظر عین سامنے اس حسین و جمیل پیکر پر پڑی ۔۔ جو کبھی ادھر تو کبھی ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔ بریرہ کی نظر فارس پر پڑی ۔۔
بےشرم ۔۔ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر بولی ۔۔ اس سے بھی پوچھ لیتا ہوں ۔۔ فارس سوچتے ہے اپنے قدم آگے بڑھا دیے ۔۔۔
آپ بریرہ ہے ۔۔ فارس بریرہ کو دیکھتے ہوے پوچھا ۔۔
جی ۔۔ بریرہ کے جی کہنے کی ہی دیر تھی کی فارس کے ہونٹوں پر بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ رینگ گیی ۔۔
میں فارس ۔۔ آہل نے مجھے ہی بھیجا یے ۔۔ چلیں ۔۔ فارس بریرہ کو چلنے کے لیے بولا ۔۔
جی ۔۔ آ۔ ۔۔ نن نہیں ۔۔ میں آپ کے ساتھ کیسے چلوں آپ کے ساتھ ۔۔ پتا نہیں آپ کون ہے ۔۔ اور آپ سچ بھی بول رہے ہے یا نہیں ۔۔ بریرہ دو قدم پیچھے ہٹتے ہوے بولی ۔۔۔
آہل کو کال ملاے۔۔ فارس چڑتے ہوے بولا ۔۔
آہل جو اس وقت ڈرایو کرتے ہوے کچھ گنگنا بھی رہا تھا ۔۔ رنگ ٹون کی آواز پر اس نے ہاتھ بڑھا کر دیکھا بریرہ کی کال تھی ۔۔ کال ریسیو کرتے ہی دوسرے جانب سے فارس کی آواز آیی ۔۔ ہار تمہاری بہن مجھے کویی گلی کا آوارہ لڑکا سمجھ رہی ہے ۔۔ فارس بریرہ کے چہرے پر نظریں مرکوز کرتا ہوا بولا ۔۔ ہا ہا ۔۔ تو لگتا ہی ایسا ہے ۔۔ آہل کی ہنسی بے ساختا تھی ۔۔ اچھا یار سوری ۔۔ برہرہ کو فون دو ۔۔ آہل ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوے بولا ۔۔۔ یے لیں آپ کے محترم بھایی جان کا فون ۔۔ فارس ایک ایک لفظ چبا کر بولا ۔۔
ہیلو ۔۔ بریرہ بولی ۔۔ بریرہ آپ فارس کے ساتھ جاے میں نے اس کو بھیجا ہے ۔۔ ڈونٹ وری ۔۔ آہل برہرہ کو تسلی دیتے ہوے بولا ۔۔۔ جی بھایی ۔۔ بریرہ شرمندگی سے کہتی ہوی بولی ۔۔چلیں ۔۔
جی ۔۔ فارس نے ہاں میں گردن ہلایی ۔۔ ۔
چلے آپ کی منزل آ گیی ہے ۔۔ آہل کو گاڑی روکتا ہوا بولا ۔۔
مرش لمبی سانس کھینچتی گاڑی سے اتری ۔۔ اور جیسے ہی جانے کے لیے پیچھے کی اور مڑی ۔۔۔
آہل کے الفاظ نے اس کے بڑھتے قدم کو روک لیا ۔۔
بندہ تھینکس ہی بولتا ہے ۔۔
جی نہیں مجھے نہیں لگتا اس کی کویی ضرورت ہے ۔۔مرش نظر انداز کرتی آگے بڑھ گیی ۔۔ واٹ اے اٹیٹیوڈ ۔۔۔
آہل مسکرا کر کہتا گاڑی آگے بڑھا دیا ۔۔
مرش نے جیسے ہی گھر میں قدم رکھا ۔۔ سامنے فایزہ بیگم سوفے پر بیٹھی نظر آیی ۔۔
یے کویی وقت ہے گھر آنے کا ۔۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا مرش گھر جلدی آ جانا ۔۔
کیا ہو گیا فایزہ پارٹی میں گیی تھی دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے ۔۔
جب جوان اولاد اس وقت گھر سے باہر رہے تو ماں باپ کی عزت سولی پر لٹکی ہوی ہوتی ہے ۔۔ فایزہ بیگم مرش کو دیکھتے ہوے بولی ۔۔
مرش آپ اپنے کمرے میں جاے ۔۔ سرفراز صاحب مرش کو حکم دیا ۔۔
