Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
کہتے ہوئے شانزل نے اسکا سر بال سے پکڑ کر زمین پر دے مارا
“میری بیوی نے میرے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اس کی مرضی پر ہی زندہ ہو تم ورنہ تمہیں کب کا ہم جہنم واصل کر چکے ہوتے، اگر اپنی جان کی سلامتی چاہتے ہو تو دفع ہو جاؤ ورنہ یہیں دفن کر دوں گا “
کہتے ہوئے شانزل نے اسے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا اور ایک دھکا لگایا
حورین کے آنکھوں سے تشکر کے آنسو نکلے
“یا اللہ، کیا یہی لمحہ میری ریاضتوں کا ثمر ہے”
اس کے دل میں ایک سکون سرائیت کر گیا حورعین کو لگا اسکے پیروں میں جان ختم ہو گئی ہے اس سے پہلے وہ لڑکھڑا شانزل نے اسے تھام لیا۔
عذیر حیات نے ایک کڑی نگاہ حورعین پر ڈالی اور جانے لگا تبھی حیا نے شاہ زر سے کہا
“اب تو ہاتھ چھوڑ دیں اب بھائی کا کام ختم، اب حور کے دل سے بھائی کی بے اعتباری کی پھانسی نکل گئی ہے”
شاہ زر نے حیا کا ہاتھ چھوڑ دیا
اور پھر کیا تھا حیا اپنا سارا دلہناپہ بھلائے نیچے اتری
“ایک منٹ عذیر حیات “
اس نے عذیر حیات کو روکا سبھی نے چونک کر دلہن کو دیکھا شاہ زر یا کوئی کچھ سمجھتا اس سے پہلے ہی حیا عذیر حیات تک پہنچی اور آس پاس دیکھا پھر پاس کھڑے ویٹر سے پلیٹ لی اور دھاڑ سے عذیر کے سر پر پھوڑی سبھی بوکھلا گئے
1
عزیر حیات کے سر سے خون بہنے لگا وہ سر تھام گیا حیا نے انگلی اٹھا کر وارن کیا
“دوبارہ میری حور کے بارے میں کچھ کہنا تو دور کی بات، سوچا بھی تو جان لے لوں گی “
حیا بہت غصے میں تھی جملے کے آخر میں اس نے دوسری پلیٹ بھی عزیر حیات کے سر پر دے ماری
“شاہ روکیں اسے، وہ سچ میں اس کی جان لے لے گی”
بیچارا عذیر تو شانزل کی مار اور حیا کے تشدد سے ادھ مواہ ہو گیا تھا شاہ زر نے سرعت سے حیا کو پکڑا ورنہ محترمہ تیسری پلیٹ بھی دے مارنے کے موڈ میں تھی
“guards throw this basturd out”
کہتے ہوئے شاہ نے دونوں ہاتھوں سے حیا کو تھاما ہوا تھا مگر مجال ہے جو وہ قابو میں آئے وہ تو عذیر حیات کا قلع قمع کرنے کو بے قرار تھی
“اس کا انجام تم بھی بھگتو گی”
عذیر نے حیا بمشکل کہا
“چھوڑیں مجھے، اس کا حشر کر دوں گی اس کی ہمت کیسے ہوئی میری حور کے بارے میں ایسی باتیں کرنے کی اسکی گردن تو میں اپنے ہاتھ سے کروڑوں گی”
گارڈز عذیر کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔
“حیا میں ٹھیک ہوں تم ادھر آؤ”
حورعین نے ہی اسے شانت کیا وہ فورا اس کے پاس آئی
“تم۔۔۔تم۔۔۔۔ تم اس فضول انسان کو مت سوچو اس کی سوچ ہی ایسی ہے اور روز آخرت تم اپنے نیت اور اعمال پر پرکھی جاؤ گی کسی کی سوچ پر نہیں، تم کیسی ہو اس کے لیے ہمیں کسی کی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے “
وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے سمجھا رہی تھی
اور جسے تمہارے کردار کی پاک باز ہونے کی سرٹیفکیٹ چاہیے وہ بصدقِ شوق مجھ سے لے سکتا ہے”
