125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

تبھی ایک کے بعد ایک دو گاڑیاں شاہ وِلا کے لان میں داخل ہوئیں
عذیر حیات بھی چونک گیا اور بے خیالی میں اسکی گرفت ڈھیلی ہو گئی۔
گاڑی سے نکلنے والے نفوس کے لیے سامنے کا منظر قیامت کا تھا گاڑی سے حورعین شانزل اور دوسری گاڑی سے شاہ زر اترے تھے
حیا کو اس وقت اپنی عزت کی فکر تھی بے خیالی میں عذیر حیات کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو فورا اٹھ کر بھاگنے لگی لیکن عزیر حیات نے ایک مرتبہ پھر اسے بالوں سے جکڑ لیا
حورعین تو پوری طرح سن ہوگئی اس منظر کی توقع تو وہ مر کر بھی نہیں کر سکتی تھی
کل ہی تو اس نے شاہ کو بتایا تھا کہ وہ واپس آ رہی ہے وہ اسے لینے ائیرپورٹ آیا تھا
سبھی سکتے میں تھے سب سے پہلے ہوش شانزل کو آیا وہ عذیر حیات کی طرف بڑھا
تبھی عذیر حیات نے اپنی گن نکال کر حیا کی کمر پر رکھی بال ہنوز عزیر کی گرفت میں تھے
“خبردار جو آگے بڑھے “
“ہاتھ مت لگاؤ اسے”
حورعین مانو حلق کے بل چینخی تھی
” کیا یار پورا مزہ خراب کردیا کچھ دیر بعد نہیں آ سکتے تھے “
“بکواس بند کرو عذیر حیات ورنہ منہ سے زبان کھینچ لوں گا “
شاہ زر کی طرف پہلی مرتبہ حیا نے دیکھا تھا
عزیر نے ایک غلیظ سا قہقہہ لگایا
“تم کچھ نہیں کر سکتے ہو”
مٹھی میں جکڑے ہوئے بالوں کو کھینچا تو حیا کراہ اٹھی
” کیسے چھوڑ دوں اس چڑیا کو”
” تم کیا چاہتے ہو”
حیا کی کراہ پر حورعین تڑپ اٹھی تھی
” ہاں یہ کی ہے نہ مطلب کی بات، وہ کیا ہے نہ میں بہت بڑے دل کا مالک ہوں۔۔۔۔۔۔”
” جو تم کر رہے ہو اس کے بعد پچھتانے کا بھی موقع نہیں ملے گا عذیر حیات اسی لیے بکو کیا چاہیے میں اپنی بہن کا صدقہ سمجھ کر تمہارے منہ پر دے ماروں گا “
شانزل کی برداشت جواب دے رہی تھی
“جائیداد میرے نام کر دو حورعین شانزل ابراہیم، نہیں تو اس چڑیا کی جان تو ویسے ہی میرے بس میں ہے لیکن مجھے لگتا ہے تم ایسا کرنا نہیں چاہتی ہو تو میں تمہیں ایک اور option دیتا ہوں صرف ایک رات کے لیے اسے میرے پاس بھیج دو دل آگیا ہے میرا اس پر “
آخری جملہ کہتے ہوئے عذیر نے حیا کا چہرہ قریب تر کیا حیا کی آنکھوں سے مزید دو آنسو بے بسی پر بہے
” میں تیار ہوں بتاؤ کہاں سائن کرنا ہے”
حورعین نے چیخ کر کہا عذیر حیات نے گارڈ کو اشارہ کیا تو وہ پیپر لے کر حورعین کی طرف گیا
حیا کے کانوں میں صرف حورین کے الفاظ گونج رہے تھے
“میں اپنی جائیداد غریبوں میں بانٹ دوں گی مگر میرے ماں باپ کے قاتلوں کو نہیں دوں گی”
میں کتنی منحوس ہوں حور کو میری وجہ سے وہ جنگ ہارنی پڑ رہی ہے جس کے لیے اس نے اتنی تکلیفیں سہی اگر مجھے عذیر حیات نے چھوڑ بھی دیا تو میں حور کو کیا جواب دوں گی اور جب شاہ زر اپنا فیصلہ سنائیں گے تب؟
حیا کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا عجیب سی تکلیف اسے سر کے پچھلے حصے میں محسوس ہوتے ہوئے اس کے پورے جسم کو جکڑنے لگی ہاتھ پیروں سے جیسے جان ختم ہونے لگی ہو
+
