125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25 Part 1

” شادی کر لیں شاہ۔۔۔۔ حیا سے”
شاہ زر نے غور سے حورعین کے امید سے جھلملاتے چہرے کو دیکھا
“میں تمہاری بات ٹال سکتا ہوں کیا؟”
” اوہ۔۔شاہ آپ بہت اچھے ہیں”
حورعین نے چہک کر کہا
” کوئی نئی بات بولو، مجھے پتا ہے میں بہت اچھا ہوں”
“حیا بہت اچھی ہے وہ صرف محبت بانٹنا جانتی ہے”
“کچھ زیادہ تعریف نہیں ہو رہی”
” تھوڑی پاگل ہے مگر صاف دل کی ہے “
“سو جاؤ بہت باتیں ہوگئی”
“شاہ ہم کل جائیں گے حیا کے گھر “
“ٹھیک ہے سو جاؤ “
میں ابھی بی اماں کو بتاتی ہوں “
کہہ کر فوراً گھر میں چلی گئی شاہ زر کچھ سوچ کر مسکرایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حورعین تیار ہوئی اور شاہ زر کو بھی اپنی پسند سے کپڑے پہننے کو کہا جب وہ باہر نکلے تو شانزل کی مرسیڈیز گیٹ سے داخل ہوئی وہ گاڑی سے نکل کر شاہ زر کے بغل گیر ہوا حورعین نے اسے دیکھ کر منہ بنایا
“شاہ انھیں کس نے بلایا ہے؟”
” میں نے ہی بلایا ہے ظاہر ہے اپنے بہنوئی کے بہن کے لیے رشتہ لے کر جا رہے ہیں تو ان کا ہونا ضروری ہے نہ صنم “
حورعین منہ بنا کر پیچھے سیٹ پر بیٹھ گئی
گاڑی اپنے راستے پر رواں دواں تھی شانزل حورعین پر نظر جمائے بیک ویو مرر سے دیکھ رہا تھا تب حورعین نے بھی اسے دیکھا تھا اس نے ایک آنکھ ماری حورعین آنکھیں پھاڑے اور منہ کھولے اسے دیکھنے لگی اور پھر جلدی سے آنکھ بند کر کے سوتی بن گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین شانزل اور شاہ زر گھر پہنچنے کے بعد چار مرتبہ بیل بجانے اور دس منٹ کے انتظار کے بعد کہیں جا کر حیا نے دروازہ کھولا اسے دیکھ کر حورعین کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے
محترمہ تیل چپڑ بالوں کی دو چوٹی بنائے منہ میں لالی پاپ لئے کوئی حقیقتاً پانچ سال کی بچی لگ رہی تھی۔
” اوہ۔۔۔حور ۔۔۔۔”
کہتے ہوئے حیا اس کے گلے لگ گئی
حورعین جبراً مسکرائی سب اندر داخل ہوئے
” میں نے تم سے کہا تھا میں آؤں گی”
” تو پتا تھا “
“تو پھر اپنی یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے”
” ارے دادی کو لگا میں اپنے بالوں کا دھیان نہیں رکھ رہی اس لیے پکڑ کر تیل لگا ڈالا اور کس کر چوٹی ڈال دی”
حیا چلتے ہوئے اپنے اوپر ڈھائے گئے ستم کی داستان سنا رہی تھی شانزل زیر لب مسکرایا
جیسے ہی لیوینگ روم میں داخل ہوئے اندر بیٹھے دونوں بچوں پر نظر پڑی
” ارسلان، حمنہ ابھی جاؤ ہم بعد میں کھیلیں گے”
” کیا کھیلیں گے”
حور کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایک دو تو حیا کو جڑ دے۔
” لوڈو کھیل رہے تھے نہ کوئی نہیں میں بعد میں کھیلوں گی اتنی قربانی تمہارے لئے دے ہی سکتی ہوں” اسی اثنا میں وہ بچے چلے گئے
” آپ لوگ بیٹھے میں آتی ہوں”
حیا کچن میں چلی گئی
حورین کو جتنا غصہ آتا کم تھا
کچھ دیر بعد حیا ٹرالی گھسیٹتی ہوئی آئی اور میز پر لوازمات رکھنے لگی
” تم ڈھنگ سے تیار نہیں ہو سکتی تھی”
حور کو تو اس کے منہ میں لالی پاپ دیکھ دیکھ کر غصہ آ رہا تھا
“ارے یار ہم صبح سے لوڈو کھیل رہے تھے پھر مجھے کچھ یاد ہی نہیں رہا”
حور نے غصے سے اس کے منہ سے لالی پاپ نکال لیا