وہ مہمانوں کو دیکھتے ہوئے غرائی تھی اسکی غراہٹ سے ہال میں ہونے والی دبی دبی سرگوشیاں بند ہو گئیں۔
“شانزل تم صنم کو اندر لے جاؤ “
شاہ زر نے کہا تو محترمہ حیا صاحبہ بھی ساتھ جانے لگی
“تم دولہنوں ہو، خاموشی سے جا کر اسٹیج پر بیٹھو” حورعین نے اسے ٹوکا
“تمہیں لگتا ہے کہ میں اس حالت میں تمہیں اکیلا چھوڑ دوں گی؟ بھاڑ میں جائے دلہن”
الٹا حیا نے اسے جھڑ ک دیا شاہ زر نے ایک مرتبہ پھر حیا کا ہاتھ تھاما اور اسٹیج پر لے گیا
“میرے خیال میں اس وقت دونوں کو تنہائی کی ضرورت ہے “
شاہ زر نے اسے رسان سے سمجھایا
“اکیلے؟”
حیا تو حیا ہے۔
” ہاں اکیلے میں ہی تنہائی ہوتی ہے، صنم کل سے اپنی نئی زندگی شروع کر رہی ہے، کیا میں عذیر کی زبان نہیں کاٹ سکتا تھا؟ میں نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ اس وقت اسے میرے یا تمہارے اعتماد کی ضرورت نہیں ہے اسے بس شانزل کے تسلی بھرے ایک جملے کی ضرورت ہے اسکے زخم بھرے نہیں ہے ان پر مرہم صرف شانزل رکھ سکتا ہے”
آہ یہ شخص ہمیشہ میری بولتی بند کر دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں برائیڈل روم میں اکیلے بیٹھے تھے دونوں کے درمیان جامد خاموشی تھی پھر شانزل نے اٹھ کر حورعین کو پانی دیا اور اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ حورعین نے پانی شانزل کی طرف بڑھا یا تو اس نے رخ موڑ لیا
“شان “
حور نے تعجب سے اسے دیکھا
” بات مت کرو مجھ سے تم “
“ہیں؟ میں نے کیا کیا ہے ؟”
حور ان کو اس کی ناراضگی کی وجہ سمجھ نہیں آئی
“تم نے کچھ نہیں کیا ہے ؟”
“مجھے سیدھے سیدھے بتائیں یہ منہ کیوں پھلایا ہوا ہے آپ نے”
” ایک بات تم یاد رکھ لو بلکہ ذہن میں بٹھا لو اور اگر بھولنے کی بیماری ہے تو لکھ کر رکھ لو تمہارا معاملہ اپنی جگہ، تمہاری دشمنی، تمہارا انتقام، تمہارا صبر، سب اپنی جگہ لیکن اگر بات میری بیوی کی ہے تو شانزل ابراہیم خاموش نہیں بیٹھے گا۔ میں کسی کی جان حلق سے کھینچ نکالنے کے لیے ایک لمحہ بھی نہیں سوچوں گا، اس کے لیے مجھ سے صبر کی امید مت رکھو۔ تم میری ہو، میری بیوی ہو اور میری بیوی پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا اور جس نے ایسا کچھ سوچا بھی تو اسے میں عبرت کا نشان بنا دوں گا۔
اس لیے تم اپنا معاملہ الگ رکھو یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے لیکن میری بیوی کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں دوں گا”
وہ انگلی اٹھا کر وارن کر رھا تھا اتنے غصے میں بھی جو مان اس نے حورعین کو بخشا تھا اسے دیکھ کر حورعین کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن مسکرا کر پوچھا
“تو کیا میں اور آپ کی بیوی الگ الگ شخصیات ہے ؟”
“تم مسکرا کر بات مت ٹالو میں کہہ چکا ہوں اب میں صبر نہیں کروں گا”
“تو کیا اب آپ نے صبر کیا تھا؟”
” ہاں”
بہت اطمینان سے جواب دیا گیا تھا
“آپ نے عذیر حیات کا منہ توڑ دیا اور باقی کسر ان محترمہ نے سر پھاڑ کر پوری کر دی اور اب آپ اسے صبر کہتے ہیں”
