125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

شاہ زر کل میں ہوسپٹل گئی تھی تو۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا میں نے صحیح کیا ہے یا نہیں مگر یہ بات آپ کو پتہ ہونی چاہیے میں کل ہاسپٹل گئیی تھی تو۔۔۔۔۔۔ تو میں وہاں طلال مرزا ملی تھی”
اس نے شاہ زر کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے مگر آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے غلطی نہیں کی سر جھکائے جیسے اپنی غلطی کا اعتراف کر رہی تھی
“و۔۔۔۔ وہ ایک اتفاق تھا مجھ سے شادی نہ کرنے کی پاداش میں گھر والوں نے اسے بے دخل کر دیا تھا اب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہے کل اس کی بیوی کی ڈیلیوری تھی اچانک کیس خراب ہوگیا آپریشن کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی اس کے گھر والوں نے اس سے منہ موڑ لیا تھا،،،، اتفاقاً حور مجھے اسی اسپتال میں لے گئی تھی۔ تب میری اتفاقیہ ملاقات طلال سے ہوئی وہ مجھ سے رو رو کر معافی مانگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اسے لگتا ہے اس نے شادی والے دن نہ آ کر میرے ساتھ ناانصافی کی ہے اسی لئے اسے سزا مل رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ محبت کرنا گناہ تو نہیں ہوتا نا؟ اسی لئے میں نے طلال کو پیسے دیے۔ یقین کریں شاہ زر میرے دل میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ میں صرف منگنی والے دن طلال سے ملی، پھر اس سے شادی والے دن پہلی اور آخری مرتبہ فون پر بات کی تھی، وہ فون بھی اس نے انکار کرنے کے لیے کیا تھا، اور اب کل ملی ہوں وہ بھی اتفاقاً۔ آپ بتائیں میں کیسے کسی کو مرنے کے لئے چھوڑ سکتی ہوں؟ اگر طلال کی جگہ کوئی اور ہوتا تب بھی میں یہی کرتی۔ پتہ نہیں ان سب کا عاطف کو کیسے پتہ لگ گیا اور اس نے اس بات کو اپنے انداز میں پیش کیا۔”
حیا نے بہت ہمت کرکے سر اٹھا کر دیکھا مگر شاہ زر کے چہرے پر ویسے ہی سپاٹ تاثرات تھے
لمحے کو وہ خاموش رہا پھر بولا بھی تو کیا
“ہو گیا؟”
شاہ زر نے پوچھا تو حیا نے تعجب سے اسے دیکھا
شاہ زر نے نرمی سے حیا کو کندھے سے تھام کر اٹھایا اور ہمیشہ کی طرح اپنے پیروں پر بٹھایا ٹیبل پر رکھا ہوا گلاس اس کے لبوں سے لگایا
” آج میں نے پہلی اور آخری بار تمہاری صفائی سن لی، میں نے کہا ہے تمہیں، بات صرف ہاں یا نہ کی ہوتی ہے۔ میں تمہارا یقین کرتا ہوں۔ مجھے صفائی کی ضرورت نہیں ہے۔ حیا میں نے کبھی بھی تمہیں جھوٹا قرار نہیں دیا ہے، تم جو کہہ دیتی ہو میں اسے مان لیتا ہوں نا مجھے اس کی تصدیق کے لئے کسی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت ہے۔ تم جو کہتی ہو وہی الفاظ میرے یقین کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن آج صفائی صرف اسی لیے سن لی کیونکہ آج تم کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی ہو”
آخری جملہ شرارتاً کہا
“صفائیاں صرف غلطیوں کی نہیں دی جاتی شاہ زر، صفائیاں اس لئے بھی دی جاتی ہیں کیونکہ کوئی ہمیں عزیز ہوتا ہے۔ آپ مجھے عزیز ہیں، میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی کیونکہ مجھ میں اس کا حوصلہ نہیں ہے۔ دنیا کے لیے بھلے ہی میں عام سی لڑکی ہوں، آپ کو مجھ جیسی ہزاروں مل جائیں گی، ہزاروں آپ کے لئے مرنے کے لیے بھی تیار ہوگی، مر تو کوئی بھی سکتا ہے کسی کے لئے، لیکن شاہ زر جہانزیب کے لئے خود کو فنا کرنے کا حوصلہ صرف حیا شاہ زر کے پاس ہے۔”
شاہ زر کچھ کہتا اس سے پہلے ہی دستک ہوئی دروازے پر اشعر تھا
” تم چائے پکا رہی ہو یا پائے میں تو یہی سوچتے ہوئے آیا تھا مگر یہاں تو رومینس پک رہا تھا”
حیا جھینپ کر دوسری کرسی پر جا بیٹھی
لیکن شاہ زر نے ڈھٹائی سے کہا
“ابھی تک کہاں؟ تم نہ آتے تو شاید کوئی چانس ہوتا”
” او ہو یعنی میں نے غلط وقت پر اینٹری دی ہے”
” بالکل اب بغیر چائے کے سو جاؤ”
شاہ زر نے سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر لتاڑ دیا مگر سامنے بھی اشعرر تھا “بے عزتی پروف”
” میرے خیال میں کل آپ ہی تھے جو میری صلاحیتیں گنوا رہے تھے”
