125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25 Part 2

آج حیا کے گھر پر ڈینر تھا شاہ زر اور حورعین، حیا کے اپارٹمنٹ پہنچے تو شانزل کی گاڑی بھی ان کے پیچھے آکر رکی حورعین نے شانزل کو دیکھ کر منہ بنایا۔
شانزل نے شاہ زر سے مصافحہ کیا پھر وہ لوگ اندر کی طرف بڑھنے لگے شانزل نے ھورین کے کان میں سرگوشی کی
“منہ بگاڑنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے پتا ہے مجھے دیکھ کر تم خوش ہو رہی ہو”
جیسے ہی وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو ایک بال اڑتی ہوئی آ کر شاہ زر کے کندھے پر لگی
“یا ہووووو۔۔۔ ہم جیت گئے “
جی بالکل یہ آواز حیا کی تھی محترمہ اپارٹمنٹ کے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھی۔
وہ کود کود کر اپنی جیت کا جشن منا رہی تھی اور بچے اس کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ نکاح والے جوڑے میں تھی۔ حیا کی نظر ان تینوں پر پڑی تو بچوں کو دفع کرکے ان کے پاس آئی اس نے مشترکہ سلام کیا۔
اور حورعین کا میٹر گھوم گیا
“تم انسان نہیں بن سکتی کیا؟”
” تمہارے لیے تو میں کچھ بھی بن سکتی ہوں”
وہی لاپرواہ اندازہ حیا کا خاصہ تھا۔
حیا کی نظر شاہ زر پر پڑی ڈارک بلو ٹوپیس میں ہم رنگ آنکھوں کے ساتھ وہ حیا کی دل کی دنیا
تہہ و بالا کر گیا۔
” اس قدر ہینڈسم لگیں گے تو میری جان ہی نکل جائے گی”
حیا نے دل میں سوچا تبھی پیچھے سے ہانیہ کی آواز آئی
“آپی۔۔۔۔ اشعر کے بچے کو سمجھا دیں مجھے تنگ کر رہا ہے”
” آ رہی ہوں،،، چلیں اندر”
” یہ دونوں پہنچ گئے؟”
حورعین نے سوال کیا
“صبح صبح ہی دھمک پڑے تھے جان کھائی ہوئی ہے میری “
“یہ دونوں ابھی تک ایسے ہی ہیں؟”
شانزل نے پوچھا
” بالکل ویسے ہی سانپ اور نیولا”
دروازہ کھلتے ہی ہانیہ کی رونی شکل نظر آئی سبھی صوفے پر براجمان ہوئے
” تمہارے منہ پر بارہ کیوں بجے ہوئے ہیں ؟”
حورعین کو ترس آیا اس پر۔
” ابھی اس میں شکایت کا پٹاراکھول لینا ہے “
حیا نے تپ کر کہا
” ہاں تو کیا کروں آپ کا وہ دو دن بڑا کزن مجھے بھینس کہہ رہا ہے، بتائیں ان کپڑوں میں بھی لگ رہی ہوں ؟”
جواب حیا کی طرف سے نہیں اشعر کی طرف سے آیا تھا جو کچن سے ایپرن پہنے ہاتھ میں کفگیر لیے وارد ہوا تھا۔
” غلطی ہوگئی تم بھینس نہیں کی گینڈے کی بہن لگ رہی ہو”
” یار کیسی باتیں کر رہے ہو؟”
شانزل نے ٹوکا۔
” تو کیا کروں بھائی، دیکھں ذرا مجھ پر کتنا ظلم ہو رہا ہے، دو دو لڑکیاں گھر میں موجود ہے اور میں پوریاں تل رہا ہوں”
شاہ زر کو یہ سب عجیب لگا مگر یہ حیا کے کزن ہے تو ایسے ہی ہونے ہے یہ کہہ کر خود کو سمجھا لیا۔
اشعر کے وجہ بتانے پوری حورعین نے اپنا سر پیٹ لیا
“حیا، یہ کیا حرکت ہے”
” جتنا اس نے ہمیں تنگ کیا ہے اتنا تو بنتا ہے، ویسے بھی چار پوریاں تلنے سے یہ گھس تھوڑی جائے گا”
اشعر کی نظر اجنبی چہرے یعنی شاہ زر پر پڑی
