Nazool Muhabbat By Shahi Readelle50226 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
Epi 35
حیا مزید ڈر گئی اس نے آنکھیں سختی سے بند کر لی مبادہ کہیں وہ اپنا فیصلہ ہی نہ سنا دے
“میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو”
شاہ زر نے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا
حیا نے آنکھیں نہیں کھولیں
“پلیز ،میری ایک بار بات سن لو”
مگر حیا نے آنکھیں نہیں کھولیں شاہ زر نے ایک گہری سانس لی اور سونے لیٹ گیا
سوتے ہوئے ہوئے کو جگانا مشکل ہوتا ہے مگر جاگتے ہوئے کو جگانا، ناممکن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زر صبح نماز کے لیے اٹھا تو دیکھا حیا ابھی تک کہ منہ لپیٹے سو رہی تھی وہ جب وضو کرکے واش روم سے باہر نکلا تب بھی یہی حال تھا
“حیا نماز کا وقت نکل رہا ہے اٹھو “
حیا بالکل نہیں ہلی
“میں کوئی بات نہیں کر رہا اٹھ جاؤ”
کہتے ہوئے شاہ زر نے کمفرٹر ہٹا یا اور اسے اٹھا کر بٹھا دیا
حیا نے نظر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا شاہ زر بھی بغیر کچھ کہے مسجد جانے کے لیے نکل گیا جب وہ واپس آیا تو حیا اسی پوزیشن میں بیٹھی رونے میں مصروف تھی
“کیا ہوا ؟”
حیا نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر نظر جھکا لی
“خدا سے بھی ناراضگی چل رہی ہے”
شاہ زر کے سوال پر حیا تڑپ اٹھی
” خدا مجھ سے ناراض ہے”
” اور ایسا کیوں لگتا ہے تمہیں؟”
” کیونکہ میں نماز نہیں پڑھ پاتی ہوں، سب بھول گئی ہوں”
” چلو اٹھو میرے ساتھ واش روم میں وضو کرنے نماز کا وقت نکل رہا ہے “
وہ بغیر چوں چرا کیے حیران سے اٹھ گئی شاہ زر کے ساتھ وضو کیا اور نماز بھی اسی نے پڑھائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے کی میز پر حیا ہاتھ دھرے بیٹھی تھی شانزل نے اسے سوال کرلیا
تم کھا کیوں نہیں رہی ہو؟”
” مجھے نہیں کھانا یہ”
یہ پہلا اعتراض تھا جو اس نے ان دو مہینوں میں کیا تھا ورنہ جو کھلا دو کھا لیتی جو پہنا دو پہن لیتی عجیب سا سکون ناشتے کی میز پر اترنے لگا
” تو کیا کھانا ہے بتاؤ ابھی حاضر کرتے ہیں”
شانزل نے بہت اشتیاق سے پوچھا
“چیز آملیٹ”
بھلے لہجےمیں شوخی نہیں تھی مگر ان کے لئے یہی کافی تھا کہ اس نے اتنے دنوں بعد کوئی فرمائش کی ہے
” دو منٹ ابھی لاتی ہوں”
خوشی تو حور کے لہجے سے ہی ظاہر ہو رہی تھی وہ فورا اٹھ کر کچن میں گئی زندگی اسی ڈگر پر چلنے لگی شایر رات ہونے والی حورعین کی گفتگو کا اثر تھا کہ حیا اب تھوڑی بہت خود سے باتیں کر لیتی
حورعین نے ایک عجیب سی چیز نوٹس کی تھی کہ حیا کو اب دورے نہیں پڑ رہے مگر رپورٹس کا وہی حال تھا حورین کو لگ رہا تھا شاید شاہ زر کے ساتھ کی وجہ سے ایسا ہے وہ باقاعدہ پانچ وقت کی نمازوں کے لئے گھر آتا حیا کو نماز وہی پڑھاتا کچھ فرمائشیں کچھ اعتراضات حیا کے زبان سے ادا ہو جاتے جو حور کے لئے بہت بہت بہت زیادہ تھے
مگر ۔۔۔۔۔۔۔
اصلیت صرف حیا ہی جانتی تھی جب بھی شاہ زر کمرے میں آتا تو وہ کمفرٹر منہ تک اوڑھ کر سوتی بنتی اسے خوف تھا نہ جانے کب وہ اسے فیصلہ سنا دے حالانکہ نماز اسے وہی پڑھاتا مگر وہ اسے کوئی اور بات کرنے کا موقع ہی نہ دیتی
بڑے بے کیف سے دن گزر رہے تھے عجیب سی ڈگر پر وہ چلے جا رہی تھی جس کی کوئی منزل نہیں تھی اس نے خود پر خول تو چڑھا لیا تھا تاکہ حور خوش رہے مگر یہ خول کتنا تکلیف دہ تھا وہ صرف وہی جانتی تھی
اسے دورے اب بھی پڑتے تھے بس مہینے میں ایک آدھ بار جس کی خبر وہ کسی کو نہ لگنے دیتی خود کو کمرے میں بند کر کے