” حور یہ میری جھوٹی ہے تمہیں چاہیے تو میں دوسری دے دیتی ہوں “
“دفع ہو جاؤ حیا، جاکر دادی کو بلا کر لاؤ”
حیا دھپ سے سوفے پر بیٹھ گئی
“میری لالی پاپ دو تو ہی کوئی بات مانوں گی”
اس وقت حقیقتاً حورین کے دل میں سوال اٹھا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ نا انصافی تو نہیں کر رہی
تبھی پیچھے روم سے دادی باہر نکلیں
” تم ابھی تک افلاطون بن کر گھوم رہی ہوں چلو کمرے میں جاؤ حلیہ درست کرو “
دادی اپنے آپ کو کچھ سخت کہنے سے روکا
حیا حورعین سے لالی پاپ جھپٹتی ہوئی کمرے میں بھاگی۔
شانزل نے شاہ زر کے کان میں سرگوشی کی
” تم سچ میں تیار ہو اس دو چوٹی والی لالی پاپ کی دیوانی افلاطون سے شادی کرنے کے لئے؟”
لہجہ سنجیدہ تھا مگر آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی شاہ زر نظر انداز کیا اور اٹھ کر دادی کو سلام کیا
حورین نے دادی کو بتایا کہ وہ کسی اور کے لئے نہیں بلکہ اپنے بھائی کے رشتے کے لئے آئی ہے حیا کی دادی تو نیلی آنکھوں والے خوبرو شہزادے پر واری صدقے جا رہی تھیں انہوں نے یہ کہہ دیا کہ
” حور تمہاری عادت و صفات سے سبھی واقف ہے یقیناً تمہارا بھائی بھی ایسا ہی ہوگا مجھے تو اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں”
حورین کے چہرے پر الوہی چمک سے مزین رنگ بکھرے
“شکریہ دادی آپ یقین رکھیں حیا کو ہمارے گھر میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی”
شاہ زر نے حورین کو دیکھا وہ کسی دادی امّاں کی طرح اپنے بھائی کی گارنٹی دے رہی تھی۔
“مجھے تم پر اور تمہارے بھائی پر پورا یقین ہے بچے، مگر کیا کروں میری عمر ہو گئی ہے نہ جانے کس وقت بلاوا آ جائے اور پھر تم حیا کے مزاج سے واقف ہو نہ جانے کب اس کا دماغ گھوم جائے اسی لئے بیٹا میری خواہش ہے کہ نکاح جلد از جلد ہو جائے”
“دادی یقین مانیں میری بھی یہی خواہش ہے”
شاہ زر اور شانزل دونوں حورعین کو دیکھ رہے تھے پھولے نہ سمانا محاورہ اس وقت حورعین پر فٹ تھا
وہ بیک وقت دادی اماں اور چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی وہ بہت اعتماد اپنے بھائی کے لیے کھڑی تھی اور اپنے بھائی کی شادی کے لئے بے حد ایکسائیٹیڈ تھی۔
” دیکھو بیٹھا مجھے غلط مت سمجھنا میں مگر میری عمر اب پتا نہیں کتنا وقت دے اسی لیے کہہ رہی ہوں”
” جی دادی ہم سمجھ رہے ہیں”
تبھی حورعین کو میسج موصول ہوا
“تم جس کے بھی متّھے مجھے مارنے لگی ہو اس طلال کے بارے میں بتا دینا دادی نے مجھے سختی سے بتانے سے منع کیا ہے اسی لئے ان کے سامنے مت بتانا “
حورعین نے میسج پڑھا پھر موبائل بند کیا
” زمان اور نائلہ عاطف کے ساتھ عاطف کے ماموں کے یہاں گئے ہیں میں تو چاہ رہی تھی نکاح آج ہی ہوجائے”
دادی نے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ بات مکمل کی۔
” وہ تو ٹھیک ہے دادی لیکن والد کی غیر حاضری میں نکاح ؟”
شاہ زر نے کہا
“میں ذرا زمان سے فون پر بات کرلوں جب تک تم لوگ بسم اللہ کرو”
دادی کے جاتے ہی حورعین شاہ زر کی طرف متوجہ ہوئی
“ہائے اللہ شاہ کتنا اچھا ہو آپ کا نکاح آج ہی ہو جائے”
“تمہیں نہیں لگتا اس بارے میں پہلے تمہیں تمہاری دوست سے بات کر لینی چاہیے”
شاہ نے پتے کی بات کی تھی
