Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے آپ بیٹھیں گاڑی میں چلیں جلدی کریں”
اس کا کہنا تھا کہ ہی حیا بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے شانزل نے نظر گھما کر حیا کو دیکھا دونوں ہی چادر لیتی تھیں۔وہ پریشانی کے عالم میں فون لگا رہی تھی پھر کچھ دیر ورد کرتی پھر فون لگانے لگتی البتہ رونا جاری تھا اور شازل نے ترحم نظروں سے حیا تو دیکھا اور کہا
” آپ پانی پی لیں” کہ کر بوتل آگے بڑھائی۔
” نہیں بھائی ذرا اسپیڈ بڑھائیں پلیز”
شانزل نے اس سے آفس کا ایڈریس پوچھا اس نے ایک سانس میں آفس کا ایڈریس بتا دیا۔
آفس پہنچتے حیا نے گاڑی رکنے سے پہلے ہی دروازہ کھول دیا۔
” حیا کا بس چلتا تو وہ اس کے پاس پہنچ جاتی “
شانزل ابراہیم کا تو یہی خیال تھا اور صحیح بھی تھا۔
شانزل کی پرسنیلٹی ایسی تھی کہ گارڈ خاموش ہو گیا اور اس کی دھمکی تو گارڈ کی سانس روکنے کے لئے کافی تھی۔
ابھی کے ابھی بلڈنگ انلاک کرو” یہ حکم سن کر فورا گارڈ نے عمل کیا
شانزل سے پہلے ہی حیا اندر چلی گئی۔ وہ چل نہیں رہی تھی بھاگ رہی تھی ۔
شانزل نے کہا
” مس حیا ہم دونوں مختلف سمت میں ڈھونڈتے ہیں” شانزل کو اندازہ نہیں ہوا کہ حیا نے اس کی بات سنی بھی یا نہیں لیکن وہ “اسے” ڈھونڈنے لگا وہ 1stفلور پر ڈھونڈ رہا تھا اور حیا 2nd فلور پر۔
ساری لائٹ بند تھیں وہ فون کی ٹارچ آن کیے ڈھونڈ رہا تھا کچھ منٹ بعد سیڑھیوں کے پاس سے آواز آئی تو وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا اسے دو ہیولے نظر آئے وہ سمجھ گیا کہ یہ کون ہو گے۔
اس نے ٹارچ کی روشنی ایک ہیولے کے چہرے پر کی اور شانزل ابراہیم ایک لمحے کے لئے ساکت ہوگیا۔
چاند سا روشن چہرہ، پسینے کے عرق سے چمکتی پیشانی خم دار پلکوں والی سبز آنکھیں، سبز کٹورے اس وقت آنسوؤں سے بھرے ہوئے اور ان آنکھوں میں حیرت۔ شانزل ابراہیم کو سینے میں بائیں طرف ایک طوفان اٹھتا محسوس ہوا لیکن وہ ایک لمحے میں سنبھل گیا اور مڑ کر باہر چلا گیا۔
پیچھے سے حیا کی آواز آئی
” حور غلطی سے اندر لوک ہو گئی تھی” حیا نے حور کو چلنے کا اشارہ کیا تو خاموشی سے سیڑھیاں اترنے لگی۔
شانزل گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اس نے حیا اور اس کو باہر آتے دیکھا حیا نے حور کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
ایک تبدیلی تھی حیا میں وہ چادر کی بجائے دوپٹے میں تھی اس کی چادر حور نے اوڑھ رکھی تھی شانزل لا تعلق بنا اسٹیئرنگ کو گھورنے لگا۔