جی بابا ۔۔ مرش اسی موقع کی تلاش میں تھی ۔۔ دوڑتی ہویی اپنے کمرے میں آیی ۔۔ کپڑا چینج کرنے کے باد میک اپ کو خود سے ازاد کرتے ہوے اس نظر اپنے ہاتھوں پر گی ۔۔ افف میرا بریسلیٹ کہاں گیا ۔۔ امی نے کتنے چاو بنوایا تھا ۔۔ مرش پریشان سی ہوتی ہویی خود سے بولی ۔۔ ۔۔۔۔
گاڑی کو پورچ میں داخل کر کے آہل جیسے ہی گاڑی سے نیچے اترا ۔۔ اچانک اس کی نظر سامنے کسی چمکتی شے پر پڑی ۔۔ آہل نے ہاتھ بڑھا کر اس کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔ خوبصورت نفیس سا بریسلیٹ جس پر سفید موتی چار چاند لگا رہے تھے ۔۔
یے ہو کس کا سکتا ہے ۔۔ آہل کی آنکھوں کے سامنے مرش کا سراپا لہرایا ۔۔تو محترما کا ہیں ۔۔ آہل مسکراتے ہوے پینٹ کی جیب میں ڈال لیا ۔۔ چابھی ہاتھ میں لیے آہل سڑھیاں عبور کرتا اپنے کمرے کمرے میں آ گیا ۔۔ نیند کا غلبا اس کے اوپر طاری تھا ۔۔ کپڑے چینج کرنے کے بعد آہل نےجینس سے بریسلیٹ نکال کر تکیے کے نیچے رکھ دیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاند کے روپ میں تم آے ہی نہیں ورنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غم کی راتوں میں عجب جشن بہاراں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے اندھیرے میں فارس اپنی چھت پر کھڑا چاند کو دیکھ کر باتیں بھی کر رہا تھا ۔۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا فارس کے گوش گزار ہو رہی تھی ۔۔
بریرہ شاہ آفندی ۔۔۔ فارس اس نام کو زیر لب دہرایا ۔۔ بہت ہی گہری مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رکس کر رہی تھی ۔۔ نہیں وہ آہل کی بہن ہے فارس ۔۔ تیرے عزیز دوست کی ۔۔ جو تیرے اوپر بہت بھروسا کرتا ہے ۔۔ یے میں کیا سوچ رہا ہوں بریرہ ۔ آہل کی عزت ہے مطلب وہ میری بھی عزت ہویی ۔۔ فارس خود کو سر زنش کرتا نیچے آ گیا ۔۔
۔۔۔ گڈ مارنگ فارس آفس میں داخل ہوتے ہوے بولا ۔۔
گڈ مارنگ ۔۔ آہل مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔
کس کے بارے میں سوچ رہا ہے ؟؟
فارس ایک آنکھ مار کر پوچھا ۔۔
کسی کے بارے میں نہیں ۔۔
آہل نے بھی مسکرانے پر اکتفا کیا ۔۔
کہیں عشق وشق تو نہیں ہو گیا ۔۔
فارس آہل کو عورتوں کی طرح جانچتے ہوے بولا ۔۔
اگر میں خاموش بیٹھ جاوں تو تیرا دماغ کتنی تیزی سے چلنے لگتا ہے ۔۔ بکواس بند کر یار ۔۔
کیوں تجھے عشق نہیں ہو سکتا کیا ؟؟
فارس کے اس سوال پر آہل کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا ۔۔
ہو سکتا ہے ۔۔ آہل اتنے پر یقین لہجے میں کہہ رہا تھا ۔۔مانو عشق کی وادی میں قدم رکھ چکا ہو۔ ۔ آہل جواب دیتا ہوا لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا ۔۔۔