اووووہ ابھی سے اس کی رائے معنی رکھتی ہے”
شاہ زر نے اسکے سر پر چپت لگائی
” میں سیریس ہوں، صنم”
“کوئی نہیں اس سے تو میں ابھی کہوں گی تو ابھی نکاح پڑھوا لے میری بہت چلتی ہے”
حورعین نے فرضی کالر اکڑائے حورعین کے نقش نقش سے خوشی پھوٹ رہی تھیں شانزل کوتو آس پاس کی خبر ہی نہیں تھی وہ اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا نہ اسے آواز آرہی تھی نہ حورعین کے سوا کچھ دیکھائی دے رہا تھا پوری دنیا جیسے پس منظر چلی گئی تھی۔
اسی لیے پوری گفتگو میں وہ خاموش تھا وہ بہت ہی انہماک سے حورعین کے چہرے پر بکھرے رنگوں کو دیکھ رہا تھا اسے ہمیشہ وہ ادھوری سی لگتی تھی کوئی ویرانی سی اس کی سبز آنکھوں سے چھلکتی تھی مگر آج وہ مکمل تھی اور بلاشبہ حسین بھی۔
دادی واپس آئیں
“بیٹا میری زمان سے بات ہوئی ہے وہ کہہ رہا ہے مطلب میری خواہش کی وجہ سے کہہ رہا ہے کہ آج نکاح کرلیں وہ راضی ہے رخصتی ان لوگوں کے آنے کے بعد کریں گے کوئی اعتراض تو نہیں بیٹا”
حورعین نے شاہ زر کی طرف دیکھا جیسے رضامندی چاہیے شاہ زر نے مسکرا کر رضامندی دی
حورین نے دادی سے کہا
” میں حیا کو بتاتی ہوں آج مغرب بعد اس کا نکاح ہے”
دادی نے اسے گلے لگا لیا اور شاہ زر کے سر پر ہاتھ پھیرا حورعین کی نظر شانزل پر پڑی تو منہ بنا کر حیا کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
شاہ زر نے شانزل کے کان میں سرگوشی کی
“شرم کر جاؤ، میں اس کا بھائی ہوں میرے ہی سامنے گھورے جا رہے ہو تمہاری بہن کے رشتے کے بات چل رہی ہے”
شاہ زر نے شانزل کو شرم دلائی جسکا شانزل پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا
” شرم تم کرو، لڑکی دیکھنے آئے تھے نکاح کرکے جاؤ گے تم زیادہ فاسٹ فارورڈ نہیں ہو “
“اپنی اپنی صلاحیتیں ہیں”
” فکر نہیں کرو صلاحیتیں تو حیا ہی ابھارے گی تمہاری”
دونوں مگن تھے تبھی دادی نے کہا
“تم لوگوں نے تو کچھ کھایا ہی نہیں لو نہ بیٹا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین حیا کے کمرے میں آئی تو حیا نے پوچھا
” تم نے ان لوگوں کو طلال والے قصے کے بارے میں بتایا؟”
” پہلے تو مجھے یہ بتاؤ تم یہ نمونہ بن کر کیوں گھوم رہی ہو”
” ارے یار بتایا تو تھا تمہیں”
ویسے میں یہ بتانے آئی ہوں کہ شام میں مغرب بعد تمہارا نکاح ہے اور رخصتی تمہارے ابو کے آنے کے بعد ہے”
” ایسا ابو نے کہا”
” ہان دادی نے فون پر بات کی تھی”
” ایسا نہیں ہے میں بتاتی ہوں کیا ہوا ہو گا ابو نے کہا ہو گا کہ میں ایک مرتبہ خرچہ اٹھا چکا ہوں دوبارہ خرچہ نہیں کروں گا اسی لئے جلد ازجلد مجھے دفع کریں”
“تم۔۔۔۔۔”
حورعین آگے کچھ کہتی اس سے پہلے دروازے پر دستک ہوئی اور شانزل داخل ہوا
” ہو گئے سہیلیوں کے راز و نیاز ؟”
“آپ کو اس سے کیا”
حورعین نے اکھڑ کر جواب دیا
” ارے بابا میں تو اس لئے آیا تھا کہ شاپنگ نہیں کرنی حیا کے لیے؟ میں بھائی ہوں تو میرا فرض ہے'”
ھیا کھلکھلا کر ہنسی
“آپ تو حور سے ڈرنے لگے ہیں”
” سب کے دن آتے ہیں”
شانزل نے ایک ادا سے جواب دیا
” چلیں نہ شاپنگ کرنی ہے وہ میں اپنی پسند سے کروں گی”
حورعین نے اشتیاق سے کہا
“چلو “
حیا بھی تیار ہوگئی جہاں شاپنگ ہو وہاں حیا نہ ہو یہ تو نا ممکن ہے۔
” ذرا نہا دھو لو ویسے بھی گھر میں بیٹھو ورنہ روپ نہیں آئے گا “
” ٹھیک ہے دادی اماں “
حیا نے تپ کر حورعین کو جواب دیا
“ارے یار میرے بچوں کو تو آنے دو پھر ان کے بچوں کی باری آئے گی تب حور دادی اماں کہلائے گی پہلے اماں تو کہلانے دو”
شانزل کی بات پر حورین کا چہرہ سرخ ہوا اور حیا کی ہنسی چھوٹ گئی حورعین نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی اور باہر نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین نے ساری شاپنگ اپنی پسند سے کی
“شاہ اپ پر یہ اچھا لگے گا “
“جو میری صنم کو پسند ہے وہی پہنوں گا”
” آپ کو پتہ ہے میں آسمانوں پر اڑ رہی ہوں”
” زمین پر آجاؤ عصر ہونے والی ہے میں یہ پیک کرواتا ہوں تم اپنے لیے ڈریس دیکھو”
کہہ کر شاہ زر ا چلا گیا
“آہمم آہمم میرے لئے کیا پسند کیا ہے”
شانزل نے دلکشی سے کہ
“میں چھچھورے لوگوں کے لئے شاپنگ نہیں کرتی”
” لاحول پڑھو ، تم مجھے چھچھورا کہہ رہی ہو؟ میں نے کونسی چھچھوروں والی حرکت کی ہے؟”
“آپ۔۔۔۔ آپ مجھے دیوار کے پار سے دیکھتے تھے، آپ نے مجھے آنکھ ماری ،مجھے گھور گھور کر دیکھتے ہیں اور اوپر سے اول فول بولتے ہیں”
حورعین نے سب کچھ گنوا یا شانزل چہرے پر دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
” گھور کا نہیں دیکھتا ہوں محبت سے دیکھتا ہوں”
“ہونہہ، ہٹیں کپڑے دیکھنے دیں”
” نہیں میں پسند کروں گا تو وہی روکھے پھیکے رنگ پسند کروں گی “
” زیادہ پھیلیں مت روٹھی ہوئی ہوں آپ سے”
شانزل کو ایک بات سمجھ آ گئی کہ اب اسے کسی بھی طرح اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو منانا پڑے گا وہ ہر بات پر ایک ہی جملہ اس کے منہ پر دے مارتی تھی
“روٹھی ہوئی ہوں آپ سے”
در پردہ وہ چاہتی تھی شانزل اسے منائے ایک مان تھا اسکے لہجے میں جیسے اسکی غلطی کے باوجود شانزل ابراہیم اسے منائے گا۔
شانزل اسکی بات پر مسکرایا اور پھر اس کے لیے کپڑے پسند کرنے لگا اسے پتہ تھا حورعین جہانزیب شانزل ابراہیم کی بات ٹال ہی نہیں سکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر حورعین اور شانزل نے ایک کمرہ بک کیا اور وہاں تیار ہو کر مغرب بعد حیا کے گھر پہنچے وہاں پر اعظم بھائی آچکے تھے اور کچھ جاننے والے بھی
حورعین جلدی سے حیا کے کمرے میں گئی اسے تیار کیا ۔
حورعین کالے رنگ کے گرارے میں جس پر گولڈن رنگ کی زردوزی اور موتیوں کو کام تھا نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔
وہیں شانزل ابراہیم کالے پٹھانی میں اپنی تمام تر وجاہت سمیت چھایا ہوا تھا دونوں بلیک لو برڈز کے کیا ہی کہنے تھے
سفید کرتا شلوار پر گولڈن واسکٹ پہننے نیلی آنکھوں والے شاہ زر جہانزیب کی چھب ہی نرالی تھی۔
تبھی حورین گھونگھٹ میں چھپی حیا کو لے کر آئی حیا سرخ رنگ کے جوڑے جس پر آئینوں اور زردوزی کا نفیس کام تھا سہج سہج کر قدم اٹھاتی آئی
حورعین نے اسے شاہ زر کے پاس میں بٹھایا تھا
شانزل نے حیا کے سر پر ہاتھ رکھا جیسے اپنے ہونے کا یقین دلارہا ہو
پھر قاضی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا
” حیا زمان ولد زمان عبیر آپ کا نکاح شاہ زر جہانزیب ولد جہانزیب سکندر کے ساتھ بعوض ایک کروڑ روپے مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے ؟”
