Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
“میں آپ سے صرف ایک سوال پوچھوں گا”
حیا نے اپنی سانس روکی شاہ اس وقت بہت سنجیدہ تھا
” کیا آپ مجھے سب کچھ پہلے ہی بتانے کا ارادہ رکھتی تھیں؟”
حیا کے تمام لفظوں کو شاہ زر نے سوال کا پہرہن پہنایا حیا نے پورے شدومد کے ساتھ زور و شور سے ہاں میں سر ہلایا جیسے وہ جتنی زور سے سر ہلانے گی اتنا ہی اسکا جواب سچ مانا جائے گا۔
جسے دیکھ کر ایک لمحے کو شاید شاہ زر مسکرا دیا “ٹھیک ہے”
کہہ کر شاہ زر اٹھ کھڑا ہوا اور وارڈروب سے کپڑے نکالے
“ہیں؟ کیا یقین کرلیا اتنی جلدی؟”
حیا صرف سوچ سکیں
شاہ زر کے تاثرات سے اندازہ لگانا بہت مشکل کام تھا
“میں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ حور کو سب پتا ۔۔۔۔۔”
حیا نے صفائی دینی چاہی
” میں یقین کر چکا ہوں مجھے صفائی کی ضرورت نہیں ہے، ساری بات صرف ہاں یا نہ کی ہوتی ہے مجھے کسی ایکسپلینیشن کی ضرورت نہیں ہے”
اس نے پلٹ کر رسان سے کہا پھر مڑ کر اپنے کپڑے اٹھائے
“میں جِم (gym) جار رہا ہوں سب اٹھ جائیں گے تو ناشتہ کروں گا”
حیا صرف اسے دیکھ کر رہ گئی اور وہ کہہ کر واش روم میں چلا بھی گیا
“ہائے!!!! یہ تو پورے ہیرو ہیں، واہ! کیا ڈائیلاگز مارتے ہیں”
حیا چہکی۔ پھر جلدی سے کھڑی ہوئی نماز طرز سے بندھا ہوا دوپٹہ کھولا، جویلری پہنی، ہلکا سا میک اپ، کیا دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کے چوڑیاں پہنی۔ بال چونکہ گیلے تھے اسی لئے صرف برش کر کے کھلا چھوڑ دیا، پھر پائل پہنی،،،،،وہ اڑ کر حور کے پاس پہنچنا چاہتی تھی
ایک بار خود کو آئینے میں دیکھا آسمانی رنگ کے سوٹ، سِلور کا مدار دوپٹے، سجی سنوری، مہندی سے بھرے بھرے ہاتھ کے ساتھ وہ بالکل نئی نویلی دلہن لگ رہی تھی۔
” ہائے میں کتنی پیاری لگ رہی ہوں”۔
آئینے میں خود کو دیکھا پھر جلدی سے خود کی بلائین لیں اور فلائنگ کس کی۔ اور چھپاک سے حور کے پاس بھاگ گئی۔
شاہ زر چینج کرکے نکلا تو دیکھا دروازے کے پاس سِلور رنگ کا آنچل لہراتا ہوا غائب ہوا یعنی محترمہ صنم سے ملنے گئی ہے اسے ایک دم خیال آیا کہ گھر اتنے مہمانوں سے بھرا پڑا ہے اور کسی کو حیا کی خراب طبیعت کا علم نہیں ہے شاہ زر نے سوچا لوگ باتیں بنائیں گے اسی لیے بہتر ہے کہ حیا کو بول دے کہ کسی کو طبعیت کے بارے میں نہ بتائیں وہ باہر نکلا تو حیا طچہکتے ہوئے قلانچیں بھرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی اس کی چوڑیاں اور پائل چھن چھن کر کے اپنی موجودگی کا اعلان کر رہی تھیں اس کے بال کھلے ہوئے تھے
شاہ زر کو تعجب ہوا کہ حیا کے بال کرلی ہے اس کے بال شانوں تک سیدھے اور نیچے سے گول گول لچھے دار تھے
شاہ زر اسے بلاتا اس سے پہلے ہی حیا ، حورعین تک پہنچی شاہ زر اوپر ہی کھڑا ہو گیا
“حور “
حورعین نیچے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی
” اسلام علیکم بھابی صاحبہ”
حورعین نے پرجوش انداز میں سلام کیا
” وعلیکم السلام، جنت المقام، دوزخ الحرام، لاؤ دو چاکلیٹ انعام”
کہتے ہوئے ہمیشہ کی طرح حیا دھپ سے صوفے پر بیٹھی
” اف حیا کب سدھروگی؟ حرکتیں چھوڑ دو یہ سب شادی ہوگئی ہے تمہاری”
” تمہاری بھی تو ہو گئی ہے تم سے سدھری ؟”
“میں اچھی بچی ہوں مجھے ضرورت نہیں سدھرنے کی”
پھر دھیان آیا تو حورعین نے پوچھا
” تم اب کیسی ہو ؟”
“میں پہلے بھی خوبصورت تھی اور اب بھی خوبصورت ہوں”
اب حیا تو حیا ہے
” ارے ہاں مجھے یاد آیا! میں تم سے ناراض ہوں “
حیا کو اچانک ہی اپنی ناراضگی یاد آئی
“کیوں؟ بھابھی جی میں تمہاری کتنی پیاری نند ہوں”
” ہائے پیاری تو ہو مگر میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا بلکہ جس دن تم رشتہ لے کر آئی تھی اسی دن کہا تھا کہ میری منگنی وغیرہ کے بارے میں بتا دو تم نے شاہ زر کو کیوں نہیں بتایا؟”
حورین ایک دم سنجیدہ ہو گئی
” دیکھو حیا مجھے پتا تھا شاہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا اس لئے میرے لئے نزدیک یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی اور پھر اس سے زیادہ important باتیں تھیں تو میں بھول گئی، ویسے تم اس وجہ سے ناراض ہو؟”
“نہیں بابا “
“تو پھر؟”
” تمہاری وجہ سے میری گولڈن نائٹ خراب ہوگئی “
میری گولڈن نائٹ خراب ہوگئی ‘ پر شاہ زر نے ایک ابرو چڑھائی اور حورعین نے ایک دھموکا جڑا حیا کو
” تم کتنی بے شرم ہو، وہ میری وجہ سے نہیں تمہاری وجہ سے خراب ہوگئی تم خود بے ہوش ہوئی تھی”
حورعین نے شرم دلائی
” ہاں تو تم ہوش میں نہیں لا سکتی تھی میرے کتنے ارمان تھے”
حیا کو بہت افسوس ہوا اپنی گولڈن خراب ہونے پر
” لا حول ولا قوتہ یا توبہ ہے تمہارے ارمان سے ، بے شرم نہ ہو تو”
“ہاں تو تم نے دیکھا نہیں ہے فلموں اور ڈراموں میں کیسے ہیروئن گھونگھٹ اوڑھ کر بیڈ کے درمیان پورا لہنگا پھیلا کر بیٹھتی ہے میری تو ویسے کوئی تصویر ہی نہیں ہے، اور نہ اتنی خوبصورتی سے سجے ہوئے کمرے کے ساتھ کوئی تصویر ہے “
“تصویر؟”
حورین منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی اور آخر میں اپنا سر پیٹ لیا
“تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا “
“ہاں تو اور کیا اور تم نے ڈراموں اور فلموں میں دیکھا نہیں ہے گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے ہیرو منہ دکھائی دیتا ہے پھر دلہن کی تعریف میں شعر و شاعری کرتا ہے کچھ نہیں تو دو شعر ہی ارمان تھے میرے”
حیا منہ بنا بنا کر اور ہاتھ ہلا کر بتا رہی تھی حیا کی بات سن کر حورعین نے تاسف سے سر ہلایا پھر کہا “کچھ نہیں ہوسکتا تمہارا “
کہہ مسکرائی پھر ہنس دی اور ہنستی ہی چلی گئی
“ہائے حور تم جب مسکراتی ہو تو کتنی پیاری لگتی ہو”
کہتے ہوئے حیا نے حورعین کے دونوں گال چوم لیے اور ہمیشہ کی طرح حورعین جھنجھلا گئی
” دور ہٹو مجھ سے تمہارا کِس کرنا سخت نا پسند ہے”
” ہاں ہاں اب تمہیں ہمارا کس کرنا کہاں پسند آئے گا اب تو یہ معاملات بھائی کے ساتھ ہوں گے “
حورین پل میں سرخ ہوئی
” کا قدر بدتمیز ہو تم ،رکو ابھی بتاتی ہوں”
کہہ کر حورعین حیا کے پیچھے دوڑی، دونوں کھلکھلاتے ہوئے ہال کے چکر لگا رہی تھی تبھی حورعین کی نظر شاہ زر پر پڑی
“السلام علیکم شاہ “
حورعین نے پٹ سے سلام جھاڑا حیا اپنی سانس بحال کرنے لگی
” وعلیکم السلام، سب اٹھ گئے؟”
” نہیں شاید گھنٹے بھر میں اٹھ جائیں”
“ٹھیک ہے جب تک میں جّم ہو آؤں”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر ڈائننگ روم میں داخل ہوا تو وہاں حدید، رادیہ بھابھی، اشعر اور ہانیہ اور حورعین بھی موجود تھے
حدید حورعین کی گود میں بیٹھا نجانے کونسے راز و نیاز کر رہا تھا ہانیہ اشعر لڑ رہے تھے اور رایہ بھابھی سلجھا رہی تھیں۔
شاہ زر نے پانی پینے کے لئے جگ اٹھایا تو خالی تھا
“میں لا دیتی ہوں شاہ”
” صنم تم بیٹھو میں لے لیتا ہوں”
” حیا میں نے اس رومال میں ناک بھی پونچھی تھی”
اشعر نے وہیں بیٹھے بیٹھے ہانک لگائی
” اشعر کہ بچے میں اسی رومال سے تمہارا گلا گھونٹ دوں گی”
یہ آواز حیا کے چیف جو کچن سے آ رہی تھی
شاہ زر نے سوالیہ نظروں سے حورین کو دیکھا
“محترمہ کتنی ضدی ہے آپ کو تو پتہ ہے کھیٖر پوٗری بنا رہی ہے”
شاہ زر بغیر جواب دیے کچن میں چلا گیا
حیا مصروف انداز میں پوریاں بیل رہی تھی دوپٹہ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر لٹکا ہوا تھا شاہ زر کو اشعر کے رومال کے لیے چیخنے کی وجہ سمجھ میں آئی
حیا نے اشعر کے رومال کو بطور ربڑ بینڈ استعمال کرکے پونی باندھی ہوئی تھی ۔
آہٹ پر حیا مڑی تو شاہ زر کو دیکھ کر سٹپٹا گئی اس نے دوپٹے کی تلاش میں نظر دوڑائی دوپٹہ لینے کے لئے اس کی طرف بڑھی مگر ہاتھوں پر آٹا لگا تھا
“آپ ایزی ہو کر کام کریں، صرف میں ہی آیا ہوں باقی سب باہر ہی بیٹھے ہیں “
حیا نے خاموشی سے بیلن اٹھایا مگر اسے ڈھیروں شرم آ رہی تھی اور شاہ زر وہیں پر بیٹھ کر پانی پینے لگا اور حیا سوچ رہی تھی پتہ نہیں ایک گلاس پانی پی رہے ہین کہ کنواں جو ختم ہی نہیں ہونے آ رہا ہے
حیا سے پوری کی بجائے پتا نہیں کون سے ملک کا نقشہ بن گیا
” آپ کیا بنا رہی ہیں”
” کھیٖر پوری۔۔۔۔وہ حور کو بہت پسند ہے”
حیا نے بغیر پلٹے جواب دیا
“آپ فارغ ہوکر ذرا کمرے میں آئیں”
وہ کہہ کر رکا نہیں
حیا نے جلدی جلدی بچی ہوئی تین پوریاں بیل کر تلیں پھر کمرے کی طرف قدم بڑھائے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوئی
“ویسے اپنے کمرے میں آنے کے لئے پہلی بار کسی کو اجازت لیتے ہوئے دیکھا ہے “
شاہ زر کی بات پر حیا نے دانتوں تلے زبان دبائی
” آپ کو کچھ بات کرنی تھی”
” آپ کی طبیعت کی ناسازی کا کسی کو علم نہیں ہے اسی لئے کسی کو مت بتائیے گا “