” جی بالکل میں ہی تھا، تمہیں پتا ہے حیا۔ موصوف کتنی مشکلوں سے راضی ہوئے ہیں CEO کی پوسٹ کے لئے کہہ رہے تھے ” فلحال میں تنخواہ دار ملازم کے طور پر کام کروں گا پھر جب کمپنی میں انویسٹ کرنے کے لئے قابل ہو جاؤں گا تب پارٹنرشپ جوائن کروں گا” ہم نے کہا فلحال تو حور کمپنی جوائن کر نہیں سکتی اور تم حور کا پیچھا چھوڑو گی نہیں۔ ہم کیسے کمپنی بغیر مالکوں کے چھوڑ سکتے ہیں؟ ہزاروں جواز پیش کیے ہیں تب جا کر راضی ہوا ہے “
حیا نے اشعر کو گھورا
” کیوں تم بڑے لارڈ گورنر ہو؟ دو جوتے سر پر بجے گے نہ سب سمجھ آجائے گا “
“دیکھا؟ ۔۔۔۔ دیکھا۔۔۔۔ اسی وجہ سے میں منع کر رہا تھا اس کا کیا بھروسہ بھری میٹنگ میں سر پر جوتے بجادے میری بھی کوئی عزت ہے “
“ٹھیک ہے عزت مآب اشعر احمد صاحب آپ لاؤنج میں جائیں، ہم چائے لے کر آرہے ہیں”
اشعر کالر کھڑا کرتا ہوا چلا گیا
اشعر کے جاتے ہی شاہ زر نے حیا کی کلائی تھام کر پھر سے اپنے پیروں پر بٹھایا
حیا بس مسکرا کر رہ گئی کبھی کبھی وہ الگ ہی نظر آتا تھا یا شاید بے اختیار ہو جاتا تھا مگر جو بھی تھا حیا کو اس کا یہ انداز بڑا بھاتا تھا
محبوب ہمارے لیے بے قرار ہو، اسے ہماری چاہ ہو، اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوتی ہے۔
“تمہیں پتا ہے حیا جس دن تم مجھے ڈھونڈنے نکلی تھی اور صنم نے گھبرا کر اشعر کو فون کر دیا تھا۔ اس وقت اشعر کے پاس دو راستے تھے یا تو وہ جاب کرتا ہے یا تمہیں ڈھونڈتا۔ اس کے باس نے صاف کہہ دیا تھا آج چھٹی نہیں ملے گی اگر آج گئے تو واپس مت آنا۔ ہے تو وہ تمہارا ہی بھائی، نوکری کو لات مار کر آ گیا۔ اب جو وہ صبح سے یہ کہہ کر نکل جاتا ہے کہ کوئی کام ہے وہ انٹرویو کے لئے جاتا ہے ماشاء اللہ اسے اچھی جاب بھی مل گئی تھی وہ اب یہاں نزدیک میں کوئی گھر دیکھ رہا تھا تاکہ جب کبھی تمہیں ضرورت ہو جاب بیچ میں نہ آئے۔ ایسے لوگ نصیب سے ملتے ہیں۔ جب ہم نے اس سے CEO بننے کی بات کی تو وہ جھجک سا گیا۔ بغیر کسی انویسٹمنٹ کے پارٹنر بننے کے لئے دو ٹوک انکار کر دیا۔ تم جانتی ہو جب ایک نئی کمپنی شروع ہوتی ہے تو کس قدر کام ہوتا ہے میں اور شانزل اس وقت کافی بڑے پروجیکٹ میں الجھے ہوئے ہیں۔ فی الحال ہم اس کمپنی کو وقت نہیں دے سکتے۔ صرف اور صرف تمہارے لئے وہ راضی ہوا ہے۔ اس نے کمپنی کا بار اپنے کندھے پر لے لیا اس کے عوض میں وہ صرف تنخواہ لے گا۔ شانزل نے جب کہا کہ وہ فردوس بریں ایکسٹینڈ کروا رہا ہے اور اشعر کی فیملی یہیں رہے گی، تب بھی وہ راضی تمہاری وجہ سے ہوا کہ کہیں تمہیں اس کی ضرورت ہو تو وہ موجود رہے۔ تم تو اس سے پکارو گی نہیں سے معلوم ہے”
“شاہ زر میں خواہ مخواہ خود کو تنہا محسوس کرتی تھی۔ مجھے اب فرق نہیں پڑتا کہ ابو کا رویہ کیسا ہے؟ دادی کا کیسا؟ مجھے اب نائلہ زمان اور عاطف سے بھی فرق نہیں پڑتا۔ میرے پاس خالہ خالو ہیں جو مجھے بیٹی مانتے ہیں، اشعر جیسا بھائی ہے، حور ہے شانزل بھائی ہے، ہانیہ عانیہ ہے، میں اکیلی نہیں ہوں۔۔۔۔ بہت سے لوگ ہیں جن کو میرے ہونے یا نہ ہونے سے فرق پڑے گا”
وہ پھر سے رونے کے موڈ میں تھی
“پلیز اب رونا مت اور محترمہ آپ ہمیں بھول گئیں؟”
شاہ زر نے آنکھیں دکھائیں
” آپ کو کیسے بھول سکتی ہوں”
اشعر پھر سے دروازے پر نمودار ہوا
“نہ آج مجھے لگتا ہے تمہارا چائے پلانے کا ارادہ ہی نہیں۔۔۔۔۔ میں بڈھا ہو جاؤں گا چائے کے انتظار میں، سچ بتاؤ کہ تم ساری چائے تو نہیں پی گئی؟ میں بتا رہا ہوں کسی اور کی چائے پینے سے گناہ ملے گا اور کالی ہو جاؤ گی تم کالی”
کالی کہتے ہوئے اشعر نے برا سا منہ بنایا جیسے حیا سچ میں کالی ہو گئی ہو
کالی سن کر حیا تنتنا کر کھڑی ہو گئی
” دفع ہو جاؤ اشعر احمد، ابھی دل میں تمہارے لئے عزت جاگی تھی جس کا تم نے بیڑہ غرق کر دیا “
حیا تو بھنا گئی تھی
” خدا کا واسطہ تم مجھے عزت نہ دو۔۔۔۔۔ اللہ کے نام پر چائے دے دو چڑیل”
“چرسی کہیں کے۔۔۔۔۔۔ جاؤ نہیں دیتی۔۔۔۔ بنواؤ اپنی بیوی سے “
حیا بھی چڑ گئی
” دیکھو اب تمہاری کمپنی میرے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔ سوچ لو میں کیا کرسکتا ہوں “
اشعر نے اسے ڈرانا چاہا
حیا نے بڑے پر اسرار انداز اپنے ہاتھ باندھے ایک ادا سے گردن اٹھا کر مسکارا لائینز سے سجی آنکھوں اشعر کو دیکھا اور ایک انداز میں مسکرائی
حیا کی اس ادا پر شاہ زر جہانزیب کا دل سینے کے بائیں پہلو میں مچل ہی اٹھا
حیا اس سے بے نیاز اشعر سے الجھ پڑی
