125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

فریدہ نے اسے وہ سب کچھ بتا دیا جو جو جانتی تھی یعنی
“جی۔۔۔۔۔ ساڑھے تین مہینے پہلے سے۔۔۔۔۔”
” مجھے شروع سے سب بتائیے بے فکر ہوکر “
“وہ۔۔۔۔ جی۔۔۔۔۔آپ کے جانے کے بعد مطلب دوسرے دن رات کے وقت میں نے باجی کو دیکھا تھا وہ شاید چھت کی سیڑھیوں سے گری تھی،،، کیسے گری مجھے نہیں پتا پھر۔۔۔۔۔”
وہ سب کچھ بتاتی چلی گئی
ہسپتال۔۔۔۔۔ حیا کا خون سے لت پت وجود ہونا۔۔۔۔۔۔ہوش میں نہ آنا۔۔۔۔ دوسرے شہر۔۔۔۔۔ڈیڑھ مہینے بعد ہوش میں آنا ۔۔۔۔۔۔ساڑھے تین مہینے سے دورے پڑنا۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کو بلانے سے منع کرنا۔۔۔۔۔۔اور عذیر حیات کی آمد۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے ،،،،،اب آپ جا سکتی ہیں “
حورعین کی آواز لرز رہی تھی
” آپ نے جو کچھ حیا کے لیے کیا ہے اس کا احسان میں زندگی بھر نہیں چکا سکتی”
بہت ضبط کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو روکا مگر آواز پھر بھی نم تھی
فریدہ سمجھ کر چلی گئی
حورعین کے لیے یہ حقیقت ہی دہلادینے والی تھی اس کا دل کرب سے پھٹا جا رہا تھا نہ جانے وہ کونسی سچائی تھی جو صرف شاہ زر کو پتہ تھی اس نے شاہ زر سے کچھ نہیں پوچھا اب ہمت نہیں بچی تھی اور کچھ سننے کی ،شاہ زر کے پاس کچھ تھا ہی کہاں کہنے کے لئے ،،،،،،، حورعین لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے میں آئی اسے لگا اس سے بھیانک کچھ ہو ہی نہیں سکتا مگر آج رات ایک قیامت اسکی منتظر تھی آزمائشوں کا سلسلہ جاری تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حیا ک آنکھ کھلی تو بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا ہمیشہ کی طرح دورے کے بعد اس کی حالت قابل رحم تھی اس نے بہت مشکل سے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس کے بازو میں ہانیہ سوئی ہوئی تھی اور اشعر سوفے پر بیٹھا اپنے موبائل میں مصروف تھا
“ہاش چلو اٹھو یار اس سے پہلے میں بھوک سے کوچ کر جاؤں اٹھو اور اسے اٹھاؤ کمب کرن کی نانی اتنا سوتی ہے میں ناشتہ لے کر آتا ہوں”
اشعر کے واویلے پر ہانیہ کی آنکھ کھلی تو اسے گھورنے لگی
” اشعر احمد میں تمہیں بتا رہی ہوں مجھے ان القابات سے مت نوازا کرو”
” بعد میں بحث کریں گے “
اشعر کہہ کر چلا گیا حقیقتا بھوکا تھا ورنہ اشعر بحث چھوڑ دے یہ ناممکن بات تھی
حیا نے ہانیہ کو دیکھا اس کا بھرا بھرا جسم اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کے اندر ایک ننھی سی جان پل رہی ہے دونوں اب بھی ویسے ہی تھے
“چلیں آپی اٹھیں جلدی اس نے رونا شروع کر دینا ہے”
کہتے ہوئے اسے اٹھا کر سہارے سے واش روم لے کر جانے لگی درد کی لہریں حیا کے جسم میں اٹھ رہی تھی وہ واش روم سے نکلی تو ہانیہ اور اشعر پھر لڑ رہے تھے
” آجائیں آپی ، اس نے مجھے اتنا حیران کیا ہے، اب مل کر ہم اسے بھی حیران کریں گے ، اشعر احمد اپنی خیر منائیں”
