125.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

“وہ آئیں تھی آپ کے پاس اجازت لینے دراصل بارہ بجے کے قریب بیوی کو فون آیا تھا کہ حیا بی بی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے تو اسپتال جانے کے لیے اجازت چاہیے تھی، وہ آپ کے پاس آئیں تو دروازہ اسی لڑکی نے کھولا بی بی نے کہا آپ کو بلا دیں تو اس لڑکی تو غصہ آگیا اس نے….اس نے………”
وہ الفاظ ڈھونڈنے لگے
“اس نے کیا پھوپھا؟”
شانزل نے بے قراری سے پوچھا ۔
“اس نے بی بی کو تھپڑ مار دیا جس سے بی بی سیڑھیوں سے گرگئیں”
پھوپھا کی بات سن کر شانزل نے مٹھیاں بھینچ لی۔
“وہ بہت بے بس تھی تو میں ہی ان کے ساتھ حیا بی بی کے پاس چلا گیا لیکن بی بی نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی اس لیے انہوں نے مجھے بھی گھر بھیج دیا”
“دیکھئے پھوپھا میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گا لیکن فلحال آپ مجھے اسپتال کا نام بتائیں”
پھوپھا کے نام بتاتے ہی وہ اسپتال کے لیے روانہ ہوا وہ ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا جب وہ پارٹی میں جاتا تھا کچھ نہ کچھ ہو جاتا تھا پندرہ منٹ ہسپتال میں موجود تھا۔
رات کے تین بج رہے تھے اسپتال تقریبا سنسان تھا اسے کاریڈور میں ایک وجود نظر آیا جو ہچکیوں کے ساتھ رونے میں مصروف تھا وہ فورا حورعین کے پاس گیا حورعین نے ڈر کر سر اٹھایا۔
سامنے شانزل ابراہیم کو دیکھ کر اس کا خون خشک ہو گیا وہ ڈر کر کھڑی ہوئی اور قدم پیچھے کی طرف بڑھانے لگی۔
“م…م….میں جان….جان کر نہیں آ…آ…. آئی….و…وہ…. حیا کا….حیا کا…… س…سو….سوری…..وہ….وہ….اندر…. م…م….ڈر گئی…..تھی…”
وہ خوف کے مارے بے ربط جملے بول رہی تھی شانزل کو حورعین پر رحم اور خود پر بے انتہا غصہ آیا اس نے آگے بڑھ کر حورین کو شانوں سے تھاما اور کرسی پر بٹھایا۔
“Relax hoor, keep calm…. everything will be fine.”
وہ ہمیشہ خیالوں میں بھی “اس” “اسے ” کہہ کر مخاطب کرتا تھا لیکن بے اختیاری میں شانزل نے اسے حور کہہ کر پکارا کوئی اور صورتحال ہوتی تو حورعین ضرور چونکتی کیونکہ شانزل نے آج پہلی مرتبہ اسکا نام لیا تھا۔شانزل کا لہجہ انتہائی نرم تھا مگر اس کا حورعین پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ حورعین ہنوز رونے میں مصروف تھی۔
” حیا کہاں ہیں؟” اس نے آرام سے پوچھا،حورعین ابھی بھی آنکھیں پھاڑے آنکھوں میں خوف سمائے اسے دیکھ رہی تھی
” اندر ” حورین کے صرف ہونٹ ہلے آواز نہیں آئی۔
حورعین بے طرح کانپ رہی تھی رونے کے باعث سبز آنکھیں سوج گئی تھی پیشانی اور ہاتھ پر زخم لگے تھے ان سے خون نکل کر وہیں سوکھ چکا تھا۔ آج بھی وہ چادر میں اپنے وجود کو چھپائے ہوئے تھی بسکٹ کلر کی چادر پر کہیں کہیں خون کے دھبے تھے جو اس کے ہاتھ اور پیشانی سے نکلا تھا شانزل نے دیکھا وہ بنا چپل کے ہی آگئی ہے دونوں سہیلیاں ایک دوسرے کے پیچھے پاگل ہے اس کا یقین شانزل ابراہیم کو ہو گیا۔