“اس اسے پہلے تم سوچ لو۔۔۔۔ ماضی میں جب جب تم نے مجھ سے پنگا لیا ہے۔۔۔ میں نے تمہارا کیا حشر کیا ہے”
اشعر کو ایک ایک کر کے سارے منظر یاد آئے تو اس نے تھوک نگلا وہ صحیح کہہ رہی تھی
شاہ زر نے مداخلت کر کے بحث ختم کروائیں
” بعد میں لڑ لینا چلو لاؤنج میں مجھے کچھ باتیں کرنی ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لاؤنج میں بیٹھے تھے کہ شاہ زر کچھ پیپر لیے وکیل کے ساتھ آیا اور حور سے کہا
“دیکھو صنم حیات سکندر بہت نادم ہے شاید بیٹے کی بربادی نے اس کی آنکھیں کھول دی ہیں۔۔۔۔۔ اس نے جائیداد کے پیپر بھیجوائے ہیں۔ مجھے ان میں سے کچھ نہیں چاہئے اسی لیے میں سب تمہارے حوالے کر رہا ہوں”
” شاہ مجھے بھی یہ نہیں چاہیے اور حیات سکندر سے کہیے گا
مجھے یہ جائیداد نہیں چاہیے اور میں کیسے معاف کردوں اسے ۔۔۔۔۔۔ اس جائیداد کے ساتھ میرے ماں باپ واپس آ سکتے ہیں؟ میری زندگی کے گیارہ سال واپس آسکتے ہیں؟ آپ بتائیں آپ سب بھول گئے؟ کیسے 17 سال کی عمر میں آپ دربدر ہوگئے تھے؟ کس طرح آپ نے خود کو کھڑا کیا؟ اگر میں اپنے ساتھ ہوئی زیادتیاں وہ اذیتیں بھول بھی جاؤں تو ماں باپ کا قتل کیسے معاف کر دوں؟
“بھول تو میں بھی نہیں سکتا صنم مگر زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔ اس نے میرے پیروں میں گر کر معافی مانگی ہے صرف تمہاری صحت کی وجہ سے اسے تمہارے پاس نہیں آنے دیا ورنہ وہ تم سے بھی پیروں میں گر کر معافی مانگتا، ہم جب خدا سے معافی کی امید رکھتے ہیں تو ہم کسی کو معاف کیوں نہیں کرتے؟”
” ہم اپنی غلطیوں کی معافی مانگ سکتے ہیں شاہ، گناہ کی نہیں، گناہ کا کفارہ ادا کرنا ہی پڑتا ہے “
اس دوران شانزل خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا یہ فیصلہ انھیں ہی کرنا تھا اگر بات شانزل ابراہیم کی ہوتی تو اس میں اتنا ظرف نہیں تھا کہ وہ معاف کر سکے
“میں نے اسے ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے وہ سچ میں قابل رحم ہے۔ ہم آج اگر طاقتور ہے ہم پتھر بن جائیں تو اس میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا؟ تم نے کہا تھا اس سے انتقام قدرت لے گی۔۔۔۔ قدرت انتقام لے رہی ہے۔ خدا ہمارے ظاہر و باطن سے واقف ہے سزا و جزا کا معاملہ اس کے سپرد کر دو۔ پتھر مت بنو موم ہو جاؤ سکون ملے گا۔ میرے بچی میں نے اسے اپنے ساتھ کی ہوئی زیادتی کے لیے معاف کیا امی ابو کا معاملہ میں ان ہی پر چھوڑتا ہوں اور تمہارا تم پر۔۔۔۔۔ یہ فیصلہ آسان نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں، مگر روزِ محشر جب ڈیڈ مجھ سے سوال کریں گے کہ کیوں میں نے تمہیں انتقام کی آگ سے نجات نہ دلائی تو میں کیا جواب دوں گا؟ ڈیڈ نہیں ہے مگر تمہارے سر پر میرا سایہ ہے، تمہارے بگاڑے ہوئے کاموں کو سنورنے کے ساتھ مجھے تمہیں بھی سنوارنا ہے۔۔۔۔۔ میں تمہیں اپنی بچی مانتا ہوں اور اسی حق سے کہہ رہا ہوں، اب بس اس باب کو یہیں بند کر دینا چاہیے وقت کے ساتھ یہ بھاری ہوتا جائے گا، ایک نیا باب تمہاری زندگی میں شروع ہونے والا ہے،،،،،، تم ماضی کا بوجھ لیے کیسے آگے بڑھوگی ۔۔۔۔۔۔۔ اس بوجھ سے خود کو آزاد کر لو۔۔۔۔۔ ڈیڈ کے آگے مجھے سرخرو کردو۔۔۔۔خود بھی سرخرو ہوجاؤ۔۔۔۔۔۔”
ایک زمانے کا کرب تھا شاہ زر کے لہجے میں۔
وہ ایک باپ کی طرح حورعین کو صحیح راہ دکھا رہا تھا حالانکہ یہ آسان نہیں تھا
“میں نے۔۔۔۔”
حورعین کی آواز لڑکھڑائی اس نے دو تین گہری سانسیں لی
پاس بیٹھی حیا نے ہاتھ پکڑ کر تسلی دی
” میں نے ح۔۔حیات سکندر کو ہر اس زیادتی کے لیے م۔۔۔م۔۔۔۔معا۔۔۔۔معاف کیا ۔۔۔۔جو اس نے میرے ساتھ کی۔۔۔۔”
کرچی کرچی ہوتے دل اور کپکپاتی آواز سے آخر اس نے یہ جملہ ادا کر ہی دیا
“آپ اس میں سے اپنے حصے کی جائیداد الگ کر لیجئے”
حورعین نے کہا تو وہاں بیٹھے وکیل نے پیپر کو دو حصوں میں بانٹا
“میرے حصے کی جائیداد کا ففٹی پرسنٹ آذر حیات کے نام کردیں”
حورعین نے وکیل کو مخاطب کیا
“جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہوگا۔۔۔۔ اور شاہ زر سر آپ؟”
شاہ زر خاموشی سے اٹھا اپنے حصے کی کروڑوں روپے کی جائیداد کے پیپر اٹھائے اور اپنی بیوی کے سر سے وارے
حیا ہکابکا اسے دیکھ رہی تھی وہ پیپر لے کر وکیل کے پاس گیا
