125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

شانزل نماز پڑھ کر واپس سویا تھا اسی لیے وہ اسکے سامنے نہیں آئی۔
صبح سات بجے حیا شانزل وِلا کے باہر سامان لے کر کھڑی تھی۔ اجمل پھوپھا نے حورین کو آ کر اطلاع دی تو وہ فوراََ باہر آئی سامان لیا حیا پہلے حورعین کے گلے لگی۔
حورین کو لگا کہ وہ بس رو دے لیکن خود پر ضبط کیا اور کہا
“میں تمہیں اندر نہیں بلا سکتی شاید پسند نہ آئے ، لیکن میں تمہارے ساتھ ایسے نہیں چل سکتی پہلے میں کپڑے بدلوں گی کیا تم انتظار کر لو گی؟”
حورین نے تھوڑا جھک کر کہا
“حور میں تمہارا انتظار آخری سانس تک کر سکتی ہوں “
وہ حیا ہی کیا جو سیدھا جواب دے۔
اس کے بات سن کر حورعین نے صرف ایک ہی لفظ کہا
“نوٹنکی”
اور پھر سامان لے کر اندر چلی گئی۔
حورعین نے جلدی سے نہا کر کپڑے بدلے باہر آکر کیچن سمیٹا جلدی جلدی ٹیبل لگائی شانزل ٹھیک آٹھ بجے ناشتہ کرتا تھا یہ بات اسے سعیدہ بوا نے بتائی تھی۔ وہ سعیدہ بوا کو کہتے ہوئے باہر آگئی جہاں حیا گیٹ کے باہر کھڑی تھی۔
ساڑھے سات ہو رہے تھے آٹھ بجے کا پہلا لیکچر تھا رکشہ لیا اور دونوں سوار ہوگئے۔
“اف حور اب جلدی جلدی بتاؤ”
حورعین نے اسے بتایا کہ پارٹی میں کچھ تصاویر کی وجہ سے نکاح ہوا تو مانو حیا کی آنکھیں باہر آ گئیں۔
“حور، کہیں یہ شانزل وہی شانزل تو نہیں ہے، شانزل انڈسٹریز والا”
حیا پھر شروع ہو چکی تھی۔
” ہاں وہی ہے”
حورو نے بس اتنا کہا۔
“دیکھو تم فکر مت کرو وقت کے ساتھ تمہیں سمجھیں گے”
حیا کی بات پر حورعین نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“تم ٹھیک تو ہو وہ مجھ سے ایگریمنٹ سائن کروا چکے ہیں تین مہینے کا، پھر یہ سب ختم “
حورعین نے کہا کہ تو حیا کچھ وقت کے لئے چپ ہو گئی۔
اور پھر کہا
“تم اس وقت سب اللہ بھروسے چھوڑ دو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا”
انہی باتوں میں یونیورسٹی آگئی اور دونوں اندر چلی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین جب شہر آئیں تھی تب سے وہ اور حیا روم میٹ تھی حیا دوسرے شہر میں رہتی تھی۔ حورین کافی خاموش طبیعت اور اپنے آپ میں مگن رہنے والی جبکہ حیا شوخ و چنچل مزاج بقول حورعین کے ‘چلتا پھرتا ریڈیو’ تھی۔
دونوں کی کافی گہری دوستی تھی ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ حورعین نے حیا کو اپنی پرسنل لائف کے بارے میں بتایا ہو ورنہ وہ صرف حورین کو اتنا ہی جانتی تھی جتنا باقی لوگ۔ حورعین نے اپنے گرد ایک دیوار کھڑی کر رکھی تھی جس میں وہ کسی کو آنے نہیں دیتی تھی لیکن ان سب کے باوجود حیا اس کے ساتھ مخلص تھی حورعین خود جاب کر کے فیس وغیرہ بھرتی تھی کئی مرتبہ حیا نے اس کی مدد کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی خودداری بیچ میں آگئی اور کبھی کبھی حیا اس بات پر چڑ بھی جاتی تھی بقول حیا کے “وہ دوست ہی کیا جو چھین کر نہ کھائے’
حورعین بھی حیا کو اتنا ہی چاہتی تھی بس جتاتی نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اٹھ کر شانزل نیچے آیا ناشتہ کیا اور حسب معمول باہر نکل گیا تب اجمل پھوپھا نے اسے بتایا کہ صبح شاید بی بی کی دوست آئی تھی وہ اس کے ساتھ چلی گئی شانزل نے ان کی بات سنی ان سنی کر تا گاڑی گیٹ سے باہر نکال لے گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورعین نے یونیورسٹی جاتے ہیں پہلے ناشتہ کیا پھر لیکچر لئے اور ہاف ڈے سے آفس چلی گئی۔
عصر تک وہ گھر آگئی ۔ گھر آ کر نماز ادا کی اور رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگی حورعین نے شانزل کے آنے سے پہلے ہی کھانا پکا کر تیار کرلیا۔
وہ شانزل کی ہر بات پر عمل کر رہی تھی اس نے گھڑی دیکھی تو شانزل کے آنے کا وقت ہو گیا تھا وہ فورا کمرے میں چلی گئی۔
کچھ دیر میں گاڑی روکنے کی آواز آئی فوراً سمجھ گئی کہ وہ آ گیا ہے۔ پانچ منٹ بعد وہ کمرے سے نکلی شانزل شاور لینے کے بعد ڈنر کرتا تھا۔
وہ پارن ٹیبل لگانے لگی ٹیبل لگاتے ہیں وہ کمرے میں چلی گئی۔
شانزل کھانا کھانے کے بعد سعیدہ بوا کو کافی کمرے میں دے جانے کا کہہ کر اٹھ کر چلا گیا
برتن سمیٹنے کے بعد حورعین نے کافی بنا کر سعیدہ بوا کے ہاتھوں شانزل کے کمرے میں بھجوائی
سارے کام نپٹا کر وہ کمرے میں آئی ایک کونے میں جا نماز بچھا کر نماز ادا کی پھر اپنی بکس لے کر پڑھنے بیٹھ گئی۔
رات تقریبا ایک بجے بکس بند کی اور شانزل کے کمرے کی طرف بڑھ گئی آج بھی وہ ایسے ہی سویا تھا شاید اس کی عادت تھی ایسے سونے کی۔
آج بھی حورین نے گھڑی نکال کر رکھی کمفرٹر اڑھایا پردے برابر کیے سائڈ لیمپ بند کیا اور اپنے کمرے میں آگئی ایک چادر کونے میں بھی بچھائی اور لیٹ گئی۔
زندگی اسی طرح معمول سے گزرنے لگی حورین صبح اٹھ کر ناشتہ کرکے حیا کے ساتھ یونیورسٹی چاہتی، ہاف ڈی سے آفس، آکر ڈنر وغیرہ بناتی حورعین نے پورے گھر کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی تھی البتہ شانزل کی نظر کے سامنے نہیں آتی تھی رات گئے کمرے میں جانا اس کا معمول تھا ۔
شانزل بھی بے نیا سا اپنی زندگی گزار رہا تھا اسے یہ ضرور پتہ تھا کہ وہ عصر تک گھر آ جاتی ہے اور وہ کسی دوست کے ساتھ یونیورسٹی جاتی ہے۔اس دوران شانزل نے حورین کو صرف ایک مرتبہ دیکھا تھا جب وہ ایک مرتبہ اتفاقاََ دوپہر کو آفس سے گھر آیا تھا تو گیٹ کے باہر ایک لڑکی کھڑی تھی وہ حورعین نہیں تھی۔ شانزل کو لگا وہ اسکی دوست ہوگی وہ سر جھٹک کر گاڑی اندر لے گیا وہ فائل لینے گھر پر آیا تھا
جب گھر میں داخل ہوا اور مطلوبہ فائل لے کر زینے اترنے لگا تو سعیدہ بوا کہا
” بیٹا کھانا کھا لو”
اب ان کے احترام میں بیٹھ گیا کھانے سے فارغ ہو کر باہر آیا گاڑی اسٹارٹ کر کے گیٹ پر آیا تو وہاں اجمل پھوپھا نہیں تھے۔ویسے ہی کھانے کی وجہ سے پانچ منٹ کی بجائے آدھا گھنٹہ اور لگا اور اب گیٹ اف وہ باہر نکل کر گیٹ کھولنے لگا۔ تب اس نے اسی لڑکی کو دیکھا وہ اب تک کھڑی تھی اتنی دھوپ میں۔
اس نے آگے بڑھ کر اس سے پوچھا
“ایکسکیوز می مس، آپ کب سے یہاں کھڑی کیا کر رہی ہیں؟ کون ہیں آپ؟”
حیا شانزل کی بات سن کر اچھل کر پلٹی
“وہ…….وہ……..م….میں”حیا اچانک شانزل کو دیکھ کر سٹپٹا گئی پھر خود کو ڈپٹا وہ کیوں ڈر رہی ہے وہ ڈرپوک نہیں ہے ‘حیا ہے’۔
پھر پورے اعتماد سے جواب دیا۔
“بھائی…….. سوری، سر میں حیا ہوں حورین کی دوست ہوں اور اس کا انتظار کر رہی ہوں”
وہ سمجھ گئی کہ یہ شانزل ابراہیم ہے اس نے اس کے فوٹو اخبار میں دیکھی تھی۔
اس نے حورعین کے خیال سے اسے بھائی کہا لیکن فوراً حورعین کے غصے کے خیال سے سر کہا ورنہ اس کے ایسے سوال پر کوئی اور ہوتا تو ہی اچھا خاصا جھاڑ دیتی۔
اتنے میں ایک رکشہ رکی جس میں سے حورعین اتری پہلے تو وہ شانزل کو دیکھ کر چونک گئی پھر فوراََ اپنی آنکھیں جھکا لی اور گھر کے اندر چلی گئیں چونکا تو شانزل بھی تھا۔ اس کے بھیگے ہوئے گال، سرخ ناک اس کے رونے کی چغلی کر رہے تھے۔
“مجھے کیا”
شانزل نے سر جھٹک کر گیٹ کھولا اور گاڑی کی طرف بڑھا اتنے میں حورین تیز قدم اٹھاتی تقریبا بھاگتے ہوئی آئی اور ایک رول کیا ہوا چارٹ حیا کی طرف بڑھایا حیا نے حورین کو گلے لگایا اور کہا
” میں سب سنبھال لوں گی، بے فکر ہوکر آفس جاؤ”
شانزل بھی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔
اب تک شانزل ، حورعین کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کر پایا تھا اب وہ پھر سے شانزل کو نظر نہیں آ رہی تھی اسی طرح ان کے نکاح کو ایک مہینہ ہو گیا۔
حورین کا معمول وہی تھا اور شانزل کا بھی لیکن یہ معمول بدلا، نکاح کے ایک مہینے بعد،۔
شانزل ناشتہ کرنے نیچے آیا۔ناشتے کے بعد سعیدہ بوا نے ایک پیپر شانزل کو دے کر کہا
“یہ صبح بی بی جاتے وقت دے کر گئی ہے”
شانزل نے وہ پیپر کھولا وہ ایک خط تھا جو نہایت نفیس تحریر اردو میں لکھا تھا۔
“اسلام علیکم
میں جانتی ہوں اس نکاح میں آپ کی رضا شامل نہیں تھی لیکن پھر بھی آپ نے ایک مہینہ مجھے اپنے گھر میں رہنے کی جگہ دی، اس لئے میں آپ کی احسان مند ہوں میں اپنے معاشی حالات کی وجہ سے ہاسٹل میں رہنے سے قاصر تھی لیکن اب میں ہوسٹل میں رہ سکتی ہوں۔ اسی لیے میں جا رہی ہوں میں جانتی ہوں میرا وجود آپ کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ اس لئے جس دن ایگریمنٹ ختم ہوگا میں آکر جہاں آپ کہیں گے دستخط کر دوں گی۔
فی امان اللہ
حورعین “
شانزل نے خط پڑھا مگر اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیسا محسوس کر رہا ہے۔
وہ اٹھا اور آفس کے لیے نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج حورین کو گئے چار دن ہونے والے تھے وہ خوامخواہ جھنجھلایا ہوا گھوم رہا تھا اسے گھر میں کوئی چیز جگہ پر نہیں مل رہی تھی۔
کھانے کافی کا ذائقہ تبدیل ہوگیا تھا چوتھے دن برداشت کے باوجود پوچھ بیٹھا
“سعیدہ بوا آپ کھانا الگ سا کیوں پکا رہی ہیں؟”
“بیٹا کھانے کا ذائقہ تمہیں اسی لئے الگ لگ رہا ہے کیونکہ کھانا اتنے دنوں سے بی بی پکاتی تھیں” شانزل چونک گیا۔پھر سر جھکا کر کھانا کھانے لگا۔
اسے لگا وہ کھانے کی تبدیلی کی وجہ سے جھنجھلایا ہوا ہے۔ عجیب سوچ ہے نہ لیکن یہ شانزل ابراہیم کی سوچ ہے ،غلط نہیں ہو سکتی کم از کم شانزل تو یہی سوچتا تھا۔
اور کیا وجہ ہو سکتی ہے وہ صرف نکاح والے دن، اس کے دوسرے دن اور درمیان میں ایک بار ہی سامنے آئی تھیں تینوں ملاقاتوں میں حورعین نے شانزل سے دو ہی لفظ کہے تھے۔ “السلام علیکم” اور “جی ٹی روڈ” اس کے علاوہ ان کی کونسی بات چیت ہوئی تھی جو وہ اسے مس کرے گا ہاں وہ اسے مس نہیں کر رہا۔
یہ سوچ کرشانزل نے خود کو دلیل پیش کی اور اسی رات میٹنگ کے لیے دبئی چلا گیا اور تیسرے دن واپس آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج حورین کو گئے ہفتہ ہونے والا تھا رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے وہ ایئرپورٹ سے خود ہی ڈرائیو کرکے گھر آیا۔ گھر کے گیٹ کے باہر پھر وہی حیا نظر آئی۔
وہ گاڑی روک کر باہر نکل آیا۔
” کیا بات ہے مس حیا؟ آپ اس وقت یہاں”
شانزل نے کہا تو وہ رو رہی تھی اور وہ بھی نہ جانے کب سے پورا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔
شانزل کو دیکھ کر اجمل پھوپھا بھاگ کر آئے۔
“بیٹا یہ بچی آٹھ بجے سے کھڑی ہے اور روئے جارہی ہے ، بس صرف تمہارے بارے میں پوچھ رہی ہے اور کچھ بول ہی نہیں رہی ہے”
ان کی بات سن کر پریشانی سےشانزل نے حیا کو دیکھا۔
“چلیں اندر چل کر بات کرتے ہیں” شانزل نے کہا تو حیا نے فورا نفی میں سر ہلایا حیا ہمت کرکے جلدی جلدی سے بولنے لگی،
“نہیں آپ بس چلیں حورعین کو لینے”
اس کی بات سن کر شانزل کو جھٹکا لگا۔
“کہاں سے لینے؟ وہ ہوسٹل میں نہیں ہیں؟”
شانزل کو لگا اس کے اندر کہیں بہت اندر کچھ ڈوبا۔
“ہاسٹل میں میرے ساتھ ہی رہتی ہے، وہ……وہ…. آفس سے ساڑھے چار بجے تک واپس آجاتی ہے لیکن آج وہ نہیں آئی تو مجھے فکر ہونے لگی، میں فون کرنے لگی تو نہیں لگا چھ بجے کے قریب اس کا فون آیا،وہ آفس میں ہے بہت….بہت پریشان لگ رہی تھی بس یہی کہہ رہی تھی کہ میں اسے وہاں سے لے جاؤں درمیان میں فون کٹ گیا۔ میں آفس گئی تو گارڈ نے مجھے اندر جانے نہیں دیا۔ میں پولیس اسٹیشن گئی تو انہوں نے بھی مدد سے انکار کر دیا۔ آپ پلیز میری مدد کریں بھائی، بس ایک بار مدد کر دیں میں……میں کسی اور سے مدد نہیں مانگ سکتی،،، پلیز”
وہ روتے ہوئے بتا رہی تھی اور شانزل بے تاثر سا اسے سنے جا رہا تھا۔