چینخیں وہ اپنے تکیے میں دبا لیتی
مزید ساڑھے تین مہینے اس نے اذیت میں گزارے بس فرق اتنا تھا کہ اب اس کی اذیت کسی کو نظر نہ آتی آج وہ لیٹی پھر سے اپنی زندگی پر غور و خوص کر رہی تھی
شاہ زر گہری نیند میں تھا اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہئے کب تک وہ ایسی ہی جیتی رہیں گی
کب تک شاہ زر کو خود سے جبری باندھے رکھے گی
اس کی بیوی؟
اس کا بھی حق تھا شاہ زر پر
اس نے خود کی تصحیح کی
میں غلط ہوں
صرف اس کی بیوی کا ہی حق ہے شاہ زر پر
شاہ زر بھی حورعین کے اداس چہرے کو دیکھ کر چپ تھا مجبور تھا
وہ تو صرف ایک بوجھ بن گئی ہے سب پر حورین اور شانزل اپنے گھر نہیں جا رہے تھے
شاہ زر بھی حورین کی وجہ سے جبری قید میں ہے
نہیں۔۔۔
اب بس ۔۔۔۔۔
مجھے حورین سے بات کرنی ہوگی کمفرٹر منہ تک اوڑھے وہ اپنے سر میں اٹھتے درد کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اپنی گھٹی گھٹی چیخوں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ ان ساڑھے تین مہینوں میں جب بھی دورے اسے آئے اس وقت کمرے میں وہ اکیلی تھی مگر شاہ زر اس وقت بیڈ پر ہی سو رہا تھا
پوری ہمت جمع کرکے اس نے کوشش کی کہ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلی جائے مگر درد کی شدت اتنی تھی کہ اسے ایک پلک کی جنبش بھی اذیت سے دوچار کر جاتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب سے احساس کے تحت شاہ زر کی آنکھ کھلی تو اسے بے چینی نے آ گھیرا یک لخت اس نے حیا کو پکارا ہمیشہ کی طرح جواب نہیں آیا
مگر ایک سسکی سنائی دی
شاہ زر نے فورا کمفرٹر اس کے چہرے سے ہٹایا بہتے آنسو ، پسینے سے شرابور جسم، ضبط اور اذیت سے سرخ پڑتے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ سمجھ گیا کہ اس کے سر میں درد ہو رہا ہے
” میں صنم کو بلاتا ہوں”
وہ لمحے کے بھی دیر کیے بغیر اٹھا تھا
“نہیں”
تڑپتے ہوئے بمشکل ایک لفظ کہا آواز نہیں نکلی تھی صرف ہونٹوں میں جنبش ہوئی تھی وہ بہت مشکل سے اپنی چینخیں کنٹرول کر رہی تھی
شاہ زر نے ہی اسے دوائیں دیں
اس کے نیلے پڑتے ہونٹوں سے پانی کا گلاس لگایا بالآخر 20 منٹ بعد اس کا درد ختم ہوا مگر حیا کے جسم میں جیسے جان ہی نہیں تھی اس کے چہرے سے سرخی کچھ کم ہو رہی تھی تب شاہ زر نے پوچھا
“اب ٹھیک ہو ؟”
“نیند آرہی ہے”
آواز اب بھی نہیں نکلی تھی فی الحال تو اسے پلکوں کی جمبش بھی تکلیف پہنچا رہی تھی اس نے بمشکل اکھڑی اکھڑی سانسوں کے درمیان اپنے ہونٹ ہلائے تھے شاہ زر نے اسے کمفرٹر اوڑھایا
حیا خود کو کوسنے لگی
شاہ زر کی نیند بھی اس کی وجہ سے خراب ہوئی اس کے بعد پوری رات نہ وہ سو سکی نہ شاہ زر
پوری رات وہ بے ارام سا رہا تھا
کوئی سکون اسے وہ دے نہیں سکتی تھی
یا اللہ میں اتنی منہوس کیوں ہوں؟
بس اب بہت ہوگیا مجھے اب حورعین سے بات کرنی ہوگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حورین اس وقت رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی
“حور مجھے تم سے بات کرنی ہے”
حیا تو آج سوچ کر آئی تھی آج آر یا پار
“بولو”
حورعین ہنوز اپنے کام میں مصروف تھی
“تم میری وجہ سے خود کو مت باندھو تم اپنے گھر چلی جاؤ”
یہ گھر بھی میرا ہے فضول بات مت کرو بہت کام ہے مجھے، بس تمہیں بکواس کرنے کا موقع چاہیے”
” حور۔۔۔۔تم۔۔۔۔تم۔۔۔میری بات سنو ، میں ۔۔۔۔۔۔ میں شاہ زر کے لائق نہیں ہوں”
” تم اپنا دماغ مت چلاؤ، ہاتھ چلاؤ ،جلدی سے یہ آلو کاٹ کر دو مجھے”
حورعین نے اس کی بات چٹکی میں اڑائی