” آپ غالباً شاہ زر جہانزیب ہیں؟”
اشعر نے پوچھا
“اسلام و علیکم “اشعر نے ہاتھ ملایا
پھر حورین کی طرف متوجہ ہوا
” حور تمہیں ذرا ترس نہیں آیا اپنے بھائی پر،،،، اس آفت کی پرکالہ کو اپنے بھائی کے متّھے مارتے ہوئے”
وہ بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا حیا نے پاس پڑا کشن اٹھا کر دے مارا
” نکلو تم یہاں سے پوریاں تلو”
اشعر چلا گیا
“السلام علیکم ،میں ہانیہ ہوں حیا آپی کی کزن”
” وعلیکم السلام “
شاہ زر نے جواب دیا۔
“ہائے آپی یہ تو بہت ہینڈسم ہے “
ہانیہ نے دل کی بات زبان پر لانے میں دیر نہیں کی
شانزل نے کہا
“یہی جملہ تم نے مجھے دیکھ کر بھی کہا تھا “
“تو کیا کروں آپ لوگ اتنے خوبصورت ہو کیا کھاتے ہو”
“فی الحال تو کھانا کھا لو،بدتمیز لڑکی”
اشعر نے کچن سے ہانک لگائی
” تم چپ کر جاؤ بدتمیز لڑکے”
ہانیہ نے دوبدو جواب دیا
“چلو اٹھو ہم ٹیبل سیٹ کرتے ہیں ورنہ اس ابلا ناری نے طعنے مارمار کر کان کھا جانا ہے”
حیا کے کہنے پر وہ دونوں بھی ٹیبل سیٹ کرنے اٹھ گئین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبھی کھانے کے دوران ہلکی پھلکی باتیں کر رہے تھے مگر اشعر اور ہانیہ وزن دار بحث میں مشغول تھے حیا کی نظر بھٹک بھٹک کر شاہ زر پر جا رہی تھی۔
“توبہ میں کیا کر رہی ہوں؟
پھر حیا نے اپنی توجہ بڑی مشکل سے حورعین کے بنائے ہوئے چیز آملیٹ پر مبذول کی ابھی پہلا نوالہ اٹھایا ہی تھا کہ بیل بجی اوہ کون آ گیا کہہ کر حیا دروازے پر چلی گئی اشعر نے موقع غنیمت جانا اور چیز آملیٹ کی پلیٹ اٹھا لی
“اشعر حیا آپی تمہیں چھوڑیں گی نہیں “
“تم چپ کرو یہ بدلہ ہے”
” دیکھو اشعر یہ میں نے بنایا ہے حیا بہت غصہ کرے گی”
حورین نے بھی نتیجہ سے باخبر کیا
“اسے تو میں دیکھ لوں گا اتنا تو میرا تنگ کرنا بنتا ہے’
اشعر نے جلدی جلدی آملیٹ ختم کیا پھر آس پاس پڑے گلدان وغیرہ ہٹا دیے
“یہ کیوں کر رہے ہو؟”
شاہ زر نے سوال کیا
” آپ کی منکوحہ نہایت ہی ظالم ہے جو ہاتھ میں آیا اٹھا کر دے مارنا ہے آپ بھی اپنے گھر سے ایسی بھاری چیزیں نکال دیجئے گا”
اشعر نے مفت مشورہ دیا
تبھی حیا واپس آئی
اور اپنی پلیٹ خالی دیکھ کر اس کا چہرہ اس کے کپڑوں کی طرح سرخ ہوا شرم سے نہیں غصے سے ۔
“تم۔۔۔تم کلمہ پڑھ لو اشعر احمد اب جو تمہارا حال ہوگا تیار رہنا اس کے لیے”
پھر ہانیہ کی طرف مڑی
” قسم لے لیں آپی میں نے سونگھا تک نہیں آملیٹ”
حیا خاموشی سے وہاں سے چلی گئی
“غصہ دلادیا اسے اب وہ کھانا نہیں کھائے گی تو؟” شانزل کو افسوس ہوا
” بھائی یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے”
اشعر نے بتایا
“مجھے تو متوقع حالات سوچ سوچ کر بڑا مزہ آ رہا ہے، تمہارا جو حشر حیا آپی کریں گی واہ”
ہانیہ نے چٹخارہ لیا
” ڈراؤ تو مت یار”
اشعر تھوڑا تھوڑا ڈر گیا
پھر حیا خاموشی سے واپس آئی اور ڈنر کرنے لگی سب کو تعجب تو ہوا لیکن خاموش رہے