” میں نے کہا نا یہ فضول موضوع بند کرو ورنہ ابھی جا کر اسے قتل کر آؤں گا”
حورعین مسکراتی ہوئی اسکے پاس آئی
“پتہ ہے آپ غصہ میں کتنے کیوٹ لگتے ہیں “
“خدا کو مانو حور، کوئی ایسے اپنے شوہر کو مناتا ہے؟
ڈھنگ سے تعریف ہی کر دو، تم کیوٹ کی جگہ ہینڈسم نہیں کہہ سکتی تھی؟”
حورعین کھلکھلا کر ہنس دی
” میں نے تو جو محسوس کیا وہ کہہ دیا۔ اور کس نے کہا میں منا رہی تھی آپ کو؟ منایا تو اسے جاتا ہے جو روٹھا ہوا ہو، آپ روٹھ سکتے ہیں مجھ سے؟”
وہ گردن اٹھائے مان سے پوچھ رہی تھی۔
“تم سے روٹھ گیا تو میرا کیا ہو گا”
“چلیں باہر حیا کی جان اٹکی ہو گی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کی نظر بار بار برائیڈل روم کے دروازے پر جا رہی تھی پھر دروازہ کھلا اور دونوں باہر نکلے حیا کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی اب ہال کافی مہمانوں سے بھر چکا تھا۔
اعظم بھائی اور حدید کی بھی آمد ہوئی
“ارے فٹ بال بھی آیا ہے ہی “
حیا نے حدید کو چھیڑا
حدید نے کہا
“حیا پھوپھو آپ مجھے فٹ بال نہ بلایا کریں، میں سوچ رہا تھا آپ دلہن بن کر چپ رہیں گی جیسے ہانیہ خالہ تھیں مگر آپ اب بھی مجھے ایسے بلا رہی ہیں آپ کے ہسبنڈ کیا سوچیں گے؟”
حدید نے پتے کی بات کی تھی
“میں تو تمہیں فٹ بال ہی بلاؤں گی “
حدید کو بہت غصہ آیا اس نے شاہ زر کو دیکھا پھر اپنا ہاتھ مصافحہ کے لیے بڑھایا
“اسلام علیکم، آئی ایم حدید اعظم “
شاہ زر نے مسکرا کر ہاتھ ملایا
“وعلیکم السلام کیوٹ بوائے “
حدید کی تو بانچھیں ہی کھل گئیں
“آپ کتنے اچھے ہیں اور حیا پھوپھو تو مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی ہے، آپ حور کےبھائی ہے نہ؟”
حدید نے تصدیق چاہی تو شاہ زر نے اثبات میں سر ہلایا
“میں حور سے شادی کرنا چاہتا تھامگر حیا پھوپھو نے ان کی شادی کسی اور سے کروا دیں کیونکہ انکی eyes براؤن ہے شاہ زر پہلے حیران ہوا مگر حیا کے بھتیجے سے ایسی ہی امید کی جاسکتی ہے
” حیا پھوپھو آپ سے شادی بھی اسی لئے کر رہی ہیں کیونکہ آپ کی eyes بلیو ہے حیا پھوپھو کو colorful eyes بہت پسند ہے”
حیا تو چونک گئی کچھ حد تک تو وہ صحیح کہہ رہا تھا
“چپ کر جاؤ تم فٹبال کہیں کے”
“آپ نے پھر فوٹبال کہا رکیں میں ابھی بتاتا ہوں”
وہ پھر سے شاہ زر کی جانب متوجہ ہوا
“آپ کو پتہ ہے جب میں حور کی شادی ہونے پر رویا تھا تو حیا پھوپھو نے کہا تھا میں ان سے شادی کر لو یہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی تو میں نے منع کر دیا “
حیا نے سٹپٹا کر جھٹ سے حدید کے منہ پر ہاتھ رکھا سبھی زور دار قہقہہ لگایا
“بھابھی اسے لے کر جائے یہاں سے “
حیا کا چہرہ خفت سے سرخ ہوا
“نہیں مجھے بولنے دیں”
حدید نے ایک بار پھر احتجاج کیا
“حدید”
اعظم نے تنبیہہ کی تو وہ خاموش ہو گیا حدید کی وجہ سے ماحول بہت خوشگوار ہوگیا
تبھی گیٹ سے زمان عبیر، نائلہ زمان اور عاطف زمان آئے سبھی کے مسکراتے ہوئے لب سکڑے اگر کسی کو فرق نہیں پڑا تو وہ حیا تھی تینوں اسٹیج پر آئے اعظم نے پہل کی اور تعارف کروایا زمان عبیر نے سلام کیا اور خاموش ہو گئے