“پر میری طبیعت کب خراب ہوئی؟”
“میرے خیال میں آپ ہی کل بے ہوش ہوئی تھیں”
کہتے ہوئے شاہ زر دو قدم کے فاصلے پر رک کر اسکی طرف جھکا حیا نے اپنی سانس روکی۔ پھر شاہ زر نے ایک ہاتھ سے بالوں کو رومال سے آزاد کیا حیا نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
“وہ ربر بینڈ کمرے میں تھا میں ابھی لگا لیتی ہوں “
وہ کہہ کر آگے بڑھنے ہی لگی تھی کہ شاہ زر
نے روک لیا
” ایک منٹ “
شاہ زر نے اپنی جیب سے رومال نکالا اور حیا کے بالوں کو رومال میں مقید کیا حیا اس کے حصار میں سانس روکے کھڑی تھی شاہ زر کے پرفیوم کی خوشبو جب حیا کے نتھنوں سے ٹکرائی ماحول میں جیسے سحر پھونکا گیا تھا جس میں حیا قید تھی اس طلسم کو حورعین کی آواز نے توڑا حیات فورا بہار کے جانب لپکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر نیچے آیا تو حیا کچن سے برآمد ہوئی اور تب ہی شانزل کی بھی آمد ہوئی اس کے ہاتھ میں کافی سارے شاپر تھے اور ہمیشہ کی طرح حورعین نے شانزل کو دیکھتے ہی منہ بنایا
“السلام علیکم بھائی، یہ سب؟”
حیا کا اشارہ شاپر کی طرف تھا
” یہ ناشتہ ہے وہ خالہ بتا رہی تھی کہ کوئی رسم وغیرہ ہوتی ہے لڑکی کے میکے سے ناشتہ جاتا ہے”
” جھوٹ مت بولیں، صحیح سے بتائیں حور کو دیکھنے آئے ہیں نا “
حیا کہاں باز آنے والی تھی حورعین کا دل کیا حیا کو اٹھا کر باہر پھینک دے سارے مہمان بیٹھے تھے ان کے سامنے بھی باز نہیں آتی تھی
“ہاں بالکل “
شانزل بھی ایک نمبر کا اپنی بہن کی طرح ڈھیٹ تھا سبھی مہمان ہنس پڑے
” میں ناشتہ لگاتی ہوں “
حورعین چھپاک سے اندر غائب ہوئی
سبھی اٹھ گئے تھے اور ایک ایک کر کے نیچے بھی آگئے حورعین اور حیا نے نوکروں کے ساتھ مل کر ناشتہ لگوایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمانوں کے کھانے کے بعد شاہ زر حیا اور حورعین شانزل بھی ناشتہ کرنے بیٹھے
حیا حسب عادت حورین کے بنائے ہوئے چیز آملیٹ سے انصاف کر رہی تھی
“بہت ہی زبردست کھیر ہے “
شانزل نے حیا کی تعریف کی اور ساتھ ہی ایک شاپر حیا کی طرف بڑھایا حیا نے اشتیاق کے ساتھ مسکرا کر شاپر تھام لیا
اندر لالی پاپ باکس تھا جسے دیکھ کر حیا کی بانچھیں کھل گئی
” تھینک یو بھائی، ویسے آپ کو میرے ہاتھ کا ناشتہ پسند آیا تو آپ نے مجھے گفٹ دیا مجھے حور کا ناشتہ پسند آیا تو میرا بھی فرض ہے کہ میں حور کو گفٹ دوں”
کہتے ہی حیا نے حورعین کے گال چوم لیے
اور ہمیشہ کی طرح حورین چڑ گئی
“یہ کون سا گفٹ ہے “
“میں ایسے ہی گفٹ دیتی ہوں”
” اچھا ؟””
“ہاں”
“شاہ آپ کو بھی تو کھیر پسند آئی ہے ایسا ہی گفٹ حیا کو بھی دیں”
جہاں شاہ زر اس کی بات پر مسکرایا وہیں حیا کو زور دار ٹھسکا لگا شانزل نے قہقہہ لگاتے ہوئے پانی کا گلاس حیا کی طرف بڑھایا اور کہا
” اچھا تم اکیلے میں گفٹ لے لینا”
اور خود ہی بات بدلتے ہوئے کہ
“ا یہ بھی لو، تمہاری شادی کا گفٹ”
شانزل نے ایک بھاری بھرکم قیمت کا شاپنگ واؤچر حیا کی طرف بڑھایا
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا پھر میں نے سوچا تمہیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے یعنی شاپنگ اسی لیے اپنی پسند سے جو دل چاہے جتنا چاہے لے لینا”
“آپ نے کہا تو بالکل صحیح ہے لیکن بھائی مجھے کچھ اور بھی چاہیے ہے “
حیا کی آنکھوں میں شرارت تھی
“بولو نہ “
“مجھے نا۔۔۔۔۔”
ترچھی آنکھوں سے حورین کی طرف دیکھا اور شانزل نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
“نہیں بالکل نہیں میری بیوی کو چھوڑ کر کچھ بھی مانگ لو “
حیا کھلکھلائی
“ارے نہیں ، بلکہ مجھے تو آپ گیرنٹی دیں کہ جب بھی میرا شاپنگ کا دل کرے گا حورمیرے ساتھ جائے گی”
“بالکل نہیں “
حورعین بدک گئی
” دیکھو حیا آج تمہارا ولیمہ ہے تو آج یہ ممکن ہے اور کل صبح ہی میں اور حور ہنی مون کے لئے جا رہے ہیں تقریباً آٹھ دس مہینے کے لئے، تو فلحال ایسا کچھ نہیں ہو سکتا”
“آٹھ دس مہینے کے لیے”
حیا کو پورے جملے میں یہی بات کھٹکی
” ہاں اور اس دوران ہمارا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہو گا “
کہہ کر شاہ زر سے مخاطب ہوا
“اگر تم کو زحمت نہ ہو تو ایک آدھ بار جا کر آفس کا چکر لگا لینا ویسے وہاں رفیق ہے مگر پھر بھی تم چلے جاؤ گے تو بہتر ہے “
“میں دیکھ لوں گا تم بے فکر رہو، اچھا میں ذرا انتظامات دیکھ کر آتا ہوں”
کہہ کر باہر کی جانب چلا گیا
“حیا آپی۔۔۔۔”
ہانیہ کی آواز پر حیا ابھی اٹھی اور کمرے کی طرف چلی گئی
یہ کیا بکواس تھی؟”۔
حورعین نے غصے سے کہا
” بکواس نہیں تھی مسز میں نے تو بتایا ہے کہ ہم ہنی مون پر جا رہے ہیں”
” ہم کیوں جائیں گے ہنی مون پر ؟”
حورین نے غصے میں کہہ تو دیا مگر شانزل کے لبوں پر امڈ آنے والی مسکراہٹ نے اسے احساس دلایا کہ ہمیشہ کی طرح غصے میں غلط بات کہہ دی ہے شانزل نے ایک ہاتھ سے حورعین کی کرسی گھسیٹ کر اپنے سامنے کی پھر کرسی کے دونوں طرف اپنے ہاتھ رکھے اور جھک کر کہا
“اس کیوں کا جواب دو میں تمہیں ہنی مون پر جانے کے بعد دونگا”
حورعین نے فورا گردن جھکا لی اور لب کچلنے لگی وہ سرخ رخساروں کے ساتھ نظریں جھکائے شانزل کے دل میں ہلچل مچا رہی تھی
“مجھے نہیں جانا “
حورعین ممنائی
شانزل کو وہ اس طرح معصوم لگی مگر یہ معصومیت فی الحال اسے بھاری پڑ سکتی تھی اسی لیے کہا
” کیوں نہیں جانا؟ میں تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گا”
اس کیوں کا جواب تو حورعین کے پاس نہیں تھا
“آٹھ دس مہینے؟”
حورعین نے ایک جواز ڈھونڈ کر نکالا
“پہلے چلو تو پھر دل کیا تو اور کچھ مہینے رہ لیں گے شانزل نے شرارت سے کہا تو حورعین نے سر اٹھا کر اسے گھورنا چاہا مگر اس کی نظروں کی تاب نہ لا سکی اور پھر سے پلکوں کے ساتھ گردن جھکا لی
” لیکن کل جانا ضروری ہے کیا ؟”
حورعین نے پھر سے ایک ناکام کوشش کی
” دیکھو ہماری شادی کوئی نارمل شادی نہیں تھی نکاح ہوا پھر ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر جانا پھر ولیمہ ہوا پھر جدائی ہوئی پھر اب جا کر رخصتی ہو رہی ہے اس عجیب و غریب شادی کو اتنے مہینے ہو گئے ہیں لیکن میں ابھی تک کنوارہ ہوں اسی لئے میں ہنی مون کے لئے کوئی رسک نہیں لینا چاہتا کوئی تو مرحلہ ہو جو نارمل ہو”
حورعین نے اسکی بات کو یکسر نظر انداز کیا۔
” آپ کسی سے رابطہ کرنے سے منع کیوں کر رہے ہیں؟”
حورعین نے پھر اعتراض کیا
شانزل نے ایک انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے حورعین کی ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ اوپر کیاحورعین نے نظر اٹھا کر بھوری آنکھوں میں دیکھا جہاں محبت کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر موجزن تھا
“ہمارے درمیان تو میں اپنے سائے کے شراکت بھی برداشت نہ کروں”
یہ منظر جب ڈرائننگ روم کے اندر آتی حیا دیکھا تو فورا آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا
“سینسر پلیز۔۔۔۔”
اس کی آواز پر دونوں چونک گئے شانزل فوراً سیدھا ہوا
” اسی ظالم سماج کی وجہ سے میں کسی سے بھی رابطہ کرنے سے منع کر رہا ہوں”
“ہاہ۔۔۔۔۔ میں کب بنی ظالم آج آپ لوگوں کے بیچ میں؟”
حیا کو صدمہ ہی ہو گیا
“ابھی”
” ہاں تو لڑکی فل الحال ہماری ہے رخصتی نہیں ہوئی ہے، بھابھی ہونے کے ناطے میرا فرض ہے کہ میں اپنی نند کا خیال رکھوں”
” اوہو بھابھی۔۔۔۔۔ رکو تم میں سالے صاحب کو کہتا ہوں کہ تمہارا خیال رکھے”
کہتے ہوئے شانزل باہر نکل گیا اس کے اس طرح جھنجھلانے پر دونوں ہی کھلکھلا کر ہنس پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کا اڈّہ حورعین کا روم تھا اشعر اور ہانیہ بھی ساتھ تھے ناچنا گانا خوب ہلا مچا ہوا تھا حیا اور اشعر اس وقت کوکا گانے پر ڈانس کر رہے تھے۔ حورعین حیا کہ چہرے پر بکھرے رنگوں سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ کتنی خوش ہے
اشعر تھک کر چلا گیا مگر حیا نے تھکنا سیکھا کہاں تھا عصر تک سبھی تیار ہونے چلے گئے تب حورین نے بھی حیا کو دھکے مار کر تیار ہونے کے لیے بھیجا تو حیا نے کہا کہ ولیمہ کے لیے ساڑھی ہے اسی لیے وہ یہیں تیار ہوگی حور نے کہا اپنا سامان تو لے آؤ اس وقت پلیئر پر “…..blue eyes “گانا بج رہا تھا حیا کے منہ پر بھی وہی گانا چڑھ گیا وہ گنگناتی ہوئی وہاں سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کا اڈّہ حورعین کا روم تھا اشعر اور ہانیہ بھی ساتھ تھے ناچنا گانا خوب ہلا مچا ہوا تھا حیا اور اشعر اس وقت کوکا گانے پر ڈانس کر رہے تھے۔ حورعین حیا کہ چہرے پر بکھرے رنگوں سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ کتنی خوش ہے
اشعر تھک کر چلا گیا مگر حیا نے تھکنا سیکھا کہاں تھا عصر تک سبھی تیار ہونے چلے گئے تب حورین نے بھی حیا کو دھکے مار کر تیار ہونے کے لیے بھیجا تو حیا نے کہا کہ ولیمہ کے لیے ساڑھی ہے اسی لیے وہ یہیں تیار ہوگی حور نے کہا اپنا سامان تو لے آؤ اس وقت پلیئر پر “…..blue eyes “گانا بج رہا تھا حیا کے منہ پر بھی وہی گانا چڑھ گیا وہ گنگناتی ہوئی وہاں سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازر کسی کام سے روم میں آیا تھا دروازہ کھلنے کی آواز پر پلٹا تو دیکھا حیا تھی
” بلیو آئیز ہپنٹائیز تیری۔۔۔۔۔۔”
وہ گنگناتے ہوئے اندر آہی تھی مگر اس کی زبان کو بریک تب لگی جب اس کا پیر قالین میں اٹکا وہ زمین بوس ہو کر اپنے دانت تڑوا چکی ہوتی اگر شاہ زر نے بروقت اسے سنبھالا نہ ہوتا
” آپ ؟”۔
حیا کے خیال میں شاہ زر گھر پر نہیں تھا حیا فوراً سیدھی ہوئی
” ہاں وہ کام سے آیا تھا، صنم تیار ہو رہی ہیں نا؟”
” جی میں بھی وہیں جا رہی ہوں”
” آپ لوگ سات بجے تک تیار ہو جائیے گا”
تب ھی حیا کا فون بجا
“اشعر حد ہے ایک کام کہا ہے وہ بھی تم سے نہیں ہوتا، صرف پِن pins ہی تو لانی ہے”
حیا نے کبرڈ میں سے اپنا سامان نکالا
” ہاں میرے دو بنچ bunch لانا، نہیں ایک کام کرو تین لے آنا”
” اب فون رکھو”
” آپ اتنی ساری پِنس pins کا کیا کریں گی؟”
شاہ زر کے لہجے میں تعجب تھا
“ساڑھی سیٹ کرنے کے لئے چاہئیے”
حیا نے وضاحت دی اور الماری سے نکالے ہوئے شاپر اٹھانے لگی
” آپ کا اگر پھر سے بے ہوش ہونے کا ارادہ ہے تو برائے مہربانی پن استعمال کرنے سے گریز کیجئے گا “
“ہیں؟ کیا مطلب؟ “
ساری بات حیا کے سر سے گزر گئی
شاہ زر مسکرایا
” مطلب آج رات پھر سے پنس سے الجھنے کی سکت نہیں ہے مجھ میں”
حیا تو دو سکینڈ شاہ زر چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کی بات کا مطلب اخذ کرنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے ہی اس کی بات کا مطلب سمجھ میں آیا اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں پھر شرم سے جھکی پھر خفت مٹانے کو بولیں
” آپ بھائی بہن کتنی مرتبہ بے ہوش ہونے کا طعنہ دیں گے “
اس کی بات پر شاہ زر نے ایک ابرو اٹھا کر دیکھا شاہ زر کوئی جواب دیتا اس سے پہلے ایک بار پھر حیا کا فون بجا
” اوفوہ! اشعر کے بچے آ رہی ہوں ذرا صبر رکھو “
فون کان سے لگائے شاہ زر کی جانب اجازت طلب نظروں سے دیکھا جیسے ” میں جاؤں”
شاہ زر نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ آندھی طوفان کی طرح باہر نکلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور برسنا کسے کہتے ہیں آج حقیقی معنوں میں شانزل ابراہیم کو پتہ چلا تھا۔ ایسا ہوتا بھی کیوں نا وہ پچھلے پورے بیس منٹ سے اسٹیج پر بیٹھا حورعین کا انتظار کر رہا تھا اور ان بیس منٹوں میں تقریبا چالیس کال وہ حورعین کو کر چکا تھا تبھی۔۔۔۔تبھی وہ داخل ہوتی ہوئی نظر آئی