ڈنر کے بعد چائے کا دور چل رہا تھا۔
کھانے کی تعریف پر حیا نے گردن اکڑا کر بتایا کہ اس نے پکایا ہے
“شاہ زر آج آپ حور کو یہیں چھوڑ دیں”
اس کے براہ راست مخاطب کرنے پر اشعر نے ہوٹنگ کی اس ہوٹنگ کا جواب حیا نے ایک زور دار دھموکے سے دیا
” آپ خیر منائیں شاہ زر بھائی آپ کا مستقبل خطرے میں ہے”
” آپ چھوڑ دیں حور کو، کل صبح لے جائیے گا اتنے دنوں سے ہم دور ہیں”
‘ اتنے دنوں سے ہم دور ہے’ کہنے پر شاہ زر حیا کو عجیب نظروں سے دیکھا
“رہنے دو بھائی ایسے مت دیکھو میں نے تو اس سے زیادہ رومانٹک سین دیکھے ہیں ان دونوں میں”
جواب شانزل کی طرف سے تھا
“ٹھیک ہے میں صبح لے جاؤں گا”
تبھی حیا کا فون بجا
“جی رادیہ بھابھی یہ لوگ یہیں ہے کل جائیں گے”
“پوچھیئے مت یہ اشعر کا بچہ آیا ہے۔۔۔۔۔۔”
“اشعر کا بچہ آیا نہیں ہے ، آنے والا ہے سات مہینے بعد”
حیا کی بات اشعر نے کاٹی
حیا نے فون چھوڑ کر اسے غور سے دیکھا یہ بات تو اسکے سر پر سے گزر گئی ۔ ہانیہ نے یک لخت اپنا سر پیٹ لیا
“مطلب”
حیا نے مطلب پوچھا
“مطلب یہ کہ تم پھپھو کے عہدے پر فائز ہونے والی ہو اور ما بدولت اشعر احمد ابّا کے عہدے پر”
ایک زور دار دھموکہ ہانیہ نے اشعر کی پیٹھ پر جڑا۔
“ایسے بتانے والے تھے تم”
حیا کو کچھ دیر بعد ہوش آیا
“آ آ آ آ ۔۔۔۔۔”
اس کے حلق سے چیخ برآمد ہوئی وہ دھپ سے اشعر کے پاس بیٹھ گئی
” ارے واہ اشعر میں۔۔۔ میں پھوپھو ارے واہ “
“مبارک ہو بھئی “
شانزل نے مبارکباد دی
حور نے بھی دی اور شاہ زر نے بھی پھر سوال کیا “تمہاری وائف؟”
سب نے تعجب سے شاہ زر کو دیکھا پھر حیا نے بتایا “اس نمونے کے لئے یہ نمونی ہی سہی تھی “
“اوہ تو آپ ہے مسز اشعر”
شاہ زر کو حیرت ہوئی
حیا کی ایکسائٹمنٹ ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی
“ارے واہ اشعر تمہارے بچے میرے آس پاس گھومیں گے، میں نے تو نام بھی سوچ لیے ہیں چیاؤں، میاؤں، پیاؤں، باقی کے بعد میں سوچو گی “
اشعر نے شاید اسکی پوری بات نہ سنی اسے تو بچوں کی تعداد نے ہولا دیا
” ہیں؟ تم کتنے بچے ایکسپیکٹ کر رہی ہو؟”
اشعر کے ساتھ سبھی کو جھٹکا لگا
“ارے جتنے بھی ہو میرے لیے تو کم ہوں گے”
” تم نے کیا ہمیں جانور سمجھ رکھا ہے بس ایک پر اکتفا کرو”
سبھی کے قہقہے چھوٹے اور ہانیہ کا چہرا سرخ ہوا ہانیہ نے اس کی پوری بات سنی تھی اسی لیے ہانی کی سوئی ابھی تک نام پر اٹکی تھی
” آپی آپ سچ میں چیاؤں، میاؤں، پیاؤں نام رکھیں گی؟”
“ہاں تو میں خالہ بھی ہوں اور پھو پھو بھی تو نام میں ہی رکھو گی”
ہانیہ دل تھام کر بیٹھ گئی
” تنگ مت کرو حیا، نہیں ہانیہ ہم کوئی اچھا سا نام رکھیں گے”
حورعین نے ہانیہ کو تسلی دی
حیا کی شرارتوں نے شام کو یادگار بنادیا تھا حورین کو جاتے وقت شاہ زر نے ڈھیر ساری نصیحتیں کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح شانزل اور شاہ زر ساتھ میں آئے تھے۔ حیا دروازے پر ہی کھڑی تھی ان دونوں کو دیکھ کر دوڑ کر ان کے پاس آئی