” حور میں ۔۔۔۔۔۔۔ میں چیزیں بھول جاتی ہوں میں پاگل ہو گئی ہوں”
حورعین نے پلٹ کر اسے ایک زبردست گھوری سے نوازا
” وہ تو مجھے پتا ہے، تم تو شادی سے پہلے ہی پاگل ہو یہ بات میں جانتی ہوں بلکہ جب سے ہماری دوستی ہوئی ہے پہلے دن سے جانتی ہوں تم پاگل ہو، تعجب کی بات ہے تمہیں ابھی پتا لگا”
حورعین نے مانو ناک سے مکھی اڑائی
” میں سنجیدہ ہوں حور”
حیا کی بات پر حورعین کا موڈ بدلہ اس نے ہاتھ میں پکڑی مسالوں کی پلیٹ زمین پر دے ماری
” نہیں ہو تم سنجیدہ، نہیں ہو، تم حیا ہو سمجھیں”
حورین حلق کے بل چینخی تھی
شور پر شاہ زر اور شانزل بھی باہر نکل آئے
” نہیں ہوں میں حیا،،،،،، مر گئی ہے حیا،،،، مر گئی، تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ حیا بھی اس انداز میں چینخی تھی
” تم زندہ ہو سمجھجی تھپڑ کھاؤ گی اگر بکواس کی تو “
“میں زندہ نہیں ہوں حور،،،، میں اپنے ہی وجود کی قبر ہوں ، جس میں میری ایک غلیظ روح دفن ہے، حور سمجھو میری بات، جس کی حقیقت سے تم واقف نہیں ہو مت کریدو مجھے،،،، کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے گلی، سڑی، بدبو دار، روح کے،،،،، تمہیں بھی گھن آئے گی جیسے مجھے آتی ہے، ،،، میں خود سے نفرت کرتی ہوں حور،،،، گھن آتی ہے مجھے اپنے وجود سے،،،،،، میں اس دنیا کی سب سے بڑی تکلیف سے گزر رہی ہوں حور۔۔۔۔۔ دنیا کی سب سے بڑی تکلیف یہی ہوتی ہے جب انسان خود سے نفرت کرنے لگے خود سے گھن کھانے لگے اب مجھ پر رحم کرو اور حوصلہ نہیں ہے مجھ میں تمہاری آنکھوں میں اب میں نفرت نہیں دیکھ پاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ مجھ پر رحم کرو حور،”
وہ چیختے چیختے رونے لگی
“میں ان تقریروں سے متاثر نہیں ہونگی، تم جتنی بے وقوف ہو مجھے پتا ہے ، جتنی من مانی کرنی تھی تم کر چکی ہو اب کیا چاہیے تمہیں؟
حورین نے نوٹس ہی نہیں لیا تھا
“علحیدگی چاہیے “
شاہ زر اور شانزل تو سکتے میں آگئے
حورعین کو بھی جھٹکا لگا تھا
“تم ہوش میں ہو ؟طلاق مانگ رہی ہو “
“نہیں”
حیا تو تڑپ اٹھی
” میں صرف علیحدگی چاہتی ہوں تم شاہ زر کو آزاد کر دو میرے بوجھ سے ، وہ صرف تمہاری محبت میں خاموش ہیں انہیں اپنے طریقے سے زندگی گزارنے دو”
” تم کیسے جیو گی ؟صرف نام کے سہارے؟”
” وہ میرا مسئلہ ہے”
حیا دو بدو بولی
” اور اگر میں ایسا نہ کروں تو ؟”
حورعین اس وقت کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی
” میں ایسا کرکے ہی رہوں گی”
آج حورین کو پرانی والی والی حیا کی رمق نظر آئی جو اپنی منوا کر ہی دم لیتی تھی مگر یہ بات فی الحال بہت خطرناک تھی
” تمہاری قسم حیا، میں ایسا نہیں ہونے دوں گی تمہیں اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد نہیں کرنے دوں گی “
“کیوں کر رہی ہو ایسا؟ تم نے کبھی اپنے بھائی کو غور سے دیکھا ہے؟ میں کہیں سے بھی ان کے ساتھ نہیں جچتی، ہو سکتا ہے وہ کسی اور کو پسند کرتے ہو”
” ایسا کچھ نہیں ہے، بس تمہارے دماغ کا خناس ہے تمہیں کیا لگتا ہے ہم جانور خریدنے نکلے تھے جو تمہاری رنگ اور نسل کو دیکھ کر پسند کیا ہے ، نہیں ہم ایک انسان کو رشتے میں باندھنے نکلے تھے، احساس کے رشتے میں، مجھے یہ فضول کے جواز میں مت دو سمجھ میں آیا،”
” تم میری بات مان جاؤ حور”
” تم نے کبھی میری مانی ہے؟”
حورعین نے ہمیشہ کی طرح وہی جملہ ادا کیا جو وہ ہمیشہ کہتی تھی
” عجیب لڑکی ہے، شان اپنے جوتے دیجئے اس کے سر پر ماروں تاکہ عقل ٹھکانے آجائے نالائق کی”
حیا چونک کر پلٹی تو وہ دونوں بھی کھڑے تھے شانزل کے ازلی غصے نے جوش مارا
“خبردار جو تم نے میری بہن کو ہاتھ لگایا “
جس طرح حورین اس کی ہر بات کو چٹکیوں میں اڑا رہی تھی یہ بات حیا کو سلگا گئی تھی جس کا غصہ شانزل پر نکلا
” آپ تو بات ہی نہ کریں کہا بھی تھا حورعین کو لے جائیں وہ نہیں مانے گی مگر نہیں ۔۔۔۔ آپ نے میری نہیں سنی، اگر میرا علاج نہ ہوا ہوتا تو کچھ دنوں میں مر جاتی لیکن آپ حور کو آپ لے کر ہی نہیں گئے، اب یہ مان نہیں رہی میری ،،،،ساری غلطی آپ کی ہے”
شانزل ہونقوں کی طرح اپنی غلطی ڈھونڈنے میں مصروف تھا لیکن حیا دوسری چیز کا انتظار نہیں کیا وہ فوراً شاہ زر کے پاس گئی
لائیں وہ ویڈیو دیں، میں حور کو دیکھا دوں شاید اسی طرح آپ کی جان چھوٹ جائے مجھ سے”
شاہ زر ایک لمحے کے لیے گڑبڑا گیا ان ساڑھے پانچ مہینوں میں یہ پہلی بار تھا کہ وہ خود سے بات کر رہی تھی اسے قطعی امید نہیں تھی کہ وہ ویڈیو حورعین کو دکھانے کے لئے کہی گی
لیکن ھورین تو اس سے بھی چار قدم آگے نکلی
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے فضول ویڈیو دیکھنے کا سمجھ آئی،،،، آپ لے جا کر کار میں بیٹھائیں نالائق کو،،،،، دماغ خراب کر رکھا ہے، کھانا اب باہر سے آرڈر کیجئے گا میں نہیں بناؤں گی حد ہے مطلب۔۔۔۔ جس کے جو من میں آئے گا کرے جائے گا اور میں کرنے دوں گی” پہلا جملہ حیا سے باقی کا شانزل سے کہا
” میں کہیں نہیں جاؤں گی “
حیا کو بہت غصہ آرہا تھا حور اس کی کوئی بات سیریس لے ہی نہیں رہی تھی
حورعین حیا کی طرف پلٹی
“تم کیا تمہارے اچھے بھی جائیں گے،،،، فردوسِ برّیں رینویٹ کرانا ہے، تمہیں یاد دلادوں میرے ساتھ تم نے بھی سول انجینئرنگ کی ہے چپ کر کے چلو اور ہیلپ کرو، ڈگری کیا دیوار پر لٹکانے کے لیے لی ہے؟
پورے چار سال جو تم نے میرا دماغ خراب کیا ہے ڈگری کو دیوار پر لٹکانے کے لیے کیا ہے ؟”
چلو یار حیا، یہ بیوی بننے کے بعد بہت خونخوار ہو گئی ہے اپنی ضد سے بالکل پیچھے نہیں ہٹے گی”
شانزل نے حیا کو پچکارا ھیا پیر پٹختی باہر چلی گئی
حورعین نے ایک گہری سانس لی اور کرسی پر ڈھے جانے والے انداز میں بیٹھی اس کی سانسیں پھول رہی تھی جیسے بہت مسافت طے کر رہی ہو
شانزل نے پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا
” ہمت کرو حور تم منزل کے بہت نزدیک ہو، مضبوط بنو میری جان “
حورعین نے اثبات میں سر ہلایا
” آپ جائیں کار میں اکیلی ہو گی میں بھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں “
شانزل چلا گیا شاہ زر نے بھی تھکے قدموں سے اپنے کمرے کا رخ کیا
” شاہ “
حورعین نے پکارا تو شاہ زر پلٹ کر واپس آیا ان دونوں کے درمیان اب صرف رسمی جملوں کا تبادلہ رہ گیا تھا
” آپ ناراض ہیں مجھ سے؟
کہتے ہوئے حورعین کا صبر ٹوٹا اور آنسو کرنے لگے ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی جیسے ان دونوں میں کوئی بات ہی نہیں ہوتی تھی پچھلے ساڑھے پانچ مہینوں میں
” گڑیا، ناراض تو تم ہو مجھ سے”
شاہ زر بھی دوسری کرسی پر بیٹھ گیا حورعین کی نظریں ٹیبل پر رکھے ہوئے پانی کے گلاس پر تھی
“یہی تو بات ہے میں آپ سے ناراض ہو ہی نہیں سکتی، کوشش کر رہی ہوں مگر ہو نہیں پا رہی۔۔۔۔۔ آپ نے دیکھا اسے؟”
شاہ زر خاموش ہی رہا