حیا نے جھٹکے سے سر اٹھایا
کیا اس کا نکاح شاہ زر سے ہو رہا تھا یک لخت اس کے منہ سے نکلا
” باگڑ بلّا؟”
یہ سرگوشی اس نے خود سے کی تھی مگر شاہ زر کے کانوں تک پہنچ گئی شانزل نے حیا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو حیا نے کہا
” قبول ہے”
حیا کا دل بہت زور سے دھڑکا ۔
“قبول ہے”
” قبول ہے “
ہر مرتبہ دل نے دھڑک کر اپنے ہونے کا ثبوت دیا دل تو پہلے بھی دھڑکتا تھا مگر اب کی بار ان دھڑکنوں کی لے ہی نرالی تھی حیا کو خود پر تعجب ہو رہا تھا
پھر قاضی صاحب شاہ زر کی طرف متوجہ ہوئے
“شاہ زر جہانزیب ولد جہانزیب سکندر آپ کا نکاح حیا زمان ولد زمان عبیر سے بعوض ایک کروڑ روپے مہر سکہ رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو قبول ہے”
“قبول ہے “
فضا میں شاہ زر کی گھمبیر آواز گونجی اور حیا کی دل کی دنیا میں ایک طوفان اٹھا تھا۔
“قبول ہے “
حیا کا دل دوسری مرتبہ شاہ زر کی آواز پر اتنی زور سے دھڑکا تھا کہ اسے لگا اب اس کا دل باہر آجائے گا
“قبول ہے”
حیا کو لگا اس کا روم روم عضوِ سماعت بنا ہوا ہے حیا کو خود کی کیفیت پر حیرانی ہوئی تھی وہ آج سے پہلے کبھی اس صورتحال سے نہیں گزری تھی
بس اسی وقت وحی کی صورت میں حیا زمان کے دل میں شاہ زر جہانزیب کی محبت نازل ہوئی تھی یہی لمحہ تھا نزولِ محبت کا۔
ایجاب و قبول کے بعد مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” رخصتی مہینے بھر بعد طے پائی ہے”
حورعین نے حیا کو بتایا جو کمرے میں بیٹھی اپنے ہتھیلی پر غور و خوض کر رہی تھی۔
“تم نے سوچا بھائی کے بارے میں ؟”
مرغے کی وہی ایک ٹانگ۔ حورین تو جھنجھلا گئی
“نکاح ہوا ہے تمہارا شادی نہیں، شادی کے بعد سوچوں گی”
” تمہیں پتا ہے اشعر ہانیہ تک خبر پہنچ گئی ہے دونوں ہی بپھرے ہوئے ہیں میں نے کہہ دیا کہ پرسوں گھر آجائیں میں ڈنر بناؤں گی ،ویسے میرے ابو کی بیوی کی شکل تو دیکھنے لائق ہوگی”
“تم سدھرنا مت، ہمیں کچھ کام آگیا ہے اسی لیے ابھی نکلنا ہوگا تم کب چلوں گی؟”
” میں تو کل جاؤں گی تم لوگ بھی پرسوں آ جانا ڈنر پر تم بھی کیا یاد رکھو گی”
شانزل بھی حیا سے مل کر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا بیڈ پر لیٹی خود کی کیفیّت پر حیران ہو رہی تھی اسے خود پر شاہ زر جہانزیب حاوی ہوتا محسوس ہوا۔
اسے وہ آج تک ملتی آئی تھی بے شک وہ خوبصورت تھا اس سے بھی زیادہ مگر اس نے شاہ زر کی طرف کبھی دھیان نہیں دیا لیکن نکاح کے بعد اس کے دل میں کٗن مٗن سے جذبات کھلبلی مچا رہے تھے۔
وہ نیلی آنکھوں والا شخص اسے اپنے حواسوں پر چھاتا ہوا محسوس ہوا
حیا نے زیر لب کہا
“حیا اور شاہ زر “
“حیا شاہ زر”
“حیاشاہ زر جہانزیب “
ایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو چھو گئی
رات بھر حیا نے اپنا نام دہرایا۔
اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ اسکا نکاح کس سے ہو رہا ہے۔ نہ حیا نے پوچھا نہ حورعین نے بتایا۔ اسے تو یہ تجسس ہی نہیں تھا کہ اسکا نکاح کس سے ہو رہا ہے وہ تو بس حورعین کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔
مگر حیا کو لگا اس کے احساسات بدل رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچنے کے بعد شانزل اور شاہ زر کسی کام سے چلے گئے شاہ زر دیر رات گھر لوٹا تھا اسکے انتظار میں حورعین دیر سے سوئی اسی لئے دوسرے
دن جب تک وہ اٹھی شاہ زر آفس جا چکا تھا۔
لنچ تک وہ اچھی خاصی بور ہو چکی تھی وہ ابھی ابھی نہا کر نکلی تھی گیلے بال پشت پر ایسے ہی بکھرے ہوئے تھے۔
لان میں چیئر پر بیٹھے اس کا دھیان بھٹک کر شانزل کی طرف چلا گیا۔
بھاری بوٹوں کی آہٹ پر وہ چونک کر خیالوں کی دنیا سے باہر نکلی اس سے پہلے پلٹ کر دیکھتی کسی نے اس کے اوپر بڑا سا کالا کپڑا ڈالا وہ چھٹپٹا کر باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگی مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی۔
وہ اتنی حواس باختہ ہوئی کہ منہ سے چیخ بھی نہ نکل سکی
اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا وہ خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی مگر مقابل نے اسے اٹھا کر کار میں ڈال دیا حورین نے ایک گہری سانس لی اور اپنے حواس بحال کرنے لگیں لیکن وہ چونک گئی
جب ہوش ٹھکانے لگے تو عقل سے سارے پردے ہٹتے چلے گئے پہلے وہ حواس باختہ تھی پھر ہوش میں آئی پھر حیران ہوئی اور اب حیرانگی کی جگہ غصے نے لے لی
” میں کہتی ہوں ہٹائیں اسے ورنہ مجھ سے بڑا کوئی نہ ہوگا”
گاڑی میں ایک جاندار قہقہہ گونجا کیا حورعین نے محسوس کیا گاڑی رکی
پھر کسی نے حورعین پر سے کالا کپڑا ہٹایا حورین جھپٹنے کے انداز میں مڑی
” آپ کو شرم نہیں آئی ایسی حرکت کرتے ہوئے”
” اب اس میں شرم کیسی “
حورعین سامنے بیٹھے مطمئن سے شانزل کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگئی
” کیا میں پوچھ سکتی ہوں آپ نے یہ حرکت کیوں کی؟”
شانزل نے بڑے آرام سے کار سٹارٹ کر کے راستے پر ڈالی
” کرنی پڑی، میں مجبور تھا”
شانزل کا اطمینان قابلِ دید تھا
“تو مسٹر مجبور انسان، مجھے اپنی مجبوری بتانے کا تکلف کریں گے ؟”
“میری مجبوری یہ ہے کہ میری بیوی بالکل میری طرح ضدی ہے”
حورین ک امنہ ہی کھل گیا
“میں ضدی ہوں؟”
یہ سوال ہر گز نہیں تھا
” میری بیوی نخریلی بھی بہت ہے “
حورعین تو تپ گئی شانزل نچلا لب دبائے مسکراہٹ روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“ا۔۔۔۔۔ ابھی کے ابھی گاڑی روکیں”
“کیوں ؟”
“کیونکہ میں کہہ رہی ہوں ابھی کے ابھی گاڑی روکیں مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ “
“دیکھ لو میری بیوی کس قدر مغرور ہے”
حورین بھنّا گئی اور پھر منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔ اس کے پھولے پھولے منہ کو دیکھ کر جو خواہش شانزل ابراہیم کے دل میں جاگی اگر وہ اس پر عمل کرتا تو حور نے یقیناً اسے گاڑی سے باہر پھینک دینا تھا۔
” ویسے تم نے مجھے پہچانا کیسے”
” آپ کی بیوی منہ پھٹ بھی ہے اسی لئے میں نہیں بتاؤں گی”
شانزل نے ایک اور جاندار قہقہہ لگایا اور گاڑی روک دی حور باہر نکلی اور پوری قوت سے دروازہ بند کیا
شانزل بھی باہر نکلا حورعین بغیر آس پاس دیکھے آگے بڑھنے لگی
“حور “
آج بھی شانزل ابراہیم کی ایک پکار حورعین شانزل ابراہیم کے قدم زنجیر کرلینے کو کافی تھی
حورین رکی
” چاہے دے یار خوشیاں…..”
شانزل کی انتہائی دلفریب آواز فضا میں گونج اٹھی
حورعین نے مڑ کر دیکھا
“ہو جائیں اب میں سے ہم……”
وہ headworn mic پہنے پوری شان سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا وہ اس قدر دلفریب آواز میں گنگنایا تھا کہ لوگ آس پاس جمع ہونے لگے mic کی وجہ سے دور دور تک اس کی آواز گونج رہی تھی۔
” دل میں تو جگہ دے۔۔۔”
” یہ فاصلوں کو کردے تو کم۔۔۔۔”
یہ التجا کرتے ہوئے شانزل نے اپنی ہتھیلی حورعین کے سامنے پھیلائی۔
شانزل ابراہیم اپنی آواز کی صورت میں حورین پر طلسم پھونک رہا تھا۔ حورعین نے میکانکی انداز میں اپنا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا
“مانگی مانگی دعا مانگی ہے۔۔۔”
شانزل وہی ہاتھ پکڑ کر حورعین کے ساتھ ڈانس اسٹیپ کرنے لگا اوپر سے گلاب کی پنکھڑیوں کی برسات ہونے لگی۔
حورعین نے سر اٹھا کر دیکھا تو اوپر ہیلی کاپٹر منڈلاتے ہوئے پھولوں کی برسات کر رہا تھا وہ مسکرائی پھر شانزل کو دیکھا اور پوری طرح اس کا ساتھ دینے لگی۔
” بس یہی دعا مانگی ہے “
“میں دن بدن تجھ میں رہوں۔۔۔”
“اووو۔۔۔”
“اف تک نا یارا کروں۔۔۔۔۔”
وہ دونوں آس پاس بھلائے پوری طرح بڑی مہارت سے اسٹیٹس لے رہے تھے شانزل پورے سر و کے ساتھ اپنی آواز کا سحر فضا میں پھیلا رہا تھا پھولوں کی برسات ہنوز ہو رہی تھی شانزنے حورعین کی انگلی پکڑ کر اوپر کی اور گول گول گھومانے لگا
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ ہاں رہوں۔۔۔”
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ اووو۔۔۔”
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ ہاں رہوں۔۔۔”
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ “
شانزل نے اسے گول گول گھماتے ہوئے اپنے ایک بازو پر گرایا حورعین شانزل کی آنکھوں میں کھوئی تھی اوپر سے ایک ( rope) رسّی آئی شانزل نے دوسرے ہاتھ سے rope میں لگے loop کو اپنی جیکٹ میں لگایا نظریں ہنوز حورعین کی سبز آنکھوں کو باندھے ہوئے تھی۔
اور وہ اسی طرح گنگنایا
” برسوں سے چاہا ہے جو
وہ چاہت ہے تو۔۔۔۔چاہت ہے تو
آنکھوں میں خواب ہے جو
وہ خواب ہے تو۔۔۔ خواب ہے تو”
آخری مصرعے پر حورعین کو لگا وہ ہواؤں میں ہے
حورین نے نیچے دیکھا وہ حقیقتاً ہواؤں میں تھی۔ وہ روپ (rope) ہیلی کاپٹر سے لٹکی تھی وہ دونوں اوپر اٹھتے جارہے تھے
حورعین کسی روپ سے نہیں بندھی تھی اس کے گرد شانزل ابراہیم کے مضبوط بازو کا حصار تھا۔
میری روح کا جو سکون
مجھ پہ ہے تیرا جنون
پھول ابھی برس رہے تھے ہیلی کاپٹر آہستہ آہستہ گول گول چکر لگانے لگا
“مانگی مانگی دعا مانگی ہے۔۔۔”
” بس یہی دعا مانگی ہے “
“میں دن بدن تجھ میں رہوں۔۔۔”
“اووو۔۔۔”
“اف تک نا یارا کروں۔۔۔۔۔”
ہیلی کاپٹر مزید تیزی سے چکر لگانے لگا حورعین ایک لمحے کو بھی خوف کا شکار نہ ہوئی۔ وہ دونوں بغیر پر کے ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ ہاں رہوں۔۔۔”
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ اووو۔۔۔”
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ ہاں رہوں۔۔۔”
” تیرا ہو کے رہوں۔۔۔۔ “
پوری کائنات میں صرف شانزل ابراہیم ہی تھا جو اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو اس انداز سے منا سکتا تھا وہ اس کا ہونا چاہتا تھا حورعین کو اور کیا چاہیے تھا۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ساکت تھے وہ خاموش ہوا تو نیچے سے شور اٹھا
“KISS HER….
KISS HER…..”
آدھا شہر نیچے جمع تھا وہ دونوں تو کب سے کھوئے ہوئے تھے انہوں نے نیچے دیکھا تو اس وقت وہ لوگ شہر کی سب سے مشہور شاہراہ پر آسمان پر تھے
لوگ اپنی اپنی گاڑیاں روک کر اس شہزادے کو بہت فیاضی سے محبت لوٹاتے اور پھولوں کی شکل میں وفائیں برساتے اشتیاق سے دیکھ رہے تھے۔