“بھائی آپ کے پاس کوئی بلیڈ یا ٹریمر ہے؟”
اس نے رازدارانہ انداز میں پوچھا
“ہاں، شاید گاڑی میں شیونگ کٹ ہے، تم نے کیا کرنا ہے ؟”
“مجھے دے دیں”
” کیوں؟”
” دے دیجئے نا”
شانزل نے دے دیا پھر وہ شاہ زر کی طرف متوجہ ہوئی
“آپ کے پاس ہے؟”
” بالکل نہیں”
” اچھا چلیں آپ دونوں موبائل دیں”
دونوں نے عجیب نظروں سے حیا کو دیکھا
“ارے دیجئے سب واپس کر دوں گی “
دونوں نے موبائل نکال کر دیا
“کوٹ دیجئے”
شاہ زر نے بنا سوال کے نکال کر دیا
“گاڑی کی چابی ؟”
دونوں نے دے دی
حیا تیر کی تیزی سے اندر داخل ہوئی۔
دونوں اس کے پیچھے اندر آئے تو گھر کا نقشہ بدلا ہوا تھا سارے پردے کوشن کور کوئی بھی کپڑا باہر نہیں تھا۔ ہانیہ صوفے پر بیٹھی ناخن چبا رہی تھی
“ہائے آپی بڑا مزا آنے والا ہے “
حیا نے جلدی جلدی سارا سامان چھپایا
“حورین اٹھ گئی ہے باتھ روم میں ہے آتی ہوگی”
حورین باہر نکلی
” یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے گھر کی ؟”
“حالت تو اب بنے گی اشعر کی”
جواب ہانیہ نے دیا تھا
“کیا کرنے والی ہو تم؟”
حورعین حیا کو بہت اچھی طریقے سے جانتی تھی یہ ساری کاروائی کسی نہ کسی شرارت کا پس منظر تھی
” صرف 20 سیکینڈ بعد دیکھ لینا”
حیا نے جواب دی
“لاؤ ہانیہ موبائل پکڑاؤ”
اور پھر ہانیہ سے موبائل لے کر حیا جلدی سے سیڑھی کی مدد سے شوکیس پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔
تبھی اشعر نے روم کا دروازہ کھولا ہو تن فن کرتا باہر نکلا اور سبھی پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگے
حیا نے ٹریمر سے باقاعدہ تین انچ پگڈنڈی بنائی ہوئی تھی یوں سمجھ لیں اشعر کے سر پر تین انچ کی چوڑی مانگ تھی یعنی سر کا درمیانی حصہ بالکل سپاٹ اور چکنا تھا بغیر بال کے،،،،اس حصے پر حیا نے کاجل اور لپسٹک سے فنکاریاں دکھائی تھی
اسی طرح کاجل اور لپسٹک سے چہرے پر بھی نقش و نگار بنائے گئے تھے۔
حیا شوکیس پر بیٹھی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی
شاہ زر شانزل یہاں تک کہ حورعین کا بھی یہی حال تھا حیا مزے سے بیٹھی ویڈیو بنا رہی تھی۔
” میں تو تمہیں آ کر بتاؤں گا “
“ایسے جاؤ گے ؟”
“ٹریمر دو حیا”
“میں تو نہیں دوں گی”
پھر اشعر نے آس پاس نظر دوڑائیں کہ کوئی کپڑے سے خود کو ڈھانک کر سلون چلا جائے مگر ندارد پھر سوچا کہ کسی باربر کو فون کر کے گھر پر بلائے موبائل ڈھونڈا مگر وہ بھی ندارد
” تمہارے سارے راستے بند ہے، موبائل میرے پاس جمع ہے سب کے، دروازے بھی بند ہے، تمہارے دوست آئیں گے تب ہی کھلے گا”
” مجھے تمہارے ہاتھ والا موبائل دو حیا”
اشعر نے چڑ کر کہا
“اس میں سِم نہیں ہے، حیا کوئی بھی پلان فلاپ ہونے والا نہیں بناتی، تمھاری ساری کوششیں بیکار ہیں”
” مجھے کیا کرنا ہوگا “
“تمہیں اپنے کان پکڑ کر سِٹ اپس (sit ups) کرنے ہیں اور ہر مرتبہ کہنا ہے ‘میں بے وقوف ہوں، حیا بہت عقل مند ہے اور میں کبھی حور اور حیا کے درمیان نہیں آؤں گا”
سب کی دوبارہ ہنسی چھوٹی
” حور تم ہی کچھ بولو”
اشعر نے حورین کو بیچ میں گھسیٹا
“حیا نیچے اترو، کیا بچپنا ہے”
” تم اپنی اینرجی ویسٹ مت کرو میں بدلہ لئے بغیر نیچے نہیں اترنے والی، چلو اشعر شروع کرو”
“اشعر نے نا چاہتے ہوئے بھی شرط پوری کی۔
“اب یہ ویڈیو میرے پاس ہے اگر تم نے میرے ساتھ کوئی بدلہ لیا تو میں اسے اپ لوڈ کر دوں گی”
باقاعدہ طور پر دھمکی دی
اشعر بے چارہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔
“یہ لو چابی بھاگو حلیہ درست کر کے آؤ”
اشعر جاتے جاتے شوکیس سے لگی سیڑھی گرا گیا جس سے وہ ٹوٹ گئی۔
سبھی اب تک ہنس رہے تھے ۔
حور نے کہا میں ناشتہ لگاتی ہوں ہانیہ بھی اسکے ساتھ چلی گئی شانزل بھی اشعر کے پیچھے گیا کیونکہ وہ بہت غصے میں تھا حیا ابھی تک شوکیس پر بیٹھی لطف اندوز ھو رھی تھی جیسے ہی اس نے نیچے اترنے کے لئے پیر نیچے کیا تو پتہ چلا سیڑھی غائب ہے
” ہائے اللہ۔۔۔۔”
شاہ زر اس کی جانب متوجہ ہوا شوکیس بہت اونچا تھا
” کمبخت سے سیڑھی توڑ گیا ہے”
شاہ زر نے مسکرا کر دونوں ہاتھ اٹھائے اور اشارہ کیا جیسے کسی بچے کو بلاتے ہیں” آجاؤ”
” گرائیے گا مت”
حیا نے ڈر کر کہا
“تم آؤ تو نہیں گراؤں گا”
” پکا؟”
” پکا “
شاہ زر نے یقین دہانی کروائی
حیا کی ساری شوخی رفو چکر ہو گئی تھی
“مجھے ڈر لگ رہا ہے شاہ زر”
حیا حقیقتاً ڈر گئی تھی
“میں خود نہیں اتر پاؤں گی آپ اتار لیں”
شاہ زر کو حیا کا جملہ یاد آیا خبردار جو ہاتھ لگایا میں خود اتر جاؤں گی
” پھر تم کہو گی خبردار جو ہاتھ لگایا منہ توڑ دوں گی”
“طعنے مت ماریں، نہیں اتارنا تو مت اتاریں، آپ میرے شوہر ہیں اس لئے کہہ رہی ہوں آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اسے بھی یہی جملہ کہتی “
وہ حیا تھی اس نے چھپ رہنا سیکھا ہی نہیں تھا اس کی بات پر شاہ زر مسکرایا
حیا نے سوچا پہلے کیا کم ہینڈسم ہے جو اور مسکرا مسکرا کر دل میں ہلچل مچا رہے ہیں
شاہ زر نے پاس پڑا صوفہ شوکیس سے لگایا پھر اس پر چڑھا مگر حیا اب بھی اوپر تھی شوکیس کافی اونچا تھا پھر شاہ زر صوفے کی بیک پر چڑھا اور حیا کو کمر سے تھام لیا حیا کے دل نے ایک بیٹ مس کی وہ اسے کسی بچی کی طرح اتار رہا تھا تبھی حیا اسکے لمس سے لرزی جس وجہ سے شاہ زر کا بیلنس آؤٹ ہوا اور دونوں سیدھے صوفے پر گرے
شاہ زر حیا کے نیچے تھا
حیا ہڑ بڑا کر اٹھی تو پھر سے شاہ زر پر گری جس کی وجہ سے اس کے ہونٹ شاہ زر کی گردن کو چھو گئے حیا کو کرنٹ لگا اس کا چہرہ پل میں سرخ ہوا شاہ زر غور سے اسے دیکھ رہا تھا
شاہ زر نے بہت احتیاط سے اسے بٹھایا اور باہر چلا گیا
حیا بیٹھ کر اپنی سانس بحال کرنے لگی
“ہائے۔۔۔۔ کیا فلمی رومینٹک سین تھا”
اب حیا تو حیا ہے
جاری ہے