“واہ بھائی، تم بھی اپنی ماں پر گئی ہو کافی موٹی اسامی پھانسی ہے”
یہ جملہ نائلہ نے کہا تھا شاہ زر کو دیکھتے ہوئے
“مامی پلیز “
اعظم نے ٹوکا لیکن نائلہ کو کوئی فرق نہیں پڑا
“رہنے دیں اعظم بھائی یہ کہاں باز آنے والی ہیں”
حیا کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا
“جتنا غرور کرنا ہے کر لو مگر یاد رکھنا تمہاری ماں کا کیا تمہارے آگے آئے گا تم بھی تڑپ تڑپ کر مرو گی”
ان کے لہجے پر سبھی نے اپنے لب بھینچ لئے
“آمین لیکن اس طرح تو آپ کو عاطف کی فکر ہونی چاہیے “
حیا نے بھی مسکرا کر نہلے پر دہلا مارا وہ حیا تھی جس نے خاموش رہنا سیکھا ہی نہیں تھا ۔
حیرت تو شاہ زر کو ہوئی مگر حیا کے ابو پر جو لاتعلق بنے کھڑے تھے، بولے بھی تو کیا
” میں ڈنر کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں فارغ ہو کر آؤ میں ایک کال کرلوں جب تک”
وہ کہہ کر رکے نہیں چلے گئے نائلہ استہزائیہ ہنسی
” دیکھا صرف میرے کہنے پر آئے تھے ورنہ تو وہ راضی ہی نہیں تھے تمہیں دیکھ کر انہیں صرف غلطی یاد آتی ہے”
اب شاہ زر کے لئے برداشت سے باہر ہو گیا
” دیکھیں آپ ہم سے بڑی ہیں اور میں یہاں کوئی بدمزگی نہیں چاہتا ہوں اسی لئے برائے مہربانی۔۔۔۔۔۔۔”
شاہ زر کی بات ہے حیا نے کاٹی
” ارے اتنی عزت انہیں راس نہیں آئے گی “
“تم کتنی ذلیل ہو یہ تو پوری دنیا جانتی ہے “
عاطف نے کہا تھا
“عاطف آج حیا کی رخصتی ہے کم از کم آج کے دن تو لحاظ کر جاؤ “
اعظم نے ایک بار پھر تاکید کی
” اس میں لحاظ نام کی کوئی چیز نہیں ہے آخر کو اپنی ماں پر گئی ہے نہ “
نائلہ زہر اگلنا نہیں بھولیں
“چلو عاطف “
دونوں جانے لگے پھر عاطف مڑا اور شاہ زر سے مخاطب ہوا
“ویسے آپ کو پتہ ہے نہ حیا کی منگنی ہو چکی تھی پھر شادی بھی all most ہونے والی تھی لیکن عین شادی والے دن دولہے نے شادی سے انکار کردیا محض نکاح سے دو گھنٹے پہلے “
شاہ زر کے لئے یہ بات نئی تھی اس نے چونک کر حیا کو دیکھا اور پہلی مرتبہ حیا کے چہرے سے اطمینان رخصت ہوا
تو کیا حورعین نے شاہ زر کو نہیں بتایا تھا
حیا کو پہلا خیال یہی آیا یہ بات اوپر چڑھتے شاہنزل نے سنی
“اگر تم اپنا غلیظ لے کر نہیں گئےتو مجبوراً مجھے گارڈ کو بلانا پڑے گا “
شانزل نے اپنے ازلی سنجیدہ لہجے میں کہا عاطف نے ایک استہتزائیہ مسکراہٹ حیا کے اڑں رنگت والے چہرے پر ڈالی اور چلا گیا
پھر جان کر رادیہ بھابی اور اشعر نے موضوع تبدیل کر دیا شاہ زر کا چونکنا انہوں نے بھی دیکھا تھا یعنی وہ نا واقف تھا بعد میں اعظم بھائی نے ڈھکے چھپے لفظوں میں شاہ زر کو سمجھایا مگر وہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ وہ مطمئن ہوا ہے یا نہیں
شاہ زر جہانزیب ایک گہرا سمندر تھا جس کی گہرائی کتنی تھی ،، اور کتنی طغیانی تھی اسکا اندازہ لگانا نا ممکن تھا