“وہ نادان تھی مگر مخلص تھی اسی لیے میں نے اسے آپ کو سونپا تھا۔ آپ نے انگلی پکڑ کر مجھے چلنا سکھایا ہے مگر دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا میں نے اس سے سیکھا ہے، آٹھ سال کی قید میں گزارنے کے بعد مجھے دنیا سے خوف آنے لگا تھا ہر طرف اندھیرا ہی نظر آتا تھا تب روشنی کی کرن بن کر میری زندگی میں آئی تھی، پہلی کرن، وہ میڈیکل کے سیکنڈ ائیر میں تھی جب میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا وہ دنیا میرے لئے نئی تھی چاردیواری میں آٹھ سال گزارنے کے بعد ظاہر ہے ایسا ہی ہونا تھا، میں اس سے ٹکرا گئی تھی مگر اس نے مجھے سنبھال لیا گرنے نہیں دیا۔ اگلے دن اسے میں نے اپنی کلاس میں میرے پاس والی سیٹ پر بیٹھے دیکھا ، اس نے خود اپنی یہاں موجودگی کی وجہ بتائی مجھے
تم سے love at first sight ہوگیا ہے اسی لئے اب میں بھی تمہارے ساتھ سول انجینئرنگ کروں گی”
حورعین کی آواز لرزنے لگی
” جب جب میں روئی میرے آنسو پوچھنے والے دو ہاتھ صرف حیا کے تھے جب میں گری ہوں مجھے سنبھالنے والے دو ہاتھ صرف حیا کے تھے، کیا اس کی غلطی ایسی نہیں تھی کہ آپ معاف کر دیتے؟
میرے بارے میں ہی خیال کر لیتے شاہ ، میری گڑیا عزیر نے نہیں آپ نے توڑی ہے، آپ ہی اس سے بنائیں گے کیونکہ آپ کے علاوہ اسے کوئی جوڑ ہی نہیں سکتا “
“وہ موقع ہی کہاں دیتی ہے”
پہلی مرتبہ شاہ زر نے لب کشائی کی تھی
“مجھے کچھ نہیں پتا یہ آپ کا معاملہ ہے”
اٹھ کر جانے لگی اور پلٹ کر شاہ زر کو دیکھا
“اور میٹنگ ختم کر کے جلدی پہنچیے گا ہم آپ کی گاڑی لے کر جا رہے ہیں آپ دوسرے میں آجانا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فردوس بریں آ کر حیا کا منہ پھلا ہوا تھا یہ بات حورین کے لیے شکر کا باعث تھی کہ کم از کم وہ انسانوں والے جذباتوں کا اظہار کر رہی ہے ایسا جمود اس کے چہرے پر چھایا ہوتا کہ اسے دیکھ کر لاش کا گمان ہونے لگا تھا
“اس محل کو کیا رینویٹ کرآؤ گی تم؟ اتنا اچھا بھلا ہے ؟”
“صفائی تو کرنی ہے تقریبا سال بھر سے بند پڑا ہے”
” میں تمہیں ماسی نظر آتی ہوں ؟جو تم مجھے صفائی کرنے کے لئے لے کر آئی ہو”
” بالکل حلیہ تو ویسے ہی بنایا ہوا ہے تم نے”
” تم لوگ لڑوں میں کھانا لے کر آتا ہوں”
شانزل ان کو بحث کرتا ہوا چھوڑ کر چلا گیا ان لوگوں نے صفائی کی
حیا کو تو وہ گھر بہت پسند آیا تھا فارغ ہو کر شانزل اور حورعین اپنے کمرے میں چلے گئے اور حیا دوسرے
کمرے میں جاتے ہی اسے اپنے کپڑے کا خیال آیا جو دھول مٹی سے اٹے ہوئے تھے جنہیں پہن کر قطعی سویا نہیں جا سکتا تھا
“میں کپڑے بھی نہیں لائی”
وہ نیچے اتر کر شاہ زر کی گاڑی کے پاس گی اس کی گاڑی میں ہمیشہ ایک جوڑی کپڑا اور ضرورت کا سامان موجود ہوتا تھا یہ بات حیا کو پتہ تھی اس نے کونسا یہاں آنا تھا وہ اکیلی ہی تھی کیا فرق پڑتا ہے اور اکیلے نہ بھی ہوتی تو بھی سب بھاڑ میں جائے
شاور لے کر شاہ زرر کے کپڑے پہنے جو کہ بلیک ٹراوزر اور بلیک شرٹ تھی ٹراوزار تو پتا نہیں کتنے بل ڈال کر اپنے سائز کا کیا مگر شرٹ؟ اس کا کچھ نہیں ہوسکتا تھا وہ گہری سانس لے کر بیٹھ گئی اور اپنا دماغ بٹانے کے لیے ٹی وی اون کر لیا اتفاق یہ تھا کہ اس کی فیورٹ مووی ice age آرہی تھی اس وقت اسے کوئی دیکھتا تو وہ اسے پہلی والی حیا نظر آتی جو دنیا کو بھاڑ میں جھونک کر خود میں مگن ہوتی
دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے چونک کر دیکھا ایک تو مصیبت یہ تھی کہ شرٹ کے اوپری دو بٹن ٹوٹے ہوئے تھے شاہ زر اندر داخل ہوا تو ٹھٹک گیا
” السلام علیکم”
حیا نے جواب دینے کی بجائے خود پر کمفرٹر لیا اور پھر سے مووی دیکھنے میں مگن ہو گئی
“مجھے بات کرنی ہے حیا “
حیا کو اسے دیکھتے ہی سب کچھ یاد آیا تھا حیا نے سنی ان سنی کر دی اور پھر سے مووی میں کھو گئی شاہ زر نے ٹی وی آف کر دی تو حیا نے ریموٹ سے پھر آن کر دیا