میں حور کے لیے اس وقت کیا کر سکتی ہوں؟ جواب واضح اور فیصلہ بہت آسان تھا
حیا نے اپنی تمام تر ہمت جمع کرکے اپنا ہاتھ عذیر حیات کے اس ہاتھ پر رکھا جس سے اس نے گن پکڑی ہوئی تھی
غیر محسوس طریقے سے اپنی انگلی ٹرگر کی طرف بڑھائی
“کیا یار مجھے تو اس شاہ زر جہانزیب کی اکڑ توڑنی تھی لیکن تم مان گئی۔۔۔۔۔۔”
حورین نے پین پیپر پر رکھا ادھر عذیر حیات کہہ رہا تھا اور اس سے زیادہ شاہ زر برداشت نہیں کر سکتا تھا اور تبھی۔۔۔۔۔۔۔۔
فضا میں “ٹھاہ” کر کے گولی کی آواز گونجی
چونک تو عذیر حیات بھی گیا تھا کیوں کہ گولی حیا نے چلائی تھی عذیر حیات کے ہاتھ میں پکڑی بندوق کا ٹریگر حیا نے دبایا تھا گولی حیا کے کمر میں لگی تھی
فیصلہ سچ میں بہت آسان تھا وہ صرف کہتی ہی نہیں تھی حورعین کی خوشی کے لئے حقیقتاً جان دے سکتی تھی
عذیر حیات کے چہرے کا رنگ اڑا وہ اسے مارنے والا نہیں تھا یہ چیز اسے بہت بھاری پڑنے والی تھی
شاہ زر بھی اپنی جگہ ساکت ہوا
اور حیا۔۔۔۔۔۔
وہ لہرا کر شاہ زر کے قدموں میں گری اب فضا میں کہیں دور سے ہوا کے ساتھ ایک جملہ گردش کرتا ہوا شہر کی سماعتوں سے ٹکرایا
“اگر میں اپنی غلطی کی معافی مانگوں آپ کے پیروں میں گر کر”
” تو میں تمہیں انہیں پیروں سے ٹھوکر مار دوں گا”
مگر آج شاہ زر جہانزیب ٹھوکر نہیں مار سکا
حورعین پیپر پین وہیں پھینک کر حیا کی طرف دیوانہ وار بھاگی
“حیا” ایسی آسمانوں کو لرزا دینے والی دلخراش چینخ اسکے لبوں سے نکلی
شانزل بھی اسکی طرف دوڑا
حورین کپکپاتے ہاتھوں سے اس کا سر اپنی گود میں رکھا حیا نے بے جان ہوتی نیم وا آنکھوں سے حورین کا آنسو سے بھیگا چہرہ دیکھا اس کے دل میں شدت سے خواہش جاگی کہ وہ ہمیشہ کی طرح حورعین کے آنسو پونچھے مگر ہمت نے ساتھ نہ دیا
پھر شانزل کا پریشان سا چہرہ پھر اس کی نظر شاہ زر پر گئی وہ اتنے دنوں بعد بھی اتنا ہی خوب رو تھا
وہی نیلی آنکھیں جن کی حیا دیوانی تھی
حیا کی آنکھ سے ایک آنسو ڈھلک کر اس کے بالوں میں جذب ہوا ساتھ ہی اس نے اکھڑتی ہوئی سانس لی
” حیا آنکھیں مت بند کرو ۔۔۔۔۔ح۔۔۔حیا پلیز آنکھیں مت بند کرو ۔۔۔۔ دیکھو ۔۔۔۔مجھے دیکھو اپنی حور کو دیکھو “
حورین روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور حیا نے آنکھیں موند لیں
” حور اٹھو حیا کو اسپتال لے کر جانا ہے”
شانزل کی آواز پر حورعین ہوش میں آئی
” شاہ زر ہوش کرو جلدی سے اسے اٹھاؤ “
شاہ زر چونک کر ہوش میں آیا اس نے حیا کے بے جان ھوتے وجود کو اپنی بانہوں میں سمیٹا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا
حورعین اسکا سر گود میں رکھ کر بیٹھ گئی اس کی پھٹی ہوئی قمیض تیزی سے خون میں رنگتی جارہی تھی
” تم ڈرائیو کرو مجھ سے نہیں ہوگا “
شاہ زر نے کہا تو شانزل بھاگ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دوسری طرف شاہ زر بھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا شانزل نے گاڑی فل سپیڈ میں چھوڑ دی