“یہ میری بیوی کا صدقہ ہے اسے مستحق لوگوں تک پہنچانا اب آپ کا کام ہے “
وکیل بھی کچھ لمحوں کے لئے حیران ہوا تھا لوگ اپنا نام کرنے کے لیئے چیریٹی کرتے تھے مگر اس نے پہلی بار کسی مرد کو کروڑوں روپے کی جائیداد کو اپنی بیوی کے سر سے وار کر صدقہ کرتے دیکھا تھا
” جی ضرور “
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا
” معذرت چاہتا ہوں اتنی رات کو آپ کو زحمت دی مگر یہ معاملہ جتنی جلدی نمٹ جاتا اچھا تھا “
“جی میں سمجھ سکتا ہوں اب مجھے اجازت دیں”
شاہ زر وکیل کو چھوڑنے باہر چلا گیا
“آہ حور تمہارے ماں باپ کو تمہارے بھائی کا نام شاہ زر نہیں شاہ جہاں رکھنا چاہیے تھا ، جہاں تک مجھے نظر آرہا ہے یہ کچھ دنوں میں تاج محل نہیں تو حیا محل ضرور بنا دے گا۔۔۔۔”
شانزل کی بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنس پڑے
” ان کو چھوڑیں،،، آپ کم ہے کیا؟ میں تو آپ کنفیوز ہونے لگا ہوں آپ دونوں میں سب سے زیادہ رن مرید کون ہے”
اشعر نے شانزل کو گھیرا ہے
” ہمیں تو رہنے دو۔۔۔ ایک نظر اپنے گریبان میں جھانک لو”
شانزل نے بھی حساب برابر کیا
“بس کریں آپ دونوں اور حیا عانیہ کو اشعر کے حوالے کرو اور سب یہ محفل برخاست کریں سونا نہیں ہے کیا آپ لوگوں کو ؟”
سب نے ایک نظر عانیہ کو دیکھا جو حیا کی گود میں اونگھ رہی تھی
جب حیا ہنستی تو وہ بھی آنکھیں کھول کر ہنستی اور پھر آنکھیں بند کر لیتی اس طرح کچی پکی نیند میں بھی وہ حیا کی جان نہیں چھوڑ رہی تھی
اشعر اسے اٹھا کر ہانیہ کے ساتھ کمرے میں جانے لگا اور شانزل نے بھی کمرے کا رخ کیا
جب حیا کمرے میں جانے لگی تو حور نے روکا
“حور، بس دو منٹ دو مجھے اس قدر بھاری کپڑے میں نے کب سے پہنے ہوئے ہیں مجھے چینج کرنے دو پھر ساری باتیں سنوں گی”
” ارے بابا تمہارا کمرہ آج اوپر سیٹ کیا ہے”
” کیوں؟”
” چلو تو “
وہ اس لئے اوپر کمرے میں آئی اوپر کمرہ گلابوں سے سجا تھا ویسے ہی جیسے کسی نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے سجایا جاتا ہے
” یہ کیا ہے ؟”
حیا نے الجھ کر پوچھا تب اس کی نظر کمرے میں موجود خاتون پر پڑی
“یہ کون ہے ؟”
“فوٹوگرافر ہے ۔۔۔۔۔۔ بھئی تم نے ہی کہا تھا کہ۔۔۔۔ ۔ ارے جانے دو جلدی سے تصویریں بنواؤ”
حیا نے جی بھر کے تصویر بنوائیں پھر وہ فوٹو گرافر چلی گئی
” چلو ہم بھی چلیں”
” ہیں؟۔۔۔ کہاں؟”
حورعین نے تعجب سے پوچھا
“اپنے کمرے میں”
” صدقے جاؤں تمہاری کم عقلی پر”
” تم معصومیت بھی کہہ سکتی ہو”
” ادھر آؤ یہاں بیٹھو”
حورعین نے اسے سجے ہوئے بیٹھ پر بٹھایا اور اس کا لہنگا صحیح طریقے سے پھیلانے لگی
“دیکھو حیا تم مجھ سے بڑی ہو، جو ہو چکا اسے بھلا دو۔۔۔۔۔ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرو سوچو کہ یہ ایک سال تمہاری زندگی میں آیا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔ سوچو تم ابھی رخصت ہو کر آئی ہو۔۔۔۔ شکر ہے بے ہوش نہیں ہو۔۔۔۔ تمہارے پاس موقع ہے ساری خواہشیں پوری کرو، وہ تم نے کہا تھا نہ جیسے ڈراموں میں ہیرو گھونگھٹ اٹھاتا ہے، منہ دکھائی دیتا ہے اور وہ کیا ارمان تھے تمہارے؟ ہاں دو عدد شعر بھی۔ سارے ارمان پورے کرو”
” اور شاہ زر مجھے پاگل سمجھیں”
” تمہیں کیا لگ رہا ہے یہ سب میں نے کیا ہے؟ نہیں یہ سب شاہ نے کیا ہے۔ گھوروں مت میں نے انہیں کچھ نہیں کہا، انہوں نے خود ہی سجوایا ہے کمرہ اور فوٹوگرافر کو دیکھ کر لگ رہا ہے وہ کچھ حد تک تمہارے ارمانوں سے واقف ہیں”
” مگر حور یہ سب عجیب نہیں لگ رہا مطلب نیچے والا کمرہ ہی سہی ہے”
حیا کچھ جھینپ سی گئی
” چپ کر کے بیٹھو”
کہہ کر حورعین نے حیا کے چہرے پر گھونگھٹ ڈالا
“رہنے دو یار یہ مت کرو “
“قسم سے اب دو تھپڑ لگا دوں گی”
” تم بیٹھی تھی کیا گھونگھٹ نکال کر ؟”
“نہیں تو “
“تو رہنے دو یار پلیز “
“چلو ٹھیک ہے Best of luck”
حور کمرے سے جانے لگی
“حور”
حیا نے پکارا تو حورعین پلٹی
“سیڑھیاں سنبھال سنبھال کر آرام سے اترنا”
حورعین نے اثبات میں سر ہلایا تبھی دروازہ کھٹکھٹا کر شانزل داخل ہوا
” اس کی ذمہ داری تم مجھ پر چھوڑ دو “
ایک نظر سجے ہوئے کمرے کو دیکھا ہونٹ سیٹی کی شکل میں گول کرتے ہوئے کہا
“سالے صاحب کافی رنگین مزاج نہیں ہے؟”
حورعین نے آنکھیں گھمائی خود جیسے بڑے کم ہے
حیا شانزل کے جملے پر جھینپ گئی