“حور سب ٹھیک ہو جائے گا میں ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں آپ رونا بند کرو۔”
حور نے کوئی تاثر نہیں دیا۔
ڈاکٹر نے تسلی بخش جواب دیا تو شانزل نے ایک نرس سے کہا کہ ointment لے کر آئے۔
وہ واپس آیا تو حورعین نماز پڑھنے میں مشغول تھی۔ چہرہ وضو کے پانی اور آنسوؤں کے قطرے کے وجہ سے نم تھا۔ سبز آنکھوں کے گرد خمدار پلکیں پانی کی وجہ سے بھیگی ہوئی تھی۔ شانزل کے دل نے ایک بیٹ مِس کی۔ وہ نماز ختم کر کے کرسی پر بیٹھ گئی۔
نرس نے آکر اس کی پیشانی اور ہتھیلی پر مرہم لگایا۔
پھر حورعین ورد کرنے میں مشغول ہو گئی اور شانزل اسے دیکھنے میں۔
بسکٹ کلر کی چادر کے ہالے میں لپٹا ہوا چہرہ، سب سے اہم چہرے پر پاکیزگی۔
آج تک وہ اسے حیات سکندر کی بھتیجی کی طرح ٹریٹ کرتا آیا تھا لیکن آج اس کے دل نے خاموش خواہش کی تھی کہ شانزل ابراہیم کو پتہ لگے کہ حورعین جہانزیب کیسی ہے؟
وہ حیات سکندر اور حویلی والوں کے صفات سے بخوبی واقف تھا کہ وہ لوگ پییسے کے پیچھے کس حدتک پاگل ہے ،لیکن حورعین کیا تھی؟
اس کی سوچوں کا ارتکاز فجر کی اذان نے توڑا، شرمندگی کے باعث وہ حورعین کو مخاطب نہ کرسکا اور فجر پڑھنے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانزل واپس آیا تو کاریڈور پورا خالی تھا اس نے آس پاس نظر دوڑائی لیکن حورعین کہیں نظر نہ آئیں پھر اس نے بیقراری سے نرس سے پوچھا اس نے کہا مجھے نہیں پتا۔
شانزل کو خود پر بے تحاشا غصہ آیا اسے حورعین کو اس وقت یہاں اکیلے چھوڑ کر جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔
تبھی حورعین تیز تیز قدم اٹھاتی کاریڈور میں داخل ہوئی اور ڈاکٹر روم میں چلی گئی۔
” اس نے مجھے دیکھا یا نہیں مطلب ہے دونوں سہیلیاں ایک دوسرے کے علاوہ کچھ دیکھنا ہی نہیں چاہتی مجھے کیا ہوگیا ہے میں کیا سوچ رہا ہوں، اف!!! “
حورعین ڈاکٹر روم سے باہر آئی تو وہ اس کی جانب لپکا
” کہاں تھیں آپ؟”
حورعین نے نظر اٹھا کر نظر شانزل کو نہیں دیکھا حلق تر کرکے یک لفظی جواب دیا
” انجیکشن”
“اب کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتائیے گا اور اسے پہن لیں”
شانزل نے ایک شاپر حورعین کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
حورعین شاپر تھام کر خاموشی سے کرسی پر ٹک گئی۔ شاپر کھول کر دیکھا تو اس میں چپل کا نیا جوڑا تھا۔کسی خیال کے تحت اس نے اپنے پاؤں دیکھے،
اف!!!! میں چپل پہننا ہی بھول گئی۔ چپل نکال کر پیروں میں ڈالیں۔ شانزل حورعین کی حرکت سے محظوظ ہو رہا تھا۔
ڈاکٹر نے آ کر کہا “ہم نے پیشنٹ کو روم میں شفٹ کر دیا ہے انشاء اللہ کچھ گھنٹوں میں ہوش آجائے گا”
حورعین کی جان میں جان آئی۔