” حیا آنکھیں کھولو نہ حیا مجھے پریشان مت کرو آنکھیں کھولو ، تھپڑ کھاؤ گی تم یوں نہ کرو اپنی حور کے ساتھ “
آنسو ایک تواتر سے بہتے ہوئے اسکے رخساروں کو بھگو رہے تھے
“شان آپ بولیں نا اسے یہ تو آپ کی سنتی ہے نا، بولیں نا اسے آنکھیں کھولنے کے لیے”
” ہم وقت پر ہسپتال پہنچ جائیں گے سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ”
شانزل نے بھاری دل سے کہا
“حیا دیکھو میرے ساتھ ایسا نہیں کرو کیوں حیران کر رہی ہو؟ دیکھو میں ناراض ہو جاؤ گی اگر تم نے اب آنکھیں نہیں کھولی تو، تم مناؤ گی تب بھی نہیں مانوں گی”
“حور حوصلہ رکھو”
نجانے وہ کسے تسلی دے رہا تھا
” آپ تیز گاڑی چلائیں نا پلیز “
شانزل حورعین کی حالت سمجھ سکتا تھا
” دیکھو حیا آج جو حرکت تم نے کی ہے نہ اس کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی، تم بس ٹھیک ہو جاؤ پھر تمہیں بتاتی ہوں،،،،،، بس تم ٹھیک ہو جاؤ حیا بس تم ٹھیک ہو جاؤ پلیز۔۔۔۔ ٹھیک ہو جاؤ حیا۔۔۔۔ آنکھیں کھولو نہ دیکھو میں تمہاری ساری باتیں مانوں گی جیسے تم کہو گی ویسا ہی کروں گی بس آنکھ کھول دو حیا کم ازکم سانس ہی لے لو”
حورعین بلک بلک رو رہی تھی اور آخری جملے پر شاہ زر کو لگا اس کی سانس رک گئی ہے
“ہم بس پہنچ رہے ہیں حوصلہ رکھو”
شانزل کا دل بھی بھاری ہو رہا تھا
وہ حورعین کی ایک صدا پر دوڑ کر آنے والی لڑکی اتنی مرتبہ پکارنے پر بھی خاموشی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین جا نماز بیچھائے اسپتال کے پریئر روم میں نماز ادا کر رہی تھی رو رو کر حیا کی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی اندر حیا آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت سے لڑ رہی تھی
” یا خدا تو رحیم ہے ہم پر رحم کر دے میرے مالک میری حیا کو ٹھیک کر دے مجھ سے اس طرح یہ آزمائش نہ لے مجھ میں ہمت نہیں”
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا تو تینوں ڈاکٹر کے پاس گئے
” ہم نے گولی نکال دی ہے گولی اتنی حساس جگہ پر نہیں لگی تھی مگر ۔۔۔۔۔”
“مگر کیا ڈاکٹر ؟”
“مگر پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے گولی لگنے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ان کی ذہنی حالت بہت خراب لگ رہی ہے، وہ جینا ہی نہیں چاہتی، کوئی رسپانس نہیں آرہا ہے ایسا لگ رہا ہے آپ لوگ ایک مریض نہیں بلکہ ایک زندہ لاش اٹھا کر لائے ہیں پیشنٹ وینٹیلیٹر پر ہے پر فی الحال کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے ‘
ڈاکٹر کہ کر چلا گیا مگر حورین بے دم سے زمین پر بیٹھ گئی
شانزل نے اسے اٹھا کر بینچ پر بٹھایا
“حوصلہ رکھو حور سب ٹھیک ہو جائے گا”
شانزل کو اپنے ہی الفاظ کھوکھلے لگ رہے تھے
حورعین نے خالی خالی نظر اٹھا کر شانزل کو دیکھا پھر شاہ زر کو جو سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا
“شاہ۔۔۔۔”
حورعین نے بہت کرب سے پکار
اسکی پکار پر شاہ زر حورعین کی جانب متوجہ ہوا
حورعین بے اختیار اس کے کندھے سے لگ کر رو دی