“ویسے کیا کہتی ہو حیا لے جاؤں تمہاری حور کو”
“آپ کا مال ہے پوچھ کیا رہیں ہیں؟ اٹھا کر لے جائیں”
اس سے پہلے حورعین کچھ سمجھتی
شانزل نے اسے بانہوں میں سمیٹ لیا اور اس کی ایک بھی سنے بغیر کمرے سے باہر لے گیا
“آپ بہت بے شرم ہیں شان”
بانہوں میں اپنی متاع حیات کو سمیٹے مسکرایا
Thanks, I’ll take it as a compliment
اف شان آپ پہلے کیسے خاموش مزاج تھے
میں اب بھی خاموش مزاج ہی ہوں بس تمہارے ساتھ میرا دل بڑا شور مچاتا ہے
کہتے ہوئے شانزل نے بہت نرمی سے جھک کر حورین کے ہونٹ چومے اور حورین سٹپٹا گئی
اف خدا حد ہوتی ہے بےشرمی کی۔۔۔۔۔ شاہ ابھی اسی طرف آ رہے ہونگے شرم کر جائیں آپ
حورین نے سرخ ہوتے ہوئے شانزل کو لتاڑا
کوئی نہیں تمہارا بھائی ابھی رٹٹے لگانے میں مصروف ہے
کس چیز کے؟؟؟
یار تم ہماری بات نہیں کر سکتی
کہتے ہوئے شانزل نے ٹھوکر مار کر دروازہ کھولا
حورین نے اپنے سجے ہوئے کمرے کو تعجب سے دیکھا
‘ یہ کس نے سجوایا ہے؟”
“آپکے شوہر نامدار نے”
کہتے ہیں اسے سجے مہکتے بیڈ پر بٹھایا
“آپکو پتہ ہے آپ لا علاج ہیں؟”
شانز ل کوٹ اُتار کر مسکرایا اور حورین کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
“بالکل مجھے مرضِ عشق لاحق ہے اور کوں کمبخت شفا یاب ہونا چاہتا ہے”
لیمپ کی مدھم روشنی میں اسکی آنکھیں چمک رہی تھی اسکے لہجے کی سچائی پر کوئی شک نہیں تھا
ایسے اظہار وه دن میں کوئی دس دفعہ کرتا تھا
اور ہر مرتبہ حورین کو نیا لگتا وه مزید دس مرتبہ ایسے اظہار سننے کی خواہاں تھی
شانزل اٹھا اور اسے گلے لگا لیا حورین چونکی نہیں وہ عادی تھی ان hugs کی ۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے خاموشیاں رقص کر رہیں تھی
وہ اسی طرح اچانک کس کام کے درمیان آ کر اسے سینے سے لگا لیتا آنکھیں بند کیے کئی لمحے گزار دیتا
کبھی فون پر بات کرتے کرتے اچانک کال کاٹ کر کافی پیتی حورین کو گلے لگا لیتا
کبھی اچانک لیٹے لیٹے اسے خیال آتا کہ کپڑے تہہ کرتی حورین کو محسوس کرنا ہے وہ بہت بے نیازی سے چلتا ہوا حورین کے پاس آکر کپڑے لے کر ایک طرف پھینک کر پورے استحقاق سے اسکے گرد حصار باندھ لیتا
ایسا نہیں تھا که اسے یہ خیال صرف کمرے میں آتا تھا کچن لاؤنج لان، ڈرائیونگ کرتے یہاں تک ڈنز کے وقت کسی ریستوران میں بھی آ جاتا اور وہ بلا تردّد پیروی بھی کرتا
کمرے تک تو ٹھیک مگر باہر ایسے مظاہرے پر حورین جھنجھلا جاتی لیکن اسے نہ حورین کے جھنجھلانے سے فرق پڑتا تھا نہ لوگوں کی دبی دبی مسکراہٹوں سے۔
جو بھی تھا اسکا یہ انداز حورین کے دل میں موجود محبت کے تناور درخت مزید مضبوط کر دیتا
یہ لمحے انمول تھے حورین کا جی چاہتا بس یہ لمحے ٹھهر جائیں
شانزل نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا تو حورین کو لگا صدیاں گزر گئی ہیں اگر بس چلتا تو وہ اگلی دس صدیاں بھی اسکی بانہوں میں گزار دے۔
شانزل نے بہت عقیدت سے اسکی پلکیں چھوئی
“میں تمہیں بہت سنبھال کر رکھونگا جانِ شان”
اپنے ہونٹ اسی ملائمت سے پیشانی پر رکھے
حورین اس جملے کی بھی عادی تھی ہمیشہ اس طرح کے مظاہرے کے بعد وہ یہی جملہ ادا کرتا
پچھلے ایک سال میں اس نے کتنی مرتبہ یہ جملہ سنا تھا اسے گنتی بھی یاد نہیں تھی ۔
حورین نے مسکراتے ہوئے اسکے ہاتھوں سے گھڑی نکالی اور کمفرٹر اس پر ڈالنے لگی وہ چینج کرنے جانے ہی لگی تھی کی شانزل نے اسے اپنے بازو پر لیٹا لیا
“اوہ خدا شان آج پھر آپ کا رات بھر جاگ کر باتیں کرنے کا ارادہ ہے؟”
“تم محبت بھری باتیں بھی کہہ سکتی ہو”
“بالکل نہیں۔۔۔۔۔ میں تھک گئی ہوں ۔۔۔۔۔ آپ چینج بھی کرنے نہیں دیتے یہ اتنا سب لاد کر میں نہیں لیٹ سکتی
“ہاں تو میری جان میں جویلری نکال دیتا ہوں نا”
کہتے ہوئے جویلری کے نام پر موجود جھمکوں کو نکال دیا اور پھر نہ ختم ہونے والی باتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا
درمیان میں وہ اپنی گولڈن نائٹ کی طرح کبھی کبھی اپنی دی ہوئی لاکٹ کی چین پر انگلیاں پھیرتا حور اس کے لمس سے خود میں سمٹتی، سرخ رخساروں کے ساتھ وہ جب بھی نظریں چراتی شانزل محظوظ ہوتا
کبھی بات کرتے کرتے وہ شدت جذبات سے اس کے سرخ رخساروں کو چوم لیتا، کبھی اس کی کان کی لو، کبھی گردن، جس سے وہ مزید شرم سے سرخ ہو جاتی۔