“مجھے بات کرنی ہے حیا “
کہتے ہوئے شاہ زر نے ٹی وی کا پلگ ہی اکھیڑ کر ڈالا جس سے پلگ وائر الگ ہو گیا
” لیکن مجھے نہیں کرنی، جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ میں سننا نہیں چاہتی، سکون سے مووی بھی نہیں دیکھنے دیتے”
وہ تن فن کرتی اٹھی اور کمفرٹر سمیت روم سے باہر نکل گئی شاہ زر جانتا تھا وہ کہاں جارہی ہے
حیا نے حورعین کےکمرے کا دروازہ پیٹ ڈالا
یہ تم کارٹون بنی کیوں گھوم رہی ہو؟”
” ہٹو پیچھے”
حیا حورعین کو دھکیلتی دھپ کر کے بیڈ پر بیٹھ گئی ٹی وی آن کر لی
” تمہارے روم میں بھی ٹی وی ہے بدتمیز لڑکی”
“مگر وہاں تمہارے بھائی ہیں مجھے ٹی وی دیکھنے نہیں دے رہے “
“حیا چلو روم میں “
شاہ زر بھی آ گیا تھا
“نہیں “
شانزل نے شاہ زر کو کوئی اشارہ کیا
“ٹھیک ہے میں بھی یہی بیٹھ جاتا ہوں “
شانزل نے بہت مشکل سے مسکراہٹ روکی وہ چاروں ہی بیٹھ گئے دس منٹ بعد حیا کو اپنی کمر پر کچھ محسوس ہوا وہ ہاتھ تھا حیا کی سانس رکی اس نے شاہ زر کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
شاہ زر نے دوسرے ہاتھ سے حیا کے چہرے پر جھلتی بال کی لٹ کو پیچھے کیا اب وہ مزید اس کی طرف بڑھا ہی تھا کہ حیا اٹھی
” مجھے نہیں دیکھنی مووی میں جا رہی ہوں “
وہ بیڈ پر کھڑی ہوکر ہی کہہ رہی تھی
“دفع ہو جاؤ مگر مجھے مووی دیکھنے دو اتنا اچھا سین چل رہا ہے”
“جا رہی ہوں میں “
شاہ زر بھی اٹھ کھڑا ہوا شانزل نے ایک آنکھ کا دبائی اور شاہ زر نے بھی جواب اسی انداز میں دیا
“آپ کو شرم آنی چاہیے میرے بھائی پر لائن مار رہے ہیں “
” تمہیں ماروں تو تم مجھے بے شرم ، چھچھورا پتا نہیں کیا کیا کہتی ہو اینڈ فور کائینڈ انفارمیشن میرے پاس لائن مارنے کے لیے بہت سی لڑکیاں ہیں سبھی میرے اشارے کی منتظر ہیں”
حورعین نے اس کا گریبان دونوں ہاتھوں سے جکڑا “خبردار شانزل ابراہیم جو تم نے میرے علاوہ کسی کو
دیکھا بھی”
شانزل نے اس کے گرد حصار باندھ کر مزید قریب کیا
“کون کافر تمہارے علاوہ کسی اور کو دیکھنا چاہتا ہے”
حورعین نے نظریں جھکائی فورا بات بدلی
” بتائیں نا کیا اشارہ کر رہے تھے آپ دونوں”
بوائز ٹاک مگر تم اس وقت میرے ساتھ صرف ہسبنڈ وائف ٹاک کرو”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کمرے میں آئی تو اس کا غصہ تو انتہا کو پہنچ چکا تھا شاہ زر جب کمرے میں داخل ہوا تو اس پر پھٹ پڑی
” آپ کیا حرکتیں کر رہے تھے”
شاہ زر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تو اس کے سینے سے آ لگی اور کمفرٹر زمین بوس ہوگیا
“ابھی میں نے کچھ کیا ہی کہاں ہے “
حیا کی آنکھیں پھیلیں
” آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے”
” کروں گا اگر تم خاموشی سے میری بات نہیں سنو گی تو “
“نہیں سننی مجھے آپ کی بات “
آنسو پوری شدومد سے برسنے لگے تھے
” کیوں اس علحیدگی کو اذیت ناک بنا رہی ہے میں ایک عذاب سے پہلے ہی گزر رہی ہوں مزید کچھ مت کہیں رحم کریں مجھ پر، زندگی اتنی تنگ نہ کریں کہ میں خودکشی کر لوں ، عاجز آ گئی ہون زندگی سے مجھے حرام موت نہیں مرنا کچھ تو رحم کریں میرے اوپر”
کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
” اگر آپ نے کچھ بھی کہا تو میں خود کشی کر لوں گی “
شاہ زر اسے چھوڑ کر روم سے ہی باہر نکل گیا جب واپس آیا تو حیا سو چکی تھی چہرے پر آنسوؤں کے نشان واضح تھے وہ بھی سونے لیٹ گیا رات شاہ زر نے کروٹ بدلی تو حیا بیڈ پر نہیں تھی وہ نیچے آیا تو وہ سیڑھیوں پر بیٹھی رو رہی تھی
“حیا کیا ہوا ہے “
