Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
Episode 13
حیا نے حورعین کو نیچے اترتے ہوئے دیکھا تو کھل اٹھی مگر وہ حیا تھی
” تم کون ہو”
حیا کی بات پر سب نےحورعین کو دیکھا ہو وہ ایک دم گھبرا گئی
” جو بھی ہو بڑی خوبصورت ہو”
دادی نے حیا کے سر پر چپت لگائی
” ماشاءاللہ کہتے ہیں، ایسے منہ پھاڑ کر خوبصورت کہہ رہی ہو “
“کیا ہے دادی اب بس بھی کریں”
“آؤ بچوں بیٹھو میں ناشتہ لگوانے کا کہتی ہوں، ہانیہ ہانیہ ناشتہ لے آؤ”
شانزل نے حور کے بغل والی کرسی سنبھالی۔
“ماشاءاللہ میں تم سے کہنے ہی والی تھی کہ تھوڑا سج سنور کر رہا کرو شادی والا گھر ہے رونق اچھی لگتی ہے”
دادی نے حورعین سے کہا اتنے میں اشعر بھی آگیا
” آگئے تم، میں کب سے آوازیں لگا رہی ہوں”
” کیا ہے داری صبح سے دوڑا رہی ہیں جاکر دیکھیں وہ پھولوں والا آیا ہے”
دادی اٹھ کر چلی گئیں۔
ہانیہ ناشتہ ٹیبل پر لگانے لگی
“ویسے حیا آپی لوگ دو کام کرتے نہیں ہیں کہ رونے لگتے ہیں”
ہانیہ نے اشعر پر طنز کیا۔
“ہاں تو تم سے تو بہتر ہی ہوں چپ کر کے کام کرو” اشعر کون سا خاموش رہنے والا تھا
حیا نے ہی بات کا موضوع تبدیل کیا
“ویسے بھائی آپ کی پسند تو لاجواب ہے، کیا شوپنگ کی ہے حور کتنی پیاری لگ رہی ہے “
کہتے ہوئے حیا نے آخر میں حورعین کے گال چوم لیے حور ایسے ہی شانزل کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی اوپر سے حیا وہ پوری پوری طرح سرخ ہو گئی
“حیا یہ حرکت مت کیا کرو “
“ہاں، ہاں اب تمہیں اب میرا کس کرنا کہاں پسند آئے گا “
حیا نے حورعین سے سرگوشی میں کہا مگر شانزل نے سن لیا تھا۔
“چپ کر جاؤ ورنہ تھپڑ کھاؤ گی”
حورعین نے ناشتہ شانزل کی پلیٹ میں نکالا
ناشتے کے دوران اشعر نے کہا کہ
“حیا تمہاری شادی دیکھ کر مجھے بھی شادی کرنے کا دل چاہ رہا ہے”
“یہ کیا کوئی سموسہ ہے جو دیکھ کر کھانے کا دل چاہ رہا ہے، ویسے بھی حیا آپی ان کا تو وہ حال ہے کہ
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا چاہیے
شادی کے لیے بساماں کا اشارہ چاہیے”
جواب ہانیہ کی طرف سے تھا
“ہاں کرلو لڑکی وغیرہ پسند میں تمہاری رادیہ بھابی سے سفارش کر دوں گی”
“ارے حیا تم نے تو دل ہی جیت لیا لیکن
لڑکی کہاں سے لاؤں شادی کے واسطے
شاید کہ اس میں میرے مقدر کا دو ش ہے
عذرا، نسیم ، کوثر و تسنیم بھی گئیں
ایک شمع رہ گئی ہے وہ بھی خاموش ہے”
“واہ واہ! “
شانزل نے ںبھرپور داد دی
“کیا بات کر رہے ہو اتنی ساری تھیں کیا ؟”
حورعین نے تعجب سے پوچھا
مگر جواب ہانیہ کی طرف سے آیا
“جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
ہزاروں مر گئے لاکھوں تیار بیٹھے ہیں
برباد کر کے اپنی تعلیم لڑکیوں کے پیچھے
کہتے ہیں مولوی صاحب دعا کریں بے روزگار بیٹھے ہیں”
ہانیہ نے ترنگ میں شعر پڑھا
“او ہیلو باقی سب تو ٹھیک ہے، مگر میں بے روزگار نہیں ہوں”
” ہاں بے روزگار نہیں ہے” مگر آپ کو لڑکی کون دے گا”
ہانیہ کی بات پر اشعر نے پھر سے شعر داغا
“Jab tjhe dekhu my dil start flying
Jab tu door jaye I feel like crying
Tu mjh se baat kre I keep trying”
ا
شعر بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا اور سب ہی وہاں چونک گئے پھر اشعر نے آخری مصرع پڑھا
“Tension mat le pagli I was lying”
اور پھر کیا تھا سب ہی کے قہقہے چھوٹے اور ہانیی اشعر کے پیچھے دوڑی
” رکو تمہیں ابھی بتاتی ہوں”
“اگر تیسری جنگ عظیم ہوئی تو ان دونوں کے درمیان ہی ہو گئی”
حیا نے ہنستے ہوئے بتایا
“حیا ابھی تک رادیہ بھابھی نہیں آئی ہے کیا؟”
حورعین نے پوچھا
“ارے وہ تو مجھ سے بھی پہلے ہی آگئی تھیں، ویسے تم جو پوچھنا چاہ رہی ہو وہ پوچھو نہ کہ حدید آیا ہے کہ نہیں “
حیا نے شوخی سے کہا تو حورعین مسکرا گئی۔
مگر شانزل کو حدید کا ذکر ناگوار گزرا حورعین کوئی جواب دیتی اس سے پہلے ہی پیچھے سے آواز آ گئی
“حور!”
شانزل کے ساتھ حیا نے بھی پلٹ کر دیکھا۔
حورعین اٹھ کر فوراً اس کے پاس گئی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی شانزل نے دیکھا وہ کوئی چار پانچ سال کا گولو مولو بچہ ہے جو اپنے پھولے پھولے گالوں کے ساتھ مسکرا رہا تھا۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں اور موٹی موٹی ابرو کے ساتھ پورا چائنیز لگ رہا تھا
تب حیا نے شانزل سے کہا
” بچ کر رہیے گا بھائی، آپ کی بیوی پر پورے کے پورے لٹّو ہیں یہ صاحب”
اس بچے نے کہا
“حور آپ کب آئیں “
” رات ہی آئی ہوں آؤ ناشتہ کریں “
حورعین اسے لیے کرسی کے پاس آئی حورین کی ایک طرف شانزل اور دوسری طرف حیا تھی اس بچے نے شاید شانزل کو دیکھا ہی نہیں وہ سیدھا حیا کی طرف آیا
” حیا پھپھو اٹھیں مجھے یہاں حور کے بازو میں بیٹھنا ہے “
“اے فٹ بال دماغ مت کھاؤ، میں نہیں اٹھنے والی تم نے تو آتے ساتھ حور پر قبضہ جمانا شروع کر دیا ہے”
“کیا ہے حیا اتنے سے بچے سے جیلس ہو رہی ہو چلو بیٹھنے دو “
حیا چاروناچار اٹھ گئی۔
حورعین نوالا بنا کر اس بچے کے منہ میں ڈالنے لگی وہ شرما شرما کر منہ کھولتا اور نوالہ کھاتا اور حیا کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے ‘دیکھا حور مجھے کتنا پیار کرتی ہے’
“زیادہ دانت مت نکالو تم فٹ بال، یہیں بیٹھے ہیں شانزل بھائی “
حیا نے تنک کر کہا حیا کی بات پر اس بچے کی آنکھیں آنسو سے بھر گئی۔
“امی بھی بول رہی تھیں آپ نے شادی کر لی ہے میں نے کہا تھا نہ میں آپ سے شادی کروں گا”
پھر اس نے شانزل کو دیکھا اور اتر کے اس کے پاس آیا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر کہا
“السلام علیکم، آئی ایم حدید اعظم “
شانزل نے مسکرا کر ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف بھی کرایا
“وعلیکم السلام، شانزل ابراہیم “
“حور میں بھی تو اچھا دکھتا ہوں مانا کہ میری eyes ان کی طرح نہیں ہے مگر میں کیوٹ ہوں”
کہتے کہتے حدید پھر سے رونے لگا حدید کو تو حورعین کی شادی کا صدمہ ہی ہو گیا
“تم کیوٹ نہیں ہوں فٹ بال ہو”
دیکھیں نہ حور، حیا پھپھو کیسے بول رہی ہیں “
وہ اور زور سے رونے لگا
“ارے نہیں حدید تو حور کے لیے سب سے کیوٹ ہے”
“کیا ہوا کون میرے بیٹے کو رلا رہا ہے”
رادیہ بھابھی بھی داخل ہوئیں
“یہ حیا پھوپھا مجھے تنگ کر رہی ہیں”
“کیوں حیا کیوں میرے بیٹے کو تنگ کر رہی ہو “
“آپ ذرا اپنے بیٹے کو سنبھال کررکھئے ایویں میری فرینڈ پر لائن مار رہا ہے”
“حیا پھپھو آپ تو مجھ سے جلتی ہیں”
“چپ کر جاؤ حیا ،کیوں حیران کرتی ہوں کتنا کیوٹ ہے حدید”
حورعین نے حدید کی حمایت کی
” حور آپ آج کتنی پیاری لگ رہی ہیں میں آپ کی earings چھوو سکتا ہوں؟:
حدید نے لگے ہاتھ فرمائش کر ڈالی
حیا کہاں چپ رہنے والی تھی
“دیکھا رادیہ بھابھی اس کو “
“تم چپ کرو، لوحدید تم دیکھ لو “
حورعین نے پھر حدید کی حمایت کی
“کوئی ضرورت نہیں ہے یہ میری حور ہے سمجھے”
حیا کو کوئی حال میں ماننے کو تیار نہیں تھی۔
“دیکھیں آپ ، جب آپ کو کوئی پرابلم نہیں ہے تو حیا پھپھو کیوں منع کر رہی ہیں؟”
حدید نے سیدھا شانزل کو گھسیٹا
“کوئی بات نہیں ہم حدید کو آئس کریم کھلائے گے، کھاؤ گے آپ؟”
شانزل نے بیچ کا راستہ نکالا
” اگر حور کھلائیں گی تو “
اس کی بات پر سن ہی مسکرا دیئے مگر حیا نے منہ بنایا جسے حدید نے دیکھ لیا۔
“اگر میری حور سے شادی ہو جاتی تو میں حور کو آپ سے کبھی ملنے نہیں دیتا “
حدید منہ بناتا چلا گیا
” بھابھی یہ تو ایک دم پٹاخہ ہے”
حیا نے رادیہ بھابھی سے کہا
” میری جھولی میں تو سبھی پٹاخے گرے ہیں ایک حدید، دوسرا میرا دیور اشعر، تیسری میری بہن ہانیہ اور چوتھی تم، “
رادیہ بھابھی نے حساب برابر کیا
” تو کیا آپ اور اعظم بھائی بہت سیدھے ہیں”
” تم تو چپ کر جاؤ لڑکی ، چار دن بعد شادی ہے اور اتنا بولتی ہوں اتنا بولنے سے روپ نہیں آتا”
دادی نے پیچھے سے آتے ہوئے کہا
“میں کب بولتی ہوں یہ تو سراسر الزام ہے”
ہائے ہمارے بیچاری حیا
“او ہانیہ جاؤ ذرا سب کو اٹھا ابھی تک کہ بستر توڑ رہے ہیں “
دادی حیا کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے
“دادی دیکھیں نہ حور اور شانزل بھائی آئے ہیں میں سوچ رہی تھی ان کو شہر گھوما لاؤں”
کوئی ضرورت نہیں ہے کل سے تم مایوں میں بیٹھو گی”
” ہاں تو کل سے بیٹھوں گی نہ آج تو نہیں “
“ہونے والی دلہن گھر سے باہر نہیں نکلتی نہیں تو روپ نہیں آتا”
حیا نے تو سر ہی پیٹ لیا
“حد ہے اب آپ یہ بھی کہہ دیں کہ سانس مت لو ورنہ روپ نہیں آئے گا ،جانے دیں میں نہیں جاتی ہوں دن بھر گھر میں رہ کر آپ کے پوتے اور بہو کو برداشت کروں گی”
حیا کے نوٹنکی سے کوئی متاثر ہوا تھا یا نہیں مگر رادیہ بھابھی ضرور ہو گئی تھی انہوں نے دادی سے سفارش کی تو دادی نے اجازت دے دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حدید حورعین شانزل اشعر ہانیہ اور حیا شہر گھومنے نکل گئے حدید پورا وقت ہو حورعین کے ساتھ لگا ہوا تھا حیا اس بات سے جل رہی تھی اشعر اور ہانیہ کو لڑنے سے فرصت ہی نہیں تھی
“حور آپ بہت اچھی ہو “
حدید کی بات پر ہنسے وہ لوگ سمندر کے کنارے کھڑے تھے
“ہمیں پتا ہے تم مت بتاؤ فٹ بال”
“میں فٹبال نہیں ہوں حیا پھپھو ، اشعر چاچو دیکھو نا انہیں “
“ارے حیا کی بچی چپ کر کے آئسکریم کھاؤ میرا حدید بہت کیوٹ ہے”
“ہاں، ہاں اتنا کیوٹ ہے”
حیا نے اشعر کی نقل اتاری
“حور دیکھیں نا، میں اتنا اچھا ہوں، میں روز برش کرتا ہوں، اسکول جاتا ہوں، میں ممی کی بات بھی سنتا ہوں، میں tall اور کیوٹ بھی ہوں آپ مجھ سے شادی کر لیں میں آپ کی ہر بات مانوں گا”
حدید کی تقریر پراشعر اور ہانیہ زور زور سے ہنسنے لگے شانزل تو اتنے چھوٹے سے بچے کی اتنی جرات پر حیران تھا اور حیا کو تو پوچھو ہی مت اسے پتنگے ہی لگ گئے۔
“چپ کر جاؤ حدید، جو منہ میں آیا بولتے ہی جا رہے ہو بڑے آئے tall اور کیوٹ، تم بٗٹکے حور کے شوہر کے کندھے سے کود کر خودکشی کر سکتے ہو، بڑے آئے میری حور سے شادی کرنے والے
حیا ہمیشہ کی طرح بولتی ہی چلی گئی
” ہیں؟ حیا پھپھو مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا بٗٹکے کیا ہوتا ہے اور میں ان کے کندھے پر کیوں چڑھوں گا؟”
حدید کی بات پر سب ہی ہنسنے لگے
“اچھا حیا اب جاؤ ذرا وہاں سے حدید کے لئے ایک اور آئسکریم لے آؤ “
حورعین نے معاملے کو ٹھنڈا کرنا چاہاشانزل بھی ساتھ دکان پر چلا گیا اشعر اور ہانیہ بھی آرڈر دینے اٹھ گئے
حورعین حدید کو چمچے سے آئسکریم کھلا رہی تھی تب اشعر اس سے آئسکریم کا فلیور پوچھنے آیا
اتنے میں پیچھے سے آواز آئی
“مس حورعین، اسلام و علیکم”
“وعلیکم السلام،”
حورعین نے جواب دیا
“مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے “
اس نوجوان نے مودبانہ لہجے میں کہا
اشعر تم ذرا حدید کو لے جاؤ میں بات کرکے آتی ہوں” اشعر حدید کو لے کر چلا گیا۔
حورین اسے جانتی تھی وہ اس کا اور حیا کا کلاس میٹ تھا “عادل یزدانی”
” آپ یہاں کیسے؟”
“حیا کی شادی میں آئی ہوں”
” کیسی ہیں آپ “
“الحمدللہ “
شانزل نے اشعر سے حور کے بارے میں پوچھا اس نے بتایا کہ وہاں ہیں شانزل سے بھی وہی آ گیا۔
“آپ یونی کیوں نہیں آ رہی ہیں؟ میں نے حیا سے بھی پوچھا تھا”
شانزل کو وہ دونوں دیکھ نہیں سکتے تھے
“میرے خیال میں یہ میرا ذاتی معاملہ ہے”
حورعین نے ٹوک دیا
حورعین کے جواب پر شانزل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی مگر اگلے ہی لمحے اس کی رگیں تن گئی۔
“حورعین میں اپنے پیرینٹس کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں “
شانزل حورعین کے جواب کا منتظر تھا
“پہلی بات ‘مس’ حورعین دوسری بات مسٹر عادل یزدانی آپ نے آج یہ فضول بکواس کر دی ہے دوبارہ مت کیجئے گا”
حورعین نے سرد لہجے میں کہا
مس حورعین میں نے صرف اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے آپ سوچ کر دیکھیے میں مانتا ہوں آپ انکار و اقرار کا حق رکھتی ہیں، یقین جانیں میں کبھی بھی آپ سے شانزل ابراہیم اور آپ کی تصاویر کا ذکر نہیں کروں گا کبھی اس بات کا طعنہ نہیں دوں گا میں پوری یونیورسٹی کی طرح نہیں ہوں مجھے کبھی بھی آپ کی پاکیزگی پر یقین کرنے کے لئے کسی کی گواہی کی ضرورت نہیں ہوگی آپ کے کردار کی پختگی کو میں جانتا ہوں پلیز آپ ایک بار سوچیں تو” وہ ایک جذب کے ساتھ کہہ رہا تھا اور شانزل کا دماغ تو عادل کے جملے آپ کی اور شانزل ابراہیم کی تصویر پر بھک سے اڑ گیا، اس شخص نے وہ تصویر دیکھی ہوئی ہے باقی یونیورسٹی کے لوگوں سے کیا مطلب ہے؟شانزل کی سوچوں کا اتکاز حورعین کی آواز نے توڑا
” انکار و اقرار کا حق مجھے ہے اور میں انکار کرتی ہوں “
“آپ جانتی ہیں حورعین ان تصاویر کے بعد کوئی بھی آپ کو قبول نہیں کرے گا لیکن میرے جذبات مخلص ہے ،”
“خدا حافظ”
حورعین کا لہجہ ایسا تھا مطلب اب دفع ہو جاؤ
پھروہیں بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں اور پھر شانزل وہیں سے واپس پلٹ گیا
وہ لوگ رات گئے واپس آئے تھے
حورعین نے سوچا شانزل کا رویہ کتنا اچھا ہوگیا ہے وہ سب کچھ نہیں تو کچھ اس کی باتوں سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے۔
وہ خوشی خوشی دونوں ہاتھوں میں کافی کے مگ لئے ٹیرس پر جا رہی تھی اس کے بارے میں سوچ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
“آپ کی کافی “
حورعین کی آواز پر شانزل نے پلٹ کر دیکھا اور کافی کا مگ تھام لیا شانزل نے گلا کھنکھار کر بات کا آغاز کیا
“حورعین میں آپ سے کچھ پوچھوں گا تو سچ جواب دیجیے گا”
“پوچھئیے”
” میں نے غیر ارادتاٌ آپ کی اور عادل یزدانی کی باتیں سن لی تھی اسے تصویر کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟”
اور حورعین کو لگا اب اس کا دل بند ہوجائے گا اس نے اپنی گرفت کافی کے مگ پر مضبوط کر لی اس کی آنکھیں یکلخت آنسوؤں سے بھری اور آنسوؤں نے یکلخت آنکھوں سے رخسار تک کا سفر طے کیا۔
” یو۔۔۔۔۔یونیورسٹی کی و۔۔۔ ویب سائٹ پر کسی نے تصاویر اپ۔۔۔ اپلوڈ۔۔۔۔اپلوڈ کردی تھی “
شانزل تو ساکت ہو گیا
“اور کسے پتا ہے؟”
اور۔۔اور۔۔۔۔یونیورسٹی کو اور میری پرانی آفس والوں۔۔۔۔۔والوں کو ۔۔۔۔۔۔”
حورعین نے تھوک نھگلا
“او۔۔۔اور۔۔۔ اور آپ کی۔۔۔۔آپ کی آ۔۔۔آفس میں بھی”
حورعین سے اب اپنے پیروں پر کھڑا رہنا محال ہو گیا تھا
“کیا اس دن بھی آفس میں اسی وجہ سے ورکرز میں جھگڑا ہوا تھا؟”
“جی “حورعین نے اس کی لی
“کیا ہوا تھا ؟”
شانزل کا لہجہ پوری گفتگو میں سپاٹ تھا بلکل ہر جذبات سے عاری
“مس۔۔۔۔۔ مسٹر ہ۔۔ہمدان نے۔۔۔۔”
حورعین کو اس وقت لگا خدا اسے موت دے دے۔
“کیا ہوا تھا؟”
شانزل سوال دہرایا
“مسٹر ہمدان۔۔۔۔۔مسٹر ہمدان م۔۔۔میری تصایر دیکھنے کے بعد بہت۔۔۔بہت بد تمیزی سے بات کر رہے تھے مجھے آپ کی۔۔۔۔۔ آپ کی۔۔۔۔ ر۔۔۔ رکھیل۔۔۔۔رکھیل کہہ رہے تھے”
لفظ رکھیل پر شانزل نے جھٹکے سے سر اٹھا کر حورعین کو دیکھا وہ سر جھکائے آنسو بہاتے ہوئے کہہ رہی تھی یکا یک شانزل کی پیشانی پر بل پڑے
“کہہ رہے تھے تو مسٹر یوسف کے منع کرنے کے بعد بھی چپ نہیں ہوئے تو دونوں میں جھگڑا ہوگیا “
کہہ کر حورعین ایک نظر شانزل کے غصے سے خطرناک حد تک سرخ ہوتے چہرے پر ڈالی
وہ ایک نظر حورعین کو دہلا دینے کے لئے کافی تھی۔
حورعین کپ وہیں چھوڑ کر نیچے کی طرف دوڑتی چلی گئی کپ کے ساتھ بہت کچھ ٹوٹا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