جب بھی حورعین نظریں جھکا لیتی وہ بات کرتے کرتے اچانک اس کی آنکھوں کو چوم لیتا
وہ پچھلے ایک سال میں ان راتوں کی بھی عادی ہو گئی تھی
شانزل کو جب اس پر بہت زیادہ پیار آتا تو ایسی ہی ایک رات انکی درمیان آ کر ٹھهر جاتی
شروعات میں اسی طرح نخرے دکھاتی پھر مان جاتی
کیوں کہ ان راتوں میں شانزل ابراہیم اپنا دل کھول کر حورین شانزل ابراہیم کے سامنے رکھ دیتا اسکے دل کی ہر دیوار پر حورین کا نام لکھا تھا
اور محبوب کے دل پر لکھا اپنا نام پڑھنا کسے اچھا نہیں لگتا
ایسی ہی مسرور کر دینے والی نجانے کتنی راتیں حورین شانزل ابراہیم کا نصیب تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کچھ نروس ہونے لگی
پچھلے کچھ مہینوں سے شاہ زر کے ساتھ تو ایک ہی کمرے میں رہ رہی تھی مگر اس قدر ڈسٹرب تھی کہ اپنے رشتے کو محسوس ہی نہیں کیا اب ان ہنگاموں سے نجات ملی تو دل اس قدر دھڑک رہا تھا اوپر سے یہ سجا ہوا کمرہ
اسے خود حورعین نے دلہن کی طرح تیار کیا تھا
اور۔۔۔
سوچو کہ تم ابھی رخصت ہو کر آئی ہو۔۔۔۔
سوچو کہ یہ ایک سال تمہاری زندگی میں آیا ہی نہیں۔۔۔۔
سوچو سوچو کی چکر میں حیا نروس ہونے لگی
جیسے ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی حیا کی ہتھیلی سے پسینہ چھوٹنے لگا
شاہ زر نے گلا کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہا
حیا نے آنکھیں مینچ کر کھولیں مگر سر اٹھا کر نہیں دیکھا
شاہ زر نے ہاتھ میں پکڑا ہوا کوٹ سوفے پر ڈالا
ٹائ ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے بیڈ کی طرف آیا وہ حیا کی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا
ٹائ نکال کر صوفے پر اچھالی پھر مسکراہٹ دباتا ہوا پھولوں سے سجے بیڈ پر حیا کے سامنے گرنے کے انداز میں لیٹا
حیا کچھ سمٹی
” افف۔۔۔ حیا بہت تھک گیا آج “
کہنے کے بعد کروٹ لے کر کہنی کے بل اونچا ہوا اور ہتھیلی کی مٹھی بنا کر سر کے نیچے رکھی
” پارٹی کیسی لگی “
حیا نے اپنے سامنے موجود نیم دراز شاہ زر کو دیکھا اس کی نیلی آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی تھیں
وہ نارمل انداز میں اپنے شرٹ کے اوپر کے بٹن کھول رہا تھا حیا نے سکون کا سانس لیا
وہ نارمل تھا
“اچھی تھی”
” شکر ہے میں سمجھا صنم جاتے جاتے تمہاری زبان ساتھ لے گئی ہے تم پچھلے چار منٹ چپ ہو”
کہہ کر قہقہہ لگایا
اس کے مشاہدے پر حیا کو بھی ہنسی آ گئی
کچھ لمحے تو وہ اسے آنکھوں کے ذریعے دل میں اتارتا رہا
حیا نے اسے دیکھنے سے احتراز برتا
شاہ زر دور سے ہی اس کے ہاتھ کی کپکپاہٹ محسوس کر سکتا تھا
” تم نے مہندی کب لگائی تھی ؟”
وہ ہلکی پھلکی باتیں کرکے اس کی گھبراہٹ کم کر رہا تھا
شاہ زر جہانزیب بخوبی جانتا تھا حیا شاہ زر کو کس طرح سے Tackle کرنا ہے وہ اس میں ماہر تھا
حیا نے ایک نظر اپنے ہاتھوں کو دیکھا
“کل حور نے لگائی تھی مجھے تو یاد ہی نہیں تھا کہ اینیورسری ہے میں نے ایسے ہی شوق شوق میں لگوا لی”
” اچھی لگ رہی ہے، تم مہندی لگایا کرو تمہیں پسند تو ہے نا؟”
” بہت پسند ہے “
شاہ زر نے اٹھ کر جوتے موزے اتارے اور تکیہ صحیح کرکے رکھا
شرٹ کے باقی ماندہ بٹن کھول کر اس نے شرٹ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی
ٹھٹھک کر حیا کو دیکھا
” تم ایسے بٗت بنی کیوں بیٹھی ہو؟ تم بھی تو تھک گئی ہو آرام سے بیٹھو “
کہہ کر لیٹا پھر ایک بازو پھیلایا اور کہا
“بلکہ یہاں آؤ میرے پاس آرام سے لیٹو “
حیا کچھ جھجکتی ہوئی اس کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئی
شاہ زر نے حیا کو قریب کیا
حیا گڑبڑا گئی مگر شاہ زر نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا اور سوال پوچھا
“تم نے گھونگھٹ کیوں نہیں نکالا؟”
” ہیں ؟”
حیا نے حیرانگی سے پوچھا
” ہاں تمہارے ارمان تھے نہ وہ ڈراموں کی طرح میں گھونگھٹ اٹھاؤں پھر وہ منہ دکھائی دوں اور پھر وہ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔ ہاں شعر عرض کروں “
“اللہ آپ کو شرم نہیں آتی چھپ کر ہماری باتیں سنتے ہیں “
حیا نے ساری شرم ایک سائیڈ پر رکھ کر شاہ زر کو لتاڑا
“باگڑ بلے “
“اتفاقاً سنی تھی یار “
“بہت برے ہیں آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں”