حیا کا دل تو ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا اسے گھبراہٹ سی ہونے لگی اس نے خود ہی شاہ طلال کے بارے میں بتا دینا چاہیے تھا مگر اسے دھیان ہی نہیں رہا اس کا نکاح ہی اتنی آناً فاناً ہوا اوپر سے وہ شاہ زر کے سحر میں ایسا کھوئی کہ اسے اپنے وجود کا بھی خیال نہیں رہا لیکن اب کیا؟ یہ سوچ سوچ کر ہی اسکے سر میں درد شروع ہو گیا
کچھ ہی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا لیکن حیا کو رخصت کرنے کے لئے کوئی حقیقی رشتہ نہیں تھا دادی تو بیماری کی وجہ سے نہیں آئی تھی اعظم رادیہ، ہانیہ اشعر ہی تھے مگر شاہ زر نے حقیقی بھائی ہونے کا ثبوت دیا اعظم کی طرح اس کے سر پر دست شفقت پھیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا اپنے ہاتھ پیروں میں سنسنی سی محسوس کر رہی تھی
“حور میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے “۔
یہ سننے کے بعد حور نے فورا اسے اپنے کمرے میں لے جا کر بٹھایا تا کہ تھوڑی دیر آرام کر لے اسی لیے اس نے کوئی فضول رسم نہیں کی تھی ورنہ اپنے بھائی کے شادی کے بہت سے ارمان تھے اس کے دل میں۔ وہ مہمانوں کو کمرے دکھانے لگی اعظم وغیرہ وغیرہ رک رہے تھے باقی اور بھی مہمان تھے
پھر اس نے واپس اپنے کمرے کا رخ کیا کمرے میں آتے ہی وہ دھک سے رہ گئی
حیا آنسو بہا رہی تھی حورین ایک لمحے کو گھبرا گئی حیا آسانی سے رونے والوں میں سے نہیں تھی وہ پریشانی سے آگے بڑھی
حیا فورا اس کے گلے لگ گئی
“حور تم نے۔۔۔تم نے شاہ کو طلال کے بارے میں کیوں نہیں بتایا تھا”
حورعین کو ساری بات سمجھ میں آگئی
” اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں شاہ کو جانتی ہوں”
” انہیں لگے گا۔۔۔۔۔۔ وہ غلط سمجھیں گے”
“نہیں سمجھیں گے غلط “
حورعین نے تسلی دی
“انہیں اس طرح سے پتا نہیں چلنا۔۔۔۔ چلنا چاہیے تھا، اب کیا ہوگا “
حورین اس کی بات کا جواب دیتی اس سے پہلے ہی حیا حورعین کی بانہوں میں جھول گئی پیچھے سے آتے شاہ زر نے اسے سرعت سے تھام لیا ورنہ دونوں ہی زمین بوس ہو جاتیں
حورین اب حقیقتاً پریشان ہوگئی تھی
“شاہ وہ۔۔۔۔ پتا نہیں کیسے۔۔۔۔ وہ۔۔۔ یہ۔۔۔۔”
” صنم دیکھو باہر کوئی ہے کیا ؟”
حورعین نے باہر جھانکا
“نہیں کوئی نہیں ہے”
شاہ زر نے حیا کو بانہوں میں سمیٹا
تم عافیہ کو لے کر میرے روم میں آؤ ، دھیان رکھنا کسی مہمان کو خبر نہ ہو”
” ہاں ٹھیک ہے”
ڈاکٹر عافیہ جو شادی کی وجہ سے وہیں تھی انھوں نے کمرے میں حیا کو چیک کر کے پھر شاہ زر سے کہا
“ٹینشن مت لو، ایک دلہن ہے بہت تھکن ہوگی اوپر سے نروس ہو گی یہ عام بات ہے آرام کرے گی تو ٹھیک ہوجائے گی “
کہہ کر عافیہ چلی گئی
” شاہ وہ۔۔۔۔”
“صنم بچے تم بھی تھک گئی ہو گی تم بھی آرام کرو چلو شاباش میں ہوں حیا کے پاس “
“اوہ شاہ آپ بہت اچھے ہیں”
کہتے ہوئے حورعین شاہ زر کے گلے لگ گئی اور پھر چلی گئی شاہ زر نے ایک نظر حیا پر ڈالیں پھر چینج کرنے چلا گیا
چینج کرنے کے بعد باہر نکلا تو ایک نظر اپنے سجے ہوئے کمرے کو دیکھا پھر بیڈ پر لیٹے دنیا جہاں سے بیگانے وجود کو ایک گہری سانس خارج کی
پھر بیڈ پر آیا حیا ایسے ہی دلی پھندی دلہن بنی تھی اس نے اس کی آویزے نکالے پھر ماتھا پٹی نکالتے وقت پینوں (pins) سے الجھا مگر نکال ہی پھر اس نے حیا کی مخروطی انگلیوں سے انگوٹھیاں نکالیں اب باری دوپٹے کی تھی اس نے ایک بار پھر سے پنوں (pins) سے الجھتے ہوئے کوفت کے ساتھ دوپٹا نکالا
وہ سوچ رہا تھا حیا ان الجھنوں سے آزاد ہو کر سوئے شاہ زر نے بڑی احتیاط کے ساتھ اس کی کمر کے گرد بازو حائل کیا ایک ہاتھ کے سہارے اٹھایا وہ لچکیلی ڈال کی طرح اس کے کندھے سے آ لگی تھی اور نیچے دبا ہوا دوپٹہ ہٹایا اور پھر ہار بھی نکالا پھر احتیاط سے اس سے لٹایا
جیسے ہی شاہ زر کی نظر اس کے بالوں کے بندھے ہوئے جوڑے پر پڑی جو لاتعداد پنوں میں مقید تھا شاہ زر کا دل کیا اس کی بیوٹیشن کو ایک دو تو جڑ ہی دے
بحرحال شاہ زر اتنی پنوں سے کے ساتھ الجھنے کی سکت نہیں رکھتا تھا اسی لئے ایسے ہی چھوڑ دیا اور اسے کمفرٹر اوڑھا کر خود بھی سونے لیٹ گیا تھک تو وہ بھی گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حیا کی آنکھ کھلی تو شاہ زر روم میں موجود نہیں تھا یقینا نماز پڑھنے گیا تھا حیا کو اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا
شاور لیا تو کچھ فریش محسوس کرنے لگی پھر پورے دل سے نیت باندھی نماز پڑھی اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی ہی تھی کہ شاہ زر اندر آیا حیا اٹھ کھڑی ہوئی ایک نظر اسے دیکھ کر نظر جھکا لی وہ خود کو مجرم سا محسوس کر رہی تھی
وہ صبح صبح فریش نکھرا نکھرا ساتھ سفید کرتا شلوار میں غضب ڈھا رہا تھا
“اسلام علیکم”
شاہ زر نے پہل کی
حیا چپ ہی رہی اسے لگا اسکی زبان تالو سے چپک گئی ہو
“سلام کا جواب دینا ہر مسلمان پر فرض ہے “
شاہ زر نے اسکی خاموشی پر چوٹ کی
“وعلیکم السلام ” وہ تقریبا ممنائی تھی
“وہ کل۔۔۔ عاطف۔۔۔۔ میری شادی۔۔۔۔مطلب منگنی”
کہتے ہوئے پتہ نہیں کیوں حیا کی آنکھ سے آنسو گرنے لگے اسے کہاں عادت تھی کسی کو صفائی دینے کی۔
مگر وہ شاہ زر کی آنکھوں میں بد گمانی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
شازر کے تاثرات ہمیشہ کی طرح ہی تھے کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا تھا کہ اسکے ذہن میں کیا چل رہا ہے
وہ چلتا ہوا سائیڈ ٹیبل کے پاس آیا جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور گلاس حیا کو پکڑا حیا ایک گھونٹ بمشکل حلق سے اتارا
“مجھے۔۔۔ مجھ۔۔۔ مجھے لگا حور نے بتایا۔۔۔۔”
پتا نہیں کیوں حیا کے منہ سے جملے ادا ہی نہیں ہو رہے تھے وہ بس چاہتی تھی کسی طریقے سے شاہ زر کو یقین آجائے کوئی معجزہ ہو جائے اور شاہ زر اس کا یقین کر لے
ہاں وہ اسے انتہا محبت کرنے لگی تھی وہ نیلی آنکھوں والا شہزادہ حیا کی روح کو اسیر کر چکا تھا اس نے حیا زمان کو تسخیر کر لیا تھا
وہ اسے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر آج حیا کے پاس الفاظ نہیں تھے
“میں تم سے صرف ایک سوال پوچھوں گا “
شاہ زر کے لہجے پر حیا کا دل اور رک کر دھڑکا نہ جانے کیا سوال پوچھنے والا تھا