حیا حور کو لے کر پیچھے بیٹھ گئی۔ پورا راستہ خاموشی سے کٹا فرق صرف اتنا تھا کہ آتے وقت حیا آنسو بہا رہی تھی، اور جاتے وقت یہ رسم حورعین پوری کر رہی تھی۔
شانزل نے بیک ویو میرر دیکھا وہ سرخ ہوتی آنسو بہا رہی تھی۔شانزل نے گاڑی شانزل وِلا کے گیٹ میں داخل کی اور اتر گیا حیا نے گاڑی سے اتر کر حورعین کو نکالا اور اسے لئے اندر بڑھنے لگی
حورعین نے حیا کو بھی اندر کی طرف ساتھ میں چلتے ہوئے دیکھا تو کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے لگی فورا حیا نے ٹوک دیا
“حور تم اپنا منہ بند رکھو، اپنی غیرت کی دکان کسی اور دن کھولنا ، اب اگر تمہارے منہ سے ایک بھی لفظ نکلا تو تمہیں شوٹ کر کے خود کو پھانسی پر چڑھ جاؤں گی “
حیا حقیقتاََ تپی ہوئی تھی۔
حور تو خاموش ہوگئی مگر شانزل نے حیرت سے دونوں کو دیکھا اور گھر میں داخل ہوا سامنے اجمل پھوپھا اور سعیدہ بوا نظر آئے۔
دروازے پر ہی حیا کے موبائل کی گھنٹی بجی اس نے چونک کر نمبر دیکھا اور فون اٹھایا
“جی ابو السلام علیکم! سب خیریت؟”
سامنے سے پتہ نہیں کیا کہا گیا ہے کی پیشانی پر بل نمودار ہونے لگے ۔
‘آپ فکر نہیں کریں میں پہنچ رہی ہوں”
حیا نے عجلت میں فون کاٹا۔ حور نے سوالیہ نظروں سے حیا کی طرف دیکھا۔
حیا نے خاموشی سے اسے لے جا کر صوفے پر بٹھایا۔
اور بوا سے کہا کہ
“آپ پانی لا دیں گی؟”
سعیدہ بوا فورا لے آئی اس نے اپنے ہاتھ سے حور کی طرف گلاس بڑھایا تو اس نے نفی میں سر ہلا کر منع کردیا۔
“حور مجھے جانا ہوگا دادی کی طبیعت خراب ہے وہ ہوسپٹل میں ہیں، میں جلد آنے کی کوشش کروں گی”
حورعین نے اثبات میں سر کو جنبش دی اور اٹھنے لگی۔
شانزے حورعین کی حرکت سمجھ کر حیا کو مخاطب کیا
“حیا آپ کو اجمل پھوپھا چھوڑ دیں گے اور آپ کی فرینڈ اب ہوسٹل میں نہیں رہیں گی، بے فکر ہوکر اجمل پھوپھا کے ساتھ جائیے۔”
“جی شکریہ”
حیا نے شانزل کو کہا پھر حورین کو مخاطب کیا “کھانا کھاؤ اور آرام کرو، مجبوری نہیں ہوتی تو تمہیں چھوڑ کر نہیں جاتی”
کہہ کر باہر نکل گئی۔
سعیدہ بوا نے شانزل سے پوچھا
” تمہارے لیے کھانا لاؤں؟ بیٹا “
“نہیں بوا میں کھا چکا ہوں، بس ایک کپ کافی کمرے میں بھیج دینا”
کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
حورعین خاموشی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی اور کافی بنانے لگی۔
سعیدہ بوا فورا کچن میں آئی
” بیٹا تم رہنے دو میں بنا دوں گی “
“نہیں بوا کوئی بات نہیں، میں بنا دوں گی آپ لے جانا”
سعیدہ بوا نے ایک اور سوال پوچھا حالانکہ جواب پتا تھا۔
” بیٹا کھانا لگاؤں؟”
ہمیشہ کی طرح ایک ہی جواب تھا.