یار کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ ویسے تجھے کس قسم کی لڑکی چاہیے ؟؟؟ ۔اپنے جیسی یا بلکل الگ ؟؟ ۔۔۔۔ فارس اس وقت یوں سوال پر سوال کر رہا تھا ۔۔ گویا عشق سے ضروری اور کویی کام نہیں ۔۔۔
یے کیسا سوال ہے ؟؟ آہل لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاتا ہوا بولا ۔۔
یار سمپل سا سوال ہے ۔۔ تجھے کس قسم کی لڑکی پسند ہے ویسے جہاں تک مجھے معلوم ہے تیری پسند تو بلکل یونیک ہوگی۔۔ فارس بے چین سا ہو رہا تھا جواب کے لیے ۔۔
بکواس بند کر ۔۔۔ آہل فارس کو ڈپٹتے ہوے بولا ۔۔
یار بتا نا ۔۔ فارس منھ پھلاتے ہوے بولا ۔۔
آہل کو نا چاہتے بھی جواب دینا پڑا کیوں کی فارس کو ٹالنا آسان نہیں تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں پسند مہبت میں ملاوٹ مجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ میرا ہے تو خواب بھی میرے ہی دیکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم گو ۔۔۔۔ وفادار ۔۔۔۔ بدتمیززی کا نام و نشان نا ہو ۔۔۔۔۔ اور سب سے ضروری شوہر کے حکم کی تعمیل کرنے والی ہو ۔۔ ۔۔ آہل اپنی بات مکمل کرتا پھر سے مصروف ہو گیا ۔۔
فارس نے چند منٹوں تک کویی جواب نہیں دیا ۔۔۔بہت بڑی ڈمانڈ ہے تیری ۔۔ دیکھتے ہو کون کون سی پوری ہوتی ہے ۔۔
وہ سب کی سب کیفے میں بیٹھی باتوں میں مصروف تھی ۔۔ یار چلو کلاس کا ٹایم ہو گیا ہے ۔۔ اریشا نے سب کو ٹایم باور کرایا ۔۔ ہاں چلو۔ ۔ سب لوگ اپنا اپنا بیگ سمبھالتی ہویی کلاس میں داخل ہویی ۔۔
گڈ مارنگ سر ۔۔ سر جواد کے کلاس میں داخل ہوتے ہی سبھی اسٹوڈینٹس ادب سے کھڑے ہو گے ۔۔ سواے مرش کے ۔۔ جو اس وقت نیچے گری کتاب اٹھانے کے لیے جھکی تھی ۔۔ سر جواد کی شان میں گستخایی کرنا کسی کی جرات نہیں تھی ۔۔ ناک پر چشما ٹکاے سر پر سفید بالوں کی تعداد اچھی خاصی تھی ۔۔
مرش جیسے ہی کتاب لے کر اوپر اٹھی ۔۔۔ سامنے ہی جواد سر کا خوفناک چہرہ اس کو نظر آیا ۔۔۔۔
ہیلو ۔۔ اگر آپ کو انویٹیشن کارڈ چاہیے تو وہ بھی بتا دے ۔۔۔ ہا۔ ۔ہا۔ ۔ہا ۔۔ اریشا کا قہقہہ بے ساختا تھا ۔۔ شٹ اپ ۔۔ جواد صاحب تیز آواز میں دھاڑے ۔۔
سوری سر بک گر گیی تھی ۔۔۔ بک گر گیی تھی تو مطلب آپ مجھے سلام نہیں کریں گی ۔۔
سوری سر ۔۔ مرش نے ایک بار پھر سے صفایی پیش کی ۔۔۔
سوری آج کل کی نسل کو ناجانے کیا ہو گیا ہے ۔۔ استاد کی کویی عزت ہی نہیں ۔۔ جواد صاحب برا بھلا کہتے مڑ گے ۔۔
تمہں تو میں کلاس ختم ہونے کے بعد بتاوں گی ۔۔ مرش اپنا لمبا ناخن اریشا کو دکھاتے ہوے بولی ۔۔
ٹک ۔۔۔ سر جواد کو اپنے سر پر لگنے کی آواز آیی ۔۔۔ پہلی بار تو انہوں نے نظر انداز کیا ۔۔
ٹک ۔۔۔ ایک بار پھر سے حملا کیا گیا ۔۔ اس بار تو بم کا پھوٹنا لازمی تھا ۔۔
سر جواد کھونکھار نظروں سے باری باری سب کو دیکھا ۔۔