دونوں اٹھ کر روم میں آگئے جہاں حیا دنیا جہاں سے بے خبر تھی۔ شانزل صوفے پر بیٹھ گیا اور حورعین بیڈ کے قریب کرسی پر۔کچھ گھنٹے گزرے تو حورعین اٹھ کر باہر چلی گئی جب وہ واپس روم میں داخل ہوئی تو اس کے ہاتھ میں ناشتہ سے بھری ٹرے تھی۔ شانزل اسے دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ اسے ناشتے کا خیال ہی نہیں آیا۔ حورعین نے ٹرے صوفے کے آگے ٹیبل پر رکھی اور مڑ کر باہر جانے لگی۔
” آپ……” شانزل کے کچھ کہنے سے پہلے ہی جواب دیا “ڈاکٹر نے بلایا ہے” اور تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئی۔ شانزل کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ دیا۔ شانزل نے ایک نظر اپنے آگے رکھے ناشتے کو دیکھا پھر ایک نظر گھڑی پر ڈالی صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔
” وہ ہر طریقے سے مکمل بیوی تھی”
” بیوی؟”
” لا حول ولا قوۃ میں یہ کیا بول رہا ہوں”
حورعین جب کمرے میں واپس داخل ہوئی تب بھی ناشتہ ویسے کا ویسے ہی رکھا تھا وہ پھر سے بیڈ کے پاس کرسی پر بیٹھ گئی
” کیا ہو جاتا اگر پوچھ لیتی کہ ناشتہ کیوں نہیں کیا؟ یہ سوچ کر شانزل نے اسے خود مخاطب کیا
“حور آپ نے ناشتہ کر لیا ؟”
“بھ…بھوک نہیں ہے” شانزل کچھ کہتا اس سے پہلے ہی حیاکے کراہنے کی آواز آئی حورعین فورا اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
حیا آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہی تھی
” حیا “
حورعین اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی
” آنکھیں کھولو حیا ، مجھے دیکھو”
حیا نے آنکھیں کھول کر حورعین کو دیکھا۔حورعین مسکرائی ۔
شانزل تعجب سے دونوں کی محبت دیکھ رہا تھا۔
” حد ہے مطلب ایسی سیچویشن تو ڈراموں میں ہیرو ہیروئن کے بیچ میں ہوتی ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نرس نے آکر کہا انہیں کچھ کھلا دیجئے اسپتال سے حیا کے لئے سوپ بھیجوایا گیا۔ حورعین نے اسے سہارا دے کر بٹھایا اور سوپ پلانے کے لئے چمچہ اس کے آگے کیا تو حیا نے منہ پھیر لیا اور منہ پھلا کر کہا “مجھے نہیں پینا میں ناراض ہوں”
حورعین نے باؤل نیچے رکھ دیا شانزل کو لگا اب حورعین حیا کو منائے گی،لیکن حورعین نے ایک تھپڑ حیا کے گال پر لگا دیا وہ الگ بات ہے کہ نازک ہاتھوں کا تھپڑ بھی نازک سا پڑا تھا۔
جہاں شانزل چونک گیا تھا وہیں حیا گال پر ہاتھ رکھے منہ کھول کر دور آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔
“حد ہے! نا لائق ہو تو تم جیسا، خود ناراض ہو کر منتیں کروا تی ہو اور میں ناراض ہوں تو تھپڑ رسید دیا”
“کیوں میرے ضبط کو آزما رہی ہوں پلیز کھالو “
لہجہ بھیگا ہوا تھا حورعین کی پشت شانزل کی طرف تھی لیکن اسے پتہ تھا اور وہ رو رہی ہے۔
حورین نے سوپ سے بھرا چمچہ حیا کی طرف بڑھایا تو اس مرتبہ حیا نے بلا چوں چرا کیے سوپ پی لیا۔
سوپ ختم ہونے کے بعد آخر حیا نے ہی کہا
” اچھا نا سوری، جان بوجھ کر تھوڑی ایکسیڈنٹ کروایا تھا”
” تمہیں اندازہ نہیں ہے حیا تم مجھے کتنا پریشان کرتی ہو، کل کی رات مجھ پر کیسی گزری ہے”
حیا فورا اپنے جون میں آئی۔
“وہ دوست ہی کیا جو پریشان نہ کرے ابھی تو تمہیں اور پریشان کرنا ہے، خدمتیں کروانی ہے ،چلو قنیض ہمیں پانی پلاؤ”
ایک ادا سے حکم صادر کیا جسے دیکھ کر شانزل مسکرایا۔
حورین کچھ کہتی اس سے پہلے ہی ڈاکٹر اندر آئیں حیا نے چھوٹتے ہی ڈاکٹر سے پوچھا
” ڈاکٹر میری لکھنوی کٗرتی کہاں ہیں؟ جو میں نے پہنی ہوئی تھی”
اس کی بات سن کر ڈاکٹر مسکرائی اور کہا
” وہ کپڑے خون لگنے کی وجہ سے خراب ہوگئے تھے تو ہم نے انہیں dispose کر دیے”
اس دوران حورعین ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کیا کروں میں اس لڑکی کا۔
ڈاکٹر وہ میری فیورٹ کٗرتی تھی۔ آپ بتائیں مجھے کس کم بخت نے ٹکر ماری تھی؟ میں نے اس کا سر پھاڑ دینا ہے۔”
حیا تو اپنی کٗرتی کا صدمہ ہی لگ گیا تھا اور ڈاکٹر بیچاری حیران، آج تک اس نے ایسا نمونہ نہیں دیکھا تھا۔
“تھم جاؤ لڑکی، سوری ڈاکٹر”
حورعین نے پہلے ڈاکٹر کو پھر حیا کو مخاطب کیا۔
” آپ بتائیں مس حیا آپ کو کہیں درد تو نہیں ہو رہا؟”
ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ سوال کیا
“میں نہیں بتاؤں گی پہلے حور سے کہیں کہ وہ مجھے معاف کر دے”
ڈاکٹر بیچاری پریشان، اس نے “حور” کی طرف دیکھا
“حیا چیک اپ کراؤ یار “
حورعین نے عاجزی سے کہ
“ٹھیک ہے ہم نے یہ التجا قبول کی قنیض”
شانزل پورا ڈرامہ دیکھ رہا تھا حیا کہ نظر اب تک اس پر نہیں پڑی تھی۔
ڈاکٹر رپورٹ دیکھ رہی تھی تو اچانک حیا کو یاد آیا “ہائے اللہ ! ڈاکٹر یہ زخم نشان تو نہیں چھوڑیں گے نا؟ اسی مہینے میری شادی ہے”
ڈاکٹر نے کوئی جواب نہیں دیا وہ صرف حیا کو دیکھ کر رہ گئی لیکن حیا کو مجال ہے جو کوئی فرق پڑا ہو۔
” میں بتا رہی ہوں حور، اگر ان زخموں کی وجہ سے میری شادی کی تصویریں خراب آئی تو…. تو ……میں پتا نہیں کیا کر ڈالوں گی”
اور شانزل کا ضبط یہیں تک تھا شانزل قہقہہ لگا کر ہنس پڑا قہقہے کی اواز پر تینوں نے مڑ کردیکھا حیا تو شانزل کو دیکھ کر خوش ہو گئی لیکن ڈاکٹر تو جیسے شانزل کے قہقہے میں کھو گئی ڈاکٹر کو ایسے ٹکٹکی باندھ کر شانزل کو دیکھنا حورعین کو عجیب لگا۔ اب بھئی شانزل اگر “اچھے” کی جگہ “الگ” لفظ استعمال کر سکتا ہے، تو اتنا حق تو حورعین کا بھی ہے کہ وہ “برے” کی جگہ “عجیب” لفظ استعمال کرے، خیر۔ شانزل کے لئے یہ عام بات تھی کی لڑکیاں اس کی دیوانی تھی اس لئے اس نے نظر انداز کیا۔
حیا کو تو بڑا مزا آیا
“ارے بھائی! آپ بھی آئے ہیں؟”
” کیوں میں نہیں آسکتا؟”
” ارے واہ! بھائی اب تو بہت مزہ آئے گا”
ڈاکٹر تو حیا کو ایسے دیکھنے لگی جیسے کہنا چاہ رہی ہو کیا آپ پکنک منانے آئی ہو؟
“دیکھیں آپ لوگ پلیز باہر جائیں میں پیشنٹ کو چیک کر لوں”
ڈاکٹر نے تھک ہار کر کہا