” نہیں بوا بھوک نہیں ہے بھوک لگے گی تو کھالوں گی۔”
سعیدہ بوا نے ترحم نگاہوں سے اسے دیکھا جو کافی کو کپ میں انڈیل رہی تھی۔
گھر کا پورا کام سنبھالتی تھیں لیکن کبھی یہاں کا کھانا نہیں کھایا تھا وہ تو اس گھر میں کسی بھی چیز پر حق نہیں جاتی تھی کمرے میں ایک کنارے چادر پر سو جاتی تھی۔
پتا نہیں کیا وجہ تھی؟
“بوا یہ دے آئیں” بوا کپ لے کر شانزل کے کمرے کی طرف چلے گئیں اور حورعین اپنے کمرے میں ۔
ایک کونے میں زمین پر خود میں سمٹ کر لیٹ گئی اس کا سارا سامان ہاسٹل میں تھا۔ ایک جوڑا کپڑا تک نہیں تھا۔ اس کے ہاتھ میں صرف موبائل تھا آفس سے نکلتے وقت پرس بھی وہیں رہ گیا تھا اپنی بے بسی پر اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اس کے دل نے شدت سے خواہش کی کہ اس کا موبائل بجے لیکن وہ ہنوز خاموش تھا۔
“آہ…..کہاں ہے آپ؟ اس سے پہلے موت مجھے اپنی آغوش میں لے لے بس ایک بار آجائیں،
یا اللہ یہ آزمائشیں ختم کردیں اب تھکنے لگی ہوں”
بے بسی ہی بے بسی، اذیت ہی اذیت ۔
لیکن کون جانے کہ قیامت آنے والی تھی یا خدا اسے دنیا ہی میں جنت دینے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل کمرے میں آنے کے بعد جوتے اتار کر بیڈ پر ڈھے گیا اسے اپنی ہی کیفیت سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں صرف آنسو سے بھرے سبز نین کٹورے گھوم رہے تھے۔ حیرت کی بات تھی وہ ایک مہینے سے اس گھر میں تھی لیکن آج تک اسے اس کی آنکھوں کا رنگ ہی نہیں پتا تھا۔
اتنے میں دروازہ بجا ، بوا آئیں
” بیٹا کافی”
“بوا اسے لے جائیں”
اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا وہ خاموشی سے چلی گئی۔ وہ اتنا تھکا ہوا تھا کہ ایسے ہی سو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین کی آنکھوں سے تو نیند روٹھ چکی تھی وہ اٹھی اور پھر شانزل کے کمرے کی طرف بڑھ گئی رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔
وہ داخل ہوئی اور ہمیشہ والا کام انجام دیا۔
شانزل ابراہیم ایک شہزادہ تھا جو اپنی سلطنت میں اپنی مرضی کا مالک تھا اور حورعین جہانزیب اس کی زندگی میں مسلط کر دی گئی، یہ احساس بڑا اذیت ناک تھا۔
کام انجام دینے کے بعد باہر آ گئی اور کمرے میں آکر سو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا دن بھی اسی خاموشی کے ساتھ گزر گیا حورعین آج شانزل کے سامنے نہیں آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن بھی صبح ناشتے کے لیے شانزل نیچے آیا تو حورین سامنے نہیں آئی وہ ناشتہ کر نے ہی لگا تھا کہ اجمل پھوپھا اندر آئے۔
وہ حورعین کے کمرے کی طرف بڑھنے لگے تو شانزل نے ان سے پوچھا
” کیا ہوا پھوپھا”
” بیٹا وہ بی بی کی دوست آئیں ہے باہر “
“تو انہیں اندر بلائیں”
” بیٹا وہ کہہ رہی ہیں کہ میں بی بی کو بلا دوں ویسے بھی وہ اندر نہیں آتیں”
شانزل کو اچھا نہیں لگا تو وہ اٹھ کر باہر حیا کو بلانے چلا گیا۔ نجانے وہ حورعین کے معاملے میں اتنا بد اخلاق کیوں تھا۔ ہمیشہ کے طرح حیا گیٹ کے پاس کھڑی تھی اسے دیکھ کر مسکرائی۔
” اسلام و علیکم بھائی………….. مطلب سر “
“وعلیکم سلام حیا آپ اندر آئیں باہر کیوں کھڑی ہیں”
نہیں، میں ٹھیک ہوں بھ….سر”
اس کا جملہ سن کر شانزل کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
” آپ مجھے بھائی بلا سکتی ہیں، میں بھی تو آپ کے نام سے پہلے ‘مس’ کا تکلف نہیں کرتا یعنی میں بھی آپ کو بہن مانتا ہوں”
“ٹھیک ہے بھائی آپ نے تو میری مشکل آسان کردی”
حیا نے مسکرا کر کہا۔
“اب بھائی کہا ہے تو چلیں اندر میرا گھر کاٹتا نہیں ہے”
اتنے میں اجمل پھوپھا آگئے اور کہا کہ
“بیٹا وہ بی بی کہہ رہی ہیں کہ آپ سامان دے کر چلی جائیں وہ آپ سے بعد میں مل لیں گی “
شانزل کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
” آپ چلیے حیا” اب وہ اسے لئے اندر آ گیا۔
وہ اسے لئے ڈائننگ روم آیا اور بیٹھ گیا۔ حیا نے اجمل پھوپھا کو کہا
“حور کو یہاں بلا دیں کیونکہ میں ایسے نہیں جانے والی” حیا نے درخواست کی تو سعیدہ بوا حور کو بلانے سے چلی گئیں۔
“لیں، شروع کریں” شانزل نے اسے ناشتے کی دعوت دی۔ تو حیا اوپر لٹکے فانوس کو دیکھنے لگی شانزل کو حیرت ہوئی تو اس نے حیا سے پوچھ لیا۔
” کیا ہوا حیا”
” بھائی یہ فانوس کتنا اچھا لگ رہا ہے نہ؟”
حیا کے جواب پر شانزل کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
“کیا مطلب؟”
بھلا ناشتے اور فانوس میں کیا تعلق ؟
“مطلب یہ کہ میں اس پر لٹکتی ہوئی اچھی نہیں لگوں گی”
” ہیں؟”
شانزل صرف اتنا ہی کہہ پایا۔
” ابھی آپ مجھے اندر لے آئے ہیں یہی چیز حور کو اچھی نہیں لگے گی اوپر سے ناشتہ! اف وہ تو مجھے فانوس سے الٹا لٹکا دے گی”
حیا باقاعدہ ہاتھ ہلا ہلا شانزل کو بتا رہی تھی جیسے بڑی ہی کوئی پتہ کی بات ہو۔ حیا کی بات سن شانزل کا قہقہہ بلند ہوا، حیا بھی بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔
دونوں کی ہنسی کو بریک تو تب لگی جب حورعین ڈائننگ ایریا میں داخل ہوئی۔
حورعین دروازے پر نظر جھکائے کھڑی تھی اسے دیکھ کر حیا بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی حورعین کے پاس آئی اسے اس کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوا، حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا تھا۔
وجہ اس کا حلیہ تھا وہ پرسوں والے ہی لباس میں تھی۔ حیا کی کالی چادر آج بھی اس کے وجود کو چھپائے ہوئے تھی۔
حیا نے اپنے آنسوؤں پر ضبط کرتے ہوئے سامان اسے دیا اور کہا “میں چلتی ہوں” حورعین تو خاموش ہی رہی ہیں یہ کہہ کر حیا شانزل سے مخاطب ہوئی
خدا حافظ کہہ کر چلی گئی۔
اور شانزے وہ تو مانو پتھر کا ہی ہو گیا اسے ڈھیروں شرمندگی میں آگھیرا اسے خیال ہی نہیں آیا تھا کہ اسکے کے پاس کپڑے اور ضرورت کی چیزیں نہیں ہوگی۔ اس نے تو پرسوں کے بعد اسے اب دیکھا تھا شکن آلود لباس میں۔
حورین فوراََ سامان کے ساتھ چلی گئی اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی۔
شانزل اٹھ کر حیا کی طرف گیا، پتا نہیں کیا سوچ رہی ہوں گی وہ گیٹ کے باہر نکل رہی تھی اس نے آواز لگائی تو حیا نے مڑ کر دیکھا
“جی؟”
” حیا آپ کا کم از کم چائے پی لیں چلیں”
“بھائی وہ…..”
” بھائی کو منع نہیں کرتے چلیں شاباش”
شانزل نے حیا کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا وہ شانزل کے ساتھ پھر اندر چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین نے کمرے میں آکر بیگ کھولا اس میں سے ایک جوڑا نکالا۔
“کیا سوچ رہی ہوگی حیا، اتنے دھڑلے سے روکا تھا اور میرے پاس بدلنے کے لئے کپڑے نہیں ہے”
کچھ بھی ہو وہ شانزل کی بےعزتی نہیں کرواسکتی تھی، اپنا تماشا لگا نا اسے پسند ہی نہیں تھا چاہے سامنے حیا ہی کیوں نہ ہو۔ کتنی کوشش کی تھی کہ حیا سے اس کا سامنا نہ ہو پر وہ ڈھیٹ ابن الڈھیٹ۔
اب جو بھی ہو اسے سامنا کرنا ہے یہ سوچ کر وہ واش روم چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا نے شانزل کو کچھ نہ کہا، نہ پوچھا جو بھی تھا وہ ان دونوں کا نجی معاملہ تھا۔
سعیدہ بوا حیا کے آگے چائے بڑھائی۔
” لو بیٹا”
“شکریہ بوا”
کہہ کر حیا نے کپ تھام لیا بوا حورعین کو بتانے چلی گئی کہ حیا اس کا انتظار کر رہی ہے
شانزل بریڈ پر بٹر لگا رہا تھا تو حیا نے کہا
“بھائی آپ یہ چیز آملیٹ ٹرائے کریں نا “
شانزل نے اسے حیرت سے دیکھا تو حیا نے کہا
” ہاں! شکل دیکھ کر ہی لگ رہا ہے کہ حور نے بنایا ہے اور اس کے ہاتھ کے چیز آملیٹ کے آگے کوئی بھی ہفتِ اقلیم کی دولت ٹھکرا سکتا ہے”
شانزل نے مسکرا کر بریڈ رکھا اور ایک چیز آملیٹ اپنی پلیٹ میں رکھا۔
اتنے میں حیا کا موبائل بجا تو وہ سننے کے لیے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی۔
شانزل نے بوا کو مخاطب کیا۔
” بوا کم از کم آپ ہی بتا دیتیں کہ کپڑوں کی ضرورت ہے”
شانزل کی بات سمجھ کر بوا نے کہا
جب بی بی نے خود ہی نہیں بتایا تو میں کیا بتاتی، ویسے بھی کپڑے تو بہت بعد کی چیز ہے بی بی تو بنیادی ضرورت تک کو اس گھر سے پورا نہیں کرتی”
شانزل نے چونک کر وہ کو دیکھا۔
“کیا مطلب؟”
” مطلب یہ بیٹا کہ بی بی تو گھر میں کسی سے کھانا تک تو نہیں مانگتی نہ تم سے نہ ہم سے، کپڑے تو پھر بھی دور کی بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کھانا وہی بناتی ہیں”
شانزل ابراہیم کو محسوس ہوا کسی نے اسکے مغرور چہرے پر زوردار طمانچہ دے مارا ہو۔ وہ پرسوں سے اس گھر میں ہے یعنی وہ تب سے بھوکی ہوگی وہ تو اس حال میں ہی نہیں تھی کہ باہر جا سکے۔ زندگی میں پہلی مرتبہ شانزل ابراہیم کو لگا نوالہ اسکے گلے میں اٹک گیا ہو ۔
ایک دم سے اس نے سوال کیا
” تو بوا آپ کو ہی کھانے کا پوچھ لینا تھا”
” ایک مہینے سے روز ہی پوچھتی تھی وہ صرف یہی کہتی تھیں کہ بھوک نہیں ہے، لگے گی تو کھا لوں گی”
یہ بات سن کر مانو شانزل تو سکتے میں آ گیا۔
اتنے میں سے قدموں کی چاپ سنائی دی تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا حورعین و کچے پیلے رنگ کے سوٹ میں مہرون چادر اپنے گرد لپیٹے۔کاندھے پر پرس لٹکائے آئی حیا بھی دوسری طرف سے آ گئی۔
” ارے! ریڈی ہو گئی تم، بس دو منٹ میری تھوڑی سی چائے باقی ہے پھر چلتے ہیں “
یہ کہہ کر حیا ٹیبل کے پاس کرسی پر بیٹھ گئی اور کپ اٹھا لیا
حورعین وہیں نظریں جھکا کر کھڑی رہی حالانکہ کھڑا رہنا محال ہو رہا تھا وہ دروازے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی۔
“آپ نے ناشتہ کر لیا؟”
شانزل کی اواز گونجی حور نے چونک کر سر اٹھایا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا،یعنی اسی سے مخاطب تھا یہ وہ پہلا جملہ تھا جو وہ بغیر طنز اور تیز لہجے کے حورین سے کہہ رہا تھا
حورین نے جواب دینے کے لیے آواز حلق میں ڈھونڈی لیکن نہیں ملی اس نے سر جھکا کا نفی میں سر ہلایا۔
“تو آئیں بیٹھیں ناشتہ کریں، آپ لوگوں کو جانا بھی ہے” اس نے عام لہجے میں کہا ہو حورعین کا دل سو کی اسپیڈ سے دھڑکنے لگا۔
وہ کہاں اس کی بات ٹال سکتی تھی اسی لیے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے ٹیبل کے طرف آنے لگی۔
اتنے میں پھر حیا کا فون بجا وہ فون اٹھاتے ہوئے کہنے لگی
“آف! دادی کو سکون ہی نہیں ہے “کہہ کر فون سننے پھر باہر جانے لگی۔
” تم ناشتہ کروں میں باہرہی ہوں”
” خدا حافظ بھائی “اور حیا یہ جا وہ جا۔
حور خاموشی سے ایک کرسی پر بیٹھ گئی شانزل نے اپنے آگے پڑی چیز آملیٹ اور بریڈ کی ٹرے اس کے آگے سرکائی حور نے ایک آملیٹ اور بریڈ کا نوالہ منہ میں رکھا پہلے نے والے کے ساتھ اسکی آنکھ سے آنسو بھی ٹوٹا۔
بمشکل تین والے کھائے اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
ہوا نے اسے ٹوک دیا
“بی بی پورا ختم تو کرلیں “
“بس بوا بھوک نہیں ہے”
کہہ کر پر سنبھالتی باہر چلی گئی شانزل بس اسے جاتے دیکھتا ہی رہ گیا۔
اس کے آگے ناشتہ ویسا کا ویسا ہی تھا ایک کپ چائے پی کر وہ بھی نکل گیا۔
پورا راستہ ڈرائیو کرتے وہ “اسے” ہی سوچ رہا تھا۔
وہ جب سے گھر آئی تھی تو اس کے بعد اس نے اس گھر میں کھانا ہی نہیں کھایا تھا۔
وہ ساڑھے چار بجے تک گھر آ جاتی تھی یعنی وہ تب سے بھوکی ہی رہتی، رات وہ بھوکی ہی سوتی تھی یہ ایک دن کی بات نہیں تھی پورے ایک مہینے کا معمول تھا۔ اس کے گھر میں تو کوئی ملازم بھی بھوکا نہیں سوتا تھا۔
اف! ذائقے کی تبدیلی سے احساس تھا کہ وہی پکاتی ہے اب تو حد ہو گئی وہ پرسوں سے بھوکی تھی۔
” کیا لڑکی ہے وہ۔۔۔۔
جاری ہے