” چلو حیا ناشتہ شروع کرو”
“حور؟”
جو سوال اسے پریشان کر رہا تھا آخر اس نے پوچھ لیا
اشعر ایک لمحے کے لیے چپ ہوا پھر کہا
” وہ بھائی کے ساتھ کسی کام سے گئی ہے آتی ہی ہوگی”
” آتی ہو گی نہیں آگئی، کیا ہو رہا ہے؟ لڑائی؟
حورعین دروازے پر کھڑی بشاشت سے پوچھ رہی تھی مگر کہیں اندر اس کے چہرے پر حزن تھا جسے کسی نے نہیں پر حیا نے ضرور محسوس کیا تھا ا
” غلطی اس کی ہے”
اشعر اور ہانیہ نے ایک ہی جملہ کہا
ماحول اتنا خوشگوار تھا مگر حیا ایک دم خاموش تھی جامد سی
بمشکل کچھ نہیں والے حلق سے اتارے حورعین نے اسے دوائیں دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین حیا کو بہت توجہ دے رہی تھی رات میں بار بار اٹھ کر اسے چیک کرنا اسے باتوں میں مصروف رکھنا حالانکہ وہ صرف سنتی تھی حورعین کو یہ بات پتا لگ گئی تھی کہ وہ چیزیں بھول جاتی ہے ایک مرتبہ پھر ایک انتہائی اذیت سے دوچار ہوئی
اس حالت میں حیا کو دیکھنا نہایت مشکل کام تھا اس سے بھی زیادہ مشکل اس کے ساتھ نارمل بی ہیو کرنا تھا مگر وہ بہت حوصلے سے سب ہینڈل کر رہی تھی
حیا بہت کوشش کرتی کہ وہ اپنی کیفیت حورعین سے چھپائے مگر جب اسے دورے پڑتے چاہے آدھی رات کو حورعین اسے بہت ہمت سے سمبھالتی تھی ہفتہ بھر ہونے کو آیا تھا مگر حیا اپنے کمرے سے ہی نہ نکلتی مگر آج حورعین بہت مشکل سے اسے کھانے کی ٹیبل پر لے کر آئی تھی
جہاں شانزل اور شاہ زر اس کا پہلے سے ہی انتظار کر رہے تھے
حیا ایک پل کو تھمی مگر حورعین نے اسے پکڑ کر شاہ زر کے پاس خالی کرسی پر بٹھایا
حیا کے دل کو خوف نے آ گھیرا
اس کی آنکھیں نم ہونے لگی
کتنی محبت کرتی تھی وہ اس سے، اس پر جی جان سے مرتی تھی مگر وہ۔۔۔۔۔”
” آپ لوگ تیار رہیے گا اسپتال جانا ہے آپ کے اسٹیچس ٹھیک ہوئے ہیں یا نہیں چیک کرانا ہوگا شام چار بجے کا اپائینمنٹ ہے”
شاہ زر نے بہت عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا حیا نے چونک کر اسے دیکھا
آنسو اس کی آنکھوں میں بھر گئے
تبھی گھر میں اشعر ہانیہ داخل ہوئے
اشعر تن فن کرتا غصے سے کمرے میں چلا گیا
ہانیہ وہ چہکو پہکو روتے ہوئے بمشکل اپنے قدم آگے بڑھاتی ہوئی جا رہی تھی
” ہانیہ کیا ہوا ہے تمہیں رو کیوں رہی ہو؟”
” بیٹھو پانی پیو”
حورعین نے اسے بٹھایا اشعر پھر کمرے سے نکلا
“بتاؤ نا کیا کارنامہ انجام دیا ہے یاد رکھنا ہانیہ ابرار میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا”
اشعر حقیقتاً غصے میں تھا آنکھیں آگ برسا رہی تھی
“اشعر سکون سے بیٹھو، آرام سے بات کرتے ہیں ہانیہ کی حالت دیکھو، یہ کیا طریقہ ہے؟
شانزل نے اسے گھرکا
” اپنی حالت کی ذمہ داری یہ خود ہے “
“اچھا چلو میرے ساتھ ہم بعد میں بات کریں گے”
ماحول کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے شاہ زر نے کہا اس کا خیال تھا کہ غصہ ٹھنڈے ہونے تک منظر سے ہٹ جائے تو بہتر ہے
حور ہانیہ اور حیا کو کمرے میں لے جاؤ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا بات ہے ہانیہ مجھے بتاؤ”
حورعین نے بہت ملائمت سے اس سے پوچھا
” آپی ۔۔۔وہ آپی۔۔۔۔ میری پریگنینسی میں کمپلیکیشن ہے “
“اللہ بہتر کرے گا ہانیہ، انشاء اللہ سب ٹھیک ہو گا، مگر اس میں غصہ کرنے والی کیا بات تھی”
” آپی جب مجھے پتہ چلا تھا کہ میں پریگنیٹ ہوں ڈاکٹر نے مجھے کہا تھا کہ میرا جسم ابھی ان چیزوں کے لئے تیار نہیں ہے بعد میں مسئلے ہوں گے مگر میں چاہتی تھی کہ ہماری اولاد اس دنیا میں آئے”
” جب سب تمہیں پتا تھا تو پھر کیوں؟ تمھاری عمر ہی کیا تھی “
“کیونکہ اس وقت مجھے اشعر کی مسکراہٹ یاد آئی آپی وہ بہت خوش تھا میں نے خود سے سوال کیا تم اس مسکراہٹ کے لیے کیا کر سکتی ہو میرے دل سے بے اختیار جواب آیا اشعر احمد کی مسکراہٹ کے لی ہانیہ ابرار اپنی زندگی وار سکتی ہے مگر آج اشعر کو سب پتہ چل گیا وہ ناراض ہے مجھ سے
کل کے بارے میں ڈاکٹر ہدایت دینے لگیں آپریشن کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر نے سب کچھ اشعر کو بتا دیا ، اب وہ گدھا ناراض ہو گیا ہے مجھ سے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا کھانا تینوں نے روم میں کھایا ہانیہ حیا کے پاس سو رہی تھی حورعین تو ایسے بھی حیا کے ساتھ ہی سوتی تھی
” حیا آپی آپ سے ایک بات کرنی ہے “ہانیہ کے آواز میں نمی گھلی ہوئی تھی
“آپی اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اشعر سے کہئے گا کہ مجھے معاف کردے “
کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
حیا نے اسے گلے لگایا
“کچھ نہیں ہوگا تمہیں، حوصلہ کرو”
اب تک کا سب سے بڑا جملہ تھا جو حیا نے کہا تھا
“آپ میرے بچے کو پالیے گا، آپ جانتی ہیں سوتیلی ماں کیسی ہوتی ہے میرے بچے کو سوتیلی ماں کے حوالے مت کرنا پلیز آپی”
وہ حیا کے گلے لگ گئی رو رو کر کہہ رہی تھی
” کیا کہہ رہی ہو ، اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو “
” آپی میں چاہتی تھی اگر میری زندگی کے آخری دن ہوئے تو میں اشعر کے ساتھ خوشی خوشی رہوں محبت محسوس کروں مگر آپی میں اس بوجھ کے ساتھ نہیں مرنا چاہتی کہ اشعر مجھ سے ناراض ہے”
” یا اللہ ہانیہ کیسی بات کر رہی ہو میں بات کرتی ہوں اشعر سےوہ ناراض نہیں ہوگا تم سے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے اس وقت ہانیہ بہت ٹوٹی ہوئی لگی
وہ اٹھ کر اشعر کے پاس گئی اس وقت لان میں کھڑا نہ جانے آسمان میں کیا تلاش کر رہا تھا
“اگر تم اس کی حمایت کرنے آئی ہو تو چلی جاؤ یہاں سے “
“میں کسی کی حمایت کرنے نہیں آئی”
” تو پھر کیوں آئی ہو “
“بس میری بات سن لو میں چلی جاؤں گی”
” بولو”
” ایسے نہیں بیٹھ جاؤ میں مزید کھڑی نہیں رہ سکتی “
اشعر نے پلٹ دیکھا وہ کرسی کے سہارے بہت مشکل سے کھڑی تھی شاید وہ اکیلے ہی نیچے آئی تھی
اشعر نے اسے بٹھایا
“میں صرف یہ یاد دلانے آئی ہوں کہ تم ہانیہ سے محبت کرتے ہو “
“یہی تو بات ہے اسے پتہ ہے کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں پھر کیوں اس نے یہ حرکت کی؟
حیا تم تو جانتی ہو میں ہانیہ سے تب سے محبت کرتا ہوں جب میں محبت کے معنی بھی نہیں جانتا تھا میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ہر دعا میں اسے مانگا ہے پھر بھی، پھر بھی، اس نے میرے ساتھ یہ ظلم کیا ہے بتاؤ کیوں؟”
” کیونکہ وہ بھی تم سے محبت کرتی ہے اسے تمہاری خوشی عزیز ہے “
“مجھے صرف ہانیہ عزیز ہے”
“اشعر تمہیں پتا ہے ابھی ہانیہ میرے گلے لگ کر رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ میں اس بوجھ کے ساتھ نہیں مرنا چاہتی کہ اشعر مجھ سے ناراض ہے”
اشعر نے تڑپ کر اسے دیکھا
“اشعر ایک عورت بیوی بن کر بہت حساس ہو جاتی ہے اس کی دنیا شوہر سے شروع ہوکر اس پر ختم ہوجاتی ہے ، یقین جانو اشعر اگر آپ جس سے محبت کرتے ہو اور وہ آپ سے ناراض ہو ، موت منہ کھولے آپ کے سامنے کھڑی ہو یہ لمحہ بہت اذیت ناک ہوتا ہے، روح کو چیر دینے والی اذیت۔۔۔۔۔”
کہتے ہوئے حیا آنکھ سے آنسو گرنے لگے وہ بھی تو اس تکلیف سے گزر رہی تھی
وہ خود اپنے رستے ہوئے زخموں کو کھرچ رہی تھی
” موت سے پہلے اندر ہی اندر انسان ہزار بار مرتا ہے اگر ابھی تم نے ہانیہ کو نہ سنبھالا تو وہ ٹوٹ جائے گی کرچی کرچی ہو جائے گی اور یہ کرچیاں روح کو زخمی کر دیتی ہے اگر وہ بچ بھی گئی تو محبت تو زندہ رہے گی مگر اس کی روح زخمی ہوچکی ہوگی اس کے ٹوٹنے سے پہلے اسے سنبھال لو، روح کے زخم نہیں بھرتے اب بھی وقت ہے تمہارے ہاتھ میں، اسے تھام لو، یاد کرو تم اس سے محبت کرتے ہو، محبت اتنی کم ظرف نہیں ہوتی جہاں محبوب کی غلطی نظر انداز نہ کی جا سکے محبت تو بہت وسیع ظرف ہوتی ہے”
“میں تو اسے سنبھال لوں گا مگر حیا ہم سے کیا غلطی ہوئی ہے جو تم ایسا کر رہی ہو، اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں “
“ساری غلطی میری ہے “
حیا کی آواز میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی
“تو تم معافی مانگ لو”
“م۔۔۔ مم۔۔ میری غلطیاں معافی لائق نہیں ہوتی اشعر”
“اشعر دیکھو ہانیہ تمہیں بلا رہی ہے”
پیچھے سے حورعین کی آواز آئی تو اشعر اٹھ کر چلا گیا
“تم اتنی ٹھنڈ میں ایسے ہی بیٹھی ہو سدھر جاؤ چلو اندر “
حیا نے ایک نظر حورعین کے ساتھ کھڑے شاہ زر کو دیکھا پھر چپ کر کے اندر چلی گئی
اسے دیکھنے کے بعد وہ پھر سے نئے سرے سے اذیت سے دوچار ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے رستے ہوئے زخم کو پھر سے کسی نے چھیڑ دیا تھا ایک مرتبہ پھر وہ سوچوں کے گرداب میں پھنسی تھی
جس کا نتیجہ پھر ایک دورے کی صورت میں نکلا تھا
اس لئے حوریں حیا کے ساتھ گھر پر ہی تھی کچھ دیر پہلے خبر آئی تھی کہ اشعر کے گھر ننھی پری آئی ہے اور خدا کے فضل سے ہانیہ بھی ٹھیک ہے تھوڑی دیر پہلے ہی ڈاکٹر حیا کا چیک اپ کر کے گئے تھے اس کے ٹانکے بھی ٹھیک تھے شاہ زر کبھی کبھار کچھ چھوٹے سے مختصر جملے ادا کر دیتا مگر یہی نارمل لہجہ حیا کو تیر کی مانند لگتا
وہ کیوں اپنی نفرت چھپائے ہوئے ہے مگر حیا نے لب سی لیے تھے اس کی نیلی آنکھیں ویسے ہی تھی جس پر حیا مرتی تھی وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کا شاہ زر کے ساتھ موازنہ کرنے لگی
اس وقت اس کے ہاتھ میں اس کے ولیمے کی اور حورعین کی رخصتی کی تصویر تھی جس میں وہ چاروں کھڑے تھے حورعین اور شانزل چاند اور سورج کے مانند لگ رہے تھے ان دونوں کے بازوں میں شاہ زر اور حیا تھے شاہ زر بھی بلیو ٹکسیڈو میں اپنی وجاہت کے ساتھ جلوہ افروز تھا اس کے بعد وہ خود تھی رائل بلیو ساڑھی میں، مگر شاہ زر کے آگے تو وہ کچھ بھی نہیں تھی وہ تینوں ساتھ کھڑے کتنے خوبصورت لگ رہے تھے
اور وہ ؟
ایک دھبہ ہی تو لگ رہی تھی ان کے درمیان ۔۔۔۔
وہ سب خاص تھے اور وہ بس عام سی لڑکی ،
وہ کہاں شاہ زر کے ساتھ جچ رہی تھی
شاہ زر نے یقیناٌ حورعین کی وجہ سے ہی شادی کے لیے ہاں کہی ہوگی
اور وہ اب بھی صرف حورعین کی وجہ سے خاموش ہے
وہ شاہ زر سے محبت کرتی تھی، بے پناہ محبت۔۔۔۔۔
مگر اسکی خوشیوں میں رکاوٹ بن رہی تھی۔
اس میں ہے ہی کیا جو شاہ زر اسے معاف کردے
اب ویسے بھی معافی کی گنجائش بچی ہی کہاں تھی
سزا تو سنا دی گئی تھی دوسری شادی تو وہ کر چکا تھا بس سولی پر لٹکانا باقی تھا یعنی طلاق باقی تھا یا اللہ۔۔۔۔ طلاق۔۔۔۔۔ حیا کو لگا اس کی سانسیں پھر اٹک رہی ہے
اور ایک بار پھر حیا کی چیخیں شاہ وِلا میں گونجی تھی
.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ اب گھر آگئی تھی
انہوں نے جب نام رکھنا چاہا تو ہانیہ بڑی بری طرح گھبرا گئی
“آپی پلیز ، چیاؤں ، میاؤں، پیاؤں نام مت رکھئے گا”
سبھی کے ذہن میں وہ واقعہ گھوم گیا جب یہ جملہ حیا نے کہا تھا کتنا فرق تھا اس وقت اور ابھی کی
حیا میں
” تم لوگ ہی رکھ لو مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا “
حیا ہمیشہ کی طرح سائڈ میں ہوگی
“عانیہ نام کیسا رہے گا؟ حورین نے کہا
” نا بھائی پھر یہ بھی ہانیہ جیسی ہوگی”
اشعر کہاں سے چپ رہ سکتا تھا ہانیہ نے اسے گھورا
“کیوں ؟ مجھ میں کیا خرابی ہے”
” کوئی ایک ہو تو بتاؤں، ویسے بھی میری بیٹی تو پرنسس ہے اچھا سا نام رکھو”
اشعر تو تھا ہی شرارتی مگر اب ہانیہ حساس ہو گئی تھی وہ فوراً رونے لگی
” مجھے پتا تھا میں تمہیں اچھی نہیں لگتی دل بھر گیا ہے تمہارا، رکھو کوئی اچھا سا نام میں جا رہی ہوں “
“ارے ۔۔۔۔” اشعر نے اسکی کلائی تھامی
صدیوں سے تجھے تکتے ہوئے سوچ رہا ہوں
جی تیرے خدوخال سے بھر کیوں نہیں جاتا
اشعر نے بڑے ترنگ میں شعر پڑھا اور ہانیہ سب کے سامنے پوری گلابی ہوئی جھینب مٹانے کے لئے بولی
” سوری بولو”
” سوری”
” ایسے نہیں کان پکڑ کر بولو”
اشعر نے ہانیہ کے کان پکڑے اور کہا
“سوری”
ہانیہ نے گھورا
” سدھرنا مت ہٹو پیچھے”
” تم بھی کیا یاد رکھو گی چلو عانیہ نام رکھ لیتے ہیں”
کہہ کر اشعر رکا نہیں کیونکہ ہانیہ کے تیور پھر بگڑے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب حیا کا زیادہ وقت عانیہ کے ساتھ گزرتا وہ شاید مگن ہو گئی تھی حورعین اب بھی حیا کے پاس ہی ہوتی
حیا کے دوروں میں کچھ کچھ حد تک کمی آ گئی تھی یعنی اب دورے روز نہیں ہفتے میں ایک بار پڑتے تھے وہ مصروف تھی ذہن بٹا ہوا تھا
حورعین پوری کوشش کرتی کہ اسے کچھ سوچنے کے لیے اکیلا نہ چھوڑے وہ مسلسل حیا کے ساتھ لگی ہوتی اس کی دوائیاں کپڑے کھانے ہر چیز کا دھیان رکھتی
سب سے بڑی مصروفیت جو حیا کی زندگی میں آئی تھی وہ عانیہ تھی
آج عانیہ کو دنیا میں آئے چالیس دن ہو گئے تھے
آج ہانیہ اور اشعر کی واپسی تھی
” اگر جاب کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں کبھی نہ جاتا حور”
” تم بے فکر ہو کر جاؤ اشعر تم کب تک اس کے ساتھ رہو گے میں ہوں حیا کے پاس “
“پھر بھی میرا من نہیں مان رہا میں اور ہانیہ چکر لگاتے رہیں گے”
اس طرح اشعر ہانیہ، عانیہ کے ساتھ چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کو دورے تو کم پڑنے لگے تھے دوائیاں بھی اس کی صحت پر اثرات دکھا رہی تھی مگر اس کی ذہنی حالت میں کوئی سدھار نہیں تھا کیوں کہ سائیکاٹریسٹ کے ساتھ ہونے والے سیشن میں وہ منہ پر تالا لگائے بیٹھی ہوتی
سائیکاٹرسٹ بول بول کر پوچھ پوچھ کر تھک جاتے مگر حیا اپنا لب نہیں کھولتی
سائیکائٹرسٹ چلے گئے کئی ڈاکٹر سے مشورے کیے گئے مگر حیا اپنی جگہ سے جوں کی توں نہ ہوئی وہ ان کے سامنے اس طرح بیٹھی ہوتیں کہ مجبورا بیٹھی ہو کب ان کا سیشن ختم ہوا اور کب اٹھ کر جائے
جب پاکستان کے سائیکائٹرسٹ سے نہ ہوا تو حورعین نے غیر ملکی سائیکائٹرسٹ کو بھی بلوایا مگر حیا تو کسی کے ہاتھ ہی نہ آتی
کئی دنوں تک یہی حال رہا اس کی ذہنی حالت میں کوئی فرق نہ آیا حورین تو ہمیشہ اس کی رپورٹ دیکھ کر جھنجھلا جاتی
سارے سائیکائٹرسٹ کو فارغ کر دیا
مجھے ہی اس سے بات کرنی ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت شاہ زر اور شانزل بھی آفس سے آگئے تھے
کھانے کی میز پر بیٹھا شانزل کچھ اکھڑا اکھڑا تھا
“کیا بات ہے تمہارے منہ پر بارہ کیوں بجے ہیں”
شاہ زر نے پوچھا
“کیا فرق پڑتا ہے بارہ بجے کے تیرہ بجے”
شانزل نے سر جھٹکا
” کیوں نہیں پڑتا تم اکلوتے بہنوئی ہو میرے”
شانزل مسکرایا
” تو ذرا اکلوتے بہنوئی کا خیال کرو، اپنی بہن پر دو مہینے سے قبضہ جمائے بیٹھے ہو، میں کہہ دیتا ہوں روز صبح اٹھ کر مجھے تمہاری شکل دیکھنی پڑتی ہے نیند میں مجھ سے کچھ ہوگیا تو مجھے نہ کہنا”
حورین تو پہلے سٹپٹائی پھر اسے غصے نے آ گھیرا ۔
اسی نے شانزل سے کہا تھا کہ وہ شاہ زر سے بات کرے کہ وہ حیا کے کمرے میں شفٹ ہو جائے مگر شانزل نے بات کو الگ ہی رنگ میں پیش کیا تھا جس سے حورعین کا دل چاہا سالن کا ڈونگا شانزل کے سر پر انڈیل دے
حیا کے چہرے پر بھی ایک بھولی بسری مسکراہٹ آ گئی حیا کی مسکراہٹ دیکھ کے حورعین کا غصہ چٹکیوں میں غائب ہوا
” ہاہاہا۔۔۔ یعنی میری عزت خطرے میں ہے، نہ بھائی میں یہ رسک نہیں لے سکتا، صنم تم اپنے شوہر کے کمرے میں شفٹ ہو جاؤ”
حورعین نے حیا کو دیکھا وہ مسکرا رہی تھی اسے اس وقت صرف حیا کے ری ایکشن کی پرواہ تھی نہ جانے وہ کیسے ری ایکٹ کرے
” جی “
حورعین صرف اتنا ہی کہہ سکی اور کھانے کی میز پر بیٹھ گئی
شانزل نے اس کے کان میں سرگوشی کی
“شکریہ مت کہنا وہ میں اپنے طریقے سے وصول کروں گا “
حورعین نے پٹ سے شاہ زر حیا کی طرف دیکھا دونوں ہی کھانے میں مگن تھے شکر ہے کسی نے سنا نہیں
” آپ انتہائی بے شرم ہے”
حورعین نے چبا چبا کر جملہ ادا کیا
جب کھانا ختم ہوا تو شاہ زر نے کہا
“صنم، کھانے کے بعد میرا سامان اور ایک کپ کافی میرے کمرے میں پہنچا دینا اور تم اپنے سامان کے ساتھ اپنے شوہر کے کمرے میں شفٹ ہو جانا”
” جی “
حیا کوئی ری ایکشن تو نہیں دیا مگر نوالہ منہ مین ڈالتے ہوئے اس کے ہاتھ لمحہ بھر رکا تھا حیا نے دیکھا شاہ زر اپنے کمرے میں یعنی جس میں حیا رہ رہی تھی اس میں چلا گیا
شانزل نے حورین کو اشارہ کیا کہ وہ حیا کو سنبھالے اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا
حورعین نے ٹیبل وغیرہ سمیٹ رہی تھی
تب تک حیا ہال میں جا بیٹھی
حورین سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کے پاس گئی اس وقت وہ حیا کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی
“کیا سوچ رہی ہو”
حور نے پوچھا
” کچھ نہیں”
حورین نے اس کے ہاتھ تھام لئے
“کیا تم مجھے کبھی معاف نہیں کروں گی؟”
حور نے پوچھا تو حیا نے نا سمجھی سے دیکھا
” تم نے کوئی غلطی نہیں کی ہے اور ایسا کیوں کہہ رہی ہو “
“مجھے معاف کردو حیا “
کہتے ہوئے حورعین نے اپنی پیشانی حیا کے تھامے ہوئے ہاتھ پر رکھ دی
حیا اپنے ہاتھ پر حورعین کے آنسو محسوس کر سکتی تھی یہ لمس اسے تڑپا گیا تھا
“رو مت حور کیا ہوا ہے ؟” وہ خود بھی رونے لگی
“مجھے اب خوف آنے لگا ہے مکافات عمل سے،،،، مجھے معاف کر دو تمہاری یہ حالت میری وجہ سے ہے”
” ایسا کچھ نہیں ہے حور میرا یقین کرو”
حورعین نے سر اٹھا کر حیا کو دیکھا وہ بھی رو رہی تھی
“مجھے نہیں پتہ تمہارے اور شاہ کے بیچ میں کیا ہوا تھا مگر میں نے تمہارے گرنے کی فوٹیج دیکھی تھی تمھیں نہیں پتہ لیکن چھت پر کیمرہ لگا ہوا ہے،،،، نہ میں تم سے شادی کرنے کے لئے کہتی نہ ایسا کچھ ہوتا مجھے معاف کردو حیا “
حیا کی سانسیں رک گئی وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار تھی کم از کم وہ تو حورعین کو شاہ زر سے بد گمان نہیں کر سکتی تھی
“میں غلطی سے گری تھی ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔وہ ایک حادثہ تھا ویسے شاہ زر کی کوئی غلطی نہیں تھی اس میں غلطی میری تھی “
“جو بھی ہو مجھے معاف کر دو مجھے خوف آرہا ہے مکافات عمل سے۔۔۔۔۔ مجھ میں اب اور کچھ بھی کھونے کی ہمت نہیں ہے، تمہاری زندگی کے رنگ چھیننے کی بہت بڑی قیمت چکا رہی ہوں لیکن اب نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
حیا دہل گئی
“کیا ہوا ہے حور مجھے بتاؤ، اپنی حیا کو بتاؤ”
وہ حورعین کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیے بہت لجاجت سے پوچھ رہی تھی حورعین حیا کا سہارا پا کر بکھر گئی
” م۔۔۔مکافات عمل شروع ہو چکا ہے حیا میں۔۔۔۔میں آٹھ کی بجائے پانچ مہینے میں ہی واپس آگئی پتہ ہے کیوں؟ کیوں کہ۔۔۔۔ کیوں کہ میں پریگنیٹ تھی میں یہ خبر تمہیں دینا چاہتی تھی لیکن جب میں یہاں آئی تو میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی، عذیر حیات بھی میری وجہ سے ہی آیا تھا، پھر تمہاری حالت بھی میری وجہ سے ہے،،، یقین جانو جب تمہیں پہلی بار بدورا پڑا میرا دل غم سے پھٹ رہا تھا پھر میں نے فریدہ سے سب پوچھا ، میں نے فوٹیج دیکھی وہ رات مجھ پر بہت بھاری گزری تھی حیا،،،، بہت بھاری۔۔۔۔میرا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگیا مکافاتِ عمل تو اسی رات سے شروع ہو گیا تھا میں نے تمہاری زندگی اجاڑ دی تو خدا نے میری گود اجاڑ دی حیا۔۔۔۔۔۔۔خدا نے میری اولاد چھین لی۔۔۔حیا۔۔۔۔۔”
اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
حیا مانو کانپنے لگی اس نے حورعین کو گلے لگایا حورعین کی زندگی میں اتنا بڑا سانحہ گزر گیا اور وہ اس کے ساتھ نہیں تھی نہ جانے حور نے کیسے برداشت کیا ہوگا اتنا بڑا غم
” میرا بچہ حیا۔۔۔۔ میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔۔”
“یا اللہ ۔۔۔۔۔ حور تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں”
” کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی معافی مانگنے کی ،ان دو مہینوں میں، میں بہت تھک گئی ہوں مجھے میری حیا چاہیے “
” تمہاری قسم حور ان سب میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے، نہ میں نے کبھی تمہیں ان سب چیزوں کا لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے نہ ہی میں ایسا کر سکتی ہوں”
” تو لوٹ آؤ حیا۔۔۔ زندگی کی طرف لوٹ آؤ مجھے اس ندامت کے احساس سے نکال لو
“حور، میں بالکل ٹھیک ہوں تم۔۔۔۔ تم رونا بند کرو کچھ نہیں ہوا، جو ہو گیا سو ہو گیا خدا بہت رحیم ہے وہ تمہاری گود خالی نہیں رکھے گا تم اپنا دل چھوٹا مت کرو میں بالکل ویسی ہی ہوں”
۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا بھاری قدموں سے کمرے میں داخل ہوئی
حورعین کا غم اس کا دل چیرے دے رہا تھا لیکن ابھی ایک آزمائش اور باقی تھی ان دونوں مہینوں میں وہ کافی حد تک شاہ زر کا سامنا کرنے سے بچ جاتی تھی
مگر ایک کمرے میں ایسا کرنا بہت مشکل تھا
شاہ زر کمرے میں نہیں تھا شاید واش روم میں تھا
حیا فورا کمفرٹر منہ تک اوڑھ کر لیٹ گئی
پانچ منٹ بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی وہ بخوبی شاہ زر کے قدموں کی آہٹ سن سکتی تھی
“حیا”
شاہ زر نے پکارا
حیا ویسے ہی لیٹی رہی
ایک وقت تھا جب وہ پکارتا تو حیا کو اسکا نام دنیا کا سب سے خوبصورت نام لگتا
” مجھے بات کرنی ہے حیا”