ثمرہ جس دانت اندر جانے کا بام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔
اسٹینڈ اپ ۔۔۔ جواد صاحب ثمرہ کو ہاتھ کے اشارے سے کھڑا ہونے کے لیے کہا ۔۔ ثمرہ بیچاری نظروں سے اٹھتے ہوے بولی ۔۔
جی سر ۔۔
بدتمیز ۔۔ جواد صاحب غصے سے بولے ۔۔
نو سر یے میں نے نہیں کیا ۔۔ یے تو ۔۔۔ثمرہ گردن مرش کی طرف موڑتے ہوے ابھی کچھ بولتی ۔۔ مرش کے لمبے ناخن نے اسے چپ رہنے پر مجبور کر دیا ۔۔
کس نے یے گھٹیا جرکت کی ہے ؟؟ جواد صاحب پوری کلاس میں نظریں دوڑاتے ہوے چلاے ۔۔
عین نظروں کے سامنے مرش کا چہرہ نظر آیا ۔۔ جو اپنی ہنسی دبانے کے لیے با مشکل محنت کر رہی تھی ۔۔
اسٹینڈ اپ ۔۔ جواد صاحب نے ایک بار پھر سے حکم صادر کیا ۔۔
جی سر ۔۔ مرش کی معصومیت بلا کی تھی ۔۔
آپ نے یے حرکت کی ہے ۔۔ جواد صاحب چشمے کی نوک آنکھ پر کرتے ہوے بولے
سر میں اپنی جان سے گزر جاوں ۔۔ لیکن ایسی حرکت توبہ ۔۔ ویسے سر ہوا کیا ہے ؟ ۔۔
مرش کی اس ایکٹینگ پر پوری کلاس میں کھی کھی شروع ہو گی۔
۔۔ سر چلیں جو بھی ہوا ہوگا آپ نا بتاے شاید اس میں آپ کی بے عزتی ہوگی ۔۔
خیر کویی نہیں سر ۔۔ ہم کچھ بھی کرنے سے پہلے مر جانا پسند کریں گے ۔۔مرش کا چہرے سے یو ظاہر ہو رہا تھا ۔۔
گویا اس ذیادہ معصوم لڑکی اس دنیا میں ہے ہی نہیں ۔۔۔۔۔
شٹ اپ ۔۔ بدتمیزوں ۔۔
جواد صاحب غصے سے کہتے کلاس سے چلے گیے ۔۔
سر جواد کے کلاس سے جاتے ہی پورا کلاس قہقہہ سے گونج اٹھا ۔۔
ایک ایک کر کے سب نے مرش کی تعریف کی ۔۔ شکریا شکریا ۔۔ مرش داد قبول کرنے میں مگن تھی ۔۔
کچھ دیر باد ثمرہ اریشا بریرہ اور مرش کالج کی گھاس پر بیٹھی باتوں کرنے میں مصروف تھی ۔۔
لیسین ٹو می ۔
۔ بریرہ کی آواز پر سب کی زبان کو بریک لگ گیا ۔۔
پرسوں میری پرینٹس کی انیورسری ہے ۔۔ میں چاہتی ہوں تم سب لوگ آو مجھے بہت خوشی ہوگی ۔۔ برہرہ ایک ایک کو کارڈ پکڑاتی ہویی بولی ۔۔
اچھا واقعی واو بہت مزا آنے والا ہے ۔۔ اریشا کی خوشی دیکھنے لایق تھی۔۔۔
اسی بہانے تمہارے خڑوس بھایی سے بھی ملاقات ہو جاے گی جبکی انہیں معلوم ہوتا وہ اس خڑوس بندے سے پہلے ہی مل چکی ہے ۔۔ لیکن بریرہ کے بھایی کے حوالے سے نہیں مرش کے دشمن کے حوالے سے ۔۔ ثمرہ بریرہ کو آنکھ مارتی ہویی بولی ۔۔
کیوں ہم اس کے بھایی سے ہی ملنے جایے گے کیا ۔۔ مرش چڑھتے ہوے بولی ۔۔
مزاق تھا یار ۔۔ ثمرہ نے ہنستے ہوے صفایی دی
بریرہ تمہارے خڑوس بھایی کی گاڑی آ گی ۔۔ اریشا نے بریرہ کو گاڑی آنے کی اطلاع دی ۔۔
تم خواہ مخواہ میرے بھایی کو کھڑوس کہہ رہی ہو ۔۔ بریرہ بیگ سمبھالتی ایک کر کے سب گلے ملتی گیٹ عبور کرتی گاڑی میں آ کر بیٹھ گی ۔۔اسی دوران ان سب کی بھی گاڑی آ چکی تھی ۔
آج ہماری بیٹی کا دن کیسا گزرا بہت خوش لگ رہی ہے آپ
۔۔ جاوید صاحب بریرہ کو کافی کا مگ پکڑاتے ہوے بولے ۔۔ مریم بیگم نے بھی مسکرا کر بریرہ کو دیکھا ۔۔
آپ کو پتا ہے بابا ۔۔ میری فرینڈس اتنی اچھی ہے میں بتا نہیں سکتی ۔۔ ہماری کلاس کی سب سے چنچل لڑکی مرش ہے ۔۔ بریرہ صوفے کی ایک سایڈ پر بیٹھ کر جاوید شاہ آفندی ۔۔ مریم شاہ آفندی کو مرش ناما قصہ سنا رہی تھی ۔۔
آہل ٹیبل پر اپنا گرم بھاپ اڑتی چاے کو گھمانے میں مگن تھا ۔۔ لیکن اس کا پورا دھیان بریرہ کی جانب تھا ۔۔۔
ماما مرش ہماری کلاس کی سب سے چنچل لڑکی ہے بہت شوخیاں ہے وہ ۔
۔ آہل چاے کا سپ لے کر میز پر رکھا بریرہ کی زبانی مرش ناما قصہ سن کر آہل کو سخت بوریت محسوس ہو رہی تھی ۔۔
جاوید شاہ آفندی نے ایک بار بھی آہل کو مخاتب کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔ شاید وہ نارضگی کا اظہار کرنا چاہ رہے تھے ۔۔
بریرہ ۔۔ پلیز مرش ناما بند کرو یار بور ہو گیا میں سن سن کر ۔۔ بدتمیز لڑکیوں سے دور رہا کرو ۔۔ آہل بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوے بولا ۔۔
بریرہ کو زبان کو بریک لگ گیا ۔۔
مریم بیگم نے ایک نظر آہل پر ڈالی اور آنکھوں کے اشارے سے بریرہ کو خاموش رہنے کے لیے کہا ۔۔
آہل چاے کا آخری سپ لیتے ہوے کھڑا اسڑھیوں کی جانب قدم بڑھایا ہی تھا ۔۔ مریم بیگم کی آواز نے اس کو روک دیا ۔
آہل کھانا نہیں کھاو گے کیا ۔۔ بھوک نہیں ہے آہل پیچھے بنا مڑے ہی جواب دیا ۔۔ مریم بیگم آہل کی نشت ہی دیکھتی رہ گی ۔۔
آہل کی نیندیں اس کی آنکھوں سے غایب تھی ۔۔ بیڈ پر لیٹتے ہوے اس نے تکیے کے نیچے سے اس چمکتے بریسلیٹ کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔ نا جانے اس کو اس بریسلیٹ میں کس چیز کی تلاش تھی ۔۔
تبھی موبایل کو رنگ ہویی ۔۔ اسکرین پر فارس کا نیم چمک رہا تھا ۔۔
ہیلو ۔۔ آہل بولا ۔۔
یار آہل مجھے سخت بوریت ہو رہی ہے ۔۔ ہم کل شاپنگ پر چلیں ۔۔ فارس چہکتے ہوے بولا ۔۔۔
نہیں میرا موڈ نہیں ہے تجھے جانا ہے تو تو جا ۔۔ آہل نے دو بدو جواب دیا ۔۔
پلیز آہل اس ہماری تھوڑی مستی بھی ہو جاے گی اور میں انکل اور آنٹی کے گفٹ بھی لے لوں گا ۔۔ ! فارس نے شاپنگ کرنے کا اپنا اصل مقصد بتایا ۔۔
کتنا بے عزت ہے تو ۔۔ میں تجھے انوایٹ تو نہیں کیا ہے ۔۔ پھر بھی منھ اٹھا کر آ جاے گا ہے نا ۔۔ آہل افسوس سے لہجے میں بولا۔۔
ہا ہا ہا ۔۔۔ تجھے معلوم ہونا چاہیے تو مجھے کبھی انوایٹ نہیں کرتا لیکن میں سب سے پہلے موجود ہوتا ہوں ۔۔ فارس ڈھٹایی سے بولا ۔۔
بے عزت جو ہے ۔۔۔ آہل مسکرا کر بولا ۔۔
اچھا یار بتا نا جاے گا یا نہیں ۔۔ فارس پھر سے اپنے مقصد پر آیا ۔۔
ٹھیک ہے چلوں گا ۔۔۔ آہل جان چھڑاتا ہوا بولا ۔۔ اوکے یار کل ملتے ہے ۔ ۔ آہل نے کال ڈسکنیٹ کر دی ۔۔ ۔۔
اب امی سے اجازت کیسے لوں گی ۔۔ مرش سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی ۔۔ سرفراز صاحب نے بیٹی کو غور سے دیکھا ۔۔
مرش کیا بات ہے بیٹا ۔۔سرفراز صاحب نے بیٹی کی پریشانی جاننی چاہی ۔۔
کچھ بھی نہیں بابا۔۔ مرش زبردستی مسکراتی ہویی بولی ۔۔
اب اپنے بابا سے بھی چھاپایں گی ۔۔ سرفراز صاحب بیٹی کو دیکھ کر بولے ۔۔
بابا ۔۔ پرسوں میری فرینڈ کے گھر ایک پارٹی ہے میری ساری دوستیں جایں گی ۔ ۔مجھے بھی جانا ہے ۔۔ پلیز ۔۔
مرش کے اتنے اسرار پر سرفراز صاحب مجبور ہو گے ۔ ۔
ٹھیک ہے بیٹا ۔۔ آپ تیاری کرے میں آپ کی امی کو منا لوں گا ۔۔ سرفراز صاحب کہتے ہوے جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوے ۔۔
بریرہ ابھی جیسے ہی لیٹنےکے لیے بیڈ پر آیی ۔۔ میسیج کی رنگ ٹون ہویی ۔۔
بریرہ موبایل اٹھاتی ہویی میسیج انباکس میں آے میسیجیس کو دیکھنے لگی ۔۔۔
Hii
کا میسیج وہ بھی انجان نمبر سے دیکھ کر بریرہ کی پیشانی پر نم آلود شکنیں نمودار ہویی ۔۔
کون ؟؟؟ بریرہ نے بھی میسیج ٹایپ کر کے سینڈ کیا ۔۔
شاید آپ کا کویی چاہنے والا ہو ۔۔ جواب دوسری جانب سے آیا ۔۔ بریرہ کو ایسے جواب کی امید نہیں تھی ۔۔
کیا مطلب چپ چاپ اپنا نام بتاو ۔۔ بریرہ نے چڑھتے ہوے ٹایپ کر کے سینڈ کیا ۔۔
بدتمیز منھ بند کرو جانتے نہیں ہو میں کون ہوں ۔۔ بریرہ نے اپنی پہچان کرانا ضروری سمجھا ۔۔۔
جی جانتا آپ کون ہے ۔۔ لیکن یے کمبخت دل نہیں مانتا ہزار بار یے کہہ کر سمجھایا یے وہ آہل شاہ آفندی کی بہن ہے ۔۔ لیکن یے ماننے کو راضی ہی نہیں ہے ۔۔ دوسری جانب سے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنا دکھڑا سنایا گیا ۔۔
اس جواب پر بریرہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گی ۔۔
تم مجھے جانتے ہو ؟؟ بریرہ نے ایک بار پھر سے سوال کیا ۔۔
دوسری جانب مقابل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گیی ۔۔
نہیں جاننے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔
صبح ہونے دو پھر میں بتاتی ہوں تمہیں ۔۔ آہل بھایی سے کہہ کر تمہاری سات نسلوں کا پتا نکلواتی ہوں ۔۔ بریرہ غصے سے تیز اسپیڈ سے ٹایپ کر کے سینڈ کیا ۔۔
بریرہ کا میسیج پڑھ کر فارس کے ہونٹ مسکرانے باز نہیں آ رہے تھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے ظالم نا بنو کچھ تو مروت سیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم پر مرتے ہے تو کیا مار ہی ڈالو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب سے شعر و شاعری کا آغاز ہوا ۔۔
بدتمیز ۔۔بریرہ منھ ہی منھ بڑبڑایی ۔۔
چلیں اب آپ سو جاے آپ کو کالج بھی تو جانا ہوگا ۔۔
میسیج پڑھ کر بریرہ کو ایک کے بعد ایک جھٹکے لگ رہے تھے ۔۔مم
موبایل آف کر کے بریرہ سونے کی سعی کرنے لگی ۔۔۔