“مجھے میری حیا لا دیں شاہ ، میری حیا لا دیں دیکھیں۔۔۔۔۔ جب بھی آپ میرے لئے گڑیا لاتے تھے عذیر میری گڑیا توڑ دیتا تھا آج بھی اس نے میری گڑیا توڑ دی شاہ۔۔۔۔۔توڑ دی۔۔۔۔۔آپ تو میری گڑیا پھر سے بنا دیتے تھے میری سب سے پیاری گڑیا بھی اس نے توڑ دی شاہ۔۔۔۔۔ میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ بس آپ آخری بار میری گڑیا لا دیں میری حیا لا دیں میں تو جو مانگتی ہوں آپ دیتے ہیں مجھے میری حیا لا دیں،،،،،، پھر کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔۔۔۔۔۔ کبھی کچھ نہیں مانگوں گی۔۔۔۔۔۔بس کہیں سے میری حیا لا دیں ۔۔۔۔۔”
وہ ہچکیوں کے ساتھ بلک بلک کر رو رہی تھی ایک ضدی بچی کی طرح ضد کر رہی تھی
شاہ زر نے بے بسی سے شانزل کی طرف دیکھا تو وہ حورعین کی طرف آیا
“حور خدا سے مانگو حیا کو چلو اٹھو وہی دعاؤں کو قبول کرنے والا ہے، وہ ہمیں بھی مایوس نہیں لوٹ آئے گا “
حورعین نے پھر ایک بار آنسو پونچھے اور دعائیں مانگنے لگی
22 گھنٹوں کے روح افساں انتظار کے بعد بھی حیا کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ ڈاکٹر جواب دے کر جا چکے تھے
مزید چار گھنٹے گزر گئے شانزل حور کے قریب بیٹھا مگر اس نے کوئی حرکت نہیں کی اس کی حالت دیکھ کر شانزل کے دل میں ٹیس سی
“کچھ تو اپنی حالت کا خیال کرو کیا حال بنا لیا ہے تم نے اپنا”
وہ خاموش رہی
” کچھ تو کھا لو حور کل سے بھوکی ہو”
وہ خاموشی رہی
شانزل نے گہرا سانس لیا کل سے اسکی یہ حالت تھی ہر دس منٹ میں شانزل سے کہتی جا کر دیکھیں نا ڈاکٹر سے بات کریں پلیز وہ حیا کو ٹھیک کر دے
“حور میری جان “
محبت سے پھر پکارا
“وہ ایسا کیوں کر رہی ہے شان آپ ڈاکٹر سے ایک مرتبہ بات کر یں نا کہ انہیں جتنے پیسے چاہیے ہم دینے کو تیار ہے بس حیا کو ٹھیک کر دیں”
وہ اس وقت شاہ زر اور شانزل کے درمیان بیٹھی تھی نظر فرش پر تھی رو رو کر آنکھیں سوج چکی تھی
شان نے اپنی پوری ہمت جمع کرکے کہنا شروع کیا کیونکہ وہ اس کا انجام جانتا تھا لیکن پھر بھی یہ معرکہ سر کرنا تھا
“حور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ حیا بہت ویک ہے تقریباٌ دو دن سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا، اس کے علاوہ وہ شدید ڈپریشن کا شکار تھی”
حورعین کے تو سمجھ ہی بھی نہیں آیا کے وہ کسی کے بارے میں بات کر رہا ہے شانزل کی بات پر وہ جھٹکے سے سر اٹھا کر غرائی
” کیا بکواس ہے یہ؟ یہ ڈاکٹر ہی پاگل ہے حیا کو دو گھنٹے کھائے بغیر رہنا مشکل ہے تو وہ دو دن کہاں سے بھوکی رہ سکتی ہے اور ہماری حیا کہاں سے ڈپریشن میں جا سکتی ہے وہ زندگی سے محبت کرنے والی لڑکی ہے آپ تو سب جانتے ہی ہیں، حیا اور ڈپریشن ناممکن بات ہے ہم حیا کو دوسرے اسپتال لے جائیں گے یہاں پتا نہیں کیسے ڈاکٹر ہے”
وہ ماننے سے انکاری تھی
” ایک اور بات ڈاکٹر نے بتائی ہے”
شانزل نے حورعین کا ہاتھ تھاما حورعین نے الجھ کر اسے دیکھا شانزل نے ایک گہری سانس بھری
” حیا کے سر میں شدید چوٹ آئی تھی جس کا علاج صحیح نہیں ہوا ہے اس کی دماغی حالت اسی وجہ سے اس نہج پر ہے اور اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں”
حورعین نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا
“آپ کچھ بھی کہہ رہے ہیں۔۔۔شاہ آپ بتائیں حیا کو کوئی چوٹ نہیں لگی تھی ہے نا؟ پتا نہیں کیسے ڈاکٹرز ہیں “
شاہ زر کا چہرہ اب بھی جھکا ہوا تھا
“شاہ بولیں نا کہ ایسا کچھ نہیں ہے”
۔
” مجھے نہیں پتہ صنم “
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے شاہ، حیا کوئی چوٹ آئے اور آپ کو پتہ نہ چلے وہ بھوکی ہو اور آپ کو پتہ نہ چل خدا کا واسطہ کہہ دیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے”
حور اس وقت سخت جھنجھلاہٹ کا شکار تھی شانزل کو محسوس ہوا جیسے حیا کے ذکر پر شاہ زر کو تکلیف محسوس ہو رہی ہو
” حور میری بات سنو “
” اور کون سی فضول بات سننی باقی ہے شان؟”
حورعین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پتہ نہیں وہ کونسی دلیل ہو جو پیش کردے اور ساری باتیں غلط ثابت کردے
“ھور حیا کو اس تکلیف سے آزاد کر دو وہ بہت تکلیف میں ہے “
“کیا مطلب ؟”
حورعین دہل گئی
” مطلب وینٹی لیٹر ہٹانے کی پرمیشن دے دو ہم صرف اسے اذیت دے رہے ہیں اس کی مشکل آسان کر دو حور “
“نہیں نہیں خدا کا واسطہ ایسا نہ کہیں۔۔۔نہ کہیں۔۔۔۔۔ ایسا نہ کہیں میں کیسے کردوں شان؟ کیسے؟ یہ مجھ سے نہیں ہوگا ابھی کم سے کم امید باقی ہے کہ وہ میری طرف لوٹ کر آ سکتی ہے “
اس نے نڈھال ہو شانزل کے کندھے پر سر رکھ دیا
” ہم اس کی تکلیف کا اندازہ نہیں لگا سکتے حور وہ بہت تکلیف میں ہے ہم یہاں اس قدر تکلیف میں گزر رہے سوچو وہ اندر زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی ہے، اس کی تکلیف آسان کر دو میری بات مانو حور اگر خدا نے اس کی زندگی لکھی ہوگی تو بغیر وینٹیلیٹر کے بھی جی لے گی لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو ہم صرف اسے تکلیف پہنچا رہے ہیں تم کیسے اپنی حیا کو تکلیف دے سکتی ہو حور”
۔
” مجھ سے نہیں ہوگا شان “
حورعین کے لہجے میں شکست در آئی
“خدا کا واسطہ یوں نہ کریں میرے ساتھ، کہیں سے بس مجھے میری حیا لا دیں بس مجھے میری حیا لا دیں کہیں سے لا دیں کوئی تو میری حیا مجھ دے جائے میں اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گی، کوئی تو ہو۔۔۔۔کوئی تو ہو جو مجھے میری حیا دے دے، صدقہ خیرات سمجھ کر مجھ پر یہ احسان کر دے بس مجھے میری حیا لا دیں “
وہ غیرت مند لڑکی آج اسکے لیے اپنی غیرت مندی بھی اس کی جان پر وارنے کو تیار تھی
“شاہ زر تم ہی سائن کر دو “
شانزل نے دیکھا شاہ زر کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا شاید ضبط سے
وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہی رہا
“ہم کب تک حقیقت سے بھاگیں گے شاہ زر جتنی جلدی ہو سکے ہمیں اسے تسلیم کر لینا چاہیئے حیا کا ساتھ یہی تک تھا “
حورعین نے تڑپ کر اس کے کندھے سے سر اٹھایا اور ایک دھکا دیا
” کتنے ظالم ہیں آپ؟ آپ کو ذرا رحم نہیں آرہا مجھ پر اگر اتنی بھاری ہے حیا تو چلے جائیں یہاں سے میں اپنی حیا کے لیے اکیلی ہی کافی ہوں۔۔۔۔ چلے جائیں یہاں سے۔۔۔۔کتنے سفاک ہیں چلے جائیں۔۔۔۔ چلے جائیں۔۔۔۔ چلے جائیں۔۔۔۔”
حورین ہذیانی انداز میں چیخنے لگی اور آخر میں تھک ہار کر کرسی پر ڈھے گئی
” میں اس کے موت کے پروانے پر مرتے دم تک دستخط نہیں کروں گی۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔”
“شاہ زر ہمت کرو اور سائن کرو”
شانزل نے ایک پین اور ایک پیپر اس کی طرف بڑھایا
“میں سفاک نہیں ہوں بس مجھے میری بہن کی تکلیف نظر آرہی ہے اپنی تکلیف سے نکل کر ہمیں حیا کی تکلیف کے بارے میں سوچنا چاہیے ڈاکٹرز جواب دے چکے ہیں اور کوئی راستہ نہیں ہے ایک جھوٹی آس میں اسے تکلیف نہیں دے سکتا”
“تم ہی کردو “
شاہ زر نے پورے معاملے میں پہلی مرتبہ کچھ کہا تھا
شانزل بھی کہاں خود میں ہمت پاتا تھا اس نے بھی ایک جواز ڈھونڈ کر نکالا
” نہیں میں یہ نہیں کر سکتا سائن تمہیں ہ ہی کرنی ہوگی کیونکہ تم اس کے ہسبینڈ ہو”
شاہ زر نے پیپر اور پین تھام لیا دستخط کرتے وقت شاہ زر کا ہاتھ کانپا تھا کیونکہ ایک نسوانی التجا اس کی سماعتوں میں الجھی تھی
” ایسا مت کہیں میں مر جاؤں گی ‘
“تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہاری تدفین کروں گا”
شاید اس کی بات قبول ہوگئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے سے وہ لوگ ICU کے باہر کھڑے اس بری خبر کا انتظار کر رہے تھے لیکن دل کے کسی کونے میں خدا کے معجزے کا انتظار تھا
تبھی آئی سی یو میں ہلچل مچی ڈاکٹرز نرسز وغیرہ گھبرائے گھبرائے کبھی انجکشن کبھی مشینوں سے الجھتے
وہ تینوں شیشے کے دروازے کے پار سے دیکھ رہے تھے
اس وقت حورعین تو شانزل کے سہارے کھڑی تھی نہ اس کے پیروں میں جان تھی نہ جسم میں
اگر شانزل نے اسے تھاما نا ہوتا تو وہ اب تک زمین پر گر چکی ہوتی
شانزل تو مانو دوہرے عذاب سے گزر رہا تھا اس نے کبھی حیا کو اس حالت میں نہ دیکھا تھا نہ حورعین کو وہ دونوں ہی کی دیوانگی سے واقف تھا اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ وقت بھی دیکھنا پڑے گا
بیڈ کے پاس رکھی اس کی دل کی دھڑکنوں کی نشیب و فراز دکھاتی مشین
کی لائن جب بھی ڈوبتی حورین کا دل بھی ڈوب جاتا
حورعین کے جسم میں عجیب سی کپکپی سی طاری ہو گئی تھی جب بھی حیا کی سانسیں اکھڑتی حورعین کو لگتا کوئی اس کی سانس کی ڈور کو کھیج رہا ہو
حورعین کو لگ اب بس کسی بھی لمحے اسکی روح پرواز کر جائے گی
اچانک ڈاکٹر نرس سب پیچھے ہٹ گئے
حورعین کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں بھینچ لیا ہو
تبھی ڈاکٹر باہر نکل کر آیا
حورعین نے شانزل کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا
شانزل نے بھی اسے اور مضبوطی سے تھاما جانتا تھا جو ڈاکٹر خبر دینے والے ہیں وہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے