Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
شانزل گاڑی ڈرائیو کر رہا تھاحورعین خود کو ہواؤں میں محسوس کر رہی تھی
“حور آپ اپنا سامان ہمارے روم میں شفٹ کر لیجئے گا”
حورعین نے چونک کر شانزل کو دیکھا ابھی تو اسے فیصلے کا اختیار دیا تھا
“ایسے مت دیکھیں مجھے، آپ کے ہینڈسم شوہر کو نظر لگ جائے گی میں تو اس لئے کہہ رہا تھا کیونکہ آپ کو پتہ تو ہے آج ہانیہ کی رخصتی ہے، اور اشعر کے پاس رہنے کا کوئی انتظام نہیں ہے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فلیٹ شیئر کر رہا تھا مگر اب ہانیہ کی ذمہ داری اس پر ہے، کل ہی یہ مسئلہ اشعر نے بتایا تو میں نے شانزل وِلا کا نیچے والا حصہ انہیں دیا ہے، سب اپنی جگہ پر ٹھیک مگر میں ہم دونوں کے رشتے کا تماشا نہیں لگوانا چاہتا۔ جس طرح آج تک آپ نے پردہ رکھا ہے ویسے ہی تھوڑے دنوں کی بات ہے اور میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں دونوں شام تک پہنچ جائیں گے”
شانزل نے رسان سے سمجھایا
“جی”
حورعین شانزل کی وضاحت پر مطمئن ہو گئی
” اور ایک بات آج شام پارٹی ہے ہمارے ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ پروجیکٹ کرنے کی خوشی میں”
“آج؟”
” جی، اور آپ کے پہننے کے لئے میں نے ڈریس لیا ہے ڈریس اور ایکسیسریز ہمارے وارڈروب میں موجود ہے”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارٹی کی تیاریاں عروج پر تھی اور حورین پھرکی بنی یہاں سے وہاں گھوم رہی تھی سعیدہ بوا بھی اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی کہ وہ اتنے استحقاق سے سب کو ہدایت دے رہی تھی۔
شانزل اپنے فون پر مصروف تھا تب حورعین اسکے پاس آئی۔
“شان آپ ذرا سرخ گلابوں کا آرڈر دے دیجئے “
شانزل نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا پھر پوچھا
“کیوں؟”
“ارے! کمرہ سجوانا ہے نا”
“اب کمرہ کیوں سجوانا ہے؟”
“کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ آج گولڈن نائٹ ہے تو کمرہ سجوانا ہے نا”
شانزل آنکھیں پھاڑے حورعین کو دیکھ رہا تھا
” حور آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
” مجھے کیا ہونا ہے؟”
” آپ۔۔۔۔۔۔ مطلب آپ حورعین کمرہ سجانے کی بات کر رہی ہو، وہ بھی ہماری گولڈن نائٹ کے لیے”
شانزل آنکھوں میں حیرت اور لبوں پر مسکراہٹ لیے پوچھ رہا تھا
لفظ “ہماری گولڈن نائٹ” پر حورعین کا چہرہ پل میں گلِ گلنار ہوا۔
“میں۔۔۔۔ میں۔۔۔میں نے اشعر اور ہانیہ کے کمرے کی بات کر رہی ہوں، آپ تو کبھی سوچتے ہیں “
کہہ کر وہاں سے چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشعر، ہانیہ اور حیا آگئے تھے تیاریاں بھی پوری ہو گئی تھی جب حورین تیار ہو کر نیچے آئی تو شانزل کی نظریں پلٹنا بھول گئیں۔
وہ ریڈ ساڑھی، ڈھیلے اسٹائلش جوڑے اور ریڈ ہی جویلری میں شانزل ابراہیم کی دل کی دنیا کو تہہ و بالا کر گئی پارٹی میں شانزل کی نظر حورین پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی اور پارٹی پارٹی کا موضوع کل ہونے والا اظہار ہی تھا کیونکہ اس کا اظہار آج کے اخبار ، ٹی وی کی خبروں کی زینت تھا۔ سارے شہر کی زبان پر یہی موضوع تھا اور سب جانتے تھے اس قدر شاندار اظہار صرف شانزل ابراہیم ہی کر سکتا ہھ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین اپنے سارے کام سمیٹ کر اور اشعر ہانیہ کو کمرے میں بھیج کر جب کمرے میں آئی شانزل سو چکا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرائی پھر اپنا ہمیشہ والا کام انجام دیا اور ایک کونے میں اپنی بکس لے کر پڑھنے بیٹھ گئی کیونکہ کل اس کا پہلا پیپر تھا۔ وہ شانزل کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لئے ایسے ہی پڑھنے بیٹھ گئی۔
جب شانزل کے آنکھ کھلی تو اس نے اپنے پہلو میں دیکھا بیڈ خالی تھا۔ جب اس کی نظر نیچے پڑی تو محترمہ بکس کے درمیان خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
شانزل نے ساری بکس بن کیں پھر حورعین کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لایا وہ کسی معصوم بچے کی طرح اس کی آغوش میں سمٹ گئی۔ اس کی اس حرکت پر شانزل کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ شانزل کے نظروں کی تپش ہی تھی کہ حورعین کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے شانزل کو اپنے اوپر جھکے دیکھا تو اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے شانزل اس کے تاثرات سے محظوظ ہو رہا تھا۔
“کیا ضرورت تھی اتنا سب لاد کر سونے کی؟ آرام سے سوتی آپ”
یہ کہتے ہوئے شانزل نے اس کے کانوں کو جھمکوں کے بوجھ سے آزاد کیا پھر حورعین کے بال کھول دیے حورعین نے تو سانس تک روکی ہوئی تھی شانزل نے مسکرا کر اس کے اوپر کمفرٹر ڈالا اور کہا
“سو جائیں مسز “
اور خود بھی کروٹ لے کر سوتا بنا۔
حورعین تو اس کی قربت کی وجہ سے شور مچاتی دھڑکنوں کو خاموش کروانے لگی جو چینخ چینخ کر شانزل کا نام لے رہی تھی
“رہنے دیں دھڑکنوں کو ایسے ہی، مجھے اچھا لگتا ہے جب یہ میرے نام پر دھڑکتی ہے”
حورعین نے جلدی سے کفرٹر اپنے منہ پر لیا
“جِن ہیں یہ تو”
اس نے سوچا
“اور اس جن کو آپ نے قابو کیا ہوا ہے”
شانزل کی آواز گونجی تو اب کی بار حورعین نے خود کو کچھ بھی سوچنے سے باز رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن بہت ہی خوشگوار گزر رہے تھے حورعین اپنے پیپر سے فارغ ہو گئی تھی کل ایگریمنٹ ختم ہونے کا دن تھا یعنی کل صبح حورعین اپنا فیصلہ سنانے والی تھی۔
شانزل انہی سوچوں کہ بھنور میں الجھا ہوا تھا کہ حورعین کی آواز آئی
“شان آپ کی کافی “
شانزل پلٹ کر مسکرایا اور مگ بھی تھام لیا۔
ٹیرس کی ریلنگ کے سامنے وہ بھی کھڑی ہو گئی اور سر اٹھا کر آسمان میں چمکتے چاند کو دیکھنے لگی “شان کل فیصلے کا دن ہے”
شانزل کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ پوچھ رہی ہے یا بتا رہی ہے شانزل کا دل وسوسوں کا شکار ہونے لگا
” کیا آپ اب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں”
” حقیقت آنکھوں میں نظر آتی ہے آپ دیکھ لیں”
“ہمم”
پھر حورعین نےایک پیپر اور پین شانزل کے آگے کیا “اس پر دستخط کردیں “
شانزل نے دیکھا وہ کورا کاغذ تھا کچھ بھی نہیں لکھا تھا شانزل لمحہ بھی سوچے بغیر کاغذ پر دستخط کرکے اسے تھما دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین محو استراحت تھی اور شانزل بیٹھے اسے دیکھ رہا تھا
“کتنے آرام سے میری نیند اڑا کر سو رہی ہیں محترمہ؟ جب مجھ سے پوچھا تھا کہ کچھ کہنا ہے تو مجھے کچھ تو کہنا چاہیے تھا، ایویں ڈائیلاگ مار دیا اگر حور کو میری آنکھومیں نظر نہیں آیا تو؟ یا اللہ تو میں ہی مدد فرما تو نے میرے دل میں محبت ڈالی ہے تو اسے میرا نصیب بھی بنا دے”
وہ حورعین کو دیکھتے دیکھتے سو گیا
صبح اٹھا تو حورعین کمرے میں نہیں تھی وہ نیچے آیا تو وہاں بھی نہیں تھی۔ اب وہ حقیقت میں پریشان ہو گیا اجمل پھوپھا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ بی بی تو صبح روشنی ہوتے ہی سامان لے کر چلی گئیں۔
شانزل کو لگا اب وہ سانس نہیں لے پائے گا تبھی موبائل بجا، اس نے بغیر دیکھے کال رسیو کی سامنے سے چہکتی ہوئی آواز آئی
“السلام علیکم ہینڈسم ہسبنڈ”
شانزل خاموش تھا جیسے کسی نے اس کی آواز چھین لی ہو اس کا دل تھا کے گہرائیوں میں ڈوبا ہی جا رہا تھا۔
“پہلے تو اپنی شکل صحیح کریں پھر اپنے دل سے سارے الٹے سیدھے خیال نکال دیں میں نے آپ کو فیصلہ سنانے کے لیے فون کیا ہے”
“کچھ مت کہو حور”
” نہیں میں تو کہوں گی اور چیخ چیخ کر کہوں گی کہ مجھے آپ کی محبت کو قبول ہے”
اور شانزل کو لگا جیسے کسی نے اس کے اندر روح پھونک دی ہو
” میری محبت نے کچھ نخریلا نہیں کر دیا آپ کو، اتنا ڈرا دیا مجھے”
حورعین ککھلا کر ہنسی
“رہنے دیں کتنا ڈرتے ہیں آپ مجھ سے مجھے پتا ہے”
“کہاں ہیں آپ؟ جلدی سے آجائیں”
” نہیں بابا، میں بیس دن سے پہلے نہیں آنے والی”
” کیوں؟ اور میں کیا کروں گا اتنے دن؟”
“ہے کوئی وجہ، اور اتنے دن آپ ولیمے کی تیاری کرنا “
“وہ تو میں کر ہی لوں گا، لیکن میں بیس دن کیسے رہوں گا؟”
“جیسے رہتے ہیں”
” ٹھیک ہے 15 دن لیکن اس سے زیادہ نہیں”
“چلیں ٹھیک ہے، آپ بھی کیا یاد رکھیں گے کہ کس سے پالا پڑا تھا “
حورعین نے اترا کر کہا
” واہ! یاد تو آپ رکھو گی جب آپ واپس آؤں گی تو میں آپ کو اپنے حصار سے باہر جانے ہی نہیں دوں گا”
حورین تو خاموش ہی ہوگئی
“ویسے اس وقت آپ کی شکل دیکھنے والی ہوگی”
” شان ایک بات اور”
حورعین نے فورا موضوع بدل دیا
“ہاں، ہاں، کر لیں موضوع تبدیل، مگر میں اپنے نام کا ایک ہوں آپ بس یہاں آئیں پھر ہم ہر موضوع پر تفصیلی گفتگو کریں گے”
شانزل بہت موڈ میں تھا
” شان آپ میری بات سنیں نا “
تو سنائیں نا”
” دیکھیں ان دنوں میں ہم بات بھی نہیں کریں گے”
اور یہ آئے تھے شانزل کی پیشانی پر بل۔
“اب یہ کیا بات ہوئی”
“مان جائیں نا شان، اتنا اچھا فیصلہ سنایا ہے میں نے، اور مجھے پتہ ہے آپ میری بات نہیں ٹالیں گے”
“یہ تمہیں میری محبت نے کچھ مغرور نہیں کر دیا”
“اب اتنا تو بنتا ہے، چلیں فون رکھ رہی ہوں اپنا خیال رکھیے گا”
“ہمم، I love you hoor”
دوسری جانب ہنوز خاموشی تھی۔
“جواب تو دو ظالم بیوی”
“فی امان اللہ “
کہہ کر حورعین نے فون بند کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل پوری طرح سے اپنے ولیمے کی تیاری میں منہمک تھا۔
خالہ خالو کو بھی فون کر کے اطلاع دے دی تھی۔
شانزل کے ولیمے کی تیاری ویسی ہی تھی جس طرح سے ہونی چاہئے تھی۔
دنیا بھر کے ملکوں سے سامان منگوائے جا رہے تھے۔
آج حورعین کو گئے تین دن ہو گئے تھے اور وہ اسے شدت سے یاد آرہی تھی آج ہانیہ اور اشعر اپنے ذاتی فلیٹ میں شفٹ ہو رہے تھے ان دونوں کو دیکھ کر اسے ایک قصہ یاد آگیا۔
ہانیہ اور اشعر کو آئے آج چوتھا دن تھا۔ سب ہی ناشتہ کی میز پر ناشتہ کر رہے تھے
تب حورعین نے کہا
“ہانیہ تمہاری گردن پر کیا ہوا ہے؟”
ہانیہ نے گھبرا کر گردن پر ہاتھ رکھا
“نہیں ۔۔۔۔ نہیں آپی کچھ بھی تو نہیں ہے “
اشعر فورا آٹھ گیا اور کہا
“میں آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں، خدا حافظ “
“ہانیہ کوئی آئنٹمنٹ دوں؟ زخم پر لگا لو”
حور پریشانی سے گویا ہوئی۔
“نہ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔آپی وہ کچھ نہیں ہے”
“ارے دیکھو ذرا کیسے نہیں ہے یہ نشان۔۔۔۔۔”
حورعین آگے کچھ کہتی اس سے پہلے ہی شانزل نے کہا
“حور آپ پلیز میرا موبائل کمرے سے لا دیں”
حورعین فورا وہاں سے اٹھ گئی اور ہانیہ نے موقع غنیمت جانا اور کمرے میں چلی گئی
جب حورعین نیچے آئی تو شانزل دروازے کے پاس کھڑا تھا
“یہ لیں آپ کا موبائل “
“حور اتنے پرسنل سوال سب کے سامنے نہیں پوچھتے”
“میں نے کب پرسنل سوال پوچھے”
“اچھا ٹھیک ہے اب اکیلے میں پوچھنا”
رات جب کھانے کے بعد وہ لیپ ٹاپ پر مصروف تھا تب حورعین اسکے پاس آئی
اپنی شفاف ہتھیلی شانزل کے سامنے پھیلائی شانزل کا من کیا وہ اپنا دل نکال کر اسکی ہتھیلی پر رکھ دے
“مجھے love bite دیں”
حورعین کی بات پر شانزل محاورتاً نہیں حقیقتاً اپنی جگہ سے اچھلا
“کیا چاہیے آپ کو؟”
اس نے یقین دہانی چاہی۔
اوہو۔۔۔۔love bite چاہیے، دیں بھی جلدی سے”
شانزل کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی۔
“اور آپ کو love bite کیوں چاہیے؟”
“میں نے ہانیہ سے اس نشان کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا میں آپ سے love bite مانگوں”
وہ معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے بتا رہی تھی۔
مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے love bite دینے میں، مگر آپ نیٹ پر پہلے چیک کر لیں کہ love bite ہوتا کیا ہے”
شانزل نے موبائل اس کی طرف بڑھایا۔
“لیں؟ مجھے پہلے ہی چیک کر لینا چاہیے تھا، صبح سے الجھی ہوئی گھوم رہی ہوں”
جیسے ہی حورعین نے سرچ کیا اسکے چہرے کے رنگ بدلے اور فورا سے پہلے موبائل نیچے رکھا اور اپنا سر پیٹ لیا
“ہائے اللہ! میں نے صبح سب کے سامنے ہانیہ سے پوچھا اس لیے اشعر فورا چلا گیا اور ہانیہ بھی کترا رہی تھی یا خدا۔۔۔۔”
پھر حورعین نے شانزل کو دیکھا
اللہ اللہ۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں آپ سے love…. لاحول ولاقوۃ۔۔۔۔۔”
کہہ کر بھاگنے کے لیے اٹھی تو شانزل نے سرعت سے اسے بٹھایا۔
وہ پوری سرخ ہو رہی تھی رخسار، گردن یہاں تک کہ کان کی لو بھی سرخ پڑ رہی تھی۔
“ہاں تو مسز آپ نے پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا ہے”
۔”شان مجھے لگا کوئی چاکلیٹ وغیرہ ہوگی مجھے نہیں پتہ تھا میرا مذاق تو مت اڑائیں”
اسکی معصومیت پر شانزل کا دل ڈوب کر ابھرا۔
“رکیں ذرا ہانیہ کی بچی کو بتا کر آتی ہوں”
شانزل سوچوں سے باہر نکلا تو اسے حورعین کی کمی شدت سے محسوس ہوئی
“اف۔۔۔ کب ختم ہو گے یہ دن”
حورعین نے تو حیا سے بھی رابطہ نہیں رکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
آخرکار آج وہ دن آ ہی گیا تھا جس کا انتظار تھا
حورعین پور پور سجی شہر کے سب سے بڑے میرج ہال میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ میں شاید دنیا کی پہلی دلہن ہوں جو اپنے دولہے کا انتظار کر رہی ہوں
پھر فون نکال کر حیا کو ملایا۔
“کدھر ہو نالائق”
“آرہی ہوں بابا راستے میں ہوں”
“جلدی پہنچو “
وہ ڈیپ ریڈ شرارے میں جس پر سونے کے دھاگوں کا نفیس کام کیا ہوا تھا جنت کی پری لگ رہی تھی۔
اسکی ہر چیز اپنی قیمت کا منہ بولتا ثبوت تھی ایسا ہوتا بھی کیوں نہ آخر شانزل ابراہیم کی پسند تھی۔
تبھی اسے شانزل نظر آیا وہ گیٹ سے داخل ہورہا تھا۔
جیسے اس کی نظر شانزل کے چہرے پر پڑی اس کہ دھڑکن تھم گئی ۔
اسے لگا کسی نے اسے دھکّا دے کر ساڑھے تین مہینے پیچھے دھکیل دیا ہو۔ اس کے چہرے پر وہی تاثرات تھے جو نکاح کی رات تھے۔ آنکھیں یکلخت آنسوؤں سے بھری اس نے آسمان کی طرف دیکھا
“نہیں یا خدا۔۔۔۔اب نہیں “
تب تک شانزل حورعین تک پہنچ چکا تھا اس نے حورعین کا بازو اپنی گرفت میں لیا حورعین کو اسکی انگلیاں بازو میں پیوست ہوتی محسوس ہوئی۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے دھوکہ دینے کی صنم”
شانزل صنم پر زور دیتے ہوئے پھنکارا اور حورعین کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر رخسار پر گرے۔
“تم نے کیا سوچا مجھے بے وقوف بنا لو گی؟ تمہاری اصلیت کھل گئی ہے، تمہیں ذرا خیال نہیں آیا کہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں، اب تم مجھے صفائی دو اس سے پہلے مجھے بتاؤ تم پندرہ دن کسی کے ساتھ تھیں؟”
شانزل کا آخری جملہ حورعین کو کوڑے کی مانند لگا وہ پتھر کی ہو گئی پھر ایک جھٹکے سے خود کو چھڑایا اور اپنے آنسو اس طرح صاف کیے جیسے اب کبھی نہ رونے کا ارادہ ہو
پھر حورعین نے اسی جارحانہ انداز میں شانزل کی کلائی تھامی اور ساکت کھڑے مہمانوں کے جھرمٹ کو چیرتے ہوئے گاڑی تک آئی ۔ آج نکاح والی رات پھر دوہرائی جا رہی تھی بس دونوں کی جگہ تبدیل ہو گئی تھی۔ حورعین نے دروازہ کھول کر شانزل کو بٹھایا اور خودڈرائیونگ سیٹ سنبھالی
اب کیا ہونے والا تھا؟ اچانک شانزل کو کیا ہوا؟ اور یہ صنم کون