“نہیں اڑا رہا میں تو بس پوچھ رہا تھا ویسے اگر تم بے ہوش نہ ہوتی تو تم سچ میں یہ سب ایکسپیکٹ کر رہی تھی مجھ سے؟”
” چھوڑیں نہ اس بات کو “
حیا نے جملہ مکمل کرکے اس کے سینے پر سر رکھ دیا
کچھ دیر تک تو دونوں کے درمیان خاموشی رہی
شاہ زر حیا کی انگلیوں سے کھیلنے لگا
دنیا کا سب سے دل فریب احساس اپنے شریک حیات کو خود سے قریب محسوس کرنا ہوتا ہے یہ احساس اتنا فرحت بخش ہوتا ہے کے کبھی کبھی دنیا کی ساری خوشیاں اس کے سامنے چھوٹی پڑ جاتی ہیں وہ دونوں بھی اس وقت اسی احساس سے گزر رہے تھے
“تمہیں یاد ہے؟ تم ایک رات اسی طرح میرے سینے پر سر رکھ کر سوئی تھیں”
حیا نے سر کچھ اونچا کر کے اسے دیکھا
ہائے!!!!! وہ نیلی آنکھیں
” یاد ہے”
کہہ کر سر اس کے سینے پر رکھا اور انگلی اس کے دل کے مقام پر پھیرنے لگی
“بہت سکون کی نیند آئی تھی”
پھر خاموش ہوگئی جیسے کچھ سوچ رہی ہو انگلیاں بدستور حرکت کر رہی تھیں
شاہ زر نے غور کیا تو پتہ چلا کہ وہ اس کے دل کے مقام پر اپنا نام لکھ رہی ہے HAYA
شاہ زر اس کی اس معصومیت بھری حرکت پر مسکرایا
“ویسے ایک بات بتائیں آپ کون سا نشہ کرکے سوئے تھے ؟”
“واٹ ؟”
وہ حیا تھی ہمیشہ کی طرح غیر متوقع
شاہ زر نے پوری آنکھیں کھول کر سینے پر رکھے اس کے سر کو دیکھا اسی وقت حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
ہائے!!!! یہ نیلی آنکھیں
” مجھے لگتا ہے کسی دن آپ کی آنکھوں کی وجہ سے میرا دل باہر آ جائے گا اور آپ کس قدر گہری نیند سوئے تھے اٹھ ہی نہیں رہے تھے”
شاہ زر اس کے پہلے جملے پر مسکرایا (Million dollar smile 😍)
” تم سے کس نے کہا میں پوری رات سویا تھا؟”
حیا نے حیران نظروں سے دیکھا
” ہیں ؟”
“جی۔۔۔۔۔ تم تو دو منٹ میں سو گئی تھی میں پوری رات جاگا تھا، تم میری بانہوں میں تھی مجھے نیند کیسی آتی؟”
حیرت در حیرت تھی
حیا اٹھ کر بیٹھ گئی
” سچ میں ؟”
وہ اب بھی بے یقین سی تھی
” بالکل۔۔۔۔ میں فجر تک جاگتا رہا تھا پھر نماز پڑھ کر آنے کے بعد بھی تم تو سو گئی میں آٹھ بجے سویا تھا اور گیارہ بجے تم نے اٹھانا شروع کر دیا “
“اوہ۔۔۔۔ شاہ زر آپ بالکل نہیں سوئے؟”
وہ دونوں ہاتھ اپنے رخساروں پر رکھے بچوں کی سی معصومیت سے پوچھ رہی تھی
شاہ زر جہانزیب کو اس لمحے اپنی قسمت پر رشک آیا
یہی تو وہ سکون تھا جس کے لیے وہ گیارہ سال تڑپا تھا
اس کے صبر کا کتنا خوبصورت اجر دیا تھا خدا نے
” کیسے سوتا؟ تمہیں پہلی بار اتنی قریب سے دیکھ رہا تھا، تم سوتی ہوئی کتنی معصوم لگتی ہو تمہیں پتا ہے”
حیا ہنسی اور پھر ہنستی ہی چلی گئی
” آپ پہلے شخص ہیں جس نے مجھے حیا کو معصوم کہا ہے “
حیا نے اپنی بات کو انجوائے کیا پھر کچھ یاد آنے پر بیڈ سے اترنے لگی
” کہاں؟”
شاہ زر نے پوچھا
“بس پانچ منٹ میں آئی “
کہہ کر بیڈ سے اتر گئی اس کا رخ دروازے کی طرف تھا دروازہ کھولنے کے لیئے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ شاہ زر نے اس کا ہاتھ تھام لیا
“کہاں جا رہی ہو؟”
” حور کے پاس “
“میری جگہ کوئی اور ہوتا نہ تو تمہاری حور سے جل جل کر خاک ہو جاتا لیکن خیر ہے۔۔۔۔۔ تمہیں حور کیوں یاد آگئی “
“وہ حور نے ہی دوپٹا وغیرہ سیٹ کیا ہے وہ بھی بہت ساری پِن لگا کر۔ اب مجھے تو پنز pins کھولنی نہیں آتی تو ابھی چینج کر لوں تو بہتر ہے ، حور سو گئی توو نیند سے جگانا اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔ بس پانچ منٹ میں چینج کرکے آتی ہوں”
” تو اس میں حور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے”
” کیا مطلب ؟”
“مطلب تم ادھر آؤ “
شاہ زر اسے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس لے آیا
” میں کس لیے ہوں میں ہیلپ کر دوں گا “
حیا سٹپٹائی
“آ۔۔۔ آپ کیسے کریں گے ہیلپ؟”
انتہائی بے تکا سوال پوچھا تھا
“تم اپنے شوہر کو انڈر اسٹیمیٹ کر رہی ہو، پچھلے سال میں ٹھیک اسی وقت پنز کھول رہا تھا اور ابھی منہ دکھائی بھی تو دینی ہے جو پچھلے ایک سال سے مجھ پر ادھار ہے”
کہہ کر ڈریسنگ ٹیبل کے ڈراور سے دومخملیں ڈبے نکالے
ایک ڈبہ کھولا اس میں ڈائمنڈ کا چمکتا ہوا بریسلیٹ تھا
شاہ زر نے بہت نرمی سے حیا کا ہاتھ تھاما کلائی میں بریسلیٹ پہنایا
بریسلیٹ کی ہر کڑی میں ننھے ننھے موتیوں جتنے ڈائمنڈ لگے ہوئے تھے
” غور سے ان ڈائمنڈ کے اندر دیکھو”
حیا نے اپنا ہاتھ آنکھوں کے قریب لے جا کر غور سے ڈائمنڈ کو دیکھا اس کی پتلیاں سکڑ کر پھیلی ایک ایک کرکے وہ کڑی میں موجود تمام ڈائمنڈز کو دیکھ رہی تھی
کچھ حیران تھی
” شاہ زر۔۔۔ شاہ زر اس میں تو ہماری تصویریں ہیں”
وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر اسے بتا رہی تھی جیسے شاہ زر کو تو پتہ ہی نہیں
“کیسا ہے؟”
حیا نے ہاتھ نیچے کر کے شاہ زر کو دیکھا
“انمول ہے”
شاہ زر نے حیا کے دونوں ہاتھ تھامے اور ہاتھوں کی پشت پر اپنے ہونٹ رکھے
“تمہارے ہاتھوں پر مہندی بہت خوبصورت لگتی ہے”
حیا نے نظریں جھکا لیں
تمہارے ہاتھوں سے جو خوشبوئے حنا آتی ہے
ایسا لگتا ہے جنت سے ہوا آتی ہے
اس کے شعر پر حیا کے ہونٹ مسکرائے اور پھر وہ ہنستی چلی گئی
شوخی شباب نازو تبسم کے ساتھ
دل لے لیا آپ نے کس کس ادا کے ساتھ
یہ شعر پڑھتے ہوئے شاہ زر نے حیا کو قریب کر لیا اسے پٹری سے اترتا دیکھ حیا نے فرار میں عافیت جانی
” شاہ زر پلیز۔۔۔۔”
وہ کسمسا کر مڑنے کو تھی کہ شاہ زر نے روک لیا
“آں۔ آج بالکل نہیں “
کہہ کر اس نے آہستگی سے مانگ ٹیکا نکالا
پِن نکالنے کی وجہ سے دوپٹہ گر کر کندھے پر آگیا
یہ بندیا یہ کنگن یہ جھمکا یہ مہندی
سنگھار تو تیرے ہیں مگر طلبگار میرے ہیں
حیا نے اپنی پلکوں کی جھالر گرا دی اور رخ موڑ لیا
شاہ زر نے بہت ملائمت سے اس کے بالوں کا جوڑا کھولا جس سے بال آبشار کی مانند گرے
: تمھارے بال بہت خوبصورت ہیں حیا”
اس کی آواز دھیمی ہو گئی تھی اور حیا کی دھڑکن تیز
شاہ زر نے پیچھے سے اس کے گرد حصار باندھا اور چہرہ بالوں کے قریب کر کہ اس کی خوشبو سے سانسوں کو معطر کرنے لگا
تیری زلف کے سائے
بس اب آگے کون جائے
تو کہے تو زندگی کو
میں یہیں تمام کرلوں
حیا کو لگا آج سارے دیوان یاد کرکے آیا ہے یقیناً اسے اپنے ارمان بھاری پڑ رہے تھے
شاہ زر نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا ہلکا سا جھک کر اپنے ہاتھ گردن کے دونوں اطراف ڈال کر ہار کا ہک کھولا
یہ فراق کے لمحے یہ بے قرار سا دل
تیری طلب میں تڑپتا تیرے یار کا دل
حیا کی سانسیں تیز ہونے لگی تھی
شاہ زر نے حیا کے چہرے پہ آئی لٹ کو کانوں کے پیچھے کیا وہ ایک قدم مزید قریب ہوا
اس کا ہاتھ زلفوں سے ہوتا ہوا کانوں میں موجود جھمکوں پر آ ٹکا
جھمکے کا مقدر ہے قابل رشک بہت
تیرے رخسار کے پہلو میں بہک رہا ہے
حیا کے رخسار دہک اٹھے
اس نے کانوں کو جھمکوں کے بوجھ سے آزاد کیا اور کانوں کی لوئیں چوم لیں
اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اپنی پیشانی حیا کی پیشانی پر ٹکائی
کچھ دیر تو صرف اسے محسوس کیا
اس وقت دونوں کی دھڑکنیں تھی، تنہائی تھی، رات تھی۔
اپنی سانسوں کے دامن میں چھپا لو مجھ کو
کہ تیری روح میں اترنے کو جی چاہتا ہے
شاہ زر کی آواز جذبات سے چور تھی حیا کا چہرہ گلنار ہو گیا
شاہ زر نے کندھے پر لگی پِن کھولی
حیا کو ٹوٹ کر شرما آئی سارے جسم کا خون جیسے چہرے پر سمٹ آیا
فرار چاہی تو شاہ زر نے حصار باندھ کر تمام راہیں بند کر دیں
حیا نے شرما کر اس کے سینے میں پناہ لی
سو سالہ چاندنی رات کی طرف
اور تیرے کاندھے کا یہ تِل ایک طرف
شاہ زر کی آواز اور سرگوشی میں ڈھل چکی تھی
شاہ زر نے احتیاط سے حیا کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا
وہ بہک رہا تھا حیا جیسے اس کے سحر میں تھی
وہ حیا کی حالت دیکھ کر ایک لمحے کو مسکرایا
“سانس تو لو۔۔۔۔یوں سانس روک لینے سے کیا ہوگا”
پھر انتہائی خمار آلود لہجے میں اس کے کان میں سرگوشی کی
آج کی رات میرے آشنا مجھے یوں بھی نصیب ہو
نہ رہے خیال لباس کا کہ تو اتنا میرے قریب ہو
بدن کی گرم آنچ سے میری آرزو کو آگ دے
میرا جوش بھی بہک اٹھے میرا حال بھی عجیب ہو
تیرے چاشنی وجود کا سارا رس نچوڑ لوں
پھر تو ہی میرا مرض ہو اور تو ہی میرا طبیب ہو
پھر وہ مدہوش ہو اٹھا جس سے حیا کی حواس بھی گم ہونے لگے
حیا کے انداز میں کچھ شرم، کچھ جھجھک، کچھ خود سپردگی شاہ زر کو مزید بہکا رہے تھے
اس کے انداز بہکے ہوئے تھے، مدہوش تھے، کچھ من مانیاں تھیں، کچھ شرارت، کچھ حلاوت، کچھ نرمی، کچھ محبت پا لینے کی خوشی، کچھ فتح کا سرور، کچھ رات کا نشہ تھا۔
حیا کے لئے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ شاہ زر اس پر محبت برسا رہا ہے یا خود کو سیراب کر رہا ہے