حورین نے پھر شانزل کی آنکھوں میں دیکھا وہ آنکھوں میں محبت کا ایک جہان آباد کیے شوخ نظروں سے حورین کو دیکھ رہا تھا جو مسکراہٹ اس کے لبوں پر ناچ رہی تھی اسے دیکھ کر حورین گھبرا گئی پلکیں لرز کر جھک گئیں
” پلیز شان۔۔۔۔ سب دیکھ رہے ہیں”
شانزل ابراہیم کے پھونکے ہوئے طلسم میں تو دنیا سے بیگانی ہو گئی تھی مگر اب اسے ٹوٹ کر شرم آرہی تھی اس نے شرما کر اپنا سر شانزل کے کندھے پر رکھ کر چہرہ چھپا لیا۔
اگر شانزل کوئی پیش رفت کرتا تو وہ پھر سے روٹھ جاتی بہت مشکل سے شانزل نے خود کو روکا مگر اس کی معصومیت پر شانزل کا دل پہلو میں لوٹ کر رہ گیا۔
شانزل نے بہت مشکل سے اپنے بے قابو ہوتے دل کو سنبھالا اور اور ایک ہاتھ سے اشارہ کیا۔
ہیلی کاپٹر آگے بڑھنے لگا پھر شانزل نیچے کھڑی عوام کو کہا
“we need some privacy, guys”
جس شوخ انداز سے اس نے یہ جملہ ادا کیا تھا نیچے کھڑے لوگوں نے ہوٹنگ شروع کر دی حورعین نے کچھ اور اپنا چہرہ چھپا لیا۔
شانزل ابراہیم کو پتہ تھا بلکہ پوری دنیا جانتی تھی اس کے اظہار کی طرح یہ واقعہ بھی کل کے اخبار اور نیوز چینل کی زینت بننے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت سمندر کے کنارے کھڑے تھے اور سورج غروب ہو رہا تھا حورین کا ہاتھ اب بھی شانزل کے ہاتھ میں تھا
” اب تو بتا دو تم نے مجھے کیسے پہچانا ؟”
” مسٹر مجبور انسان، آپ کا جب اگلی مرتبہ مجھے کڈنیپ کرنے کا ارادہ ہو تو میں بتا دوں کہ میں آپ کو آپ کے لمس سے پہچانتی ہوں” شانزل مسکرایا۔
” میں آپ کو پہلے ہی پہچان لیتی مگر میں اچانک حواس باختہ ہو گئی تھی، مجھے احساس ہوا کہ یہ کوئی اور نہیں میرے شوہر نامدار ہیں مگر میں نے اپنے خیال کی نفی کی کیونکہ اس وقت میں آپ کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی مجھے لگا ہو سکتا ہے میرا یہ خیال غلط ہو۔۔ جب میں نے خود کو ریلیکس کرنے کے لئے گہری سانس لیں تب مجھے یقین ہوگیا کہ یہ کوئی اور نہیں میرے شوہر نامدار ہیں میں تو آپ کو آپ کی خوشبو سے بھی پہچانتی ہوں”
شانزل کو لگا اسکی روح اندر تک شاد ہو گئی ہو
“یعنی اگلی مرتبہ مجھے ان چیزوں کا دھیان رکھنا ہوگا”
حورعین اس طرح ہنسی جس طرح کوئی بڑا کسی بچے کی نادانی پر ہنستا ہے
“خام خیالی ہے آپ کی،،،،، میں تب بھی آپ کو پہچان لوں گی، دراصل میں نے ابھی بھی آپ کو پہچان لیا تھا میرے لاشعور میں یہ بات تھی کہ یہ آپ ہی ہے مگر حواس باختگی کی وجہ سے میں نے اس پر دھیان نہیں دیا میں ایک بات بتا دوں لمس اور خوشبو تو بہت بعد کی بات ہے میں تو آپ کو آپکی آہٹ سے پہچانتی ہوں “
حورعین بڑے مزے سے اپنی صلاحیتوں کا تذکرہ کر رہی تھی اسکی محبت پر شانزل کا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔
“اب تو روٹھی ہوئی نہیں ہو نا ؟”
“روٹھنے لائق چھوڑا کہاں ہیں آپ نے”
” تو چلیں گھر ؟”
“آپ مجھے میرے گھر چھوڑ دیں؟”
“کیوں؟”
شانزل تقریبا چینخا تھا
“ایویں، آپ کے ساتھ چلی جاؤں۔ آپ پورے طریقے سے میرے گھر آئیں گے اور میرے بھائی سے مجھے مانگ کر لے جائیں گے “
” حور؟”
شان کی آواز صدمے سے چوٗر تھی۔
” آپ میری بات نہیں ٹالیں گے “
لہجے میں نہ دھمکی تھی، نہ استحقاق، نہ ہی التجا، اور نہ ہی یہ سوال تھا، اس کا لہجہ مان سے لبریز تھا شانزل ابراہیم کس طرح اسکا مان توڑ دیتا۔
ٹھیک ہے،،، مگر ایک بات مجھے سمجھ آ گئی ہے مستقبل قریب میں تم نے میری ایک نہیں سننی، ہونا وہی ہے جو تم چاہتی ہو،،، اف خدا میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی مجھے اپنے تابع کر سکتا ہے”
حورعین کھلکھلا کر ہنس پڑی
“واہ کافی سمجھدار ہو گئے ہیں آپ؟بالکل ٹھیک پیشین گوئی کی ہے مستقبل کی”
سورج غروب ہو چکا تھا، اپنے ساتھ تمام کدورتیں، شکوے، غم، ناراضگی، غصہ سب لے ڈوبا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