حیا نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور اس کے آنسوؤں میں مزید روانی آگئی
“خدا کا واسطہ ہے حیا، کچھ تو بولو کیا ہوا ہے کوئی تکلیف ہو رہی ہے”
“م۔۔۔میں “
“بولو میں سن رہا ہوں “
“میں کمرے کا راستہ بھول گئی ہوں”
” کوئی بات نہیں چلو اٹھو یہاں سے “
وہ اس کا ہاتھ تھامے کمرے میں لے آیا
“تم نیچے کیوں گئی تھی؟”
“پیاس لگی تھی کمرے میں پانی نہیں تھا لینے گئی تھی”
بغیر کچھ بولے کمرے سے نکل گیا پھر جب داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں ایک جگ اور گلاس تھا پانی نکال کر حیا کو دیا پانی پینے کے بعد حیا نے سوال پوچھا
“آپ کیوں جاگ گئے”
“پیاس ہی لگی تھی مگر فی الوقت میری پیاس کا علاج نہیں ہو سکتا اسی لئے سو جاؤ اس وقت میں کسی امتحان کا ممتنی نہیں ہوں”
شاہ زر کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر کے ایک نظر خود کے حلیے پر ڈالی پھر فورا کمفرٹر میں دبک گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حورعین نے حیا کے کپڑے گھر سےمنگوا دیے تھے اس وقت حورین اور حیا ٹیرس پر لگے سنگ مرمر کے جھولے پر بیٹھے تھے حورین حیا کو حتی المقدور سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی وہ کسی بھی طرح اپنے فیصلے سے ہٹ جائے مگر حیا بہت ثابت قدمی سے ڈٹی ہوئی تھی
“حور تم صرف اپنے بھائی کو تکلیف دے رہی ہو جس نے تمہارے لیے ہجر کاٹا ہے اپنی زندگی کے قیمتی ماہ و سال تمہارے نام کیے ہیں وہ تمہیں اپنے بچے کی طرح پیار کرتے ہیں کیوں تم ان کی خوشی میں رکاوٹ بن رہی ہو؟”
“اوہ۔ خدا حیا تمہیں میں سب کیوں لگ رہا ہے”
” ان کی خوشی کہیں اور ہے اسی وجہ سے کہہ رہی ہوں مان جاؤ “
“کیا تمہارے دل میں محبت نہیں رہی؟”
” یہ سوال مجھ سے نہ پوچھو حور ،،،،مجھ سے نہ پوچھو ،،،،محبت تو بہت زور آور جذبہ ہے بہت بے اختیار جذبہ، میں بھی بہت بے اختیار ہو گئی ہوں محبت تو کبھی ختم نہیں ہوتی میرے اندر محبت چیخ رہی ہے چنگھاڑ رہی ہے بہت شدومد سے بول رہی ہے محبت تو امر ہونے والا جذبہ ہے یہ کبھی ختم نہیں ہوتا حور”
” کیوں خود کو اذیت دے رہی ہو”
۔
” اس کا جواب میرے پاس نہیں “
” تو کیا تم کبھی نہیں مانو گی ؟ کبھی شاہ کے بارے میں بھی تو سوچو “
“انھیں فرق نہیں پڑے گا میں زندہ رہوں یا مر جاؤں میں صرف ان کے لئے ایک غلطی ہوں یا وہ سودا جو انہوں نے اپنی بہن کا گھر بسانے کے لیے کیا ہے۔۔۔”
” صنم”
شاہ زر کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر دیکھا
” نیچے کچھ ڈاکٹرز آئے ہیں کہہ رہے ہیں تم نے بلایا تھا چلو اب دیکھ لوں انھیں “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دو بج رہے تھے حیا کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی وہ حور کے سامنے تو بہت مضبوطی سے اپنے فیصلے پر ڈٹی تھی مگر شاہ زر سے علحیدگی اس کے لئے سوہان روح تھا مگر کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا
اس کے ہوتے ہوئے شاہ زر کبھی اپنی بیوی کو یہاں نہیں لا سکتا تھا
حور کی خوشی شاہ زر کے لیے سب سے اہم تھی اسے کبھی دکھ نہیں پہنچا سکتا تھا اور حیا کے لیے؟ اس کے لیے تو شاہ زر ہی سب کچھ تھا
وہ اس وقت گہری نیند میں سوئے شاہ زر کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہی تھی چاند کی چاندنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی اس کے بال کچھ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے تبھی اس کی پیشانی پر ایک لال نقطہ نمودار ہوا جیسے کوئی لیزر لائٹ ہو
اسی لمحے میں حیا کا موبائل وائبریٹ ہوا
حیا نے کال پک کی
اس وقت کس کا فون ہے
” کیسی ہو رانی؟ مجھے بھول تو نہیں گئی؟”
حیا نے کچھ کہنا چاہا کیونکہ وہ پہچان گئی تھی یہ عذیر حیات تھا
” آواز مت نکالنا اس وقت تمہارا شوہر گن کے نشانے پر ہے “
حیا کی سانس دھڑکن یہاں تک کہ رگوں میں خون کی گردش بھی رک گئیں
” ابھی اور اسی وقت باہر آؤ خبردار جو اپنے شوہر کو اٹھایا وہ جب تک نیند سے جاگے گا تب تک گولی چل چکی ہوگی”
وہ جانتی تھی جو وہ کرنے جا رہی ہے اس کے بعد نہ جانے کیا ہو مگر ایک مرتبہ محبت دل میں کر لائی تھی
وہ ابھی بھی محو استراحت تھا
شاید میں آپ کو آخری بار دیکھ رہی ہوں میں آپ سے بے انتہا محبت کرتی ہوں شاہ زر کاش کبھی زندگی نے موقع دیا ہوتا تو میں آپ کو بتا پاتی لیکن یہ میرے نصیب مین نہیں تھا
وہ اٹھ کر فردوس بریں کے دروازے کی طرف چل پڑی لان میں عزیر حیات اپنے چھ گارڈز کے ساتھ کھڑا تھا اس کی گاڑی بھی کھڑی تھی
” خوش آمدید،،،،، خوش آمدید،،،، واہ محبت ہو تو ایسی مان گئے تمہیں “
“کیوں بلایا ہے مجھے؟”
حیا کا لہجہ ایکدم سپاٹ تھا
“یہ تجاہل عارفانہ”
وہ حیا کے گرد گول گول چکر کاٹنے لگا عذیر حیات کے چہرے پر ایک مکروہ سی مسکراہٹ تھی
” پتا تو ہے مگر جان کر انجان بن رہی ہو ہے نا؟ دیکھو معاملہ تو صاف ہے جائیداد چاہیے تھی مگر اب وہ مل نہیں سکتی ،،،خدا کی قسم آخری مرتبہ میرا تو تم پر دل آ گیا تھا،،،،،،، ظاہر ہے بدلہ لینے آیا ہوں تم سے نہیں، تمہارا ایک سر پھوڑنا تو میں معاف کر چکا ہوں بدلہ تمہارے شوہر سے لینا ہے ،تمہارے شوہر اور وہ تمہارا سو کالڈ بھائی سے جنہوں نے مجھے کتوں کی طرح گلیوں میں گھما گھما کر مارا تھا،،،،،، جانتی ہو پھر بھی انجان بن رہی ہو “
حیا نے اسے نہ سمجھیں سے دیکھا
” لگتا ہے تم ناواقف ہو خیر تم سے بدلہ لینے والا ہوں تو تمہیں پتہ ہونا چاہئے کہ کس چیز کا بدلہ لے رہا ہوں جس دن تم میرے چنگل سے نکلی تھی اس کے تقریبا ایک ہفتے بعد تمہارے اس شوہر اور تمہارے بھائی نے مجھے ڈھونڈ نکالا تھا اور پورے شہر میں کتے کا پٹا میرے گلے میں باندھ گلیوں میں گھوما گھوما کر مارا تھا خدا کی قسم ایسی ذلالت تو میں نے کبھی برداشت نہیں کی تھی پھر چوراہے پر مجھے لٹکا کر چلے گئے دنیا کو میرا تماشہ دکھانے کے لئے، اس سے اچھا تو وہ لوگ مجھے مار دیتے سب سے بڑی غلطی ان لوگوں کی یہی تھی کہ انہوں نے مجھے مارا نہیں پچھلے کئی مہینوں سے میں انتظار میں تھا کہ کب ٹھیک ہو کر تم لوگوں کو بھی اسی ذلت سے نوازوں اب پتا چلا کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں؟ ، فکر نہیں کرو تمہیں جان سے نہیں ماروں گا مجھے پتا ہے تمہیں تمہاری زندگی عزیز نہیں اور عزیر حیات ایک مرتبہ چھوڑے ہوئے کھانے کو دوبارہ ہاتھ نہیں لگاتا تم میرے لائق نہیں رہی، اسی لئے ایسی سزا دوں گا کہ عمر بھر خود سے نفرت کرو گی “
کہتے ہوئے وہ رکا حیا کی پشت عزیر کی گاڑی کی طرف تھی عذیر نے گارڈ کو اشارہ کیا تو اس نے ایک کانچ کا جار عذیر کی طرف بڑھایا
عزیر نے ڈھکن کھولا ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“تیزاب ہے۔۔۔۔۔جب جب تم اپنا چہرہ دیکھوں گی تمہیں یاد آئے گا تم نے اور تمہارے شوہر نے کس سے پنگا لیا تھا “
حیا ساکت کھڑی تھی وہ ساری کشتیاں جلا کر یہاں آئی تھی اب تو فرار کا راستہ ویسے بھی کہاں بچا تھا ایک دکھ تو اسے تھا جس پر ایک آنسو چپکے سے گال پر گرا دکھ اسے یہ تھا کہ اب تو شاید شاہ زر اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا
